Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پی آئی اے کی پرواز تکنیکی مسائل کے باعث دو مرتبہ رن وے سے واپس

    پی آئی اے کی پرواز تکنیکی مسائل کے باعث دو مرتبہ رن وے سے واپس

    قومی ایئرلائن پی آئی اے کی ایک پرواز کو تکنیکی مسائل کے سبب روانگی سے قبل دو مرتبہ رن وے سے واپس لے لیا گیا۔ اسلام آباد جانے والی اس پرواز کی روانگی میں تاخیر ہوئی، جس کی وجہ فلائٹ کنٹرول اسٹیٹس میسج میں خرابی تھی۔

    ذرائع کے مطابق، طیارے میں موجود فلائٹ کنٹرول سسٹم میں خرابی پیدا ہوئی، جس کے باعث پائلٹ نے حفاظتی تدابیر کے تحت پرواز کو رن وے سے واپس مڑنے کا فیصلہ کیا۔ پہلی کوشش میں خرابی کے سامنے آنے کے بعد، طیارے کو واپس ریمپ پر لے جایا گیا، جہاں انجینئرنگ ٹیم نے خرابی کو حل کرنے کی کوششیں کیں۔انجینئرنگ ٹیم مسلسل کوششوں میں مصروف ہے تاکہ خرابی کو دور کیا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے بعد پرواز کی روانگی کی نئی وقت کی توقع رات ڈیڑھ بجے کی ہے۔

    اس تاخیر کے باعث مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے، اور ایئر لائن نے مسافروں سے معذرت کی ہے۔ ایئر لائن حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی مسائل کو جلد حل کر لیا جائے گا تاکہ پرواز کو مقررہ وقت پر روانہ کیا جا سکے۔

  • خواتین کا عالمی دن، اسلام آباد میں "عورت مارچ” مرد بھی شریک

    خواتین کا عالمی دن، اسلام آباد میں "عورت مارچ” مرد بھی شریک

    اسلام آباد: خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اسلام آباد میں ہونے والے عورت مارچ میں مردوں نے بھی شرکت کی اور خواتین کے حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کی۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین نیشنل پریس کلب میں جمع ہوئیں اور اپنے حقوق کے لیے احتجاج کیا۔

    شرکاء نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت نے اس مارچ کے لیے این او سی جاری نہیں کیا، جس کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اس کے باوجود عورت مارچ کی شرکاء نے اپنی آواز کو بلند کرتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔مارچ میں شریک خواتین نے مختلف واقعات میں قتل ہونے والی خواتین کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے نور مقدم، قندیل بلوچ، سبین محمود اور ننھی زینب کے قتل کو یاد کرتے ہوئے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ شرکاء نے ان خواتین کی یاد میں نعرے لگائے اور انصاف کا مطالبہ کیا۔عورت مارچ کی شرکاء نے نیشنل پریس کلب کے سامنے ایک بڑی ریلی نکالی جس میں مرد و خواتین سمیت مختلف عمر کے افراد نے شرکت کی۔ خواتین نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں اور قانون سازی پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے۔

    اس مارچ کا مقصد خواتین کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے آواز اٹھانا اور معاشرتی انصاف کے حصول کی جدوجہد کو جاری رکھنا تھا۔ شرکاء نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گی اور کسی بھی طرح کے ظلم و زیادتی کے خلاف آواز بلند کرتی رہیں گی۔یہ مارچ ایک پیغام تھا کہ خواتین کو ان کے حقوق کی لڑائی میں کبھی بھی اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا اور یہ کہ معاشرتی تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ خواتین کو محفوظ اور مساوی حقوق فراہم کیے جا سکیں۔

  • وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا محکمہ زکوٰۃ کو ختم کرنے کا اعلان

    وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا محکمہ زکوٰۃ کو ختم کرنے کا اعلان

    وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں محکمہ زکوٰۃ کے خاتمے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمہ زکوٰۃ سالانہ 30 کروڑ روپے مستحقین میں تقسیم کرتا ہے، لیکن اس پر خرچ ہونے والے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ سرفراز بگٹی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ زکوٰۃ پر 1 ارب 60 کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں تاکہ صرف 30 کروڑ روپے مستحقین تک پہنچ سکیں۔

    وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ محکمہ زکوٰۃ کے پاس اس رقم کی تقسیم کے لیے 80 گاڑیاں موجود ہیں، مگر پچھلے 2 سالوں سے مستحقین میں زکوٰۃ کی رقم تقسیم نہیں کی گئی۔ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نظام مؤثر نہیں ہے اور عوامی پیسے کا ضیاع ہو رہا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ اب یہ 30 کروڑ روپے ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے غریبوں میں تقسیم کرائے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ اس عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جائے، تاکہ غریبوں تک زکوٰۃ کی رقم براہ راست پہنچ سکے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان کے اس فیصلے کے بعد صوبے میں محکمہ زکوٰۃ کے کردار اور مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوامی فلاح کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ وسائل کا بہتر استعمال ہو سکے۔

  • مرکزی مسلم لیگ کا قیام امن کے لیے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان

    مرکزی مسلم لیگ کا قیام امن کے لیے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان

    پورا ملک بدامنی کی لپیٹ میں، نوجوانوں کو مایوس نہیں ہونے دیں گے، مزمل اقبال ہاشمی
    نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لئے عید کے بعد آئی ٹی پروگرام لا رہے ہیں. تابش قیوم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے وطن عزیزپاکستان میں قیام امن کے لئے،قوم کو متحد و بیدار کرنے کے لئے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کر دیا، صدر مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ قائداعظم کے پاکستان کو مضبوط سے مضبوط تر بنائیں گے. رمضان میں پاکستان وجود میں آیا. عید کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف ملک تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہیں. پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ساتھ ملکر دہشت گردی کے خلاف مضبوط لائحہ عمل دیں گے.مرکزی مسلم لیگ امید کے ساتھ، مایوسیوں کا خاتمہ کرے گی.نوجوانوں کو آئی ٹی کے کورس کروائیں گے.

    ان خیالات کا اظہار خالد مسعود سندھو نے مقامی ہوٹل میں سینئر صحافیوں، ایڈیٹرز، اینکر پرسن کے اعزاز میں منعقدہ افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا. تقریب سے مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم، مرکزی مسلم لیگ لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی نے بھی خطاب کیا.خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی لہر نے سب کو متاثر کیا ہے،کوئی محفوظ نہیں. مرکزی مسلم لیگ سب کو اکٹھا کرے گی .مولانا حامد الحق حقانی بم دھماکے میں شہید ہوئے . بنوں میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا . عید کے بعد ملک گیر امن مارچ، جلسے جلسوس، ہوں گے.دہشت گردوں کے خلاف ملک گیر ،بلا تفریق آپریشن کرنے کی ضرورت ہے. دہشت گردوں سے ہمدردی رکھنے والا پاکستان کاہمدرد نہیں ہو سکتا. انتشار کی سیاست کی مخالفت کرتے ہیں.سیاسی جماعتیں بلدیاتی نظام کی کوشش کریں جس میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہ ہو، مرکزی مسلم لیگ مذاکرات پر یقین رکھتی ہے. حکومتی سطح پر مذاکرات کو بحال کیا جائے.

    مرکزی مسلم لیگ لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان بہت سارےمسائل سے دو چار ہے ان میں سے ایک مایوسی ہے.لوگ ریاست پاکستان سے مایوس ہو چکے ہیں.پورا ملک اس وقت بدامنی کی لپیٹ ہے. دہشت گردی ہے، بلوچستان بڑی شدت کے ساتھ سلگ رہا ہے. کے پی کے میں کئی بار حالات ہاتھوں سے نکلتے نظر آ رہے. آنے والا منظر نامہ دنیا کا بڑی تیزی سے بدل رہا ہے. ضرور ت اس امر کی ہے کہ ہم پاکستان کی سیاست کو مفاہمتی سیاست کی طرف لے کر آئیں. میڈیا قوم کو متحد و بیدار کرنے کے لئے کردار ادا کرے، پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے اس بات کا تہیہ کر رکھا ہے کہ ہم اپنی سیاست کو اخلاق، کردار کے دائرے میں رکھیں گے ،کسی صور ت الزام تراشی کی سیاست نہیں کریں گے، نوجوانوں کو مثبت انداز میں کام کے لئے تیار کریں گے.

