Baaghi TV

Author: News Editor

  • سپیکرسبطین خان کے دھماکہ خیزانکشاف۔ اسمبلی کب تحلیل ہونگی، نئی تاریخ آگئی

    سپیکرسبطین خان کے دھماکہ خیزانکشاف۔ اسمبلی کب تحلیل ہونگی، نئی تاریخ آگئی

    لاہور:گورنرپنجاب نے جواعتماد کو ووٹ لینے کا کہا ہے اس کی آئینی طور پر کوئی حیثیت نہیں ،اسپیکر پنجاب اسمبلی نے انکشاف کیا ہے کہ پہلے گورنر کی طرف سے عدم اعتماد کی تحریک کا لیٹر ملا اورپھر گورنر کی طرف سے اعتماد کا ووٹ لینے کا پیغام بھی آگیا ،

    اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے انکشاف کیا کہ جن وجوہات کی بنیاد پر گورنرپنجاب نے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا ہے ان وجوہات کا وجود ہی نہیں ، پنجاب میں آئینی بحران کے حوالے سے گفتگو کرتےہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے بڑے دلچسپ انکشافات کیے ہیں،

    https://www.youtube.com/watch?v=Aupo1yumN0Y

    سینیئرصحافی مبشرلقمان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سبطین خان کا کہنا تھاکہ جن وجوہات کی بنیاد پر گورنر نے اجلاس بلایا ہے ان میں پہلی وجہ یہ بیان کی گئی ہےیہ چونکہ چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت حسین کے درمیان اب معاملات درست نہیں ہیں ، دونوں ق لیگ کے مرکزی رہنما ہیں اس لیے اب چوہدری پرویز الٰہی کو اعتماد کو ووٹ لینا ہوگا اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ق لیگ ان کے ساتھ کھڑی ہے،سبطین خان نے انکشاف کرتےہوئے کہا کہ کل سب نے دیکھ لیا کہ ق لیگ کے تمام دس کے دس ارکان صوبائی اسمبلی نے چوہدری پرویز الہی پر اعتماد کا بھرپور اظہارکردکھایا،

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے سنیئرصحافی مبشرلقمان کو گورنر کی طرف سے بھیجی گئی ریکوزیشن کی دوسری خامی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد سے ایک صوبائی وزیرہیں جن کی وزارت پر عمران خان خوش نہیں ہیں، اس لیے چوہدری پرویز الٰہی اعتماد کا ووٹ لیں، اس کا جواب دیتے ہوئے اسپیکرسطبین خان نے کہا کہ اس جگہ پر بھی گورنر پنجاب کو غلطی لگی ، آئینی اور اخلاقی طور پر اس صوبائی وزیرکو کوئی تحفظات ہیں تو وہ چوہدری پرویزالٰہی سے بیان کریں‌،کابینہ میں‌اپنا مسئلہ رکھیں گورنر تو مجاز نہیں کہ وہ اس قسم کے مسائل کو ڈیل کریں‌، یہ پارٹی کا مسئلہ ہے ،پہلے پارٹی سربراہ یا وزیراعلیٰ سے اپنا مسئلہ بیان کریں ، گورنرکسی پارٹی کے اندرونی معاملات کونہیں چھیر سکتے

     

    https://www.youtube.com/watch?v=Aupo1yumN0Y

    اسپیکر سطبین خان نے کہا کہ تیسرا جواز پیش کیا گیاکہ چونکہ کابینہ اجلاس میں ایک صوبائی وزیرحسنین دریشک اور وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے درمیان گرما گرمی ہوگئی تھی اور حسنین دریشک کو چوہدری پرویز الٰہی سے شکوہ تھا ، اس لیے اعتماد کا ووٹ لینا ضروری ہے ، اس کو جواب دیتے ہوئے اسپیکر سبطین خان نے کہا کہ یہ بھی کایینہ کے اجلاس کے دوران بدمزگی پیدا ہوئی ، جس کا اسی وقت ازالہ ہوگیا تھا ، چوہدری پرویز الٰہی نے معاملہ رفع دفع کردیا

