Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سپریم کورٹ، نو مئی کے تمام مقرر مقدمات ڈی لسٹ

    سپریم کورٹ، نو مئی کے تمام مقرر مقدمات ڈی لسٹ

    سپریم کورٹ نے سانحہ 9 اور 10 مئی کے رواں اور آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر تمام مقدمات ڈی لسٹ کر دیے۔

    سپریم کورٹ میں 9 مئی کے واقعات کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مقدمات کی سماعت کی۔عدالت نے پنجاب حکومت کی مہلت کی استدعا منظور کرتے ہوئے کہا کہ تمام مقدمات کی سماعت اب عید کے بعد ہو گی۔ذوالفقار نقوی نے دوران سماعت کہا پنجاب حکومت نے مجھے 9 مئی کے مقدمات میں وکیل مقرر کیا ہے، سپریم کورٹ سے استدعا ہے کہ تیاری کے لیے وقت دیا جائے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ 9 مئی کے مقدمات تو کل اور پرسوں بھی مقرر ہیں، گزشتہ سماعتوں پر ایڈیشنل پراسیکیوٹر پیش ہو کر وقت مانگتے رہے ہیں، آج آپ وقت مانگ رہے ہیں،

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نہیں چلے گا، یہ کوئی ایک کیس نہیں 50 کے قریب اپیلیں ہیں۔پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ رواں ہفتے کے مقدمات ملتوی کر دیں آئندہ ہفتے والوں کی تیاری کر کے آؤں گا۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کچھ اپیلیں کیس منتقلی سے متعلق بھی ہیں، مگر کیس منتقلی کا معاملہ ختم ہو چکا ہے اس پر حکومت سے ہدایات لے لیں۔ذوالفقار نقوی نے عدالت کو بتایا کہ جج کا تبادلہ ہو چکا ہے صرف جرمانے اور کچھ آبزرویشنز کی حد تک اپیل کی پیروی کریں گے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے 9 مئی کے ملزمان کی ضمانتیں منظور کی تھیں۔پنجاب حکومت نے ضمانتیں منسوخ کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

  • ڈیٹنگ ایپس پر دوستی،نشہ دے کر زیادتی ،پی ایچ ڈی طالب علم کا جرم ثابت

    ڈیٹنگ ایپس پر دوستی،نشہ دے کر زیادتی ،پی ایچ ڈی طالب علم کا جرم ثابت

    لندن اور چین میں خواتین کو نشہ دے کر زیادتی کا نشانہ بنانے والا چین سے تعلق رکھنے والا پی ایچ ڈی طالب علم زین ہاؤ زو (Zhenhao Zou) مجرم قرار پایا ہے۔ پولیس کو خدشہ ہے کہ اس مجرم کی مزید 50 سے زائد متاثرہ خواتین ہو سکتی ہیں اور وہ ان سے آگے آنے کی اپیل کر رہی ہے۔

    28 سالہ زو نے 2019 سے 2023 کے دوران لندن اور چین میں کم از کم 10 خواتین کو نشہ دے کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اندرونی لندن کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ ملزم نے 9 حملوں کی ویڈیوز بطور "یادگار” ریکارڈ کیں اور خواتین کے ذاتی سامان کو ایک "ٹرافی باکس” میں رکھا۔جیوری نے اسے 2019 سے 2023 کے دوران لندن اور چین میں 10 خواتین کے خلاف 11 جنسی زیادتیوں کا قصوروار پایا۔ ان خواتین میں سے تین لندن میں اور سات چین میں واقع ہوئی تھیں۔ دو متاثرہ خواتین کی شناخت ہو چکی ہے، جبکہ آٹھ ابھی تک نہیں مل سکیں۔

    میٹروپولیٹن پولیس کا ماننا ہے کہ زو حالیہ وقتوں میں سب سے زیادہ بدنام اور خطرناک جنسی مجرم ہو سکتا ہے اور اسے مزید جرائم کا ذمہ دار سمجھا جا رہا ہے۔ پولیس کا خیال ہے کہ 50 سے زائد دیگر خواتین بھی اس انجینئرنگ کے طالب علم کے ہاتھوں شکار ہو سکتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ برطانیہ میں اب تک کا سب سے بدترین جنسی مجرم بن سکتے ہیں۔ افسران کے پاس ویڈیو مواد ہے جس میں ان خواتین کو دکھایا گیا ہے جن کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی، اور ان میں سے تقریباً 25 خواتین کو برطانیہ میں اور 25 کو چین میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    تمام متاثرہ خواتین چینی نسل سے ہیں اور ان خواتین سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس کمیونٹی سے سامنے آئیں تاکہ ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی تحقیقات کی جا سکیں۔