    تابش قیوم کا کہنا تھا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں بظاہر نئی سیاسی جماعت ہے لیکن ان کے کام ، انکی خدمت، پاکستان سے وفا سے سب واقف ہیں، ملکی حالات میں لوگوں کی تربیت ،اصلاح کے کردار میں بہت بڑا ہے. روزگار پروگرام، خدمت پروجیکٹ، سحر و افطار دسترخوان مرکزی مسلم لیگ کے ملک بھر میں منصوبہ جات چل رہے.آئی ٹی کے حوالہ سے عید کے بعد بہت بڑا پروگرام لانچ کر رہے ہیں فری لانسنگ کے کورسز گلی محلوں، پارکوں ،گلیوں میں غرض ہر جگہ کروائیں گے تا کہ نوجوان سیکھیں اور خود کمائیں، اپنی معیشت بہتر کریں.اگر ہماری عوت محفوظ، ہنر مند،تعلیم یافتہ ہو گی تو ہماری قوم مضبوط ہو گی.

  • 54 کروڑ کا دھوکہ،اداکارہ نادیہ حسین کے شوہر عاطف خان  گرفتار

    54 کروڑ کا دھوکہ،اداکارہ نادیہ حسین کے شوہر عاطف خان گرفتار

    ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل نے لاہور کے علاقے ڈیفنس فیز 6 میں اداکارہ نادیہ حسین کے گھر پر چھاپا مارا اور ان کے شوہر عاطف خان کو گرفتار کر لیا۔

    ایف آئی اے کے ذرائع کے مطابق عاطف خان 54 کروڑ روپے سے زائد کے فراڈ میں ملوث ہیں اور ان پر کارپوریٹ مالیاتی دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایک نجی بینک سیکیورٹیز کے گروپ ہیڈ کی شکایت پر کی گئی۔ عاطف خان سابقہ سی ای او تھے اور انھوں نے بینک کے فنڈز کا غلط استعمال کیا تھا تاکہ اپنے ذاتی کاروبار کے لیے مالی مدد حاصل کر سکیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ عاطف خان نے مالی بدانتظامی کو چھپانے کے لیے کمپنی کے ریکارڈ میں جعل سازی کی۔ ملزم نے فنانشل اسٹیٹمنٹس اور دیگر جعلی دستاویزات تیار کر کے بڑے پیمانے پر فراڈ کیا۔ ان کے خلاف اس فراڈ کی تحقیقات جاری ہیں اور ایف آئی اے نے مزید تفتیش کے لیے ان کا 2 روزہ ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔

    جبری شادیوں اور غیرت کے نام پر قتل کے خلاف موثر قانون سازی کی جائے.عفت سعید

    فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی کی بیوی شوہر کیخلاف فیملی کورٹ پہنچ گئی

  • جبری شادیوں اور غیرت کے نام پر قتل کے خلاف موثر قانون سازی کی جائے.عفت سعید

    جبری شادیوں اور غیرت کے نام پر قتل کے خلاف موثر قانون سازی کی جائے.عفت سعید

    خواتین کا تعلیم، وراثت، ملازمت کا حق محفوظ بنانا ریاست اور سماج دونوں کی ذمہ داری ہے،عفت سعید

    مسلم ویمن لیگ کی سیکرٹری جنرل عفت سعید نے کہا ہے کہ پاکستان میں آج بھی خواتین مختلف جاگیردارانہ اور فرسودہ روایات کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔ ونی، قرآن سے شادی، غیرت کے نام پر قتل، وراثت سے محرومی جیسے سنگین جرائم اسلام کی تعلیمات کے سراسر خلاف ہیں۔

