Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • غیر قانونی  مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی کی ڈیڈ لائن میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ

    غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی کی ڈیڈ لائن میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ

    پاکستان کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی کی ڈیڈ لائن میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، ان غیر قانونی افراد اور افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کو پاکستان چھوڑنے کے لیے 31 مارچ 2025ء تک کا وقت دیا گیا ہے۔ مقررہ تاریخ کے بعد ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور انہیں گرفتار کر کے ملک بدر کیا جائے گا۔

    یہ فیصلہ پاکستان میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر کیا گیا ہے، جس میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان دہشت گردوں کی سرگرمیاں پاکستان میں بڑھتی ہوئی تشویش کا باعث بنی ہیں، جس کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے تاکہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔اس کے علاوہ، 4 مارچ 2025ء کو بنوں کنٹونمنٹ پر دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے خودکش حملوں میں 16 دہشت گرد مارے گئے تھے، جن میں افغان دہشت گرد بھی شامل تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افغان سرزمین پر کی گئی تھی۔پاکستانی حکومت نے اس حوالے سے مزید کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی ملک بدری کا عمل یکم اپریل 2025ء سے شروع کر دیا جائے گا۔ حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک کی داخلی سلامتی کے لیے ایسے اقدامات اٹھانا ضروری ہیں تاکہ دہشت گردی کے خطرات سے بچا جا سکے اور غیر قانونی مقیم افراد کی تعداد کم کی جا سکے۔

    اس فیصلے کے بعد غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے لیے یہ ایک آخری موقع ہوگا کہ وہ اپنی رضامندی سے ملک چھوڑ دیں، ورنہ انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • مصطفیٰ کمال کو کراچی والا ہونے کا حق ادا کرنا چاہیے ،مرتضیٰ وہاب

    مصطفیٰ کمال کو کراچی والا ہونے کا حق ادا کرنا چاہیے ،مرتضیٰ وہاب

    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ مصطفیٰ کمال کو کراچی والا ہونے کا حق ادا کرنا چاہیے اور شہر کے مسائل پر عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

    مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ شہر کے لوگ سحری اور افطار کے وقت گیس کی لوڈشیڈنگ کے مسائل سے پریشان ہیں اور انہوں نے مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول صدیقی سے درخواست کی کہ وہ کراچی والوں کی زندگی کو مستحکم بنانے کے لیے اقدامات کریں۔مرتضیٰ وہاب نے وزیرِ اعظم پاکستان سے بھی درخواست کی کہ وہ اپنے وعدوں کو وفا کریں اور کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے عملی طور پر آگے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ "اگر وزیرِ اعظم وعدہ کرتے ہیں تو انہیں اس پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔ ہمیں وفاق سے کے فور منصوبے اور دیگر اہم منصوبوں کے لیے بجٹ کی ضرورت ہے۔ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کو بھی ہمارے ساتھ مل کر شہر کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔”

    مرتضیٰ وہاب نے حب ریور روڈ پر کھمبے چوری کرنے کے مسئلے کی طرف بھی اشارہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "نشہ آور افراد کے پیچھے ایک متحرک مافیا سرگرم ہے، اور کباڑی مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایس ایس پی سینٹرل کو ہدایات دے چکے ہیں کہ اگر آئندہ کسی علاقے میں لائٹ چوری کی جائے تو ایس ایچ او پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، ناظم آباد تھانے میں اسٹریٹ لائٹس چوری کرنے کے حوالے سے ایف آئی آر بھی درج کروا دی گئی ہے۔

    میئر کراچی نے چارجڈ پارکنگ کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اس سے ساڑھے پانچ کروڑ روپے کی آمدنی ہو رہی ہے۔ تاہم، پارکنگ فری کرنے کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے شہر کی اہم شاہراہوں پر گداگری کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا اور کہا کہ اس معاملے کو بہت جلد حل کر لیا جائے گا۔

  • اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر پر عمل نہ ہونے کا معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھیجنے کا فیصلہ

    اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر پر عمل نہ ہونے کا معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھیجنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر پر عمل نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور معاملہ استحقاق کمیٹی کے سپرد کر دیا ہے۔

