Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ڈونلڈ ٹرمپ کا سعودی عرب کے دورے کا اعلان

    ڈونلڈ ٹرمپ کا سعودی عرب کے دورے کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے ایک سے ڈیڑھ ماہ میں سعودی عرب کا دورہ کریں گے، جس دوران ایک ٹریلین ڈالر کی بزنس ڈیل کے امکانات پر بات کی جائے گی۔

    ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ان کی بات چیت کامیاب رہی ہے، اور سعودی حکام امریکی کمپنیوں میں ایک ہزار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے پر راضی ہوگئے ہیں۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے سعودی حکام سے کہا تھا کہ اگر وہ امریکی کمپنیوں میں اتنی بڑی سرمایہ کاری کریں گے تو وہ سعودی عرب کا دورہ کریں گے، اور سعودی عرب اس بات پر متفق ہوچکا ہے۔ اس سرمایہ کاری میں فوجی ساز و سامان سمیت دیگر مصنوعات کی خریداری کے لئے امریکی کمپنیوں کو بھاری رقوم دی جائیں گی۔

    انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ امریکی تعلقات بہت اچھے ہیں اور سعودی حکام کی جانب سے امریکی کمپنیوں کے لئے بڑے مالی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کی حکومت امریکی کمپنیوں سے مختلف قسم کی خریداری کے لئے بہت بڑی رقم خرچ کرنے جا رہی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

    اس دورے کا مقصد سعودی عرب اور امریکہ کے اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینا اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سے اقتصادی تعلقات کے حوالے سے انہیں بھرپور حمایت حاصل ہے، اور وہ اس دورے کو ایک اہم سنگ میل سمجھتے ہیں۔

  • گھرکے آگے صفائی اور خوبصورتی کاخیال عوام خود کریں، عدالت

    گھرکے آگے صفائی اور خوبصورتی کاخیال عوام خود کریں، عدالت

    لاہور ہائیکورٹ نے ڈیزل بسوں کو الیکٹرک بسوں میں تبدیل کرنےکی پالیسی بنانےکا حکم دے دیا۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤکے معاملے پر درخواست کی سماعت کی، متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈیزل بسوں کو الیکٹرک بسز میں تبدیل کرنے کےلیے فیز آؤٹ پالیسی بنانی چاہیے، الیکٹرک بسوں کی طرف جانا بہت ضروری ہےچاہے اس میں 2، 3 سال کاعرصہ لگ جائے،لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کورکشہ مینوفیکچررز پربھی پالیسی بنانےکاحکم بھی دیا۔

    جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کو رکشوں سے متعلق پالیسی بنانی چاہیے، رکشوں کو الیکٹرک رکشاز میں کنورٹ کیاجاسکتا ہے، بھارت اور دیگر ممالک میں کامیابی سےکیاجاچکا ہے، رکشا مینوفیکچررزکو ساتھ ملا کرپلان بناناچاہیےکہ دھواں کیسےکنٹرول کیاجاسکتا ہے، صبح میں اسکول جاتےہوئے اور چھٹی کے ٹائم ایک مربوط ٹریفک پلان بنانا ضروری ہے، بڑے اسکولوں کےلیے پارکنگ ایریا لازم ہونا چاہیے، لوگوں کوحکومت کے ساتھ مل کر چلناہوگا، گھرکے آگے صفائی اور خوبصورتی کاخیال کرناہوگا۔

  • وفاقی وزرا،مشیروں کو محکمے مل گئے،پرویز خٹک مشیر داخلہ مقرر

    وفاقی وزرا،مشیروں کو محکمے مل گئے،پرویز خٹک مشیر داخلہ مقرر

    حکومت نے مختلف اہم محکموں میں وفاقی وزرا، وزرائے مملکت اور مشیروں کی تقرریاں کی ہیں، جن کا مقصد انتظامیہ کے امور کو مزید مستحکم اور موثر بنانا ہے۔ ان تقرریوں کا اعلان آج کیا گیا ہے جس میں وفاقی وزرا اور مشیروں کی ذمہ داریوں میں نئی تقسیم کی گئی ہے۔

