Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • متحدہ عرب امارات کا پہلا جوہری بجلی پلانٹ مکمل

    متحدہ عرب امارات کا پہلا جوہری بجلی پلانٹ مکمل

    ابوظہبی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے عرب دنیا کا پہلا جوہری بجلی پلانٹ مکمل کرلیا ہے، جو عرب دنیا کے لیے ایک بڑی کامیابی اور عالمی سطح پر بھی ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ امارات کی جوہری توانائی کارپوریشن کی جانب سے جاری بیان میں اس اہم منصوبے کی تکمیل کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ جوہری توانائی کی جانب ایک نمایاں قدم ہے۔جوہری پلانٹ سے حاصل ہونے والی بجلی ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ادنوک)، ایمریٹس اسٹیل، اور ایمریٹس گلوبل ایلومینیم سمیت دیگر صنعتوں کو فراہم کی جائے گی۔ کارپوریشن کے مطابق، اس جوہری بجلی پلانٹ کی سالانہ پیداوار 40 ٹیرا واٹ بجلی ہے، جو ملک کی بجلی کی ضروریات کا 25 فیصد پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
    یہ بھی یاد رہے کہ اس جوہری بجلی پلانٹ کے پہلے ری ایکٹر نے 2020 میں کام کا آغاز کیا تھا اور اب چوتھا ری ایکٹر بھی مکمل طور پر آپریشنل ہوگیا ہے، جو ملک کی توانائی کی ضروریات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یو اے ای کی اس پیش رفت کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، جس نے نہ صرف عرب دنیا بلکہ دنیا بھر کے ممالک کو اپنی معاشی اصلاحات اور جدیدیت کے حوالے سے متاثر کیا ہے۔

  • اسلام آباد کو بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی.دانیال چوہدری

    اسلام آباد کو بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی.دانیال چوہدری

    اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی دانیال چوہدری نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت اور کارکنان کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسلام آباد کو بند کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دانیال چوہدری نے کہا کہ کسی بھی جتھے کو پاکستان کا امیج خراب کرنے نہیں دیں گے اور جو مظاہرہ یا جلسہ کرنا ہے، وہ سنگجانی جا کر کریں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مزید کہا کہ مظاہرے ضرور کریں، لیکن اسلام آباد کو بند نہ کریں۔دانیال چوہدری کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں کنٹینرز لگانے سے سرمایہ کار خوفزدہ ہو کر واپس چلے جاتے ہیں، جو کہ ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ "سرمایہ کار آتے ہیں اور اسلام آباد میں کنٹینر لگے دیکھ کر واپس چلے جاتے ہیں۔ پاکستان اس وقت مشکل وقت سے گزر رہا ہے اور ہمیں ملک کا مثبت تشخص دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔” انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان کا مثبت تشخص دنیا کے سامنے نہیں لایا گیا۔
    مسلم لیگی رہنما نے کرکٹ ٹیموں کی میزبانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے پرامن ہونے کا پیغام دینے کی ایک کوشش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے تو ہمیں امن و امان کے قیام کے لیے کام کرنا ہوگا۔ "ملک کو سرمایہ کاری کے لیے ایک پرامن گہوارہ بنانا ضروری ہے، تاکہ غیر ملکی سرمایہ کار یہاں آنے اور سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی لیں،” دانیال چوہدری نے کہا۔دانیال چوہدری کے ان بیانات سے واضح ہے کہ حکومت کسی بھی ایسی کوشش کے خلاف سخت ایکشن لے گی جو اسلام آباد یا کسی بھی بڑے شہر کو بند کرکے ملکی معیشت اور امیج کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے۔