    چیئرمین سینیٹ نے رولنگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے گئے تھے لیکن ان پر مکمل طور پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عون عباس اور اعجاز چوہدری کی گرفتاری کے معاملے پر انہیں پارلیمنٹ کے آئین و ضوابط سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا، جس پر انہیں تشویش ہے۔یوسف رضا گیلانی نے مزید کہا کہ 9 مئی کے مقدمات کے سلسلے میں سینیٹر اعجاز چوہدری کے خلاف ریکارڈ پیش کیا گیا ہے، اور یہ معاملہ بظاہر پروڈکشن آرڈر پر جزوی طور پر عمل درآمد نہ کرنے سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر پر عمل درآمد نہ کرنا ایک سنگین معاملہ ہے، جس سے متعلق اتھارٹی کو چیلنج کیا گیا ہے۔

    یوسف رضا گیلانی نے یہ بھی کہا کہ پروڈکشن آرڈر پر عمل درآمد نہ کرنے کا معاملہ پارلیمانی استحقاق سے متعلق ہے، اور اس حوالے سے فیصلہ استحقاق کمیٹی کے سپرد کیا جا رہا ہے تاکہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جا سکیں اور کسی بھی قسم کے آئینی یا قانونی نقائص کا ازالہ کیا جا سکے۔

    یہ معاملہ پارلیمنٹ میں ایک نیا تنازعہ پیدا کر رہا ہے جس سے سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہو سکتا ہے۔ اس وقت سینیٹ کے اندر مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان کی جانب سے اس اقدام پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، اور اس معاملے کو پارلیمانی استحقاق کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ اس کی مکمل چھان بین کی جا سکے۔اس کے علاوہ، یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سینیٹ کی کارروائی کے دوران اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ کسی بھی رکن کے حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو، اور تمام ارکان کو ان کے استحقاق کے مطابق سہولتیں فراہم کی جائیں۔

    لاہور:: پولیس اہلکار بھی ہنی ٹریپ میں ملوث،3 خواتین سمیت 7 ملزمان

  • ہر میدان میں کامیاب اور باہمت،بلوچ خواتین،اک مثال

    ہر میدان میں کامیاب اور باہمت،بلوچ خواتین،اک مثال

    بلوچ خواتین نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کا فخر ہیں کیونکہ انہوں نے ہر میدان میں خود کو منوایا ہے۔ ان خواتین نے نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

    وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی خواتین کو مردوں کی طرح قابل بنانے کا ماحول فراہم کر رہی ہیں تاکہ وہ مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکیں۔ بلوچ خواتین نے اس ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا کے مختلف میدانوں میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔

    اے ایس پی پری گل ترین: ایک مثالی رہنما
    پشین سے تعلق رکھنے والی اے ایس پی پری گل ترین ایک سی ایس پی آفیسر ہیں جنہوں نے 2020 میں اعلیٰ خدمات سرانجام دیں۔ اس وقت وہ کوئٹہ میں خواتین اور نوجوانوں کے سہولت کاری مرکز کی سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کی محنت اور عزم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بلوچ خواتین کسی بھی شعبے میں پیچھے نہیں ہیں۔

    جسٹس طاہرہ صفدر: بلوچستان کی پہلی خاتون چیف جسٹس
    جسٹس طاہرہ صفدر بلوچستان ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس تھیں، جنہوں نے اپنی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ ان کی کامیابی نے بلوچستان اور پاکستان بھر میں خواتین کے حقوق اور ان کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔

    بتول اسدی: بلوچستان کی پہلی خاتون اسسٹنٹ کمشنر
    بتول اسدی بلوچستان کی پہلی خاتون اسسٹنٹ کمشنر (AC) کوئٹہ تھیں۔ انہوں نے سرکاری انتظامیہ میں اپنی محنت اور قابلیت کے ذریعے ایک نئی راہ ہموار کی، جو بلوچستان کی دیگر خواتین کے لیے ایک نمونہ ہے۔

