Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • وزیراعظم شہباز شریف نے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے خصوصی مہم کا آغاز کر دیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے خصوصی مہم کا آغاز کر دیا

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک بھر میں پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ایک خصوصی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مہم کے تحت 115 اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 3 کروڑ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین دی جائے گی۔9 سے 15 ستمبر تک جاری رہنے والی اس مہم میں 2 لاکھ 86 ہزار پولیو ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ "ہم اپنے شراکت داروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے شکرگزار ہیں جنہوں نے پولیو کے خاتمے میں حکومت کی مدد کی۔ ہمیں امید ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں، شراکت داروں کے ساتھ مل کر پولیو کے مکمل خاتمے میں کامیاب ہوں گی۔”

    وزیراعظم نے اس بات کا بھی عزم ظاہر کیا کہ "انشاء اللہ، پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ہماری کوششیں ضرور رنگ لائیں گی۔” انہوں نے وفاقی و صوبائی عہدیداران، پولیو ورکرز، اور سیکیورٹی اہلکاروں کی کوششوں کو سراہا اور والدین سے درخواست کی کہ اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے ضرور پلائیں تاکہ وہ عمر بھر کی معذوری سے بچ سکیں۔تقریب کے دوران وزیراعظم نے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے بھی پلائے۔ اس موقع پر وزیراعظم کے کوارڈینیٹر برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ، انسدادِ پولیو کے لیے وزیراعظم کی نمائندہ خصوصی عائشہ رضا فاروق، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، یونی سیف، گیٹس فاؤنڈیشن اور اقوام متحدہ کے نمائندے اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

  • حمایت اللہ مایار کا سرکاری وسائل کے سیاسی استعمال پر نوٹس لینے کا مطالبہ

    حمایت اللہ مایار کا سرکاری وسائل کے سیاسی استعمال پر نوٹس لینے کا مطالبہ

    مردان: لوکل کونسل ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے صدر حمایت اللہ مایار نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسلام آباد جلسے کے اخراجات کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے آج اسلام آباد میں ہونے والے جلسے کے اخراجات سرکاری خزانے سے پورے کیے جا رہے ہیں اور اس جلسے کے لیے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔حمایت اللہ مایار نے کہا کہ سرکاری مشینری کو پی ٹی آئی کے جلسے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے روز مرہ کے معاملات میں شدید خلل پیدا ہوا ہے۔ ان کے بقول، بلدیاتی دفاتر سے سرکاری مشینری کو اٹھا کر سیاسی جلسے میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تصاویر اور ویڈیوز میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ سرکاری وسائل کس طرح ایک سیاسی مقصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔حمایت اللہ مایار نے حکومت اور متعلقہ حکام سے اس غیر قانونی عمل کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ سرکاری وسائل کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال عوام کے ٹیکس کے پیسے کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی ادارے عوام کی خدمت کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ کسی سیاسی جماعت کے جلسوں کو سپورٹ کرنے کے لیے۔
    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف آج اسلام آباد کے نواحی علاقے سنگجانی میں ایک بڑا جلسہ کر رہی ہے، جس کے لیے ملک کے مختلف شہروں سے کارکنوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ جلسے کے لیے پی ٹی آئی نے وسیع پیمانے پر تیاریاں کی ہیں اور مرکزی قیادت نے اپنے کارکنان کو بڑی تعداد میں جلسے میں شرکت کی ہدایت کی ہے۔ پارٹی کے مطابق یہ جلسہ سیاسی طاقت کا مظاہرہ ہوگا اور اس میں پی ٹی آئی چیئرمین سمیت اہم رہنما خطاب کریں گے۔پی ٹی آئی کے اس جلسے کے حوالے سے حمایت اللہ مایار کے الزامات نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان الزامات پر کیا موقف اختیار کرتی ہے اور کیا پی ٹی آئی ان الزامات کا کوئی جواب دیتی ہے یا نہیں۔

  • اسٹیٹ بینک آف پاکستان نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان 12 ستمبر کو کرے گا

