اسلام آباد: اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مذاکرات سے پہلے سیاسی ماحول کو بہتر کرے۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے کیسز کے لیے این آر او لے رہی ہے، جبکہ تحریک انصاف کے بانی کے خلاف بے بنیاد مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ نیب ترامیم کے حوالے سے عدالتی فیصلے کے بعد وکلا سے مشاورت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے بانی کا ملٹری ٹرائل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عمر ایوب نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے حوالے سے کہا کہ وہ جنرل باجوہ کی منشا کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے تھے، اور اس معاملے میں جنرل باجوہ کو بھی شامل تفتیش کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت کے دور میں جنرل فیض حمید کا ان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا۔ عمر ایوب نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کو کسی قسم کی بیساکھیوں کی ضرورت نہیں تھی، اور وہ عوام کی طاقت سے اسمبلی میں آئی تھی۔عمر ایوب نے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ اس حوالے سے محمود اچکزئی کی طرف سے ابھی تک کوئی سنجیدہ بات چیت نہیں ہوئی۔ تحریک انصاف کے بانی نے محمود اچکزئی کو بات چیت کا اختیار دے دیا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت بااختیار نہیں ہے اور ملک میں ایک ہائبرڈ نظام چل رہا ہے۔ عمر ایوب نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدہ ہے تو اسے تحریک انصاف کے بانی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف قائم مقدمات ختم کرنے چاہئیں اور بات چیت سے پہلے سیاسی ماحول کو بہتر بنانا چاہئے۔
8 ستمبر کو ہونے والے جلسے کے بارے میں عمر ایوب نے واضح کیا کہ جلسہ ہر حال میں ہوگا۔ جے یو آئی (ف) کے حکومت کے ساتھ اتحاد کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان خود کہہ چکے ہیں کہ حکومت میں شمولیت سیاسی موت ہوگی۔ عمر ایوب نے کہا کہ جس نے بھی اس حکومت کے ساتھ اتحاد کیا، وہی خود ہی سیاسی موت مرے گا۔عمر ایوب کے یہ بیانات اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ اپوزیشن کی طرف سے حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے کچھ شرائط ہیں اور مذاکرات کے لیے تیار ہونے سے پہلے حکومت کو اپنا رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
Author: صدف ابرار
-

حکومت مذاکرات سے پہلے ماحول بہتر کرے، عمر ایوب کا حکومت کو مشورہ
-

قوم کے بہادر بیٹوں کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد: وزیر اعظم پاکستان، شہباز شریف نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں یوم دفاع کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قوم کے بہادر بیٹوں کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے عزم کا اظہار کیا کہ ان کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی۔تقریب میں موجود اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت کے سامنے وزیراعظم نے ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہم سب کا ہے اور اس کی حفاظت، ترقی اور خوشحالی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کا دفاع ہمارے لیے اولین قومی ضرورت ہے اور اس حوالے سے کوئی بھی غفلت یا کوتاہی ناقابلِ قبول ہے۔
شہباز شریف نے پاکستان کے امن پسند رویے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا اور عالمی امن میں ہمارا کردار قابلِ فخر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن ہماری اولین خواہش ہے، اور ہم خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے ہمیشہ کوشاں رہیں گے۔وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جنگ لڑی ہے اور اس کا مکمل خاتمہ ہمارا عزم ہے۔ انہوں نے فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمہ تک آپریشنز جاری رکھنے کا اعلان کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے سر کو مکمل طور پر کچلنے تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
آزادی اظہار رائے کے حوالے سے شہباز شریف نے کہا کہ آزادی اظہار رائے ایک اہم حق ہے، مگر اس کا استعمال آئین کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گالی یا گولی کسی مسئلے کا حل نہیں اور مسائل کے حل کے لیے قانونی اور آئینی طریقہ کار کو اپنانا ضروری ہے۔یوم دفاع کی اس مرکزی تقریب میں پاک فوج کے شہداء کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور ملک کی سلامتی کے لیے ان کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے یہ عہد کیا گیا کہ پاکستان کا دفاع ہمیشہ مضبوط و مستحکم رہے گا۔ -