    خواتین کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عفت سعیدکا کہنا تھا کہ اسلامی اصولوں کے مطابق ہر عورت کو عزت، وقار اور مکمل حقوق حاصل ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی عورت کو وہ حقوق نہیں دیے جا رہے جو دین اسلام نے دیئے۔ خواتین کا تعلیم، وراثت، ملازمت اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق محفوظ بنانا ریاست اور سماج دونوں کی ذمہ داری ہے۔ مسلم ویمن لیگ پاکستان ہر اس کوشش کی حمایت کرے گی جو خواتین کو ان کے اسلامی، قانونی اور آئینی حقوق دلانے کے لیے کی جائے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عورت کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے، لیکن یہ جدوجہد اسلامی اقدار اور مشرقی تہذیب کے دائرے میں ہونی چاہیے۔ بدقسمتی سے، بعض نام نہاد تنظیمیں حقوقِ نسواں کے نام پر مغربی ایجنڈا مسلط کر رہی ہیں، جو ہمارے خاندانی نظام اور اسلامی روایات کے خلاف ہے۔

    عفت سعید کا مزید کہنا تھا کہ مسلم ویمن لیگ پاکستان حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ خواتین کو وراثت میں ان کا جائز حق دلانے کے لیے سخت اقدامات کرے، جبری شادیوں اور غیرت کے نام پر قتل کے خلاف موثر قانون سازی کو یقینی بنائے، اور خواتین کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دے تاکہ ایک مضبوط، مستحکم اور اسلامی اقدار پر مبنی معاشرہ تشکیل دیا جا سکے.

  • فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی کی بیوی شوہر کیخلاف فیملی کورٹ پہنچ گئی

    فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی کی بیوی شوہر کیخلاف فیملی کورٹ پہنچ گئی

    معروف فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی کے خلاف ان کی بیوی حمیرا نے فیملی کورٹ لاہور میں درخواست دائر کر دی ہے جس میں ان پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

    حمیرا کا کہنا ہے کہ محمود بھٹی شراب کے نشے میں دھت ہو کر اس پر تشدد کرتا تھا، اس کے کھانے پینے پر پابندیاں لگا دیتا تھا اور گھر میں قید کر کے رکھتا تھا۔حمیرا نے اپنی درخواست میں یہ بھی بتایا کہ محمود بھٹی نے فرانس واپس جانے کے دوران اسے دھمکی دی کہ اگر اس نے اس کے بارے میں کسی کو بتایا تو وہ اسے جان سے مار ڈالے گا۔حمیرا نے خرچہ و نان نفقہ کا بھی مطالبہ کیا ہے. ان الزامات کے بعد فیملی کورٹ لاہور نے 20 مارچ کو محمود بھٹی کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

    فیملی کورٹ کے جج نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر محمود بھٹی عدالت میں پیش نہ ہوئے تو ان کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی جائے گی۔ اس کیس کی مزید سماعت 20 مارچ کو ہوگی اور اس وقت عدالت محمود بھٹی کے موقف کا جائزہ لے گی۔

  • مصطفیٰ نواز کھوکھر کے والد کو ڈپلیکیٹ اسلحہ لائسنس  کی درخواست وفات کے بعد منظور

    مصطفیٰ نواز کھوکھر کے والد کو ڈپلیکیٹ اسلحہ لائسنس کی درخواست وفات کے بعد منظور

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے 2018 میں دائر کردہ ایک اہم مقدمے کا سات سال بعد فیصلہ سنایا، جس میں درخواست گزار نواز کھوکھر کے والد کو ڈپلیکیٹ اسلحہ لائسنس جاری کرنے کی درخواست منظور کی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ درخواست گزار نواز کھوکھر کا انتقال ہو چکا تھا، اور ان کے انتقال کے بعد ان کے ورثا نے مقدمے کی پیروی کی۔

