Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اے این پی رہنما متوکل خان روڈ حادثے میں جاں بحق

    اے این پی رہنما متوکل خان روڈ حادثے میں جاں بحق

    عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری متوکل خان شانگلہ کے علاقے سانگڑئی میں ایک افسوسناک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق متوکل خان ایک تعزیتی دورے سے واپس آرہے تھے کہ سانگڑئی کے مقام پر ان کی کار بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جاگری۔ حادثہ اس قدر شدید تھا کہ وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ان کے ہمراہ موجود ڈرائیور شدید زخمی ہوگیا۔ زخمی ڈرائیور کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔متوکل خان عوامی نیشنل پارٹی کے ایک متحرک رہنما تھے۔ وہ نہ صرف پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری کے عہدے پر فائز رہے بلکہ اس سے قبل اے این پی کے ضلعی جنرل سیکرٹری کے طور پر بھی اپنی خدمات انجام دے چکے تھے۔انہوں نے گزشتہ عام انتخابات میں اے این پی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے بھی انتخاب لڑا تھا۔ ان کی سیاسی جدوجہد اور عوامی خدمات کو ان کے ساتھیوں اور پارٹی قیادت کی جانب سے بے حد سراہا جاتا رہا ہے۔

    متوکل خان کے اچانک انتقال پر اے این پی کی قیادت، کارکنان اور دیگر سیاسی و سماجی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے ان کے انتقال کو ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا اور کہا کہ وہ ایک مخلص، ایماندار اور اصول پسند سیاستدان تھے۔پارٹی قائدین اور کارکنان کی بڑی تعداد نے ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل دے۔

  • قومی سلامتی کیلئے خطرہ،امریکہ نے پاکستانی شہری کو کیا بے دخل

    قومی سلامتی کیلئے خطرہ،امریکہ نے پاکستانی شہری کو کیا بے دخل

    واشنگٹن: امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ نے 56 سالہ پاکستانی شہری سید رضوی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے 25 فروری کو امریکا سے بے دخل کر دیا۔

    سید رضوی غیر قانونی طور پر امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈالاس میں مقیم تھے۔ انہیں 31 جنوری کو ایک معمول کے ٹریفک چیک کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ وہ امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے تھے۔امریکی امیگریشن حکام کے مطابق، امیگریشن جج نے 24 جنوری کو ان کے ملک بدری کا حکم جاری کیا تھا، جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے انہیں امریکا سے بے دخل کر دیا گیا۔دستاویزات کے مطابق، سید رضوی 20 ستمبر 2017 کو نیویارک کے پورٹ آف انٹری سے قانونی طور پر امریکا میں داخل ہوئے تھے، لیکن بعد میں انہوں نے اپنی داخلے کی شرائط کی خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں انہیں امیگریشن حکام کی جانب سے حراست میں لیا گیا۔

    امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے ایک ترجمان نے کہا کہ امریکا کی قومی سلامتی اور قوانین کے تحفظ کے لیے ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے جو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں یا قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

    تاحال پاکستانی حکام یا سید رضوی کے خاندان کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم، قانونی ماہرین کے مطابق، امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو مستقبل میں امریکا میں دوبارہ داخلے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔یہ معاملہ ان پاکستانی شہریوں کے لیے بھی ایک وارننگ ہے جو بغیر مکمل قانونی حیثیت کے امریکا میں قیام پذیر ہیں یا امیگریشن قوانین پر عمل نہیں کرتے۔

  • لاہور،گھر میں ڈکیتی،خاتون کو یرغمال بنا کر 82 لاکھ  کا سامان لوٹ لیا

    لاہور،گھر میں ڈکیتی،خاتون کو یرغمال بنا کر 82 لاکھ کا سامان لوٹ لیا

    لاہور: شہر کے پوش علاقے ڈیفنس میں تین مسلح ڈاکوؤں نے ایک گھر میں گھس کر ماں اور بیٹے کو یرغمال بنا لیا اور لاکھوں روپے مالیت کے زیورات اور نقدی لوٹ کر فرار ہوگئے۔

