ناقد
اس نے میرے بالکل درست شعر کا وزن بگاڑ کر بولا کہ اگر یوں لکھتے تو ٹھیک تھا.
میں نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے سوچا شاید کے یہ عروض کا ماہر ہو، بمشکل سوال کیا کہ جناب آپ اس کی بحر کے بارے میں بتا سکتے ہیں.
موصوف فوراً بولے. بحر کا مجھے کچھ پتا نہیں. میں تو ناقد ہوں. اور کیڑے نکالنا میرا کام ہے. قریب تھا کہ اگر وہ قریب ہوتے تو اپنے کمزور ہاتھوں کو جنبش دے کہ ان کے گال کو گلاب کر دیتا. مگر بھلا ہو اس واٹس ایپ کا…
میرے لیے ناقد کی یہ تعریف بالکل نئی تھی. دوستوں ویسے تو ناقد کہتے ہی تنقید کرنے والے کو ہیں. مگر تنقید سے ہماری اکثر مراد یہی ہوتی ہے کہ نقائص کو واضح کرنا. مگر یہ کیا کہ ہر بات پر تنقید…. ایک دن یونہی دل چاہا کہ تخیل میں ایسے ہی ایک ناقد سے گپ شپ کروں.
اور وہی مکالمہ آپکے سامنے پیش کیے دیتا ہوں
.
میں: السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ.
ناقد: وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ.
میں: جناب آپ کیسے ہیں؟؟
ناقد: بس جی گزر رہی ہے گزار رہے ہیں. حالات مندے ہیں. اخراجات زیادہ ہیں. ہلکا پھلکا گھٹنوں میں درد رہتا ہے. بیوی ناراض ہے، بچے وقت نہیں دیتے. حکومت کسی اقدام میں سنجیدہ نہیں، غریب کی تو کوئی زندگی نہیں.
.
اتنے میں ہی کھانے کا وقت ہوا.. موصوف نے طرح طرح کے بازاری کھانے آڈر دیے. جو مزکورہ بالا تمام اعتراضات کا بذات خود رد تھے.
میں نے استفسار کیا کہ جناب: مالی حالات مندے، اخراجات زیادہ، یورک ایسڈ بڑھا ہوا، بیوی ناراض، غریب بے حال، اور یہ کھانا….. ارے جناب میں ناقد ہوں. اگر میں سب اچھا کی گردان رٹ لوں گا تو معاملات کیسے سیدھے ہونگے. آخر غریب کا بھی تو کسی نے سوچنا ہے.
میں چکرا کر: مگر یہ کھانا آپکی صحت اور جیب کے لیے بہت مہنگا ثابت ہو سکتا ہے؟
آو جی چپ کرو ناقد میں ہوں. سدھارنے کا کام حکومتوں کا ہے. آپ کھانا شروع کریں اور اگلا سوال کریں.
.
میں: آپ کب سے ناقد ہیں؟؟
ناقد: میرا خیال ہے ہر انسان پیدائشی طور پر ناقد ہوتا ہے. شکم مادر میں میرے ہاتھ پیر آزاد تھے مگر میری ناف سے بندھی ایک زنجیر نے مجھے قید کر رکھا تھا. میں نے علم بغاوت بلند کیا. میرے بس میں ہوتا تو اس زنجیر کو اپنےہاتھ سے توڑتا اور اس غلامی سے نجات حاصل کرتا. مگر میرے پاس صرف ایک ہی آپشن تھا تنقید، سو میں نے مزاحمتی عمل جاری رکھا اور کچھ عرصہ بعد اس زنجیر سے رہائی پائی. مگر اب دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ میں آزاد ہونے کے بعد کسی کے ہاتھوں میں کھیل رہا تھا. جو کہ میری فطری غیرت کو گوارہ نہ تھا. مگر میرے بس میں کیا تھا. میں نے پھر اپنا ازلی حق تنقید استعمال کیا. اور رونا شروع کر دیا، آپ سمجھ رہے ہیں نا کہ میں جو کہہ رہا ہوں،؟
ناقد کی باتوں میں غرق تھا جب اس نے ہاتھ کا اشارہ دے کر مجھے ہلایا، اور کہا کہ آپ کھانا نہیں کھا رہے، میں نے نوالہ توڑا اور کہا کہ یعنی آپ نے اپنا مدعا سمجھا دیا. کہ آپ پیدائشی طور پر ناقد ہیں.