    سائرہ بتول: بلوچستان کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ
    بلوچ خواتین مسلح افواج میں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ سائرہ بتول بلوچستان کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ ہیں، جنہوں نے پاک فضائیہ میں اپنی محنت اور لگن کے ساتھ نئی تاریخ رقم کی ہے۔

    ذکیہ جمالی: پاکستان کی پہلی خاتون کمیشنڈ نیول آفیسر
    ذکیہ جمالی نے پاکستان کی پہلی خاتون کمیشنڈ نیول آفیسر کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے بحریہ میں اپنے کام کے ذریعے خواتین کی مضبوط موجودگی کو ثابت کیا۔

    شازیہ سرور: بلوچستان کی بہادر خاتون پولیس افسر
    پی ایس پی افسر شازیہ سرور جو لیہ پنجاب میں ڈی پی او رہ چکی ہیں، ایک مضبوط بلوچ خاتون ہیں جن کا تعلق بولان سے ہے۔ شازیہ سرور نے اپنی بہادری اور عزم کا مظاہرہ کیا، اور مچھ حملے میں بی ایل اے کا نشانہ بنی تھیں۔

    دوسری طرف، بلوچ خواتین کا استحصال کرنے والے گروہ بھی موجود ہیں۔ ان گروپوں میں شری بلوچ، سمیہ قلندرانی، محل بلوچ، گنجتون اور دہشت گردوں کے ہمدرد جیسے نائلہ قادری اور ماہ رنگ بلوچ شامل ہیں۔ یہ گروہ بلوچ خواتین کو دہشت گردی کی سرگرمیوں میں استعمال کرتے ہیں اور انہیں آسان ہدف بناتے ہیں۔ ایک مثال کے طور پر، مہروش بلوچ (خودکش بمبار شری بلوچ کی بیٹی) BLA کی تحویل میں ہے۔بلوچ خواتین دہشت گرد تنظیموں کی سازشوں کا آسان ہدف بن جاتی ہیں۔ فروری 2023 میں، محل بلوچ کو خودکش جیکٹ لے جانے کے لیے استعمال کیا گیا تاکہ لیفورسمنٹ ایجنسیز کے شبہات سے بچا جا سکے۔ان تمام چیلنجز کے باوجود، بلوچ خواتین ترقی، تعلیم اور خود مختاری کی راہ پر گامزن ہیں۔ منفی عناصر انہیں گمراہ نہیں کر سکتے، اور یہ خواتین اپنی کامیابی کے سفر میں ثابت قدم ہیں۔

    بلوچ خواتین نے ہر میدان میں اپنی محنت، عزم اور ہمت کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ ان کا سفر ایک روشن مثال ہے جو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے۔

    خواتین کا عالمی دن، صبا قمر دیہی خواتین کے پاس پہنچ گئیں

  • خواتین کا عالمی دن، صبا قمر دیہی خواتین کے پاس پہنچ گئیں

    خواتین کا عالمی دن، صبا قمر دیہی خواتین کے پاس پہنچ گئیں

    پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی منجھی ہوئی اداکارہ صبا قمر خواتین کا عالمی دن منانے کے لیے دیہی خواتین کے بیچ پہنچ گئیں

    پاکستان کی معروف اداکارہ صبا قمر نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر دیہی خواتین کے درمیان جا کر ایک اہم پیغام دیا۔ اداکارہ نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ پر دیہی خواتین کے ساتھ ایک خوبصورت تصویر شیئر کی اور اس کے ذریعے عالمی دن کی مناسبت سے خواتین کی اہمیت اور ان کے حقوق پر زور دیا۔صبا قمر کا کہنا تھا کہ "ہر لڑکی اپنے خوابوں کو پورا کرنے کی مستحق ہے” اور اگر انہیں اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا موقع نہ دیا جاتا، تو وہ آج اس مقام پر کبھی نہیں پہنچ پاتیں جہاں وہ آج ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر لڑکی کو یقین، حمایت اور بااختیاری کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے خوابوں کو حقیقت بنا سکے۔