پشین میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 5 دہشت گرد ہلاک
بلوچستان کے ضلع پشین میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سے وابستہ پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔سی ٹی ڈی کے ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی جمعرات کے روز پشین کے علاقے سرخاب مہاجر کیمپ میں کی گئی۔ سی ٹی ڈی کو خفیہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے پانچ شارپ شوٹر اس علاقے میں دہشت گردی کی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ دہشت گرد ممکنہ طور پر پشین اور اس کے گردونواح میں بڑی دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
سی ٹی ڈی کی ٹیم نے فوری طور پر علاقے کا محاصرہ کر لیا اور دہشت گردوں کو سرنڈر کرنے کی تنبیہ کی۔ تاہم دہشت گردوں نے بجائے ہتھیار ڈالنے کے سی ٹی ڈی ٹیم پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے جواب میں سی ٹی ڈی کی ٹیم نے بھی بھرپور جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں پانچوں دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں احمد اللہ عرف علی عرف بدری، جس کا تعلق بولدک افغانستان سے تھا، شامل ہے۔ اس کے علاوہ احسان اللہ عرف متوکل عرف حامد اور سمیع اللہ کا تعلق پشین سے ہے۔ دیگر دو دہشت گرد، جن کی شناخت ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی، بھی اس مقابلے میں مارے گئے۔
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق، دہشت گردوں کے قبضے سے ایک ایس ایم جی، ایک 30 بور ٹی ٹی پسٹل، دو نائن ایم ایم پسٹل، گولیاں، دو ہینڈ گرینیڈ، ایک آئی ای ڈی (دھماکہ خیز مواد)، چار کلو دھماکہ خیز مواد، پرائما کارڈ، اور ایک موٹر سائیکل برآمد کی گئی ہے۔ یہ تمام مواد دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔
سی ٹی ڈی حکام نے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے دہشت گردوں کے گروہ کے باقی ماندہ ارکان کی تلاش کے لیے کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق، فتنہ الخوارج کے خلاف آپریشن جاری رہے گا تاکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ کارروائی بلوچستان میں سی ٹی ڈی کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اور بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔ حکام نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں تاکہ ملک میں امن و امان کو برقرار رکھا جا سکے۔ -

اسلام آباد میں عوامی اجتماع سے متعلق بل غیرقانونی، آئین پاکستان سے متصادم ہے: اسد قیصر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے عوامی اجتماع سے متعلق نئے حکومتی بل کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آئین پاکستان سے متصادم ہے۔ صوابی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر شہری اور سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے کہ وہ پرامن احتجاج کرے اور حکومت کی جانب سے اس پر پابندی لگانے کی کوشش غیر آئینی ہے۔ اسد قیصر نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ "سینیٹ اور قومی اسمبلی میں ایک بل متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت اگر کوئی بھی بغیر اجازت کے جلسہ کرے گا تو اس پر قدغن ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ قانون غیر قانونی ہے اور عوامی اجتماع پر پابندی آئین سے انحراف ہے۔ یہ بل آئین پاکستان کے بنیادی حقوق کی شقوں کے منافی ہے، جو کہ ہر شہری کو آزادی اظہار رائے اور پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔
اسد قیصر نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی اس بل کے خلاف ہر سطح پر احتجاج کرے گی۔ انہوں نے کہا، "ہم نے اس بل کو ٹیک اپ کیا ہے اور ہم کسی بھی طور پر اسے نہیں مانیں گے۔ ہم سپریم کورٹ بار سمیت صوبائی بارز سے رابطہ کر کے مداخلت کی درخواست کریں گے، کیونکہ یہ عدلیہ کے اوپر ایک حملہ ہوگا جو کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔اسد قیصر نے حکومت کے جوڈیشل پیکج پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ حکومت آئندہ ہفتے جوڈیشل پیکج لا رہی ہے، جس میں چیف جسٹس کی ملازمت میں توسیع اور ججوں کی تعداد بڑھانے کے لئے قانون سازی کی جائے گی۔ انہوں نے اسے عدلیہ کے اندر مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام غیر قانونی ہے اور اس کے خلاف تمام بارز کی قراردادیں موجود ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا کوئی اقدام عدلیہ کے خلاف سمجھا جائے گا۔
اسد قیصر نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان سے انتقام لینے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم کسی صورت اس بل کو منظور نہیں ہونے دیں گے۔ ہم ہر ممکن قانونی اور سیاسی راستہ اختیار کریں گے تاکہ عوام کے حقوق کا تحفظ ہو سکے اور حکومتی زیادتیوں کا راستہ روکا جا سکے۔اس موقع پر، انہوں نے آرمی چیف کے یوم دفاع و شہداء کی تقریب میں دیے گئے بیان کی بھی تعریف کی، جس میں انہوں نے سیاسی اختلافات کو نفرتوں میں نہ ڈھالنے کی بات کی تھی۔ اسد قیصر نے کہا کہ پی ٹی آئی بھی سیاسی نقطہ نظر کے اختلاف کو نفرت کی بجائے ملکی ترقی کے لیے استعمال کرنے کی حامی ہے۔پی ٹی آئی کے رہنما کی یہ پریس کانفرنس حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری کشیدگی اور قانون سازی کے معاملات پر ایک نئے تنازعے کا آغاز کر سکتی ہے، جس سے ملکی سیاست میں نئی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ -

الیکشن کمیشن کے تیسرے اسٹریٹجک منصوبے پر پلڈاٹ کی رپورٹ جاری
اسلام آباد: پلڈاٹ (پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی) نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تیسرے اسٹریٹجک منصوبے (2019-2023) پر عملدرآمد سے متعلق اپنی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں شفافیت اور احتساب کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے اور انتخابی عمل میں عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔پلڈاٹ کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کے تیسرے اسٹریٹجک منصوبے پر عملدرآمد کے دوران شفافیت میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اس منصوبے کے تحت الیکشن کمیشن نے داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر مختلف اقدامات کیے، جن میں انتخابی انتظامات اور شراکت داروں کے ساتھ تعلقات بنانے پر خصوصی زور دیا گیا۔
رپورٹ میں الیکشن کمیشن پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے چوتھے اسٹریٹجک منصوبے (2024-2028) کے اجراء میں مزید تاخیر نہ کرے اور شفافیت اور احتساب کے ادارہ جاتی نظام کو بہتر بنائے۔ پلڈاٹ نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ تیسرے اسٹریٹجک منصوبے پر عملدرآمد کی سالانہ رپورٹس تاخیر سے جاری کی گئیں، جو الیکشن کمیشن کی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہیں۔پلڈاٹ کی رپورٹ میں الیکشن کمیشن کی 15 سالہ کوششوں کو سراہتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں صنفی فرق کو 2023 تک 6 فیصد تک کم کرنے کا عہد کیا گیا تھا، تاہم دسمبر 2023 میں صنفی فرق 7.7 فیصد رہا۔ اس ضمن میں مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ صنفی مساوات کے ہدف کو پورا کیا جا سکے۔
رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کو اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے اگلے اسٹریٹجک منصوبے میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے رپورٹس کو مقررہ وقت میں جاری کرنا چاہیے اور انہیں اپنی ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کرنا چاہیے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی 2022 اور 2023 کی سالانہ رپورٹس مقررہ وقت میں جاری نہیں کی گئیں، جو ادارے کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔پلڈاٹ کی رپورٹ نے الیکشن کمیشن کی مسلسل کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی عمل میں بہتری کے لیے ادارے کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔ الیکشن کمیشن کو داخلی و خارجی دونوں اقدامات پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے اپنے منصوبے کی بروقت عملدرآمد اور شفافیت کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ عوام کا ادارے پر اعتماد بحال رہے۔ -

