Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اداکارہ نرگس کی نازیبا تصاویر وائرل کرنے کا مقدمہ،نگار چوہدری کی ضمانت میں توسیع

    اداکارہ نرگس کی نازیبا تصاویر وائرل کرنے کا مقدمہ،نگار چوہدری کی ضمانت میں توسیع

    اداکارہ نرگس کی نازیبا تصاویروائرل کرنے کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران، اداکارہ نگار چوہدری کی عبوری درخواست ضمانت پر کارروائی کی گئی۔ عدالت نے نگار چوہدری کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دے دیا اور ساتھ ہی ویڈیو اور آواز کا فرانزک تجزیہ کرانے کی بھی ہدایت کی۔

    عدالت نے نگار چوہدری کو حکم دیا کہ وہ تفتیشی حکام کے سامنے پیش ہو کر اپنی آواز ریکارڈ کرائیں۔ اس کے علاوہ، عدالت نے نگار چوہدری کی عبوری ضمانت میں 19 مارچ تک توسیع بھی کر دی۔دوران سماعت، ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پانچ ویڈیوز ان کے پاس آئی ہیں اور یہ ویڈیوز مختلف چینلز کو فراہم کی گئیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ ویڈیوز نگار چوہدری نے اپ لوڈ نہیں کیں۔ ایف آئی اے کی جانب سے عدالت سے درخواست کی گئی کہ وہ نگار چوہدری کی عبوری ضمانت کو کنفرم کرے۔

    اس کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور عدالت کے احکامات کے مطابق تفتیشی عمل مکمل کیا جائے گا تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ کس نے ان نازیبا ویڈیوز کو وائرل کیا اور اس کے پیچھے کیا مقاصد تھے۔

  • عوام کو صحت کی بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں گی،وزیر صحت مصطفیٰ کمال

    عوام کو صحت کی بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں گی،وزیر صحت مصطفیٰ کمال

    اسلام آباد: وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ "خدا کی مخلوق کے کام آنا سب سے بڑی عبادت ہے”۔ وزارت کا قلمدان سنبھالنے کے بعد وزیرِ صحت نے اپنی پہلی میٹنگ کی صدارت کی، جس میں پی ایم ڈی سی (پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل) اور پاکستان نرسنگ کونسل کی ورکنگ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    اجلاس کے دوران مصطفیٰ کمال نے کہا کہ "صحت کی وزارت ایسا ادارہ ہے جس سے کروڑوں عوام کی زندگیاں وابستہ ہیں۔ ہمارے کیے جانے والے فیصلوں کے اثرات بلواسطہ یا بلا واسطہ عوام کی زندگیوں پر پڑتے ہیں”۔انہوں نے مزید کہا کہ "ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہمارے فیصلے اور اقدامات عوام کی زندگی پر مثبت اثرات ڈالیں”۔وفاقی وزیرِ صحت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحت کے شعبے میں درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جائے گا اور عوام کو صحت کی بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی صحت کو اولین ترجیح دی جائے گی اور اس کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔

    اس موقع پر پی ایم ڈی سی اور نرسنگ کونسل کے اراکین نے وزیرِ صحت کو اپنے کام کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور ان کے سوالات کے جوابات دیے۔ وزیرِ صحت نے کہا کہ وہ وزارت کے تمام اداروں کے ساتھ مل کر عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں گے۔اس اجلاس کی صدارت کے دوران مصطفیٰ کمال نے اپنے عہدے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ عوام کی صحت کے مسائل حل کرنے میں تمام متعلقہ اداروں کو ایک ساتھ کام کرنا ہوگا تاکہ صحت کی سہولتیں بہتر ہو سکیں اور ملک بھر میں صحت کی خدمات کی سطح بلند کی جا سکے۔

  • قومی مفاد مقدم،ذاتی اور سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھیں،صدر مملکت

    قومی مفاد مقدم،ذاتی اور سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھیں،صدر مملکت

    پارلیمنٹ ہاؤس میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا.

