اس ماہ اکتوبر میں ہر بدھ کو چنیوٹ شہر کی بجلی صبح 09:00سے دوپہر 01:00بجے تک بند رہے گی۔
Author: Regional News

غیر قانونی مذبح خانوں کی بھرمار ہو گئی، شہری شدید عذاب میں اور انتطامیہ غائب
راولپنڈی (اے پی پی)لائیو سٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ سمیت دیگر متعلقہ اداروں کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے شہر و کینٹ میں غیر قانونی مذبح خانوں کی بھرمار ہو گئی اور شہریوں کو مضر صحت گوشت کھلایا جانے لگا۔اے پی پی کو دستیاب معلومات کے مطابق شہرو کینٹ کے مختلف علاقوں میں گھروں میں مذبحہ خانے قائم ہیں جہاں بیمار اور لاغر جانوروں کو بلااجازت ذبح کر کے عوام کو غیر صحت مند گوشت کی فراہمی کی جاتی ہے۔ذرائع کاکہنا ہے کہ غیر قانونی مذبح خانوں سے متاثرہ محلوں میں گندگی اور تعفن کی وجہ سے شہری مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ قصابوں نے مبینہ طور پرسلاٹر ہاوس کی مہریں بھی بنا رکھی ہیں اور ذاتی طور پر ذبح کئے گئے جانوروں پر سلاٹر ھاؤس چکلالہ سمیت دیگر سرکاری سلاٹر ھاؤسز کی جعلی مہریں لگا کر مختلف علاقوں میں گوشت فروخت کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ذرائع نے قومی خبر ایجنسی کو بتایاکہ ان غیر قانونی مذبحہ خانوں میں چیکنگ کے لئے آنے والی ٹیموں کو ڈرا دھمکا کر بھگا دیا جاتا ہے یا مبینہ طور پر مک مکا کی پالیسی اپنائی جاتی ہے۔واضح رہے کہ 2013میں عوامی شکایات پر ان غیر قانونی مذبحہ خانوں کے خلاف انتظامیہ حرکت میں آئی تھی اور ایک ہی رات میں ناز سینما اور امام باڑہ کے قریب سے 40سے زائد مذبحہ خانوں اور باڑوں سے 3ہزار سے زائد جانور پکڑے گئے تھے۔ گذشتہ تین سال سے اڈیالہ روڈ سمیت شہر بھر میں ایک بار پھر غیر قانونی مذبحہ خانے کھل گئے ہیں۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ لائیو سٹاک کی جانب سے گذشتہ ڈیڑھ برس سے مضرصحت گوشت کی روک تھام کے لئے مانیٹرنگ سسٹم غیر فعال ہے اور سرگودھا، جھنگ، منڈی بہاولدین سے بدستور مضر صحت گوشت کی سپلائی ہو رہی ہے۔

عجوہ سمیت دیگر انٹرنیشنل اقسام کی کھجور کھانے والوں کو بڑی خوشخبری مل گئی
ملتان۔(اے پی پی)دنیا بھر میں مشہور عجوہ کھجور سمیت 21انٹرنیشنل اقسام کی کھجوروں کی مقامی موسم کے مطابق پاکستان میں کامیاب تجرباتی کاشت مکمل کرلی گئی ہے۔ ہارٹیکلچر ریسرچ اسٹیشن بہاولپور کے انچارج ہارٹیکلچرسٹ محمد اخلاق نے اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ بیرونی ممالک سے منگوائی گئی ان اقسام کو پہلے لیبارٹری میں رکھا گیا اور بعدازاں مقامی موسم سے مطابقت ہونے پر ان کو تجرباتی فارم میں منتقل کردیاگیا۔ اب یہ اقسام پھل دینے کے مراحل میں ہیں۔انہوں نے کہاکہ ان اقسام میں عجوہ کے علاوہ شی شی(Sheeshi)، سلطانہ(Sultana)، نبیتل سیف(Nabteel Saif)، سوگائی(Suggai)، کھدری (Khudri)، لولو(Lulu)، نمیشی (Nemashi)، ریزز(Razis)، زملی(Zamli)، عنبر(Ambar)، کالاس(Khalas)، برہی (BArhee) اورامریکن ورائٹی میڈجول(Medjoul)اور دیگر شامل ہیعں۔ یہ تمام اقسام امریکہ کے علاوہ سعودی عرب، شام، عراق اور ایران سے منگوائی گئی ہیں۔ حکومت نے چند سال قبل کھجور کی بیرونی اقسام منگوا کر ان کوضلعی موسم میں کاشت کرنے کاتجربہ کرنے کے لیے کچھ اقسام منگوائی تھیں بعد میں کامیاب تجرباتی کاشت کے بعد حکومت نے 708ملین روپے کے ایک پروجیکٹ کی منظوری دی جس کے تحت پانچ مشہور اقسام کی کھجوروں کے پودے پاکستان میں ٹشو کلچر کے لئے اور بڑے پیمانے پر اس کی کاشت کے لئے منگوائی گئیں ان میں سے چارہزار کے قریب پودے کراچی بندرگاہ دیر تک پڑے رہنے کی وجہ سے ضائع بھی ہوگئے تھے جس پر کنٹریکٹر کووضاحتی نوٹس بھ دیاگیاتھا۔ محمد اخلاق جو کہ پہلے ہی آم کی دس اور دیگر پھلوں کی 15نئی اقسام متعارف کراچکے ہیں اور 2018ء میں ”بیسٹ سائنٹسٹ“ کاایوارڈ بھی حاصل کرچکے ہیں، نے بتایاکہ چھ لاکھ ٹن سالانہ پیداوار کے ساتھ پاکستان اب بھی دنیا یمں کھجور پیدا کرنے والا چھٹا بڑاملک ہے لیکن ہم بہت ہی کم مقدار میں اس کو برآمد کررہے ہیں۔ ہارٹیکلچر ریسرچ اسٹیشن (ایچ آرایس)کام کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے 30ملین روپے کے ایک پروجیکٹ کی منظوری دے دی ہے جس کے ایچ آرایس میں ایک جدید ٹشوکلچر لیبارٹری قائم کی جائے گی جس کے بعد کسانوں کو مشہورترین کھجور کی اقسام کاشت کرنے کے وافردستیاب ہوں گی۔

29 پرندوں کی وجہ سے 3 انسان گرفتار
کوئٹہ (اے پی پی) ڈپٹی کنزرویٹر فاریسٹ لسبیلہ مقبول حسن دشتی کی خصوصی ہدایت پر فاریسٹ آفیسر اوتھل سید طارق شاہ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ مکران کوسٹل ہائی وے لیاری کے قریب کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 3 شکاریوں کو گرفتار کرکے 29 کونج برآمد کرکے انہیں محکمہ وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت چالان کر کے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔ان خیالا ت کا اظہار ڈپٹی کنزرویٹر فاریسٹ لسبیلہ مقبول حسن دشتی نے اپنے دفتر میں دی گئی بریفنگ میں بتایا کہ رواں سیزن کے دوران یہ ہماری دوسری کامیاب کاروائی ہے۔گزشتہ ماہ بین الصوبائی شکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا،انہوں نے کہا کہ ہمیں اطلاح ملی تھی کہ پشاور کے علاقہ کرک سے تعلق رکھنے والے شکاری غیر قانونی طور پر سائبریا سے آنے والے مہمان پرندوں کا شکار کررہے ہیں،جس پر ہم نے پٹرو لنگ پر مامور ٹیم کو فوری کاروائی کے احکامات جاری کیں۔انہوں نے کہا کہ گرفتار کئے گئے شکاریوں سے آلات نیٹ سمیت 29 کونج برآمد کئے جن میں سے 12کونج گرمی کی وجہ سے مرگئے انہیں تحویل میں لیکر قانونی کاروائی کا آغاز کردیا ہے، مقبول حسن دشتی کامزید کہنا تھا کہ لسبیلہ میں کسی کو غیر قانونی شکار کرنے کی اجازت نہیں دینگے شکار میں ملوث افراد کے خلاف کاروائیاں جاری رہیں گی جنگلی حیات اور سائبیریا سے آنے والے مہمان پرندوں کا تحفظ ہر صورت میں یقینی بنایا جائے گا، انہوں نے کہا لسبیلہ کے مقامی لوگ باہر سے آنے والے لوگوں کی پشت پناہی کی بجائے محکمہ جنگلات لسبیلہ سے تعاون کریں،ا نہوں نے کہا کہ پرندوں کی نسل کشی کرنے والوں کے خلاف کاروائیاں جاری وساری رہیں گی۔

