Baaghi TV

Author: News Editor

  • سیلاب زدگان کیلئے امدادی اشیاء کی خریداری اور لاجسٹکس کے ضمن میں 10 ارب روپے کی منظوری

    سیلاب زدگان کیلئے امدادی اشیاء کی خریداری اور لاجسٹکس کے ضمن میں 10 ارب روپے کی منظوری

    اسلام آباد۔:کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سیلاب زدگان کیلئے امدادی اشیاء کی خریداری اور لاجسٹکس کے ضمن میں این ڈی ایم اے کیلئے 10 ارب روپے کی منظوری دیدی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس یہاں وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کی ورچوئل صدارت میں منعقدہوا،اجلاس میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کیلئے امدادی اشیا کی خریداری کے ضمن میں این ڈی ایم اے کیلئے 10 ارب روپے کی منظوری دی گئی،

    اجلاس میں وزارت خزانہ کو 5 ارب روپے فوری طورپرجاری کرنے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں وزارت تجارت کی طرف سے پیش کردہ سمری پر18 اگست تک پاکستان پہنچنے والی ممنوعہ درآمدی اشیا کی کھیپ کو جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔اس پر سرچارج کی شرح لاگوہوگی۔

    اجلاس میں وزارت صحت کوپیراسیٹامول کی قیمتوں کو معقول بنانے اور اس کی فراہمی کویقینی بنانے کیلئے پہلے سے جاری کردہ سمری کو واپس لینے اور نئی سمری پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں گوادرکی بندرگاہ کے ذریعہ گندم درآمد کرنے سے متعلق وزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق کی سمری مسترد کردی گئی۔

    ادھر ایک اور اجلاس میں بھی ریلیف کے حوالے سے اہم فیصلے ہوئے ،وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور کی زیر صدارت ریلیف سرگرمیوں کے لیے بین الاقوامی امداد کے حوالے سے اسٹیئرنگ کمیٹی برائے رابطہ کا پہلا اجلاس ہوا ہے ،تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور سردار ایاز صادق کی زیرصدارت اسٹیئرنگ کمیٹی برائے رابطہ کاری کے حوالے سے بین الاقوامی امداد برائے سیلاب سے متعلق سرگرمیوں کے پہلے اجلاس کی صدارت ہوئی۔

    میٹنگ کا ایجنڈا "انسانی امداد اور امدادی کوششوں کی نقشہ سازی” تھا۔

    اجلاس میں اقوام متحدہ، ایشیائی ترقیاتی بینک، یورپی یونین، ورلڈ بینک، یو ایس ایڈ، وزارت خارجہ، وزارت صحت، بی آئی ایس پی، وزارت خزانہ، این ڈی ایم اے اور او سی ایچ اے کے نمائندوں اور وزارت اقتصادی امور کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    وزیر اقتصادی امور نے بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں اور حکومتی نمائندوں کو اجلاس میں خوش آمدید کہا اور اجلاس کے ایجنڈے پر روشنی ڈالی۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی تھی جس کا مقصد سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بین الاقوامی امداد کی موثر اور موثر فراہمی کے لیے حکومت پاکستان اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • ریلیف سرگرمیوں کےلیے بین الاقوامی امداد کےحوالےسےاسٹیئرنگ کمیٹی برائے رابطہ کا پہلااجلاس۔اہم فیصلے

    ریلیف سرگرمیوں کےلیے بین الاقوامی امداد کےحوالےسےاسٹیئرنگ کمیٹی برائے رابطہ کا پہلااجلاس۔اہم فیصلے

    اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور کی زیر صدارت ریلیف سرگرمیوں کے لیے بین الاقوامی امداد کے حوالے سے اسٹیئرنگ کمیٹی برائے رابطہ کا پہلا اجلاس ہوا ہے ،تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور سردار ایاز صادق کی زیرصدارت اسٹیئرنگ کمیٹی برائے رابطہ کاری کے حوالے سے بین الاقوامی امداد برائے سیلاب سے متعلق سرگرمیوں کے پہلے اجلاس کی صدارت ہوئی۔