    نواز کھوکھر نے بطور رکن قومی اسمبلی 8 مارچ 1987 کو اسلحہ لائسنس حاصل کیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ ان کا اسلحہ لائسنس 2015 میں گم ہوگیا تھا، جس کے باعث انہوں نے اس کا ڈپلیکیٹ لائسنس جاری کرنے کے لیے درخواست دی تھی۔ اسلحہ لائسنس جو کمپیوٹرائزڈ نہیں تھے، عموماً منسوخ تصور کیے جاتے ہیں، تاہم عدالت نے اس پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ رکن قومی اسمبلی ہونے کی حیثیت سے یہ اصول نواز کھوکھر کے لائسنس پر لاگو نہیں ہوگا اور ان کا لائسنس منسوخ تصور نہیں کیا جائے گا۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ رولز کے مطابق درخواست گزار کو ان کے لائسنس کا ڈپلیکیٹ فراہم کیا جائے گا۔ عدالت نے اس بات کی وضاحت کی کہ رکن قومی اسمبلی ہونے کی وجہ سے نواز کھوکھر کا اسلحہ لائسنس منسوخ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ان کی درخواست کو مسترد کیا جائے گا۔

  • سینیٹ میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پرقراردادمنظور

    سینیٹ میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پرقراردادمنظور

    سینیٹ میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ایک اہم قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ اس قرارداد میں کم عمری کی شادیوں پر پابندی لگانے، خواتین کو قانونی حقوق کی فراہمی اور دیگر اہم مطالبات شامل کیے گئے ہیں۔ سینیٹر کامل علی آغا نے اس قرارداد پر عملدرآمد کے لیے کمیٹی کے قیام کی تجویز بھی پیش کی۔

    پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے اس موقع پر خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ حکومت خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے اور خواتین کو اپنی صحت کے فیصلوں کا حق دیا جائے۔ اس کے علاوہ، کم عمری کی شادیوں پر پابندی لگانے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔قرارداد میں صنفی بنیاد پر تشدد اور کام کی جگہ پر ہراسانی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم کے ملزمان کو سخت سزائیں دینے، خواتین کھلاڑیوں کے لیے سرمایہ کاری کرنے اور کھیلوں میں مساوی مواقع فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ فنون، ادب اور ثقافت میں خواتین کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے بھی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

    شیری رحمان نے کہا کہ ہر تیسرے گھر میں خواتین کو جنسی تشدد کا سامنا ہے، اور بچیوں کی شادیاں 18 سال کی عمر سے پہلے نہیں کی جانی چاہئیں۔ ایوان نے اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

    سینیٹر کامل علی آغا نے قرارداد پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک کمیٹی کے قیام کی تجویز دی تاکہ اس کی مانیٹرنگ کی جا سکے اور اس پر عملی طور پر کام کیا جا سکے۔یہ قرارداد خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

    پاکستان کے زرعی مستقبل کیلئے محفوظ شہیدکنال کی تعمیر ناگزیر

  • پاکستان کے زرعی مستقبل کیلئے محفوظ شہیدکنال کی تعمیر ناگزیر

    پاکستان کے زرعی مستقبل کیلئے محفوظ شہیدکنال کی تعمیر ناگزیر

    پاکستان کی زرعی ترقی اور پانی کے وسائل کے بہتر استعمال کے لئے محفوظ شہیدکنال کی تعمیر ایک سنگ میل ثابت ہو گی۔ یہ منصوبہ خاص طور پر چولستان کے بنجر علاقوں کو قابل کاشت بنانے اور گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت زرعی پیداوار کو فروغ دینے کے لئے ایک اہم قدم ہے۔

    محفوظ شہید کنال کی تعمیر نیشنل واٹر پالیسی 2018 کے مطابق کی جا رہی ہے، جو کہ پاکستان کے پانی کے وسائل کے بہتر استعمال کی ایک حکمت عملی ہے۔ اس کینال کی تعمیر سلیمانکی ہیڈورکس سے فورٹ عباس تک کی جائے گی، جس کی کل لمبائی 176 کلومیٹر ہوگی اور یہ دریائے ستلج پر بنائی جائے گی۔ اس کینال کا مقصد پنجاب کے مخصوص شیئر کے پانی کو استعمال میں لانا ہے، اور اس کا منصوبہ اس طرح سے تیار کیا گیا ہے کہ اس سے صرف پنجاب کے پانی کے وسائل کا استعمال ہوگا۔محفوظ شہیدکینال میں پانی کی مقدار 4120 کیوسک ہو گی، جو کہ سیلابی پانی کے علاوہ دیگر قدرتی وسائل کو بھی بہتر طریقے سے استعمال کرنے میں مدد دے گی۔ جون سے اکتوبر تک اضافی سیلابی پانی اس کینال میں استعمال کیا جائے گا، جبکہ باقی دو ماہ میں پنجاب کے شیئر کے پانی کا استعمال کیا جائے گا۔