جی جی بالکل ناقد نے جواب دیا…
میں نے اگلا سوال اس لیے جلدی پوچھ لیا کہ مزید مثالیں سننے کی سکت نہیں تھی.
میں: تنقید کیوں ضروری ہے؟
ناقد: آپ نے میرا پچھلا جواب پورا نہیں ہونے دیا. دیکھیں اب اس کا جواب بھی اسی میں دیے دیتا ہوں. یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے کہ وہ یہ سوچے کہ اس کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے. اب جب مجھے ختنے کروانے لے کر گئے تو پہلی دفعہ یہ سوال تب پیش آیا. آپ ہی بتائیں تب میں سوال پوچھنے کا مجاز نہیں تھا کہ کیا میرا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے؟ . محفوظ ہاتھوں کی تلاش میں ہر ہاتھ پر تنقید کی جائے گی تاکہ سب سے محفوظ ہاتھوں تک پہنچا جا سکے..
میں نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا. اور دل میں سوچا یہ موصوف نائی یا سرجن کے بجائے درزی یا موچی سے ختنے کروانے چلیں جائیں گے. کیونکہ ان کا اعتراض انہی لوگوں پر ہوتا ہے جو اس کام کے ماہر ہوتے ہیں. گوکہ خود اس کام سے مکمل نابلد ہی کیوں نا ہوں.
خیر اسی سوچ میں اگلا سوال داغا
میں: پاکستان کے موجودہ حالات کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
ناقد: دیکھو عزیز یہاں سب کچھ غلط ہو رہا ہے. تعلیم صحت، انصاف، تمام نظام خراب ہیں. داخلہ و خارجہ امور کا بیڑہ غرق ہے. معیشت زوال کا شکار ہے، ڈالر آسمان کو ہاتھ لگانے کی کوشش میں ہے. اللہ غارت کرے ہمارے حکمرانوں کو انہیں مثال کی سنگینی کا ہی علم نہیں. یہ بس تقریریں کرتے ہیں، یہ سب امریکہ کے غلام ہیں. کیسی آزادی کاہے کی آزادی، فوج یہاں جمہوریت چلنے نہیں دیتی، جمہوریت یہاں ڈلیور نہیں کرتی، پولیس کرپشن کی ماری ہے. فوج ڈالروں پر پلتی ہے. 80٪ بجٹ فوج کو چلا جاتا ہے. گندگی ہی گندگی ہے. کوڑا اٹھانے والا کوئی نہیں. خالص چیز نہیں ملتی، ملاوٹ ہی ملاوٹ ہے. عورتیں بے حجاب ہیں، مرد بے رقاب ہیں..
وہ ایک تلاطم میں بولے جا رہے تھے کہ میں نے زبردستی روک کر سوال پوچھا
میں : جناب ان سب کا حل کیا ہے؟
ناقد: حل میں نے نہیں دینا حکومت نے دینا ہے. میں ناقد ہوں میرا کام تنقید کرنا ہے. اچھے سے اچھے کام میں بھی کیڑے نکالنا ہے. تاکہ حکومتیں اپنی اصلاح کر سکیں.
میرے ذہن میں ملاقات کا ابتدائی منظر چل رہا تھا. اور جان چکا تھا موصوف کا مسئلہ کیا ہے. سو میں نے اگلا سوال کر لیا.
