راولپنڈی۔ (اے پی پی) پنجاب کے وزیر خواندگی و غیر رسمی بنیادی تعلیم اور انسداد ڈینگی مہم راولپنڈی کے فوکل پرسن راجہ راشد حفیظ نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے آزاد کشمیر کے زلزلہ متاثرین کی امداد کیلئے کھانے پینے کی اشیاء، کمبل اور رہائشی خیموں پر مشتمل سامان کے ٹرک بھجوا دئیے ہیں۔ ڈینگی ایمرجنسی کے باوجود حکومت اپنے کشمیری متاثرہ بھائیوں کے ساتھ بھی کھڑی ہے۔ انہوں نے یہ بات انسداد ڈینگی مہم کے سلسلے میں شہر کے مختلف حصوں کے دورے کے دوران عوام سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہو ں نے کہا کہ وہ ایک جانب محکمہ صحت بالخصوص ہسپتالوں کی انتظامیہ سے ڈینگی مریضوں کے علاج معالجے کے حوالے سے مسلسل رابطے میں ہیں اور دوسری جانب ڈینگی مچھروں کی افزائش کے اسباب کو ختم کرنے اور عوامی شعور کی بیداری کیلئے ہر جگہ جا رہے ہیں۔ راجہ راشد حفیظ نے کہا کہ عوامی فلاح کا کوئی بھی کام عوام کے اپنے تعاون کے بغیر پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکتا۔ انسداد ڈینگی اور ڈینگی کا شکار ہونے سے بچنے کیلئے ہم گھر گھر شعور پھیلا رہے ہیں جس کے نتیجے میں ڈینگی کی شدت میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے تاہم عوام کو چائییے کے وہ اپنے گھروں میں مکمل صفائی ستھرائی اور مچھر مار سپرے کا اہتمام کریں اور ہر دوسرے تیسرے دن اس عمل کو دہراتے رہیں. صوبائی وزیر نے کہا کہ ڈینگی ایمرجنسی کے باوجود وزیر اعلی پنجاب نے پوری توجہ کے ساتھ آزاد کشمیر کے زلزلہ سے متاثرہ بھائیوں کا بھی خیال رکھا اور ضروری سامان پر مشتمل 9 ٹرک میر پور روانہ کر دئیے گئے ہیں. پنجاب حکومت آئندہ بھی یہ امداد جاری رکھے گی اور اگر ضرورت پڑی تو متاثرہ علاقوں میں محکمہ صحت کی ٹیمیں بھی روانہ کی جائیں گی جو متاثرین کو طبی امداد فراہم کریں گی۔
Author: Regional News

صفائی نہ کرنے والوں اور کھلا پانی ذخیرہ کرنے والوں کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ
لودھراں ۔(اے پی پی)ڈپٹی کمشنر راؤ امتیا زاحمد نے کہا ہے کہ صفائی نہ کرنے والوں اور کھلا پانی ذخیرہ کرنے والوں کو نوٹس جاری کریں اور ان کے خلاف انسداد ڈینگی کے حوالے سے غفلت کے ارتکاب پر ایف آئی آر درج کرائیں۔ انہوں نے یہ بات آج یہاں روزانہ کی بنیاد پر منعقدہ انسداد ڈینگی کمیٹی کے اجلاس میں محکمہ صحت اور مانیٹرنگ کرنے والے معاون محکموں کی کارکردگی کاجائزہ لیتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو سید محمد عباس شاہ، چیف ایگزیکٹوآفیسر ہیلتھ ڈاکٹر محمداکرم، ڈی ایچ او ڈاکٹر وسیم اقبال، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر عامر بشیراور دیگر محکموں کے سربراہ موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر راؤ امتیا زاحمد نے مزیدکہاکہ قبرستانوں میں پرندوں کے پیالوں میں ناقابل استعمال جگہوں پر پانی کے خاتمے کیلئے خصوصی اقدامات کریں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ نو تعمیر عمارات کی جگہوں پر بھی پانی نہ کھڑا ہونے دیں اور پانی کی ٹینکی والی عمارتوں کی چھتوں کی بھی مانیٹرنگ کریں۔ اجلاس میں محکمہ تعلیم، زراعت، دارالامان، کالجز، ماحولیات، لوکل گورنمنٹ مارکیٹ کمیٹی اور ضلع کونسل کے افسران بھی موجودتھے۔