یومِ دفاع و شہداء کی تقریب: آرمی چیف کا قوم کو اتحاد، عزم اور امن کا پیغام
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے جی ایچ کیو میں منعقدہ یوم دفاع و شہدا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قوم کو اتحاد و یکجہتی کے پیغام کے ساتھ مستقبل کی جانب گامزن ہونے کی تلقین کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ "عزم استحکام” کسی نئے آپریشن کا نام نہیں بلکہ نیشنل ایکشن پلان کی ایک اہم کڑی ہے، جس کا مقصد ملک میں امن و امان کی بحالی ہے، اور اس دوران کسی بھی شہری کو بے گھر نہیں کیا جائے گا۔تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، عسکری حکام، شہدا کے لواحقین اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز قومی ترانے اور تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جبکہ میزبانی کے فرائض لیفٹیننٹ کرنل عمیر بنگش اور کیپٹن عائشہ شوکت خان نے انجام دیے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو جی ایچ کیو آمد پر سلامی پیش کی گئی اور آرمی چیف نے اُن کا استقبال کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے یادگار شہدا پر پھول چڑھائے اور شہدا کو خراج تحسین پیش کیا۔
تقریب کے دوران "شہید کی ڈائری” کے عنوان سے ایک خصوصی ویڈیو بھی چلائی گئی جس میں شہدا کے آخری لمحات اور خطوط کو دکھایا گیا، جس نے حاضرین کے دلوں کو گہرائی سے متاثر کیا۔اپنے خطاب میں آرمی چیف نے کہا کہ افواجِ پاکستان اور پاکستانی عوام اپنی سالمیت کا دفاع کرنا جانتے ہیں اور دشمن کے کسی بھی مذموم ارادے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے روشن مستقبل پر کامل یقین ہمارے قومی تشخص کا لازمی حصہ ہے اور قوم کے حوصلے بلند ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ "معاشرتی و سماجی معاملات میں اخوت، ہم آہنگی، برداشت اور بُردباری کا مظاہرہ کریں” اور آئینِ پاکستان کے مطابق اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
جنرل سید عاصم منیر نے پاکستانی قوم کی بہادری اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس ناسور کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اصل اثاثہ نوجوان ہیں، اور ملک کی قومی یکجہتی کو کمزور کرنے کے ہر مذموم مقصد کو ناکام بنا دیا جائے گا۔
آرمی چیف نے اپنے خطاب کے اختتام پر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کو مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا اور کسی بھی انتشار یا مایوسی پھیلانے والے عناصر کو شکست دی جائے گی۔یہ تقریب پاکستان کے شہدا اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک اہم موقع تھی، جہاں پر قوم کی یکجہتی اور امن کے عزم کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ -

پاکستانی ہائی کمیشن کی کوششیں کامیاب، بھارت میں قید 14 پاکستانی رہا
اسلام آباد: پاکستانی ہائی کمیشن کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں بھارت میں قید 14 پاکستانیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی ہائی کمیشن نئی دہلی نے تصدیق کی ہے کہ رہائی پانے والے 9 سویلین قیدیوں اور 5 ماہی گیروں کو اٹاری-واہگہ سرحد کے ذریعے وطن واپس لایا گیا ہے۔پاکستانی ہائی کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے لیے ان کی کوششیں جاری ہیں اور جلد ہی مزید پاکستانی قیدیوں کو بھی وطن واپس لانے کی توقع ہے۔ ہائی کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ بھارت میں قید پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرتا رہے گا۔
یہ رہائی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر مسلسل رابطوں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ پاکستانی ہائی کمیشن کی کوششوں کی بدولت بھارت میں قید معصوم پاکستانی اپنے اہل خانہ سے ملنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔رہائی پانے والے قیدیوں کی وطن واپسی کے بعد ان کی خوشی اور جذبات دیدنی تھے، اور انہوں نے پاکستانی ہائی کمیشن اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ -

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کے ملک گیر معائنہ کا اعلان کیا
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) نے تمام میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی جانچ اور کارکردگی کے جائزے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ معائنہ 15 ستمبر سے ملک بھر میں کیا جائے گا، جس میں تمام تسلیم شدہ، مطلع شدہ، نجی اور سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل اداروں کا شامل کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں طبی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا اور یقین دہانی کرنا ہے کہ تمام تعلیمی ادارے پی ایم ڈی سی کے معیارات پر پورا اُترتے ہیں۔پی ایم ڈی سی کے رجسٹرار کی جانب سے تمام تسلیم شدہ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز کے سربراہوں کو ایک مراسلہ جاری کیا گیا ہے، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ معائنہ کے دوران جو بھی خامیاں سامنے آئیں گی، ان کا جائزہ کونسل کے ذریعہ لیا جائے گا۔ اس کے بعد، اداروں کو ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے ایک چھ ماہ کی مہلت دی جائے گی۔
مراسلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ کالجوں کے پرنسپلز کو آئندہ معائنہ کے سلسلے میں تمام ضروری طریقہ کار، قانونی امور اور ضابطہ اخلاق کو مکمل طور پر تیار کرنا ہوگا۔ پی ایم ڈی سی نے واضح کیا ہے کہ معائنہ کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے، لہٰذا تمام تعلیمی ادارے اپنی تیاری مکمل رکھیں۔یہ معائنہ نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے ہے بلکہ یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ تمام میڈیکل اور ڈینٹل کالجز اپنے تعلیمی پروگراموں اور سہولتوں میں بہتری لائیں اور ان میں کسی قسم کی کمزوری نہ ہو۔ -

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کا پیپر لیس ہونے کا بڑا اقدام
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے اپنے تمام دفتری امور کو پیپر لیس کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا مقصد ادارے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا اور کاغذی کاموں کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ اس فیصلے کے تحت، پی اے اے کی تمام کارروائیوں کو ای آر پی (Enterprise Resource Planning) سسٹم کے ذریعے منظم کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق، نجی ٹی وی چینل نے اس تبدیلی کی تصدیق کی ہے کہ پی اے اے کے ڈی جی نے آئی ٹی شعبے کو جلد از جلد ای آر پی سسٹم فعال کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ یہ نظام تمام دفتری امور کو جدید اور خودکار طریقے سے انجام دے گا، جس سے نہ صرف کاغذی کام کی ضرورت ختم ہوگی بلکہ ادارے کی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوگا۔
یہ اقدام وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر کیا جا رہا ہے، جنہوں نے پی اے اے کو پیپر لیس کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ اس تبدیلی کا مقصد پی اے اے کی روزمرہ کی کارروائیوں کو مزید مؤثر اور شفاف بنانا ہے، جس سے ادارے کی مجموعی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے اٹھائے گئے اس اہم قدم سے توقع کی جا رہی ہے کہ نہ صرف ادارے کے اندرونی امور میں بہتری آئے گی بلکہ اس کے نتیجے میں ماحول دوست اقدامات کی بھی تائید ہوگی، کیونکہ کاغذ کی کھپت میں کمی سے ماحول پر مثبت اثر پڑے گا۔ -

ڈی جے بٹ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے نادہندہ، راولپنڈی میں گاڑی ضبط
معروف ڈی جے بٹ کو محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جانب سے ٹیکس کی عدم ادائیگی پر گاڑی ضبط کر لی گئی۔ ذرائع کے مطابق ڈی جے بٹ کی گاڑی پر ایک لاکھ 80 ہزار روپے ٹیکس واجب الادا تھا، جس کی ادائیگی نہ ہونے پر ایکسائز حکام نے سنگجانی کے قریب روڈ چیکنگ کے دوران ان کی گاڑی کو روکا اور قبضے میں لے لیا۔ایکسائز انسپکٹر سلیم بٹ نے کارروائی کرتے ہوئے گاڑی ضبط کی اور اس موقع پر کہا کہ جب تک ٹیکس کی مکمل ادائیگی نہیں ہو جاتی، گاڑی ایکسائز کے قبضے میں ہی رہے گی۔ یہ واقعہ محکمہ ایکسائز کے جانب سے نادہندگان کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