Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اقوام متحدہ کا غزہ میں بجلی کی فراہمی بحال کرنے کا مطالبہ

    اقوام متحدہ کا غزہ میں بجلی کی فراہمی بحال کرنے کا مطالبہ

    اقوام متحدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں بجلی کی بحالی کو یقینی بنائے اور انسانی امداد کی ترسیل کی اجازت دے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں نہ صرف بجلی منقطع کر دی ہے بلکہ ایندھن اور دیگر انسانی امداد کو بھی داخل ہونے سے روک رکھا ہے، جس کی وجہ سے وہاں کی صورتحال مزید ابتر ہو رہی ہے۔

    اسرائیلی اقدامات کے باعث غزہ میں انسانی بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ اسپتالوں میں ایندھن کی کمی کی وجہ سے طبی سہولیات فراہم کرنا مشکل ہو چکا ہے جبکہ پینے کے پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کی بھی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ فوری طور پر بجلی اور ایندھن کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو غزہ میں بڑے پیمانے پر انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

    نیدرلینڈز کے وزیر خارجہ نے بھی اسرائیل کی جانب سے غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل کو روکنے کی مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ انسانی امداد کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرے۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر غزہ کا محاصرہ ختم کرے اور انسانی امداد کی ترسیل بحال کرے۔دوسری جانب یمن کے حوثیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ ختم نہ کیا تو وہ بحیرہ احمر میں دوبارہ حملے شروع کر دیں گے۔ حوثیوں کے ترجمان نے کہا کہ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی صورت میں غزہ کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو برداشت نہیں کریں گے۔

    ادھر حماس نے اسرائیل کے اس اقدام کو ناقابل قبول بلیک میلنگ قرار دیا ہے۔ حماس کے ترجمان نے کہا کہ بجلی کی منقطع فراہمی اور امداد کی بندش غزہ کے عوام کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ فوری طور پر غزہ میں بجلی اور ایندھن کی فراہمی بحال کرے۔بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اسرائیل کی جانب سے غزہ میں بجلی کی بندش اور امداد کی روک تھام کی شدید مذمت کی ہے۔ مختلف ممالک اور عالمی تنظیموں نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر غزہ میں امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے تاکہ وہاں بسنے والے لاکھوں افراد کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔

  • اکشے کمار نے ممبئی میں اپنا اپارٹمنٹ فروخت کردیا

    اکشے کمار نے ممبئی میں اپنا اپارٹمنٹ فروخت کردیا

    بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار اکشے کمار نے ممبئی کے مشرقی علاقے بوری ولی میں واقع اپنا اپارٹمنٹ فروخت کردیا ہے۔ یہ اپارٹمنٹ 4 کروڑ 35 لاکھ بھارتی روپے میں فروخت ہوا ہے۔

    مقامی جائیداد کے نگراں ادارے کے مطابق، اس اپارٹمنٹ کی فروخت کی کارروائی رواں ماہ ہی مکمل ہوئی ہے۔ اپارٹمنٹ کا رقبہ ایک ہزار مربع فٹ سے زائد ہے اور اس میں دو کاروں کی پارکنگ کے لیے بھی جگہ مختص کی گئی تھی۔بھارتی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق، اکشے کمار نے یہ اپارٹمنٹ نومبر 2017 میں تقریباً سوا دو کروڑ روپے کی قیمت پر خریدا تھا۔ تاہم، یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انہوں نے اس اپارٹمنٹ کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیوں کیا۔اکشے کمار کی جائیداد کے کاروبار میں دلچسپی ہمیشہ خبروں کا حصہ رہی ہے اور ان کے اس فیصلے پر میڈیا میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ ، داڑھی چھوٹی ہونے پر امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہ ملنے پر تفصیلی فیصلہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، داڑھی چھوٹی ہونے پر امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہ ملنے پر تفصیلی فیصلہ

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے داڑھی چھوٹی ہونے کی وجہ سے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہ ملنے کے خلاف درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے۔ جسٹس محسن اخترکیانی کی سربراہی میں عدالت نے درخواست کو ہدایات کے ساتھ مسترد کر دیا۔