میں: کیا یہ بات اچھی نہیں کہ ہم ناقد کے بجائے مصلح بن جائیں. تنقید کے بجائے اصلاح کرنا شروع کر دیں؟
ناقد: وہ کیسے جناب یہ کیسے ممکن ہے. یہ کام حکومتوں کے ہیں، ہم کیسے کر سکتے ہیں؟ ہمیں کون کرنے دے گا؟ آپ ہی بتا دیں؟
.
میں: دیکھیں اللہ نے انسان کو ناقد نہیں بنایا تنقید صرف وہاں کی جاتی ہے جہاں اس کے علاوہ کچھ نہ ہو سکتا ہو. ہر مسئلے کا حل تنقید نہیں. کچھ ہماری زمہ داریاں بھی ہیں. آپ سے ہی شروع کرتے ہیں. آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں اپنا ڈائٹ پلان لیں. آپکی صحت بھی ٹھیک ہوگی اور جیب بھی زیر عتاب نہیں آیا کرے گی. جب میں پیسے اور جوڑوں میں دم ہوگا تو آپ کیسی کے محتاج نہیں ہونگے. ورزش کو اپنا معمول بنائیں گے تو طبیعت کی خشکی ختم ہوگی. یہ سب کو عوامل ہیں جن کے لیے حکومت کی کسی پالیسی کی ضرورت نہیں. سرکار کوئی اقدامات بھی نہ کرے پھر بھی آپ یہ سب کر سکتے ہیں.
موبائل سے سندھ کے ایک ماڈل ویلیج کی ویڈیو دکھائی اور بتایا کہ یہاں سندھ میں انسانیت پس رہی، علاج، تعلیم، انصاف ہر شے ناپید ہے. مگر اس گاؤں کو دیکھ کر آپ کو یقین آ جائے گا کہ آپ غلط سوچتے ہیں تنقید کسی مسئلے کا حل نہیں.، دیکھیں گلیاں صاف ہیں.، سکول، مدرسہ، مسجد بہترین ہے. پر امن لوگ ہیں. بیماریاں کم ہیں. یہاں بھی سندھ کے انہی وڈیروں کی حکومت ہے. مگر وہ خوشحال ہیں. وجہ جانتے ہیں؟ وجہ بس یہی ہے کہ انھوں نے تنقید کو اپنا بنیادی حق سمجھ پر اس پر اکتفا نہیں کیا. چند دوستوں نے مل کر انیشیٹو لیا. اور سکون سے زندگی بسر کر رہے ہیں. یہ ہے تنقید اور اصلاح کا فرق.
مزید یہ عرض کر دوں کہ تنقید کوئی فرض چیز نہیں. اصلاح ہم پر لازم ہے. اپنے معاملات کی اپنے گرد و پیش کے معاملات کی. یونہی معاشروں میں امن و سکون، صحت و سلامتی آتی ہے. صرف تنقید سے کچھ نہیں ہوتا.
اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور بات کرتا کھانا ختم ہو چکا ہے. اور ہم نے سلام کیا اور اپنی راہ لے لی.