معاشرے میں موجود تناؤ کن خطرناک امراض کی وجہ بن رہا ہے ہے، ماہرین نفسیا ت نے خبردار کردیا
لاہور۔ (اے پی پی) پاکستان میں بڑھتے ہوئے ذہنی امراض کی بڑی وجہ معاشرے میں موجود تناؤ ہے جسے ختم کرنے کے لئے ہم سب کو مل کر کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔ یہ با ت ما ہرین نفسیا ت ڈاکٹر شازیہ اور ڈاکٹر ما ریا نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں خواتین کی بڑی تعداد ذہنی امراض کا شکار ہے جس کی بڑی وجہ معاشرے میں بڑھتا ہوا تناؤ ہے، تناؤ سے پاک ماحول کی فراہمی سے ذہنی امراض میں کمی کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ انسان کے ذہن میں اللہ تعالیٰ نے بے پناہ طاقت رکھی ہے جس کے ذریعے وہ مشکل سے مشکل اور بڑے سے بڑا فیصلہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں نفسیات کے شعبے کو نظر انداز کیا گیا تاہم یہ شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، ہمیں صحت مند معاشرہ کی تشکیل کے لئے آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، تعلیمی اداروں میں اس حوا لے سے خصوصی طور پر طلباء کو نفسیات کا مضمون پڑھایا جا ئے تا کہ وہ ذہنی امراض با رے ابتدا ئی معلومات سے دوسروں کو بھی آ گا ہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ تناؤ ایک ایسی بیماری ہے جس کے علاج کے لیے ہمیں روحانی طریقہ علاج کے ساتھ ساتھ ماہر نفسیات سے بھی رجوع کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ذہنی امراض کی بڑی وجہ منشیات کا استعمال بھی ہے، نشہ کے عادی افراد اس لعنت سے کبھی نہیں نکل پاتے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں کل آبادی کا ایک بڑا حصہ ذہنی امراض میں مبتلا ہے اور ان کی اکثریت اپنی بیما ری سے آگاہ نہیں ہے جبکہ تعلیم کی کمی کے با عث لوگ جن، بھوت اور جعلی عا ملوں کے چکر میں پڑ جا تے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نفسیات کے شعبہ کو دیگر شعبوں کی طرح فوقیت دی جائے اور مینٹل ہیلتھ ایکٹ میں ترمیم بھی کی جائے جس سے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

دو ججزکے تبادلوں کے احکامات جار ی
لاہور۔ (اے پی پی) لاہور ہائیکورٹ نے2 سیشن ججوں کے تبادلوں کے احکامات جار ی کر دیئے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی منظوری کے بعد رجسٹرار ہائیکورٹ کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب لیبر کورٹ گوجرانوالہ کے جج اسد علی کو لاہور کی احتساب عدالت نمبر ون کا جج جبکہ بینکنگ کورٹ فیصل آباد کے جج امجد نذیر چوہدری کو لاہور کی ایک دوسری احتساب عدالت کا جج تعینات کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق احتساب عدالتوں میں ان ججوں کی خدمات3 سال کے عر صہ کے لئے متعین کی گئی ہیں۔

