پشاور۔(اے پی پی)ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مردان سجاد خان کی سربراہی میں ڈی پی او کانفرنس ہال میں پولیس کرائم میٹنگ کا انعقاد کیاگیا۔ افسران کو دیگر اداروں کے ساتھ کوآرڈینیشن کو مزید مثر بنانے کے ساتھ ساتھ آئی جی خیبر پختونخوا پولیس ڈاکٹر محمد نعیم خان کا لینڈ مافیا، سودی کاروبار، منشیات ڈیلروں خصوصا آئس کا کاروبار کرنیوالوں کے خلاف جاری کئے گئے احکامات پر عمل درآمد کرنے کی ہدایت، سنگین مقدمات کی تفتیش کو جلد از جلدپایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ تفصیلات کے مطابق ڈی پی او سجاد خان نے اجلاس کے دوران سرکلز سطح پر کرائم چارٹ کا تقابلی جائزہ لیا۔ اجلاس کے دوران انہوں نے پولیس افسران کو آئی جی خیبر پختونخوا پولیس ڈاکٹر محمد نعیم خان کا لینڈ مافیا، سودی کاروبار، منشیات ڈیلروں خصوصا آئس کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف جاری کئے گئے احکامات پر عمل درآمد کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے ان تمام غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے لسٹ بنانے کی تاکید کی تاکہ جلد از جلد اس کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کیلئے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔
Author: Regional News

دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال
لاہور۔(اے پی پی)تربیلا، منگلا اور چشمہ کے آبی ذخائر میں بدھ کے روز پانی کی آمد و اخراج، ان کی سطح اور بیراجوں میں پانی کے بہاؤ کی صورت حال حسب ذیل رہی:دریا:سندھ (تربیلاکے مقام پر): آمد89600 کیوسک اور اخرج 125000کیوسک، کابل(نوشہرہ کے مقام پر): آمد 14900 کیوسک اور اخراج14900 کیوسک، جہلم: (منگلاکے مقام پر)آمد14200 کیوسک اور اخراج28300کیوسک، چناب (مرالہ کے مقام پر): آمد24600 کیوسک اور اخراج 5700کیوسک۔بیراج:جناح: آمد153500 کیوسک اور اخراج145100 کیوسک،چشمہ:آمد 153700کیوسک اور اخراج155000 کیوسک، تونسہ: آمد147700 کیوسک اور اخراج121100 کیوسک، پنجند: آمد16300 کیوسک، اور اخراج NILکیوسک،گدو: آمد 122100کیوسک اور اخراج 95800کیوسک، سکھر: آمد 83700 کیوسک اور اخراج33400 کیوسککوٹری:آمد36300کیوسک اور اخراج 4800 کیوسک۔ریزروائرز:تربیلا:ریزروائر کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1392فٹ،ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح1533.52 فٹ،ریزروائر میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.122 ملین ایکڑ فٹ۔ منگلا:ریزروائر کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050فٹ،ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 1215.95 فٹ،ریزروائر میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.398 ملین ایکڑ فٹ۔ چشمہ:ریزروائر کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15فٹ،ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 644.20 فٹ،ریزروائر میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.105 ملین ایکڑ فٹ۔تربیلا اور چشمہ کے مقامات پر دریائے سندھ، نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل اور منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد اور اخراج 24گھنٹے کے اوسط بہاؤ کی صورت میں ہے جبکہ دیگر مقامات پر پانی کی آمد و اخراج کی تفصیل بدھ کی صبح 6 بجے کی ہے۔

پشاور یونیورسٹی نے 26 پی ایچ ڈی موضوعات کی منظوری دیدی
پشاور۔(اے پی پی)پشاور یونیورسٹی کے شعبہ ایڈوانس سٹیڈیز‘ لینڈریسرچ بورڈ نے 26 پی ایچ ڈی ریسرچ موضوعات کی منظوری دیدی ہے‘ موضوعات کی منظوری یونیورسٹی کے بورڈ کے اجلاس میں دی گئی۔ بورڈ کا اجلاس وائس چانسلر ڈاکٹر محمدآصف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں تمام بورڈ کے ممبران نے شرکت کی،اجلاس میں بورڈ کی سب کمیٹیوں کے اجلاسوں کے مِنٹس کی منظوری بھی دی گئی۔