    ژو پر تین الزامات کی بھی تصدیق ہوئی ہے جن میں ویوریزم، انتہائی فحش تصاویر کا قبضہ، ایک عورت کو جھوٹے قید میں رکھنے اور جنسی جرم کے ارادے سے منشیات رکھنے کے الزامات شامل ہیں۔ ژو نے 2017 میں بیلفاسٹ منتقل ہو کر کوئینز یونیورسٹی میں مکینکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی تھی اور 2019 میں لندن منتقل ہو گئے تھے۔ عدالت میں جب فیصلہ سنایا گیا تو ان کے چہرے پر کوئی جذبات نہیں تھے۔

    کیٹھرین فیرلی، جو استغاثہ کی طرف سے مقدمہ چلانے والی وکیل ہیں، نے جیوری کو بتایا کہ زو "ایک ذہین اور دلکش نوجوان انسان کے طور پر ظاہر ہوتا ہے لیکن وہ ایک مسلسل جنسی شکار کرنے والا، ویور اور ریپسٹ ہے”۔زو، جس کا آن لائن نام پاکو تھا، اپنے ہم وطن چینی طلباء سے وی چیٹ اور ڈیٹنگ ایپس کے ذریعے دوستی کرتا تھا، پھر انہیں اپنے لندن یا چین میں واقع اپارٹمنٹ میں پینے کے لئے مدعو کرتا تھا اور انہیں منشیات دے کر بے ہوش کر کے زیادتی کرتا تھا۔جیوری نے سنا کہ وہ اپنے حملوں کو خفیہ طور پر ایک موبائل ڈیوائس اور کیمروں سے فلماتا تھا، اور اس کے اپارٹمنٹ میں ایس ڈی کارڈز سے ایسی ویڈیوز ملیں جن میں وہ لندن اور چین میں بے ہوش خواتین کے ساتھ زیادتی کرتا دکھائی دے رہا تھا۔

    سینئر کراؤن پراسیکیوشن سروس کی پراسیکیوٹر سائرہ پائیک نے ان خواتین کا شکریہ ادا کیا جو اپنے "غلیظ” جرائم کی رپورٹ دینے کے لئے سامنے آئیں اور کہا کہ "زو ایک سیریل ریپسٹ ہے اور خواتین کے لئے ایک خطرہ ہے”۔

  • نوشہرہ میں بجلی میٹر کے تنازع پر فائرنگ، ماں، بھائی اور بہن قتل

    نوشہرہ میں بجلی میٹر کے تنازع پر فائرنگ، ماں، بھائی اور بہن قتل

    نوشہرہ: خیبر پختونخوا کے شہر نوشہرہ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں بجلی میٹر کی ملکیت کے تنازع پر ایک شخص نے فائرنگ کرکے اپنی ماں، بھائی اور بہن کو قتل کر دیا۔ واقعہ پبی چوکی درب کے علاقے میں پیش آیا، جس نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔

    ملزم کے والد سابق واپڈا ملازم تھے، جن کے نام سے گھر پر مفت بجلی کا میٹر نصب تھا۔ مذکورہ میٹر کی ملکیت پر اکثر اہلِ خانہ میں جھگڑا رہتا تھا، جو بالآخر ایک اندوہناک سانحے میں تبدیل ہو گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق واقعے کے روز گھر میں ایک بار پھر بجلی میٹر کی ملکیت پر بحث چھڑ گئی، جو شدت اختیار کر گئی۔ اسی دوران ملزم نے طیش میں آکر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں اس کی ماں، بہن اور بھائی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ فائرنگ کی آواز سنتے ہی قریبی لوگ جائے وقوعہ پر پہنچے، لیکن ملزم اپنے بیوی بچوں سمیت موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مقتولین کی بہن کی مدعیت میں پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزم کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد ہی اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

    اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ مقتولین نہایت شریف النفس لوگ تھے، جبکہ ملزم اکثر گھریلو تنازعات میں ملوث رہتا تھا۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور لوگ افسوس اور غم کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔

  • امریکا کی پاکستان میں شہریوں کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری

    امریکا کی پاکستان میں شہریوں کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری

    امریکا نے پاکستان میں اپنے شہریوں کے لیے ایک نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں پاکستانی سفر پر غور کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ ایڈوائزری امریکی محکمہ خارجہ کے بیورو آف قونصلر افیئرز نے جاری کی ہے۔

    امریکی حکومت کی جانب سے جاری کی جانے والی اس ایڈوائزری میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ امریکی شہری پاکستان کا سفر کرنے سے پہلے اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کریں۔ ایڈوائزری میں خاص طور پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان علاقوں میں دہشت گردوں کی جانب سے حملوں کی سازشیں جاری ہیں اور یہ علاقے دہشت گردی کے لیے حساس سمجھا جا رہے ہیں۔اس ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں انتہاپسند گروہ دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، اور ان علاقوں میں حملے ایک معمول بن چکے ہیں۔ امریکی شہریوں کو یہ بھی آگاہ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں بلا اجازت احتجاج میں شامل ہونا غیر قانونی ہے، اور اگر کوئی امریکی شہری احتجاج کے قریب پایا جاتا ہے تو اسے تفتیش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف پوسٹس کرنے پر امریکی شہری بھی پاکستان میں گرفتار،انکشاف
    ایڈوائزری میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت اور فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر پوسٹس کرنے والے امریکی شہریوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ مظاہروں میں شرکت یا ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے امریکی شہریوں کو جیل میں بھی ڈالا جا چکا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں نہ صرف شہریوں بلکہ پولیس کو بھی اندھا دھند حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ ماضی میں دہشت گردوں نے امریکی سفارت کاروں اور سفارتی مقامات کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا تھا، جس سے صورتحال کی سنگینی کا پتا چلتا ہے۔اس ایڈوائزری کی روشنی میں امریکی شہریوں کو پاکستان میں سفر کرنے سے پہلے تمام حفاظتی تدابیر پر غور کرنے کی سختی سے ہدایت کی گئی ہے۔

  • امریکی فحش اداکارہ کا کالا برقعہ پہن کر افغانستان کا دورہ

    امریکی فحش اداکارہ کا کالا برقعہ پہن کر افغانستان کا دورہ

    امریکی فحش اداکارہ وِٹنِی رائٹ، جن کا اصل نام برٹنی رینے وِٹنگٹن ہے، نے طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان کا دورہ کیا اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر تصاویر شیئر کیں، جس کے بعد انہیں شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ان تصاویر میں سے ایک میں وہ AK-47 رائفل تھامے ہوئے نظر آ رہی ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ طالبان کے زیر حفاظت افغانستان کا سفر کر رہی ہیں۔

    ان تصاویر نے غم و غصے کی لہر دوڑائی ہے، کیونکہ طالبان کی طرف سے عائد کردہ سخت پابندیوں کے تحت افغان خواتین کو 72 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے جب تک کہ ان کے ساتھ کوئی مرد سرپرست نہ ہو۔ اس کے علاوہ، طالبان نے خواتین کو پارکس، ریستورانوں اور جم میں جانے سے بھی روکا ہوا ہے۔افغان خواتین کے حقوق اور تعلیم کی کارکن وزہما توخی نے اس صورتحال کو "منافقت” قرار دیا اور کہا کہ "افغان خواتین اپنے ہی وطن میں قید ہیں، جبکہ غیر ملکی مہمان، چاہے ان کا پس منظر کچھ بھی ہو، کو مہمان نوازی سے نوازا جا رہا ہے۔”