کرپشن کی وجہ سے ملکی معیشت جمود کا شکار تھی، الحاج ممتاز اختر کاہلوں
سرگودھا۔(اے پی پی) چیئرمین سرگودھا ڈویلپمنٹ اتھارٹی و سینئر راہنما پاکستان تحریک انصاف الحاج ممتاز اختر کاہلوں نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی کرپشن کی وجہ سے ملکی معیشت جمود کا شکار تھی، محکمے کرپشن کی وجہ سے تباہی کا شکار تھے، کرپشن کے خاتمے کے لیے پی ٹی آئی روز اول سے برسر پیکار ہے اور انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب عوام حقیقی تبدیلی محسوس کریں گے۔انہوں نے کہا کہ لیگی ارکان اسمبلی نے سرگودھا کے شہریوں کو ایک بھی میگا پراجیکٹ نہیں دیا جس کی وجہ سے شہری پریشانی کا شکار تھے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے جس مشن کا آغاز کیا ہے اس کے نتائج بہت جلد عوام کے سامنے ہوں گے ہم پر انگلیاں اٹھانے والے اپنے گربیانوں میں جھانکیں تو اصل حقیقت ان کے سامنے کھل جائے گی۔
سوشل میڈیا پر لاکھوں پرستار رکھنے والی قندیل بلوچ کا دردناک انجام
ملتان۔ (اے پی پی) ماڈل قندیل بلوچ کا تعلق ڈیرہ غازی خان کے نواحی علاقے شاہ صدر دین سے تھا۔ان کا اصل نام فوزیہ عظیم تھا مگر وہ سوشل میڈیاپرقندیل بلوچ کے نام سے مشہورتھیں۔انہوں نے شوبز کی دنیا میں قدم رکھالیکن انہیں ابتدائی طورپر کامیابی نصیب نہ ہوئی۔انہوں نے اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری کے پروگراموں میں بھی حصہ لیا مگر انہیں مایوسی کاسامنا کرنا پڑا۔بعدازاں انہوں نے شہرت کے لیے سوشل میڈیا کاسہارا لیا اوراپنی ویڈیوز جاری کرنا شروع کردیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ سوشل میڈیا کی سپرسٹاربن گئیں۔فیس بک پران کے فالوورز کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ تھی اور جب انہیں قتل کیاگیا اس زمانے میں ان کاشمار پاکستان میں گوگل پر سب سے زیادہ تلاش کی جانے والی 10شخصیات میں ہوتاتھا۔قندیل بلوچ کو 2016ء میں رمضان المبارک کے مہینے میں مفتی عبدالقوی کے ساتھ سیلفیوں کے نتیجے میں شہرت حاصل ہوئی جس کے بعد مفتی عبدالقوی کو رویت ہلال کمیٹی کی رکنیت سے بھی ہٹا دیاگیاتھا۔قتل سے کچھ عرصہ پہلے قندیل بلوچ نے وزارت داخلہ سے سکیورٹی بھی مانگی تھی اور لاہور میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ میری جان کو خطرہ ہے۔قندیل بلوچ کا قتل عید الفطر کے فوراً بعد ہوا۔ان دنوں وہ مظفرآباد میں اپنے گھر میں مقیم تھیں۔پولیس کا کہنا تھا کہ وہ چاند رات کے بعد سے ملتان میں تھیں۔انہیں مبینہ طورپر ان کے بھائی وسیم عظیم نے گلہ دبا کر قتل کیاتھااوربعدازاں اعتراف کیاتھا کہ ہم بلوچ ہیں اور میں نے اپنی بہن کوقتل کردیا ہے۔ مجھے اس پر کوئی ملال نہیں۔قندیل بلوچ کے قتل کو عالمگیر شہرت حاصل ہوئی اور ان کے موت کے بعد صنم مہر نے ان کی زندگی پر ”The Sensational Life & Death Of Qandeel“ کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی.