    فیصلے میں عدالت نے سیکرٹری تعلیم کو مدارس کے لیے قانون سازی کی تجویز بھیجنے کی ہدایت کی ہے اور کہا کہ وہ چھ ماہ کے اندر مدارس ریگولیشن کے حوالے سے ضوابط تیار کریں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ڈی جی مذہبی تعلیم اور وزارت تعلیم مدارس کے لیے باقاعدہ قواعد و ضوابط بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون میں دینی مدارس کے تعلیمی معیار، اساتذہ کی قابلیت، نصاب، داخلے اور امتحانی نظام کے اصول وضوابط طے کیے جائیں تاکہ دینی تعلیم کے اداروں میں معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔اس کے علاوہ، عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ ایچ ای سی (ہائر ایجوکیشن کمیشن) مدارس کی ڈگریوں کی تصدیق کر رہا ہے، لیکن اس کے لیے کوئی واضح قانونی یا تعلیمی ضابطہ موجود نہیں۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے اس معاملے کو حل کرنے کے بجائے ایک سیاسی حکمت عملی کے تحت التوا میں رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مدارس کا تعلیمی معیار یقینی بنانے کے لیے، جیسے دیگر شعبوں میں قانون سازی کی گئی ہے، ویسا ہی کوئی قانون یا ضابطہ مدارس کے لیے نہیں بنایا گیا۔عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں قومی سطح پر کوئی یکساں تعلیمی نظام موجود نہیں، جس کی وجہ سے دینی مدارس اپنی پالیسیوں کے مطابق بغیر کسی قانونی نگرانی کے کام کر رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ دینی مدارس سے فارغ التحصیل طلبا کو مستقبل میں مشکلات کا سامنا ہو گا، کیونکہ مدارس کی ڈگریاں نہ تو ملک میں مکمل طور پر تسلیم شدہ ہیں اور نہ ہی بین الاقوامی سطح پر۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ دینی مدارس کسی مخصوص قانون کے تحت ریگولیٹ نہیں کیے جا رہے، اور درخواست گزار کو آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے نتیجے میں، درخواست کو مسترد کر دیا گیا۔

  • ایف 9 پارک میں تشدد کا واقعہ، خواتین اور ملزم جمال کے درمیان صلح

    ایف 9 پارک میں تشدد کا واقعہ، خواتین اور ملزم جمال کے درمیان صلح

    اسلام آباد کے ایف 9 پارک کے قریب ایک تشدد کا واقعہ پیش آیا جس میں خواتین اور ملزم جمال کے درمیان راضی نامہ ہوگیا ہے۔ پولیس کے مطابق راضی نامہ ہونے کے بعد ملزم جمال کی 7 مارچ کو ضمانت منظور ہوچکی ہے۔

    دوسری جانب خواتین اور ملزم کے درمیان ہونے والے معاہدے کا متن منظرعام پر آگیا ہے، جس کے مطابق خواتین نے مکمل تسلی کرنے کے بعد یہ تسلیم کیا ہے کہ جمال بے قصور ہے اور یہ مقدمہ محض غلط فہمی کی بنا پر درج کیا گیا۔ خواتین نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے جمال کے ساتھ راضی نامہ کرلیا ہے اور اگر عدالت جمال کو رہا کرتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا، اور اگر عدالت ملزم جمال کو بری کردے تو ہمیں اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں۔خواتین کا کہنا تھا کہ وہ اس مقدمے کی مزید پیروی نہیں کرنا چاہتیں اور اس معاہدے پر تینوں خواتین کے دستخط موجود ہیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز ایف 9 پارک میں ایک معروف فوڈ چین کے سامنے سڑک پر خواتین کو زدوکوب کرنے کی ویڈیو منظرعام پر آئی تھی، جس میں ملزمان کو خواتین کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔ پولیس نے متاثرہ خاتون کی مدعیت میں تھانہ مارگلہ میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق، مرکزی ملزم جمال نے 23 فروری کی رات اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر خواتین کو زدوکوب کیا اور ان سے 10 تولہ زیورات اور 20 لاکھ روپے نقد چھین لیے۔

    اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ 23 فروری کا ہے اور مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔ تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر کے ملزم سے برآمدگی کی گئی، اور اس کے بعد چالان مجاز عدالت میں پیش کیا گیا، جس کے بعد ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

