Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • اسحاق ڈار کی پیٹریشیا سکاٹ لینڈ سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات پر گفتگو

    اسحاق ڈار کی پیٹریشیا سکاٹ لینڈ سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات پر گفتگو

    نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار کی ملاقات دولت مشترکہ کی سیکرٹری جنرل پیٹریشیا سکاٹ لینڈ سے ہوئی، جس میں دو طرفہ تعلقات اور تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان آئندہ چند ہفتوں میں برطانیہ کا دورہ کریں گے، اور ان کے اپنے دورے کا مقصد پاک برطانیہ باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینا تھا۔اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ میں حال ہی میں منتخب ہونے والے 15 پاکستانی نژاد اراکین دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ان اراکین کو دونوں ممالک کے سفیر قرار دیا۔
    پیٹریشیا سکاٹ لینڈ نے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان کا دورہ ان کے لیے انتہائی دلچسپ اور شاندار تجربہ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نئی دولت مشترکہ کے بانی ارکان میں سے ایک ہے اور اس کی حیثیت دولت مشترکہ کے اندر انتہائی اہم ہے۔پیٹریشیا سکاٹ لینڈ نے پاکستان سے ملی خوبصورت پینٹنگ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پینٹنگ اب مالبرا ہاؤس کا حصہ رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ لوگ جب اس پینٹنگ کو دیکھیں گے تو انہیں پاکستان کی خوبصورتی اور ثقافت کا احساس ہوگا۔انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ سال 1999 سے ان کی پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش تھی، اور انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ جلد ہی دوبارہ پاکستان کا دورہ کریں گی۔ملاقات کے آغاز میں، پیٹریشیا سکاٹ لینڈ نے پاکستانی لباس زیب تن کر کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا استقبال کیا، جسے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کی علامت کے طور پر سراہا گیا۔

  • سوات اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    سوات اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    سوات اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.0 ریکارڈ کی گئی ہے۔ زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، اور وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں، دکانوں، اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق، زلزلے کا مرکز ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ تھا جو کہ زلزلے کے لحاظ سے ایک حساس علاقہ مانا جاتا ہے۔ زلزلہ زمین کی 104 کلومیٹر گہرائی میں آیا، جس کی وجہ سے زمین کی سطح پر ہلچل محسوس کی گئی زلزلہ پیما ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں، کیونکہ یہ علاقہ ٹیکٹونک پلیٹوں کے جنکشن پر واقع ہے۔ اس قسم کے زلزلے عموماً شدید نقصان نہیں پہنچاتے، لیکن لوگوں کے لیے خوف و ہراس کا سبب بن جاتے ہیں۔
    اب تک کی اطلاعات کے مطابق، زلزلے کے نتیجے میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی خبر موصول نہیں ہوئی ہے۔ مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔زلزلے کے بعد سوات اور اس کے گرد و نواح کے لوگوں نے دوبارہ اپنے گھروں میں جانے سے پہلے کچھ دیر تک باہر انتظار کیا۔ مقامی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور زلزلے کے بعد کے جھٹکوں سے محتاط رہیں۔ اس کے علاوہ، شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔

  • جارجیا کے اسکول میں فائرنگ: چار افراد ہلاک، 30 زخمی

    جارجیا کے اسکول میں فائرنگ: چار افراد ہلاک، 30 زخمی

    امریکی ریاست جارجیا کے شہر اپالاچی میں واقع اپالاچی ہائی اسکول میں ایک افسوسناک فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور 30 زخمی ہو گئے ہیں۔ واقعے کے بعد اسکول کی صورتحال قابو میں ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہیں۔فائرنگ کا یہ واقعہ اپالاچی ہائی اسکول میں پیش آیا، جہاں اچانک فائرنگ کی آواز سنائی دینے کے بعد اسکول کے اندر افراتفری مچ گئی۔ اسکول کے ترجمان کے مطابق، فائرنگ کے بعد فوری طور پر ایمرجنسی پروٹوکولز نافذ کیے گئے اور صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے اقدامات کیے گئے۔ اسکول کی انتظامیہ اور مقامی پولیس نے مل کر فوری طور پر علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے کارروائیاں کیں۔واشنگٹن میں امریکی میڈیا کے مطابق، فائرنگ کے واقعے کے بعد ایک شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ اس واقعے میں ملوث ہو سکتا ہے۔ حکام نے اس شخص کی شناخت اور ممکنہ محرکات کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی ہیں، لیکن معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات جلد سامنے آنے کی توقع ہے۔
    فائرنگ کے واقعے کے بعد، زخمی ہونے والے متعدد افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ امریکی میڈیا نے اسپتال ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے، اور انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ زخمیوں میں طلباء، اساتذہ، اور دیگر عملہ شامل ہے جو فائرنگ کے وقت اسکول میں موجود تھے۔بیرو کاؤنٹی کے تمام اسکولوں کو فائرنگ کے واقعے کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت بند کر دیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار اب بھی اسکولوں کے اندر موجود ہیں اور مکمل تلاشی لے رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو ٹالا جا سکے۔ مقامی پولیس، ایف بی آئی، اور دیگر سکیورٹی ایجنسیز بھی واقعے کی تحقیقات میں مصروف ہیں اور اس کے پس پردہ محرکات کا جائزہ لے رہی ہیں۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسکول میں ہونے والے فائرنگ کے واقعے سے صدر جو بائیڈن کو آگاہ کر دیا گیا ہے اور وہ ریاستی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صدر نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور متاثرین کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وفاقی حکومت اس معاملے کی تحقیقات میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔اپالاچی ہائی اسکول میں فائرنگ کا یہ واقعہ ایک بار پھر امریکی معاشرے میں ہتھیاروں کے آزادانہ استعمال اور اس کے نتائج پر سوالات اٹھاتا ہے۔ اسکول کے بچوں اور عملے کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد مقامی اور ریاستی حکام سمیت پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، اور متاثرین کے لیے دعاگو ہیں۔

  • مسائل وقت کے ساتھ حل ہونگے، بلوچستان  کو سنجیدہ لیا جائے، رانا ثناء اللہ

    مسائل وقت کے ساتھ حل ہونگے، بلوچستان کو سنجیدہ لیا جائے، رانا ثناء اللہ

    وزیر اعظم کے مشیر اور مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ اختر مینگل کا کل استعفیٰ دے کر آج واپس لینا ان کے لیے مشکل ہوگا۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ ایسے مسائل وقت کے ساتھ مینج ہوتے ہیں اور بلوچستان کے مسائل کو اولین ترجیح دے کر حکومت اور متعلقہ اداروں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔رانا ثناء اللّٰہ نے مزید کہا کہ بلوچستان کی 99.99 فیصد آبادی محب وطن ہے اور آئین و قانون پر یقین رکھتی ہے، ان سے علیحدہ برتاؤ نہیں ہونا چاہیے۔ اختر مینگل کے گلے شکوے سنے گئے ہیں اور یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ان کی پارلیمنٹ میں موجودگی بلوچستان کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔

    انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے اس بیان سے اختلاف کیا کہ بلوچستان میں حکومتی عملداری ختم ہوگئی ہے، اور کہا کہ بلوچستان کے کسی علاقے میں دہشتگرد تنظیم کی عملداری نہیں ہے۔ رانا ثناء اللّٰہ نے بتایا کہ نواز شریف نے ملک واپس آکر دوٹوک کہا تھا کہ ملک کو اس صورتحال سے نکالنے کے لیے سب کو مل کر بیٹھنا پڑے گا، اور پارٹی میں بات چیت کے دوران بھی اس بات کو دہرایا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف پی ٹی آئی سمیت تمام پارٹیوں سے غیر مشروط مذاکرات چاہتے ہیں اور یہ بات قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے لوگوں کے سامنے بھی کی گئی ہے۔ وزیراعظم نے دو ہفتے پہلے سب سے ہاتھ ملایا اور غیر مشروط مذاکرات کی بات کی۔