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان 12 ستمبر کو کرے گا

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان 12 ستمبر 2024 کو کرے گا۔ یہ اعلان گورنر اسٹیٹ بینک، جمیل احمد، کی زیر صدارت کراچی میں ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس کے دوران کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور پالیسی ریٹ میں ممکنہ تبدیلیوں پر غور کیا جائے گا۔تجزیہ کاروں کے مطابق، حالیہ مہینوں میں افراط زر کی شرح کی کمی اور معیشت کی حالت کے پیش نظر، اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں دو سے ڈھائی فیصد تک کمی کا امکان ہے۔ اس وقت موجودہ پالیسی ریٹ 19.5 فیصد ہے، جو کہ 29 جولائی 2024 کو گورنر اسٹیٹ بینک کے اعلان کے بعد متعین کی گئی تھی۔
    اسٹیٹ بینک نے 10 جون 2024 کو شرح سود میں 1.5 فیصد کی کمی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 20.5 فیصد ہوگیا تھا۔ تاہم، 29 اپریل 2024 کو اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، جو کہ گزشتہ چند ماہ کی پالیسی تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے۔مارچ 2024 میں، اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مسلسل چھٹی بار پالیسی ریٹ کو 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، جبکہ جنوری 2024 میں بھی اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ کو 22 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔ دسمبر 2023 اور ستمبر 2023 میں بھی اسی تسلسل کے تحت شرح سود کو 22 فیصد پر برقرار رکھا گیا تھا۔
    اسٹیٹ بینک کی جانب سے کہا گیا تھا کہ موجودہ مانیٹری پالیسی کا تسلسل اہم ہے تاکہ ستمبر 2025 تک افراط زر کی شرح کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف تک لایا جا سکے۔ گزشتہ برس، 30 جولائی اور 26 جون 2023 کو اسٹیٹ بینک نے ہنگامی اجلاس منعقد کیے تھے اور پالیسی ریٹ کو 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افراط زر کی شرح تین سال کی کم ترین سطح پر آنے کے بعد، اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں ممکنہ کمی معیشت کے استحکام کے لیے ایک مثبت قدم ہو سکتی ہے۔ نئے پالیسی ریٹ کا اعلان اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا اسٹیٹ بینک افراط زر کو مزید قابو میں لانے کے لیے اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی کرے گا یا نہیں۔

  • شیر افضل مروت کا  پی ٹی آئی میں گروپ بندی کی تردید

    شیر افضل مروت کا پی ٹی آئی میں گروپ بندی کی تردید

    پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل مروت نے پارٹی میں گروپ بندی کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی میں صرف انفرادی اختلافات موجود ہیں مقامی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے، مروت نے فیض حمید کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے وضاحت کی کہ فیض حمید کے ساتھ بحیثیت انسان یا ڈی جی آئی ایس آئی ہزاروں لوگوں کا رابطہ رہا ہوگا، اور یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے کہ سرکاری کام یا سلام دعا کا مطلب یہ ہے کہ کوئی جنرل ملوث ہے۔مروت نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی میں کوئی گروپ بندی نہیں ہے، البتہ انفرادی اختلافات ہیں، جنہیں حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ پارٹی کے بانی نے 8 ستمبر کے جلسے کو کسی صورت ملتوی نہ کرنے کا حتمی پیغام دیا ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پارٹی کے ساتھ تعاون کی خواہش کا ذکر بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان اپنے سیاسی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں گے، جبکہ پارٹی کی خواہش ہے کہ وہ گرینڈ الائنس کا حصہ بنیں۔

