Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایک مرتبہ سپرٹیکس لاگو کرنے کے بعد کیا قیامت تک چلے گا،سپریم کورٹ

    ایک مرتبہ سپرٹیکس لاگو کرنے کے بعد کیا قیامت تک چلے گا،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں سپرلیوی ٹیکس کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی،

    وکیل کمپنیزمخدوم علی خان نے کہاکہ حکومت سے پوچھا جائے سپرٹیکس کی مد میں کتنا ٹیکس اکٹھا ہوا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ یہ داستان بڑی لمبی ہو جائے گی،جسٹس محمدعلی مظہر نے کہاکہ سپرٹیکس ایک مرتبہ کیلئے لگایا گیا تھا، سپر ٹیکس کسی خاص مقصد کیلئے لگایا گیا تھا، ایک مرتبہ سپرٹیکس لاگو کرنے کے بعد کیا قیامت تک چلے گا،مخدوم علی خان نے کہاکہ آپریشن سے متاثرہ علاقوں کی بحالی لوکل و صوبائی مسئلہ ہے،عدالت نے کہاکہ اعتراض ہے قومی مجموعی فنڈز سے رقم صوبوں کی رضا مندی کے بغیر کیسے خرچ ہو سکتی ہے، وکیل ایف بی آر نے کہاکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ مسلسل عمل ہے،

    وکیل مخدوم علی خان نے کہاکہ کیا دہشتگردی 2020میں ختم ہو گئی ؟حکومت نے 2020میں سپرٹیکس وصولی ختم کردی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ سپر ٹیکس آپریشن کے متاثرین کی بحالی کیلئے تھا، حقیقت یہ ہے دہشتگردی کا ہرروز سامنا کرنا پڑتا ہے،وکیل ایف بی آر نے کہاکہ متاثرہین دہشتگردی کے خاتمہ کے نتیجہ بے گھر ہوئے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ آپریشن کے دوران مجموعی طور پر کتنے لوگ بے گھر ہوئے؟کن علاقوں سے لوگ بے گھر ہوئے؟سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

  • مختلف اعلی ترین عہدوں پر تعیناتیاں پارلیمنٹ ہی کرتی ہے، وزیر قانون

    مختلف اعلی ترین عہدوں پر تعیناتیاں پارلیمنٹ ہی کرتی ہے، وزیر قانون

    اسلام آباد: وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ اجلاس میں کہا کہ پارلیمنٹ کی مجموعی تعداد تقریباً ساڑھے چار سو کے قریب ہے اور اس میں اتنی بڑی تعداد کے ارکان کو جدول مراتب میں کسی ایک جگہ پر رکھنا ممکن نہیں ہے۔

    وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ہی وہ ادارہ ہے جس سے تمام دیگر ادارے طاقت حاصل کرتے ہیں اور یہ ادارہ ملک کی سب سے سپریم طاقت کا حامل ہے۔وزیر قانون نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے اراکین کی تعیناتیوں کا فیصلہ بھی صرف اور صرف پارلیمنٹ ہی کرتی ہے، جو کہ ملک کے سیاسی نظام کی بنیاد ہے۔ ان کے مطابق، پارلیمان کا رکن ہونا ایک بہت بڑی بات ہے اور یہ ہمارے لیے فخر کا باعث ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے اس بات پر زور دیا کہ مراتب جدول میں ارکان پارلیمنٹ کی جگہ کا تعین اوپن ہاوس میں نہیں ہونا چاہیے۔ اس معاملے پر انہوں نے اپنی تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے معاملات کو خفیہ اور محفوظ طریقے سے حل کیا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا شکایت کا موقع نہ ملے۔

    وزیر قانون نے کہا کہ سپیکر اور چیئرمین سینیٹ کو چاہیے کہ وہ اجلاس کو کلوز ڈور طریقے سے بلائیں تاکہ تمام حساس امور کو بہتر طور پر زیر بحث لایا جا سکے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ان کے وزیر، سیکرٹری کابینہ اور دیگر حکام اس اجلاس میں بھرپور شرکت کریں گے تاکہ پارلیمنٹ کی فعالیت اور اہمیت کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

  • نومئی کے 8 مقدمات، درخواست ضمانت پر جلد سماعت کیلئے عمران کی درخواست

    نومئی کے 8 مقدمات، درخواست ضمانت پر جلد سماعت کیلئے عمران کی درخواست

    بانی پی ٹی آئی عمران خان نے 9 مئی کے 8 مقدمات میں درخواست ضمانتوں کی جلد سماعت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔

    بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اپنے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے لاہور ہائیکورٹ میں متفرق درخواستیں دائر کیں۔ ان درخواستوں میں عمران خان نے جناح ہاؤس حملہ کیس اور دیگر مقدمات میں ضمانت کی درخواست کی ہے۔عمران خان نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف سیاسی انتقام کے طور پر سازش کی گئی اور انہیں ان مقدمات میں نامزد کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات جھوٹے الزامات پر مبنی ہیں اور انہیں سیاسی مقاصد کے لیے بدنام کیا جا رہا ہے۔درخواست میں مزید کہا گیا کہ 8 مقدمات میں ضمانت کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا تھا، اور اس پر 16 جنوری کو سماعت بھی ہوئی تھی۔ تاہم، پولیس کو نوٹس جاری ہونے کے باوجود درخواستوں کی سماعت کے لیے کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ ان کی درخواست ضمانتوں کو فوری طور پر سماعت کے لیے مقرر کیا جائے، کیونکہ یہ نہ صرف انصاف کا تقاضا ہے بلکہ یہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ 9 مئی کے 8 مقدمات میں ان کی ضمانت کی درخواستوں کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

  • ایکس پر یوکرین سے سائبر حملہ، سروس متاثر

    ایکس پر یوکرین سے سائبر حملہ، سروس متاثر

    دنیا کے مشہور مائیکروبلاگنگ پلیٹ فارم ایکس (پہلے ٹویٹر) پر ایک بڑا سائبر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں سائٹ متعدد بار ڈاؤن ہوئی اور صارفین کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے صارفین کو لاگ ان اور دیگر خدمات میں مشکلات پیش آئیں۔

    ڈاؤن ڈیٹیکٹر کی رپورٹ سائٹ کی خرابی کی اطلاعات ٹریکنگ ویب سائٹ ’ڈاؤن ڈیٹیکٹر‘ کے ذریعے سامنے آئیں، جس کے مطابق عالمی سطح پر 40 ہزار سے زائد صارفین نے شکایات درج کیں۔ ان میں ایپ، ویب سائٹ اور سرور کنکشن سے متعلق مختلف مسائل شامل تھے۔ یہ مسائل نہ صرف ایکس کی ویب سائٹ بلکہ موبائل ایپلیکیشن پر بھی ظاہر ہوئے۔

    ایلون مسک نے اس سائبر حملے پر ردعمل دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ یہ حملہ یوکرین کے علاقے سے منسلک ایک سائبر حملہ تھا۔ فاکس نیوز کے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اس حملے کی تفصیلات کا مکمل علم نہیں ہے، لیکن یوکرین کے خطے سے جنریٹ ہونے والے آئی پی ایڈریسز کے ذریعے ایکس کے سسٹم کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘ مسک نے مزید کہا کہ یہ حملہ بہت منظم طریقے سے کیا گیا، اور ممکنہ طور پر کسی بڑی تنظیم یا ملک کی پشت پناہی حاصل ہو سکتی ہے۔

    ڈاؤن ڈیٹیکٹر کی رپورٹ کے مطابق، ایکس کی سروس دنیا بھر میں مختلف اوقات میں متاثر ہوئی۔ پہلی بار سہ پہر 3:30 بجے، پھر شام 7 بجے، اور تیسری بار رات 8:44 پر سروس میں خرابی آئی۔ اس دوران پاکستان، بھارت، کینیڈا، برطانیہ اور آسٹریلیا سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے صارفین کو مشکلات کا سامنا رہا۔

    ابتدائی طور پر ایکس انتظامیہ نے اس مسئلے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جس کی وجہ سے صارفین نے کمپنی پر جوابدہی نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ صارفین کی ناراضگی کا سامنا کرتے ہوئے ایکس انتظامیہ نے بعد میں اس مسئلے پر وضاحت دینے کی کوشش کی، لیکن پہلے کی خاموشی نے صارفین کے خدشات کو مزید بڑھا دیا۔

    یہ سائبر حملہ ایک نئی بحث کا آغاز بن گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ان کے سسٹمز کو کس طرح محفوظ رکھا جائے تاکہ ایسے حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

