Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • جنوبی کوریا طیارہ حادثے پر ائیرلائن سربراہ نےمعافی مانگ لی

    جنوبی کوریا طیارہ حادثے پر ائیرلائن سربراہ نےمعافی مانگ لی

    جیجو ائیر کے چیف آپریٹنگ آفیسر (سی ای او) کم ای بائی نے پریس کانفرنس سے قبل ائیرلائن کے اعلیٰ حکام کے ساتھ کیمروں کے سامنے سر جھکا کر حادثے پر معافی مانگی۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اس کے بعد پریس کانفرنس کی اور کہا کہ طیارہ حادثے کی وجوہات ابھی تک غیر واضح ہیں، طیارے کی خرابی کے کوئی ابتدائی شواہد نہیں ملے۔انہوں نے بتایا کہ گرنے والےطیارے کے حادثات کا کوئی سابقہ ریکارڈ نہیں تھا، طیارہ حادثے پر معذرت خواہ ہیں۔دوسری طرف جنوبی کوریا کی قومی ایئر لائن نے طیارے کو پیش آنے والے حادثے میں 179 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے، 2 افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔ طیارے کو حادثہ لینڈنگ گیئر میں خرابی کے سبب پیش آیا،طیارہ رن وے سے اتر کر رن وے کے گرد لگی باڑ سے جا ٹکرایا جس سے طیارے میں آگ بھڑک اٹھی بعد ازاں ایمرجنسی عملے نے طیارے میں لگی آگ بجھا دی۔خبر ایجنسی کے مطابق جبکہ حادثہ جنوبی کوریا موان ائیرپورٹ پر پیش آیا۔رپورٹ کے مطابق جنوبی کورین ائیرلائن کے طیارے میں 175 مسافر اور 6 فلائٹ اٹینڈنٹ سوار تھے جبکہ طیارہ تھائی لینڈ کے شہر بنکاک سے واپس آرہا تھا۔وزارت ٹرانسپورٹیشن کے مطابق مسافروں میں تھائی لینڈ کے دو شہری بھی شامل ہیں جبکہ باقی کا تعلق جنوبی کوریا سے ہے۔خیال رہے کہ موان ائیر پورٹ طیارہ حادثہ 1997 کے بعد سے کسی بھی جنوبی کوریائی ائیر لائن کا بدترین حادثہ ہے، جنوبی کوریا میں 1997 کے طیارہ حادثے میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔دوسری جانب صدرمملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے جنوبی کوریا میں طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حادثے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر دکھ ہے، غم کی گھڑی میں جنوبی کوریا کے عوام اور حکومت کے ساتھ ہیں۔

    مدارس بل کی منظوری پر جے یو آئی حکومت سے خوش

    سکھر: اوورلوڈ ٹریکٹر ٹرالیاں حادثات کا سبب، روڈ سیفٹی سیمینار منعقد

    شام کے عبوری لیڈر احمد الشرع کا ہیئت التحریر الشام کی تحلیل کا فیصلہ

  • مدارس بل کی منظوری پر جے یو آئی حکومت سے خوش

    مدارس بل کی منظوری پر جے یو آئی حکومت سے خوش

    رہنما جے یو آئی ف اسلم غوری کا کہنا ہے کہ مدارس بل کی منظوری پر حکومت سے خوش ہیں ،حکومت اور ایوان صدر نے بہت ساتھ دیا ،ہمارے مؤقف کو تسلیم کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا 26ویں ترامیم میں مدارس بل حکومت نے ہی بنایا تھا،یہ نیا بل پی ڈی ایم حکومت میں بنا تھا،بل پر امریکی دباؤ سے متعلق ہم نے نہیں صدر کی جانب سے کہا گیا تھا۔حکومتیں اگر بیرونی دباؤ قبول کریں گی تو ہم اپنے ملک کا دفاع بھی نہیں کرسکتے،امریکا کے حوالے سے حکومت ہی بتا سکتی ہے،حکومت نے خوش اسلوبی سے معاملات حل کئے ہیں۔حکمران پریشان ہیں اور اپوزیشن بھی ،صاف شفاف انتخابات تک ملک کےمسائل حل نہیں ہوں گے،ہم بلا وجہ حکومت کے راستے میں رکاوٹ کھڑی نہیں کریں گے،ہم اصولوں پر احتجاج کریں گے اور بھرپور اپوزیشن کا کرداراداکریں گے،حکومت اور تحریک انصاف کو کھلے دل سے آگے بڑھنا چاہیے۔میں ایاز صادق کا مشکور ہوں جس نے سب سے پہلے میرے مؤقف کی تائید کی،بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی باقاعدہ دعوت آئے گی تو دیکھیں گے،ہم دیکھیں گے کہ اس کے ٹی او آر کیا ہیں ، جانے کا مقصد کیا ہے۔