    اداکارہ نے مزید کہا کہ "اس یومِ خواتین پر میں یونیسیف کی ’گرل گولز‘ مہم میں شامل ہو رہی ہوں، جس کا مقصد لڑکیوں کو سننا، ان کی قیادت پر یقین کرنا اور انہیں ایسے مواقع فراہم کرنا ہے جو ان کے خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کریں۔”صبا قمر کی اس پوسٹ نے نہ صرف خواتین کے عالمی دن کی اہمیت کو اجاگر کیا بلکہ یہ بھی بتایا کہ خواتین کو ہر میدان میں اپنے خوابوں کی تکمیل کا حق حاصل ہے اور انہیں اس میں مدد فراہم کرنا ضروری ہے۔

    خواتین کو آگے لانا پوری قوم کے مفاد میں ہے،صدر مملکت

  • آفاق احمد کے خلاف کیس کی سماعت 25 مارچ تک ملتوی

    آفاق احمد کے خلاف کیس کی سماعت 25 مارچ تک ملتوی

    کراچی: سٹی کورٹ کراچی میں آج چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ آفاق احمد کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، تاہم عدالت نے بغیر کسی کارروائی کے اس کی سماعت 25 مارچ تک ملتوی کر دی۔

    آج کی سماعت کے دوران آفاق احمد کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور آگاہ کیا کہ آفاق احمد راستے میں ہیں اور جلد عدالت میں پیش ہو جائیں گے۔ اس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت کو بغیر کسی کارروائی کے 25 مارچ تک ملتوی کرنے کا حکم دیا۔

    پولیس کے مطابق آفاق احمد کے خلاف سرجانی ٹاؤن تھانے میں اشتعال انگیزی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مقدمے کی تفصیلات کے مطابق آفاق احمد کی تقریر کے بعد لوگوں نے ٹینکرز کو آگ لگا دی تھی، جس کی وجہ سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو گئی تھی۔اس مقدمے میں آفاق احمد ضمانت پر ہیں، اور ان کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے باوجود وہ عدالت میں پیش ہونے کے لیے کسی وقت بھی حاضر ہو سکتے ہیں۔

    ڈیرہ غازی خان، پولیس چیک پوسٹ لکھانی پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام

  • خواتین کو آگے لانا  پوری قوم کے مفاد میں ہے،صدر مملکت

    خواتین کو آگے لانا پوری قوم کے مفاد میں ہے،صدر مملکت

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے یومِ خواتین کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خواتین کو تعلیم، معیشت اور قیادت میں آگے لانا نہ صرف ایک اخلاقی ضرورت ہے بلکہ یہ پوری قوم کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خواتین کے حقوق کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور اس عزم کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت مختلف اقدامات کر رہی ہے۔

    انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کرنا قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ ایسا معاشرہ جو خواتین کو مساوی حقوق دیتا ہے، وہ زیادہ خوشحال اور پُرامن ہوتا ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ آج کا دن خواتین کی استقامت، محنت اور کردار کو تسلیم کرنے کا دن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر خاتون کو مساوی حقوق اور مواقع تک رسائی فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کر سکیں۔

    صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان نے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں خواتین کے تحفظ کے لیے خصوصی عدالتیں اور ہیلپ لائنز کا قیام شامل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سرکاری اداروں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں، اور معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی شمولیت کے لیے حکومتی پالیسیوں پر کام جاری ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان آئینی دفعات اور بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق خواتین کے حقوق کے فروغ کے لیے پرُعزم ہے، اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ آج کے دن ہر خاتون کو بااختیار بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

    آصف علی زرداری کا یہ پیغام ایک واضح عزم کی علامت ہے کہ پاکستان میں خواتین کے حقوق کو مزید مستحکم کیا جائے گا، تاکہ وہ ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں۔

    اس موقع پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنے پیغام میں کہا کہ ہر عورت کی آواز سنی جائے، اس کی قدر کی جائے اور اسے احترام دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو اب بھی مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جیسے کہ تشدد اور امتیازی سلوک، جن کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرنا، معاشی آزادی دینا اور کاروباری شعبے میں ان کے لیے مساوی اجرت فراہم کرنا انتہائی اہم ہے۔