  • شام میں جھڑپیں، 1300 سے زائد افراد ہلاک

    شام میں جھڑپیں، 1300 سے زائد افراد ہلاک

    شام میں سکیورٹی فورسز اور سابق صدر بشار الاسد کے حامیوں کے درمیان گزشتہ تین روز سے جاری پرتشدد جھڑپوں میں 1300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بیشتر ہلاکتیں شامی شہریوں کی ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

    برطانیہ میں موجود شامی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق ان ہلاکتوں میں کم از کم 830 سویلین شامل ہیں، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ سویلین ہلاکتوں میں کون سے گروہ ملوث ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ جھڑپوں کے دوران کئی اہم علاقے متاثر ہوئے ہیں، جن میں شام کے ساحلی شہر طرطوس اور لاذقیہ (لطاکیہ) شامل ہیں، جہاں علوی کمیونٹی کی اکثریت رہائش پذیر ہے۔ان جھڑپوں کے بعد لاذقیہ میں شدید لڑائیاں ہوئی ہیں، جس کے بعد شامی عبوری صدر احمد الشرع نے قومی یکجہتی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان جھڑپوں کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔ احمد الشرع نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ آپس میں مذاکرات کریں اور اس خونریزی کا فوری خاتمہ کریں۔

    شامی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق ہلاک ہونے والے بیشتر افراد کا تعلق علوی کمیونٹی سے ہے، جو کہ اس وقت بشار الاسد کی حکومت کے حامی ہیں۔ ان جھڑپوں میں بشار الاسد کی حامی فورسز اور مخالف گروپوں کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔عالمی سطح پر بھی ان جھڑپوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ، عرب لیگ اور امریکہ نے شہریوں کی ہلاکتوں کی سختی سے مذمت کی ہے اور ان واقعات کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ جنگی جرائم کے ممکنہ ارتکاب کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور متاثرین کو انصاف فراہم کرنا ضروری ہے۔

  • وزیراعظم کا بلاول کے اعزاز میں افطار ڈنر،تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی

    وزیراعظم کا بلاول کے اعزاز میں افطار ڈنر،تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی

    اسلام آباد: وزیرِاعظم ہاؤس میں چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پی پی پی کے وفد نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران وزیرِاعظم نے پیپلزپارٹی کی قیادت کو صوبوں میں عوامی امنگوں پر پورا اُترنے اور وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون سے عوامی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے فعال اور متحرک کردار ادا کرنے پر سراہا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ملک کا مستقبل بہتر بنانے کے لیے وفاق، صوبوں اور تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہو گا تاکہ عوام کی زندگی میں بہتری لائی جا سکے۔ملاقات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پی پی پی کے وفد نے وزیراعظم شہباز شریف کو خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں امن و امان کی صورت حال پر اپنے خدشات سے آگاہ کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے ضلع کرم میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور امن کی کمزوری کو وزیراعظم کے سامنے اٹھایا۔اس کے علاوہ پی پی پی کے وفد نے وزیراعظم کو متنازع کینالوں کے مسائل سے متعلق بھی اپنے تحفظات پیش کیے، جن کے بارے میں پارٹی کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ عوامی مفادات کے خلاف ہے اور اس کا حل فوری طور پر نکالا جانا چاہیے۔

    پی پی پی کے وفد نے وزیراعظم کو بلوچستان میں حالیہ سیلاب سے متاثر ہونے والوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور کہا کہ ابھی تک سیلاب متاثرین کی مکمل دادرسی نہیں کی گئی ہے، جس پر وزیراعظم نے اس مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کیا اور اس کے فوری حل کے لیے اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔وزیراعظم شہباز شریف نے پیپلزپارٹی کے وفد کے ان تحفظات پر سنجیدگی سے غور کرنے کا وعدہ کیا اور یقین دلایا کہ متنازع کینالوں، ضلع کرم میں قیام امن، اور بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے مسائل کو جلد حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام مسائل ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح کے لیے حل کیے جانے ضروری ہیں، اور وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔

  • پاکستان دشمنی پر پاکستانی قوم کا بھگوڑے عادل راجہ کے منہ پر تھپڑ

    پاکستان دشمنی پر پاکستانی قوم کا بھگوڑے عادل راجہ کے منہ پر تھپڑ

    پاکستان کا بھگوڑا عادل راجہ بازنہ آیا، پاکستان دشمنی کی ساری حدیں پار کر لیں

    عادل راجہ ایک مرتبہ پھر اپنے غیر ذمہ دارانہ اور پاکستان دشمن بیانات کے باعث خبروں میں ہے۔ عادل راجہ، جو اب بیرون ملک مقیم ہے، نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک متنازع پول کروایا جس میں اس نے جموں و کشمیر اور گلگت کے شہریوں سے سوال کیا کہ اگر اقوام متحدہ کی رائے شماری کے مطابق ان کو آزادی کا حق دیا جائے تو وہ کس ملک کے ساتھ جائیں گے، پاکستان یا بھارت؟

    یہ سوال اس قدر حساس اور پاکستان کے خلاف تھا کہ اس پر پاکستانیوں کا ردعمل فوراً سامنے آیا۔ پاکستانی عوام نے عادل راجہ کے اس سوال پر شدید غصے کا اظہار کیا اور 86 فیصد شہریوں نے اس پول میں پاکستان کے ساتھ جانے کو ترجیح دی۔ اس کے باوجود، عادل راجہ نے اپنی پاکستان مخالف سرگرمیاں بند نہیں کیں اور بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان کے دشمنوں کی ترجمانی کرتا رہا۔

    عادل راجہ پر پاکستان میں کئی مقدمات درج ہیں اور اس کا کورٹ مارشل بھی ہو چکا ہے۔ یہ شخص اپنی پاکستان مخالف سرگرمیوں کے ذریعے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کی یہ سرگرمیاں صرف سیاسی نہیں بلکہ ملکی مفاد کے خلاف بھی ہیں۔پاکستانی عوام اور حکام کی جانب سے عادل راجہ کی ان حرکتوں پر شدید نکتہ چینی کی گئی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے ملک دشمن عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی فرد پاکستان کے خلاف اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز سرگرمیاں نہ کر سکے۔یہ وقت ہے کہ پاکستانی حکومت اس بات کو سنجیدگی سے لے اور ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے جو اپنے ذاتی مفادات کے لئے پاکستان کی بدنامی کا سامان کر رہے ہیں۔
    adil

  • اسٹیٹ بینک کا  شرح سود کو 12 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    اسٹیٹ بینک کا شرح سود کو 12 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    پاکستان کے مرکزی بینک، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کے لیے شرح سود میں کسی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے اگلے دو ماہ کے لیے شرح سود کو 12 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس فیصلے کا اعلان اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق، فروری 2025 میں مہنگائی کی شرح توقعات سے کم رہی ہے۔ غذائی اجناس اور توانائی کی قیمتوں میں کمی کے باعث مہنگائی میں کمی دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ سے موجودہ شرح سود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ معاشی سرگرمیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور درآمدات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں، معاشی استحکام کے لیے موجودہ حقیقی شرح سود کو مستقبل بنیادوں پر کافی حد تک مثبت سمجھا جا رہا ہے۔

    مزید برآں، اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2025 میں پاکستان کی جی ڈی پی نمو کی پیش گوئی 2.5 سے 3.5 فیصد کے درمیان برقرار رکھی ہے۔ اس کے علاوہ، اسٹیٹ بینک کی توقع ہے کہ جون 2025 تک پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 13 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے.تاہم، اسٹیٹ بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر غذائی اجناس اور توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو مہنگائی میں اضافے کا امکان ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود، اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں مزید کمی متوقع ہے اور پھر بتدریج بڑھ کر 5 سے 7 فیصد کے درمیان مستحکم ہو جائے گی۔

    اسٹیٹ بینک کے اس اعلان کا مقصد ملک کی اقتصادی صورتحال کو مستحکم کرنا اور مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے موزوں اقدامات کی نشاندہی کرنا ہے۔ اس فیصلے کے بعد، بینکوں اور مالیاتی اداروں کو اقتصادی صورتحال کے پیش نظر مزید احتیاطی اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم رکھا جا سکے۔