    میٹنگ کا ایجنڈا "انسانی امداد اور امدادی کوششوں کی نقشہ سازی” تھا۔

    اجلاس میں اقوام متحدہ، ایشیائی ترقیاتی بینک، یورپی یونین، ورلڈ بینک، یو ایس ایڈ، وزارت خارجہ، وزارت صحت، بی آئی ایس پی، وزارت خزانہ، این ڈی ایم اے اور او سی ایچ اے کے نمائندوں اور وزارت اقتصادی امور کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    وزیر اقتصادی امور نے بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں اور حکومتی نمائندوں کو اجلاس میں خوش آمدید کہا اور اجلاس کے ایجنڈے پر روشنی ڈالی۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی تھی جس کا مقصد سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بین الاقوامی امداد کی موثر اور موثر فراہمی کے لیے حکومت پاکستان اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پاکستان بین الاقوامی برادری کی بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک کو درپیش تباہی کے لیے بھرپور مدد فراہم کرنے پر شکر گزار ہے ۔

    انہوں نے مزید روشنی ڈالی کہ اس وقت پاکستان سیلاب متاثرین کو خوراک، پناہ گاہ، طبی سہولت، مچھر دانی وغیرہ کی فراہمی کے ساتھ فوری امداد فراہم کرنے کے پہلے مرحلے میں ہے۔ “ہمیں ابھی بھی بحالی اور تعمیر نو کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے لیے مزید امداد کی ضرورت ہے۔ تباہی بے حد ہے۔

    اجلاس کے دوران نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک میں سیلاب کی صورتحال کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا اور حکومت پاکستان کی جانب سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ہر گھر کو نقد امداد فراہم کرنے کے لیے کیے گئے امدادی اقدامات اور حالیہ اقدام پر روشنی ڈالی۔

    بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں نے کوششوں کو سراہا اور اس پلیٹ فارم کی اہمیت کو تسلیم کیا جو انہیں حکومت کے ساتھ زیادہ موثر انداز میں ہم آہنگی میں مدد فراہم کرے گا۔وزیر ای اے ڈی نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ 15 اکتوبر تک ڈیمیج نیڈز اسسٹنس رپورٹ تیار ہو جائے گی جو سیلاب سے ہونے والے مجموعی نقصان کی مکمل تصویر فراہم کرے گی۔

    ترقیاتی شراکت داروں بشمول ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، یورپی یونین، یو ایس ایڈ اور اقوام متحدہ نے اب تک فراہم کی گئی امداد کی تفصیلات شیئر کیں اور آنے والے دنوں میں مزید کا وعدہ کیا۔ اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بچوں میں غذائی قلت کے بارے میں بات کی۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • پاکستان انگلینڈ پہلے ٹی 20 میں حاصل ہونے والی ساری رقم سیلاب متاثرین کے لیے وقف

    پاکستان انگلینڈ پہلے ٹی 20 میں حاصل ہونے والی ساری رقم سیلاب متاثرین کے لیے وقف

    لاہور:پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان پہلے ٹی 20 میچ میں ایک کروڑ 30 لاکھ روپے کی گیٹ منی اکٹھی ہوئی۔ چیئرمین پی سی بی نے تمام رقم وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ میں جمع کرانے کا اعلان کردیا۔

    پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹی 20 سیریز کا پہلا میچ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں منگل کو کھیلا گیا۔ پی سی بی نے میچ سے حاصل ہونیوالی گیٹ منی کی تفصیلات جاری کردیں۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق انگلینڈ کیخلاف پہلے ٹی 20 میچ میچ گیٹ منی کی مد میں ایک کروڑ 30 لاکھ روپے اکٹھے ہوئے، یہ تمام رقم پرائم منسٹر فلڈ ریلیف فنڈ میں جمع کروائی جائے گی۔

    چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ کرکٹ نے ایک مرتبہ پھر پوری قوم کو متحد کرنے میں مدد کی، اس عظیم مقصد میں حصہ ڈالنے پر تمام شائقینِ کرکٹ کے مشکور ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پی سی بی تمام سیلاب زدگان کے ساتھ کھڑا ہے، کراچی کے تماشائیوں نے مون سون کی بارشوں سے آنیوالے سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کیلئے اپنا حصہ ڈالا۔