  • حکومت نے ہمیشہ خواتین کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے ،وزیراعظم

    حکومت نے ہمیشہ خواتین کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے ،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صنفی مساوات کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو تعلیم، ہنرمندی اور روزگار کے مواقع تک یکساں رسائی فراہم کر کے ہی انہیں بااختیار بنایا جا سکتا ہے،خواتین کے حقوق کو یقینی بنانا ہمارا مشن اور غیر متزلزل عزم ہے۔ 

    انہوں نے یہ بات ہفتہ کو عالمی یوم خواتین کے موقع پر یہاں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز خواتین بشمول کابینہ اراکین ، قانون سازوں، عہدیداروں، کاروباری شخصیات اور کارکنان نے وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی اس تقریب میں شرکت کی جس کا اہتمام وزارت انسانی حقوق اور قومی کمیشن برائے حیثیت نسواں نے اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے تعاون سے کیا تھا۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر قومی کمیشن برائے حیثیت نسواں اور اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ کی تیار کردہ دارالحکومت کیلئے صنفی مساوات کے حوالہ سے پہلی رپورٹ بھی لانچ کی جو تعلیم، صحت، گورننس، سیاسی نمائندگی اور انصاف جیسے اہم شعبوں میں چیلنجوں کی نشاندہی اور ان کے حل کی سفارش کرتی ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت قومی معیشت میں کردار ادا کرنے والے پروگراموں میں خواتین کی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے اجتماعی اقدام کے لیے صوبوں کے ساتھ اشتراک کار کرے گی۔انہوں نے ورکنگ ویمنز انڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا تاکہ کام کرنے والی خواتین کی مدد کی جا سکے اور انہیں عصری چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے۔ انہوں نے وزیر اعظم کے خواتین کو بااختیار بنانے کے پیکیج کو ملازمت کے شعبوں میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے اور مردوں کے مساوی سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کرنے کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یکساں مواقع کی فراہمی سے ہماری پچاس فیصد خواتین کی آبادی کو ایک مفید افرادی قوت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے ملازمت کرنے والی خواتین کی سہولت کے لیے اس بات کو اجاگر کیا کہ اسلام آباد میں سرکاری اور نجی محکموں میں ڈے کیئر سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جن میں سہولیات کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کا منصوبہ ہے۔

    وزیر اعظم نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کی ایک بڑی تعداد کام اور خاندانوں میں توازن پیدا کرنے کی جدوجہد میں پیشہ ورانہ کیریئر چھوڑ دیتی ہیں جس کے نتیجے میں ہنر مند انسانی وسائل کا بہت بڑا نقصان ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ خواتین کے اس طبقہ کے لیے میرا پیغام ہے کہ وہ آگے آئیں اور اپنی مہارت کے حامل اسپتالوں، بینکوں اور دیگر پیشوں میں شامل ہوں تاکہ قومی معیشت میں مثبت کردار ادا کرسکیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی ان ممتاز خواتین کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے کے منظر نامے کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے خاص طور پر تحریک پاکستان کی سرکردہ خواتین محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان، پاکستان اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بینظیربھٹو،آمریت کے خلاف مزاحمت کرنے والی مثالی شخصیات بیگم نصرت بھٹو اور بیگم کلثوم نواز ، سماجی کارکنان بلقیس ایدھی اور ڈاکٹر روتھ فائو ، قانون دان عاصمہ جہانگیر ، ملک کی کم عمر ترین آئی ٹی ماہر ارفع کریم، سابق سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ مریم نواز، لاہور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس عالیہ نیلم اور سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج جسٹس عائشہ ملک کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ قوم کی یہ بیٹیاں خواتین کو بااختیار بنانے کی ایک قابل ذکر علامت ہیں جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں اپنی شناخت بنائی۔شہباز شریف نے اپنی پارٹی کے ابتدائی دور حکومت میں خواتین کی خودمختاری لیے اٹھائے گئے اقدامات کو ذکر کیا جن میں خواتین کے لیے پنجاب کے پہلے انسداد تشدد مراکز کا قیام، سرکاری محکموں کے بورڈز میں خواتین کے کوٹہ میں اضافہ، طالبات کے لیے وظیفے میں اضافہ اور 90 ہزار بچیوں کو سکولوں میں داخل کر کے اینٹوں کے بھٹوں پر چائلڈ لیبر کا خاتمہ شامل ہے۔