    وفاقی وزرا کی تقرریاں:
    ڈاکٹر طارق فضل چودھری کو وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور مقرر کردیا گیا۔
    علی پرویز ملک کو وفاقی وزیر برائے پٹرولیم مقرر کیا گیا۔
    اورنگزیب خان کھچی کو وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ مقرر کیا گیا۔
    خالد حسین مگسی کو وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی مقرر کیا گیا۔
    حنیف عباسی کو وفاقی وزیر برائے ریلوے مقرر کیا گیا۔
    محمد جنید انور کو وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افئیرز مقرر کیا گیا۔
    محمد معین وٹو کو وفاقی وزیر برائے واٹر ریسورس تعینات کیا گیا۔
    رضا حیات ہراج کو وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار مقرر کیا گیا۔
    سردار محمد یوسف کو وفاقی وزیر برائے مذہبی امور مقرر کیا گیا۔
    شزہ فاطمہ خواجہ کو وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن مقرر کیا گیا۔
    رانا مبشر اقبال کو وفاقی وزیر برائے پبلک افئیرز یونٹ مقرر کیا گیا۔
    سید مصطفی کمال کو وفاقی وزیر برائے قومی ہیلتھ سروس مقرر کیا گیا۔

    وزرائے مملکت کی تقرریاں:
    ملک رشید احمد خان کو وزیر مملکت برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی مقرر کیا گیا۔
    عبدالرحمن کانجو کو وزیر مملکت برائے پاور مقرر کیا گیا اور وزیر مملکت برائے پبلک افئیرز یونٹ کا اضافی قلمدان سونپ دیا گیا۔
    عقیل ملک کو وزیر مملکت برائے قانون مقرر کیا گیا۔
    بلال اظہر کیانی کو وزیر مملکت برائے ریلوے مقرر کیا گیا۔
    کھیل داس کو وزیر مملکت برائے مذہبی امور مقرر کیا گیا۔
    محمد عون ثقلین کو وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورس مقرر کیا گیا۔
    مختار احمد ملک کو وزیر مملکت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز مقرر کیا گیا۔
    طلال چودھری کو وزیر مملکت برائے داخلہ مقرر کیا گیا۔
    وجیہہ قمر کو وزیر مملکت برائے وفاقی ایجوکیشن مقرر کیا گیا۔

    وفاقی مشیروں کی تقرریاں:
    پرویز خٹک کو مشیر برائے داخلہ امور مقرر کیا گیا۔
    ڈاکٹر سید توقیر حسین شاہ کو مشیر برائے وزیراعظم آفس مقرر کیا گیا۔
    محمد علی کو مشیر برائے پرائیویٹیشن مقرر کیا گیا۔
    مبارک زیب خان کو وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قبائلی امور مقرر کیا گیا۔
    ہارون اختر کو وزیراعظم کا معاون خصوصی برائے انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن مقرر کیا گیا۔
    حذیفہ رحمان کو وزیراعظم کا معاون خصوصی برائے قومی ورثہ اینڈ کلچر مقرر کیا گیا۔
    طلحہ برکی کو وزیراعظم کا معاون خصوصی برائے سیاسی امور مقرر کیا گیا۔

    یہ تقرریاں حکومت کی انتظامی صلاحیت کو مزید بہتر بنانے اور مختلف شعبوں میں ترقی کے لیے اہم اقدامات کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔ نئے وزرا اور مشیروں کی تعیناتی سے قومی سطح پر مختلف محکموں میں تیز رفتار کام کے آغاز کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • علیم خان کا صرف ایک وزارت رکھنے کا فیصلہ