    پولیس میں درج ایف آئی آر کے مطابق، متاثرہ شہری عامر زیدی اپنی والدہ کے ساتھ گھر میں موجود تھا جب تین نقاب پوش ڈاکو زبردستی اندر داخل ہوگئے۔ ملزمان نے اسلحے کے زور پر ماں اور بیٹے کو یرغمال بنایا اور ایک کمرے میں بند کر دیا۔ڈاکو گھر کی الماریوں سے 25 تولے سونے کے زیورات، جن کی مالیت تقریباً 80 لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے، اور 2 لاکھ 20 ہزار روپے نقدی لوٹ کر فرار ہوگئے۔سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق، ملزمان نے واردات سے قبل گھر کی ریکی کی تھی اور گاڑی میں بیٹھ کر حالات کا جائزہ لیا تھا۔ پولیس نے فوٹیج حاصل کر لی ہے اور ڈاکوؤں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    تھانہ ڈیفنس بی پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور مختلف شواہد کی مدد سے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ہی ملزمان کو گرفتار کرکے لوٹی گئی رقم اور زیورات برآمد کر لیے جائیں گے۔یہ واقعہ شہر میں بڑھتی ہوئی ڈکیتیوں کی ایک اور مثال ہے، جس نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ پولیس حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • اوآئی سی کی غزہ کی تعمیر نو کی حمایت

    اوآئی سی کی غزہ کی تعمیر نو کی حمایت

    اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فلسطینیوں کی بے دخلی کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے عرب منصوبے کے تحت غزہ کی تعمیر نو کی حمایت کر دی۔

    جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان کی نمائندگی وزیرخارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کی۔ اجلاس میں رکن ممالک نے عرب منصوبے کے تحت غزہ کی تعمیر نو کی حمایت کا اعلان کیا۔او آئی سی کے سربراہ حسین ابراہیم طحہٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ عرب لیگ کی جانب سے غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کی حمایت کرتے ہیں اور فلسطینی عوام کی جبراً نقل مکانی جیسے بیانات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینیوں پر جاری مظالم بند کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

    گزشتہ دنوں عرب ممالک کا قاہرہ میں غیر معمولی اجلاس ہوا تھا جس میں مصر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک ایسا منصوبہ پیش کرنے کا اعلان کیا جو فلسطینیوں کے حقوق کا احترام کرے اور انہیں ان کی سرزمین پر برقرار رکھے۔مصر کے غزہ کے حوالے سے 53 ارب ڈالر کے مجوزہ 5 سالہ منصوبے میں لاکھوں مکانات، تجارتی بندرگاہ اور ائیرپورٹ کی تعمیر شامل ہے۔ اس کے علاوہ فلسطینی علاقوں میں انتخابات کے انعقاد اور دو ریاستی حل کے قیام کی کوششیں بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔اجلاس کے اختتام پر عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط نے اعلان کیا کہ مصر کا منصوبہ اب ایک عرب منصوبہ بن چکا ہے اور اس کی حمایت تمام عرب ممالک نے کی ہے۔

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک منصوبہ پیش کیا تھا جس کے تحت فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرکے دوسرے ممالک میں منتقل کیا جائے اور غزہ کے ساحل پر ایک جدید سیاحتی علاقہ ‘ریویرا’ تعمیر کیا جائے۔ تاہم اس منصوبے کو بین الاقوامی سطح پر شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور اسلامی تعاون تنظیم نے بھی اس کی مذمت کی ہے۔