    یہ تصاویر اور وِٹنِی رائٹ کے دورے کی تفصیلات سوشل میڈیا پر پھیل گئیں اور افغانستان کے موجودہ حکومتی نظام کی منافقت پر سخت تنقید کی گئی۔طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان میں امریکی فحش اداکارہ آزادانہ طور پر گھوم سکتی ہیں، جبکہ افغان خواتین کو معاشرتی زندگی سے مٹایا جا رہا ہے اور ان پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔

    افغان ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن نے بھی اپنی ٹویٹ میں اس صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان میں امریکی فحش اداکارہ آزادانہ طور پر گھوم سکتی ہیں، جبکہ افغان خواتین کے لیے یہ جرم بن چکا ہے کہ وہ باہر اکیلے نکلیں اور انہیں زندگی کی بنیادی آزادیوں سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔”

    وِٹنِی رائٹ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کابل اور ہیرا کے مختلف مقامات کی تصاویر بھی شیئر کیں، جن میں رکشے، ایک دکان، ہیرا کے ایک معبد کی ٹائلوں کی چھت، اور ایئرلائنز کا طیارہ شامل ہیں۔ تاہم طالبان کی جانب سے ابھی تک اس دورے کی کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

    یاد رہے کہ وِٹنِی رائٹ حالیہ برسوں میں ایران، عراق، شام اور لبنان جیسے مسلم اکثریتی ممالک کا بھی سفر کر چکی ہیں۔ ان کے دوروں نے عالمی سطح پر مختلف نوعیت کے ردعمل پیدا کیے ہیں، جن میں ان کے پیشہ ورانہ پس منظر اور ان ممالک کے سخت قوانین پر بات چیت شامل ہے۔

    اناڑی آدمی تو موٹر سائیکل نہیں چلا سکتا تو وہ ملک کیسے چلا سکے گا، احسن اقبال

    علامہ اقبال میڈیکل کالج میں ٹھیکوں کی اوکشن میں بے ضابطگیوں کا انکشاف

    8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کے 20 سال بعد دو افراد کی لاشیں برآمد

  • 21 سال بعد پاکستان میں ہاکی کا آنا ایک بہتر مستقبل کا ضامن ہے،  رانا مشہود

    21 سال بعد پاکستان میں ہاکی کا آنا ایک بہتر مستقبل کا ضامن ہے، رانا مشہود

    پاکستان میں ہاکی کے شائقین کے لیے ایک خوشی کا موقع تھا جب چئیرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام، رانا مشہود احمد خان نے ایک اہم ہاکی میچ میں شرکت کی۔ اس موقع پر ہاکی کی دنیا کی اہم شخصیات بھی موجود تھیں جنہوں نے اس میچ کو مزید اہمیت دی۔

    ہاکی میچ میں طیب اکرام چوہدری، صدر انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن،میر طارق حسین بگٹی، چئیرمین پاکستان ہاکی فیڈریشن، رانا مجاہد علی، شیخ عثمان، خواجہ جنید،کرنل آصف ڈار، بابر پاشا، حبیب رحمان شطی، رانا محمد شفیق،خالد حمید اولمیئن، توقیر ڈار، طاہر زمان،شہباز سنئیر، خواجہ جنید، اختر رسول،ممتاز حیدر، مسعود الرحمٰن اور دیگر اہم شخصیات شریک ہوئی،رانا مشہود احمد خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "پاکستان میں ہاکی کا 21 سال بعد واپس آنا ایک بہتر مستقبل کا ضامن ہے۔ ہماری حکومت نے ہمیشہ کھیلوں کے میدان آباد کرنے کی کوشش کی ہے۔ شہباز شریف کی قیادت میں ہاکی کے گراؤنڈز کو دوبارہ آباد کیا گیا تھا اور اب ہم ایک نئے دور کا آغاز کر رہے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستان میں ہاکی کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے اور ہم اس ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں۔ پاکستان سپورٹس بورڈ کے معاملے میں جزا و سزا کا معاملہ برحق ہوگا تاکہ کسی فیڈریشن کو شکایت نہ ہو۔””ملک میں کھیلوں کے میدان آباد ہو رہے ہیں اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر ہم کھیلوں کے حوالے سے جامع منصوبہ تیار کر رہے ہیں۔”