  • اسحاق ڈار کا دورہ برطانیہ: دوطرفہ تعلقات مستحکم کرنے کی کوشش

    اسحاق ڈار کا دورہ برطانیہ: دوطرفہ تعلقات مستحکم کرنے کی کوشش

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار سرکاری دورے پر برطانیہ پہنچ گئے ہیں۔ لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر برطانوی حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، جبکہ اس موقع پر برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل بھی موجود تھے۔اپنے دورے کے دوران، اسحاق ڈار نے برطانوی سیکرٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم نے پاکستان اور برطانیہ کے مابین قریبی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور بہتر شراکت داری کے فروغ پر زور دیا۔اس موقع پر، اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کی بنیاد مضبوط ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی، تجارتی اور سیاسی تعاون کو بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان مشترکہ مفادات کی بنیاد پر برطانیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
    دورے کے دوران، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے برطانوی وزیر اعظم، وزیر خارجہ، اور دولت مشترکہ کی سیکرٹری جنرل پیٹریشیا سکاٹ لینڈ سے ملاقاتیں کرنے کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے مواقع اور مختلف عالمی و علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔نائب وزیراعظم اپنے دورے کے دوران برطانوی اراکین پارلیمنٹ سے بھی ملاقات کریں گے جس میں دونوں ممالک کے قانون سازوں کے درمیان پارلیمانی تعاون اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت ہوگی۔ مزید برآں، اسحاق ڈار برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی، جنہیں برٹش پاکستانی کہا جاتا ہے، سے بھی ملیں گے اور انہیں ملک کی موجودہ صورتحال اور حکومت کی پالیسیوں سے آگاہ کریں گے۔ پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات تاریخی اور کثیر الجہتی ہیں۔ دونوں ممالک میں معاشی، ثقافتی، تعلیمی، اور سماجی تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ حالیہ سالوں میں، دونوں ممالک نے معیشت، تجارت، اور سیکورٹی کے شعبوں میں قریبی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مختلف معاہدے کیے ہیں۔ نائب وزیراعظم کے اس دورے کا مقصد ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور دوطرفہ شراکت داری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، اور امید ہے کہ اس سے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان باہمی تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔

  • صوابی: ایم این اے شہرام خان ترکئی کے ہجرے میں فائرنگ، چوکیدار جاں بحق

    صوابی: ایم این اے شہرام خان ترکئی کے ہجرے میں فائرنگ، چوکیدار جاں بحق

    صوابی کے علاقے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایم این اے شہرام خان ترکئی کے ہجرے میں فائرنگ کے نتیجے میں چوکیدار جاں بحق ہوگیا جبکہ پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور بھی مارا گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسلح افراد نے مبینہ طور پر ہجرے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب ہجرے کے چوکیدار گل نواس، جو کہ بڈھ بیر کا رہائشی تھا، نے ایک نوجوان کو ہجرے میں داخل ہونے سے روکا۔ اس پر مسلح نوجوان نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں گل نواس شدید زخمی ہوگیا اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔ واقعے کے بعد مسلح نوجوان موقع سے فرار ہوگئے، تاہم پولیس نے فوری طور پر علاقے کی ناکہ بندی کی اور ملزمان کا پیچھا کیا۔ پولیس کے تعاقب کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک حملہ آور مارا گیا۔

    پولیس حکام کے مطابق ملزمان کی تعداد زیادہ تھی اور پولیس کی جانب سے تعاقب کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک مسلح نوجوان ہلاک ہوا، جبکہ دیگر حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ دیگر ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے۔پولیس نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلنے سے بچنے کے لیے عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ مشکوک افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں اور پولیس کو فوری طور پر اطلاع دیں، پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ اس بات کا پتہ چلایا جا سکے کہ حملہ آوروں کے عزائم کیا تھے اور وہ کس مقصد کے لیے ہجرے میں داخل ہونا چاہتے تھے۔ایم این اے شہرام خان ترکئی کے ہجرے میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے نے مقامی آبادی کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے، اور وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ جلد از جلد ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔

  • بلوچستان کو اس ملک کا ایک صوبہ تسلیم کیا جائے،سردار اختر مینگل

    بلوچستان کو اس ملک کا ایک صوبہ تسلیم کیا جائے،سردار اختر مینگل

    بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی-مینگل) کے سربراہ ے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ بلوچستان کی صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ اب معاملات ان کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں سردار اختر مینگل نے بلوچستان میں ریاست کی عدم دلچسپی اور مظالم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کو بلوچستان کے عوام کی بجائے صرف وہاں کے وسائل سے دلچسپی ہے۔سردار اختر مینگل نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے بلوچستان میں ہونے والے ریاستی مظالم اور نظرانداز کیے جانے کی پالیسیوں کی وجہ سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق ریاست میں عدلیہ، پارلیمنٹ، سیاسی جماعتیں، سیاسی قیادت اور میڈیا سمیت تمام ادارے بلوچستان کے ساتھ ناروا سلوک کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں سیاسی مداخلت اور ہیرا پھیری کا عمل روز اوّل سے جاری ہے، اور ریاستی ادارے مسلسل بلوچستان کے عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    سردار اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان میں عسکریت پسندی یا جذباتیت کو ریاست نے خود پیدا کیا۔ ان کے مطابق ریاستی زیادتیاں اور ناانصافیاں ہی وہ عوامل ہیں جنہوں نے لوگوں کو مشتعل کیا اور انہیں پہاڑوں پر جانے پر مجبور کیا۔ "لوگ پہاڑوں پر گئے کیوں؟ پہلے تو لوگ پہاڑوں پر نہیں تھے۔” انہوں نے ایوب خان کے دور میں عام معافی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پہاڑوں پر موجود لوگوں نے سیاست میں حصہ لیا اور 1970 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے بلوچستان کی پہلی حکومت تشکیل دی۔سردار اختر مینگل نے کہا کہ بعد میں آنے والی جمہوری حکومتوں نے بلوچستان کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے ہمیشہ ان زخموں کو کھرچنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ہمیشہ ریاست کو سمجھاتے رہے کہ ایسا نہ کریں، لیکن بلوچستان کا نوجوان اب ان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔ جو نوجوان اپنے خاندان کی رضا کے بغیر پہاڑوں پر جاتا ہے، وہ اب کسی بھی سیاسی شخص کی بات نہیں سنے گا۔ "پہاڑوں پر جانے والا نوجوان تو جان ہتھیلی پر رکھ کر وہاں گیا ہے، بات ہمارے ہاتھوں سے نکل چکی ہے۔

    بلوچستان کے تین بڑے مسائل اور ان کے حل کے سوال پر سردار اختر مینگل نے کہا کہ سب سے پہلے بلوچستان کو اس ملک کا ایک صوبہ تسلیم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ 75 سالوں سے بلوچستان کو ایک کالونی کے طور پر چلایا جا رہا ہے۔ سردار اختر مینگل نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کی ریاست کو بلوچستان کے عوام کی بجائے وہاں کے وسائل، سوئی گیس، ریکوڈک اور ساحلوں سے دلچسپی ہے۔سی پیک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے سوال کیا کہ بلوچستان کے ساحل کو بنیاد بنا کر سی پیک لایا گیا، لیکن اس سے بلوچستان کو کیا فائدہ ہوا؟ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستی پالیسیاں بلوچستان کے عوام کے مفادات کے خلاف ہیں، اور ان پالیسیوں کے نتیجے میں بلوچستان کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔سردار اختر مینگل کا یہ انٹرویو ایک بار پھر بلوچستان کے مسائل کی سنگینی اور ریاستی پالیسیوں کی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے ریاست کو وہاں کے عوام کے حقوق اور مطالبات کو تسلیم کرنا ہوگا اور ان کے ساتھ انصاف پر مبنی رویہ اختیار کرنا ہوگا۔

  • اسلام آباد: فروٹ فروش خاتون کے 7 ماہ کے بچے کا اغوا، پولیس کی بروقت کارروائی سے بازیابی

    اسلام آباد: فروٹ فروش خاتون کے 7 ماہ کے بچے کا اغوا، پولیس کی بروقت کارروائی سے بازیابی