    چیف ایگزیکٹو فیصل حسنین کا کہنا ہے کہ پہلے ٹی 20 انٹرنیشنل میچ کے ذریعے فلڈ ریلیف فنڈز میں ایک چھوٹا حصہ ڈالنا پاکستان کرکٹ بورڈ کیلئے اعزاز ہے، یہ حصہ سیلاب متاثرین کی بحالی میں کام آئے گا، ضرورت کے اس وقت میں عوام کا متحد ہونا قابل ستائش ہےپاکستان کو پہلے ٹی 20 انٹرنیشنل میں انگلینڈ کے ہاتھوں 4 وکٹوں 6 وکٹوں شے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • بھارت کی تاریخ کی سب سے بڑی منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام

    بھارت کی تاریخ کی سب سے بڑی منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام

    نئی دہلی:بھارت کےشہرممبئی میں ہیروئن سے بھرا کنٹینر ملا ہے جس کی مالیت 50 ارب روپےسےزیادہ بتائی گئی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی پولیس نےچند ہفتوں قبل دو افغان شہریوں کوگرفتارکرکے اس کے قبضےسےبھاری مقدارمیں ہیروئن برآمد کی تھی۔ برآمد کی گئی ہیروئن کی مالیت اس وقت 12 ارفب روپے بتائی گئی تھی۔

    پوچھ گچھ میں افغان شہریوں نےانکشاف کیا تھا کہ ممبئی پورٹ پر بھی کنٹینر میں بھاری مقدار میں منشیات موجود ہے۔ اسی خبر کی تحقیقات کرتے ہوئے دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے ممبئی کی ناوا شیوا بندرگاہ سے ایک کنٹینر کو تحویل میں لیا۔

    کنٹینر کی تلاشی لی گئی تو اس میں سے 20 ٹن ہپیروئن برآمد ہوئی ہے جس کی مالیت 17 ارب 25 کروڑ بھارتی روپے لگایا گیا ہے، پاکستانی کرنسی میں اس کی مالیت 50 ارب روپے سے زائد ہے۔ضبط کی گئی ہیروئن کو ملکی تاریخ کی سب سے بڑی کھیپ قرار دیا جارہا ہے۔

    بھارت میں پولیس اور انسداد منشیات کے ذمہ داروں سے سوال پوچھے جانے لگے ہیں کہ اخر اتنی بڑی مقدار میں منشیات کو ممبئی کیسے لایا گیا؟ تمام طرح کی سیکورٹی انتظامات کے دوران منشیات بھارت میں کیسے داخل کی گئی؟

     

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • نادرا کے500سابق ملازمین جن کےپاس حساس معلومات تھیں ،وہ پاکستان چھوڑگئے

    نادرا کے500سابق ملازمین جن کےپاس حساس معلومات تھیں ،وہ پاکستان چھوڑگئے

    اسلام آباد:نادرا کے500سابق ملازمین جن کےپاس حساس معلومات تھیں ،وہ پاکستان چھوڑگئے ،اس حوالے سے چیئرمین نادرا نے انکشاف کیا ہے کہ نادرا کے 500 سابق ملازمین کا پاکستانی شہریت ترک کرکے ملک چھوڑ چکے ہیں‌، دوسری طرف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ڈی جی نادرا خیبرپختون خوا کو ہٹانے کی ہدایت کردی۔

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نورعالم خان کی زیرصدارت اجلاس میں چيئرمين نادرا طارق ملک انکشاف کیا کہ ملازمت سے ريٹائرمنٹ کے بعد 500 افراد پاکستانی شہریت چھوڑ گئے، اور ان شہريت چھوڑنے والوں کے پاس حساس معلومات تھیں۔

    چیئرمین نادرا کے انکشاف پر کميٹی نے شہریت چھوڑنے والوں کی فہرست طلب کرلی۔چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نورعالم نے کہا کہ جن افسران کی دہری شہریت ہے اُن کو سائڈ پرتو کرسکتے ہیں۔

