Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کو لندن میں احتجاج کا سامنا

    بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کو لندن میں احتجاج کا سامنا

    بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو لندن میں اپنے قیام کے دوران ایک شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ خالصتان کے حامی سکھوں کی ایک بڑی تعداد نے اس وقت احتجاج کیا جب وزیر خارجہ ایس جے شنکر لندن کے معروف تھنک ٹینک چتھم ہاؤس میں ایک تقریب کے بعد اپنی کار میں جا رہے تھے۔

    مظاہرین نے خالصتان کے حق میں اور بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ ان نعرے بازی کے دوران مظاہرین نے اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کیا اور ایس جے شنکر کے خلاف اپنے اعتراضات کو سامنے رکھا۔ یہ مظاہرہ بھارتی وزیر خارجہ کے لیے ایک نیا چیلنج بن گیا۔اس دوران مظاہرین نے بھارتی وزیر خارجہ کی گاڑی کی جانب دوڑتے ہوئے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، یہ حملہ علیحدگی پسند سکھوں کے ایک گروپ کی جانب سے کیا گیا تھا۔ حملہ کرنے والے شخص نے بھارتی پرچم کو پھاڑ دیا ،پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے اس شخص کو حراست میں لے لیا اور سیکیورٹی کے مزید انتظامات کو سخت کر دیا گیا۔

    اس حملے کی کوشش اور مظاہرہ بھارتی سکھ کمیونٹی کی طرف سے خالصتان کی حمایت میں شدت کے اشارے ہیں، جو بھارت کی حکومت کے ساتھ کئی دہائیوں سے متنازعہ ہیں۔ ان مظاہروں کا سلسلہ بھارت اور دیگر ممالک میں مختلف مواقع پر جاری رہا ہے.یہ واقعہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی لندن میں موجودگی کے دوران ایک سنگین صورتحال بن گئی، جس نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی۔ اس کے ساتھ ہی بھارتی میڈیا اور حکومتی حلقوں کی جانب سے اس پر شدید ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔

  • آئی ایم ایف سے جائزہ مذاکرات ، پاکستان کی طرف سے تجاویز پیش

    آئی ایم ایف سے جائزہ مذاکرات ، پاکستان کی طرف سے تجاویز پیش

    پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اپنے اقتصادی جائزہ مذاکرات کے دوران رئیل اسٹیٹ، پراپرٹی، بیورجز اور تمباکو کے شعبوں میں ٹیکس بوجھ میں کمی لانے کی تجویز پیش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کی منظوری سے ان شعبوں پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے گا جس سے ان شعبوں میں کاروباری سرگرمیاں بڑھنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

    آگے چل کر، پاکستان کی جانب سے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں میں کمی کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، جس کا مقصد عوام کو مالی طور پر ریلیف فراہم کرنا ہے۔پاکستان نے آئی ایم ایف کو بتایا ہے کہ اگلے بجٹ میں مختلف شعبوں سے 250 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کا پلان بنایا گیا ہے۔ اس میں ریٹیل سمیت دیگر شعبے شامل ہوں گے۔ حکومت نے تاجر دوست اسکیموں، کمپلائنس رسک مینجمنٹ اور انتظامی اقدامات کے ذریعے ٹیکس کی وصولی کو بہتر بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان تمام اقدامات کی حتمی منظوری آئی ایم ایف سے حاصل کی جائے گی۔

    دوسری جانب، توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے بھی آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کیے گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے کمرشل بینکوں سے 1250 ارب روپے کا قرض لیا جائے گا، جس پر 10.8 فیصد کی شرح سود ہوگی۔ یہ معاہدہ کامیابی سے طے پاگیا ہے۔

    آئی ایم ایف مشن کو ایف بی آر کی اصلاحات اور تنظیم نو کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ چیئرمین ایف بی آر کی قیادت میں ٹیکس حکام نے آئی ایم ایف کو ادارے کی تنظیم نو کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔

    ذرائع کے مطابق، عالمی اداروں کے تعاون سے جاری ڈیجیٹلائزیشن اور ڈیٹا انٹیگریشن کے منصوبوں پر بھی بات کی گئی۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ ان اقدامات سے ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے نئے قوانین متعارف کرائے جائیں گے، جن کے مکمل ہونے کی مدت کا بھی تعین کیا گیا ہے۔آئی ایم ایف مشن نے بریفنگ پر اپنی رائے بعد میں دینے کا کہا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان تمام اقدامات کی حتمی منظوری کے لیے آئی ایم ایف کا تفصیلی جائزہ ضروری ہوگا۔

    اس دوران پاکستان کی حکومت نے اپنی اقتصادی پالیسیوں کی کامیابی کے حوالے سے آئی ایم ایف سے مزید تعاون کی درخواست کی ہے تاکہ ملک کی معیشت میں استحکام آئے اور عوامی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے.

  • پولیس کانسٹیبل گاڑیاں چھیننے لگا ،گرفتار

    پولیس کانسٹیبل گاڑیاں چھیننے لگا ،گرفتار

    کراچی: کراچی کے پوش ایریاز سے لگژری گاڑیاں چھیننے والے گینگ کے سرغنہ پولیس کانسٹیبل کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے کراچی کے مختلف پوش علاقوں سے دو درجن سے زائد گاڑیاں چھیننے کی وارداتیں کی ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ چوری شدہ گاڑیاں گینگ کے دیگر ارکان کے ذریعے بلوچستان میں فروخت کی جاتی تھیں۔ پولیس نے ملزم سے چھینی گئی گاڑیاں، سرکاری اسلحہ اور منشیات برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ملزم کی شناخت پولیس کانسٹیبل رانا کاشف کے طور پر ہوئی ہے جو کہ فارن سکیورٹی سیل میں ڈیوٹی پر تعینات تھا۔ ملزم نے گزشتہ سال فیروز آباد سے اسلحہ کے زور پر چھینی جانے والی گاڑی کا بھی اعتراف کیا ہے۔ مزید برآں، ملزم نے دو درجن سے زائد دیگر وارداتوں میں بھی ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

    پولیس کے مطابق ملزم کے دیگر ساتھیوں کو گرفتار کرنے اور مزید گاڑیوں کی برآمدگی کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • ایلون مسک کو ایک اور دھچکا، اسپیس ایکس اسٹار شپ کی آزمائشی پرواز ناکام

    ایلون مسک کو ایک اور دھچکا، اسپیس ایکس اسٹار شپ کی آزمائشی پرواز ناکام

    ایلون مسک کے مریخ پروگرام کو مسلسل دوسری ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسپیس ایکس کا بڑا اسٹار شپ خلائی جہاز ٹیکساس کے لانچ پیڈ سے ٹیک آف کرنے کے بعد خلا میں پھٹ گیا۔ اس حادثے کا ملبہ کیریبین سمندر میں بکھر گیا، جس کے باعث امریکی ریاست فلوریڈا کے کئی اہم ہوائی اڈوں کو بند کر دیا گیا۔ ان ائیرپورٹس کی بندش اور ہائی الرٹ کی صورتحال کے باعث متعدد پروازوں کا رخ تبدیل کرنا پڑا۔

    رپورٹس کے مطابق، 7 مارچ کو اسپیس ایکس نے اپنے اسٹار شپ کو ٹیکساس کے بوکا چیکا سے لانچ کیا تھا۔ ابتدائی طور پر لانچ کامیاب دکھائی دی اور سپر ہیوی بوسٹر نے بہترین کارکردگی دکھائی۔ بوسٹر نے اپنے کام کو بخوبی انجام دیا اور اسٹار شپ سے علیحدہ ہو گیا، جس کے بعد کمپنی نے اسے کامیاب قرار دیا کیونکہ بوسٹر کا سمندر میں گرنا دوبارہ قابل استعمال راکٹ ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت تھی۔تاہم، چند منٹ بعد اسپیس ایکس کا اسٹار شپ سے رابطہ ٹوٹ گیا اور خلائی جہاز زمین کے ماحول میں دوبارہ داخل ہونے سے پہلے ہی پھٹ گیا۔ اس حادثے کے بعد خلائی جہاز کا ملبہ سمندر میں بکھر گیا، جس سے فلوریڈا کے جنوبی حصے اور بہاماس کے قریب آگ کا دھواں پھیل گیا۔ اس حادثے نے امریکہ میں ہوائی سفر کو متاثر کیا۔

    فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) نے میامی، فورٹ لاڈرڈیل، اورلینڈو اور پام بیچ ہوائی اڈوں پر روانہ ہونے والی پروازوں کے لیے 8 بجے تک گراؤنڈ اسٹاپ کا اعلان کر دیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں فلوریڈا کے مختلف ایئرپورٹس پر پروازوں کی تاخیر اور تبدیلی کی صورت حال پیدا ہوئی۔

    اگرچہ یہ مشن مکمل طور پر ناکام رہا، اسپیس ایکس کا کہنا ہے کہ اس آزمائشی پرواز سے اہم ڈیٹا حاصل کیا گیا ہے جو مستقبل میں خلا میں پروازوں کی مزید بہتری کے لیے معاون ثابت ہو گا۔ اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس مشن سے کمپنی کو اپنے نظام کو مزید بہتر بنانے کا موقع ملا ہے۔یہ آزمائشی پرواز اسپیس ایکس کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل تھی کیونکہ کمپنی اسٹار شپ کو مریخ اور چاند پر مستقبل کی مشنز کے لیے تیار کر رہی ہے۔ اس ناکامی کے باوجود، اسپیس ایکس نے خلا میں اپنی پروازوں کے حوالے سے ایک نئی جہت کو دریافت کرنے کی کوشش کی ہے اور کمپنی کا کہنا ہے کہ اس تجربے سے ملنے والی معلومات اگلے مشن کو کامیاب بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

  • ٹڈاپ کرپشن اسکینڈل ،یوسف رضا گیلانی بری

    ٹڈاپ کرپشن اسکینڈل ،یوسف رضا گیلانی بری

    کراچی: کراچی کی وفاقی اینٹی کرپشن عدالت نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو ٹڈاپ کرپشن اسکینڈل کے تین مقدمات میں بری کر دیا۔

    کراچی کی وفاقی اینٹی کرپشن کورٹ میں ٹڈاپ کرپشن اسکینڈل کیس کی سماعت ہوئی، جس میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے تمام دلائل اور گواہیوں کا جائزہ لینے کے بعد یوسف رضا گیلانی کو تین مقدمات میں بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔

    ہمارے لیے جیل نئی بات نہیں ہے، چاہیں تو مجھے پھانسی دے دیں،چیئرمین سینیٹ کا جج سے مکالمہ
    ٹڈاپ کرپشن کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور جج وفاقی انسداد کرپشن عدالت کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا،چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے خلاف ٹڈاپ کرپشن اسکینڈل کی سماعت اینٹی کرپشن کورٹ کراچی میں ہوئی،دوران سماعت عدالت نے یوسف رضا گیلانی سے استفسار کیا آپ کس جیل میں جانا چاہیں گے، کراچی، ملتان یا اسلام آباد، جس پر یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا مجھے جیل سے کوئی ڈر نہیں، ہمارے لیے جیل نئی بات نہیں ہے، چاہیں تو مجھے پھانسی دے دیں، چیئرمین سینیٹ کے جواب پر اینٹی کرپشن عدالت کے جج مسکرا دیے۔عدالت نے سوال کیا آپ کو گھر کی جیل کیوں پسند نہیں؟ جس پر یوسف رضا گیلانی نے کہا میرا آبائی گھر ملتان ہے، فیملی لاہور اور سینیٹ آفس اسلام آباد ہے،بعد ازاں وفاقی اینٹی کرپشن کورٹ کے جج نے کہا گیلانی صاحب، آپ پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا لہذا آپ باعزت بری ہیں جبکہ آپ کے خلاف بیان دینے والے اب اس کیس میں ملزم بن گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ یہ مقدمات فریٹ سبسڈی کی مد میں قومی خزانے کو 6 ارب روپے سے زائد نقصان پہنچانے کے الزامات پر تھے۔ ان الزامات میں کہا گیا تھا کہ ملزمان نے فریٹ سبسڈی کے ذریعے قومی خزانے کو بڑا نقصان پہنچایا۔ٹڈاپ کرپشن اسکینڈل میں مجموعی طور پر 70 سے زائد مقدمات 2013 میں درج کیے گئے تھے، جن میں کئی کمپنیوں اور افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔ اس اسکینڈل میں پیپلز پارٹی کے مرحوم رہنما مخدوم امین فہیم کا بھی نام شامل تھا، جنہیں الزام کا سامنا تھا۔