    اس موقع پر وزیر قانون، انصاف اور انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت کے مطابق وزارتوں اور محکموں کو خواتین کی شمولیت کی حامل پالیسیوں کو یقینی بنانے کے لیے گزشتہ سال ٹاسک دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام کامیابی کے ساتھ محکمانہ بورڈز میں خواتین کی نمائندگی کے زیادہ تناسب کا باعث بنا۔

    اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے کہا کہ اقوام متحدہ صنفی ایکشن پلان سے متعلق پائیدار ترقی کے اہداف 2030 کے حصول کے لیے پاکستان کی معاونت کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنفی مساوات کو خواتین کے مخصوص حوالے کے طور پر نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ کے طور پر تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی صنفی برابری کی رپورٹ کا اجراء ان چیلنجوں کی نشاندہی کرنے میں اہم ہے جن پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    صنفی مین اسٹریمنگ کی خصوصی کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ مختلف سرکاری اداروں اور محکموں میں خواتین کی نمائندگی 33 فیصد کے ہدف سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی نمائندگی موثر حکمرانی اور بہتر پالیسی سازی کے لیے ضروری ہے۔

    چیئرپرسن این سی ایس ڈبلیو ام لیلیٰ اظہر نے پاکستان کی صنفی مساوات کی صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین متعدد شعبوں میں رکاوٹیں عبور کر رہی ہیں۔انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدامات کے طور پر خصوصی طور پر خواتین مسافروں کے لیے پنک بسوں کے اجراء اور ’ویمن آن وہیلز‘ پروجیکٹ پر روشنی ڈالی جس نے خواتین کو آسان اور آزادانہ نقل و حرکت کے لیے سہولت فراہم کی۔

    اس موقع پر چیئرمین سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) عاکف سعید نے کہا کہ وزیراعظم کے خواتین کو بااختیار بنانے کے پیکیج کے تحت ایس ای سی پی کو ان پرائیویٹ کمپنیوں کو نامزد کرنے کا کام سونپا گیا جنہوں نے اپنے کام کی جگہ پر فیملی فرینڈلی پالیسیاں نافذ کیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیاں کام کرنے کے محفوظ ماحول کو فروغ دینے میں رول ماڈل کے طور پر کام کریں گی۔

    وزیراعظم نے 10 بہترین نجی کمپنیوں کو فیملی فرینڈلی ایوارڈز دیئے جن میں الفا بیٹا کور سلوشنز، ارفع کریم ٹیکنالوجی انکیوبیٹر، ایوی ایشن ایم آر او، بلنک کیپٹل، فنورکس گلوبل، گفٹ ایجوکیشنل، کِسٹ پے، لائبہ انٹرپرائزز، لیڈیز فنڈ انرجی، اور لی اینڈ فنگ پاکستان شامل تھیں۔یہ ایوارڈز ایک آن لائن سروے اور اسکورنگ میٹرکس پر مبنی تھے جو ایس ای سی پی نے یو این ویمن اور پاکستان بزنس کونسل کے تعاون سے تیار کیا تھا۔ 2024 میں شروع کیے گئے سروے میں 230 سے ​​زائد کمپنیوں نے حصہ لیا، جن میں سے 10 کو شفاف عمل کے ذریعے شارٹ لسٹ کیا گیا۔

    ڈیرہ غازی خان، پولیس چیک پوسٹ لکھانی پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام

    اے این پی رہنما متوکل خان روڈ حادثے میں جاں بحق

  • ڈیرہ غازی خان، پولیس چیک پوسٹ لکھانی پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام

    ڈیرہ غازی خان، پولیس چیک پوسٹ لکھانی پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام

    ڈیرہ غازی خان: 7 مارچ 2025 کی صبح سحری کے وقت دہشتگردوں نے پولیس کی چیک پوسٹ لکھانی پر حملہ کیا، جسے پولیس اہلکاروں نے بروقت اور بہادری کے ساتھ ناکام بنا دیا۔