  • اسلام آباد میں نئی دہلی کی طرز پر جمہوری حکومت کے قیام کی سفارش

    اسلام آباد میں نئی دہلی کی طرز پر جمہوری حکومت کے قیام کی سفارش

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نئی دہلی کی طرز پر اسمبلی اور منتخب جمہوری حکومت بنانے کی سفارش کی گئی ہے، جس کے تحت اسمبلی اپنا لیڈر منتخب کرے گی جو میئر کہلائے گا۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامی اصلاحات کے لیے قائم سب کمیٹی نے اپنی عبوری رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ اسلام آباد میں نمائندہ حکومت اور جمہوری کنٹرول قائم کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت سے اسلام آباد حکومت کو اختیارات منتقل کیے جائیں اور مختلف بکھرے ہوئے محکموں کی بجائے مربوط انداز میں ادارے بنائے جائیں۔رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کے انتظامی امور کے لیے ایک موزوں ڈھانچہ تشکیل دیا جائے جو گلگت بلتستان کی طرز پر صوبائی حکومت کی طرز پر ہو۔ سب کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ اسلام آباد میں نئی دہلی کے ماڈل پر اسلام آباد کیپٹل ٹیرٹری حکومت تشکیل دی جائے، جس کے تحت ایک منتخب اسمبلی ہوگی۔ اس اسمبلی کے نمائندے براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوں گے۔ تاہم، مجوزہ صوبائی اسمبلی کے پاس ہوم، پولیس اور ماسٹر پلاننگ کے امور نہیں ہوں گے۔اسمبلی اپنا لیڈر منتخب کرے گی جو میئر کہلائے گا اور اسمبلی کو جوابدہ ہوگا۔ اس کے تحت آئی سی ٹی کے تمام محکمے صوبائی محکموں کی طرز پر تشکیل دیے جائیں گے۔ ان محکموں کی تعداد محدود ہوگی اور انہیں چار بڑے شعبوں میں تقسیم کیا جائے گا:سوشل،اکنامک،ڈویلپمنٹ،جنرل.داخلہ، پولیس اور ماسٹر پلاننگ کے محکمے وفاقی حکومت کے ماتحت رہیں گے جبکہ باقی تمام محکمے میئر کے ماتحت ہوں گے۔ داخلہ، پولیس اور ماسٹر پلاننگ کے محکموں کے انچارج وفاقی وزراء ہوں گے۔

    سب کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) سمیت تمام ادارے اسلام آباد کیپٹل ٹیرٹری (ICT) حکومت کے ماتحت کیے جائیں۔ اس کے علاوہ، چیف کمشنر کی جگہ چیف سیکرٹری ہوگا اور آئی جی پولیس کا عہدہ بھی متعارف کرایا جائے گا۔رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ آئی سی ٹی حکومت کو گلگت بلتستان کی طرز پر مکمل انتظامی اور مالی خود مختاری دی جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اسلام آباد کیپٹل ٹیرٹری ایکٹ 2025 منظور کیا جائے گا۔ عبوری طور پر، وفاقی حکومت کی ایڈوائس پر صدر مملکت آئین کے آرٹیکل 258 کے تحت ایک حکم نامہ جاری کر سکتے ہیں، جیسا کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے تحت کیا گیا تھا۔سب کمیٹی نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ آئی سی ٹی حکومت کے قیام کے لیے کسی نئے مالی انتظام کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ زیادہ تر موجودہ اداروں کو ہی ری اسٹرکچر کیا جائے گا۔ اس حکومت کے دو شیڈول ہوں گے.شیڈول اے: داخلہ، پولیس اور ماسٹر پلاننگ کے محکمے جو وفاقی حکومت کے ماتحت ہوں گے۔شیڈول بی: 26 محکمے جو آئی سی ٹی حکومت کے ماتحت ہوں گے۔

    ذرائع کے مطابق، یہ عبوری رپورٹ بیرسٹر ظفر اللہ کی سربراہی میں قائم سب کمیٹی نے تیار کی ہے، جس کے دیگر ارکان میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، ایم این اے خرم شہزاد، انجم عقیل ایم این اے، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور سی ڈی اے کے نمائندے شامل ہیں۔سب کمیٹی کا اگلا اجلاس آئندہ ہفتے ہوگا جس میں سفارشات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ بعد ازاں، یہ سفارشات وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال کی سربراہی میں قائم وزارتی کمیٹی کو پیش کی جائیں گی، جو حتمی منظوری دے گی۔