    یوسف رضا گیلانی کو بری کرنے کے فیصلے کے بعد ان کے حامیوں نے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ انصاف کی جیت ہے۔

  • کوئٹہ،ہزار گنجی میں گیس لیکج کے باعث دھماکا، 2 خواتین کی موت

    کوئٹہ،ہزار گنجی میں گیس لیکج کے باعث دھماکا، 2 خواتین کی موت

    کوئٹہ: ہزار گنجی کے علاقے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں گیس لیکج کے باعث دھماکے میں ماں اور بیٹی جاں بحق ہوگئیں، جبکہ ایک بچہ زخمی ہوگیا۔

    ہزار گنجی کے علاقے کلی خزاں میں رہائشی ہمایوں خان کے گھر میں گیس بھر جانے کی وجہ سے دھماکا ہوا۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریبی گھروں میں بھی اس کی آواز سنائی دی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں ہمایوں خان کی اہلیہ اور 10 سالہ بیٹی بی بی زویا موقع پر ہی دم توڑ گئیں، جبکہ ان کا بیٹا رئیس خان زخمی ہوگیا۔ زخمی بچے کو فوری طور پر سول اسپتال کے برنس وارڈ منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد اسے گھر بھیج دیا گیا۔واقعے کے بعد پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں مکمل کیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گھر میں رات کے وقت گیس لیک ہونے کے باعث کمرے میں گیس بھر گئی، اور جیسے ہی صبح چولہا جلایا گیا تو دھماکا ہوگیا۔

    پولیس نے مزید بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں گھر کا کچھ حصہ بھی متاثر ہوا ہے۔ حکام کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سردیوں میں گیس لیکج کے واقعات سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور رات کے وقت گیس ہیٹر یا چولہے بند کرنا نہ بھولیں۔

  • داعش دہشتگرد شریف اللہ کی گرفتاری کا کریڈٹ پاکستان کو دیتے  ہیں، امریکا

    داعش دہشتگرد شریف اللہ کی گرفتاری کا کریڈٹ پاکستان کو دیتے ہیں، امریکا

    واشنگٹن: امریکا نے کابل ائیرپورٹ حملے کے ماسٹر مائنڈ داعش دہشتگرد شریف اللہ کی گرفتاری کا کریڈٹ پاکستان کو دیتے ہوئے حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ پاک افغان سرحد سے داعش کے دہشتگرد شریف اللہ کی گرفتاری سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان اور امریکا کے درمیان تعاون انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا، شریف اللہ کی گرفتاری کے سلسلے میں پاکستان کے تعاون پر مشکور ہے۔ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق محمد شریف اللہ اس وقت حراست میں ہے اور اس سے مزید تفتیش جاری ہے۔

    ٹیمی بروس نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوششوں پر مبنی ہیں اور دونوں ممالک کا مفاد اسی میں ہے کہ انتہا پسندی کے خلاف مل کر کام کریں۔ اس سے قبل امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز نے بھی دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہا تھا۔