  • سعودی ولی عہد کا یوکرینی صدر کا خیر مقدم،ملاقات

    سعودی ولی عہد کا یوکرینی صدر کا خیر مقدم،ملاقات

    سعودی ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے پیر کی رات جدہ میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا خیرمقدم کیا۔

    سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق، اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا اور یوکرینی بحران کی موجودہ صورتحال پر بھی بات چیت کی گئی۔شہزادہ محمد بن سلمان نے اس موقع پر یوکرینی بحران کے حل اور امن کے قیام کے لیے عالمی سطح پر کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت اور سعودی عرب کی خواہش کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہمیشہ امن کے لیے کوشش کرتا ہے اور وہ اس بحران کے حل میں عالمی سطح پر بھرپور مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    یوکرینی صدر نے سعودی عرب کے مشرق وسطی اور دنیا بھر میں اہم کردار کی تعریف کی اور سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی امن کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ عالمی سطح پر امن اور استحکام کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کی کوششوں کا بہت بڑا فائدہ دنیا کو پہنچا ہے۔

    قبل ازیں، جب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی السلام پیلس پہنچے تو سعودی عرب میں ان کی آمد کی باضابطہ سرکاری تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی چینل الاخباریہ کے مطابق، صدر زیلنسکی یوکرینی اور امریکی حکام کے درمیان جدہ میں ہونے والے مذاکرات سے ایک دن پہلے سعودی عرب پہنچے تھے۔ ان مذاکرات میں روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے حل کے بارے میں بات چیت کی جائے گی۔

    یوکرینی صدر نے سعودی عرب روانگی سے قبل ایکس پر کہا تھا کہ "میز پر حقیقت پسندانہ تجاویز موجود ہیں جن پر تیزی اور مؤثر طریقے سے عمل کرنا اس مسئلے کو حل کرنے کی کلید ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں ہونے والے مذاکرات یوکرین اور امریکہ کے درمیان تعمیری مکالمے کا ایک اہم موقع ہیں۔

    دریں اثنا، سعودی عرب میں روس اور یوکرین کے مذاکرات میں شرکت کرنے کے لیے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ العربیہ کے مطابق، روبیو یوکرینی حکام سے ملاقات کریں گے تاکہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے حوالے سے امریکی صدر جو بائیڈن کے ہدف کی جانب پیشرفت کو فروغ دیا جا سکے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ یوکرین کے ساتھ ملاقات کامیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں امریکہ اور یوکرین کے درمیان تعاون بڑھانے کے طریقوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی تاکہ روسی جارحیت کے خلاف یوکرین کی حمایت کی جا سکے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ مارکو روبیو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے جس میں روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے امکانات اور خطے میں مشترکہ مفادات پر بات چیت کی جائے گی۔

  • یوکرین کے صدر  نے ٹرمپ سے معافی مانگ لی

    یوکرین کے صدر نے ٹرمپ سے معافی مانگ لی

    واشنگٹن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے اوول آفس میں تلخ کلامی پر ٹرمپ سے معافی مانگ لی ہے۔

    امریکی صدر کے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف کے مطابق زیلنسکی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک خط بھیج کر وائٹ ہاؤس میں پیش آئے واقعہ پر معذرت کی ہے۔ یہ خط ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکا اور یوکرین کے تعلقات میں تناؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔گزشتہ دنوں وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات جھگڑے کی صورت اختیار کر گئی تھی، جس کے بعد ٹرمپ نے زیلنسکی کو وائٹ ہاؤس سے باہر بھیج دیا اور کہا کہ جب وہ امن کے لیے تیار ہوں گے، تب ہی واپس آسکتے ہیں۔

    واقعہ کے بعد امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ زیلنسکی کو ہوش میں آنا پڑے گا، اگر وہ شکر گزاری کے ساتھ مذاکرات کی میز پر نہ آئے تو یوکرین کی قیادت کوئی اور کرے۔ابتدا میں صدر زیلنسکی نے ٹرمپ سے تلخ کلامی پر معافی مانگنے سے انکار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس میں جو کچھ ہوا، وہ اچھا نہیں تھا، اور اگر ممکن بھی ہو تو وہ دوبارہ وائٹ ہاؤس جانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔رپورٹس کے مطابق صدر زیلنسکی کے معذرتی خط کے بعد امریکا کے صدر ٹرمپ کے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف ماسکو کے دورے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کے دورے کا مقصد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کرنا ہے، جس میں ممکنہ طور پر یوکرین اور روس کے درمیان جاری تنازع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ تاہم، اس ملاقات کی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