  • راولپنڈی معاہدے پر عمل درآمد نہ ہوا تو حکومت  زمہ دار ہو گی،حافظ نعیم الرحمان

    راولپنڈی معاہدے پر عمل درآمد نہ ہوا تو حکومت زمہ دار ہو گی،حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے آج گوجرانوالہ میں ایک سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر 16 دن کے اندر راولپنڈی معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہوا تو اس کے تمام حالات کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے اپنے وعدے پورے نہ کیے تو جماعت اسلامی کے متعین لائحہ عمل پر عمل کیا جائے گا، اور شہباز شریف حکومت کو اس کے نتائج کی شکایت کا کوئی حق نہیں ہوگا۔حافظ نعیم الرحمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جماعت اسلامی تین دن کی ہڑتال پر تاجروں سے مشاورت کر رہی ہے، جس کا مقصد پورے ملک کو بند کرنا اور پہیہ جام کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر راولپنڈی معاہدے پر عمل نہ ہوا تو ہڑتال ملک بھر میں ہوگی اور کاروبار زندگی معطل ہو جائے گا۔
    امیر جماعت اسلامی نے آئی پی پیز (آزاد پاور پروڈیوسرز) پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تین بڑے فراڈ کیے ہیں: پہلے، معاہدے غلط ہوئے؛ دوسرے، بجلی پیدا نہ ہونے کے باوجود اس کے پیسے وصول کیے جا رہے ہیں؛ اور تیسرے، وصول شدہ رقم پر کوئی ٹیکس نہیں دیا جا رہا۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ن لیگ، پیپلزپارٹی، اور پی ٹی آئی کی حکومتوں نے آئی پی پیز کو تحفظ فراہم کیا ہے، اور یہ سب حکومتیں لوٹ مار میں برابر کی شریک ہیں۔حافظ نعیم نے کہا کہ حکمرانوں کی عیاشیوں اور آئی پی پیز کا بوجھ عوام اب برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی قوم کے حق کے لیے لڑ رہی ہے اور عوام کی مشکلات کا خاتمہ ان کی اولین ترجیح ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو خبردار کیا کہ عوام کی مشکلات بڑھانے کی کوشش نہ کی جائے، بصورت دیگر اس کے شدید نتائج سامنے آئیں گے۔
    حافظ نعیم الرحمان نے پنجاب میں بجلی کی اصل لاگت کے تعین کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ دو ماہ کے لیے نہیں بلکہ پورے پاکستان میں یکساں ٹیرف لاگو کرے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں جتنے بھی ریلیف ملے ہیں، ان کا کریڈٹ جماعت اسلامی کو جاتا ہے۔یہ بیان حافظ نعیم الرحمان کے حالیہ بیانات اور جماعت اسلامی کی جاری مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد عوام کی مشکلات کا خاتمہ اور حکومت کی پالیسیوں میں اصلاحات لانا ہے۔

  • بنوں میں لنک روڈ پر فائرنگ، 2 افراد جاں بحق

    بنوں میں لنک روڈ پر فائرنگ، 2 افراد جاں بحق

    بنوں: لنک روڈ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق، نامعلوم ملزمان نے آج شام عظیم اللہ، جو کہ سیفل خیل کا رہائشی ہے، اور بصیر اللہ، جو عیدل خیل کا باشندہ ہے، پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں افراد ایک مقامی علاقے میں موجود تھے۔ ملزمان کی فائرنگ کے نتیجے میں دونوں افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق، فائرنگ کی آواز سن کر علاقے کے لوگوں نے فوراً پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی اور دونوں جاں بحق افراد کی لاشوں کو کے جی این ہسپتال منتقل کر دیا۔
    پولیس نے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزمان کی تلاش کے لئے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ فی الحال پولیس کو کوئی سراغ نہیں ملا ہے، لیکن حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو ملزمان کے بارے میں کوئی معلومات حاصل ہو تو فوراً پولیس کو مطلع کریں۔پولیس ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ مقامی سطح پر موجود دشمنی یا ذاتی تنازعہ کا نتیجہ ہو سکتا ہے، تاہم تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی اصل حقیقت سامنے آ سکے گی۔ اس واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر دی ہے، اور مقامی لوگوں نے اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے تاکہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔

  • وفاقی وزیر پٹرولیم مصدق ملک نے تحریک انصاف کی مذاکراتی پیشکش پر سوالات اٹھا دیے

    وفاقی وزیر پٹرولیم مصدق ملک نے تحریک انصاف کی مذاکراتی پیشکش پر سوالات اٹھا دیے

    وفاقی وزیر پٹرولیم مصدق ملک نے تحریک انصاف کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی یہ پیشکش بے اختیار لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے کی کوشش ہے اور یہ سنجیدہ نہیں لگتی۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی مذاکراتی کوششوں کو سنجیدہ نہیں مانا جا سکتا۔ ان کے مطابق، نومئی کے واقعات کی سازش کی تحقیقات جاری ہیں، اور تحریک انصاف والے اس دوران مذاکرات کے نام پر اصل میں این آر او مانگ رہے ہیں۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ تحریک انصاف نے 22 اگست کو ایک پانچ کنال کے پلاٹ پر جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن مصدق ملک نے سوال اٹھایا کہ جو جماعت ایک پانچ کنال کے پلاٹ پر جلسہ نہیں بھر سکی، وہ اتنے بڑے جلسے کا دعویٰ کیسے کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق، تحریک انصاف کے جلسے کی ناکامی ان کی اصل عوامی پذیرائی کی عکاسی کرتی ہے۔مصدق ملک کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور تبصرے اس بات کا اشارہ ہیں کہ وفاقی حکومت تحریک انصاف کی مذاکراتی کوششوں کو محض ایک حربہ سمجھتی ہے اور ان کے ساتھ سنجیدہ بات چیت کرنے کے حق میں نہیں ہے۔