  • ٹرمپ کا جوہری معاہدے پرمذاکرات کا خط نہیں ملا،ایران

    ٹرمپ کا جوہری معاہدے پرمذاکرات کا خط نہیں ملا،ایران

    ایران کا کہنا ہے کہ اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جوہری معاہدے پر مذاکرات کے لیے کوئی خط موصول نہیں ہوا

    ایران نے واضح کیا ہے کہ اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے حوالے سے کوئی خط موصول نہیں ہوا ہے اور موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات ممکن نہیں۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ایرانی قیادت کو ایک خط لکھا ہے۔رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ نے خط میں ایرانی قیادت سے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہوگا کیونکہ یہ ان کے ملک کے مفاد میں ہوگا۔

    ایران نے امریکی صدر کی جانب سے بھیجے گئے کسی بھی خط کے موصول ہونے کی تردید کی ہے۔الجزیرہ کے مطابق، ایران کے سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ انہیں امریکی صدر کی جانب سے ایسا کوئی خط موصول نہیں ہوا۔ اسی طرح، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر نے بھی کسی خط کی تصدیق نہیں کی۔ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراغچی نے اس حوالے سے کہا کہ جب تک امریکا ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں برقرار رکھے گا، تب تک ایران جوہری معاہدے پر کوئی مذاکرات نہیں کرے گا۔ایرانی وزیر خارجہ نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک امریکا "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی اور دھمکیاں جاری رکھے گا، ایران کسی بھی قسم کے براہ راست مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے امریکا نے ایران پر متعدد اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں ایرانی تیل کے نیٹ ورک پر عائد سخت پابندیاں بھی شامل ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران سے نمٹنے کے دو طریقے ہیں، ایک عسکری کارروائی اور دوسرا مذاکرات کے ذریعے معاہدہ کرنا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران سے جنگ نہیں چاہتے اور مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ایران کے عوام اچھے لوگ ہیں۔وائٹ ہاؤس نے بھی ٹرمپ کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کی قیادت کو جوہری معاہدے پر مذاکرات کے لیے خط بھیجا ہے۔ تاہم، ایران کی جانب سے مسلسل اس خط کی وصولی کی تردید کی جا رہی ہے۔

  • ٹرمپ انتظامیہ کاحماس کی حمایت کرنے والے طلبہ کے خلاف کارروائی کا اعلان

    ٹرمپ انتظامیہ کاحماس کی حمایت کرنے والے طلبہ کے خلاف کارروائی کا اعلان

    ٹرمپ انتظامیہ نے ان غیر ملکی طلبہ کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے جو سوشل میڈیا پر حماس کی حمایت کرتے ہیں۔ اس پالیسی کے تحت انتظامیہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے طلبہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی کرے گی اور اگر ان کی سرگرمیاں حماس کی حمایت میں پائی گئیں تو ان کے ویزے منسوخ کر دیے جائیں گے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مظاہروں کے مرکز سمجھی جانے والی کولمبیا یونیورسٹی کی 400 ملین ڈالر کی وفاقی گرانٹ بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یونیورسٹی اپنی حدود میں موجود یہودی طلبہ کو ہراساں کیے جانے سے روکنے میں ناکام رہی ہے اور گرانٹ کی معطلی اسی تناظر میں کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ گرانٹ منسوخی کے پہلے مرحلے کے طور پر کیا گیا ہے، اور مستقبل میں مزید اقدامات بھی متوقع ہیں۔

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی مختلف جامعات میں اسرائیل-فلسطین تنازعے پر مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ پچھلے برس کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے احتجاج نے امریکا بھر کی یونیورسٹیوں میں ایک تحریک کو جنم دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ اور حکومتی ادارے اس پر سخت اقدامات کے لیے دباؤ میں تھے۔طلبہ اور انسانی حقوق کے کارکنان نے ان اقدامات کو آزادی اظہار کے خلاف قرار دیا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہودی طلبہ کی حفاظت اور قومی سلامتی کے پیش نظر یہ پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں۔