  • پاکستان نے آئی ایم ایف کو  بجلی کے نرخوں میں کمی پر منا لیا

    پاکستان نے آئی ایم ایف کو بجلی کے نرخوں میں کمی پر منا لیا

    اسلام آباد: پاکستانی حکام نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو بجلی کی قیمت کم کرنے پر راضی کر لیا ہے، جس سے عوام کو ریلیف ملنے کی امید ہے۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک ارب ڈالر کی قسط کے حصول کے لیے جاری مذاکرات کے دوران توانائی شعبے کے حکام نے آج اور کل آئی ایم ایف وفد سے ملاقات کی۔ مذاکرات میں پاکستانی حکام نے بجلی کے نرخوں میں کمی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف کو بجلی کے نرخ 2 روپے فی یونٹ کم کرنے پر آمادہ کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ، بجلی کے بنیادی ٹیرف میں ڈیڑھ سے 2 روپے فی یونٹ کمی پر آئی ایم ایف کے ساتھ طویل سیشن ہوا، جس میں مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی کا فیصلہ اپریل سے نافذ العمل ہونے کا امکان ہے۔ تاہم، آئی ایم ایف نے شرط عائد کی ہے کہ ٹیرف کم کرنے سے پہلے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا ایک نیا جامع منصوبہ پیش کیا جائے۔

    ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے موجودہ منصوبے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور ان کمپنیوں کے نقصانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آئی ایم ایف نے واضح کیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی کو ہر حال میں بہتر بنانا ہوگا تاکہ نقصانات کو کم کیا جا سکے۔حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت نے 3 تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کا نیا پلان آئی ایم ایف کو پیش کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت،پہلے مرحلے میں آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کی جائے گی۔دوسرے مرحلے میں میپکو، لیسکو اور حیسکو کی نجکاری عمل میں لائی جائے گی۔

    اگر بجلی کے نرخوں میں کمی کا یہ فیصلہ نافذ ہو جاتا ہے تو عوام کو کچھ حد تک ریلیف مل سکتا ہے۔ تاہم، آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کو موثر طریقے سے مکمل کرنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات تاحال جاری ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل قریب میں مزید مالیاتی اور توانائی اصلاحات کے اعلانات بھی سامنے آئیں گے۔

  • تیز گام ایکسپریس روہڑی اسٹیشن پر حادثے کا شکار

    تیز گام ایکسپریس روہڑی اسٹیشن پر حادثے کا شکار

    روہڑی: کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس روہڑی اسٹیشن پر حادثے کا شکار ہوگئی، جس کے نتیجے میں ٹرین کی ایک بوگی پٹری سے اتر گئی۔

    ریلوے ذرائع کے مطابق حادثہ روہڑی اسٹیشن پر پیش آیا، جہاں ٹرین کی ایک بوگی پٹری سے اترنے کے بعد امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کردی گئیں۔ حادثے کے نتیجے میں اپ ٹریک بلاک ہوگئی اور پٹری کو بھی نقصان پہنچا۔ریلوے حکام کے مطابق خوش قسمتی سے حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم، مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ٹریک کی بحالی کے لیے تیزی سے کام جاری ہے۔حادثے کے بعد ریلوے نظام متاثر ہوا، جس کے باعث کئی ٹرینوں کو مختلف اسٹیشنز پر روکنا پڑا۔ ریلوے ذرائع کے مطابق،بہاؤالدین زکریا ایکسپریس کو بیگماجی اسٹیشن پر روک دیا گیا۔شاہ حسین ایکسپریس، گرین لائن ایکسپریس اور فرید ایکسپریس کو بھی مختلف اسٹیشنز پر روک دیا گیا۔

    ریلوے حکام نے متاثرہ ٹریک کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کردیا ہے اور جلد از جلد ٹرین سروس کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    حادثے کے باعث ٹرینوں میں سوار مسافر مشکلات کا شکار ہوگئے۔ کئی مسافروں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑا، جبکہ دیگر متبادل سفری ذرائع کی تلاش میں نظر آئے۔ریلوے انتظامیہ نے مسافروں سے معذرت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور جلد از جلد سفری سہولیات بحال کردی جائیں گی۔ریلوے حکام نے حادثے کی مکمل تحقیقات کا عندیہ دیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ مزید برآں، ٹریک کی بحالی اور مسافروں کی سہولت کے لیے اضافی اقدامات کیے جارہے ہیں۔