    اسیکر سبطین خان نے کہا کہ دوسری دلچسپ کہانی یہ ہے کہ پچھلے دنوں گورنرپنجاب نے ایوان اقبال میں اجلاس بلایا تھا اور ابھی تک وہ اجلاس ریکارڈ پر موجود ہے نیا اجلاس ہی بلایا ، دوسری طرف اس دوران پنجاب اسمبلی میں حکومت کا اجلاس جاری تھی ، وہ اجلاس ختم ہوگیا اور نیا سیشن جاری ہے ، جب تک وہ جاری ہے اس وقت تک گورنر پنجاب نیا اجلاس نہیں بلا سکتے ، یوں یہ سب پہلو ہی غیر آئینی ہیں‌

    سینیئرصحافی مبشرلقمان نے پوچھا کہ اگر گورنر رات کوکچھ کردیں،وزیراعلیٰ‌ کو ڈی نوٹیفائی کردیں تو پھر،اس کا جواب دیتے ہوئے اسپیکر سبطین خان نے کہا کہ پھر ملک میں یہی کچھ ہی چلنا ہے توپھرایسے تو صدر گورنر کو ہٹا دیں‌گے اورپھر ملک میں یہی کچھ رہ جائے گا،

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ چونکہ اب اعتماد کے ووٹ کی ریکوزیشن آچکی ہے اس لیے اب اسمبلی اس معاملے کے بعد تحلیل کردی جائے گی اور یہ یکم جنوری کو بھی ممکن ہے ، کیونکہ گورنر کی طرف سے بھیجے گئے پیغام کےلیے دس دن کا وقت درکار ہوتا ہے ،

    سینیئرصحافی مبشرلقمان کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ جمعہ کے دن اجلاس ہوگا ، کنیٹینرز کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ ان کو نہیں پتہ کہ کس نے لگائے ہیں‌مگریہ طئے ہےکہ وہ جمعہ کے دن اسمبلی کا جاری سیشن پھر شروع کریں گے اور اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے معاملات کو آگے بڑھائیں گے

    اسپیکر پنجاب اسمبلی کے موقف پر موقف دیتے ہوئےسابق صدرسپریم کورٹ بار احسن بھون نے کہا کہ پنجاب میں واقعی آئینی بحران ہے اگریہ اسمبلی کےفورم پر حل نہ ہوا تو پھر عدالتیں ہی اس کو حل کرسکتیں‌ہی

  • پنجاب حکومت جانے کی اطلاعات کے باوجود پرویز الہٰی کی رات گئے تک مصروفیات

    پنجاب حکومت جانے کی اطلاعات کے باوجود پرویز الہٰی کی رات گئے تک مصروفیات

    پنجاب میں بدھ کے روز سارا دن جاری رہنے والی سیاسی کشیدگی کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالہٰی کی رات گئے تک وزیراعلیٰ آفس میں سرکاری مصروفیات جاری رہیں۔وزیراعلیٰ سے صوبائی وزراء، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے ملاقاتیں کیں، ملاقاتوں کے دوران چودھری پرویزالہٰی نے اراکین اسمبلی کے مسائل کے حل کیلئے موقع پر احکامات جاری کیے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے سیاسی رفقاء سے بھی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا،اس موقع پر چودھری پرویزالہٰی نے قانونی و آئینی ماہرین سے بھی مشاورت کی۔

    ایف آئی اے نے اعظم خان کیخلاف کارروائی کیلئے خط کیوں لکھا؟اہم وجہ سامنے آگئی

    اس سے پہلے مسلم لیگ (ق) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں چودھری پرویزالہٰی کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر دیا گیا۔ممبر پنجاب اسمبلی ساجد بھٹی کی زیر صدارت مسلم لیگ قائداعظم کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ہم عمران خان کے ساتھ دل و جان سے ہیں اور ساتھ دیتے رہیں گے۔

    پارلیمانی پارٹی نے تمام فیصلوں کا اختیار وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی کو دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ق کے تمام پارٹی ارکان تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی صورت میں وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالہٰی، سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان اور ڈپٹی سپیکر واثق قیوم کو ووٹ دیں گے۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی کی قیادت میں مسلم لیگ قائداعظم کی پارلیمانی پارٹی متحد اور یکجان ہے۔ ارکان پارلیمانی پارٹی سیسہ پلائی دیوار کی طرح وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالہٰی ہمارے لیڈر ہیں۔