    چیئرمین پی اے سی نورعالم نے چیئرمین نادرا سے پوچھا کہ ڈی جی نادرا خیبرپختونخوا لگانے کا معیار کیا ہے؟، خیبرپختونخوا افغانستان کے قریب ہے، یہ حساس عہدہ ہے۔ چیئرمین پی اے سی نے ڈی جی نادرا خیبرپختونخوا کو ہٹانے کی ہدایت کردی۔

    چیئرمین نادرا نے بتایا کہ ادارے میں 43 لوگوں کو کرپشن پر نکالا گیا، 2600 ملازمین کے کیسز کو دیکھ رہا ہوں۔چیئرمین پی اے سی نے حکم دیا کہ نکالے جانے کے بعد دوبارہ نادرا میں آنے والوں کی لسٹ بھی دیں۔

    کميٹی نے دوبئی سے ڈی پورٹ 380 افغانیوں کی فہرست بھی مانگ لی جن سے پاکستانی پاسپورٹ برآمد ہوئے تھے۔ کمیٹی نے غیر قانونی کاروبار میں ملوث افغانیوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے ديا۔چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ افغان مہاجرین شناختی کارڈ بنوا رہے ہیں ،اِس پر نظر رکھیں۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • ہمارےبچوں کامستقبل تباہ ہوگیا،ذمہ داروں کوسزاملنی چاہیے:ورنہ بچوں کوسکولوں میں نہیں بھیجیں گے:والدین

    ہمارےبچوں کامستقبل تباہ ہوگیا،ذمہ داروں کوسزاملنی چاہیے:ورنہ بچوں کوسکولوں میں نہیں بھیجیں گے:والدین

    لاہور:والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے تباہ ہونے پراس قدر غمزدہ ہیں کہ ان کوکچھ سمجھ نہیں آرہی ہےکہ وہ کیا کریں اور کدھرجائیں ، شاید یہی وجہ ہے کہ والدین نے آخری امید کے طورپروزیرتعلیم پنجاب اوروزیراعلیٰ‌پنجاب کواپنے درد کی دکھ بھری کہانی سنانی شروع کردی ہے ،

    یہ کہانی نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ یہ نسل نو ہی قوم کا ، خاندان کا اورمعاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں اور اگر اس مستقبل کو تاریک کردیا جائے تو پھر ملک وقوم تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں اورجواس وقت اس قوم کی نسل نو کے ساتھ ہورہا ہے یہ مستقبل میں ہونے والی تباہی اورپریشانی کے ابتدائی سنگلز ہیں‌ کہ جن پرنظرثانی کرکے قوم کے نونہالوں کے مستقبل کو تباہ ہونے سے بچایا جاسکتا ہے

    لاہور بورڈ نے 9 ویں‌کلاس کے نتائج کا اعلان کیا تو ایسے بھیانک نتائج سامنے آگئے کہ والدین سمیت معاشرے کے دیگرطبقات کے پیروں تلے زمین نکل گئی

    بڑی بڑی شہرت والے سکولوں کے مایوس کن نتائج نے والدین اور فیل ہونے والے بچوں کو بھی مایوس کردیا ہے،بالکل مایوس کُن نتائج ، والدین نے اپنی جمع پونجی اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت پرخرچ کردی لیکن جو نتائج سامنے آئے ہیں اس سے ثابت ہوگیا کہ تعلیمی اداروں میں تربیت نام کی چیز پہلے موجود نہیں تھی اب تعلیم کا بھی جنازہ نکل گیا ہے

    ایسا ہی کچھ حال پنجاب کے بڑے بڑے ہائی سکولوں کا ہے کہ جن میں زیرتعلیم بچوں کو 9 ویں کلاس کے نتائج نے ان سرکاری تعلیمی اداروں کی قلعی کھول کررکھ دی ہےکہ جہاں بڑی بڑی بھاری تنخواہیں لینے والے اساتذہ سکولوں میں اپنی حاضری لگوانے جاتےہیں کہ ان کی سیلری پر کوئی رکاوٹ نہ بنے ، وہ پڑھانےکے لیے نہیں جاتے