واسا کے ملازم اب جائیں گے جاپان !!! اہم خبر آگئی
فیصل آباد۔ (اے پی پی) مستقبل میں واسا فیصل آباد کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بڑھانے اور واسا افسران کی جدید خطوط پر جاپان میں تربیت کے حوالے سے واسا اور یوکو ہاما واٹر ورکس بیورو جاپان کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیئے گئے ہیں جس کے تحت دونوں اداروں کے حکام ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے فراہمی و نکاسی آب کے نظام کو مزید بہتر بنانے میں ایک دوسرے کی معاونت کریں گے اور اس ضمن میں ترجیحی، سائنسی و تکنیکی بنیادوں پر شہریوں کے مسائل کا ازالہ یقینی بنایا جائے گا۔اس سلسلہ میں گزشتہ رو ز چیئر مین واسا شیخ شاہد جاوید اور منیجنگ ڈائریکٹر واسا فقیر محمد چوہدری نے گزشتہ دنوں جاپان کا کامیاب دورہ بھی کیا ہے جس میں ان کے یوکا ہاما واٹر ورکس بیورو جاپان کے حکام سے مفید مذاکرات بھی ہوئے ہیں۔ واسا کے ترجمان نے بتایاکہ جاپان نے باہمی ٹیکنیکل ایکسپرٹیز کے گورنمنٹ کی سطح پر تبادلہ کی پیش کش بھی کی ہے۔انہوں نے بتایاکہ اس معاہدے کے تحت واسا انجینئرز کی 4رکنی ٹیم جلد 15روزہ ٹریننگ کیلئے جاپان جائے گی جس کے تمام اخراجات یوکوہاما واٹرورکس بیورو برداشت کریگا۔واسا کے حکام نے اپنے دورہ جاپان کے دوران جائیکا ہیڈ کوارٹر کا بھی دورہ کیا اور مستقبل میں 6 ارب روپے کی لاگت جائیکا گرانٹ کے تحت شروع ہونے والے پراجیکٹس کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی۔

کس چیز کا لالچ مولانا فضل الرحمن کو حکومت مخالف تحریک چلانے پر اکسا رہا ہے،مومنہ وحید نے بتا دیا
لاہور۔(اے پی پی) چیئر پرسن سٹینڈنگ کمیٹی فار چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم و رکن پنجاب اسمبلی مومنہ وحید نے کہا ہے کہ اقتدار کا لالچ فضل الرحمن کو حکومت مخالف تحریک چلانے پر اکسا رہا ہے،جیلوں میں قیداپوزیشن قیادت مولانا فضل الرحمن کے کندھوں پر بندوق رکھ کر چلا نا چاہتی ہے، حکومت گرانے اور لاک ڈاون کے ارمان مولانا فضل الرحمن کے سینے میں دفن ہو جائیں گے، ان کے کہنے پر مدارس کے طلباء بھی باہر نہیں آئیں گے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت معصوم کشمیریوں کیخلاف تمام ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے ایسے وقت میں ملک کو یکجہتی کی ضرورت ہے نہ کہ انتشار کی‘اقوام متحدہ میں ملت اسلامیہ کا حقیقی چہرہ متعارف کرانے پر پاکستان عالمی سطح پر کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے‘ ملک آگے کی طرف بڑھ رہا ہے اور معیشت کے اہداف پورے ہورہے ہیں۔

"کانگریسی مولوی آج پھر پاکستان کے خلاف صف آرا ہیں” تحریر: فیصل ندیم