    سکھر: اوورلوڈ ٹریکٹر ٹرالیاں حادثات کا سبب، روڈ سیفٹی سیمینار منعقد

    پہلا ٹیسٹ:جنوبی افریقہ نے پاکستان کو شکست دیدی

  • این ایل سی چین سےامارات تک  سامان پہنچانے لگی

    این ایل سی چین سےامارات تک سامان پہنچانے لگی

    این ایل سی نے چین سے دبئی تک پاکستان کے راستے بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ نظام کے تحت تجارتی سامان کی ترسیل کا آغاز کر دیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق یہ تاریخی سنگِ میل پاکستان چین اقتصادی راہداری کی فعالیت میں ایک بڑا قدم ہے جو چین سے خلیجی ممالک تک نقل و حرکت کا مختصر اور مؤثر راستہ فراہم کرتا ہے۔الیکٹرانک آلات سے لدا این ایل سی کا ٹرک کاشغر سے جبل علی پورٹ دبئی کی جانب روانہ ہوا، ٹرک نے اپنی پہلی منزل این ایل سی ڈرائی پورٹ سوست پر مکمل کی۔یہ ترسیل خنجراب پاس کو سال بھر فعال رکھنے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔سوست میں اس تاریخی ترسیل کے آغاز کو منانے کے لیے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب میں گلگت بلتستان حکومت کے اعلیٰ عہدیداران، کسٹمز حکام اور تاجر برادری نے شرکت کی۔کاشغر سے کراچی تک این ایل سی کے ٹرک کے ذریعے سامان کی ترسیل 8 دنوں میں کی جائے گی، کراچی سے کنٹینر سمندری راستے سے جبل علی بندرگاہ 2 دن میں پہنچے گا۔کاشغر سے دبئی تک سامان کو بذریعہ سمندر پہنچنے میں 30 دن لگتے ہیں جبکہ روڈ کے ذریعے یہ ترسیل صرف 10 دنوں میں مکمل ہوگی۔چین سے دبئی براستہ پاکستان ترسیل تاجر برادری کے لیے بے پناہ فوائد فراہم کرنے کا سبب بنے گا۔ٹی آئی آر سروس سے خلیجی ممالک تک سامان کی ترسیل کم وقت اور لاگت میں ممکن ہو سکے گی۔تیز رفتار نقل و حرکت کی سہولت برآمد اور درآمد کنندگان کے لیے تجارت کے نئے مواقع پیدا کرے گی، اس قدم سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ، تجارتی تنوع کو فروغ اور خطے کے کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع میسر آئیں گے۔

    جسٹس ر اعجاز حسن وفات پا گئے

    پاکستان کے اپنے دفاع میں دہشتگردوں کے مراکز پر حملے، طالبان کا دوہرا معیار

    احتجاج کی آڑ میں کسی کو پریشان کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،میئرکراچی

    صدر ایمرا محمد آصف بٹ کے لاہور پریس کلب کے لیے کروڑوں کے ریکارڈ کام

  • 9 مئی کو جو کیا بھارت کی فوج بھی نہ کرسکی، ایاز صادق

    9 مئی کو جو کیا بھارت کی فوج بھی نہ کرسکی، ایاز صادق

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ 9 مئی کو جو کیا گیا وہ بھارت کی فوج بھی نہ کرسکی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس جماعت نے پونے 4 سال بات کرنے سے انکار کیا انہوں نے مجھ سے اپیل کی، تلخیاں اپنی جگہ لیکن بات چیت ضروری ہے۔ ہم لوگ 9 مئی کا ذکر کرنے سے کتراتے ہیں، 9 مئی کو وہ کیا گیا جو بھارت کی فوج بھی نہ کرسکی، کیا پہلی بار ملٹری کورٹس سے سزائیں ہوئی ہیں؟ دہشتگردی مرکز یا صوبوں کی ذمے داری نہیں پاکستان کی ذمےداری ہے، آپریشن ردالفساد اور ضرب عضب میں اربوں روپے خرچ ہوئے، پاکستان معاشی بحران سے بھی گزر رہا تھا اور جنگ بھی ضروری تھی۔سردار ایاز صادق نے مزید کہا کہ سپاہیوں اور حوالداروں پر فخر ہے جنہوں نے جانیں قربان کیں، 9 مئی کو گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس پر حملے نہیں کیے گئے۔

    پاکستان کے اپنے دفاع میں دہشتگردوں کے مراکز پر حملے، طالبان کا دوہرا معیار

    جسٹس ر اعجاز حسن وفات پا گئے

    احتجاج کی آڑ میں کسی کو پریشان کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،میئرکراچی

    صدر ایمرا محمد آصف بٹ کے لاہور پریس کلب کے لیے کروڑوں کے ریکارڈ کام

    نئی دہلی میں بارش کا 101سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

  • قومی ایئرلائن کا ایک اور طیارہ آپریشنل ہو کر بیڑے میں شامل

    قومی ایئرلائن کا ایک اور طیارہ آپریشنل ہو کر بیڑے میں شامل

    قومی ایئرلائن کا لمبے عرصے سے عارضی طور پر گرانڈ ایک اور طیارہ آپریشنل ہو کر فضائی بیڑے میں شامل ہوگیا۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق قومی ایئرلائن کیآپریشنل بیڑے میں اضافے کا عمل جاری ہے، پی آئی اے کا ایک اور لانگ گرانڈ اے ٹی آر ساختہ طیارہ آپریشنل ہوگیا، اے ٹی آر طیارے کی شمولیت سے پی آئی اے کے گلگت، سکھر، تربت اور گوادر کی پروازوں کو تقویت ملے گی.واضح رہے کہ 22 دسمبر کو پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں ایک ایئربس 320ساختہ طیارہ شامل کیا چکا ہے، سی ای او پی آئی اے کے مطابق پی ائی اے انتظامیہ شیڈول کی ریگولیرٹی کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے، پی آئی اے کی آن ٹائم پرفارمنس کا حدف 90 فیصد مقرر کیا گیا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر کامیاب ہورہا ہے۔

    جسٹس ر اعجاز حسن وفات پا گئے

    پاکستان کے اپنے دفاع میں دہشتگردوں کے مراکز پر حملے، طالبان کا دوہرا معیار

    احتجاج کی آڑ میں کسی کو پریشان کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،میئرکراچی

    صدر ایمرا محمد آصف بٹ کے لاہور پریس کلب کے لیے کروڑوں کے ریکارڈ کام

  • سیلفی کا شوق ایک اور  زندگی نگل گیا

    سیلفی کا شوق ایک اور زندگی نگل گیا

    صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر مانسہرہ میں کڑمنگ ٹنل کے قریب سیلفی لیتے ہوئے نوجوان جان کی بازی ہار گیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثے میں ایک نوجوان موقع پر جاں بحق جبکہ دوسرے کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے چار دوست سیلفی لے رہے تھے جن میں سے 2 پھسل کر کھائی میں گر گئے۔ حادثہ کڑمنگ ٹنل کے قریب پیش آیا، جب 2 نوجوان سیلفی بناتے ہوئے کھائی میں جا گرے۔واضح رہے کہ حال ہی میں جاری اعدادوشمار کے مطابق سیلفی کے سبب موت کے منہ میں جانے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس حوالے سے تحقیقی مطالعے کے مطابق اکتوبر 2011 سے نومبر 2017 تک 259 افراد سیلفی کے ہاتھوں موت کے منہ میں چلے گئے جو سالانہ اوسطا 43 افراد بنتے ہیں۔ جہاں تک سیلفی کے دوران موت کے نمایاں ترین اسباب ہیں تو ان میں ڈوبنا یا اونچی جگہ سے گرنا سرفہرست ہے۔ تحقیق کے مطابق قاتل سیلفی کی دوڑ میں مرد خواتین پر برتری رکھتے ہیں۔ سیلفی سے ہونے والی ہر دس اموات میں سات مرد ہوتے ہیں اور یہ تناسب 73 فیصد کے قریب بنتا ہے۔

    جسٹس ر اعجاز حسن وفات پا گئے

    پاکستان کے اپنے دفاع میں دہشتگردوں کے مراکز پر حملے، طالبان کا دوہرا معیار

    احتجاج کی آڑ میں کسی کو پریشان کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،میئرکراچی

    صدر ایمرا محمد آصف بٹ کے لاہور پریس کلب کے لیے کروڑوں کے ریکارڈ کام

  • جسٹس ر اعجاز حسن وفات پا گئے

    جسٹس ر اعجاز حسن وفات پا گئے

    پشاورہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس اعجاز حسن 77 سال کی عمرمیں وفات پا گئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق خاندانی ذرائع نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سابق جج جسٹس اعجاز حسن کافی دنوں سے علیل اور ان کا علاج اسلام آباد کے نجی اسپتال میں ہو رہا تھا۔انہوں نے بطورجج پشاورہائی کورٹ 2000 سے 2007 تک اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں۔ان کی عدالتی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کے انتقال پر عدلیہ اور قانونی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

    پاکستان کے اپنے دفاع میں دہشتگردوں کے مراکز پر حملے، طالبان کا دوہرا معیار

    احتجاج کی آڑ میں کسی کو پریشان کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،میئرکراچی

    صدر ایمرا محمد آصف بٹ کے لاہور پریس کلب کے لیے کروڑوں کے ریکارڈ کام

  • پاکستان کے اپنے دفاع میں دہشتگردوں کے مراکز پر حملے، طالبان کا دوہرا معیار

    پاکستان کے اپنے دفاع میں دہشتگردوں کے مراکز پر حملے، طالبان کا دوہرا معیار

    پاکستانی فضائی حملوں میں سرحدی علاقوں میں ٹی ٹی پی کے تربیتی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا.پاکستانی فضائیہ کے حالیہ حملے ٹی ٹی پی "فتنہ الخوارج” کے تربیتی کیمپوں پر کیے گئے ہیں۔ یہ حملے افغانستان یا آئی اے جی (اسلامی امارت افغانستان) کی افواج کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے مراکز کے خلاف تھے۔

    1. پاکستان نے افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا، جنہیں دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
    2. پاکستان کی مسلسل شکایت رہی ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان کی سرزمین سے کارروائیاں کر رہی ہے، لیکن آئی اے جی نے ان سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے۔
    3. یہ کیمپ سرحد پار دہشت گردی کا منبع تھے، جو پاکستان کی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے۔
    4. چار اہم دہشت گرد مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جہاں خودکش حملہ آور، اہم کمانڈر، اور بڑی مقدار میں اسلحہ موجود تھا۔
    5. مارے جانے والوں میں اہم کمانڈر شامل ہیں:
    شیر زمان المعروف مخلص یار
    ابو حمزہ (خودکش بمباروں کے تربیت کار)
    اختر محمد المعروف خلیل
    شعیب اقبال (ٹی ٹی پی کے عمر میڈیا کا سربراہ)
    6. افغانستان، بطور ایک غیر مستحکم ریاست، اپنی داخلی مسائل میں الجھا ہوا ہے، لیکن آئی اے جی کو سمجھنا ہوگا کہ دہشت گرد دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ہیں۔
    7. عالمی قانون کسی بھی ریاست کو اپنی سرزمین سے باہر موجود خطرات کے خلاف دفاع کا حق دیتا ہے.

    افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور ٹی ٹی پی خوارج کے خلاف کارروائی

    پاکستان افغانستان کو برادر ملک تصور کرتا ہے اور فضائی حملے افغان عوام یا افواج کے خلاف نہیں تھے۔
    1. پاکستان نے سرحدی علاقوں میں ٹی ٹی پی کے خلاف دفاعی اقدامات کیے۔
    2. مارے جانے والے ٹی ٹی پی کے خوارج وہ تھے جو حال ہی میں پاکستانی فوجیوں کی شہادت کا جشن منا رہے تھے۔
    3. ان فضائی حملوں کا مقصد دہشت گردوں کا خاتمہ تھا جو پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے خطرہ ہیں۔
    4. پاکستان کی جانب سے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔

    کرّم میں سیکیورٹی صورتحال: افغان فورسز کے ساتھ کشیدگی

    آئی اے جی کی جانب سے یہ غلط دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ افغان افواج نے پاکستانی افواج پر حملہ کیا، حالانکہ حقیقت میں 28 دسمبر کی صبح سرحد پار سے ٹی ٹی پی اور افغان فورسز نے بلااشتعال فائرنگ کی۔
    1. پاکستانی افواج نے جوابی کارروائی میں مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔
    2. افغان فورسز اور ٹی ٹی پی کے درمیان "فرینڈلی فائر” کے نتیجے میں متعدد جانی نقصان ہوا۔
    3. رپورٹس کے مطابق، ٹی ٹی پی کی فائرنگ سے ایک افغان ہیلی کاپٹر تباہ ہوا۔
    4. پاکستان کی متعدد درخواستوں کے باوجود افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کیا ہے۔

    کرّم میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی افغان کوششیں

    افغان طالبان کی جانب سے کرّم میں غیر مستحکم حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

    1. افغانستان کی غیر اشتعال انگیز فائرنگ نے کرّم میں حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔
    2. افغان طالبان کا یہ رویہ پاکستان کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے، جو ہمیشہ افغان عوام کا حامی رہا ہے۔
    3. پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، لیکن طالبان کی جانب سے جوابی طور پر صرف ناشکری اور دشمنی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

    جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈا

    1. افغان چینلز پر پاکستان کے فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت کے دعوے جھوٹے ہیں۔ یہ تصاویر پرانے زلزلے کی ہیں۔
    2. کرّم میں پاکستانی افواج کی 19 ہلاکتوں کے دعوے غلط ہیں؛ حقیقت میں صرف 4 اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ 25 ٹی ٹی پی شدت پسند مارے گئے۔
    3. پاکستانی حملوں کے بعد ٹی ٹی پی کی قیادت میں مکمل رابطہ منقطع ہو چکا ہے، اور خوف کی وجہ سے ان کا نیٹ ورک مفلوج ہو چکا ہے۔

  • احتجاج کی آڑ میں کسی کو پریشان کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،میئرکراچی

    احتجاج کی آڑ میں کسی کو پریشان کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،میئرکراچی

    میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ احتجاج کی آڑ میں کسی کو پریشان کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، پارہ چنار میں حکومت خیبر پختونخوا کی ہے اور ازالہ کراچی کی عوام اور سندھ حکومت بھگت رہی ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق گلشن اقبال میں نو تزئین شدہ عزیز بھٹی پارک کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پانی ضائع کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر کٹوائی ہے، جلد ان کے نام بھی دوں گا جو شہر کو نقصان پہنچا رہیں، واٹر بورڈ کے حوالے سے ایک سے دو روز میں جامع پریس کانفرنس کروں گا،ٹرانس کراچی کی انتظامیہ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ریڈ لائن کا کام جلد مکمل ہوگا، مرتضیٰ وہاب نے 2024 میں لوگوں کو امید کی کرن دی ہے،ہم نے کے ایم سی کو معاشی طور پر مستحکم کیا،گورنر سندھ کامران ٹیسوری صاحب سے ایک پرانا رشتہ ہے مگر میں سمجھتا ہوں مولا جٹ اسٹائل میں مسائل حل نہیں ہوتے، عزیز بھٹی پارک میں شہر کا پہلا فروٹس فارم بنایا گیا ہے،بدلتا ہوا کراچی دیکھا جا سکتا ہے،کل 27 دسمبر کو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی تھی، آج عزیز بھٹی پارک کے اندر ہم نے درخت لگائے، فیصلہ کیا تھا شہداء کے لیے پودے لگائیں گے، اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد اور کے ایم سی کے متعلقہ افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے تمام کارکنان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،کل گڑھی خدا بخش میں برسی کا اتنا بڑا اجتماع دیکھا،میں نے پہلے وہاں اتنا بڑا اجتماع نہیں دیکھا تھا،سخت سردی کے باوجود لوگ وہاں آئے اور چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدر پاکستان آصف علی زرداری کے خطاب کو سنا،انہوں نے کہا کہ عزیز بھٹی پارک میں سبزیوں کے درخت لگا کر ویجی ٹیبل گارڈن بنایا گیا ہے، پانچ ہزار ماحول دوست درخت لگائے گئے ہیں، یہ پارک طویل عرصے سے خستہ حالی کا شکار تھا،کے ایم سی کی موجودہ انتظامیہ نے پارک کو درست کرنے کا فیصلہ کیا، عزیز بھٹی پارک میں ہم نے تین جنگل بنانے کا پلان ہے،یہاں اربن فاریسٹ، فوڈ فاریسٹ اور سبزیوں کے گارڈن بنائیں گے، پیپلزپارٹی کا یہی نظریہ ہے کہ پبلک کی جگہ پبلک کے پاس ہونی چاہیے، چند روز میں ملیر ایکسپریس وے کو، شاہ فیصل کالونی سے قیوم آباد تک عوام کے لئے کھول دیں گے، بلوچ کالونی ایکسپریس وے کا ایک پورشن جو رہ جائے گا اسے بھی جلد مکمل کریں گے، کورنگی کازوے کے برج پر کام ہو رہا ہے، انہوں نے کہا کہ جو کام ہوئے ان سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کروں گا،کے ایم سی کے مالی وسائل سے متعلق آگاہ کروں گا، شہرمیں پرسوں اخبارات میں ٹینڈر ہوئے اور بھی کام ہوں گے،کراچی والا اب پیچھے نہیں ہٹے گا، آگے آئے گا،اگر ہم اسپورٹس کمپلیکس کی جگہ اسکول بنائیں گے تو نیب سوال کرے گا،ہمارا یہ موقف ہے کہ ہمیں عوام کو کس طرح ریلیف دینا، شہر میں چائنا کٹنگ اور شادی ہال بنانے سے بہتر ہے کچھ چیزیں بنیں، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے فنڈز کا آڈٹ ہونا چاہئے،چندے پر چلنے والی جماعتوں کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آ جاتے ہیں،گلشن ٹاؤن یا جناح ٹاؤن کے چیئرمین کو واٹر کارپوریشن کا چیئرمین بنا دیں گے تو پانی صرف وہیں آئے گا،جماعت اسلامی کے پیسوں سے صرف پوسٹر بن رہے ہیں، وہ کہتے ہیں ہمیں فنڈز نہیں مل رہے پھر کہتے ہیں ٹاؤن میں مثالی کام ہو رہے ہیں،جماعت اسلامی کے پاس نو ٹاؤن کی بھی ذمہ داری ہے،ہم نے ابھی نیو کراچی میں روڈ بنایا کل وہاں روڈ کٹنگ ہو رہی تھی،کس نے روڈ کٹنگ کی اجازت دی، میئر کراچی نے کہا کہ میں جماعت اسلامی والا نہیں جو ہوا میں بات کروں گا،کسی سروس لین پر ٹراما سینٹر بنے گا تو اس کی کیا افادیت ہوگی سیف الدین ایڈوکیٹ بھائی کہتے ہیں شہر میں کوئی کام نہیں ہو رہا،پانی کی لائنیں بھی پیپلز پارٹی والے ڈلوا رہے ہیں کنکشن بھی ہم ہی دیں گے،انہوں نے کہا کہ دھرنا دینے والوں سے اس وقت مذاکرات جاری ہیں کل بھی صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ کی اس حوالے سے بات ہوئی ہے،میئر کراچی نے کہا کہ ٹرانس کراچی کے 26 دسمبر کے اجلاس میں موجود تھا،ٹرانس کراچی کی کمپنی میں اسٹاف کی کمی کی شکایات تھی جو دور ہوگئی ہے،کریم آباد کی گلیوں میں روڈ کٹنگ اور شاہراہ نور جہاں پر روڈ کٹنگ جماعت اسلامی کروا رہی ہے،انہوں نے کہا کہ کامران ٹیسوری صاحب کو مشورہ دوں گا کہ ایم کیو ایم کے دوستوں کو سمجھائیں لیاری ایکسپریس وے پر ہیوی ٹریفک چلنے کی مخالفت نہ کریں، ملیر ایکسپریس وے اور لیاری ایکسپریس وے پر ہیوی ٹریفک چلے گا تو ٹریفک کے مسائل حل ہونگے،میں چاہتا ہوں ہمارا ٹریفک ڈپارٹمنٹ ڈمپرز کو ریگولیٹ کرے،بہت سے لوگوں کی اموات ڈمپرز حادثات میں ہوئی ہیں۔

    نئی دہلی میں بارش کا 101سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

    صائم ایوب آئی سی سی ایمرجنگ کرکٹر آف دی ایئر کیلئے نامزد

    مذاکرات کو حکومت کی کمزوری نہ سمجھا جائے، احسن اقبال

    ایکسچینج کمپنیوں کیلئے نئے ریگولیٹری فریم ورک کا اعلان

  • صدر ایمرا  محمد آصف بٹ  کے لاہور پریس کلب کے لیے کروڑوں کے ریکارڈ کام

    صدر ایمرا محمد آصف بٹ کے لاہور پریس کلب کے لیے کروڑوں کے ریکارڈ کام

    لاہور پریس کلب کی خوبصورتی میں اضافہ اور صحافیوں کی سہولت کے لیے کئی اہم ترقیاتی منصوبے کامیابی کے ساتھ مکمل کیے گئے ہیں۔ یہ سب ممکن ہوا ہے محمد آصف بٹ کی قیادت اور ان کی ٹیم کی محنت کی بدولت، جنہوں نے حکومت کی امداد کے بغیر اپنے وسائل اور کاوشوں سے لاہور پریس کلب کی حالت کو بہتر بنایا۔

    محمد آصف بٹ کی قیادت میں، لاہور پریس کلب میں تقریباً چار کروڑ روپے کے ترقیاتی کام کیے گئے ہیں، شملہ ہل پر موجود پہاڑی کو بہتر بنا کر اس کی خوبصورتی میں اضافہ کیا گیا ۔ صحافیوں کے لیے ٹریک کو بہتر بنایا گیا تاکہ وہ ورزش اور تفریح سے لطف اندوز ہو سکیں۔لاہور پریس کلب میں 50 نئی بینچز نصب کی گئیں تاکہ صحافیوں اور وزیٹرز کو بیٹھنے کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ کینٹن کی جگہ کو مکمل طور پر نیا کیا گیا تاکہ صحافیوں اور ان کے خاندانوں کو بہترین سہولت مل سکے۔ ایک مکمل فٹنس کلب قائم کیا گیا تاکہ صحافی اپنی صحت کا خیال رکھ سکیں۔ چار عدد بارش انجوائے کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے ہٹس بنائے گئے تاکہ صحافی موسم کا لطف اٹھا سکیں۔لاہور پریس کلب میں موجود مسجد کی تزئین و آرائش کی گئی۔ 30 لاکھ روپے کی سب سے بڑی گرانٹ حاصل کی گئی جو چودھری اورنگزیب سراء نے فراہم کی۔وضو کے لیے جدید سہولتیں فراہم کی گئیں۔ لاہور پریس کلب کے نئے گیٹ کی تعمیر کی گئی تاکہ اس کی حفاظت اور جمالیات میں اضافہ ہو۔

    صحافی کالونی میں فیملیز اور بچوں کے لیے 10 عدد جھولے نصب کیے گئے اور متعدد ترقیاتی کام کیے گئے۔ ایف بلاک میں کروڑوں روپے کی ترقیاتی سرمایہ کاری کی گئی۔

    محمد آصف بٹ نے ان تمام منصوبوں کو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا اور ثابت کیا کہ اگر کام کرنے کا جذبہ ہو تو حکومت کی امداد کے بغیر بھی بڑے منصوبے کامیابی سے مکمل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کی قیادت میں کیے جانے والے ترقیاتی کام اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حقیقی محنت اور لگن سے کام کرنے والوں کے لیے کامیابی ضرور ملتی ہے۔

    محمد آصف بٹ نے کہا کہ "ہم اپنے کام سے بولتے ہیں، نہ کہ صرف دعووں سے۔” ان کا یہ عزم ہے کہ صحافیوں اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہمیشہ محنت کریں گے اور ان کی قیادت میں لاہور پریس کلب اور صحافی کالونی کے علاقے کی ترقی کی مزید کوششیں جاری رہیں گی۔ یہ ترقیاتی کام لاہور پریس کلب کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں اور محمد آصف بٹ کی قیادت میں کیے گئے ان اقدامات کو صحافی برادری میں بہت سراہا جا رہا ہے۔ ان کی محنت اور پیشہ ورانہ رہنمائی نے ثابت کر دیا کہ ترقیاتی منصوبوں کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے صرف نیت اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ حکومتی امداد کی۔