والسلام

نعمان علی ہاشم
Author: Regional News

حضرت ناقد سے تخیلاتی ملاقات کا احوال !!! تحریر : نعمان علی ہاشم

راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے نومنتخب عہدیداران آج سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے
راولپنڈی۔ (اے پی پی) راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نومنتخب عہدیداران (آج)یکم اکتوبر سے اپنے عہدوں کا چارج سنبھالیں گے۔ترجمان نے اے پی پی کو بتایاکہ راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے انتخابات میں میاں پرویز اسلم گروپ کے صبور ملک بلا مقابلہ صدر جبکہ نوشیروان خلیل خان سینئر نائب صدر اور محمد حمزہ سروش نائب صدر منتخب ہوئے تھے۔قبل ازیں مجلسِ عاملہ کی پانچ کارپوریٹ نشستوں پر محمد امتیاز چوہدری، شہزاد احمد ملک، عثمان اشرف،عبدالباسط ملک اور افضال سعید بٹ جبکہ پانچ ایسوسی ایٹ کلاس کی نشستوں پر محمد عالم چغتائی، شاہد رضا بھٹی، ملک جمشید احمد، نوشیرواں خلیل خان اور شاہریز اشرف ملک بلا مقابلہ منتخب ہو ئے جبکہ خواتین کی نشستوں پر فلک انجم اور آمنہ حمید بلا مقابلہ منتخب ہوئیں۔ذرائع نے قومی خبر ایجنسی کو بتایاکہ راولپنڈی چیمبر کے نومنتخب عہدیداران (منگل) یکم اکتوبر سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

پولیس افسران جنسی تشدد کے مقدمات میں ایس او پی کے مطابق کارروائی کریں، سی پی او ملتان
ملتان۔(اے پی پی) سٹی پولیس آفیسر ملتان محمد زبیر دریشک نے کہا ہے کہ ایس ایچ اوز جرائم کی روک تھام کریں اور اشتہاری ملزمان کے خلاف کریک ڈاؤن کرکے انہیں گرفتار کریں۔ رہائی شدگان عادی مجرمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔ پولیس ترجمان کے مطابق یہ بات انہوں نے اپنے آفس میں ایس ایچ اوز کے ساتھ ایک میٹنگ میں کہی۔ سی پی او ملتان نے ڈکیتی اور دیگر سنگین مقدمات کی پراگریس چیک کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ان مقدمات کو جلد ورک آوٹ کرکے رپورٹ پیش کریں، جنسی تشدد کے مقدمات میں ایس او پی کے مطابق کارروائی کریں اور اطلاع کی صورت میں بروقت کارروائی کریں اور متاثرہ اور ملزم کا میڈیکل کروائیں۔ انہوں نے کہاکہ پتنگ بازی کی روک تھام کے لیے پتنگیں بنانے والوں اور پتنگ فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کریں۔ میٹنگ میں ایس ایچ او تھانہ کینٹ انسپکٹر محمد سعید، ایس ایچ او تھانہ چہلیک انسپکٹر مرزا محمد حسنین، ایس ایچ او کوتوالی سب انسپکٹر قراۃالعین، ایس ایچ او تھانہ کپ انسپکٹر سلامت علی، ایس ایچ او تھانہ دولت گیٹ سب انسپکٹر محمد بشیر، ایس ایچ او تھانہ لوہاری گیٹ سب انسپکٹرمحمد اشرف اور ایس ایچ او تھانہ بوہڑ گیٹ فدا حسین موجود تھے۔

دہشت گرد صوبے کے پرامن حالات کو خراب کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں،ملک روح اللہ خان ترین
ہرنائی۔ (اے پی پی) بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما ملک روح اللہ خان ترین نے چمن بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے میں جمعیت علماء اسلام کے کزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا محمد حنیف سمیت دیگربے گناہ افراد کی شہادت پرانتہائی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے د عا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات کو بلند کریں اورلواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی صبروتحمل عطا فرمائے۔ انہوں نے واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد صوبے کے پرامن حالات کو خراب کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں لیکن وہ اپنے ناپاک مذموم ارادوں میں ہرگز کامیاب نہیں ہونگے۔ صوبے کے عوام اپنے سیکورٹی فورسز کے ساتھ ملکر ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے سے دہشت گردی کے خاتمے اور قیام امن کے لیے صوبے کے عوام مسلح افواج،ایف سی،پولیس اور لیویز فورس کے جوانوں کی عظیم قربانیاں ہیں جھنیں کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

نوشہرہ ورکاں، زیر تعمیر مکان کی دو منزلیں گرگئیں
نوشہرہ ورکاں۔ (اے پی پی)مٹو بھائی کے روڈ پر نئی آبادی میں زیر تعمیر مکان کی دو منزلیں رات اچانک گر گئیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔عبد الرحمان پنسار سٹور نے ڈبل سٹوری چھت گزشتہ روز ڈالی تھی اور رات نئی ڈالی گئی چھت گرنے سے پہلی منزل بھی گر گئی جس سے لاکھوں روپے کا مالی نقصان ہوا۔ واقعہ کی اطلاع پا کر مقتدر لوگ موقع پر جمع ہو گئے۔

ڈاکٹرقتل کیس کا مرکزی ملزم گرفتار
جیکب آباد۔ (اے پی پی)مختلف کاروائیوں کے نتیجے میں 52 اشتہاری اور 3 روپوش ملزمان کوگرفتار کر لیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق
تھانہ صدر پولیس نے نو دن قبل تھانہ صدر کی حدود بولان پیٹرول پمپ کے قریب مسلح افراد کی فائرنگ سے قتل ہونے والے ڈاکٹر شبیر بروہی کے قتل کیس کا اہم و مرکزی ملزم ساجد گرفتار کرلیا،گرفتار ملزم کے قبضے سے بغیر لائسنس ٹی ٹی پسٹل برآمد جبکہ دیگر فرار ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس کی جانب سے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔۔دوسری جانب جیکب آباد پولیس نے ضلع بھر میں متعدد مقامات پر کارروائیوں کے نتیجے میں 03 روپوش اور 52 اشتہاری ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
ڈیرہ مرادجمالی، ناکہ ظہور شہید مچھ پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کا افتتاح
ڈیرہ مرادجمالی۔ (اے پی پی) ڈی آئی جی پولیس نصیر آباد شہاب عظیم لہڑی نے ناکہ ظہور شہید مچھ پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کا افتتاح کر دیا۔ کیمروں کی تنصیب سے چیکنگ کے عمل بہتری میں مدد ملے گی۔ آئی جی پولیس بلوچستان محسن حسن بٹ اور ڈی آئی جی پولیس نصیر آباد شہاب عظیم لہڑی کی خصوصی ہداہت پر پولیس کے ناکہ جات پر چیکنگ کے عمل کو موئثر بنانے کے حوالے سے تمام چیک پوسٹوں پر سی سی ٹی وی کیمروں کے تنصیب کا عمل جاری ہے۔ ایس پی بولان ارشاد احمد گولہ کی جانب سے ناکہ ظہور شہید مچھ پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کر دیئے گئے۔ اس موقع پر ڈی آئی جی پولیس نصیر آباد شہاب عظیم لہڑی کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے چیکنگ کا عمل مزید بہتر بنایا جا رہا ہے، چیک پوسٹ پر شکایتی بکس اور سائن بورڈ بھی آویزاں کیے گیے ہیں جس کے ذریعے عوام کسی بھی شکایت کی صورت میں پولیس کے ذمہ دار آفیسران کے ساتھ فوری رابطہ کر سکیں گے، ان تمام اقدامات کا مقصد عوام کے مسائل کا فوری ازالہ اور دادرسی ہے۔ انھوں نے پولیس اہلکاروں کو خصوصی ہدایت بھی دی کہ ہفتہ خوش اخلاقی کے حوالے سے عوام کے ساتھ اپنے روئیے کو مزید بہتر رکھیں، خصوصاً ضعیف العمر اور چھوٹے بچوں کے ساتھ بہتر انداز میں پیش آئیں تاکہ عوام میں پولیس کا مورال بلند رہے۔

وزیراعظم عمران خان کے خطا ب سے کشمیریوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں، ماہ جبین شیران