    پاکستان کی معاشی صورت حال کوبہتر کرنےکےلیے کوششیں جاری رکھیں‌گے:چینی سفیر

    اس موقع پر ق لیگ کے پارلیمانی لیڈر ساجد بھٹی نے کہا کہ مسلم لیگ قائداعظم پوری پارلیمانی، سیاسی اورعوامی قوت کے ساتھ چودھری پرویزالہٰی کے شانہ بشانہ ہے، اختلافات کا پراپیگنڈہ کرنے والوں کے مزموم عزائم ناکام ہوں گے۔اجلاس کے دوران چودھری پرویز الہٰی نے کہا کہ مسلم لیگ قائداعظم متحد ہے اور متحد رہے گی، افواہیں پھیلانے والے مخصوص ایجنڈے پر چل رہے ہیں۔

    مسلم لیگ ق کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ایم پی اے ساجد بھٹی، حافظ عمار یاسر، شجاعت نواز، محمد عبداللہ وڑائچ، محمد رضوان، احسان الحق، محمد افضل، خدیجہ عمر اور باسمہ چودھری نے شرکت کی جبکہ ممبر قومی اسمبلی حسین الہٰی بھی اجلاس میں موجود تھے۔

  • 21 دسمبر 1982 یوم پیدائش ماہرہ خان

    21 دسمبر 1982 یوم پیدائش ماہرہ خان

    21 دسمبر 1982
    یوم پیدائش ماہرہ خان

    ماہرہ خان ایک پاکستانی ماڈل، اداکارہ اور وی جے ہے۔ ماہرہ خان کے مشہور ڈراموں میں ہم سفر اور شہر ذات قابلِ ذكر ہیں۔ ٹیلی وژن پر بھرپور کامیابی سمیٹنے کے بعد ماہرہ نے فلمی دنیا میں بھی قدم رکھے ہیں۔

    ماہرہ خان ابھی تک متعدد فلمیں میں کام کر چکی ہیں۔ ان میں سے چار پاکستانی بول، بن روئے ۔ہو من جہاں اور لیجنڈ آف مولا جٹ شامل ہیں جبکہ ان کی ایک بالی وڈ فلم رئیس بھی ریلیز ہو چکی ہے۔ رئیس میں ماہرہ خان مشہور ادارکار شاہ رخ خان کے مقابل کردار ادا کیا ہے۔

  • بلقیس خانم :زندگی یادگار کرگئیں

    بلقیس خانم :زندگی یادگار کرگئیں

    "کچھ دن تو بسو میری آنکھوں میں”

    ,وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

    "اور”انوکھا لاڈلا”

    جیسے بے شمار مقبول گیت گانے والی گلوکارہ بلقیس خانم کراچی میں انتقال کرگئیں۔بلقیس خانم نے ریڈیو، ٹی وی کے ساتھ فلموں کے لئے بھی یاد گار گیت گائے۔ میوزک انڈسٹری نے ان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے
    وہ معروف ستار نواز استاد رئیس خاں کی بیوہ تھیں۔

  • بنجمن ڈزریلی:ناول نگار سے وزیراعظم بننے تک کا دلچسپ سفر

    بنجمن ڈزریلی:ناول نگار سے وزیراعظم بننے تک کا دلچسپ سفر

    پیدائش:21 دسمبر 1804ء
    لندن
    وفات:19 اپریل 1881ء
    مے فیئر
    شہریت:متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    مذہب:کلیسائے انگلستان
    (اپنی زیادہ تر زندگی میں)
    یہودی (13ویں سال تک)
    جماعت:کنزرویٹو پارٹی
    رکن:رائل سوسائٹی
    پیشہ:سیاست داں، ناول نگار
    مصنف، سوانح نگار
    زبان:انگریزی
    ملازمت:جامعہ گلاسگو
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)رائل سوسائٹی فیلو
    ۔ (2)آرڈر آف گارٹر
    وزیر اعظم مملکت متحدہ
    مدت منصب
    ۔ 20 فروری 1874 – 21 اپریل 1880
    حکمراں، ملکہ وکٹوریہ
    مدت منصب
    ۔ 27 فروری 1868 – 1 دسمبر 1868
    قائد حزب اختلاف
    مدت منصب
    ۔ 01 دسمبر 1868 – – 17 فروری 1874
    چانسلر
    مدت منصب
    ۔ 06 جولائی 1866 – 29 فروری 1868
    مدت منصب
    ۔ 26 فروری 1858 – 11 جون 1859
    مدت منصب
    ۔ 27 فروری 1852 – 17 دسمبر 1852