    متاثرہ طلبہ اور تعلیمی ادارے اس اقدام کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر غور کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کے ذریعے طلبہ کی نگرانی کا یہ عمل شروع ہو گیا تو اس کے دور رس اثرات ہوں گے اور یہ پالیسی دیگر جامعات اور ممالک تک بھی پھیل سکتی ہے۔

  • علی امین گنڈا پور کسی اور کے ایجنڈے پر کام کر رہے،سینیٹر کامران مرتضیٰ

    علی امین گنڈا پور کسی اور کے ایجنڈے پر کام کر رہے،سینیٹر کامران مرتضیٰ

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ کسی اور کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور ان کی جانب سے مولانا فضل الرحمان پر کی جانے والی تنقید ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ علی امین گنڈاپور جان بوجھ کر اشتعال انگیزی کر رہے ہیں اور ان کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے دو بار اپنے ہی کارکنوں کو چھوڑ کر غائب ہونے کی مثال قائم کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جب علی امین گنڈاپور منظرعام سے غائب ہوتے ہیں تو وہ کسی مخصوص قوت کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ اسی لیے وہ اب مولانا فضل الرحمان کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینئر رہنما حافظ حمداللہ نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو چاہیے کہ وہ علی امین گنڈاپور کو لگام دے، بصورت دیگر جے یو آئی سخت جواب دینے پر مجبور ہو جائے گی۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر علی امین گنڈاپور کی جانب سے مزید اشتعال انگیزی کی گئی تو جے یو آئی کارکنان خاموش نہیں رہیں گے اور پھر جوابی کارروائی کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور دونوں جماعتوں کے رہنما ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔ علی امین گنڈاپور کی جانب سے مولانا فضل الرحمان پر تنقید کے بعد جے یو آئی کی قیادت نے سخت موقف اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • چیمپئنر ٹرافی،بھارت نے پاکستان کو 195 کروڑ کا "ٹیکا” لگا دیا

    چیمپئنر ٹرافی،بھارت نے پاکستان کو 195 کروڑ کا "ٹیکا” لگا دیا

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے 2025 کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے دوران بھارت کی جانب سے ہونے والے فیصلوں کے نتیجے میں بڑے مالی نقصان کا سامنا کیا۔ بھارت کے خلاف میچز اور ایونٹ کی میزبانی کی وجہ سے پی سی بی کو 195 کروڑ روپے کا خسارہ ہوا۔

    پاکستان نے تقریباً 29 سال بعد ایک آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کی، لیکن یہ ایونٹ پاکستان کے لیے مالی لحاظ سے ایک بوجھ ثابت ہوا۔ پاکستان کی ٹیم چیمپئنز ٹرافی 2025 سے بغیر کسی فتح کے باہر ہوگئی۔ پاکستان کو بھارت اور نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست ہوئی، اور ایک میچ بارش کی نذر ہوگیا۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس ایونٹ کی میزبانی کے لیے پہلے ہی 156 کروڑ روپے کا نقصان اٹھایا، جب بھارت نے پاکستان آنے سے انکار کیا اور اپنے میچز دبئی میں کھیلے۔ بھارت کے روہت شرما کی قیادت میں بھارتی ٹیم نے دبئی میں 4 میچز کھیلے، جس کی وجہ سے پی سی بی کو دبئی میں میچز کی میزبانی کی وجہ سے اضافی اخراجات برداشت کرنے پڑے۔

    چیمپئنز ٹرافی کے دوران تین میچز پاکستان میں بارش کی نظر ہوگئے۔ دو میچ راولپنڈی اور ایک میچ لاہور میں بارش کی وجہ سے منسوخ ہوا۔ ان منسوخ میچز کے لیے پی سی بی کو ٹکٹ خریدنے والے مداحوں کو رقم واپس کرنی پڑی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کو بھارت کے فیصلے کے نتیجے میں مزید 39 کروڑ روپے کا نقصان ہوگا، کیونکہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا فائنل لاہور سے دبئی منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں پی سی بی کو اس میچ کے لیے میچ کی میزبانی کا اضافی خرچہ برداشت کرنا پڑا۔پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی کا آخری میچ بدھ کو لاہور میں ہوا، جہاں نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقہ کو دوسرے سیمی فائنل میں شکست دی۔ اس کے بعد فائنل دبئی منتقل ہوگیا۔