    ان سرکاری سکولوں میں قصورضلع کے ایک مشہورقصبے موکل کا بھی حال ایسا ہی ہے ، یہ وہ اسکول ہے کہ جس کے فارغ التحصیل طالب علم دنیا بھر میں اپنا اور اپنے قصبے اوراپنے ملک کا نام روشن کرچکے ہیں

    اس گاوں کے دونوں ہائی سکولز جن میں گورنمنٹ بوائے ہائی سکول اور گورنمنٹ گرلز ہائی سکول شامل ہیں ، ان دنوں‌ ان دونوں اداروں میں زیرتعلیم 9ویں کلاس کے بچوں کے تباہ کُن نتائج نے اساتذہ کی کریڈبلٹی پرسوالیہ نشان لگا دیا ہے کہ اتنی بھاری تنخواہیں لینے کے باوجود بھی اگرطالب علم پاس نہ ہوسکیں توپھروالدین ، معاشرے کے دیگرافراد کا حق تو بنتا ہے کہ وہ اس سانحہ پراعلیٰ حکام سے پوچھ سکیں کہ آخر ان کا قصور کیا کہ وہ مہنگائی کے اس دور میں اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کی خاطرسب کچھ قربان کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود نتائج مایوس کن ہیں،الٹا ان کی امیدوں پرپانی پھیردیا گیا ہے

    گورنمنٹ بوائزہائی اسکول (11036)میں 84 میں سے صرف 22 طالب علم پاس ہوئے ہیں جبکہ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول(12036) کی 158 طالبات میں سے صرف 58 طالبات ہی پاس ہوسکیں

    جو پاس ہوئے ان کے نمبراس قدرکم اورمایوس کن ہیں کہ ان کا مستقبل تاریک ہوگیا ہے ، اب وہ کسی دوڑ میں شامل نہیں ہوسکتے ہیں ، نمبرز اتنے کم ہیں‌کہ وہ کبھی میرٹ پر نہیں‌آسکتے ، ان کے راستے بند ہوچکے ہیں، والدین بھی پریشان حال ہیں اور انکو بھی کچھ دکھائی نہیں دے رہا کہ وہ اب کیا کریں‌ اور کدھر جائیں

    قوم خود آزمائش میں رہ کر اپنے پیٹ کاٹ کرسرکاری اساتذہ کی بھاری بھرکم تنخواہوں کا بندوبست کرنے کے لیے ٹیکس کی صورت میں ادا کررہےہیں ، اساتذہ کو تو عین الیقین ہے کہ ان کو کچھ نہیں ہوگا ، ان کے اپنے بچے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں اور ان کا اندراج سرکاری سکولوں میں ہوتا ہے تاکہ اعلیٰ حکام کو بے وقوف بنایا جاسکے لیکن اس میں غریب عوام کا کیا قصور ہے

    ہے کوئی جو غم کی اس گھڑی میں والدین کو کوئی امید دلا سکے ، والدین کو ان کے بچوں کے تاریخ مستقبل کوروشنی کی کرن دے سکے ، اب آخری امید صوبے کے وزیرتعلیم مراد راس صاحب ہیں یا پھرصوبے کے وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی صاحب، اب ان کے دل میں‌والدین کے اس دکھ کا کتنا درد ہے یہ تو پتا چلے گا ان کے فیصلوں سے ، اور اگراب بھی کچھ نہ ہوسکا توپھروالدین اپنے بچوں کوان سرکاری تعلیمی اداروں میں نہیں بھیجیں گے جس سے ایک خطرناک بحران جنم لے سکتا ہے ، حکومتوں‌ کو پہلے شرح خواندگی کے مسائل کا سامنا ہے ، ان حالات میں اگروالدین مایوسی کی صورت میں سرکاری تعلیمی اداروں کا بائیکاٹ کرتے ہیں تو پھرایک اور بحران جنم لے سکتاہے جس کے اصلا ذمہ دار تو اساتذہ ہیں مگراس کا خمیازہ حکمرانوں کو عوام کی ناراضگی کی صورت میں بھگتنا پڑسکتا ہے

  • ٹرانس جینڈرزبل:کیا مسلمان قومِ لوط کا انجام بھول گئے؟ رابی پیرزادہ بھی میدان میں آگئیں