کوئٹہ۔(اے پی پی) پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون وترقی نسواں ماہ جبین شیران نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تاریخی خطا ب کرکے حق خود ارادیت کے حصول کی پرامن جدوجہد میں مصروف کشمیریوں کے حوصلے بلند کردئیے ہیں،عمران خان نے آر ایس ایس اور مودی کا بدنما چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کے ساتھ اسلام کا آفاقی پیغام دنیا کے سامنے پیش کردیا ہے،یہ بات انہوں نے ”ایسوسی ایٹیڈ پریس آف پاکستان“(اے پی پی)سے گفتگوکرتے ہوئے کہی،پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون وترقی نسواں ماہ جبین شیران نے کہا کہ مسئلہ کشمیر،ناموس رسالت کے مسائل کو جامع انداز میں پیش کرکے وزیراعظم نے نئی تاریخ رقم کردی ہے اور حقیقی معنوں میں کشمیریوں کے سفیر ہونے کا حق اداکردیا ہے،انہوں نے کہا کہ اس وقت وزیراعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب پوری دنیا میں ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے اور وہ دن دور نہیں جب کشمیری بھارت کی غلامی سے آزاد ی حاصل کرینگے۔ماہ جبین شیران نے کہا کہ عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالم اسلام اور مسئلہ کشمیر پر مدلل اور تاریخی خطاب کرکے امت مسلمہ کا حقیقی لیڈر ہونے کا ثبوت دیا ہے اور وزیراعظم عمران خان مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کو حق خود ارادیت دلانے کے لیے پوری دنیا میں ان کی حق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

صوبہ بھر میں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ
سرگودھا۔30ستمبر (اے پی پی) شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔سرگودھا سمیت صوبہ بھر کے 36 اضلاع میں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیاہے، اس اقدام سے شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان تحریک انصاف سپورٹس اینڈ کلچر فیڈریشن سرگودھا ڈویژن کے صدر راجہ عبدالوہاب نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسوقت سرگودھا سمیت صوبہ بھر میں پینے کا صاف پانی سب سے بڑا مسئلہ ہے جس کو حل کرنے کیلئے حکومت نے ماسٹر پلان تیار کیا ہے۔ راجہ عبدالوہاب نے کہا کہ سرگودھا میں پینے کے صاف پانی کیلئے نہر لوئر جہلم، مٹھہ لک راجباہ، استقلال آباد راجباہ بہترین آبی گزر گاہیں جن سے گزشتہ 70 سال سے استفادہ نہیں کیا گیا اب اس پر توجہ دیکر پینے کے پانی کا مسئلہ حل کیا جائیگا۔راجہ عبدالوہاب نے کہا کہ اسی طرح سیوریج کا نظام بہتر بنانے کیلئے بھی ماسٹر پلان تشکیل دیا جارہا ہے۔

شہر بھر میں تجاوزات کیخلاف آپریشن کی تیاریاں مکمل
سرگودھا۔(اے پی پی) شہر بھر میں تجاوزات کیخلاف آپریشن کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور کسی بھی وقت تجاوزات کیخلاف بلا امتیاز آپریشن شروع کردیا جائیگا دکانداروں کے سامان ضبط کرنے انہیں جرمانہ کرنے اور ضبط شدہ مال کو نیلام کرنے کیلئے بھی اقدامات کو حتمی شکل دیدی گئی ہے جبکہ مختلف بازاروں کے بیرونی راستوں پر فولڈر بیرئیر لگانے کیلئے بھی اقدامات کو مکمل کیا جارہا ہے۔ ابتدائی طور پر کارخانہ بازار میں فولڈر بیرئیر لگنے سے بازاروں میں بے جا چنگ چی رکشاؤں کے داخلے پر پابندی سے بہتری آئی ہے جبکہ تجاوزات میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ذرائع کے مطابق کچہری بازار اور امین بازار میں فولڈنگ بیرئیر ابتدائی مرحلے میں لگائے جائینگے تاکہ ان بازاروں میں چنگ چی رکشاؤں‘ گدھا ریڑھیوں‘ گاڑیوں وغیرہ کے داخلے کو بند کیا جاسکے اور تجاوزات کو ختم کرنے میں یہ فولڈنگ بیرئیر مدد گار ثابت ہونگے اس طرح بازاروں کے اندرونی بلاکوں میں تجاوزات کے خاتمہ کیلئے بھرپور مہم چلائی جائیگی اور پھٹہ مافیا کا خاتمہ کیا جائیگا۔