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی ہدایت پر بلایا گیا ہے جس سے وہ آئین کے آرٹیکل 56 کی شق 3 کے تحت خصوصی خطاب کر رہے ہیں،اجلاس کے آغاز میں قومی ترانہ، تلاوتِ قرآن مجید اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی گئی،پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے بائیں جانب اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی بیٹھے ہوئے ہیں، اسپیکر ایاز صادق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی صدرات کر رہے ہیں،وزیرِ اعظم شہبازشریف، وفاقی وزرا، اراکینِ قومی اسمبلی و سینیٹ اجلاس میں شریک ہیں۔

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے جیسے ہی خطاب شروع کیا پی ٹی آئی کے ارکان پلےکارڈز لے کر اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے، اپوزیشن کی جانب سے شور شرابہ اور نعرے بازی کی جا رہی ہے۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ مملکت نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، پارلیمانی سال کے آغاز پر اس ایوان سے بطور سویلین صدر 8ویں بار خطاب کرنا میرے لیے اعزاز ہے، یہ لمحہ ہمارے جمہوری سفر کے تسلسل کا عکاس ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے عزم کے ساتھ کام کرنا ہے، ہمیں ملک میں گڈ گورننس اور سیاسی استحکام کو فروغ دینا ہے، اپنے جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے مل کر کام کرنا ہے، ملکی معیشت مستحکم ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ میں کمی، زرِ مبادلہ میں ریکارڈ اضافہ خوش آئند ہے، ہمیں عوامی خدمت کے شعبے پر بھرپور توجہ دینا ہو گی۔صدرِ مملکت کا کہنا ہے کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی پرخصوصی توجہ دینی ہے، نیا پارلیمانی سال اپنی پیشرفت کا جائزہ لینے، پاکستان کے بہتر مستقبل کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کرنے کا موقع ہے، ایوان بہتر طرز حکمرانی، سیاسی اور اقتصادی استحکام کے فروغ پر توجہ مرکوز کرے، ہماری عوام نے اپنی امیدیں پارلیمنٹ سے وابستہ کر رکھی ہیں، ہمیں عوام کی توقعات پر پورا اترنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ جمہوری نظام مضبوط کرنے، قانون کی حکمرانی پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے محنت کی ضرورت ہے، پاکستان کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مزید محنت کرنا ہوگی،ملک کو معاشی ترقی کے مثبت راستے پر ڈالنے کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہتا ہوں۔

    صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، اسٹاک مارکیٹ بھی تاریخی بلند سطح پر پہنچ گئی، حکومت نے پالیسی ریٹ کو 22 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد کر دیا، دیگر معاشی اشاریوں میں بھی بہتری آئی ہے، ہمارے ملک کی آبادی کا ڈھانچہ بدل چکا ہے ۔صدرِ مملکت نے کہا کہ انتظامی مشینری میں تذوایراتی سوچ کی کمی، آبادی میں اضافے نے حکمرانی کے مسائل کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، اس ایوان کو اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، آئیے قومی مفاد مقدم رکھیں اور ذاتی اور سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھیں، آئیے اپنی معیشت بحال کرنے، جمہوریت مضبوط کرنے، قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کریں، ایسا پاکستان بنانے کی کوشش کریں جو منصفانہ، خوشحال اور ہمہ گیر ہو، آئیے اس پارلیمانی سال کا بہترین استعمال کریں۔

  • وزیر ریلوے  کا عید کے موقع پر خصوصی ٹرینیں چلانے ،کرایوں میں کمی کا اعلان

    وزیر ریلوے کا عید کے موقع پر خصوصی ٹرینیں چلانے ،کرایوں میں کمی کا اعلان

    وزیر ریلوے حنیف عباسی نے عید الفطر کے موقع پر خصوصی ٹرینیں چلانے اور کرایوں میں کمی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے ریلوے حکام کو ہدایت کی کہ وہ مسافروں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچنے کے لیے جدید نگرانی کے آلات نصب کریں۔

    حنیف عباسی نے کہا کہ ریلوے کی آمدنی میں اضافے کے ساتھ ساتھ اخراجات کو بھی کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ 25 رمضان المبارک سے خصوصی ٹرینیں چلائی جائیں گی تاکہ عید کے موقع پر عوام کو سہولت فراہم کی جا سکے اور کرایوں میں کمی کر کے لوگوں کو مالی فائدہ پہنچایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے اور ایم ایل ون منصوبے پر مختلف ممالک کے ساتھ روابط بڑھائے جا رہے ہیں تاکہ ریلوے کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