    پاکستان نے سی آئی اے کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر داعش کے کمانڈر شریف اللہ کو گرفتار کیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ وہی دہشتگرد ہے جو 2021 میں افغانستان میں امریکی فوج کے انخلا کے دوران کابل ائیرپورٹ پر خودکش حملے کی سازش میں ملوث تھا۔پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ایک اسپیشل آپریشن کے دوران شریف اللہ کو پاک افغان سرحد سے گرفتار کیا، جس کے بعد اسے گزشتہ روز امریکی ریاست ورجینیا میں وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا۔ذرائع کے مطابق شریف اللہ پاکستانی حکام کے سامنے افغانستان، روس اور ایران میں دہشتگرد حملے کرنے کا اعتراف کر چکا ہے۔

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے تعاون کا اعتراف کیا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے طویل ترین کانگریسی خطاب میں کہا کہ امریکا دہشتگردی کے خلاف ہے اور انہیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ افغانستان میں دہشتگردی کا بڑا ذمہ دار پکڑا جا چکا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے اس گرفتاری میں دی گئی مدد پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔

    پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہنے پر شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

    یاد رہے کہ 2021 میں کابل ائیرپورٹ پر ہونے والے خودکش حملے میں 13 امریکی فوجیوں اور 170 افغان شہریوں کی جانیں گئی تھیں۔

  • ٹرمپ کا حماس سے یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ

    ٹرمپ کا حماس سے یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس سے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بات کی ہے، لہٰذا حماس کو غزہ میں قید تمام یرغمالیوں کو فوری طور پر رہا کرنا ہوگا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ امریکا میں تارکین وطن کے داخلے کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2 اپریل امریکی تاریخ کا ایک اہم دن ہوگا، جس میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں نے حماس سے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں قید تمام یرغمالیوں کی فوری رہائی ضروری ہے اور اس معاملے پر مزید کوئی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔امریکی صدر نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے یوکرین کی مدد کے لیے اربوں ڈالر فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ جلد از جلد طے پا جائے گا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا، سعودی عرب، روس اور یوکرین کے ساتھ سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا سعودی عرب اور روس کے ساتھ تجارتی معاہدے کا خواہشمند ہے تاکہ عالمی سطح پر اقتصادی استحکام حاصل کیا جا سکے۔انہوں نے بعض ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو ممالک اپنی افواج پر مناسب اخراجات نہیں کر رہے، وہ دفاع کے مستحق نہیں۔ ان کا اشارہ ممکنہ طور پر نیٹو اتحادیوں کی طرف تھا جو اپنی دفاعی بجٹ کی شرائط کو پورا نہیں کر رہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی تنظیم حماس کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے غزہ میں قید تمام یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا تو اسے اس کا سخت خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ امریکی صدر کا یہ بیان مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے پس منظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر عالمی سطح پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے حماس پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی غزہ کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ اس دباؤ کے نتیجے میں یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہو سکتی ہے۔یہ دیکھنا باقی ہے کہ امریکی صدر کے اس بیان کے بعد خطے میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں اور آیا حماس اس مطالبے پر کوئی ردعمل دیتی ہے یا نہیں۔

  • امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کو ڈی پورٹ کرنے کیلیے فوجی پروازیں معطل

    امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کو ڈی پورٹ کرنے کیلیے فوجی پروازیں معطل

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے دوران غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت کارروائیوں کے تحت، امریکہ نے فوجی طیاروں کے ذریعے تارکین وطن کو واپس ان کے وطن بھیجنے کا عمل روک دیا ہے، جس کی وجہ اس کے اخراجات کی بلند سطح بتائی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، آخری فوجی ڈی پورٹیشن فلائٹ یکم مارچ کو بھیجی گئی تھی اور اس اقدام پر عارضی یا مستقل طور پر پابندی عائد کرنے کا امکان ہے۔