    اسلام آباد کے علاقے ایف-6 میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جب ایک خاتون، جو اپنے 7 ماہ کے بچے کے ساتھ فروٹ کی ریڑھی لگاتی تھی، کے بچے کو اغوا کر لیا گیا۔ اس واقعے نے نہ صرف اس ماں بلکہ پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ خاتون نے فوری طور پر پولیس سے رابطہ کیا، اور اسلام آباد پولیس نے فوری کارروائی کا آغاز کیا۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ 31 اگست کو پیش آیا جب ایک گاڑی میں سوار ملزمان نے خاتون کے بچے کو اغوا کرلیا۔ متاثرہ خاتون اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کے علاقے میں اپنا روزگار کمانے کے لیے فروٹ کی ریڑھی لگاتی ہے۔ وہ روزانہ کی طرح اپنے بچے کے ساتھ مصروف تھی کہ اچانک ملزمان نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور بچے کو گاڑی میں ڈال کر فرار ہوگئے۔اسلام آباد کے آئی جی نے اس دلخراش واقعے کا فوری نوٹس لیا اور بچے کی فوری بازیابی کے لیے احکامات جاری کیے۔ پولیس ترجمان کے مطابق آئی جی اسلام آباد نے ڈی آئی جی ڈاکٹر سید مصطفیٰ تنویر کو اس کیس کی نگرانی سونپی۔ ڈی آئی جی نے فوری طور پر ردعمل دکھاتے ہوئے، آرڈی یو کی 10 ٹیمیں تشکیل دیں، جنہوں نے ہر ممکنہ ذریعہ استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا۔

    پولیس ٹیموں نے دن رات محنت کی اور مختلف ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کو مدنظر رکھتے ہوئے کارروائی کی۔ بالآخر پولیس نے اغوا کنندگان کا سراغ لگا لیا۔ پولیس کی بھرپور کوششوں کے نتیجے میں بچے کو باحفاظت بازیاب کر لیا گیا اور اغوا میں ملوث خاتون سمیت دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی۔بچے کو بازیاب کرنے کے بعد قانونی کارروائی مکمل کی گئی اور بچے کو اس کی والدہ کے حوالے کر دیا گیا۔ ڈی آئی جی ڈاکٹر سید مصطفیٰ تنویر نے ذاتی طور پر بچے کی والدہ سے ملاقات کی اور ان کو بچے کی بازیابی کے حوالے سے مطلع کیا۔ بچے کی والدہ نے اسلام آباد پولیس کی فوری اور مؤثر کارروائی پر شکریہ ادا کیا اور اپنے بچے کو دوبارہ اپنے بازوؤں میں پا کر خوشی کے آنسو بہائے۔یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد پولیس شہریوں کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت مستعد ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فوری اور سخت اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ پولیس نے اس واقعے میں شامل ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

  • گورنر سندھ کا اہم قدم: ایشیئن ڈیویلپمنٹ بینک معاہدہ، سینئر افسران کو اختیارات

    گورنر سندھ کا اہم قدم: ایشیئن ڈیویلپمنٹ بینک معاہدہ، سینئر افسران کو اختیارات

    کراچی: گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے صوبے کی ترقی اور سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت کے دو سینئر افسران کو ایشیئن ڈیویلپمنٹ بینک (ADB) سے معاہدہ پر دستخط کرنے کا اختیار دینے کی سمری پر دستخط کر دیے ہیں۔یہ معاہدہ ایشیئن ڈیویلپمنٹ بینک کے ساتھ کیا جائے گا، جس کے تحت صوبے کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔ اس معاہدہ کے تحت سندھ کو 440 ملین ڈالرز کی مالی امداد متوقع ہے، جس کا مقصد سیلاب سے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے محفوظ اور پائیدار رہائشی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔گورنر سندھ کی جانب سے منظور شدہ سمری کے مطابق، سندھ حکومت کے یہ سینئر افسران اب ایشیئن ڈیویلپمنٹ بینک کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (MOU) پر دستخط کرنے کے مجاز ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد معاہدہ کو جلد از جلد عملی شکل دینا ہے تاکہ سیلاب متاثرین کی بحالی کا کام تیزی سے شروع کیا جا سکے.
    اس موقع پر گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فنڈز صوبے میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس مالی امداد کے ذریعے سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر جلد مکمل ہوگی، اور متاثرہ افراد جلد ہی اپنے گھروں میں خوشحال زندگی گزار سکیں گے۔
    یہ معاہدہ صوبے میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ہے۔ سندھ حکومت اور ایشیئن ڈیویلپمنٹ بینک کے درمیان یہ اشتراک نہ صرف متاثرین کے گھروں کی تعمیر کو یقینی بنائے گا بلکہ مستقبل میں ایسے آفات سے نمٹنے کے لیے بھی ایک مؤثر حکمت عملی تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔اس اقدام کو صوبے کے عوام اور سیاسی حلقوں کی جانب سے مثبت طور پر سراہا جا رہا ہے، کیونکہ یہ سندھ کے متاثرہ علاقوں میں ترقی اور خوشحالی کی راہ ہموار کرے گا۔