    ڈی پی او کے مطابق دہشتگردوں نے بھاری ہتھیاروں سے پولیس چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا، تاہم پولیس کے جوانوں نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں دہشتگرد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ڈی پی او نے بتایا کہ دہشتگردوں کی جانب سے حملہ کرنے کے بعد پولیس اہلکاروں نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا اور اس حملے کو ناکام بنایا۔ پولیس کی جوابی فائرنگ سے دہشتگردوں کو پسپائی اختیار کرنی پڑی، اور وہ علاقے سے فرار ہو گئے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس کامیاب کارروائی پر ڈیرہ غازی خان پولیس کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے دہشتگردوں کا حملہ بہادری اور دلیری کے ساتھ پسپا کیا۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دہشتگردوں کے حملوں کا مقابلہ کیا اور ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ "ڈیرہ غازی خان پولیس نے نہ صرف دہشتگردوں کے حملے کا منہ توڑ جواب دیا بلکہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے ان حملوں کو پسپا کر دیا۔” انہوں نے پنجاب پولیس کے جوانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "یہ پولیس کے جوانوں کی بہادری اور جرات کا ثبوت ہے کہ وہ دہشتگردوں کے حملوں کے باوجود اپنی ذمہ داریوں کو بھرپور طریقے سے نبھاتے ہیں۔”

    بھارت میں اسرائیلی خاتون سیاح کے ساتھ اجتماعی زیادتی

    قومی سلامتی کیلئے خطرہ،امریکہ نے پاکستانی شہری کو کیا بے دخل

  • بھارت میں اسرائیلی خاتون سیاح کے ساتھ اجتماعی زیادتی

    بھارت میں اسرائیلی خاتون سیاح کے ساتھ اجتماعی زیادتی

    کرناٹکا: بھارت میں ایک اور شرمناک واقعہ پیش آیا جہاں اسرائیلی خاتون سیاح اور ان کی ساتھی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ ریاست کرناٹکا کے علاقے کوپال کینال میں پیش آیا، جہاں حملہ آوروں نے نہ صرف خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا بلکہ ان کے ساتھی مسافروں پر بھی تشدد کیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ہولناک واقعہ جمعرات کی رات اس وقت پیش آیا جب 27 سالہ اسرائیلی خاتون اور ان کی ساتھی دیگر تین مسافروں کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔ متاثرین میں ایک امریکی شہری اور دو بھارتی شہری بھی شامل تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے پہلے تینوں مرد مسافروں کو زبردستی کینال میں دھکا دے دیا۔ اس کے نتیجے میں ایک بھارتی شہری ڈوب کر ہلاک ہو گیا، جبکہ امریکی شہری اور دوسرا بھارتی شہری کسی طرح تیر کر اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے۔پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے دونوں خواتین کو یرغمال بنانے کے بعد انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر مبینہ اجتماعی زیادتی کی۔ اسرائیلی خاتون نے اپنے ابتدائی بیان میں بتایا کہ حملے کے دوران انہیں بے دردی سے مارا پیٹا گیا اور پھر ان کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی۔

    پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور مجرموں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کو اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    بھارت میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی جرائم ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ملک میں خواتین کے تحفظ پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جلد از جلد ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔چونکہ اس واقعے میں اسرائیلی اور امریکی شہری متاثر ہوئے ہیں، اس لیے امکان ہے کہ بین الاقوامی سطح پر بھی بھارت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خاص طور پر اسرائیلی حکومت اس معاملے پر سخت ردعمل دے سکتی ہے۔بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق بھارت میں ہر سال ہزاروں خواتین جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں، لیکن زیادہ تر کیسز یا تو رپورٹ نہیں ہوتے یا پھر ملزمان کو سزا نہیں ملتی۔یہ واقعہ بھارت کے لیے ایک اور شرمناک لمحہ ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ ملک میں خواتین، چاہے وہ مقامی ہوں یا غیر ملکی، کسی بھی طرح محفوظ نہیں۔