جامعہ بلوچستان اعلیٰ تعلیم کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کررہی ہے،گورنر امان اللہ خان
کوئٹہ۔(اے پی پی)جامعہ بلوچستان کے زیر اہتمام اور ملک کے تعلیمی اداروں کے اشتراک سے دو روزہ سمٹ انوینشن ٹو اینوویشن کا انعقاد جامعہ بلوچستان میں منعقد ہوا۔ افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی گورنر بلوچستان و چانسلر جامعہ بلوچستان جسٹس (ر) امان اللہ خان یاسین زئی تھے۔ جس میں جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال، تربت یونیوسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، سی ای او انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ پروموشن/ڈی جی، یو ایم ٹی عابد ایچ کی شیروانی، ڈاکٹر مزمل بخاری، ملکی تعلیمی ماہرین، صوبے کے مختلف اداروں کے نمائندگان، اساتذہ اور طلباء و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ افتتاحی تقریب سے گورنر بلوچستان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی خوشی کا باعث ہے کہ جامعہ بلوچستان چوتھا سمٹ کا انعقاد کررہی ہے کیونکہ جن موضوعات کا انتخاب کیا گیا ہے وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول تحقیق، تجربات اور مستقبل کے منصوبوں کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں صوبہ بلوچستان تحقیق و تجربات کے حوالے سے انتہائی اہم ہے اور یہاں مختلف زرائع پر تحقیق کی جاسکتی ہے۔اصل میں تحقیق کا آغاز مسلمانوں نے کیا تھا لیکن اب مسلم امہ میں تحقیق کی کمی پائی جاتی ہے اورجن اقوام نے انہی اصولوں کو اپنایا وہ اب دنیا میں ترقی یافتہ اقوام کہلاتے ہیں اور ہمارے تحقیق دانوں میں انتہائی ٹیلنٹ موجود ہے اور زیادہ تر ہمارے اسکالرز نے اپنی پی ایچ ڈی بین الاقوامی اعلیٰ تعلیمی اداروں سے مکمل کی ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے تحقیق دان نئے ایجادات پر تحقیق کریں اور میں انشاء اللہ بلوچستان حکومت کی تعاون سے صوبے کے تمام جامعات کے تحقیق کے لئے فنڈ منتسب کروں گا تاکہ اسکالرزان مواقعوں سے استفادہ کرتے ہوئے بہتر تحقیق کے حصول کو ممکن بنا کرصوبے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاک چائنا اقت صادی راہداری ملک وصوبے سمیت پورے خطے کے لئے مفید ثابت ہوگا۔ جس سے ترقی کے نئے زرائع کھل جائیں گے اور جامعہ بلوچستان صوبے میں اعلیٰ تعلیم کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کررہی ہے اور یقیناصوبے کے طلباء و طالبات سمیت کاروباری اور مختلف شعبہ جات اس ٹیکنالوجی سمٹ سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے اداروں کو ترقی سے ہمکنار کرکے صوبے کے ترقی کے لئے اپنا اہم کردار ادا کریں گے۔تقریب سے جامعہ کے وائس چانسلر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ بلوچستان صوبے کا قدیمی اور ملک کے اہم تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ ماضی میں جامعہ نے مختلف نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں بہتر حکمت عملی اور ہم سب کی محنت و کاوشوں سے آج جامعہ بلوچستان ملکی و بین الاقوامی سطح پر اپنا اہم مقام رکھتا ہے۔جو کئی دہائیوں سے اعلیٰ تعلیم کے لئے کوشاں ہے۔ جس سے صوبے کے مختلف علاقوں میں سب کیمپسز میں اعلیٰ تعلیم کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔ اور یقینا سمٹ کے مختلف سیشن میں جدید ٹیکنالوجی، زراعت کی پیداوار میں اضافہ، کاروبار کے زرائع، تحقیق و تجربات کے اصول کے عنوانات اور ماہرین کے مقالہ جات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔بعدازاں مہمان خصوصی نے جامعہ کے ایکسپو سینٹر میں جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی نمائش کا افتتاح کیا جس میں مختلف اداروں نے اپنے اسٹال لگائے ہوئے تھے۔ گورنربلوچستان نے تمام اسٹالز کا جائزہ لیا اور اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔

نجی ٹارچر سیل قانون کی حکمرانی کو کھلا چیلنج ہے،سی پی او
راولپنڈی (ا ے پی پی)سٹی پولیس آفیسر ڈی آئی جی محمد فیصل رانا نے کہا ہے کہ پولیس کا رویہ ایسا ہونا چاہیے کہ تھانوں میں قانون پسند عوام اپنے مسائل کے حل کے لئے شوق سے آئیں جبکہ قانون شکن اور کریمنلز پر قانون کاخوف ہمیشہ سوار رہے،تھانوں کو کمیونٹی پولیسنگ سے ہی شرفاء کے لئے دارالامان بنایا جا سکتا ہے،ایس پی اور ایس ڈی پی اوز باقاعدگی سے تھانوں کو چیک کریں،تھانوں میں غیر قانونی حراست یا تشدد کو کسی بھی حوالے سے برداشت نہیں کیا جائے گا،نجی ٹارچر سیل قانون کی حکمرانی کو کھلا چیلنج ہے جس پر کڑی نگاہ رکھی جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پولیس افسران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، سی پی او فیصل رانا نے کہا کہ تھانہ قانون کا قلعہ اور بنیادی یونٹ ہے اسے ہر لحاظ سے رول ماڈل ہونا چاہیے، تھانہ میں قانون کی حکمرانی عملی طور پر نظر آنی چاہیے، انہوں نے کہا کہ قانون کا خوف ہی معاشرتی امن کی ضمانت ہے،آج بھی جس جگہ سے پولیس کی گاڑی گزر جاتی ہے قانون شکن وہاں پر کسی بھی قانون شکنی سے قبل کئی بار سوچتا ہے، ہمیں قانون کے اس خوف کو قانون شکنوں کے لئے قائم رکھنا ہے جبکہ قانون پسند عوام تو قانون کے ایسے دوست ہیں جو ہمیشہ قانون کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، قانون کے قانون پسند دوستوں کو تھانوں میں وہ عزت ملنی چاہیے جس کے یہ مستحق ہیں، سی پی او نے کہا کہ تھانوں کو شرفاء اور قانون پسندوں کے لئے دار الامان ہونا چاہیے اسے کمیونٹی پولیسنگ کے ذریعے بہتر سے بہترین اور مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے،سی پی او نے کہا کہ تھانوں میں غیر قانونی حراست،زیر حراست افراد پر تشدد یا نجی ٹارچر سیل زمانہ قدیم کی پولیسنگ ہو سکتی ہے،اب ایسا ممکن ہے نہ ایسے غیر قانونی اقدامات قابل برداشت ہیں،ہر سرکل کا ایس ڈی پی او اور ہرڈویژنل ایس پی باقاعدگی سے اپنے تھانوں کو چیک کرے،حوالات میں کسی بھی قسم کی کوئی غیر قانونی حراست نہیں ہونی چاہیے،پولیس تشدد اور نجی ٹارچر سیل کے حوالے زیرو ٹالرینس پالیسی ہے یہ سب اقدامات قانون کی حکمرانی کو چیلنج ہیں،اور قانون جانتا ہے کہ اس نے چیلنج کرنے والوں سے کیسے نمٹنا ہے، سی پی او نے کہا کہ راولپنڈی کی عوام قانون پسند، یہاں کے منتخب عوامی نمائندے میرٹ پرست،یہاں کا میڈیا مکمل پروفیشنل اور معاشرے کی بہتری کے لئے کام کرنے والا،یہاں کے تاجر ملکی معیشت کے لئے اہم کردار رکھنے والے اور یہاں کے علماء سمیت تمام طبقات معاشرتی امن کے خواہاں ہیں یہ سب قانون کی حکمرانی کے لئے پولیس کے ساتھی ہیں لہٰذا پولیس افسران عوام کے جان ومال کے تحفظ کے حوالے سے ان سب سے مشاورت کریں۔