  • اس وقت پی ٹی آئی تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے رابطے میں ہے، رؤف حسن

    اس وقت پی ٹی آئی تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے رابطے میں ہے، رؤف حسن

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن نے ایک تفصیلی بیان میں پارٹی کی موجودہ سیاسی حکمت عملی اور عمران خان کے سیاسی رابطوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کبھی نہیں کہا کہ وہ دیگر سیاستدانوں سے بات چیت نہیں کریں گے، اور اس وقت پی ٹی آئی تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے رابطے میں ہے، سوائے تین جماعتوں کے۔رؤف حسن نے وضاحت کی کہ محمود خان اچکزئی کو ان تین جماعتوں سے بات چیت کرنے کا خصوصی مینڈیٹ دیا گیا ہے۔ ان جماعتوں میں ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے محمود خان اچکزئی کو مکمل اختیار دیا ہے کہ وہ ان جماعتوں سے بات چیت کریں اور اگر کوئی حقیقی پیشکش آتی ہے تو اس پر غور کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔رؤف حسن نے کہا کہ پی ٹی آئی ہر سیاسی طاقت کے ساتھ بلواسطہ یا بلاواسطہ رابطے میں ہے اور امید کی جاتی ہے کہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے خفیہ مذاکرات کے سوال پر کہا کہ محمود خان اچکزئی نے رانا ثناء اللہ کے ساتھ رابطہ کیا ہے، اور امید ہے کہ اس سے معاملات میں بہتری آئے گی۔

    اس موقع پر رؤف حسن نے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ پارٹی میں یہ تاثر موجود ہے کہ عمران خان کے ملٹری ٹرائل کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے آٹھ ستمبر کو ہونے والے جلسے کے بارے میں فیصلہ کیا ہے، جو لازمی طور پر ہوگا۔انہوں نے 22 اگست کو ہونے والے جلسے کو مؤخر کرنے کی وجوہات بھی بیان کیں۔ رؤف حسن کے مطابق، 21 اگست کی رات کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے اسٹبلشمنٹ نے رابطہ کیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ اسلام آباد میں مذہبی جماعتوں کی موجودگی کی وجہ سے کوئی پُرتشدد واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ اسٹبلشمنٹ نے درخواست کی کہ جلسے کو مؤخر کیا جائے، جس پر پی ٹی آئی نے 8 ستمبر کو جلسے کا این او سی لیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے اس فیصلے کی منظوری دی، لیکن اس کے بعد کسی اور کے نام پر جلسہ مؤخر کرنے کی صورت میں جھوٹ کا دعویٰ کیا جائے گا۔رؤف حسن نے اس بات کا بھی تذکرہ کیا کہ 22 اگست کے جلسے کو مؤخر کرنے پر پارٹی کو بہت سی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور پارٹی اس وقت مزید رسک نہیں لے سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کی ہدایات ہیں کہ پی ٹی آئی کے جو لوگ ابھی روپوش ہیں، وہ اسی حالت میں رہیں۔اس تفصیلی بیان میں رؤف حسن نے پی ٹی آئی کی موجودہ حکمت عملی، سیاسی روابط، اور پارٹی کے داخلی مسائل پر کھل کر روشنی ڈالی، اور آئندہ کے لائحہ عمل کی وضاحت کی۔