    اس ایونٹ میں پاکستان کو مالی طور پر بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا، اور یہ نقصان بھارت کی جانب سے پاکستان میں میچز نہ کھیلنے کے فیصلے کی وجہ سے مزید بڑھ گیا۔

    ذکاء اشرف کی جگہ ایم اے فائنل کا امتحان دینے والا امیدوار پکڑا گیا

    مصطفی قتل کیس،ملزم ارمغان کو پولیس حراست میں سہولیات کا انکشاف

    آئی سی سی مینز پلیئر آف دی منتھ کیلیے 3 نام سامنے آگئے

  • ذکاء اشرف کی جگہ ایم اے فائنل کا امتحان دینے والا امیدوار پکڑا گیا

    ذکاء اشرف کی جگہ ایم اے فائنل کا امتحان دینے والا امیدوار پکڑا گیا

    میرپورخاص : پی سی بی کے سابق چیئرمین ذکاء اشرف کی جگہ ایم اے فائنل کا امتحان دینے والا مبینہ وقار نامی امیدوار پکڑا گیا

    گورنمنٹ ماڈل ڈگری کالج سے ذکاء اشرف کا ایم اے ایکنامکس کا فارم بھرا گیا،امتحانی سنٹر کے ذرائع کے مطابق ایم اے پریویس کا امتحان بھی کسی اور امیدوار سے دلایا گیا،ایم اے فاٸنل کے دوسرے پیپر میں ممتحن نے شک ہونے پر امتحانی سلپ اور کارڈ چیک کرنے پر امیدوار کو پکڑا.امتحانی سلپ پر سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محمد ذکاء اشرف کا نام درج تھا۔ ممتحن کی جانب سے مزید تفتیش پر امیدوار نے مبینہ طور پر کہا کہ "امتحانی سلپ اور شناختی کارڈ نمبر دیکھ لیں، آپ کچھ نہیں کر سکتے۔”ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسے ہی یہ معاملہ کھلا، مبینہ طور پر ایک اعلیٰ شخصیت کی فون کال موصول ہوئی، جس میں حکم دیا گیا کہ "فوراً امیدوار کو پرچہ مکمل کرنے دیا جائے اور کسی قسم کی نقل یا کیس نہ بنایا جائے۔” ممتحن نے مبینہ دباؤ میں آکر حکم پر عمل کیا اور امیدوار کو امتحان مکمل کرنے دیا۔

    ذرائع کے مطابق، محمد ذکاء اشرف کی تمام فیسیں حکیم سجاد کے بیٹے سید سیرم کے اکاؤنٹ سے آن لائن ادا کی گئیں۔ مزید یہ کہ آن لائن فارم میں دیا گیا ای میل ایڈریس وائس چانسلر سکرنڈ ویٹرنری یونیورسٹی اور چیئرمین تعلیمی بورڈ نوابشاہ ڈاکٹر محمد فاروق حسن کا تھا۔

    مصدقہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اسی کالج سے ماضی میں سابق وفاقی وزیر غلام احمد بلور کو بھی بی اے کی ڈگری غیر قانونی طور پر دلوائی جا چکی ہے۔ یہ گروہ مبینہ طور پر اشرافیہ کو غیر قانونی طریقے سے گریجویشن اور ماسٹرز کی ڈگریاں دلوانے میں ملوث ہے اور ان تعلقات کی بنیاد پر غیر قانونی عہدے بھی حاصل کر چکا ہے۔

    طلبہ کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو عام طلبہ کی محنت رائیگاں جائے گی اور میرٹ کا جنازہ نکل جائے گا۔ طلبہ اور سول سوسائٹی نے حکومت اور اعلیٰ تعلیمی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اس غیر قانونی دھندے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