    بنجمن ڈزریلی (پیدائش: 1804ء، انتقال: 1881ء) یہودی نژاد برطانوی وزیر اعظم۔ ابتدا میں ناول لکھتے تھ۔ 1837میں پارلیمنٹ کا رکن بنے۔ 1852ء میں وزیر خزانہ اور 1837ء میں وزیر اعظم بنے۔ کچھ عرصے بعد ان کی پارٹی ہار گئی لیکن نئے انتخابات میں کامیاب ہو کر 1874ء سے 1880ء تک پھر وزیر اعظم رہے۔ ان کے عہدِ وزارت میں مزدوروں کی بہبود کے لیے کارخانوں میں نئی اصلاحات کی گئیں۔ نہر سویز کے حصص خریدے گئے اور ملکہ وکٹوریہ ہندوستان کی ملکہ بنی۔

  • نینا جوگن:جس کی بولتی شاعری نے ایک نیا رنگ دیا

    نینا جوگن:جس کی بولتی شاعری نے ایک نیا رنگ دیا

    مشتاق ہیں مدت سے کچھ اشعار سنیں گے
    دیکھو جو کہیں بزم میں ” جوگن” نظر آئے

    : نینا جوگن

    تاریخ ولادت:21 دسمبر 1964ء
    تعلیم:بی اے (آنرز) فرسٹ کلاس فرسٹ
    بی ایڈ، مولوی، عالم، فاضل
    تصنیف:تمھارے نام (شعری مجموعہ)
    فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی
    لکھنؤ کے تعاون سے شائع
    مصروفیات:پڑھنا، لکھنا اور کھانا پکانا
    ادارت:معاون مدیر، سہہ ماہی ”کوہسار“ جرنل
    پتا:کوہسار، بیکھن پور-3، بھاگل پور-

    نیناجوگن:کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ فرضی نام ہے، حقیقت جو بھی ہو لیکن اس نام سے بہت سی کہانیاں شائع ہوئی ہیں، 1974ء کے بعد ہندوستان کے بیشتر رسائل میں ان کے افسانے شائع ہورہے ہیں، ان کے افسانوں میں زندگی کے حقائق اور اندرونی کیفیات کی سچی اور تیکھی ترجمانی ملتی ہے۔
    (’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم 1996ء‘‘)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    نہ کوئی رند ، نہ ساقی ، نہ چھلکتی پیالی
    کہیں ٹوٹا ہوا شیشہ کہیں ساغر خالی
    آگیا روپ جو سبزے پہ تو کلیاں چٹکیں
    غنچہ و گل میں تلی خیر سے ڈالی ڈالی
    پھر چھماچھم کی بہاروں سے کھِلے دل کے کنول
    صحنِ گلشن میں ہوا آگئی اُتّر والی
    ہائے کیا وقت ہے کیا فصل ہے کیا موسم ہے
    کیف سے جس کے ہر اک آنکھ ہوئی متوالی
    یہ ہوائیں یہ نظارے یہ بہاریں یہ سماں
    دیکھتی ہے وہی پتلی جو ہے قسمت والی
    کوئی سنتا ہی نہیں نیناؔ کہانی آکر
    جی میں آیا تو خود اپنے ہی لئے دُہرالی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اے جذبِ محبت تری تاثیر سے شاید
    کچھ راہ پہ آئے کہ سرِ رہ گزر آئے
    اے دل کبھی آنا نہ لگاوٹ میں کسی کی
    ظاہر میں وہ اپنے ہیں پہ باطن میں پرائے
    ہرجائی کہا میں نے تو وہ غصہ میں آکر
    آنکھوں میں ابھی تھے ابھی دل میں اُتر آئے
    اڑتا ہے جبیں سائی سے سنگِ درِ جاناں
    یہ میری کرامت ہے کہ پتھر کے پتر آئے
    ملتے ہیں سرِ راہ تو کرتے ہیں شکایت
    جاتی ہوں تو کہتے ہیں کہ کہئے کدھر آئے
    مشتاق ہیں مدت سے کچھ اشعار سنیں گے
    دیکھو جو کہیں بزم میں جوگنؔ نظر آئے

  • محمد عامر ذوالفقارآئی جی پولیس پنجاب تعینات:نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔

    محمد عامر ذوالفقارآئی جی پولیس پنجاب تعینات:نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔

    وفاقی حکومت نے آئی جی پنجاب کی تبدیلی اور نئی آئی جی کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔نوٹیفیکیشن کے مطابق محمد عامر ذوالفقار آئی جی پولیس پنجاب تعینات کردیا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےعامرذوالفقارکی تعیناتی کانوٹیفیکیشن جاری کردیا۔

     

    گریڈ21 کے عامرذوالفقار ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل اے این ایف تعینات تھے۔ عامرذوالفقارآئی جی پولیس اسلام آبادبھی فرائض انجام دے چکے ہیں۔

    خیال رہے کہ آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے گزشتہ روز اپنے عہدے کا چارج چھوڑ دیا ہے، انہوں نے طویل چھٹی کے بعد چارج چھوڑنے کی سمری سیکرٹری سروسز کو ارسال کردی ہے۔فیصل شاہکار کو اقوام متحدہ نے بطور ایڈوائزر پولیس نامزد کیا تھا اور اب فیصل شاہکار ایڈوائزر پولیس کا عہدہ سنبھالیں گے۔

     

    دوسری طرف وفاقی حکومت نے سیاسی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پنجاب بھر میں رینجرز اور ایف سی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی اقدام کے تحت وفاقی قانون نافذ کرنے والے ادارے امن وامان اور صوبے میں آئین اور قانون کی عملداری سے متعلق امور سرانجام دیں گے۔

     

     

     

    ذرائع کے مطابق وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ نے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو امن وامان قائم رکھنے، عوام کے جان ومال کی حفاظت اور اپنے فرائض آئین اور قانون کے مطابق ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    متعلقہ حکام کو وزارت داخلہ نے ہدایت کی ہے کہ کوئی بھی سرکاری افسر یا اہلکار آئین کے برعکس کسی بھی عمل کا حصہ نہ بنے۔

  • صابرہ سلطانہ کا 77 واں یوم پیدائش

    صابرہ سلطانہ کا 77 واں یوم پیدائش

    21 دسمبر…… آج صابرہ سلطانہ کا 77 واں یوم پیدائش ہے۔
    صابرہ سلطانہ (اصل نام رابعہ) منگل 21 دسمبر 1945 کو بمبئی، بھارت میں ایک انتہائی قدامت پسند گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کی اباو اجداد کا تعلق کشمیر سے تھا۔
    اس کے دوستوں کو یاد ہے کہ فلم ڈائریکٹر اے ایچ صدیقی نے صابرہ میں اداکاری کی زبردست صلاحیت کو پہچانا اور ساٹھ کی دہائی کے آغاز میں اسے فلم ‘انصاف’ (صابرہ کی پہلی فلم) کے لیے سائن کیا تھا۔ ‘انصاف’ میں نیلو اور کمال نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ کراچی میں بنائی گئی تھی۔ اگلا، شباب کرنوی، جو اس وقت کے ایک مستحکم ہدایت کار تھے، نے انہیں اپنی دو فلموں، ‘جمیلہ’ اور ‘شکریہ’ کے لیے لیا۔ ان دونوں فلموں میں صابرہ نے مرکزی کردار ادا کیا، بعد ازاں وہ معروف ہدایت کار حسن طارق کی فلم ‘کنیز’ میں نظر آئیں۔ صابرہ نے ایک بوڑھی عورت کے اپنے سب سے زیادہ چیلنجنگ کردار کے ساتھ پورا انصاف کیا، جسے اس کی اپنی کوئی غلطی نہ ہونے کے ناانصافی کا نشانہ بنایا گیا۔

    انہوں نے ‘کنیز’ میں اپنے جاندار کردار کے لیے بے پناہ تعریفیں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ ‘کنیز’ نے آخر کار انھیں ایک اعلیٰ ترین اداکارہ کے طور پر قائم کیا، جس کی وجہ ان کے شاندار فلمی کیرئیر میں اہم کردار ادا کرنے والی بہت سی چیزوں میں سے ایک وجہ صابرہ کی تھی۔ چہرے، پر سکون، مسکراہٹ، جس نے پرجوش عوام میں اس کا نام روشن کیا۔ مزید یہ کہ اس کی بے مثال طبیعت میں کچھ ایسا تھا جس نے فلم بینوں کو اپنی فلموں کے لیے لائن لگانے پر مجبور کیا۔ سلور اسکرین کی خوبصورتی صابرہ نے ایک خوبصورت لڑکی کا کردار ادا کیا۔ فلم ‘مجاہد’ میں جو ان کی حقیقی زندگی کے بہت قریب تھی، اس لحاظ سے کہ وہ ایک خوبصورت اور دلکش لڑکی تھی۔ اس کا ملکہ کا کردار تھا، جس نے فلم میں ان کی موجودگی کو چار چاند لگا دیا۔