    علیم خان کا صرف ایک وزارت رکھنے کا فیصلہ

    استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے رہنما عبدالعلیم خان نے تین وفاقی وزارتوں میں سے دو وزارتوں سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق علیم خان نے نجکاری، سرمایہ کاری اور مواصلات میں سے ایک وزارت اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔عبدالعلیم خان وزارت نجکاری اور سرمایہ کاری بورڈ سے دستبردار ہو جائیں گے جبکہ وزارت مواصلات ان کے پاس برقرار رہے گی۔ یہ فیصلہ انہوں نے اپنے کام کو بہتر طور پر انجام دینے اور ایک ہی وزارت پر مکمل توجہ مرکوز کرنے کے لیے کیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالعلیم خان نے وزیر اعظم کو اس فیصلے کے بارے میں اعتماد میں لے لیا ہے، اور اس سلسلے میں وزیر اعظم سے مشاورت بھی کی ہے۔ علیم خان کا ماننا ہے کہ ایک ہی وزارت پر زیادہ توجہ دینے سے وہ بہتر نتائج حاصل کر سکیں گے اور ملک کی ترقی میں مزید اہم کردار ادا کر سکیں گے۔

    یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب وفاقی حکومت کے متعدد وزیروں کے پاس مختلف وزارتیں ہیں اور ان میں سے کئی وزیروں کو ایک ہی وزارت پر کام کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنے کام میں زیادہ موثر ثابت ہوں۔عبدالعلیم خان کا یہ اقدام اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ حکومتی معاملات میں اہمیت دیتے ہوئے اپنے کام کو ترجیح دے رہے ہیں۔

  • 9 مئی  ملزمان کی ضمانت منسوخی کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر

    9 مئی ملزمان کی ضمانت منسوخی کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر

    سپریم کورٹ نے 9 مئی کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کے لیے دائر حکومتی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کر دیں۔

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ 10مارچ سے اپیلوں پر سماعت کرے گا۔جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس میاں گل حسن بینچ کا حصہ ہوں گے۔9 مئی کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کی 16 اپیلوں پر سماعت 11 مارچ کو ہو گی۔سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ 12 مارچ کو 9 مئی کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کی 8 اپیلوں پر سماعت کرے گا۔پنجاب حکومت نے 9 مئی کے ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرنے کے لیے رجوع کر رکھا ہے۔

    نومئی کے ملزمان کی عدالتوں نے ضمانتیں دی ہیں جس پر پنجاب حکومت نے ان کی ضمانتیں منسوخ کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں اپیل کر رکھی ہے.

  • حکومت عافیہ صدیقی کی درخواست کو نمٹانے کا کہہ رہی ، جسٹس سردار اعجاز اسحاق

    حکومت عافیہ صدیقی کی درخواست کو نمٹانے کا کہہ رہی ، جسٹس سردار اعجاز اسحاق

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحتیابی اور وطن واپسی کی درخواست پر سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ میں داعش کمانڈر کی امریکا کو حوالگی کا تذکرہ بھی سامنے آیا ہے.

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ آپ کہتے ہیں امریکا کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں، آپ نے بغیر کسی معاہدے کے بندہ پکڑ کر امریکا کے حوالے کردیا۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکا حوالگی سے متعلق آپ کو ان کیمرا آگاہ کرنے کا موقع بھی دیا گیا، 2 ڈیکلریشن آئے، حکومت کو جواب کا کہا مگر حکومت کی جانب سے غیر تسلی بخش جواب دیا گیا۔ اب حکومت عافیہ صدیقی کی درخواست کو نمٹانے کا کہہ رہی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل، آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اس کیس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں، وزیراعظم نےخط لکھنا تھا لکھ دیا، ان کو ویزا چاہیے تھا دے دیا،آپ نے جو کرنا تھا کردیا، ایسا رویہ اپنانے سے پوری دنیا کو پتا لگ جائے گا حکومت پاکستان نے کیا کیا،آپ نے کیا تیر مارے، اٹارنی جنرل آفس کو کہا تھا کہ حکومت کو تجاویز دیں اور عدالت کو بھی آگاہ کریں، آپ کہہ رہے ہیں کیس ختم کریں۔