تعلیم ہر ایک پاکستانی بچے کا بنیادی حق ہے، ڈسٹرکٹ ایجو کیشن آفیسر قصور
قصور۔(اے پی پی)تعلیم ہر ایک پاکستانی بچے کا بنیادی حق ہے،4سے 9سال تک کے ہر بچے اور بچی کے سکول میں داخلے کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار ڈسٹرکٹ ایجو کیشن آفیسر قصور میاں مقصود احمد اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایجو کیشن این سی ایچ ڈی اعجاز احمد چوہدری نے بچوں کے داخلے کی انرولمنٹ سکینڈ فیز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن حافظ ذوالفقار علی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لٹریسی شکیل احمد،ڈی ای او ایلمنٹری ملک محمد اشرف، ڈی ای او لٹریسی دانش گل،گڈ تھنکر آرگنائزیشن سے وقاص عابد، اتحاد فاؤنڈیشن سے میڈم ارشاد بھٹی، الفاء فاؤنڈیشن سے جواد احمد سید، اعلیٰ سماجی شخصیات اور کارکنان نے اس موقع پر شرکت کی۔ بچوں کی سکول میں انرولمنٹ سکینڈ فیز مہم امریکن افوجی کمیٹی، ڈسٹرکٹ ایجو کیشن اتھارٹی قصور اور این سی ایچ ڈی کے اشتراک سے شروع کی گئی ہے جس میں ضلع قصور کی نمایاں این جی اوز بھی حصہ لے رہی ہیں۔ ڈسٹرکٹ ایجو کیشن آفیسر قصور میاں مقصود احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی تعلیم و تربیت اولین ترجیح ہونی چاہیے اس لئے والدین اور اساتذہ کو ہر حالت میں اس پر توجہ دینا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بیادی حق ہے اس لئے چار سے نو سال کی عمر کا جو بھی بچہ سکول نہیں جاتا اس کو فوری طور پر کسی بھی سکول میں داخل کروانے کا بندوبست کیا جائے تا کہ وہ زیور تعلیم سے آراستہ ہو سکے۔

ڈاکٹر مظہر الحق کاکا خیل ڈی آئی جی ہزارہ تعینات
ایبٹ آباد۔ (اے پی پی) آئی جی خیبر پختونخوا نے ڈی آئی جی ہزارہ محمد علی بابا خیل کو پشاور تبدیل کر کے ڈاکٹر مظہر الحق کاکا خیل کو ڈی آئی جی ہزارہ تعینات کر دیا ہے۔ اس سلسلہ میں سنٹرل پولیس آفس کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ سنٹرل پولیس آفس پشاور سے جاری اعلامیہ کے مطابق ڈی آئی جی سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا عبدالغفور آفریدی کو ڈی آئی جی بنوں، طاہر ایوب خان کو ڈی آئی جی سی ٹی ڈی، محمد علی خان بابا خیل کو سی پی او پشاور جبکہ ڈاکٹر مظہر الحق کاکا خیل کو ریجنل پولیس آفسیر ہزارہ تعینات کر کے باقاعدہ طور پر نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

جیل وارڈنز ٹریننگ کیمپ حملے کے 4 مجرموں کو بری کرنے کا حکم
لاہور۔ (اے پی پی) لاہور ہائیکورٹ نے سمن آباد میں جیل وارڈنز ٹریننگ کیمپ پر حملے کے الزام میں سزائے موت پانے والے4 مجرموں کو ناقص تفتیش اور ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سزا پانے والے کرامت، عبدالحفیظ، افضال اور ذوالفقار کی اپیلوں پر فیصلہ سُنادیا۔ عدالت کے روبروملزمان کی طرف سے عثمان نسیم ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ ملزمان کو سمن آباد پولیس نے 2012ء میں جیل وارڈنزٹریننگ کیمپ پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا،جیل وارڈن ٹریننگ کیمپ حملہ کیس میں 10 افراد قتل اور 7 افراد زخمی ہوئے، پولیس نے ملزموں کو گڈی گراونڈ مینار پاکستان سے گرفتار کیا، انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے 2015ء میں کرامت سمیت دیگر کو دفعہ21 کے تحت سزائے موت سنائی۔ مجرموں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دوران تفتیش ملزموں کی مشترکہ شناخت پریڈ کروائی گئی جو غیر قانونی ہے، قانون شہادت کے مطابق ہر ملزم کی الگ شناخت پریڈ کروائی جانا ضروری ہے۔ زخمی گواہوں نے بھی عدالت کے روبرو ملزموں کو شناخت نہیں کیا۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پولیس نے ملزموں کو وقوعہ سے ایک سال پہلے سے حراست میں لے رکھا تھا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے لاپتہ افراد پر نوٹس لینے پر ملزموں کو جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا اور ملزموں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لئے خود ساختہ انکشاف کر کے ملزموں کو جیل وارڈنز ٹریننگ کیمپ حملہ میں ملوث کر دیا گیا۔ مجرموں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کرامت سمیت دیگر ملزموں کا وقوعہ سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا، ملزموں کیخلاف بطور سزا استعمال ہونے والی فنگر پرنٹس اور رائفل کی فرانزک رپورٹ ہے، مذکورہ شواہد کے نمونے ملزموں کی گرفتاری کے بعد بھیجے گئے جن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں تاہم عدالت سے استدعا ہے کہ درخواست گزاروں کی رہائی کا حکم دیا جائے۔ دوران سماعت عدالت نے اہم ترین مقدمے میں ناقص تفتیش پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی نے تفتیش کی لیکن ایک بھی ثبوت قانون کے مطابق نہیں، تفتیش خود ناقص کرتے ہیں، پھر کہتے ہیں عدالتیں ملزم بری کر دیتی ہیں، جسٹس قاسم خان نے کہا کہ حد ہے، اتنے اہم مقدمے میں تفتیش بدترین ہے تو باقی مقدمات میں کیا ہوگا،فاضل جج نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ تفتیش جے آئی ٹی نے نہیں بلکہ عام سب انسپکٹر نے کی ہے۔ عدالت نے سزا پانے والے 4 ملزموں کو ناقص تفتیش اور ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کرنے کا حکم دے دیا۔

نہر میں ڈوبنے والے2 طالب علموں کی نعشیں سردریاب کے مقام سے برآمد
پشاور۔ (اے پی پی) ضلع چارسدہ کے علاقے ناگمان گھڑی سیدانو کلے کے قریب نہر میں ڈوبنے والے 2 طالب علموں کی نعشیں نکال لی گئیں۔ ریسکیو1122 کے مطابق غوطہ خوروں نے گلبیلہ کے نزدیک سردریاب میں عرفان ولد سبحان اللہ اور سبحان ولد گل خام خان کی نعشوں کو نکال کر پشاورکوٹلہ محسن خان منتقل کر دیا گیا ہے، ریسکیو 1122پشاور اور چارسدہ کے غوطہ خوروں نے2 دن قبل ریسکیو سرچ آپریشن شروع کیا تھا، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ملک شیردل خان اور شارق ریاض خٹک نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کی براہ راست نگرانی کی۔

تحریک انصاف نے گلگت بلتستان میں عملی اقدامات اٹھائے ہیں، نیک پروین