  • ہنٹر بائیڈن نے ٹیکس چارجز پر اعتراف جرم کر لیا، 17 سال قید کی سزا کا سامنا

    ہنٹر بائیڈن نے ٹیکس چارجز پر اعتراف جرم کر لیا، 17 سال قید کی سزا کا سامنا

    ہنٹر بائیڈن نے ٹیکس چارجز کے نو الزامات کا اعتراف کر لیا، "الفورڈ پلی” ڈیل کو مسترد کر دیا، اور امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے بیٹے کے لیے معافی سے انکار کر دیا، جس سے انہیں بھاری قید کی سزا کا سامنا ہو سکتا ہے، امریکی صدر جو بائیڈن کے بیٹے، ہنٹر بائیڈن نے جمعرات کو لاس اینجلس کی ایک وفاقی عدالت میں ٹیکس چارجز کے مقدمے میں اچانک اعتراف جرم کر لیا، جس کے نتیجے میں وہ 17 سال تک کی قید اور 4 لاکھ 50 ہزار ڈالر جرمانے کا سامنا کر سکتے ہیں۔ہنٹر بائیڈن پر الزام تھا کہ انہوں نے 2016 سے 2019 تک 1.4 ملین ڈالر کے ٹیکس ادا نہیں کیے، جب کہ اس دوران انہوں نے منشیات، جنسی کارکنوں، اور عیش و عشرت کی چیزوں پر بھاری رقم خرچ کی۔ ہنٹر بائیڈن نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنی فیملی کو اس مقدمے کی اذیت سے بچانے کے لیے اعتراف جرم کر رہے ہیں، جس سے ان کی ماضی کی منشیات کی لت کے دوران کی مشکل صورتحال سامنے آ سکتی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے تمام واجب الادا ٹیکس ادا کر دیے ہیں۔
    ابتدائی طور پر، ہنٹر بائیڈن نے "الفورڈ پلی” کی پیشکش کی تھی، جس کے تحت وہ الزام تسلیم کرتے ہیں مگر جرم کا اعتراف نہیں کرتے۔ تاہم، پراسیکیوٹرز نے اس تجویز کو مسترد کر دیا، اور ہنٹر بائیڈن کے وکیل، ابے لوئل نے عدالت میں تصدیق کی کہ ان کے موکل بغیر کسی معاہدے کے جرم تسلیم کریں گے۔ہنٹر بائیڈن کا یہ اعتراف جرم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدارتی انتخابات میں چند ہفتے باقی ہیں۔ صدر جو بائیڈن نے پہلے ہی ڈیموکریٹس کے دباؤ کے تحت اپنی دوبارہ انتخابی مہم سے دستبردار ہو چکے ہیں، اور اب امریکی ووٹرز کو نائب صدر کمالا ہیرس اور ریپبلکن کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان انتخاب کرنا ہوگا۔
    ہنٹر بائیڈن نے کھلے عام اپنی منشیات کی لت کے بارے میں بات کی ہے اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اس دوران بھاری رقوم منشیات، تعیشات، اور دیگر ذاتی اخراجات پر خرچ کیں۔ مقدمے کے دوران یہ بھی جانچ پڑتال ہو سکتی تھی کہ ہنٹر بائیڈن نے یوکرائن کی قدرتی گیس کمپنی "بوریسما” اور چینی پرائیویٹ ایکویٹی فرم کے بورڈز پر خدمات کے دوران کتنی رقم کمائی۔ ریپبلکنز نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ سرگرمیاں بدعنوانی پر مبنی تھیں، حالانکہ کانگریس کی تحقیقات میں جو بائیڈن کا کوئی براہ راست تعلق ثابت نہیں ہوا۔الزام میں یہ بھی شامل ہے کہ ہنٹر بائیڈن نے بوریسما اور چینی فرم کے بورڈز پر خدمات انجام دینے کے دوران بڑی رقوم کمائیں۔ تاہم، انہوں نے اپنے کاروباری معاملات میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی سے انکار کیا ہے۔ اس کے علاوہ، وہ ڈیلاویئر میں منشیات کے استعمال کے دوران غیر قانونی طور پر ہتھیار خریدنے کے جرم میں دی گئی سزا کے خلاف اپیل کر رہے ہیں، جو کہ اس کیس میں ان کے خلاف زیادہ سخت سزا کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ انہیں دوبارہ مجرم قرار دیا گیا ہے۔
    وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ صدر جو بائیڈن اپنے بیٹے کو معاف نہیں کریں گے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کا یوم دفاع و شہداء پر پیغام: افواج پاکستان کو خراج تحسین