وکیل کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج،وکلاء کی ہڑتال
راولپنڈی (ا ے پی پی) سپریم کورٹ کے سینئر وکیل آغا طارق محمود ایڈووکیٹ کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے خلاف پنجاب بار کونسل کی کال پر راولپنڈی کے وکلا نے منگل کے روزہڑتال کی وکلاعدالتوں میں پیش نہیں ہوئے جس کے باعث عدالتوں نے اہم مقدمات سمیت دیگر کیسوں کی سماعت آئندہ تاریخ پیشی تک ملتوی کر دی، ڈسٹرکٹ بارراولپنڈی کے صدر سید تنویر سہیل شاہ سیکرٹری جنرل محمد شہزاد میر ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلا نے کہا آغا طارق محمود ایڈووکیٹ کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر کو فوری طور پر خارج کی جائے اس واقعہ کی انکوائری کرائی جائے۔ممبر پنجاب بار کونسل سجاد اکبر عباسی اور چوہدری واصف نے کہا کہ ہم بار کے ہر وکیل کے ساتھ کھڑے ہیں اور بار کے عہددیداران اس ضمن میں جو بھی فیصلہ کریں گے ہم انکا ساتھ دیں گے۔

جیکب آباد،بھاری تعداد میں گٹکے کی 85 لاکھ سے زائد مالیت کی 171 بوریاں برآمد، ملزم گرفتار
جیکب آباد۔ (اے پی پی)بھاری تعداد میں گٹکے کی 85 لاکھ سے زائد مالیت کی 171 بوریاں برآمد۔ 01 ملزم گرفتار، 01 ٹرک پولیس کی حراست میں لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق جیکب آباد تھانہ صدر کے ایس ایچ او SIP اصغر علی تنیو بمعہ اسٹاف کی خفیہ اطلاع پر شمبے شاہ چیک پوسٹ کے قریب کارروائی، بلوچستان سے آنے والی 1 ٹرک TKM-275 سے بھاری مقدار میں گٹکے کی 171 بوریاں برآمد جن کی مالیت تقریبن 85 لاک روپیہ سے زائد بتائی جا رہی ہے. اسمگلنگ کرنے والا ایک ملزم رحیم خان ولد سلام خان پٹھان سکنہ کوئٹہ کو گرفتار کرکے تھانہ صدر پہ گناہ نمبر 179/2019 قلم 269-270 مضہر صحت ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کردیا۔

پاکپتن، جعلی دودھ کی فروخت کھلے عام جاری
پاکپتن۔ (اے پی پی) پاکپتن شہر او رگردونواح میں جعلی دودھ کی فروخت کھلے عام جاری ہیں،طرح طرح کے کیمیکلز سے تیارکردہ دودھ کے استعمال سے شہریوں میں طرح طرح کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کی پابندیوں کے باوجود جعلی دود ھ کی کھلے عام فروخت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پاکستان سوشل ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل حکیم لطف اللہ نے کہا ہے کہ مقامی سطح پر بنے والے دودھ میں کوکنگ آئل، گلوکوز، چینی، گنے کا رس، یوریا کھاد، فارمالین، بورک ایسڈ، پنسلین، قلمی شورہ، رنگ کاٹ،ASTو بالصفاء پاؤڈر،امونیا اور دیگر کیمیائی مادوں کی آمیزش سے تیار ہوکر مارکیٹ میں آجاتا ہے،دودھ کی پیداوار کوبڑھانے والون کی حوصلہ افزائی کی جائے دودھ کے نام پر بکنے والے ڈبوں پر صاف اور جلی حروف میں لکھا جائے کہ یہ دودھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام انہضام، جگر، گردے، دل کی بیماریوں اور کینسر میں مبتلا ہورہے ہیں۔انہوں نے ارباب اختیار سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