    امریکہ نے ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد جنوری میں فوجی طیاروں کا استعمال شروع کیا تھا تاکہ کچھ تارکین وطن کو ان کے ممالک یا گوانتانامو بے میں موجود فوجی اڈے تک پہنچایا جا سکے، تاہم یہ طریقہ مہنگا اور غیر موثر ثابت ہوا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس اقدام کا مقصد تارکین وطن کے خلاف سخت موقف کا پیغام دینا بتایا تھا۔ امریکی وزیر دفاع ے گزشتہ ہفتے گوانتانامو بے کا دورہ کرنے کے دوران کہا تھا کہ "پیغام واضح ہے: اگر آپ قانون توڑیں گے، اگر آپ مجرم ہیں، تو آپ گوانتانامو بے جا سکتے ہیں۔”

    امریکہ نے سی-17 طیاروں کا استعمال کرتے ہوئے تقریباً 30 پروازیں کیں اور سی-130 پروازوں کا بھی استعمال کیا، جن کا رخ بھارت، پیرو، گوئٹے مالا، ہنڈوراس، پاناما، ایکواڈور اور گوانتانامو بے تھا۔فروری میں، امریکی فضائیہ کے کارگو طیارے میں سینکڑوں بھارتی تارکین وطن کو مختلف مراحل میں بھارت روانہ کیا گیا۔ ان افراد نے اپنی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں پرواز کے دوران ہتھکڑیاں لگائی گئیں اور انہیں مسلسل رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، صرف بھارت پہنچنے پر انہیں آزادی ملی۔

    غیر قانونی تارکین وطن کی ڈی پورٹیشن کا عمل عام طور پر امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے تحت ہوتا ہے، جو تجارتی پروازوں کا استعمال کرتا ہے۔ لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے سخت پالیسیوں کے پیغام کو اجاگر کرنے کے لیے فوجی پروازوں کا استعمال کیا تھا۔لیکن ان طیاروں کو طویل راستوں پر سفر کرنا پڑا اور کم تعداد میں افراد کو منتقل کیا گیا، جس کی وجہ سے یہ اقدامات زیادہ مہنگے ثابت ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق، بھارت جانے والی تین فوجی پروازوں کی قیمت 3 ملین ڈالر فی پرواز تھی، جبکہ گوانتانامو بے جانے والی پروازوں کا ہر فرد پر خرچ کم از کم 20,000 ڈالر تک پہنچا۔اس کے مقابلے میں، امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے تجارتی طیارے فی گھنٹہ 8,500 ڈالر خرچ کرتے ہیں۔سی-17 طیارے کی پرواز کی قیمت 28,500 ڈالر فی گھنٹہ ہے اور ان طیاروں کو طویل راستوں پر سفر کرنا پڑا، کیونکہ ان کا راستہ میکسیکو کے فضائی حدود سے گزرتا تھا، جس کی وجہ سے مرکزی اور جنوبی امریکہ کی پروازوں میں کئی گھنٹے کا اضافہ ہوا۔

    میکسیکو اور دیگر لاطینی امریکی ممالک کا ردعمل یہ بھی اہم ہے کہ میکسیکو اور کچھ دیگر لاطینی امریکی ممالک جیسے کولمبیا اور وینیزویلا نے امریکی فوجی پروازوں کو اپنے علاقے میں اترنے کی اجازت نہیں دی۔ ان ممالک نے خود اپنے طیارے بھیجے یا تارکین وطن کو تجارتی پروازوں کے ذریعے ڈی پورٹ کیا۔امریکی حکومت کو ان اخراجات کی وجہ سے فوجی پروازوں کے استعمال میں کمی کرنی پڑی اور یہ پابندی عارضی یا مستقل ہو سکتی ہے۔