    یاد رہے کہ حنیف عباسی کو حال ہی میں وفاقی کابینہ میں شامل کیا گیا ہے اور انہیں تین روز پہلے ہی وزارت ریلوے کا قلمدان سونپ دیا گیا تھا۔ ان کے اس فیصلے سے ریلوے کے مسافروں کو عید کے موقع پر نہ صرف آرام دہ سفر کی سہولت ملے گی بلکہ کرایوں میں کمی سے عوام کو مالی فائدہ بھی پہنچے گا۔حنیف عباسی کے اس اعلان کے بعد عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ عید کے دوران ریلوے سفر کی سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر ،ماہ رمضان میں فیشن شو کا انعقاد

    مقبوضہ کشمیر ،ماہ رمضان میں فیشن شو کا انعقاد

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام گلمرگ میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران ایک فیشن شو کے انعقاد پر سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ اس واقعے کے بعد مختلف حلقوں میں غصہ اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    اس فیشن شو کو فحاشی اور ریاستی ثقافتی اقدار کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔ کئی عوامی شخصیات اور مذہبی رہنما اس کی مذمت کر رہے ہیں اور اس کے انعقاد کو غیر مناسب قرار دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس معاملے کو لے کر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور لوگ اس کو رمضان جیسے مقدس مہینے میں نہ صرف ناقابلِ قبول بلکہ انتہائی بے حیائی سمجھ رہے ہیں۔فیشن شو کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں جن میں "نیم برہنہ” مرد اور خواتین برف پر چل رہے ہیں۔ ان تصاویر کو دیکھ کر عوام نے سخت تنقید کی اور کہا کہ اس شو نے ریاست کی ثقافتی اقدار کو تباہ کر دیا ہے۔

    سابق وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللّٰہ نے اس فیشن شو پر سخت ردِعمل ظاہر کیا اور فوری تحقیقات کا حکم دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو تصاویر اور ویڈیوز انہوں نے دیکھی ہیں، ان میں مقامی روایات اور مذہبی اقدار کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ عمر عبداللّٰہ نے کہا کہ رمضان کے مہینے میں اس قسم کی سرگرمیاں عوام کے غصے کو بڑھا سکتی ہیں اور وہ اس معاملے میں مکمل تحقیقات کے حق میں ہیں۔ انہوں نے 24 گھنٹوں میں اس سلسلے میں مکمل رپورٹ طلب کی ہے اور اس معاملے میں سخت کارروائی کی توقع بھی ظاہر کی ہے۔

    سری نگر کی جامع مسجد کے خطیب اور حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے بھی اس فیشن شو کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس شو کو "شرم ناک” اور "ناقابلِ برداشت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ رمضان کے مقدس مہینے میں اس طرح کے پروگراموں کا انعقاد وادی کی صوفیانہ اور مذہبی اقدار کے خلاف ہے۔ میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ اس بے حیائی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس میں ملوث افراد کو فوری طور پر جوابدہ ٹھہرا کر سخت کارروائی کی جائے۔

    یہ واقعہ سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر بھی عوامی ردِعمل کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ صارفین نے اس تقریب کے منتظمین اور حکومتی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ رمضان جیسے مقدس مہینے میں ایسی سرگرمیاں ہرگز قابلِ قبول نہیں۔

  • گورنر خیبر پختونخوا   کا دورہ صوابی، سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سے کی تعزیت

    گورنر خیبر پختونخوا کا دورہ صوابی، سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سے کی تعزیت

    صوابی: گورنر خیبر پختونخوا، فیصل کریم کنڈی نے جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی رہائش گاہ کا دورہ کیا۔ اس دوران گورنر نے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سے ان کے بھائی شکیل احمد کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ گورنر نے مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور مشتاق احمد خان سمیت دیگر لواحقین سے تعزیت کی۔

    گورنر نے تعزیت کے دوران کہا کہ "اس واقعے پر انتہائی افسوس ہوا ہے اور میں آپ کے دکھ میں برابر کا شریک ہوں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔”گورنر فیصل کریم کنڈی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ صوابی کی عوام کا دکھ اور غم دل سے محسوس کیا ہے اور ان کے ساتھ ہر مرحلے پر ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔

    دورے کے دوران، رکن قومی اسمبلی فتح اللہ خان میانخیل اور پیپلز پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری شجاع خانزادہ بھی گورنر کے ہمراہ تھے اور انہوں نے بھی سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سے تعزیت کا اظہار کیا۔

  • خلیل الرحمان قمر  کے ساتھ کیا کچھ ہوا؟عدالت میں بیان ریکارڈ کروا دیا

    خلیل الرحمان قمر کے ساتھ کیا کچھ ہوا؟عدالت میں بیان ریکارڈ کروا دیا

    ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر ہنی ٹریپ اور اغوا برائے تاوان میں ملزمہ آمنہ عروج اور حسن شاہ سمیت دیگر ملزمان کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی.

    کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ارشد جاوید نےکی۔آمنہ عروج اور حسن شاہ سمیت 12 ملزمان کو جیل سے عدالت میں پیش کر دیا گیا۔مدعی مقدمہ خلیل الرحمان قمر نے اپنا بیان قلمبند کرادیا۔مقدمہ کے دیگر گواہان کی شہادتیں ریکارڈ ہو چکی ہیں۔خلیل الرحمان قمر نے اپنے بیان میں کہا کہ ملزمہ آمنہ عروج نے دھوکہ سے اپنے فلیٹ پر بلایا ،ملزمہ آمنہ عروج اور اس کے ساتھیوں نے مجھے اغوا کیا،میں نے 7 گھنٹے کا عذاب بھگتا ہے ، اللہ ایسا کسی کے ساتھ نہ کرے،ملزم حسن شاہ ملزموں کا سرغنہ ہے، مُجھے اغواء کیا مجھ سے رقم کا تقاضا کیا گیا میں نے کہا میرے پاس رقم نہیں ہے،مجھے کہا گیا ایک کروڑ دوورنہ جان سے مار دیں گے، انہوں نے گاڑی ایک جگہ روکی اور مجھے اتارا اور چار پانچ مسلح لوگوں نے مجھے بٹھا ئے رکھا دو گاڑیاں آئیں،ان میں سے ایک گاڑی میں مجھے بٹھایا اور نامعلوم مقام پر لے گئے اور دھمکایا گیا۔

    خلیل الرحمٰن نے کہا کہ پندرہ بیس منٹ مسافت پر ویرانے میں گاڑی روکی اور جسمانی تشدد کیا اور ڈیمانڈ کی رقم کی،اور بعد میں مجھے گاڑی سے اتار دیا اور کہا کلمہ پڑلو اور میرے ہاتھ باندھ دیئے،ایک شخص نے میرے اوپر کلاشنکوف تان لی اور فائر کیا میں بچ گیا فائر میرے پاؤں سے کچھ دور لگا،دوبارہ پھر کروڑ روپے کا مطالبہ کیا،میں نے ان سے کہا کہ مُجھے فون دیں میں اپنے دوست کو کال کرتا ہوں،ملزم ذیشان قیوم نے فون کا سپیکر ان کیا اور میرے دوست ملک عبدالحفیظ کو کال کی او مجھے دھمکایا گیا کہ اپنے دوست کو ایسی کوئی بات نہیں کہنا کہ آپ کے دوست کو شک ہو ،میں نے اپنے دوست کو بتایا کہ میں لاہور سے باہر ہوں مجھے 10 لاکھ چاہے مجھے ایمر جنسی ہے میں پرابلم میں ہوں۔میرے دوست نے کہا میرے پاس اس وقت نہیں ہیں میں 20منٹ میں ارینج کرکے دیتا ہو لیکن 20منٹ بعد دوست نے انکار کر دیا۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کل تفتیشی افسر انسپکٹر عمران یوسف کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا،بعدازاں عدالت نے مزید سماعت کل تک کیلئے ملتوی کر دی۔