    وزیراعظم شہباز شریف کا یوم دفاع و شہداء پر پیغام: افواج پاکستان کو خراج تحسین

    اسلام آباد: وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف نے یوم دفاع و شہداء کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 6 ستمبر پاکستان کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل دن ہے۔ ہر سال اس دن، پاکستانی قوم یوم دفاع و شہداء کو جوش و خروش اور احترام سے مناتی ہے۔ انہوں نے مادر وطن کے بیٹوں اور افواج پاکستان کے سپوتوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے 6 ستمبر 1965 کو دشمن کے خلاف بے خوفی سے لڑتے ہوئے اسے شکست فاش دی۔وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ 59 سالوں سے افواج پاکستان نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور حربی تیاریوں کے ذریعے یوم دفاع کے جذبے کو زندہ رکھا ہوا ہے جو ہمارے دفاع اور استقلال کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری افواج کا حوصلہ اور فرض سے لگن ہی پاکستان کی سلامتی کی بنیاد ہے اور ان کی قربانیوں کی بدولت ہم ایک آزاد اور خود مختار مملکت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ جدید ترین حربی صلاحیتوں سے لیس ہماری مسلح افواج اپنی علاقائی سالمیت اور خود مختار تشخص کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے اپنی استعداد میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔ حکومت تصادم کے بجائے مکالمے، تعاون اور شراکت داری پر یقین رکھتی ہے اور ہمارا مقصد ایک سازگار ماحول پیدا کرنا ہے جہاں تمام اقوام ترقی کریں اور مشترکہ مسائل جیسے غربت، بیماری اور جہالت کا خاتمہ ہو۔انہوں نے مسئلہ کشمیر کو خطے میں امن و ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے کشمیری عوام کی اُمنگوں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور غزہ میں بے گناہ مسلمانوں کی نسل کشی بند کرے۔وزیراعظم نے قوم کو امید اور عزم کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا ماضی ہماری مشکلات پر قابو پانے کی صلاحیت کا گواہ ہے۔ ‘عزمِ استحکام’ کے تحت نظر ثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان کا مقصد ہر قسم کی دہشت گردی بشمول ڈیجیٹل دہشت گردی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔ وزیراعظم نے قوم سے اپیل کی کہ وہ متحد ہوکر ایک خوشحال پاکستان کی راہ ہموار کریں۔
    پاکستان زندہ باد! افواج پاکستان پائندہ باد!

  • ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید سے اکثر ملاقات ہوتی تھی.عامر ڈوگر

    ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید سے اکثر ملاقات ہوتی تھی.عامر ڈوگر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عامر ڈوگر نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ کسی ریٹائرڈ آفیسر سے دُعا سلام رکھنا کوئی جرم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل فیض حمید کا تحریک انصاف کی حکومت میں ایک اہم کردار رہا ہے اور اسی وجہ سے اگر کسی کے ساتھ تعلقات بن گئے ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔عامر ڈوگر نے مزید کہا کہ جب پی ٹی آئی حکومت میں تھی، تب ان کی ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید سے اکثر ملاقات ہوتی تھی۔ تاہم، جب تحریک انصاف کی حکومت ختم ہوئی اور فیض حمید ریٹائرڈ ہوئے تو ان کے ساتھ کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ فیض حمید کا پی ٹی آئی کی حکومت میں ایک کردار ضرور رہا ہے اور ممکن ہے کہ ان کا کسی کے ساتھ تعلق بھی بن گیا ہو۔
    انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کے تعلقات ہوتے ہیں اور بہت سارے لوگوں نے ان سے رابطہ رکھا ہوگا، لیکن مجھے اس کے بارے میں علم نہیں ہے۔ عامر ڈوگر کا کہنا تھا کہ وقت آنے پر پتہ چلے گا کہ ٹرائل اوپن ہوتا ہے یا ان کیمرہ، لیکن اس وقت تک ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔پی ٹی آئی رہنما نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ بانی تحریک انصاف اس وقت اذیت کی جیل کاٹ رہے ہیں اور وہ ڈیڑھ سال سے قید میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران کس سے کیا رابطہ ہوا ہوگا، یہ کہنا مشکل ہے۔ عامر ڈوگر نے بلوچستان کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس موضوع پر سینیٹ میں بحث ہو چکی ہے اور بلوچستان کے مسائل پر مزید گفتگو ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر سنجیدہ اور تعمیری بات چیت کرنی چاہیے تاکہ وہاں کے عوام کے مسائل حل ہو سکیں۔