    فلم’عادلیںں صابرہ نے اپنی تمام فلموں میں اپنا کام قابل تعریف انداز میں کیا۔ سخت مقابلے کے زمانے میں، انہوں نے ‘اعلان جیسی فلم میں اپنے بے شمار مداحوں کی داد حاصل کی۔ اس نے فلم ‘برما روڈ’ میں شاندار اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ سحرا، جس کے گانے آج تک مقبول ہیں۔ صابرہ نے فلم ’بہادر‘ میں اپنے کردار سے لاکھوں لوگوں کو مسحور کیا تھا۔ کوئی پرانی یادوں کا شکار ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ ‘شام سویرا’ اور احمد سرتاج کی فلم ‘ضدی’ جیسی بلاک بسٹر میں صابرہ کی جذباتی اداکاری کو یاد کرتا ہے، جس نے ساٹھ کی دہائی کو متاثر کیا تھا۔ مزید برآں، سپر ہٹ فلموں کے وسیع سلسلے میں، ان کے مخلص پرستار صابرہ کی فلموں ‘لگان’ اور ‘بزدل’ میں اداکاری کو کبھی نہیں بھولیں گے، جس میں ان کے ناقابل بیان جذبے اور احساس کو شامل کیا گیا تھا۔

    صابرہ کی فلمیں ‘چودہ سال’، ‘شریک حیات’، اور ‘معجزہ’ میں اپنے شدید محسوس اور پرکشش کرداروں کے لیے بہت قدر کی جاتی ہیں، جس نے ان کی شہرت کو بلندیوں تک پہنچایا۔اپنے فلمی کیرئیر کے دوسرے مرحلے میں انہوں نے متعدد فلموں میں کریکٹر رول ادا کیا۔

    جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے، چونکہ صابرہ کا تعلیمی پس منظر مضبوط تھا، اس لیے وہ لاہور میں اپنے ہی لڑکیوں کے اسکول میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔

    ان کی فلموں کی فہرست یہ ہیں: انصاف، تم نہ مانو، یہودی کی لڑکی، شکریہ، جمیلہ، ماں کا پیار، چھوٹی بہن ، بہو بیگم، عید مبارک، مجاہد، کنیز، معجزہ ، میرا سلام، عادل، انسان، نغمہ صہرا ، اعلان ، برما روڈ، شام سویرا، 14 سال، شریک حیات، سونے کی چڑیا ، صایقہ ، تاج محل، بزدل، دل دیکے دیکھو ، تخت اور تاج، آنسو بن گئے موتی، نورین، چاند سورج، غرناطہ ، چراغ کہاں روشنی کہاں، عجب خان آفریدی، بدلے گی دنیا ساتھی، دل ایک آئینہ ، سہاگ ، فرض، سرحد کی گود میں، نیا راستہ، زخمی، رنگیلا اور منور ظریف، جنگ اور امن ، انتظار، وطن مینا، مستانی محبوبہ، مسال، ہیرو، مرد جینے نہیں دیتے، قسمت، بالی جٹی، جگ ماہی، شرنگ دا بنگرو، تیرے پیار میں، جانور ، اور چلو عشق لڑائیں شامل ہیں ۔

  • گورنر پنجاب کا وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ

    گورنر پنجاب کا وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ

    لاہور:گورنر پنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نوٹیفکیشن کچھ دیر میں جاری کردیا جائے گا۔ بلیغ الرحمان نے اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کی وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے سے متعلق معاملے پر رولنگ مسترد کردی۔

    ایف آئی اے نے اعظم خان کیخلاف کارروائی کیلئے خط کیوں لکھا؟اہم وجہ سامنے آگئی

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے پی ڈی ایم کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کی تھی، جس کیلئے 21 دسمبر شام 4 بجے اجلاس بلایا گیا تھا۔اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اعتماد کے ووٹ سے متعلق گورنر کی ایڈوائس نظر انداز کرتے ہوئے رولنگ دی اور اسمبلی اجلاس جمعہ تک ملتوی کردیا تھا۔گورنر پنجاب نے اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کی رولنگ کو مسترد کرتے ہوئے اس کا جواب دیدیا۔