    صدر انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن طیب اکرام چوہدری نے اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا: "رانا مشہود کی قیادت میں محنت جاری ہے اور ہم نے گزشتہ دو سالوں میں ہاکی کے درپیش چیلنجز کو کم کرنے میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انڈیا اور پاکستان کے مابین ہاکی سیریز میں جلد ہی بہتری دیکھنے کو ملے گی۔”انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی اور اب جرمنی کی ہاکی ٹیم کا آنا خوش آئند ہے۔ ہم پاکستان میں ہاکی کا کوئی بڑا ایونٹ لانے کی کوششوں میں ہیں تاکہ ہمارے کھلاڑی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔”

    یہ ہاکی میچ نہ صرف کھیل کے شائقین کے لیے خوشی کا موقع تھا بلکہ ہاکی کے میدان میں پاکستان کی واپسی اور عالمی سطح پر اس کے مقام کو مستحکم کرنے کے لیے ایک نیا سنگ میل ثابت ہوا۔ رانا مشہود احمد خان اور طیب اکرام چوہدری سمیت دیگر اہم شخصیات نے پاکستان میں ہاکی کے مستقبل کے حوالے سے مثبت اور حوصلہ افزا خیالات کا اظہار کیا۔

  • اناڑی آدمی تو موٹر سائیکل نہیں چلا سکتا تو وہ ملک کیسے چلا سکے گا، احسن اقبال

    اناڑی آدمی تو موٹر سائیکل نہیں چلا سکتا تو وہ ملک کیسے چلا سکے گا، احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال چودھری نے گورنمنٹ ایم بی گرلز ہائی سکول نارووال کا دورہ کیا، جہاں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبے میں پنجاب بھر کے سکولوں میں منعقد کردہ مقابلوں میں شریک بچوں میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں پروفیسر احسن اقبال نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ “میں STEM مقابلوں میں حصہ لے کر پوزیشن حاصل کرنے والے بچوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "آج خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے اور اس دن کو گرلز سکول میں اس تقریب کے ذریعے ہم اپنی خواتین کی صلاحیتوں کو داد و تحسین پیش کرتے ہیں۔”احسن اقبال نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "ہم ہر اس بیٹی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو محنت کرکے کسی بھی شعبے میں اپنا نام پیدا کر رہی ہیں۔” انہوں نے پولیس، ایئر فورس اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں کامیاب خواتین کا ذکر کرتے ہوئے ان کی محنت اور عزم کو سراہا۔

    پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ "ملکی ترقی خواتین کی شراکت کے بغیر ممکن نہیں۔ خواتین کی ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ تعلیم ہے، اور ہم نے اپنے دور میں نارووال میں %70 خواتین کے سکولز کو اپ گریڈ کیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے ضلع نارووال کی تمام یونین کونسلز میں خواتین کے لیے کم از کم ایک ہائی سکول بنایا تاکہ ہر بچی کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جا سکے۔”وفاقی وزیر نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ "آج کے دن میں نے تمام وزرائے اعلیٰ کو خط لکھا ہے کہ ملک کی تمام یونین کونسلز میں خواتین کے لیے ہائی سکولز بنانے کے لیے بجٹ تقویض کریں۔” ان کا کہنا تھا کہ "ہمیں وسائل اور آبادی میں توازن پیدا کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا، اور ہمیں بچوں کی برین پاور میں بہتری لانے کی طرف بھی توجہ دینی ہوگی۔”

    پروفیسر احسن اقبال نے اپنی تقریر میں کہا کہ "ہم نے اڑان پاکستان کا منصوبہ شروع کیا ہے تاکہ پاکستان کو پائیدار ترقی کی طرف لے جایا جا سکے۔” انہوں نے کہا کہ "ہم نے ملک میں امن و استحکام کی فضا پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ترقی کے راستے پر قدم رکھا جا سکے۔”