    ٹرانس جینڈرزبل:کیا مسلمان قومِ لوط کا انجام بھول گئے؟ رابی پیرزادہ بھی میدان میں آگئیں

    لاہور:سابقہ گلوکارہ رابی پیرزادہ نے والدین کو بچوں کی تربیت کے حوالے سے ایک مشورہ دیا ہے۔ٹوئٹر پر جاری پیغام میں رابی پیر زادہ کا کہنا تھا کہ ہم خود اپنا مستقبل اپنی نسلیں تباہ کر رہے ہیں، جو اصل خواجہ سرا ہیں وہ عزت دار اور شرم والے لوگ ہوتے ہیں لیکن اکثر لوگ مشہور ہونے کے لیے خود خواجہ سرا بن رہے ہیں۔

    رابی پیرزادہ نے والدین سے درخواست کی کہ اللہ کا واسطہ اپنی اولاد کو اس فتنے سے محفوظ رکھیں، یہ ہماری قوم کو تباہ کرنے کی سازش ہے، اپنے بچوں کو کہیں ٹرانس جینڈرز کی عزت کریں لیکن انہیں فولو نہ کریں۔

    حکومت کی طرف سے اس بل کی منظوری کے بعد جو صورت حال مستقبل میں دکھائی دے رہی ہے اس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے مزید لکھا کہ ہمارے معاشرے میں ایک ٹرینڈ بن گیا ہے کہ ٹرانس جینڈرز (خواجہ سراؤں)کو پروموٹ کرنا ہے وہ بھی تعلیم اور نوکری پر نہیں بلکہ الٹی سیدھی حرکتوں اور باتوں پر، نئی نسلُ بھی ان کی طرف راغب ہو رہی ہے۔

    سابقہ گلوکارہ نے اپنے پیغام میں مزید لکھا کہ اسکول کے بچے بھی ان کو فولو کرتے ہیں، سوشل میڈیا پیجز ان کو پروموٹ کرتے ہیں، قومِ لوط بھول گئے؟

    یاد رہے کہ ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کے تحفظ کیلئے قومی اسمبلی سے ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 منظور کیا گیا جس کےبارے میں ماہرین قانون اورعلمائے کرام کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعتوں پر مشتمل حکومت نے ہم جنس پرستی کی حمایت کرنے والا بل منظور کیا ہے۔

    یہ بل ن لیگ نے جمیعت علمائے اسلام (ف)، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، اے این پی، بی این پی مینگل، بی اے پی، جمہوری وطن پارٹی اور دیگر تمام اتحادیوں کے ہمرا ہم جنس پرستی کا بل منظور کر لیا۔ ہم جنس پرستی والا ٹرانس جینڈر ایکٹ مئی 2018 میں جمعیت العلما کے اتحادی شاہد خاقان عباسی کے دور میں پاس ہوا

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • پاکستان اورانگلینڈ کےدرمیان کھیلا گیا میچ 200 سیلاب متاثرین نےاسٹیڈیم میں دیکھا

    پاکستان اورانگلینڈ کےدرمیان کھیلا گیا میچ 200 سیلاب متاثرین نےاسٹیڈیم میں دیکھا

    کراچی: پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کا پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ 200 سیلاب متاثرین نے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں دیکھا۔

    ترجمان ڈی آئی جی سیکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈویژن کے مطابق سیکیورٹی ڈویژن اور پی سی بی کے باہمی تعاون سے منگل کو 200 سیلاب متاثرین نے پاکستان اور انگلینڈ کے مابین کھیلا جانے والا پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ براہ راست نیشنل اسٹیڈیم میں دیکھا۔ سیلاب متاثرین کو کراچی میں قائم رہائشی کیمپس سے ایس ایس یو کی خصوصی بسوں کے ذریعے اسٹیڈیم لایا گیا۔

    بعد ازاں، متاثرین میں لنچ باکسز بھی تقسیم کیے گئے۔ متاثرین نے سیکیورٹی ڈویژن اور پی سی بی کی جانب سے اٹھائے گئے اس اقدام کو سراہا اور براہ راست میچ سے مَحظوظ ہوئے۔