     

    جواب میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت گورنر کے پاس تمام اختیارات ہیں جس کے تحت وہ اعتماد کے ووٹ کا کہہ سکتے، بطور اسپیکر پنجاب اسمبلی آپکو آئین کی شق کے تحت وزیراعلیٰ پنجاب کو اعتماد کے ووٹ کا کہنا تھا۔گورنر پنجاب کا کہنا ہے کہ آپ (اسپیکر) کی رولنگ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، آپ نے آئین کے تحت حلف اٹھایا ہے، آپ اس سے انحراف نہیں کرسکتے۔

    بلیغ الرحمان کا جواب میں کہنا ہے کہ آئین میں کہیں نہیں کہ اجلاس کے ہوتے ہوئے اعتماد کا ووٹ نہ لیا جا سکے، اسمبلی رولز 209 اے کے تحت اگلا سیشن فوری بلا سکتے ہیں۔

    ق لیگ پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے10 ارکان کا چوہدری پرویز الٰہی پراظہاراعتماد

     

    اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے کہا کہ گورنر پنجاب اسپیکر کی رولنگ مسترد نہیں کرسکے، اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کسٹوڈین ہوتا ہے، پنجاب اسمبلی کا اجلاس گورنر پنجاب کا بلایا ہوا نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب وزیراعلیٰ پنجاب کو ڈی نوٹیفائی نہیں کرسکتے، اگر ایسا ہوا تو پھر صدر بھی گورنر کو گھر بھیج سکتے ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب اپنی اکثریت ثابت کریں گے، تحریک عدم اعتماد کو اور اعتماد کے ووٹ کو بھی ڈیل کریں گے۔سبطین خان نے کہا کہ جو بھی آئین کے مطابق چلے گا وہ جیت جائے گا، ہر کوئی کہتا ہے کہ ہم آئین کے ساتھ چل رہے ہیں، اب دیکھنا ہوگا کہ آئین کس کے ساتھ چل رہا ہے۔

  • پی سی بی معاملات چلانے کیلئے کمیٹی تشکیل، نجم سیٹھی سربراہ، شاہد آفریدی ممبر

    پی سی بی معاملات چلانے کیلئے کمیٹی تشکیل، نجم سیٹھی سربراہ، شاہد آفریدی ممبر

    اسلام آباد:وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات چلانے کیلئے نجم سیٹھی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی۔اطلاعات کے مطابق وزیراعظم آفس نے کمیٹی کی تشکیل سے متعلق وزارت بین الصوبائی رابطہ کو خط لکھ دیا، 14 رکنی کمیٹی 120 روز تک پی سی بی کے معاملات دیکھے گی۔

    کمیٹی نجم سیٹھی کی سربراہی میں کام کرے گی، 2014 کے آئین کی بحالی سے متعلق درپیش مسائل بھی کمیٹی کے سپرد کر دئیے گئے، کمیٹی میں شفقت رانا، شاہد آفریدی، شکیل شیخ، نعمان بٹ بھی شامل ہوں گے۔

    کابینہ کی منظوری سے کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا، کمیٹی میں گل زادہ، ہارون رشید، ثنا میر، گل محمد کاکڑ بھی شامل، ایزد سید، ایاز بٹ، مصطفی رمدے، چودھری عارف سعید بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

    رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح نمو اعلان کردہ ہدف سے3 یا 4فیصد سے کم رہے گی.رپورٹ

    پی سی بی آئین 2014 کی بحالی اور 2019 کی منسوخی کی سمری بھی منظور کرلی گئی، وفاقی کابینہ نےسرکولیشن کے ذریعے سمری کی منظوری دی۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نجم سیٹھی کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) چیئرمین بنانے کی منظوری دے دی تھی

    صدرمملکت عارف علوی سےاوآئی سی کے نمائندہ برائےسائنسی تکنیکی تعاون کی ملاقات

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم کو آئی پی سی وزارت کی جانب سے سمری میں 2 نام موصول ہوئے تھے۔اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم کی جانب سے کرکٹ بورڈ میں 2 نام بھجوائے گئے، دونوں کی منظوری دے دی گئی۔