  • پاکستان عالمی جوہری تحفظ کے کنونشن کے دسویں جائزہ اجلاس کی صدارت کے لیے منتخب

    پاکستان عالمی جوہری تحفظ کے کنونشن کے دسویں جائزہ اجلاس کی صدارت کے لیے منتخب

    پاکستان کو جوہری تحفظ کے کنونشن کے دسویں جائزہ اجلاس کے لیے صدر منتخب کر لیا گیا ہے، جو بین الاقوامی سطح پر ملک کی اہم کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ اس انتخاب کا اعلان ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے ایک بیان میں کیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، "کنونشن آن نیوکلیئر سیفٹی” کے کنٹریکٹ کرنے والے تمام فریقوں نے متفقہ طور پر پاکستان کے فیضان منصور کو دسویں جائزہ اجلاس کے لیے صدر منتخب کیا ہے۔ فیضان منصور، جو پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی (PNRA) کے چیئرمین ہیں، اب عالمی سطح پر جوہری تحفظ کے موضوع پر ایک اہم کردار ادا کریں گے۔ یہ انتخاب نہ صرف پاکستان کے جوہری شعبے کی مہارت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس کے بین الاقوامی ریکارڈ کی بھی تصدیق کرتا ہے۔اس اعلان کے موقع پر ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ دنیا میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ تیزی سے جاری ہے، اور بہت سی ریاستوں کا نیوکلیئر ڈیٹرنس پر انحصار بڑھ گیا ہے۔ ایسے میں جوہری تحفظ کے معاملات میں پاکستان کی قائدانہ حیثیت اہمیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان کو کنٹری گروپ کی سطح پر بھی وائس چیئرپرسن اور نمائندہ منتخب کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عالمی جوہری سلامتی کے میدان میں پاکستان کا کردار تسلیم شدہ ہے اور اسے بین الاقوامی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ممتاز زہرا بلوچ نے بتایا کہ فیضان منصور اپریل 2026 تک نیوکلیئر سیفٹی کے کنونشن کے دسویں جائزہ اجلاس کے عمل کی تکمیل تک صدر کے عہدے پر فائز رہیں گے۔ یہ مدت عالمی جوہری حفاظت کے قوانین اور ضوابط کے حوالے سے پاکستان کی قیادت کو مزید مستحکم کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔پاکستان کی جانب سے یہ کامیابی نہ صرف بین الاقوامی سطح پر اس کے جوہری تحفظ کے عزم کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس کی عالمی برادری میں بڑھتی ہوئی ذمہ داری اور کردار کو بھی نمایاں کرتی ہے۔

  • ملک کے سیاسی ماحول میں تصادم کو مزید بڑھانا نہیں چاہتے، رؤف حسن

    ملک کے سیاسی ماحول میں تصادم کو مزید بڑھانا نہیں چاہتے، رؤف حسن

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ترجمان رؤف حسن نے ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی ادارے میں احتساب کا عمل جاری ہے تو یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اس بات سے کوئی خوف نہیں ہے کہ کون احتساب کی زد میں آتا ہے۔رؤف حسن نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف کو ملٹری کورٹ میں پیش کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹ سے متعلق کیس کو ابھی تک زیر التوا رکھا ہوا ہے، اور اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں آیا ہے۔ "یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بغیر اس پر کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی۔
    رؤف حسن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے سیاسی ماحول میں تصادم کو مزید بڑھانا نہیں چاہیے۔ "سب کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ خود جنرل (ر) فیض حمید سے کوئی خاص تعلق نہیں رکھتے۔ "پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران ان سے صرف سلام دعا ہوا کرتی تھی، میرے ان کے ساتھ ذاتی یا سیاسی تعلقات نہیں تھے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد میں 22 اگست کے جلسے کو ملتوی کرنے کے حوالے سے بریک تھرو ہوا ہے۔ "آج جلسے کا این او سی ملنا ایک مثبت عمل ہے، جو کہ ایک پرامن جلسے کی جانب قدم ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت ہے کہ 8 ستمبر کو اسلام آباد سنجانی چوک میں جلسہ منعقد کیا جائے گا، اور جلسہ پرامن ہوگا.
    رؤف حسن نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ڈائیلاگ کے لیے آگے بڑھا جائے۔ انہوں نے محمود خان اچکزئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ "محمود اچکزئی کا بریک تھرو ہو چکا ہے، اور نواز شریف نے بھی تحریک انصاف سمیت تمام جماعتوں سے رابطے کی حمایت کی ہے۔ ترجمان پی ٹی آئی نے علی امین گنڈا پور کی کوششوں کا بھی ذکر کیا جو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں۔ "یہ وقت ہے کہ ملک کو موجودہ گھمبیر صورتحال سے نکالا جائے۔ سب کو ایک قدم آگے بڑھ کر مشترکہ مفاد کے لیے کام کرنا ہوگا، کیونکہ یہ پاکستان کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔رؤف حسن کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی تناؤ اور عدم استحکام کی فضا قائم ہے، اور سیاسی قیادت کی جانب سے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

  • بلوچستان : مون سون بارشوں کے نتیجے میں  جاں بحق افراد کی تعداد 40 ہو گئی

    بلوچستان : مون سون بارشوں کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 40 ہو گئی