    آج ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور امریکی وکیل ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے تھے،عدالت نے متفرق درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کردی۔

  • افغانستان سے لائے جانے والے غیر ملکی اسلحہ کے پاکستان میں استعمال کے ثبوت

    افغانستان سے لائے جانے والے غیر ملکی اسلحہ کے پاکستان میں استعمال کے ثبوت

    پاکستان کی سر زمین پر افغانستان سے لائے جانے والے غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے ثبوت ایک بار پھر منظرِ عام پرآ گئے۔

    پاک فوج گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔ حال ہی میں پاکستان میں افغان سرزمین سے ہونے والے دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان سے دہشتگرد پاک افغان سرحد کے ذریعے دراندازی کی کوشش کرتے ہیں اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ معصوم شہریوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔سب پر یہ بات عیاں ہے کہ دہشتگردوں کو افغانستان میں امریکا کا چھوڑا ہوا اسلحہ دستیاب ہے۔ دہشتگردوں کو ہتھیاروں کی فراہمی نے خطے کی سلامتی کو خاطر خواہ نقصان پہنچایا ہے۔ ان آپریشنز کی تفصیلات کے مطابق 4 مارچ 2025 کو فتنتہ الخوارج نے بنوں کینٹمنٹ پر حملے کی کوشش کی مگر سیکیورٹی فورسز کے بروقت ردعمل سے ان کے ناپاک ارادے ناکام ہو گئے۔ اپنی ناکامی کے خوف سے حملہ آوروں نے دو بارودی مواد سے لدی گاڑیاں کینٹمنٹ کی دیوار سے ٹکرا دیں۔آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے نے حملہ آوروں کو نشانہ بنا کر 16 دہشتگردوں سمیت 4 خودکش بمباروں کو ہلاک کر دیا۔ مارے گئے خوارجیوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا جس میں ایم 4 کاربائن اور 40 ایم ایم وی او جی 25 پروجیکٹڈ گرینیڈز بھی شامل تھے۔ یہ دہشتگرد سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل میں ملوث رہے۔

    اس سے قبل 28 فروری 2025 کو سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے غلام خان کلی میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے فتنتہ الخوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنا کر چھ خوارج کو ہلاک کیا۔ یہ خوارج سیکورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل میں ملوث رہے۔ ہلاک خوارج سے ایم 24 اسنائپر رائفل، ایم 16 اے 4 اور ایم 4 سمیت اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا۔

    15 فروری 2025 کو خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی دو الگ جھڑپوں میں پندرہ خوارج انجام کو پہنچے۔ 15 فروری 2025 کو سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے ہتھالہ میں آئی بی او کرکے نو خوارجیوں کو ہلاک کر دیا۔ 15 فروری 2025 کو ایک اور آپریشن میں سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں آپریشن کرکے چھ دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ہلاک دہشتگردوں سے اسلحہ اور بارودی مواد برآمد ہوا جو سیکورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل میں استعمال ہوتا رہا۔

    اس سے قبل یکم فروری 2025 کو ہرنائی میں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کرکے گیارہ دہشتگردوں کو ہلاک اور متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔ 31جنوری اور یکم فروری کی شب سیکیورٹی فورسز نے قلات کے علاقے منگوچر میں دہشتگردوں کا روڈ بلاک بنانے کا منصوبہ ناکام بنا کر بارہ دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا۔ دہشتگردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔11 جنوری 2025 کو ضلع شمالی وزیرستان کے ضلع دوسالی میں دو الگ الگ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کئے گئے۔ آپریشن کے دوران چھ خوارج کو جہنم واصل کر دیا گیا جب کہ دو خوارج گرفتار ہوئے۔

    انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک اور آپریشن شمالی وزیرستان کے علاقے ایشام میں کیا گیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد سیکورٹی فورسز نے تین خوارج کو جہنم واصل کر دیا جبکہ دو خوارج زخمی ہو گئے۔ 9دسمبر 2024 کوسیکورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا۔ آپریشن کے نتیجے میں دو خوارج کو جہنم واصل کر دیا گیا جبکہ ایک خارجی زخمی حالت میں پکڑا گیا۔ دہشتگردوں سے بھاری تعداد میں غیر ملکی اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

    10 نومبر 2024 کو ضلع شمالی وزیرستان میں دس خوارج کو جہنم واصل کیا، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا۔ آپریشن میں بھاری تعداد میں غیرملکی اسلحہ ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔

    افغانستان سے جدید غیر ملکی اسلحے کی پاکستان سمگلنگ اور ٹی ٹی پی کا سکیورٹی فورسز اور پاکستانی عوام کے خلاف غیر ملکی اسلحے کا استعمال افغان عبوری حکومت کا اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے کے دعوؤں پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یورو ایشین ٹائمز کے مطابق پاکستان میں ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی کارروائیوں میں غیر ملکی ساخت کے اسلحے کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔پینٹاگون کے مطابق امریکا نے افغان فوج کو کل 427,300 جنگی ہتھیار فراہم کیے جس میں 300,000 انخلاء کے وقت باقی رہ گئے۔ اس بناء پر خطے میں گزشتہ دو سالوں کے دوران دہشت گردی میں وسیع پیمانے پر اضافہ دیکھا گیا۔ امریکا نے 2005 سے اگست 2021 کے درمیان افغان قومی دفاعی اور سیکیورٹی فورسز کو 18.6 ارب ڈالر کا سامان فراہم کیا۔امریکی انخلا کے بعد ان ہتھیاروں نے ٹی ٹی پی کو سرحد پار دہشتگرد حملوں میں مدد دی۔

    یہ تمام حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ افغان عبوری حکومت نہ صرف ٹی ٹی پی کو مسلح کر رہی ہے بلکہ دیگر دہشتگرد تنظیموں کے لیے محفوظ راستہ بھی فراہم کر رہی ہے۔

  • وزیراعظم شہبازشریف  نے سول سرونٹ پروموشن رولز میں  تبدیلی کر دی

    وزیراعظم شہبازشریف نے سول سرونٹ پروموشن رولز میں تبدیلی کر دی

    وزیراعظم پاکستان، شہباز شریف نے سول سرونٹس کی پروموشن کے حوالے سے اہم تبدیلیاں کی ہیں جس کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے نیا ایس آر او (سٹیٹ آرڈر) جاری کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق اس نئے ایس آر او میں خاص طور پر گریڈ 22 میں افسران کی پروموشن کے لیے نئے اصول متعارف کرائے گئے ہیں۔ اب کسی بھی افسر کا کیس صرف دو مرتبہ ہی پروموشن کے لیے زیر غور آسکتا ہے۔ اس کے بعد اگر افسر کی پروموشن نہ ہو سکے تو اس کا کیس دوبارہ پروموشن کے لیے زیر غور نہیں لایا جائے گا۔نوٹیفکیشن کے مطابق، اگر کسی افسر کو دو مرتبہ پروموشن نہ مل سکے تو وہ اپنے پچھلے گریڈ میں ہی ریٹائر تصور کیا جائے گا۔ یہ تبدیلیاں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹیفکیشن میں واضح کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق فوراً ہو گا۔یہ نوٹیفکیشن گزٹ آف پاکستان میں بھی جاری کیا گیا ہے جس کے تحت سول سرونٹس کی پروموشن کے عمل میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

    اس تبدیلی سے سول سروس کے افسران کی کارکردگی اور پروموشن کے عمل کو مزید شفاف اور موثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ اقدام ان افسران کے لیے ایک نیا موقع فراہم کرے گا جو اپنے کام میں بہترین کارکردگی دکھا کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکیں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کے اس فیصلے سے سول سروس کے نظام میں بہتری اور افسران کی ترقی کے حوالے سے مزید واضحیت آئے گی۔

  • اتنا عرصہ ہوگیا، ارشد شریف کیس میں تاخیر کیوں ہوئی،سپریم کورٹ

    اتنا عرصہ ہوگیا، ارشد شریف کیس میں تاخیر کیوں ہوئی،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے ارشد شریف قتل کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی روزانہ کی بنیاد پر پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔

    سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بینچ نے ارشد شریف قتل کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نےکینیا سے باہمی قانونی امداد کے معاہدے کی توثیق کیلئے وقت مانگتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ میں صدر سے معاہدے کی توثیق کروا لی جائے گی۔ جسٹس حسن اظہر نے سوال کیا کہ 10 دسمبر کو معاہدہ ہوا لیکن اب تک توثیق کیوں نہیں ہوسکی؟جسٹس مندوخیل نے سوال کیا، کیا آپ سے روزانہ کی بنیاد پر پیشرفت رپورٹ مانگی جائے ؟ جسٹس علی مظہر نے کہا 3 ماہ بعد بھی وقت مانگا جا رہا ہے۔جسٹس حسن اظہر نے ریمارکس دیے کہ بے رحمی سے پاکستان کے ایک جانے پہچانے صحافی کو قتل کیا گیا، حکومت پاکستان کینیا میں صحافی کی فیملی کو کیوں سپورٹ نہیں کررہی، جسٹس مندوخیل نے کہا کہ وفاق کینیا میں جاکر فریق بن سکتی ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ہم نے 27 فروری کو وزارت داخلہ کو کارروائی آگے بڑھانے کے لیے لکھا ہے، جسٹس مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ دسمبر میں آخری سماعت کے بعد آپ نےفروری میں کیوں وزارت داخلہ کو لکھا، جسٹس حسن اظہر نے کہا اب سے روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت رپورٹ عدالت میں دیں۔

    جسٹس امین الدین نے کہا ہم جے آئی ٹیز کے حق میں نہیں، اس کا فائدہ نہیں ہوتا، ہماری بے چینی یہ ہے کہ اتنا عرصہ ہوگیا، ارشد شریف کیس میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا صدر کو سمری کس نے بھیجنی ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا وزارت داخلہ کابینہ کی منظوری کے بعد صدر کو سمری ارسال کرے گی مگر وزارت داخلہ سے میرا رابطہ نہیں ہو پا رہا، اس پر جسٹس علی مظہر نے کہا کہ وزارت داخلہ کے افسر تو آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکرٹری نے عدالت کو بتایا کہ 27 فروری کو کابینہ کی منظوری کے بعد وزارت خارجہ کو نوٹ بھجوا دیا، اس پر جسٹس علی مظہر نے سوال کیا معاہدےکی منظوری صدر نے دینی ہےتو کیا صدر مسترد بھی کرسکتے ہیں؟ وزارت داخلہ کے قانونی مشیر نے جواب دیا اس متعلق کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔

  • خیبر پختونخوا میں امن و امان کی خراب صورتحال،عدالت نے کیا جواب طلب

    خیبر پختونخوا میں امن و امان کی خراب صورتحال،عدالت نے کیا جواب طلب

    پشاور: پشاور ہائی کورٹ میں خیبر پختون خوا کے جنوبی اضلاع میں امن کی خراب صورتِ حال سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخواست کی سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس خورشید اقبال نے کی۔

    سماعت کے دوران درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ خیبر پختون خوا کے جنوبی اضلاع میں سیکیورٹی کی صورتِ حال انتہائی مخدوش ہے، جس کی وجہ سے وہاں کے رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ علاقے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور دیگر جرائم نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، اور ان حالات میں عوام کا تحفظ کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔عدالتِ عالیہ نے درخواست پر غور کرتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومت، سیکریٹری داخلہ، آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹسز جاری کر دیے۔ عدالت نے فریقین کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