  • ڈاکٹر سید رفعت حسین کی وفات ،طلعت حسین پر سنگین الزامات کی بوچھاڑ

    ڈاکٹر سید رفعت حسین کی وفات ،طلعت حسین پر سنگین الزامات کی بوچھاڑ

    پاکستان کے معروف اسکالر اور پالیسی تجزیہ کار ڈاکٹر سید رفعت حسین کی وفات کے بعد ان کے خاندان نے اپنے چھوٹے بھائی، معروف صحافی سید طلعت حسین پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ڈاکٹر رفعت حسین کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ سید طلعت حسین نے ان کے بھائی کے آخری ایام میں نہ صرف ذہنی اذیت پہنچائی بلکہ ان کی وفات کے بعد ان کی شخصیت کو مجروح کرنے کے لیے ایک منظم کردار کشی کی مہم بھی چلائی۔

    یہ الزامات ڈاکٹر رفعت حسین کے خاندان کی طرف سے 7 مارچ 2025 کو سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے ایک سخت بیان میں سامنے آئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ سید طلعت حسین نے اپنے بھائی کے بارے میں عوامی طور پر جو غم کا اظہار کیا وہ جھوٹا اور فریب تھا، اور ان کی سوشل میڈیا پر پوسٹوں کو "جھوٹی خبریں” اور "غلیظ پروپیگنڈا” قرار دیا گیا۔ڈاکٹر رفعت حسین کے خاندان کا کہنا ہے کہ سید طلعت حسین نے 7 مارچ 2025 کو اپنے بھائی کی تدفین میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔ بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ سید طلعت حسین نے نہ صرف خود تدفین میں شرکت نہیں کی بلکہ انہوں نے دیگر خاندان کے افراد کو بھی اس روحانی موقع پر شرکت کرنے سے روکا۔ یہ عمل ڈاکٹر رفعت حسین کے اہل خانہ کے لیے انتہائی افسوسناک اور توہین آمیز تھا، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ سید طلعت حسین کا ایسا رویہ ان کے بھائی کی عزت کے خلاف تھا۔

    دی سکوپ کے مطابق ڈاکٹر رفعت حسین کے اہل خانہ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ سید طلعت حسین نے اپنے بھائی پر نہ صرف جذباتی بلکہ ذہنی دباؤ بھی ڈالا۔ ان کا کہنا تھا کہ سید طلعت حسین نے ڈاکٹر رفعت حسین کے انتہائی نازک اور بیمار حالت میں، جب وہ آئی سی یو میں زیر علاج تھے، ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ جلد اسپتال سے رخصت ہو جائیں، حالانکہ ان کی حالت نہایت تشویشناک تھی۔ڈاکٹر رفعت حسین کی حالت میں نمونیا، اعضا کی ناکامی اور شدید خون کی شوگر کی سطح جیسے مسائل شامل تھے، جنہیں نظرانداز کرنا نہ صرف ان کی صحت کے لیے خطرہ تھا بلکہ یہ واضح کرتا ہے کہ سید طلعت حسین نے اپنے بھائی کے علاج کو محض ایک رسمی کارروائی سمجھا۔اس کے علاوہ، خاندان نے سید طلعت حسین پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے اپنے بڑے بھائی فیاض حسین کے ساتھ مل کر ڈاکٹر رفعت حسین کی بیوی، سمیہ رفعت اور ان کے تین بیٹوں، حمزہ رفعت، ہانی حسین اور حیدر رفعت کو دھمکیاں دیں۔ ان دھمکیوں میں زبانی اور تحریری دونوں اقسام کی دھمکیاں شامل تھیں، جن کا مقصد ڈاکٹر رفعت حسین کے خاندان کو خوف زدہ کرنا اور ان پر اثر و رسوخ قائم کرنا تھا۔

