سندھ حکومت نے اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے نئی گاڑیوں کی خریداری پر اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ آخری بار اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے گاڑیاں 2010 میں خریدی گئی تھیں۔ اس کے بعد سے ان گاڑیوں کی حالت کافی بگڑ چکی ہے اور یہ اب ناقابل استعمال ہو چکی ہیں کیونکہ ان گاڑیوں نے 8 لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرلیا ہے۔سندھ حکومت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ موجودہ گاڑیاں مرمت کے لیے بہت زیادہ خرچ طلب ہیں اور افسران کو اپنی ذاتی یا کرائے کی گاڑیاں استعمال کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ نئی گاڑیوں کی خریداری سے مرمت کے اخراجات میں کمی آئے گی اور اس کے ساتھ ساتھ افسران کی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔
صوبائی حکومت نے اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے دو ارب روپے کی لاگت سے 138 گاڑیوں کی خریداری کی تیاری کرلی ہے۔ ان گاڑیوں کو لگژری نہیں بلکہ آپریشنل گاڑیوں کے طور پر خریدا جائے گا۔ پرانی اور ناقابل مرمت گاڑیوں کو نیلام کیا جائے گا، اور غیر قانونی قبضے میں لی گئی گاڑیوں کو واپس لینے کی کارروائی جاری ہے۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ دیگر صوبوں نے بھی اپنے اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے ڈبل کیبن گاڑیاں خریدی ہیں۔ اس فیصلے کو شاہانہ انداز میں پیش کرنا گمراہی ہے، کیونکہ صوبائی حکومت کے مطابق، فیلڈ افسران کے لیے گاڑیوں کی خریداری ایک ضروری اور عملی قدم ہے۔سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی خریداری کا فیصلہ ضروری ہے اور اس سے افسران کی کارکردگی اور آپریشنل سہولت میں بہتری آئے گی۔ اس فیصلے کو شاہانہ یا غیر ضروری طور پر پیش کرنا درست نہیں ہے، بلکہ یہ عمل صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
Author: صدف ابرار
-

سندھ حکومت کا اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے نئی گاڑیوں کی خریداری پر موقف
-

حافظ طاہر محمود اشرفی کا دفاعِ ختم نبوت اور دفاعِ پاکستان کی ضرورت پر زور
چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے لاہور کے الحمرا ہال میں دفاعِ ختم نبوت اور دفاعِ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک جامع پیغام دیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ ملک بھر میں ختم نبوت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے تمام مسلمانوں کو یکجا ہو کر کانفرنسز میں شرکت کرنی چاہیے، چاہے وہ کسی بھی مکتبہ فکر نے منعقد کی ہو۔اشرفی نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ لاہور کے قریب ہیں، وہ 7 ستمبر کو مینارِ پاکستان پہنچیں، جبکہ چناب نگر کے قریب رہنے والوں کو بھی چناب نگر میں موجود کانفرنس میں شرکت کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، "کسی کے نظریاتی افکار سے اختلاف ایک بات ہے، لیکن عقیدہ ختم نبوت ایک بالکل مختلف موضوع ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ آج کل ہمیں خلافت کے نظریے کا بھی ذکر کم ہی سننے کو ملتا ہے، حالانکہ یہ ملک خلافت راشدہ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ اشرفی نے اقوام متحدہ میں ختم نبوت کا مقدمہ لڑنے والے اکابرین کی یاد بھی تازہ کی۔چیئرمین پاکستان علما کونسل نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جاری حالات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے نائن الیون کے بعد کی سازشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مدارس اور فوج کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوششیں کی گئی تھیں۔ اشرفی نے پاک فوج کے جوانوں کی شہادت کی عظمت کو سراہتے ہوئے کہا، "پاک فوج کا ہر جوان جو شہادت کا طالب ہے، ہمارے لیے سر کا تاج ہے۔اشرفی نے عالمی حالات پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ لیبیا اور عراق کو تباہ کرنے کے بعد اب پاکستان اور دیگر محفوظ ممالک کو تقسیم کرنے کی سازشیں جاری ہیں۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ "جو منکرین ختم نبوت کے ترجمان بنے ہوئے ہیں، وہ ہمارے جوتے کی نوک پر ہیں۔حافظ طاہر محمود اشرفی کے اس خطاب نے حاضرین کو متحرک کر دیا اور ختم نبوت اور دفاعِ پاکستان کے لیے ایک جٹ کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ -

بلاول بھٹو زرداری اور ناصر حسین شاہ کی ملاقات: وفاقی فنڈز اور سیلاب متاثرین پر گفتگو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے صوبائی وزیر توانائی سید ناصر حسین شاہ نے حال ہی میں اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں صوبائی وزیر نے وفاقی حکومت کی جانب سے روکے گئے فنڈز اور ان کے جاری کرنے کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی۔ناصر حسین شاہ نے اس موقع پر بتایا کہ وفاقی حکومت نے سیلاب متاثرین کے لئے ہاؤسنگ سکیم اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لئے مالی امداد فراہم کرنے کے وعدے کیے تھے، مگر اب تک ان وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سیلاب کے بعد کی تعمیر نو اور متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لئے فنڈز کی ضرورت ہے، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔
یہ ملاقات بلاول بھٹو زرداری کے دفتر میں ہوئی، جہاں سید ناصر حسین شاہ نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین کو وفاقی حکومت کی طرف سے فنڈز کے اجرا میں تاخیر کے نقصانات اور اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وفاقی حکومت جلد از جلد فنڈز جاری نہیں کرتی تو سیلاب متاثرین کی مدد اور ان کی بحالی کے عمل میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی کی جانب سے وفاقی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر متاثرہ علاقوں کے لئے مالی امداد جاری کرے تاکہ تعمیر نو کا عمل تیز ہو سکے اور متاثرین کو درپیش مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے۔ -

حکومت نے ریلیف نہ دیا تو سول نافرمانی کی تحریک شروع کریں گے،حافظ نعیم الرحمان
کراچی: جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عوام کو ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو ان کی جماعت سول نافرمانی کی تحریک بھی شروع کر سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بات ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔حافظ نعیم الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ "مفادات کی سیاست کرنے والوں کو عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ معاہدے میں 17 دن باقی رہ گئے ہیں، اور اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو جماعت اسلامی ایک "پیہیہ جام” ہڑتال کا اعلان کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ہڑتال کے بعد بجلی بلوں کا بائیکاٹ کیا جائے گا اور حکومت کو یہ دیکھنا پڑے گا کہ بجلی کٹنے والے کارکن کس طرح آتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے اس موقع پر مزید کہا کہ "ہم عوام کے ساتھ مل کر مافیا کا مقابلہ کریں گے۔ بجلی کی قیمت میں اضافہ سے صنعتیں نہیں چل سکتیں اور ملک ترقی نہیں کر سکتا۔” انہوں نے ملکی معیشت کی موجودہ حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ملکی معیشت تباہ ہو چکی ہے، امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے، اور اس وقت مزدور بے روزگار ہو رہے ہیں۔حافظ نعیم الرحمان نے یہ بھی کہا کہ "ان لوٹ مار کرنے والوں کو معلوم نہیں کہ روزانہ پٹرول اور بجلی کے بل کتنے آتے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی اور حکومت کو عوام کی مشکلات کا ادراک کرنا ہوگا۔ -

پی سی بی نے چیمپئنز ون ڈے کپ کے میچ آفیشلز کا اعلان کر دیا
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے چیمپئنز ون ڈے کپ کے لیے میچ آفیشلز کا اعلان کر دیا ہے۔ اس ٹورنامنٹ کے میچز میں کئی معروف اور تجربہ کار آفیشلز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، جو کھیل کی معیار کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔چیمپئنز ون ڈے کپ کے افتتاحی میچ کو 12 ستمبر کو سابق آئی سی سی ایلیٹ امپائر علیم ڈار اور آئی سی سی انٹرنیشنل پینل کے امپائر آصف یعقوب سپر وائز کریں گے۔ افتتاحی میچ اقبال اسٹیڈیم، فیصل آباد میں کھیلا جائے گا، جس میں 13 ستمبر کو وولوز اور پینتھرز کے درمیان مقابلہ ہوگا۔سابق ٹیسٹ کرکٹر علی نقوی پلینگ کنٹرول ٹیم کی قیادت کریں گے، جن کے ساتھ ولید یعقوب اور ذوالفقار جان تھرڈ اور فورتھ امپائر کے طور پر شامل ہوں گے۔ نو امپائرز کے پینل میں علیم ڈار، آصف یعقوب، ولید یعقوب اور ذوالفقار جان شامل ہیں، جو مختلف میچز میں اپنی خدمات فراہم کریں گے۔
کھلاڑیوں کے دیگر پانچ امپائرز میں فیصل آفریدی، امتیاز اقبال، عمران جاوید، ناصر حسین اور راشد ریاض شامل ہیں۔ یہ امپائرز بھی مختلف میچز کی نگرانی کریں گے۔میچ ریفریز کی ذمہ داریاں بلال خلجی، افتخار احمد، اقبال شیخ، ندیم ارشد اور کامران چوہدری کے درمیان تقسیم کی جائیں گی۔پلے آف اور فائنل کے لیے امپائر اور میچ ریفری کی تقرری کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔یہ ٹیم نہ صرف میچز کی نگرانی کرے گی بلکہ کھیل کی عدلیہ کو برقرار رکھتے ہوئے شفاف اور دلچسپ میچز کے انعقاد کو یقینی بنائے گی۔ چیمپئنز ون ڈے کپ کے آغاز کے ساتھ ہی کرکٹ کے شائقین کو ایک سنسنی خیز اور معیاری ٹورنامنٹ کی امید ہے۔ -

صدر زرداری کی لاہور میں کیپٹن قریشی شہید کے گھر آمد، تعزیت کا اظہار
صدر مملکت آصف علی زرداری نے لاہور میں کیپٹن محمد علی قریشی شہید کے گھر پہنچ کر ان کے لواحقین سے تعزیت کی۔ کیپٹن محمد علی قریشی حال ہی میں بلوچستان میں شہید ہوئے تھے۔ صدر مملکت نے شہید کے لواحقین کے ساتھ فاتحہ خوانی کی اور کیپٹن محمد علی قریشی کی خدمات اور بہادری کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔صدر آصف علی زرداری نے اس موقع پر کہا، "مشکل کی اس گھڑی میں ہماری ہمدردیاں شہید کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت سے نوجوانوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہوئیں۔ دہشت گردی کے فتنے کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ہم آخری دم تک کوششیں جاری رکھیں گے۔صدر مملکت نے کہا کہ قوم شہداء اور ان کے خاندانوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ انہوں نے شہید کیپٹن محمد علی قریشی کے اہلِ خانہ کے جذبہ حب الوطنی اور ایثار کو سراہا اور شہید کی بلندی درجات اور ورثاء کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔صدر مملکت کی آمد اور تعزیت نے شہید کے اہل خانہ کو دلی تسلی دی، اور اس موقع پر دہشت گردی کے خلاف قومی عزم و ارادے کو بھی مضبوط کیا۔
-

بلوچ عوام سے صلح کرنے والے مجھ سے صلح کریں گے،سردار اختر مینگل
بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے پارلیمنٹ کو الوداع کہتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ سردار اختر مینگل نے اپنی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیے گئے پیغام میں اس بات کی تصدیق کی کہ تمام سیاسی جماعتوں نے ان کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس پارلیمنٹ میں مزید رہنے کے خواہاں نہیں ہیں، اور سیاسی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ وہ انہیں معافی مانگ کر راضی کر سکتی ہیں۔اختر مینگل نے واضح کیا کہ سیاسی جماعتیں اور حکومت انہیں معافی مانگنے کے بجائے بلوچ عوام سے معافی مانگیں۔ ان کا کہنا تھا، "میں صرف اختر مینگل نہیں، بلکہ عوام کا حصہ ہوں۔ بلوچ عوام سے صلح کرنے والے مجھ سے صلح کریں گے، میری کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔انہوں نے اپنے فیصلے کے پیچھے اپنے ضمیر کی آواز کو قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے بلوچستان کے مسئلے پر سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی۔ "میں بلوچ عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا بوجھ ختم کرنے کے لیے پاکستان آیا، اور اب میں آزاد ہوں،” سردار اختر مینگل نے بیان کیا۔
بی این پی کے سربراہ نے مزید کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ دیر سے ہی سہی، دوسروں کو جلد اس بات کا احساس ہو جائے گا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا، "اگر پاکستان میں قانون کی حکمرانی قائم ہوئی تو ہم دوبارہ ملیں گے۔ الوداع، پارلیمنٹ۔سردار اختر مینگل کی دبئی روانگی کی تیاریوں کے ساتھ، ان کے اس فیصلے نے سیاسی حلقوں میں گہرا تاثر چھوڑا ہے۔ ان کی پارلیمنٹ سے علیحدگی اور بلوچ عوام کے مسائل پر ان کے نقطہ نظر نے ایک بار پھر بلوچستان کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ -

پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے مستحکم کرنا ہے، گوگل
گوگل نے آج اسلام آباد میں "آگے بڑھو: گوگل فار پاکستان” کے عنوان سے ایک تقریب کا انعقاد کیا، جس میں پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو ترقی دینے اور اس کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے گوگل کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر، گوگل نے پاکستان میں ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی کو پورا کرنے اور ڈیجیٹل برآمدات کو فروغ دینے کے لیے اپنی حکمت عملیوں پر روشنی ڈالی۔تحقیقی رپورٹ کے مطابق، 2023ء میں گوگل کی مصنوعی ذہانت سے چلنے والی مصنوعات اور خدمات نے پاکستانی کاروباری اداروں اور گھریلو صارفین کو 3.9 کھرب روپے کے معاشی فوائد فراہم کیے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گوگل سرچ، ایڈز، ایڈسینس، کلاؤڈ، اور یوٹیوب نے کاروباری اداروں کے لیے 2.6 کھرب روپے کی معاشی سرگرمی پیدا کی، جس میں 249 ارب روپے غیر ملکی مارکیٹس سے حاصل ہوئے۔ اسی طرح، گوگل کی خدمات نے گھریلو صارفین کو 1.3 کھرب روپے کے فوائد فراہم کیے۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی سالانہ ڈیجیٹل برآمدات کی قدر میں سن 2030ء تک 1.8 کھرب روپے کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی کو دور کر کے ملک کی سالانہ جی ڈی پی میں 2.8 ٹریلین روپے کا اضافہ ممکن ہے۔وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی، محترمہ شزا فاطمہ خواجہ نے گوگل کے کردار کو سراہا اور کہا، "ہماری معیشت کو تبدیل کرنے کے لیے ڈیجیٹل برآمدات کی بہت زیادہ صلاحیت ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ پاکستان ڈیجیٹل دور میں اپنی پوری صلاحیت تک پہنچ سکے۔” انہوں نے مزید کہا کہ گوگل نے گزشتہ چند سالوں میں ہزاروں پاکستانیوں کی زندگیوں میں بہتری لائی ہے، اور اس کے اقدامات کا ملک کی ڈیجیٹل دنیا میں بڑا اثر ہے۔
گوگل پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر، فرحان ایس قریشی نے کہا کہ گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس اور گوگل ڈیویلپر پروگرامز جیسے اقدامات کے ذریعے ہنرمندی کی ترقی میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ پاکستان کی نوجوان اور متحرک افرادی قوت کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ "آگے بڑھو” پروگرام کے تحت، گوگل 2023ء میں 9 لاکھ 60 ہزار ملازمتیں فراہم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔گوگل نے 2023ء میں خواتین اور طالب علموں کو 44,500 گوگل کیریئر سرٹیفکیٹ (جی سی سی) اسکالرشپس فراہم کیں، اور 2024ء میں 45,000 اضافی اسکالرشپس فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس کے علاوہ، گوگل نے مصنوعی ذہانت سے متعلقہ تربیت کے پروگرام شروع کیے ہیں جو پاکستانی نوجوانوں کو اس ٹیکنالوجی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
گوگل نے "سیف رہو” پروگرام کے تحت پاکستانی نوجوانوں، خواتین، اور کمیونٹیز کو انٹرنیٹ سیفٹی کے علم اور ٹولز کے ذریعے بااختیار بنانے کی کوششیں جاری رکھی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، گوگل نے ٹیک ویلی کے ساتھ شراکت داری کی ہے جس کے تحت مقامی سطح پر 500,000 کروم بکس تیار کیے جائیں گے۔رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے کہ گوگل کے اقدامات کے ذریعے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط کرنے اور مصنوعی ذہانت کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ گوگل کا "فیوچر فارورڈ پاکستان” مشن ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کی مہارتوں کو فروغ دینے اور معاشی ترقی کو ممکن بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔گوگل کے اس عزم کے تحت پاکستان میں ڈیجیٹل مہارتوں میں اضافہ، نئی ملازمتوں کے مواقع کی تخلیق، اور اقتصادی ترقی کے امکانات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ -

برطانیہ کی رائل نیوی کا ہیلی کاپٹر حادثہ، ایک نیوی اہلکار ہلاک
برطانیہ کی رائل نیوی کا ایک ہیلی کاپٹر سمندر میں گرنے کے نتیجے میں ایک نیوی اہلکار جان کی بازی ہار گیا۔ یہ افسوسناک حادثہ بدھ کی شب اس وقت پیش آیا جب رائل نیوی کا اہلکار ایچ ایم ایس کوئین الزبتھ ایئرکرافٹ کیریئر کے ساتھ تربیتی مشق میں مصروف تھا۔رائل نیوی کے ترجمان کے مطابق حادثہ ایک معمول کی تربیتی مشق کے دوران پیش آیا۔ ہیلی کاپٹر ایچ ایم ایس کوئین الزبتھ، جو برطانیہ کی سب سے بڑی ایئرکرافٹ کیریئر ہے، کے ساتھ تربیت کر رہا تھا جب اچانک وہ سمندر میں گر گیا۔ حادثے کے بعد فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، لیکن بدقسمتی سے نیوی اہلکار کو زندہ نہیں بچایا جا سکا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے نیوی اہلکار کا نام ابھی تک ظاہر نہیں کیا گیا ہے، تاہم ان کے اہل خانہ کو اس المناک حادثے کی اطلاع دے دی گئی ہے۔ نیوی نے اہلکار کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی ہے۔
رائل نیوی نے حادثے کے اسباب جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا ہیلی کاپٹر کے گرنے کا سبب تکنیکی خرابی تھی یا اس میں کوئی انسانی غلطی شامل تھی۔برطانوی وزیراعظم نے بھی حادثے میں نیوی کے اہلکار کی موت پر اظہار افسوس کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ایک نہایت افسوسناک واقعہ ہے اور وہ نیوی اہلکار کے اہل خانہ اور ساتھیوں کے غم میں شریک ہیں۔رائل نیوی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ نیوی اپنے اہلکاروں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتی ہے اور اس قسم کے حادثات کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہلکار کی موت کا حادثہ نیوی کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔نیوی اہلکار کی آخری رسومات کے بارے میں ابھی تک کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ ممکنہ طور پر اہلکار کو فوجی اعزاز کے ساتھ دفنایا جائے گا۔یہ حادثہ برطانوی مسلح افواج کے لیے ایک اہم یاد دہانی ہے کہ تربیتی مشقوں کے دوران بھی خطرات ہمیشہ موجود رہتے ہیں، اور فوجی اہلکاروں کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ -

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں بڑی کمی
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد تک کی بڑی کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد تیل کی قیمتیں 9 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ عالمی اقتصادی حالات اور تیل کی کھپت میں ممکنہ کمی کے خدشات کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے سودے 70 ڈالر فی بیرل میں دستیاب ہیں، جو گزشتہ مہینوں کی قیمتوں کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسی طرح، برینٹ خام تیل کی قیمت بھی گراوٹ کے بعد 73 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی ہے۔ یہ قیمتیں 9 ماہ کی کم ترین سطح پر ہیں، جو عالمی منڈی میں طلب اور رسد کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کرتی ہیں۔خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی بڑی وجہ امریکا اور چین، جو دنیا کی دو بڑی معیشتیں ہیں، میں تیل کی کھپت سے متعلق خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق، ان دونوں ممالک میں معاشی سست روی کے اشارے سامنے آ رہے ہیں، جو تیل کی طلب کو متاثر کر سکتے ہیں۔
امریکا میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے اور معاشی سست روی کے خدشات کے باعث تیل کی کھپت میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ معیشت میں سست روی کی صورت میں تیل کی طلب میں کمی واقع ہوتی ہے، جو عالمی منڈی میں قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ چین، جو تیل کا ایک بڑا خریدار ہے، میں بھی حالیہ مہینوں میں معاشی سرگرمیوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ چین کی اقتصادی نمو کے ہدف میں کمی اور پراپرٹی سیکٹر کے بحران کے باعث طلب میں کمی کے خدشات بڑھے ہیں، جس کا اثر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔تیل کی قیمتوں میں اس حالیہ گراوٹ سے عالمی معیشت پر ملا جلا اثر پڑ سکتا ہے۔ ایک طرف جہاں قیمتوں میں کمی سے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو فائدہ ہو سکتا ہے، وہیں دوسری طرف تیل پیدا کرنے والے ممالک کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، تیل کی قیمتوں میں کمی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور ملازمتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، جو اقتصادی استحکام کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر امریکا اور چین کی معیشتوں میں استحکام نہ آیا تو تیل کی قیمتیں مزید دباؤ میں آ سکتی ہیں۔ تاہم، اگر اقتصادی بحالی کے اشارے ملتے ہیں یا تیل کی پیداوار میں کمی کے فیصلے کیے جاتے ہیں، تو قیمتوں میں بہتری کا امکان بھی موجود ہے۔ یہ صورتحال آئندہ چند ہفتوں میں عالمی اقتصادی پالیسیوں اور مارکیٹ کے رجحانات پر منحصر ہوگی۔