گلگت۔ (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف خواتین ونگ گلگت کی سابق سیکرٹری اطلاعات و سینئر رہنماء نیک پروین نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے گلگت بلتستان میں عملی اقدامات اٹھانے کا سلسلہ شروع کیا ہے جس کہ وجہ سے سابقہ ادوار میں محکمہ ایجوکیشن جیسے مقدس محکمے میں نوکریوں کا جمعہ بازار لگانے والے اور آئی ایس سکیورٹی کے نام پر مال بنانے والوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے کیونکہ ان کو معلوم ہوچکا ہے کہ اب ان کا سابقہ دور لگایا گیا لوٹ مار کا بازار گرم اب بند ہوچکا ہے جس کہ وجہ سے ان کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں۔ انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں خواتین کی مخصوص اسمبلی کی سیٹوں پر خواتین کے حقوق کے لئے سیاست کرنے والوں نے آج تک گلگت بلتستان کی آبادی کی 60 فیصد حصہ خواتین کو کچھ نہیں دیا ہے بلکہ ان کے نام پر سیاست کرکے اپنا مال بنایا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان خواتین سابقہ ممبران و موجودہ اسمبلی ممبران کی خواتین کو ڈرہے کہ اب تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد ان کی بھی فریال تارپور اور مریم نواز کی طرح گلگت بلتستان میں احتساب ہو اور اس احتساب کے خوف سے اوٹ پٹانگ باتیں کرکے لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تحریک انصاف کی حکومت گلگت بلتستان میں قائم ہوگی تو سابقہ و موجودہ ادوار میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر سیاست کرنے والے اور ممبران اسمبلی بن کر لوٹ مار کرنے والی ممبران اسمبلی کا بھی کڑا احتساب ہوگا جسے فریال تارلپور اور مریم نواز کا ہوا ہے، اسی طرح ان کا بھی کڑا احتساب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی گلگت بلتستان میں گزشتہ روز والا واٹر منجمنٹ کا پراجیکٹ کا فیز۔ٹو پر عملی کام جب شروع ہوجائے گا، تو گلگت بلتستان کی تقدیر بدل جائے گی۔ یہ منصوبہ تقریباً4ارب سے زیادہ کا ہے جس میں وقتاً فوقتاً اضافہ ہوتا رہے گا، اس سے گلگت بلتستان میں زرعی شعبہ میں انقلاب آئے گی اور بالخصوص خواتین کو گھر بیٹھے عزت سے کمانے کا موقع مل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تمام فنڈز وفاقی حکومت نے اپنے بجٹ سے دیئے ہیں۔ نیک پروین نے مزید کہا ہے کہ تحریک انصاف میں جہانگیر ترین جیسے قابل ترین اور دور اندیشن لیڈر موجود ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا سطح پر جانے جانی والی شخصیات ہیں۔ان کا گلگت بلتستان کا دورہ نیک شگون ثابت ہو گا اور انشاء اللہ وہ گلگت بلتستان کے زمینی حقائق اور یہاں کے وسائل اور مسائل پر عمران خان کو مکمل بریفنگ دینگے جس کے بعد وزیراعظم عمران خان اپنے دورے کے موقع پر گلگت بلتستان کے 20 لاکھ عوام کو تاریخ کا سب سے بڑا پیکج دینے کا اعلان کرینگے۔

سیالکوٹ میں شدید بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے
سیالکوٹ۔ (اے پی پی) سیالکوٹ میں آسمان پر کالی گھٹاؤں اور آندھی کے ساتھ شدید بارش سے بیشتر علاقے زیر آب آ گئے۔ سیالکوٹ میں آدھی رات کے بعد سے ہی آسمان پر کالی گھٹائیں چھائی رہیں جس کے بعد تیز آندھی اور بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا جبکہ بارش سے شہاب پورہ روڈ، روڑس روڈ، میانہ پورہ، ایبٹ روڈ، کچہری روڈ، نہال چند سٹریٹ کے علاوہ دیگر نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید بارش کی پیش گوئی بھی کی ہے۔