  • پہچان پاکستان نے سجائی ادبی ایوارڈز کی محفل

    پہچان پاکستان نے سجائی ادبی ایوارڈز کی محفل

    لاہور، پاکستان کا ثقافتی دارالحکومت، ہمیشہ سے ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ حال ہی میں "پہچان پاکستان” کے زیر اہتمام ایک شاندار ادبی میلہ منعقد کیا گیا جس نے پورے ملک کے ادیبوں، شاعروں اور لکھاریوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا۔ یہ تقریب الحمرا ہال میں منعقد ہوئی، جہاں ادب سے محبت کرنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ادبی میلے میں جہاں شاعری اور نثر کی محفلیں سجائی گئیں، وہیں لکھاریوں اور شاعروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے انعامات بھی دیئے گئے۔ پاکستان بھر سے آئے ہوئے ممتاز ادیبوں اور لکھاریوں کو خصوصی ایوارڈز سے نوازا گیا، جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی اور ادب کی ترویج کو مزید تقویت ملی۔”پہچان پاکستان” کے روحِ رواں اور چیف ایڈیٹر ذکیر احمد بھٹی نے اس شاندار تقریب کا انعقاد کر کے ادیبوں کے دل جیت لیے۔ ان کی انتھک محنت اور ادب دوستی کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے مہمانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم ملا جہاں وہ اپنے خیالات اور تخلیقات کو دوسروں تک پہنچا سکیں۔ ان کی کوششوں کو حاضرین نے بے حد سراہا اور ان کے کام کو خراج تحسین پیش کیا۔

    پروگرام کے آغاز پر ڈپٹی چیف ایڈیٹر آمنہ منظورنے پہچان پاکستان کا تعارف حاضرین کے سامنے رکھا،تقریب کے منتظمین اور معاونین میں آمنہ عذرا، غزالہ سلطانہ،عظمیٰ وفا سید، سلمٰی رانی،شازیہ یاسین، عبد الحفیظ شاہد،عذرا انصاری اور دیگر شامل تھے ،تقریب کے دوران معروف شاعر اور ادیب علی زریون کو ان کی شاندار ادبی خدمات کے اعتراف میں پہچانِ پاکستان ادبی ایوارڈ 2025 کے دوران تاج پوشی کی گئی۔ یہ اعزاز ان کے بے مثال کلام، منفرد اسلوب اور ادب کے فروغ میں ان کی انتھک محنت کا مظہر ہے۔علی زریون اردو ادب میں ایک ایسا نام ہے جو اپنے مخصوص انداز اور جدید طرزِ بیان کے لیے جانا جاتا ہے۔ ان کی شاعری روایت اور جدت کا حسین امتزاج ہے، جہاں الفاظ جذبات کی گہرائی میں ڈوب کر قاری کے دل پر اثر کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف ایک عمدہ شاعر ہیں بلکہ نوجوان نسل کے لیے ایک تحریک بھی ہیں، جو اپنے کلام میں محبت، درد، سماجی مسائل اور انسانی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔

    تقریب میں ایک خاص لمحہ اس وقت آیا جب ایک ہونہار بچی نے تلاوتِ قرآن پاک کی، جس پر حاضرین نے دل کھول کر داد دی۔ اس بچی کی خوبصورت قرأت کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی چوہدری شفقت محمود نے اس کے لیے عمرہ ٹکٹ کا اعلان کیا۔ یہ لمحہ نہ صرف بچی اور اس کے والدین کے لیے خوشی کا باعث بنا بلکہ تمام حاضرین کے لیے بھی ایک جذباتی منظر تھا۔

    "پہچان پاکستان” کی یہ کاوش پاکستان میں ادب اور ثقافت کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی ہے۔ ایسے ادبی میلوں کا انعقاد نہ صرف ادیبوں اور شاعروں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے بلکہ نوجوان نسل کو بھی ادب کی طرف راغب کرنے میں مدد دیتا ہے۔یہ تقریب اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں ادب کا مستقبل روشن ہے اور "پہچان پاکستان” جیسے ادارے اس کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ مستقبل میں بھی ایسے مزید ادبی پروگرام منعقد کیے جائیں گے تاکہ ادب اور ثقافت کی ترقی کا یہ سفر جاری رہےگا.