    اس منصوبے کے لیے حکومت پنجاب نے 1.2 ملین ایکڑ زمین لیز پر فراہم کی ہے، جبکہ 225.34 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ یہ ایک بڑا سرمایہ کاری منصوبہ ہے جس کا مقصد زرعی اراضی کی آبادکاری اور کسانوں کی فلاح ہے۔اگلے مرحلے میں فورٹ عباس سے مروٹ اور فورٹ عباس سے ڈھنڈوالا تک بالترتیب 120 اور 132 کلومیٹر کینالیں تعمیر کی جائیں گی، جو اسی منصوبے کا حصہ ہوں گی۔ ان کینالوں کی تکمیل کے بعد لاکھوں ایکڑ زمین کو سیراب کیا جا سکے گا، جس سے پاکستان کی زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

    اس منصوبے کی تکمیل کے لیے واٹر اپورشنمنٹ اکارڈ کے کلاز 8 کے مطابق، صوبوں کو اپنے مختص شدہ پانی کے وسائل کے اندر رہ کر نہری منصوبے شروع کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA) نے 4:1 کی اکثریت سے اس منصوبے کے لئے NOC جاری کی اور منظوری دی۔ یہ منظوری تمام صوبوں کی نمائندگی والے انڈس بیسن اریگیشن سسٹم کے تحت دی گئی ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ منصوبہ تمام صوبوں کے مفاد میں ہے۔بھاشا ڈیم (2028) اور مہمند ڈیم (2027) کی تکمیل کے بعد، 7.08 ملین ایکڑ فٹ اضافی پانی حاصل ہو گا، جو کہ سندھ سمیت تمام صوبوں کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ ان منصوبوں کے مکمل ہونے کے بعد پانی کی کمی کو دور کرنے میں مدد ملے گی، اور ملک بھر کے زرعی شعبے کو فائدہ پہنچے گا۔

    بھارت نے 2005 میں راجستھان کے بنجر علاقوں کو زرخیز بنانے کے لیے اندرا کینال کی تعمیر کی تھی، جس سے وہاں کی معیشت میں بہتری آئی تھی اور کسانوں کی زندگیوں میں خوشحالی آئی تھی۔ پاکستان میں بھی محفوظ شہیدکینال کی تعمیر اسی طرح کے نتائج لانے کی امید کی جا رہی ہے۔

    زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ محفوظ شہید کینال کا منصوبہ پاکستان کے زرعی مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس کی تکمیل سے نہ صرف کسانوں کو فائدہ پہنچے گا بلکہ فوڈ سیکیورٹی جیسے چیلنجز پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ بنجر زمینوں کی آبادکاری سے معیشت میں بہتری آئے گی اور لوگوں کو روزگار ملے گا۔ اس منصوبے کی کامیابی کے لیے قومی مفاد کو صوبائی اور علاقائی سیاست سے بالاتر ہو کر ترجیح دینی ہوگی۔

    یہ بات واضح ہے کہ اس منصوبے پر دریائے سندھ کا پانی استعمال نہیں کیا جائے گا، اور چند عناصر اس منصوبے کے بارے میں گمراہ کن پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں۔ زرعی ماہرین کے مطابق، اس منصوبے کی کامیابی پاکستان کے زرعی مستقبل کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو گی۔محفوظ شہید کنال پاکستان کے زرعی شعبے کی ترقی کے لیے ایک اہم قدم ہے، اور اس کے کامیاب نفاذ سے نہ صرف ملک کی معیشت میں بہتری آئے گی بلکہ پورے خطے کے لیے فائدہ مند ہوگا۔