    ڈاکٹر رفعت حسین کے خاندان نے ان الزامات کے حق میں دستاویزی شہادتیں پیش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس سید طلعت حسین کے خلاف تحریری رابطوں اور دیگر ثبوتوں کی شکل میں مکمل شواہد موجود ہیں جو ان کے الزامات کی تائید کرتے ہیں۔ڈاکٹر رفعت حسین کے خاندان نے اس بیان میں کہا کہ ان کے والد کی عزت افزائی کے لیے یہ ان کا فرض تھا کہ وہ ان کی ذہنی اذیت اور ان پر ہونے والی زیادتی کو عوام کے سامنے لائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سید طلعت حسین کی سوشل میڈیا پر پوسٹس کو نظرانداز کیا جائے کیونکہ ان میں ان کے اپنے عملوں کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔اس کے ساتھ ہی ڈاکٹر رفعت حسین کے خاندان نے عوام سے درخواست کی کہ وہ ان افراد سے براہ راست رابطہ کریں جو تدفین میں شرکت کرنے سے روکے گئے تھے، تاکہ سچائی کو سامنے لایا جا سکے۔

    ڈاکٹر سید رفعت حسین 7 مارچ 2025 کو اسلام آباد میں انتقال کر گئے تھے۔ وہ ایک عالمی سطح پر معروف اسکالر اور پالیسی تجزیہ کار تھے اور ان کی خدمات کو ملک اور عالمی سطح پر سراہا گیا تھا۔ ان کے انتقال کی خبر نے پوری قوم کو غم میں ڈوبا دیا تھا، اور ان کے خاندان نے ان کی مغفرت کے لیے دعاؤں کی درخواست کی ہے۔ڈاکٹر رفعت حسین کی زندگی اور خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا .

  • مصطفیٰ قتل کیس، ارمغان کا سہولت کار کون ہے؟ پولیس افسر کا انکشاف

    مصطفیٰ قتل کیس، ارمغان کا سہولت کار کون ہے؟ پولیس افسر کا انکشاف

    قابل اعتماد حلقوں میں مصطفیٰ قتل کیس سے منسلک تمام باتیں زیر بحث ہیں کہ کس کی مداخلت پر ارمغان نے جس لڑکی پر بیہمانہ تشدد کیا اس کی ایف آئی آر نہ درج ہونے دی جب کہ اس لڑکی کا شدید زخمی حالت میں ڈیفنس کے اسپتال میں علاج ہوا۔

    اس کے خلاف درج متعدد لڑائی جھگڑا، دنگا فساد اور منشیات کی ایف آئی آرز کی کارروائیاں اپنے منطقی انجام تک کیوں نہ پہنچ سکیں؟یہ بات بھی حیران کن رہی کہ پولیس چھاپے کے وقت ارمغان اکیلا 4 گھنٹے تک فائرنگ کرتا رہا اور ایک ڈی ایس پی سمیت دوسرے اہلکار کو زخمی بھی کیا مگر 4 گھنٹے تک پولیس اہلکار اس کو گرفتار نہ کرسکے جب تک کہ اس نے اپنے لیپ ٹاپ اور تیسرے آئی فون کا ڈیٹا ڈیلیٹ نہیں کردیا (پولیس کہتی ہے کہ تیسرا فون ان کو نہیں ملا)۔

    4 گھنٹے تک پولیس کو اندر جانے سے کس کی ہدایت پر روکے رکھا گیا؟ کس کے کہنے پر ملزم کا باپ جارحانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے؟ان تمام اور دیگر سوالات کا صرف ایک جواب ایک افسر نے دیا جس نے کہا کہ ’ملزم 29 برس کا ہے، اس کا ایک دوست 33 برس کا ہے، مذکورہ دوست ایک سیاسی پارٹی کے سینئر رہنما کا چھوٹا بیٹا ہے‘۔افسر کے مطابق ارمغان کے اس دوست کے باپ، اس کے دونوں بیٹے اور ساتھ ہی ان کی پارٹی کی اعلیٰ قیادت بھی اس کیس میں اثر انداز ہے اور یہی وجہ ہے کہ ملزم ارمغان کو ہر جگہ سہولت مل رہی ہے اور وہ اپنی مرضی سے بیان دیتا ہے جو اسے بتایا جاتا ہے۔

    یہ کیس کئی سوالات کو جنم دیتا ہے جن کے جوابات تاحال غیر واضح ہیں۔ کیا قانون سب کے لیے برابر ہے یا پھر اثر و رسوخ رکھنے والے ہمیشہ بچ نکلتے ہیں؟ کیا انصاف کا نظام اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ ایک بااثر شخص کے بیٹے کو پکڑنے میں بھی ریاست بے بس نظر آتی ہے؟