حکومت بچوں سے متعلقہ گھناؤنے جرائم کی مکمل روک تھام کیلئے جامع پروگرام پر عمل پیرا ہے،صوبائی وزیر بہبود آبادی پنجاب
قصور۔(اے پی پی)صوبائی وزیر بہبود آبادی پنجاب کرنل (ر) محمد ہاشم ڈوگر نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بچوں سے متعلقہ گھناؤنے جرائم کی مکمل روک تھام کیلئے جامع پروگرام پر عمل پیرا ہے اور ضلع قصور میں چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر سینٹر کا قیام اسی حکمت عملی کا حصہ ہے،ماضی کی حکومتیں ایسے سانحات سے سبق سیکھتیں تو یہ بار بار رونما نہ ہوتے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار آج ٹی ایم اے ہال چوک میں چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب کے زیر اہتمام منعقدہ ایک آگاہی واک کے موقع پر مقامی میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ چیئر پرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو پنجاب محترمہ سارہ احمد، ڈپٹی کمشنر قصور محمد اظہر حیات، اے ڈی سی آر قصور عابد حسین بھٹی، اے سی قصور انعم زید، پاکستان تحریک انصاف کی مقامی رہنما محترمہ مسز مزمل مسعود بھٹی و دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر بہبود آبادی پنجاب نے کہا کتنے افسوس کا مقام ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے دیگر شعبوں کی طرح بچوں سے متعلقہ جرائم کی طرف بھی بالکل توجہ نہیں دی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی قابل ذکر کام انجام پا سکا یہی وجہ ہے کہ ضلع قصور ہی نہیں بلکہ وطن عزیز میں بچوں کی گدا گری، جبری محنت،ان کی بے حرمتی اور اغواء و قتل جیسے گھناؤنے جرائم کی روک تھام نہ ہو سکی۔وزیر بہبود آبادی پنجاب محمد ہاشم ڈوگر نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اول روز سے ہر ایک شعبے میں انقلابی اصلاحات کا آغاز کیا ہے۔

ساہیوال، ڈکیتی اور جیب تراشی کی وارداتیں کرنے والے چار ملزمان گرفتار
ساہیوال۔ (اے پی پی) ایس ایچ او تھانہ فتح شیر اطہر رشید نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے چوری‘ڈکیتی اور جیب تراشی کی متعدد وارداتوں میں 4ملزمان نسیم‘ بابر اعجاز‘محبوب جیب تراشوں کے قبضہ سے 40ہزار روپے اور موٹرسائیکل چھیننے والے ملزم ساجد کے قبضہ سے39ہزار روپے برآمد کئے جو متاثرہ شہریوں میں تقسیم کردیئے۔ علاوہ ازیں نوسر بازوں نے ایک بیوہ خاتون کو پلاٹ کا جھانسہ دیکر اس کی کل پونجی 2لاکھ60ہزار روپے ہتھیا لئے نہ اسے پلاٹ دیا اور نہ ہی اسکی رقم واپس کی جس پر خاتون نے ڈی پی او ساہیوال کی کھلی کچہری میں درخواست دی۔ ڈی پی او ساہیوال کیپٹن (ر) محمد علی ضیاء نے ایس ایچ او فرید ٹاؤن عابد بھلہ کو نوسر بازوں سے بیوہ خاتون کی رقم واپس دلانے کی ہدایت کی اور مذکورہ آفیسر نے نوسر بازوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے بیوہ خاتون کے 2لاکھ 60ہزار روپے واپس کرادیئے۔ بیوہ خاتون نے اپنی جمع پونجی واپس کرانے پر مذکورہ افسران کا شکریہ اداکیا۔