    بلوچستان میں مون سون بارشوں کے دوران ہونے والے مختلف حادثات میں مجموعی طور پر 40 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 24 بچے، 13 مرد، اور 3 خواتین شامل ہیں۔ صوبے میں موسلادھار بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں 19 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں 14 بچے، 3 مرد، اور 2 خواتین شامل ہیں۔پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق یکم جولائی سے جاری شدید بارشوں کے نتیجے میں صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 1 لاکھ 68 ہزار 41 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ان بارشوں سے متعدد مکانات کو نقصان پہنچا ہے، جن میں 1,591 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ 15,797 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اور انہیں امدادی کارروائیوں کے منتظر رہنا پڑ رہا ہے۔
    رپورٹ کے مطابق صوبے میں سیلابی صورتحال کے باعث 59 ہزار 719 ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ اس کے علاوہ، 179 کلو میٹر پر پھیلی ہوئی سڑکیں بھی بارشوں کی تباہی کی زد میں آئیں۔ بارشوں کے باعث 7 پلوں کو بھی نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں ٹریفک کی روانی میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں اور دور دراز علاقوں تک رسائی مشکل ہوگئی۔پی ڈی ایم اے کے مطابق موسلادھار بارشوں کے دوران 593 مویشی ہلاک ہوئے۔ ان بارشوں نے جعفر آباد کے 3 ہیلتھ یونٹس اور لورالائی اور کچھی کے 1،1 ہیلتھ یونٹس کو بھی متاثر کیا، جس سے ان علاقوں میں طبی خدمات بری طرح متاثر ہوئیں۔
    پی ڈی ایم اے اور دیگر حکومتی ادارے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں، تاہم شدید بارشوں اور سیلابی پانی کی موجودگی کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ صوبائی حکومت نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں اور حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔ عوامی حلقوں نے صوبے میں ناکافی انتظامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے جس کے بعد خدشہ ہے کہ صوبے میں صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔ صوبے کے دور دراز علاقوں میں موجود لوگ حکومتی توجہ کے منتظر ہیں تاکہ انہیں اس قدرتی آفت سے نکالا جاسکے۔

  • ملکی  زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، تفصیلات جاری

    ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، تفصیلات جاری

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے حوالے سے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق 30 اگست 2024 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں 3.64 کروڑ ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کمی کے بعد ملکی زرمبادلہ کے کل ذخائر 14.73 ارب ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
    اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق، اسٹیٹ بینک کے اپنے ذخائر میں 3.34 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد ان کے ذخائر 9.43 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ اس کے برعکس، کمرشل بینکوں کے ذخائر میں 6.98 کروڑ ڈالر کی کمی ہوئی ہے، جس کے بعد یہ ذخائر 5.3 ارب ڈالر تک محدود ہو گئے ہیں۔
    یاد رہے کہ اگست 2024 کے دوران مجموعی طور پر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 77.29 کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یہ اضافہ مختلف مالیاتی اور اقتصادی عوامل کے باعث ہوا تھا، جن میں بیرونی سرمایہ کاری، ترسیلات زر، اور قرضوں کی وصولی کے مثبت اثرات شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر کی موجودہ صورتحال ملک کی معاشی پالیسیوں اور عالمی مالیاتی حالات پر منحصر ہے۔ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں کمی کی وجوہات میں تجارتی ادائیگیوں اور درآمدات کے اخراجات شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافے کا مطلب ہے کہ حکومت کی پالیسیوں اور بیرونی مالی امداد کے تحت ذخائر کو مستحکم کیا جا رہا ہے۔ملکی معیشت کے استحکام کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر کا تحفظ انتہائی ضروری ہے، اور اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار سرمایہ کاروں اور معاشی پالیسی سازوں کے لیے اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہو سکتی ہے، تاکہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔

  • وفاقی حکومت کا بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کو خصوصی اختیارات دینے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت کا بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کو خصوصی اختیارات دینے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کو خصوصی اختیارات دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 میں ترمیم کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق، وفاقی کابینہ نے انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت سیکیورٹی فورسز کو دہشتگردی کے شبے میں مشکوک افراد کو حراست میں لینے کا اختیار دیا جائے گا۔ حکومت کی طرف سے اس ترمیم کا مقصد بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید بہتر بنانا اور دہشتگردی کے خلاف کارروائی کو مؤثر بنانا ہے۔ نئی قانون سازی کے ذریعے سیکیورٹی فورسز کو دہشتگردی کے شبے میں موجود مشکوک افراد کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کی اجازت دی جائے گی، جس سے انہیں دہشتگردی کی سرگرمیوں کے خلاف مزید مؤثر طریقے سے کارروائی کرنے کا اختیار ملے گا۔
    انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 میں ترمیم کے بعد، سیکیورٹی فورسز کو دہشتگردی کے شبے میں کسی بھی مشکوک شخص کو حراست میں لینے کی اجازت دی جائے گی، جس کا مقصد بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات کو روکنا اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔یہ فیصلہ وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مزید مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ اس ترمیم کی قانونی منظوری کے بعد، یہ نئے اختیارات سیکیورٹی فورسز کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مزید مضبوط اور مؤثر بنائیں گے۔