  • آرمی ایکٹ کے ماتحت جرائم اگر سویلینز کریں تو کیا ہوگا؟جسٹس جمال مندوخیل

    آرمی ایکٹ کے ماتحت جرائم اگر سویلینز کریں تو کیا ہوگا؟جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی،لاہور بار کے وکیل حامد خان ایڈووکیٹ نے دلائل میں کہا کہ گزشتہ سماعت پر پاکستان کی تاریخ پر دلائل دیے، پاکستان میں مارشل لاء اور ملٹری کورٹس کی تاریخ کا بتایا۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس میں کہا کہ ایف بی علی کیس میں طے ہوا کہ آرمی ایکٹ فوج کے ممبرز کے لیے بنا ہے، مگر کیس میں یہ بھی کہا گیا کہ آرمی ایکٹ کا سیکشن ڈی اس مقصد کے لیے نہیں بنا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اب تنازع یہ ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں ایف بی علی کیس میں سویلینز کے ٹرائل کی بھی اجازت تھی، آپ کہہ رہے ہیں کہ اجازت نہیں تھی۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ایف بی علی کیس میں کہا گیا کہ پارلیمان اس معاملے پر 2 سال میں ریوو کرسکتی ہے، آج تک پارلیمان نے اس معاملے پر کچھ نہیں کیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا تنازع یہ نہیں کہ فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کیا جائے یا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ آرمی ایکٹ کے ماتحت جرائم اگر سویلینز کریں تو کیا ہوگا؟ آرمی ایکٹ میں درج جرائم کرنے پر اس کا دائرہ اختیار سویلینز تک بڑھایا جاسکتا ہے یا نہیں۔ حامد خان نے بتایا کہ آرمی ایکٹ میں شامل وہ شقیں جن کے تحت سویلین کا ٹرائل کیا جاتا ہے وہ غیر آئینی ہیں، فوجی عدالتوں کے حق میں دلائل دینے والوں کا انحصار آئین کے آرٹیکل 8(3) پر ہے۔

  • عدلیہ میں خواتین کی شمولیت ایک مثبت پیش رفت ہے،چیف جسٹس

    عدلیہ میں خواتین کی شمولیت ایک مثبت پیش رفت ہے،چیف جسٹس

    پاکستان کے چیف جسٹس، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ انصاف تک رسائی کو حقیقت بنانے کے لیے ہم مسلسل محنت کر رہے ہیں اور خواتین وکلا اور ججز کے لیے مزید سازگار ماحول فراہم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

    خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنے پیغام میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان میں عدلیہ میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین ججز کی خدمات کو تسلیم کرنا ہمارا اخلاقی فرض ہے کیونکہ صنفی مساوات اور عدلیہ میں خواتین کی شمولیت ایک مثبت اور اہم پیش رفت ہے۔

    چیف جسٹس نے خواتین ججز کی ثابت قدمی اور دیانت داری کو اگلی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین ججز کا کردار انصاف کی فراہمی میں نہ صرف قابلِ ستائش ہے بلکہ ان کا عدالتی نظام میں شفافیت اور انصاف کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئندہ بھی عدلیہ میں خواتین کی شمولیت کو مزید بڑھایا جائے گا اور ان کے لیے ایک ایسا ماحول فراہم کیا جائے گا جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکیں اور انصاف کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

    چیف جسٹس نے خواتین کی معاشرتی، سیاسی اور عدلیہ میں کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انصاف کا نظام تب ہی مضبوط ہو سکتا ہے جب تمام طبقوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں اور ہر شعبہ زندگی میں خواتین کو ان کا جائز مقام دیا جائے۔

  • دو لاپتہ افراد گھر پہنچ گئے، عدالت نے درخواست نمٹا دی

    دو لاپتہ افراد گھر پہنچ گئے، عدالت نے درخواست نمٹا دی

    سندھ ہائی کورٹ میں لاپتہ شہریوں کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران پولیس نے رپورٹ جمع کروا دی۔

    ٹھٹہ سے لاپتہ لڑکی سمیت دیگر افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی،پولیس نے عدالت میں رپورٹ جمع کرواتے ہوئے بتایا کہ مارکیٹ سے لاپتہ معاذ خان اور محمد یاسین گھر واپس آ گئے ہیں،عدالت نے دونوں شہریوں کی گمشدگی کی درخواست نمٹا دی،درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اجالا نامی لڑکی ایک سال سے تھانہ مکلی، ٹھٹہ کی حدود اور شرافی گوٹھ سے رفیع الرحمٰن ایک برس سے لاپتہ ہے۔عدالت نے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت 10 اپریل تک ملتوی کر دی۔