    ڈی آئی جی سیکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈویژن ڈاکٹر مقصود احمد کا اس موقع پر کہنا تھا کہ براہ راست میچ دکھانے کا مقصد متاثرین کو خوشی کے چند لمحات فراہم کرنا ہے جو سیلاب کی تباہ کاری کا شکار اپنے گھروں سے دور ہیں۔ ڈی آئی جی سیکیورٹی کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کو میچ دکھانے کا عمل آئندہ میچز میں بھی جاری رہے گا۔

    سیلاب متاثرین جو میچ دیکھنے کے خواہشمند ہیں وہ درج ذیل نمبر یا اپنے رہائشی کیمپ کے فوکل پرسن سے رابط کرسکتے ہیں۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • کراچی کی 39 یوسیز میں پولیو وائرس کی تصدیق

    کراچی کی 39 یوسیز میں پولیو وائرس کی تصدیق

    کراچی:شہرقائد کی 39 یوسیز میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔کراچی کی 39 یوسیز کے سیوریج سے حاصل کیے گئے نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے، اتنی بڑی تعداد میں یوسیز میں پولیو وائرس کی موجودگی نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پولیو وائرس بلدیہ ٹاؤن، گڈاپ، ناظم آباد اور کیماڑی کی یوسیز میں پایا گیا ہے۔شہر میں بچوں کے پولیو وائرس سے متاثر ہونے کے خدشے کے پیش نظر تمام 39 یوسیز میں ہنگامی بنیادوں پر انسداد پولیومہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ملک بھر میں رواں سال پولیو کے 19کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے، اور یہ تمام کیسز خیبرپختون خوا میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ پاکستان میں رواں برس پولیو کا 18 ویں کیس کی تصدیق ہوگئی۔

    اس سے قبل منظر عام پر آنے والے کیسز کے بعد وفاقی وزیر صحت نے اپیل کی تھی کہ وائرس کے خاتمے کو قومی فریضہ سمجھتے ہوئے تمام پاکستانی اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور پولیو مہم کے دوران ورکرز کے لیے اپنے دروازے کھولیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہر مہم میں بچوں کی ویکسی نیشن کو یقینی بنائیں۔

    علاوہ ازیں وفاقی سیکرٹری صحت محمد فخر عالم نے بھی والدین سے اپنے بچوں کو ہر مہم میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • گیسٹروسےمزید6افراد جانبحق

    گیسٹروسےمزید6افراد جانبحق

    کراچی:گیسٹروسےمزید6افراد جانبحق ،اطلاعات کےمطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں میں 78,000 سے زائد مریضوں نے ہیلتھ کیمپوں میں رپورٹ کیا ، صوبے میں بیماریوں کا پھیلنا باعث تشویش ہے، جہاں گیسٹرو اور دیگر بیماریوں سے مزید 6 اموات ہوئیں۔

    صوبائی محکمہ صحت کے مطابق، دو کی موت گیسٹرو اینٹرائٹس سے ہوئی، دو کی موت پائریکسیا آف نامعلوم اصل (PUO) سے ہوئی – ایک ایسی حالت جس میں ایک شخص کا درجہ حرارت تین ہفتوں سے زیادہ بیماری کے ساتھ ہوتا ہے – اور ایک ایک مایوکارڈیل انفکشن اور کارڈیو پلمونری گرفتاری سے۔

    محکمہ نے بدھ کو روزانہ کی صورتحال کی رپورٹ میں کہا کہ یکم جولائی سے اب تک صوبے میں مختلف بیماریوں سے 324 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    سندھ، جہاں ملک کے شمال سے آنے والے سیلابی پانی اور بلوچستان سے آنے والے پہاڑی دھاروں نے صحت کے مسائل کو جنم دیا ہے، وہاں ہزاروں لوگوں کو سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہونے اور اب مختلف بیماریوں، خاص طور پر پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہوتے دیکھا ہے۔

    پاکستان کے پہلے ہی کمزور صحت کے نظام اور امداد کی کمی کے باعث، بے گھر خاندانوں نے بیماری سے متاثرہ پانی پینے اور کھانا پکانے پر مجبور ہونے کی شکایت کی ہے۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس