Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • نئی دہلی میں بارش کا 101سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

    نئی دہلی میں بارش کا 101سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

    ایک دن کی بارش نے نئی دہلی میں 101 سال کا ریکارڈ توڑ دیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق کل سے آج صبح ساڑھے 8 بجے تک دہلی میں 41.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، بارش کا 101 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔بھارتی دارالحکومت دہلی میں شدید بارش کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے، درجہ حرارت 13 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے۔ دہلی کے قریبی علاقوں میں بھی تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔اس سے قبل دسمبر کے ایک دن میں سب سے زیادہ بارش کا ریکارڈ 1923 میں قائم ہوا تھا، اس وقت دہلی میں 75.7 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔بارش کی وجہ سے دہلی میں اسموگ کا خاتمہ ہوا ہے اور ہوا کے معیار میں بہتری ہوئی ہے، 2024ء کے دسمبر میں دہلی میں 42.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو دسمبر کے مہینے میں 27 سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔

    صائم ایوب آئی سی سی ایمرجنگ کرکٹر آف دی ایئر کیلئے نامزد

    سرکاری اداروں کی حالت نہ بدلی، 6 ماہ کے دوران 405 ارب کا نقصان

    مذاکرات کو حکومت کی کمزوری نہ سمجھا جائے، احسن اقبال

    ایکسچینج کمپنیوں کیلئے نئے ریگولیٹری فریم ورک کا اعلان

  • صائم ایوب آئی سی سی ایمرجنگ کرکٹر آف دی ایئر کیلئے نامزد

    صائم ایوب آئی سی سی ایمرجنگ کرکٹر آف دی ایئر کیلئے نامزد

    پاکستان کے نوجوان اوپننگ بیٹر صائم ایوب آئی سی سی مینز ایمرجنگ کرکٹر آف دی ایئر کے لیے نامزد ہو گئے۔

    صائم ایوب نے حال ہی میں دورۂ آسٹریلیا، زمبابوے اور جنوبی افریقا میں عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 9 ون ڈے میچز میں 3 سنچریز اور ایک نصف سنچری کے ساتھ 515 رنز بنائے ہیں۔علاوہ ازیں انگلینڈ کے گس ایٹکنسن، سری لنکا کے کمیندو مینڈس اور ویسٹ انڈیز کے شمر جوزف کو بھی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔گس ایٹکنسن نے 11 میچز میں 52 وکٹیں حاصل کی ہیں جبکہ کمیندو مینڈس نے 32 میچز میں 1451 رنز بنائے ہیں اور شمر جوزف نے 8 ٹیسٹ میچز میں 29 وکٹیں حاصل کی ہیں۔دوسری جانب آئی سی سی ویمنز ایمرجنگ کرکٹر آف دی ایئر کے لیے بھی نامزدگیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔جنوبی افریقا کی انیری ڈرکسن، اسکاٹ لینڈ کی سسکیا ہارلے، بھارت کی شریانکا پٹیل اور آئرلینڈ کی فریا سارجنٹ کو بھی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔سال 2024ء میں مختلف کیٹگریز میں بہترین پرفارمرز کو ایوارڈز دیے جائیں گے، اس حوالے سے نامزدگیوں کے اعلان کا سلسلہ 30 دسمبر تک جاری رہے گا۔

    سرکاری اداروں کی حالت نہ بدلی، 6 ماہ کے دوران 405 ارب کا نقصان

    مذاکرات کو حکومت کی کمزوری نہ سمجھا جائے، احسن اقبال

    کراچی کیلئے بجلی سستی ہونے کا امکان

    کراچی کیلئے بجلی سستی ہونے کا امکان

  • سرکاری اداروں کی حالت نہ بدلی، 6 ماہ کے دوران 405 ارب کا نقصان

    سرکاری اداروں کی حالت نہ بدلی، 6 ماہ کے دوران 405 ارب کا نقصان

    سرکاری اداروں کی حالت نہ بدلی جا سکی، 6 ماہ کے دوران 405 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا.

    باغی ٹی وی کے مطابق حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مالی سال 24 کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران 15 سرکاری کمپنیوں کو 405 ارب روپے سے زائد کا خسارہ ہوا۔وزارت خزانہ کی مالی سال 24 کی ایس او ایز پر ششماہی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جولائی 2023 سے دسمبر 2023 تک ان ایس او ایز کے مجموعی نقصانات کا تخمینہ 405 ارب 86 کروڑ روپے لگایا گیا تھا، اس کے برعکس دیگر تمام ایس او ایز کے نقصانات 2 ارب 80 کروڑ روپے سے زائد تھے۔مجموعی نقصانات میں 15 سرکاری ملکیت والے اداروں (ایس او ایز) کا حصہ 99.3 فیصد رہا، جو ایس او ای سیکٹر میں وسیع پیمانے پر نااہلی اور آپریشنل مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔وزارت خزانہ نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی طور پر ایس او ای نقصانات میں گزشتہ سال کے 452 ارب 68 کروڑ روپے کے مقابلے میں 9.72 فیصد کمی ہوئی ہے، تاہم 2014 سے اب تک مجموعی خسارہ 5 ہزار 900 روپے تک پہنچ چکا ہے۔حکومت پہلے ہی ایس او ایز کی درجہ بندی کرنے اور نجکاری یا کارپوریٹ تنظیم نو کے دیگر اختیارات کی طرف ان کے راستوں کی وضاحت کرنے کے لیے ایک ایس او ای کمیٹی تشکیل دے چکی ہے۔اس کمیٹی کا مقصد بہتر کارکردگی کے لیے نجی شعبے کی شرکت سے فائدہ اٹھانا اور عوامی خزانے پر ایس او ایز کے منفی اثرات کو کم کرنا ہے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کمیٹی کے سربراہ ہیں، تاہم یہ کمیٹی سست رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے۔سرکاری ملکیت والے اداروں کے اعدا و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ این ایچ اے کو سب سے زیادہ 151 ارب 30 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، اس کے بعد کیسکو کو 56 ارب 20 کروڑ روپے اور پی آئی اے کو 51 ارب 70 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، پیسکو نے 39 ارب روپے کا نقصان ریکارڈ کیا جبکہ پاکستان ریلوے کو 23 ارب 60 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔اعداد و شمار کے مطابق سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی، پاکستان اسٹیل ملز کارپوریشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹڈ کے نقصانات کی بھی اطلاع ہے کہ انہیں بالترتیب 20 ارب 90 کروڑ روپے، 14 ارب 40 کروڑ روپے اور 12 ارب 10 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔سینٹرل پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ (جینکو ٹو) کو 8 ارب 30 کروڑ روپے، پی ٹی سی ایل کو 7 ارب 70 کروڑ روپے، پاکستان پوسٹ آفس کو 5 ارب 50 کروڑ روپے، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹڈ کو 5 ارب 20 کروڑ روپے، ٹرائبل الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹڈ کو 2 ارب 60 کروڑ روپے، سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو 4 ارب 60 کروڑ روپے جبکہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن (پرائیویٹ) کو 2 ارب 10 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔حکومت نے دسمبر 2023 کو ختم ہونے والے 6 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 436 ارب روپے کی مالی معاونت فراہم کی، اس امداد کو 120 ارب روپے کی گرانٹ، 231 ارب روپے سبسڈی اور 85 ارب روپے کے قرضوں میں تقسیم کیا گیا تھا، قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس مدت کے دوران کوئی ایکویٹی انجکشن نہیں بنایا گیا تھا، یہ مالی مداخلت سالانہ بنیادوں پر وفاقی بجٹ کی وصولیوں کا 7 فیصد سے زائد بنتی ہے۔ مالی سال 24 کے پہلے 6 ماہ کے دوران لائن لاسز کی بنیاد پر ڈسکوز کا تخمینہ بھی لگایا گیا ہے، لیسکو 323 ارب 46 کروڑ روپے کے ساتھ پہلے، میکپو 272 ارب 96 کروڑ روپے کے ساتھ دوسرے، فیسکو 217 ارب 41 کروڑ روپے کے ساتھ تیسرے اور گیپکو 159 ارب 32 کروڑ روپے کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہی۔حیسکو کے لائن لاسز کا تخمینہ 59 ارب 78 کروڑ روپے، آئیسکو کا 68 ارب 72 کروڑ روپے، سیپکو کا 62 ارب 84 کروڑ روپے، پشاور الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ کا 186 ارب 30 کروڑ روپے اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹڈ کا 86 ارب 72 کروڑ روپے ہے۔جولائی تا دسمبر 2023 کے 6 ماہ کے دوران منافع کمانے والے ٹاپ 15 اداروں نے 510 ارب 20 کروڑ روپے کے منافع کے ساتھ مضبوط مالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جب کہ دیگر تمام ایس او ایز کا منافع 50 ارب 20 کروڑ روپے رہا۔ان میں سے او جی ڈی سی ایل 123 ارب 20 کروڑ روپے کے منافع کے ساتھ سرفہرست ہے، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ 68 ارب 70 کروڑ روپے اور نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ 36 ارب 20 کروڑ روپے کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے، دیگر اہم شراکت داروں میں پاک عرب ریفائنری کمپنی 35 ارب روپے اور گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ ساڑھے 32 ارب روپے کے ساتھ شامل ہیں، مزید منافع بخش اداروں میں نیشنل بینک آف پاکستان 26 ارب 60 کروڑ روپے اور پورٹ قاسم اتھارٹی 18 ارب 40 کروڑ روپے کے منافع کے ساتھ شامل ہیں۔ایس او ایز کی مجموعی آمدنی 7 ہزار ارب روپے تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔متعلقہ مدت میں ایس او ایز نے 200 ارب روپے کے ٹیکس ادا کیے، جو گزشتہ 6 ماہ کے مقابلے میں 14 فیصد کم ہے، نان ٹیکس محصولات جن میں سیلز ٹیکسز، رائلٹیز اور لیویز شامل ہیں، (27 فیصد کمی سے) 349 ارب روپے رہے، 9 ارب روپے کا ڈیوڈنڈ تقسیم کیا گیا، جو 71 فیصد کم ہے۔

    مذاکرات کو حکومت کی کمزوری نہ سمجھا جائے، احسن اقبال

    ایکسچینج کمپنیوں کیلئے نئے ریگولیٹری فریم ورک کا اعلان

    کراچی میں آج بھی احتجاج، شہریوں کو شدید مشکلات

  • مذاکرات کو حکومت کی کمزوری نہ سمجھا جائے، احسن اقبال

    مذاکرات کو حکومت کی کمزوری نہ سمجھا جائے، احسن اقبال

    وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات آئین و قانون کے دائرے میں ہوں گے اسے حکومت کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اپنے بیان میں احسن اقبال نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے،سیاسی درجہ حرارت میں کمی ہمارے معاشی اور اقتصادی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ مضبوط معیشت مضبوط پاکستان ،کمزور معیشت سے کمزور پاکستان ہوگا۔دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ میرے حوالے سے تاثر ہے کہ میں مذاکرات کے حق میں نہیں ہوں،میں کبھی بھی مذاکرات کیخلاف نہیں ہوں،سیاست میں مذاکرات ہی آگے بڑھنے کاواحد راستہ ہے۔خواجہ محمد رفیق کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پچھلے 15دن میں ایسا کیا ہوا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے راضی ہوئی ہے،کہا جاتا تھاکہ حکومت اس قابل نہیں کہ ان سے مذاکرات کیے جائیں۔نوازشریف خود چل کر ان کے گھر گئے،شہبازشریف جب اپوزیشن لیڈر تھے تب بھی مذاکرات کی حمایت کی،ہم جب پاور میں آئے تب بھی کہا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں،سب نے اعادہ کیا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں،قومی مباحثہ ہوناچاہیے۔دوڈھائی سال میں یہی کہا گیا کہ ہم تو اسٹیبلشمنٹ سے ہی مذاکرات کریں گے،مسلم لیگ ن نے ہمیشہ مذاکرات کی حمایت کی،ایک شخص کی تاریخ ہے کہ اس نے کسی سے وفا نہیں کی۔

    ایکسچینج کمپنیوں کیلئے نئے ریگولیٹری فریم ورک کا اعلان

    کراچی کیلئے بجلی سستی ہونے کا امکان

    کراچی میں آج بھی احتجاج، شہریوں کو شدید مشکلات

  • ایکسچینج کمپنیوں کیلئے نئے ریگولیٹری فریم ورک کا اعلان

    ایکسچینج کمپنیوں کیلئے نئے ریگولیٹری فریم ورک کا اعلان

    اسٹیٹ بینک نے تمام ایکسچینج کمپنیز کیلئے نئے ریگولیٹری فریم ورک کااعلان کردیا۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق ایکسچینج کمپنیز کا پیڈ اپ کیپٹل بڑھا کر ایک ارب روپے کردیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی منظوری کے 3ماہ کے اندر ایکسچینج کمپنیز کو کاروبار کا آغاز کرنا ہوگا۔ ایکسچینج کمپنیاں لائسنس یا آٹ لیٹس اب کسی اور ادارے کو منتقل نہیں کرسکیں گی۔ایکسچینج کمپنی کی معطلی یا منسوخی کے بعد 60 روز میں فارن کرنسی اسٹیٹ بینک میں جمع ہوگی۔اسٹیٹ بینک کے مطابق ایکسچینج کمپنی کو لازمی نقد کی صورت میں پیڈ اپ کیپٹل رکھنا ہوگا۔ پیڈ اپ کیپٹل قوانین پر مکمل عملدرآمد 2027 تک کرنا ہوگا۔ ملک بھر کی تمام ایکسچینج کمپنیز کا پیڈ اپ کیپٹل مرحلہ وار بڑھے گا۔ ایکسچینج کمپنیز کو دسمبر 2025 تک 60کروڑ اور دسمبر2026 تک 80 کروڑ روپے پیڈ اپ کیپٹل برقرار رکھنا ہوگا۔

    کراچی کیلئے بجلی سستی ہونے کا امکان

    کراچی کیلئے بجلی سستی ہونے کا امکان

  • کراچی  کیلئے بجلی سستی ہونے کا امکان

    کراچی کیلئے بجلی سستی ہونے کا امکان

    کے الیکٹرک صارفین کیلئے بجلی 4 روپے 98 پیسے تک سستی ہونے کا امکان ہے۔

    کے الیکٹرک نے قیمت میں کمی کی درخواست نیپرا میں جمع کروا دی ہے، کے الیکٹرک نے درخواست ماہ نومبر کے فیول چارج ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دائر کی ہے۔نیپرا کی جانب سے منظوری پر کراچی کے صارفین کو 7 ارب 17 کروڑ روپے سے زائد کا ریلیف ملنے کا امکان ہے۔ کے الیکٹرک کی درخواست پر 15 جنوری کو سماعت ہوگی۔دوسری طرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 4 روپے فی لٹر سے زائد بڑھنے کی توقع ہے، ڈیزل کی قیمت میں چار روپے سے زائد اضافہ ہو سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں میں ردوبدل نہ کرنے کا امکان ہے جبکہ مٹی کے تیل کی قیت میں ایک روپے فی لٹر تک اضافہ ممکن ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی بارے اعلان 31 دسمبر کو ہو گا، وزیراعظم سے مشاورت کے بعد وزیر خزانہ نئی قیمتوں بارے اعلان کریں گے۔

    کراچی میں آج بھی احتجاج، شہریوں کو شدید مشکلات

    ڈیرہ غازیخان: ریسکیو1122نے 24گھنٹوں میں 279 زندگیاں بچائیں

  • کراچی میں آج بھی احتجاج، شہریوں کو شدید مشکلات

    کراچی میں آج بھی احتجاج، شہریوں کو شدید مشکلات

    خیبرپختونخوا کے علاقے پاراچنار میں اموات کے خلاف شہر قائد میں احتجاج پانچویں روز میں داخل ہوگیا، جس کے نتیجے میں کراچی کے شہریوں کو ٹریفک کے مسائل کا سامنا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر نمائش چورنگی، ابوالحسن اصفہانی روڈ نزد عباس ٹاؤن، نارتھ ناظم آباد میں فائیو سٹار چورنگی، یونیورسٹی روڈ پر سمامہ شاپنگ سینٹر کے قریب، شاہراہ فیصل پر اسٹار گیٹ کے قریب، کورنگی، مین نیشنل ہائی وے پر ملیر 15 کے قریب، سرجانی ٹاؤن میں شمس الدین عظیمی روڈ، شاہراہ پاکستان پر انچولی پر، گلستان جوہر میں کامران چورنگی پر احتجاج کیا جارہا ہے۔اسی طرح ناظم آباد نمبر 1 کے قریب نواب صدیق علی خان روڈ، اسٹیل ٹاؤن کے قریب اور نارتھ کراچی میں پاور ہاؤس پر بھی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔کراچی ٹریفک پولیس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری اپ ڈیٹ میں بتایا کہ مین شاہراہ فیصل کالا چھپرا روڈ کی جانب ٹریفک کو کھول دیا گیا ہے تاہم دوسرا روڈ بند ہے۔اس کے علاوہ مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) لاہور ونگ بھی گزشتہ ہفتے سے لاہور پریس کلب کے باہر احتجاج کر رہے ہیں، جس میں جماعت کے وائس چیئرمین علامہ احمد اقبال رضوی، پنجاب کے صدر علامہ اکبر علی کاظمی اور لاہور کے صدر نجم خان شامل ہیں۔واضح رہے کہ آج خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں راستوں کی بندش کے خلاف دھرنا 9ویں روز میں داخل ہوگیا ہے، شہریوں کی بڑی تعداد پارا چنار پریس کلب کے باہر احتجاج میں شریک ہیں۔

    ڈیرہ غازیخان: ریسکیو1122نے 24گھنٹوں میں 279 زندگیاں بچائیں

    طیارہ حادثہ، روس نے آذربائیجان سے معافی مانگ لی

  • وزیر تجارت کا اگلے ماہ جنوبی کوریا کا دورہ طے

    وزیر تجارت کا اگلے ماہ جنوبی کوریا کا دورہ طے

    وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان 8 اور 9 جنوری 2024 کو جنوبی کوریا کا دورہ کریں گے.

    باغی ٹی وی کے مطابق جام کمال خان کے دورہ جنوبی کوریا کے دوران پاکستانی کاروباری برادری اور جنوبی کوریا کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں ہوں گی، جس میں جنوبی جنوبی کوریا کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے آگاہ کیا جائے گا۔پاکستان اور جنوبی جنوبی کوریا کے درمیان اقتصادی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط متوقع ہیں۔وزیر تجارت نے کہا کہ یہ دورہ پاکستان کو جنوبی جنوبی کوریا میں پیداوار کی بلند لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مسابقتی مرکز بنانے کے مواقع فراہم کرے گا۔ جنوبی جنوبی کوریا کے اقتصادی اداروں کے ساتھ ملاقاتوں میں تجارتی حجم کو دوگنا کرنے پر بات چیت کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کے ایگزم بینک کے ساتھ 1.1 بلین ڈالر کے فنڈز کے استعمال پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔جنوبی کوریا میں وزیر تجارت کی ملاقاتیں معروف سرمایہ کاروں بشمول لوٹے گروپ کے نمائندوں سے شیڈول کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جنوبی کوریا ٹریڈ ایسوسی ایشن اور دیگر اہم تجارتی اداروں کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر بھی غور کیا جائے گا۔یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مستحکم کرنے اور پاکستان کو عالمی سطح پر تجارتی مرکز کے طور پر مزید اہمیت دلانے میں اہم قدم ثابت ہو گا۔

    35 افراد کو کچلنے والے شخص کو سزائے موت

    سنچورین ٹیسٹ: دوسرا دن ختم، جنوبی افریقا کو برتری

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور کا اردل روم، افسران و اہلکار پیش

    سی ڈی اے کی میٹرو بس کے نئے روٹس کی منظوری

  • اسرائیل نے شمالی غزہ میں اسپتال زبردستی خالی کرا لیا

    اسرائیل نے شمالی غزہ میں اسپتال زبردستی خالی کرا لیا

    شمالی غزہ کے آخری اسپتالوں میں سے ایک کو اسرائیلی فوج نے زبردستی خالی کرا لیا ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کی زندگیاں خظرے میں پڑ گئی ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کمال ادواں اسپتال کے نرسنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ عید صباح نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ صیہونی فوج نے انتظامیہ کو مریضوں اور عملے کو صحن میں داخل کرنے کے لیے 15 منٹ کا وقت دیا۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اسرائیلی فوجی اسپتال میں داخل ہوئے اور باقی مریضوں کو بھی نکال دیا۔اسرائیلی فوج نےکہا تھا کہ وہ اسپتال کے علاقے میں ایک آپریشن کر رہی ہے، جسے اس نے ‘حماس کے دہشت گردوں کا گڑھ’ قرار دیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے آپریشن شروع کرنے سے قبل ہسپتال سے شہریوں، مریضوں اور طبی عملے کے اسپتال خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔فوج نے یہ نہیں بتایا کہ مریضوں کو کہاں منتقل کیا جائے گا۔ تاہم اس ہفتے کے اوائل میں ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا تھا کہ وہ کمال ادوان اسپتال میں موجود افراد کو قریبی انڈونیشیا کے اسپتال منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ڈاکٹر صباح کا کہنا تھا کہ یہ خطرناک ہے کیونکہ آئی سی یو میں ایسے مریض ہیں جو کوما میں ہیں اور انہیں وینٹیلیشن مشینوں کی ضرورت ہے اور انہیں منتقل کرنے سے وہ خطرے میں پڑ جائیں گے ان مریضوں کی منتقلی صرف خصوصی گاڑیوں میں ہی ممکن ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ چند گھنٹے قبل کمال ادوان ہسپتال کے ڈائریکٹر نے کہا تھا کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں پانچ طبی عملے سمیت تقریبا 50 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    سنچورین ٹیسٹ: دوسرا دن ختم، جنوبی افریقا کو برتری
    ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور کا اردل روم، افسران و اہلکار پیش

    وزیراعظم نے اہم فصلوں سے متعلق 8 رکنی کابینہ کمیٹی بنا دی

    سی ڈی اے کی میٹرو بس کے نئے روٹس کی منظوری

    سندھ میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت

  • موٹروے ایم 2 اور ایم 3 دھند کی وجہ سے بند

    موٹروے ایم 2 اور ایم 3 دھند کی وجہ سے بند

    موٹروے پولیس نے دھند کے باعث لاہور سے کوٹ مومن تک موٹروے ایم 2 اور لاہور ملتان موٹروے ایم 3 کو فیض پور سے درخانہ تک بند کر دیا ہے۔

    ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق، موٹرویز کو عوام کی حفاظت اور محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لیے بند کیا گیا ہے۔ترجمان نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دن کے اوقات میں سفر کرنے کو ترجیح دیں، کیونکہ صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک دھند کے موسم میں سفر کے لیے بہترین اوقات ہیں۔اس کے علاوہ، ڈرائیور حضرات اپنی گاڑیوں کے آگے اور پیچھے دھند والی فوگ لائٹس کا استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔موٹروے پولیس نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور تیز رفتاری سے پرہیز کرتے ہوئے اگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ رکھیں۔کسی بھی ہنگامی صورت حال یا معلومات کے لیے ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

    35 افراد کو کچلنے والے شخص کو سزائے موت

    سنچورین ٹیسٹ: دوسرا دن ختم، جنوبی افریقا کو برتری

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور کا اردل روم، افسران و اہلکار پیش

    وزیراعظم نے اہم فصلوں سے متعلق 8 رکنی کابینہ کمیٹی بنا دی