  • افنان اللہ خان سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا چیئرمین منتخب

    افنان اللہ خان سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا چیئرمین منتخب

    آج ہونے والے اجلاس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری نے نئے چیئرمین کا انتخاب کیا۔ یہ اجلاس سینیٹر طلال چوہدری کی وزارت داخلہ کے لئے وزیر مملکت کے طور پر تعیناتی کے بعد منعقد ہوا، جنہوں نے چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

    اجلاس میں سینیٹرز افنان اللہ خان، اشرف علی جتوئی، بلال احمد خان، ندیم احمد بھٹو، فیصل سلیم رحمان، محسن عزیز، اور خالدہ عتیب نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران سینیٹر ندیم احمد بھٹو نے سینیٹر افنان اللہ خان کو چیئرمین کے عہدے کے لئے باضابطہ طور پر نامزد کیا، جبکہ سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے اس تجویز کی تائید کی۔سینیٹر افنان اللہ خان کو بلامقابلہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا نیا چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔

    چیئرمین منتخب ہونے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹر افنان اللہ خان نے کمیٹی کے اراکین کا شکریہ ادا کیا اور ان کے اعتماد کو سراہا۔ انہوں نے کمیٹی کے اہم کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ یہ کمیٹی ملک کے مفادات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کمیٹی کے اراکین کے ساتھ مل کر موثر تعاون اور تعمیری گفتگو کی اہمیت پر زور دیا تاکہ اپنے فرائض کو بہترین طریقے سے نبھایا جا سکے۔اجلاس کا اختتام سینیٹر خان کی مبارکبادوں کے ساتھ ہوا، جب کہ کمیٹی کے دیگر اراکین نے ان کو دل سے خوشی اور کامیابی کی خواہشات پیش کیں۔

  • مرکزی مسلم لیگ کا اپنا روزگار پروگرام، شہریوں میں بلا سود نئے موٹرسائیکل اور رکشے تقسیم

    مرکزی مسلم لیگ کا اپنا روزگار پروگرام، شہریوں میں بلا سود نئے موٹرسائیکل اور رکشے تقسیم

    بے روزگاری سے پریشان عوام کے لئے روزگار پروگرام امید کی کرن ہے.سیف اللہ قصوری
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید نے کہا ہے کہ "اپنا روزگار سہولت کے ساتھ” پروگرام کامیابی سے جاری ہے ،تیسرے مرحلے میں آج پھر شہریوں میں بلا سود نئے موٹرسائیکل اور رکشے تقسیم کیے گئے ہیں۔
    شہریوں کی خدمت کا سلسلہ مزید وسیع کریں گے . ماہ رمضان میں ہزاروں سحرو افطار دسترخوانوں پر لاکھوں افراد مستفید ہو رہے ہیں.

    مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام شہریوں میں بلا سود رکشے، موٹرسائیکل کی تقسیم کی تقریب ہوئی جس میں نائب صدر مرکزی مسلم لیگ حافظ طلحہ سعید، سیکر ٹری جنرل سیف اللہ قصوری سمیت سیاسی و سماجی رہنماؤں سمیت شہری بڑی تعداد میں شریک ہوئے. اس موقع پر سیف اللہ قصوری کا کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ کا منشور ہی خدمت کی سیاست ہے، ہم عوام کو اقتدار میں آئے بغیر سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔مرکزی مسلم لیگ بلا سود نوجوانوں کو روزگار فراہم کر رہی.پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے سودی نظام سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے۔ سودی نظام نے ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے اور اس سے چھٹکارا پانے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔

    سیف اللہ قصوری کا مزید کہنا تھا کہ حکمرانوں کو چاہئے کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایسے منصوبے سامنے لائے جائیں جونوجوانوں کو بھکاری بنانے کی بجائے باعزت روزگار دے سکیں، مرکزی مسلم لیگ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور مستقبل میں بھی اسی مشن کے تحت عوامی خدمت کے منصوبے جاری رکھے گی۔مہنگائی ، غربت، بے روزگاری سے پریشان عوام کے لئے مرکزی مسلم لیگ کا روزگار پروگرام امید کی کرن ہے.