    وزیر نے سیاست کے حوالے سے کہا کہ "سیاست کوئی ڈرامہ نہیں کہ جو سوشل میڈیا کی سکرین دیکھ کر اسکے فیصلے کیے جائیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "ہمارے ملک میں کسی بھی سیاسی جماعت کو ہلڑ بازی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔” ان کا کہنا تھا کہ "ہم نے اپنی سیاست کو داؤ پر لگا کر ملک کو دوبارہ مستحکم کیا ہے اور یہ سیاست ہمارے عہدے اور ہماری شان کے ساتھ مضبوط پاکستان کے ہی ممکن ہے۔”پروفیسر احسن اقبال نے نارووال کے لوگوں کو نارووال میڈیکل کالج کے قیام کی مبارکباد بھی پیش کی اور کہا کہ "آج مزدور اور محنت کش طبقے کے بچے نارووال کی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "نارووال کی یونیورسٹیاں، یو ای ٹی، ویٹرنری یونیورسٹی اور نارووال میڈیکل کالج جیسے اعلیٰ تعلیمی ادارے ہمارے مشن کی تکمیل کے ضامن ہیں۔”

    وفاقی وزیر نے رمضان کے مہینے میں قرآن پاک کی تعلیم کی اہمیت پر بھی بات کی اور کہا کہ "ہمیں قرآن پاک کو ترجمے کے ساتھ پڑھنا چاہیے اور سمجھنا چاہیے۔” ان کا کہنا تھا کہ "ہمیں بچوں میں دین کے نام پر نفرت پیدا نہیں ہونے دینی چاہیے، اور مسلمان بھائی چارے اور صلہ رحمی کے اصولوں پر عمل پیرا ہوں۔”

    اس موقع پر چئیرمین بیت المال پنجاب و ممبر صوبائی اسمبلی خواجہ محمد وسیم نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ "مجھے سرکاری سکول کے بچوں کی پرفارمنس دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے۔” خواجہ محمد وسیم نے کہا کہ "زیور تعلیم کو عام کرنا احسن اقبال چودھری کا عزم تھا اور آج ان کے مشن کی تکمیل ہو چکی ہے۔”

    بعد ازاں وفاقی وزیر احسن اقبال نے سٹیم مقابلوں میں حصہ لینے والے ضلع نارووال کے طلباء میں لیپ ٹاپ بھی تقسیم کیے۔

  • علامہ اقبال میڈیکل کالج میں ٹھیکوں کی اوکشن میں بے ضابطگیوں کا انکشاف

    علامہ اقبال میڈیکل کالج میں ٹھیکوں کی اوکشن میں بے ضابطگیوں کا انکشاف

    لاہور کے علامہ اقبال میڈیکل کالج میں ٹھیکوں کی اوکشن کے دوران بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے جس پر کالج کے پرنسپل نے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دس دن میں تمام بے ضابطگیوں کی رپورٹ مرتب کر کے میڈیکل کالج کی انتظامیہ کو جمع کروائے۔

    اس ضمن میں، شاہین مال میں واقع ایک کافی شاپ پر دیگر اشیاء کی فروخت کے بارے میں بھی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ٹھیکے کے حوالے سے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ کافی شاپ کے مالک کو نوازا گیا اور اُسے دیگر اشیاء فروخت کرنے کی اجازت دی گئی، حالانکہ اس کے علاوہ کوئی بھی شاپ ان اشیاء کا فروخت کرنے کا مجاز نہیں تھا۔ٹھیکے داروں نے اس معاملے پر سیکرٹری ہیلتھ کو درخواست بھی دی تھی، جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ کالج کے عملے نے ملی بھگت سے کافی شاپ کے مالک کو اضافی اشیاء فروخت کرنے کی اجازت دی تھی، ٹھیکے دار کا کہنا ہے کہ اخبار میں اشتہار دیا گیا تھا کہ صرف کافی شاپ کا ٹھیکہ دیا جائے گا ،عملے نے ملی بھگت سے دیگر اشیاء فروخت کرنے کی اجازت دی

    یہ بے ضابطگیاں سامنے آنے کے بعد کالج کی انتظامیہ نے فوری طور پر انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے تاکہ تمام معاملات کی تحقیقات کی جا سکیں اور مستقبل میں اس طرح کی بدعنوانیوں سے بچا جا سکے۔تمام فریقین سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنی شکایات اور الزامات کمیٹی کے سامنے پیش کریں تاکہ شفاف تحقیقات ہو سکیں اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے۔