تحریک پاکستان چل رہی تھی مسلم لیگ کا مطالبہ تھا مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن قائم کیا جائے اور ہندوستان کے گلی کوچے بٹ کے رہے گا ہندوستان لے رہیں گے پاکستان کے نعروں سے گونج رہے تھے ایسے میں کچھ مولوی حضرات کانگریس کی زبان بولتے ہوئے متحدہ ہندوستان پر مصر تھے قائداعظم کو کافر اعظم کہا جارہا تھا ان کے ساتھ چلنے والے لوگ بھی کم از کم منافق قرار دئیے جارہے تھے ہندوستان کے مسلمانوں کی غالب اکثریت نے ان مولوی حضرات کو یکسر مسترد کرکے قائداعظم کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا نتیجہ ہندوستان کے بطن سے دنیا کی سب سے بڑی مسلم ریاست کے قیام کی صورت نکلا قیام پاکستان کے بعد ان کانگریسی مولویوں نے پاکستان پر لعن طعن کا سلسلہ جاری رکھا پاکستان میں رہنے والے پاکستان کا کھانے والے یہ مولوی مسلسل پاک سرزمین پر فساد برپا کرنے میں مصروف رہے پاکستان کو گالیاں دینے والے یہ مولوی آج پاکستان میں بڑی شان و شوکت کے ساتھ رہائش پزیر ہیں ان میں سے کتنے وزیر مشیر بنے اور کتنے ارب پتی لیکن پاکستان کے ساتھ ان کا بغض آج بھی جاری ہے آج بھی یہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ان کے نزدیک پاکستان کے سارے مسائل کا حل ان کی ذات میں پنہاں ہے آج پاکستان کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں دیں آج سب کچھ ٹھیک راوی ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا ہوگا ( ثبوت کے طور پر سابقہ ادوار ملاحظہ فرمائے جاسکتے ہیں جب یہ حضرات کسی نہ کسی طرح حکومتوں کا حصہ تھے اور انہیں حکمرانوں کا پیشاب بھی شہد دکھائی دیتا تھا )
یہ کانگریسی مولوی آج پھر پاکستان کے خلاف صف آرا ہیں ان کا سب سے بڑا ہتھیار ان کے کفر و نفاق کے فتوے ہیں جو انہوں نے اپنے ہر مخالف کیلئے تیار رکھے ہوتے ہیں قرآن کیا ہے حدیث کسے کہتے ہیں اس سے انہیں کوئی غرض نہیں ان کے کردار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و کردار سے خالی ہیں مفاد پرستی اور ابن الوقتی ان کا شیوہ ہے یہی لوگ پاکستان میں آج اہل دین کے زوال کا اصل سبب ہیں یہ کتنا اچھلیں کتنا شور مچائیں یہ اسی طرح مسترد ہیں جس طرح کل متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں نے ان کے بڑوں کو مسترد کیا تھا ۔۔۔
"سندھ کے شہروں میں بسنے والے مہاجروں سے ایک دردمندانہ درخواست” تحریر : فیصل ندیم
کیا فیصلے کا وقت نہیں آیا ہم کب تک دونوں ہاتھوں میں لڈو رکھیں گے ہمارے لئے ہی کہا گیا ہے رند کے رند ہی رہے ہاتھ سے جنت بھی نہ گئی لیکن جان لیں دو طرفہ کھیلنے والوں کی اکثر مثال دھوبی کے کتے کی ہوتی ہے جو نہ گھر کا ہوتا ہے نہ گھاٹ کا پھر معاملہ اللہ رسول کی بغاوت و اطاعت کے مابین ہو تو معاملے کی سنگینی بڑھ جاتی ہے وہ مفرور قیادت جسے ہم نے ہمیشہ ہم نے اپنی پلکوں پر بٹھایا اور اس نے ہمیں قتل ، خون ہماری تعلیم ہماری اقدار کی تباہی کے سوا کچھ نہ دیا اسے پوجنے کی کوئی وجہ تو ہونی ہی چاہئے حقوق کے نعرے لگاتے بتیس سال گزر گئے مفرور قیادت اور اس کے گماشتوں کے گھر ضرور بھرے لیکن ہمیں سوائے بربادی کے کچھ نہ ملا ۔۔۔۔