  • نیپرا نے بجلی قیمت میں 1 روپے 75 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی

    نیپرا نے بجلی قیمت میں 1 روپے 75 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمت میں 1 روپے 75 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اضافہ سہ ماہی اور فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے اور وفاقی حکومت کو بھیجوا دیا گیا ہے۔نیپرا کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، یہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ ستمبر، اکتوبر اور نومبر کے بلوں میں وصول کی جائے گی۔ تیسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ 24-2023 کی مد میں 0.93 روپے فی یونٹ اگست میں ختم ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ، نیپرا نے بتایا کہ ستمبر کے بلوں میں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 0.82 روپے فی یونٹ کا اضافہ ہو گا۔
    اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ نیپرا نے جولائی کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 37 پیسے فی یونٹ کی کمی کی بھی منظوری دی ہے۔ اس حوالے سے درخواست پر سماعت 28 اگست 2024 کو کی گئی تھی اور اس کمی کا ریلیف ستمبر کے بلوں میں فراہم کیا جائے گا۔پچھلے ماہ، جون کی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ 2 روپے 56 پیسے اضافے کے ساتھ اگست کے بلوں میں وصول کی گئی تھی۔ نتیجتاً، ستمبر کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 2 روپے 93 پیسے کی کمی ہوگی۔ دونوں ایڈجسٹمنٹس کو ملا کر، صارفین کو ستمبر کے بلوں میں 2 روپے 11 پیسے فی یونٹ کا ریلیف ملے گا۔

  • پی ٹی آئی اسلام آباد جلسے کی جگہ تبدیلی: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی مداخلت

    پی ٹی آئی اسلام آباد جلسے کی جگہ تبدیلی: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی مداخلت

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسلام آباد میں ہونے والے جلسے کی جگہ کی تبدیلی کے معاملے میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی مداخلت نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ذرائع کے مطابق، علی امین گنڈاپور نے اسلام آباد انتظامیہ کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ کیا جس کے بعد جلسہ گاہ کی جگہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ فیصل امین، جو کہ پی ٹی آئی کے مقامی رہنما ہیں، کو اس تبدیلی کی اطلاع دی گئی اور انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ پرانے مقام سے سامان ہٹا دیں۔جلسے کا نیا مقام جی ٹی روڈ پر مویشی منڈی کے پاس واقع گراؤنڈ میں رکھا گیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان جلسہ گاہ پر پہنچ گئے، جبکہ پولیس کی بھاری نفری سنگجانی جلسہ گاہ پہنچ گئی اور پی ٹی آئی کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ سامان ہٹا دیں۔علاقہ مجسٹریٹ اور پولیس ٹیم نے فیصل امین گنڈاپور کے ساتھ مذاکرات کیے جس کے نتیجے میں جلسے کے مقام کو تبدیل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ پرانے مقام سے سامان ہٹا دیا گیا اور نئے مقام پر تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا۔یہ تبدیلی سیاسی منظر نامے پر ایک اہم واقعہ ہے اور پی ٹی آئی کی تنظیمی سرگرمیوں میں مزید دلچسپی اور توجہ کا باعث بنی ہوئی ہے۔

  • آمنہ بلوچ وفاقی سیکریٹری وزارتِ خارجہ تعینات

    آمنہ بلوچ وفاقی سیکریٹری وزارتِ خارجہ تعینات

    اسلام آباد: اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے آمنہ بلوچ کو وفاقی سیکریٹری وزارتِ خارجہ کے عہدے پر تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، آمنہ بلوچ 11 ستمبر کو اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔ موجودہ سیکریٹری خارجہ محمد سائرس سجاد قاضی 10 ستمبر کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو جائیں گے۔ انہیں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا ممبر مقرر کیا گیا ہے۔آمنہ بلوچ، جو حال ہی میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے یورپی یونین میں بیلجیئم میں تعینات تھیں، اس نئے عہدے پر فائز ہونے کے بعد اہم بین الاقوامی امور پر توجہ دیں گی۔