  • پاکستان سے گن کے پارٹس چھپا کر برطانیہ اسمگل کرنے والے ملزم کو  سزا

    پاکستان سے گن کے پارٹس چھپا کر برطانیہ اسمگل کرنے والے ملزم کو سزا

    پاکستان سے گن کے پارٹس چھپاکر برطانیہ اسمگل کرنے والے ملزم یاسر خان کو 8 سال کی سزا سنا دی گئی ہے۔ ملزم نے اپنی پرانی گاڑی کے مختلف حصوں میں اسلحہ کے 72 پارٹس چھپائے تھے، جن میں ٹاپ سلائیڈز اور پسٹلز کے بیرلز شامل تھے۔

    یاسر خان نے یہ اسلحہ اسمگل کرنے کی کوشش کی تھی، جس کا مقصد برطانیہ میں غیر قانونی طور پر اسلحہ پہنچانا تھا۔ اس کی اسلحہ اسمگلنگ کی کوشش کا انکشاف اس وقت ہوا جب بارڈر فورس نے گزشتہ سال 7 جولائی کو ایک پرانی گاڑی سے گن کے پارٹس برآمد کیے۔ یہ پارٹس گاڑی کے فیول ٹینک کے اندر، ونڈ اسکرین کے نیچے اور انجن کے پیچھے چھپائے گئے تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، یاسر خان نے اسلحہ اسمگل کرنے کا اعتراف کیا اور برمنگھم کراؤن کورٹ میں اپنے جرم کی ذمہ داری قبول کی۔ عدالت نے اس کی اس کارروائی کو سنگین جرم قرار دیتے ہوئے 8 سال کی سزا سنائی۔

    یہ کیس اس بات کا غماز ہے کہ برطانیہ میں اسلحہ اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سیکیورٹی فورسز کی نگرانی اور کارروائیاں مسلسل جاری ہیں تاکہ اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔

  • 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کے 20 سال بعد دو افراد کی لاشیں برآمد

    8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کے 20 سال بعد دو افراد کی لاشیں برآمد

    پاکستان کے شمالی علاقوں میں 8 اکتوبر 2005 کو آنے والے زلزلے کے 20 سال بعد حالیہ کھدائی کے دوران دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ یہ زلزلہ ایک تباہ کن قدرتی آفات کے طور پر تاریخ میں درج ہے، جس میں ہزاروں افراد کی جانیں ضائع ہوئیں اور لاکھوں مکانات تباہ ہوگئے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق، یہ لاشیں پلیٹ کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کے دوران ملبے سے نکالی گئیں۔ ملبہ ہٹانے کے دوران یہ لاشیں سامنے آئیں، اور مزید لاشوں کی موجودگی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے باعث کھدائی کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔کونسلر محمود بیگ نے اس واقعہ کے حوالے سے بتایا کہ پلیٹ کے علاقے میں ایک بڑی عمارت تھی جو زلزلہ کی شدت کے باعث منہدم ہو گئی تھی۔ اس عمارت میں کئی طلبا رہائش پذیر تھے جو ملبے تلے دب گئے تھے اور ان کی تلاش جاری تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید لاشوں کے ملنے کی توقع ہے کیونکہ اس مقام پر متعدد مکانات ملبے میں دبے ہوئے ہیں۔

    ڈی این اے کے نمونوں کی بنیاد پر لاشوں کی شناخت کی جائے گی، اور ان کو ورثا کے حوالے کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ اس عمل کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو ان کے پیاروں کی میت مل سکے۔ڈیزاسٹر مینجمنٹ ریڈ کریسنٹ کے یاسر جوش نے اس مقام پر مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اس علاقے میں ریڈ کراس نے بہت سی لاشوں کو دفنایا تھا، اور یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ اس علاقے میں مزید ممکنہ طور پر لاشیں دفن ہو سکتی ہیں۔

    یہ واقعہ نہ صرف اس تباہ کن زلزلے کی یاد دلاتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ قدرتی آفات کے بعد کے اثرات طویل عرصے تک جاری رہ سکتے ہیں اور ان کے نشانات کبھی کبھار وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آتے رہتے ہیں۔ اس وقت متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں اور کھدائی کا عمل جاری ہے تاکہ دیگر ملبے تلے دبے افراد کو نکالا جا سکے۔