ہم خود کہتے ہیں کہ ہمارے اجداد نے بیس لاکھ جانوں کی قربانی دی تو پاکستان بنا تو بھائی اتنی بڑی قیمت دے کر حاصل ہونے والے پاکستان کو ذاتی مفادات اور چند ٹکوں کے عوض دشمن کو بیچ دیا جائے ؟؟؟؟
کیا ہم انکار کرسکتے ہیں کہ جن لوگوں نے تحریک پاکستان میں پاکستان کیلئے جانیں دی تھی تو ان کی زبان پر کلمہ تھا توحید کی صدا تھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وفا تھی اور آج ہم جس ڈگر پر ہیں اس پر نہ دین بچتا ہے نہ ایمان , نہ قرآن بچتا ہے نہ محمد ذیشان علیہ الصلوة والسلام سے کوئی تعلق تو کہاں جارہے ہیں ہم بھائی ۔۔۔۔
ہم پاکستان میں سب سے زیادہ دین دار سب سے زیادہ پڑھے لکھے اور سب سے زیادہ محب وطن تھے لیکن ان ملک و ملت کے سوداگروں کے پیچھے لگ کر کیا کمایا ؟؟؟؟؟
دین گیا ایمان گیا تعلیم گئی اقدار گئیں آج ہماری پہچان قاتل بھتہ خور اور وطن فروش کی ہوگئی ہے برائے مہربانی سنبھالیں اپنے آپ کو سب سے بڑھ کر ہم پاکستانی ہیں اور سب سے بڑھ کر پاکستان ہمارا ہے۔۔۔۔
آج ہمارے دین ایمان اور حب الوطنی پر ڈاکہ ڈالنے والے کھل کر سامنے آچُکے ہیں ایسے وقت میں جب ساری دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہورہا ہے ایک کالا سور اور اس کے حواری بھارت کے نمک کا حق ادا کرنے میں مصروف ہیں ایسے میں کہ جب کشمیریوں پر عرصۂ حیات تنگ کرنے والے بھارت کو دنیا بھر میں سبکی کا سامنا ہے یہ حرامخور کراچی اور بلوچستان کی دہائی دے کر دنیا کو گمراہ کرتے ہوئے بھارتیوں کو پروپیگنڈہ کرنے کا موقع فراہم کررہے ہیں یہ بات حقیقت ہے کہ کراچی حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں میں ہزاروں لوگ قتل ہوئے ہیں یہ علاقے ایک عرصہ بھتہ خوری غنڈہ گردی اور لسانی دہشتگردی کے شکنجے میں پھنسے رہے ہیں لیکن یہ سب کچھ اس وقت ہوا تھا جب یہ بدبخت کراچی حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہروں پر مسلط تھے ان کی آنکھ کے اشاروں پر یہ شہر کھلتے اور بند ہوتے تھے جب سے ان شہروں نے ان بدمعاشوں سے نجات پائی ہے ان میں امن ہی امن ہے ۔۔۔۔
یہ بات یقینی ہے کہ ان شاءاللہ پاکستان الطاف حسین نامی ناسور سے نجات حاصل کرچکا ہے ان شاءاللہ اب کبھی بھی یہ وطن فروش غدار ٹولہ پاک سر زمین پر قدم نہیں رکھ پائے گا یہ دشمن کی گود میں بیٹھ کر بھونکتے رہیں گے لیکن وطن کی سرزمین انہیں کبھی نصیب نہیں ہوگی ان شاءاللہ
اس لئے برائے مہربانی اپنی عاقبت و آخرت برباد نہ کریں پاکستان آپ کے آباؤاجداد نے بنایا اس سے محبت کریں اس کی حفاظت کریں ہمارا جینا مرنا سب کچھ اسی وطن میں ہے ان شاءاللہ ہاں کبھی اگر ذہن میں بد خیالات پیدا ہوں تو وہ ہندوستان جس کے گن الطاف حسین بدبخت گانے میں مصروف ہے اس کے طول و عرض میں مسلمانوں کی بے توقیری اور مسلسل بہنے والا ان کا خون ناحق ضرور دیکھ لیں اللہ ہم سب کو حق کو پہچان کر اس پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے








