پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی چیئرپرسن روبینہ خالد نے زرداری ہاؤس میں اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ملک بھر میں مستحق اور نادار افراد کے لئے امداد کی فراہمی کے حوالے سے مختلف اقدامات اور آپریشنز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔روبینہ خالد نے چیئرمین پی پی پی اور آصفہ بھٹو زرداری کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی حالیہ کامیابیوں اور آئندہ منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کی جانب سے مستحق افراد تک امداد کی فراہمی کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس میں نادار خاندانوں کی مدد کے لئے مالی امداد، صحت کی سہولتیں، اور تعلیمی امداد شامل ہیں۔

اسی دوران، زرداری ہاؤس میں پی پی پی کوآرڈی نیشن کمیٹی کے رکن ندیم افضل چن نے بھی بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ندیم افضل چن نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کو مسلم لیگ ن کے ساتھ ہونے والے مشاورتی عمل کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ندیم افضل چن نے بلاول بھٹو زرداری کو بتایا کہ پی پی پی اور مسلم لیگ ن کے درمیان جاری مشاورت کا مقصد ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور مستقبل کی حکمت عملی پر مشترکہ نقطہ نظر تیار کرنا ہے۔ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں جماعتیں ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ایک متحدہ لائحہ عمل اپنائیں۔یہ ملاقاتیں پی پی پی کی سیاسی حکمت عملی اور سماجی فلاحی پروگراموں کی نگرانی اور ان کی بہتری کے لئے کی گئی ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کاموں اور مشاورتی عمل کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارٹی کی جانب سے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ مستحق افراد کی مدد کی جا سکے اور ملک کی سیاسی استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
Author: صدف ابرار
-

بلاول بھٹو اور آصفہ سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن روبینہ خالد کی ملاقات
-

وزارت خزانہ کی ماہانہ معاشی آؤٹ لک رپورٹ جاری
وزارت خزانہ نے ملکی معیشت سے متعلق اپنی ماہانہ معاشی آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں رواں مالی سال کے پہلے ماہ جولائی میں اہم اقتصادی اشاریے بہتر ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ترسیلات زر، برآمدات، درآمدات اور دیگر مالیاتی اشاریے میں قابلِ ذکر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی 2024 میں ترسیلات زر میں 47.6 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا، جو کہ 3 ارب ڈالر کے قریب پہنچ گئی۔ برآمدات میں بھی 12.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اور یہ 2.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اسی طرح، درآمدات میں 16.3 فیصد اضافہ ہوا، جس کی مجموعی مالیت 4.8 ارب ڈالر رہی۔ مالی ذخائر میں بھی بہتری آئی ہے، اور 23 اگست 2024 تک یہ 14.77 ارب ڈالر رہے، جبکہ گزشتہ مالی سال اسی عرصے میں مالی ذخائر 13.17 ارب ڈالر تھے۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 63.8 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، اور کل بیرونی سرمایہ کاری میں 189.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق، ایف بی آر کے محصولات میں جولائی 2024 کے دوران 22.7 فیصد کا اضافہ ہوا۔ نان ٹیکس آمدنی میں گزشتہ مالی سال کے دوران 78.3 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ مالی خسارے میں 10.5 فیصد کا اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے۔ جولائی 2024 میں مہنگائی کی شرح 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو کہ گزشتہ مالی سال کے جولائی میں 28.3 فیصد تھی۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ملکی معیشت کے مختلف شعبوں میں بہتری آئی ہے، اور یہ تبدیلیاں معاشی استحکام کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ رپورٹ کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں اور اقدامات کا مثبت اثر ملکی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ -

اسلام آباد ایئرپورٹ آؤٹ سورسنگ: ٹینڈر کی تاریخ میں پانچویں بار توسیع
اسلام آباد: پاکستان میں ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کا معاملہ ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہوگیا ہے، اور اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے ٹینڈر کی تاریخ میں پانچویں بار توسیع کردی گئی ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے ٹینڈر کی تاریخ میں 7 اکتوبر تک توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لئے ٹینڈر کی تاریخ میں مسلسل پانچویں بار توسیع کی گئی ہے۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف کمپنیوں کی عدم دلچسپی کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع وزارت ہوابازی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ میں عدم دلچسپی کی ایک اہم وجہ موجودہ حالات اور اقتصادی مشکلات ہیں، جن کی وجہ سے بین الاقوامی کمپنیوں نے ٹینڈر میں حصہ لینے سے گریز کیا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بہتر شرائط پیش کرنے کے باوجود، بین الاقوامی کمپنیوں کی محدود دلچسپی اس معاملے میں مزید تاخیر کا سبب بن رہی ہے۔
حکومت پاکستان کی جانب سے اسلام آباد ایئرپورٹ کے بعد کراچی اور لاہور ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کا بھی ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم، موجودہ صورتحال میں یہ بھی واضح نہیں ہے کہ ان ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کب اور کیسے کی جائے گی۔سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ٹینڈر کی تاریخ میں توسیع سے مزید کمپنیوں کو اس منصوبے میں حصہ لینے کا موقع ملے گا اور مسابقتی ماحول پیدا ہوگا جس سے حکومت کے لیے بہتر شرائط پر معاہدے طے کرنے میں آسانی ہوگی۔حکومت پاکستان اس وقت بڑے ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے ذریعے ملکی معیشت کو سہارا دینے اور ایئرپورٹ سروسز کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے منصوبے کا مقصد نہ صرف ایئرپورٹس کی کارکردگی میں بہتری لانا ہے بلکہ سیاحتی شعبے کو بھی فروغ دینا ہے۔موجودہ صورتحال میں اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ البتہ، حکومت کے لیے یہ چیلنج ہوگا کہ وہ کس طرح سے بین الاقوامی کمپنیوں کو اس منصوبے میں حصہ لینے کے لیے قائل کرتی ہے تاکہ منصوبے کو کامیاب بنایا جاسکے۔ -

کراچی سے حیدرآباد تک سائیکل ریس 8 ستمبر کو ہوگی
کراچی : پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن (پی سی ایف) کے زیر سرپرستی، سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے اشتراک سے نیشنل ڈیفنس اینڈ ایئر فورس ڈے سائیکل ریس کا انعقاد 8 ستمبر 2024 کو کراچی سے حیدرآباد تک ہوگا۔ اس ایونٹ کا مقصد نہ صرف سائیکلنگ کو فروغ دینا ہے بلکہ پاکستان کی مسلح افواج کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور ہمارے عظیم شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنا بھی ہے۔ریس میں ایلیٹ اور امیچر مرد سائیکل سوار حصہ لیں گے، جبکہ ایلیٹ خواتین کے لیے بھی اوپن سائیکل ریس کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس ریس میں پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کے تمام ملحقہ یونٹوں کی نمائندگی کرنے والے سائیکلسٹس شامل ہوں گے۔ ان سائیکلسٹس کا تعلق ملک بھر سے ہے، جو پاکستان میں سائیکلنگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور مسابقتی جذبے کو اجاگر کرنے کے لیے اہم کردار ادا کریں گے۔ یہ سائیکل ریس 8 ستمبر کی صبح 9 بجے کراچی میں سوئی سدرن کے ہیڈ آفس سے شروع ہوگی۔ ریس کا اختتام حیدرآباد ٹول پلازہ پر ہوگا، جہاں تمام شرکاء اپنے ہنر کا مظاہرہ کریں گے اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے۔
اس تقریب میں پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کے صدر سید اظہر علی شاہ، سوئی سدرن گیس کمپنی کے عہدیداران، اور دیگر معززین کی شرکت متوقع ہے۔ سیکرٹری سوئی سدرن اسپورٹس بورڈ، آصف انصاری کو پی سی ایف نے چیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی جبکہ سوئی سدرن کے سردار نزاکت علی کو آرگنائزنگ سیکرٹری نامزد کیا ہے۔ہمیشہ کی طرح، پی سی ایف کے ٹیکنیکل عہدیداروں اور کمیشنرز کی ایک نامزد ٹیم اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ریس کے دوران تمام حفاظتی اقدامات پر عمل ہو۔ اس ریس کو منصفانہ اور مسابقتی بنانے کے لیے تمام قواعد و ضوابط کی پابندی کی جائے گی۔اس ریس کا مقصد سائیکلنگ کو ایک قومی کھیل کے طور پر فروغ دینا ہے۔ یہ مقابلہ نہ صرف سائیکلسٹس کے درمیان مسابقت کو فروغ دے گا بلکہ انہیں ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرے گا جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں۔سوئی سدرن کے سائیکلسٹ علی الیاس نے حال ہی میں الماتی، قازقستان میں منعقدہ ایشین سائیکلنگ چیمپیئن شپ میں پاکستان کے لئے دو طلائی تمغے حاصل کرکے پاکستان کے سائیکلنگ میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ ان کی یہ شاندار کامیابی اس ریس میں حصہ لینے والے دیگر سائیکلسٹس کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام ہے۔
پی سی ایف اور سوئی سدرن گیس کمپنی دونوں ہی اس قومی سائیکل ریس کے بہترین انعقاد کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ ایونٹ پاکستان میں سائیکلنگ کے فروغ کے لیے ایک مثبت قدم ہوگا اور قومی یکجہتی کی مثال قائم کرے گا۔ اس سے نہ صرف کھیل کے میدان میں ترقی ہوگی بلکہ عوام کے دلوں میں حب الوطنی کا جذبہ بھی بیدار ہوگا۔ -

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس مؤخر، اگلے ہفتے تک ملتوی کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد: پارلیمنٹ کا جمعرات کو ہونے والا مشترکہ اجلاس اب اگلے ہفتے تک مؤخر کردیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے پیچھے اہم ملاقاتیں اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہا، جس میں قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق اور وزیر پارلیمانی امور اعظم نذیر تارڑ کے درمیان ہونے والی ملاقات خصوصی اہمیت کی حامل تھی۔ذرائع کے مطابق، اسپیکر ایاز صادق اور اعظم نذیر تارڑ کی ملاقات میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جمعرات کو بلانے کا فیصلہ مؤخر کرنے پر تفصیلی مشاورت ہوئی۔ اس ملاقات کے دوران مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا اور بالآخر یہ فیصلہ کیا گیا کہ اجلاس کو ملتوی کیا جائے۔
اس حوالے سے ذرائع نے مزید بتایا کہ ایوان صدر کو بھی اس فیصلے سے آگاہ کردیا گیا ہے، تاکہ رسمی کارروائیاں اور متعلقہ امور کو بروقت مکمل کیا جاسکے۔ یہ اجلاس ملتوی کرنے کی وجہ فوری طور پر سامنے نہیں آئی ہے، تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پارلیمانی امور میں کسی اہم تبدیلی یا مشاورت کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم کی جانب سے مشترکہ اجلاس بلانے کی ایڈوائس بھجوائی گئی تھی، جو کہ ملکی سیاسی ماحول میں اہمیت کی حامل سمجھی جارہی تھی۔ تاہم، اس اجلاس کو ملتوی کرنے کا فیصلہ ملک کی سیاسی صورتحال اور حکومتی حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہوگا۔یہاں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ مشترکہ اجلاس کا ملتوی ہونا پارلیمنٹ کے آئینی و قانونی عمل میں ایک غیر معمولی اقدام سمجھا جاتا ہے، جس کے پیچھے مختلف وجوہات کارفرما ہو سکتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس سلسلے میں مزید پیشرفت کی توقع کی جارہی ہے، جس سے ملکی سیاسی حالات پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ -

آزادکشمیر حکومت کا 7 ستمبر کو یوم ختم نبوت سرکاری طور پر منانے کا اعلان
مظفرآباد: آزاد کشمیر حکومت نے 7 ستمبر کو یوم ختم نبوت سرکاری طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بات کا اعلان وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انوار الحق نے مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انوار الحق نے کہا کہ یوم ختم نبوت کو سرکاری سطح پر منایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر اسمبلی نے قومی اسمبلی سے پہلے ختم نبوت کے حوالے سے قرارداد منظور کی تھی، اور آج قانون ساز اسمبلی نے 7 ستمبر کو یوم ختم نبوت منانے کی قرارداد بھی منظور کرلی ہے۔پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم چودھری انوار الحق نے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے اور ان کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور عوام سے کیے گئے وعدے پورے کر رہی ہے۔وزیراعظم نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ سے بجلی 3 روپے فی یونٹ فراہم کی جا رہی ہے، اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں ایسے معجزاتی کام ہوئے ہیں جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔وزیراعظم چودھری انوار الحق نے حکومت پاکستان کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان ترقیاتی منصوبوں میں بھرپور تعاون کر رہی ہے اور کشمیر کے عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
-

وزیر پیٹرولیم نے 18 ارب روپے جرمانے کی خبر مسترد کر دی
اسلام آباد: وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی تاخیر پر پاکستان پر 18 ارب روپے جرمانے کی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم جان بوجھ کر غلط بتائی گئی ہے اور ای سی سی میں ان کے دوستانہ رویے کی وجہ سے یہ تفصیلات درست نہیں ہیں مصدق ملک نے وضاحت کی کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر 18 ارب روپے کے جرمانے کا کوئی تخمینہ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خبر محض جھوٹ پر مبنی ہے اور کسی بنیاد پر قائم نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معلومات غلطی سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر غلط بیان کی گئی ہیں۔وزیر پیٹرولیم نے ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے بھی اہم اعلان کیا اور کہا کہ اگلے دو ماہ میں اس منصوبے پر ایک بڑا معاہدہ متوقع ہے۔ انہوں نے ریکوڈک منصوبے کو ملک کے لئے گیم چینجر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بلوچستان میں موجود مسائل کا حل نکلے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بدامنی کے پیچھے ہمارے دشمن ممالک کا ہاتھ ہے، اور ان کی سازشوں سے ہم بخوبی آگاہ ہیں۔
مصدق ملک نے سعودی عرب کے ساتھ جاری مذاکرات کو بھی کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت جلد ایک بڑا سرپرائز متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں گیس کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا اور حکومت بجلی کی قیمتوں پر ریلیف فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمتوں، سرکلر ڈیٹ اور کپیسٹی پیمنٹس پر چار یا پانچ الگ الگ ٹیمیں کام کر رہی ہیں اور امید ہے کہ جلد عوام کو کچھ ریلیف ملے گا۔سردیوں کے دوران گیس کی سپلائی کے چیلنجز کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ بجلی کی کھپت کم ہونے کی صورت میں گیس کی قیمتیں بڑھائی جا سکتی ہیں تاکہ کپیسٹی پیمنٹ سے بچا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ہیٹرز اور چولہے گیس کی بجائے بجلی پر منتقل کر دیے جائیں تو سردیوں میں بجلی کی کھپت بڑھ سکتی ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے گرین ریفائنری کے بارے میں بھی معلومات فراہم کیں اور بتایا کہ اس کی کمرشل رپورٹ دسمبر میں سامنے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پیٹرو کیمیکلز کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے اور گرین فیلڈ ریفائنری میں 50 فیصد پیٹروکیمیکل اور 50 فیصد پیٹرولیم ہوگا۔ ریکوڈک منصوبے پر نان ڈسکلوژر اگریمنٹ میں ہونے کی وجہ سے جلد مثبت خبر متوقع ہے۔بلوچستان کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے، مصدق ملک نے کہا کہ ان کا حل صرف ریکوڈک منصوبے میں نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کی فلاح و بہبود میں ہے۔ انہوں نے بلوچستان میں بیرونی مداخلت کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ فرنٹیئر ریجن میں کمپنیوں کو طے شدہ طریقے کے تحت سیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ سولر پر رپورٹ جلد وزیراعظم کو پیش کی جائے گی اور گیس پائپ لائن منصوبے پر جرمانے کے حوالے سے کوئی درست تخمینہ نہیں ہے۔
-

ربیع الاوّل کا چاند نظر نہیں آیا: ملک بھر میں 12 ربیع الاوّل 17 ستمبر کو منائی جائے گی
اسلام آباد: ملک بھر میں ربیع الاوّل کا چاند نظر نہیں آیا جس کے بعد مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد نے اعلان کیا کہ یکم ربیع الاوّل 6 ستمبر بروز جمعرات کو ہوگی، جبکہ 12 ربیع الاوّل بروز اتوار 17 ستمبر کو منائی جائے گی۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت مولانا عبدالخبیر آزاد نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین کے علاوہ مختلف سرکاری اداروں کے نمائندے بھی موجود تھے جن میں سپارکو، محکمہ موسمیات، اور وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے نمائندے شامل تھے۔ اجلاس میں ملک بھر سے موصول ہونے والی شہادتوں کا بغور جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کے اعلان کے مطابق ملک کے کسی بھی حصے سے ربیع الاوّل کا چاند نظر آنے کی کوئی مصدقہ شہادت موصول نہیں ہوئی، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کے ساتھ ساتھ زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس بھی اپنے مقررہ مقامات پر منعقد ہوئے۔ ان کمیٹیوں نے بھی چاند نظر آنے کے بارے میں اپنی رپورٹس مرکزی کمیٹی کو بھیجیں، لیکن کسی بھی علاقے سے چاند کی رویت کی تصدیق نہیں ہوئی۔
رویت ہلال کمیٹی کے ممبر شفیق پسروری نے لاہور سے بیان دیا کہ ربیع الاوّل کا چاند 3 ستمبر کو صبح 6 بجے پیدا ہو چکا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چاند کی عمر 36 گھنٹے سے زیادہ ہو چکی تھی، جو ایک بڑی عمر ہوتی ہے جس میں چاند نظر آنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ تاہم، لاہور میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود ہونے کی وجہ سے چاند نظر آنے کے امکانات کم تھے۔شفیق پسروری نے یہ بھی بتایا کہ بلوچستان کی ساحلی پٹی خصوصاً گوادر کے علاقے میں مطلع صاف تھا اور وہاں چاند نظر آنے کے امکانات زیادہ تھے۔ تاہم، ان علاقوں سے بھی کوئی مصدقہ شہادت موصول نہیں ہوئی۔
اس اجلاس میں سپارکو، محکمہ موسمیات، اور وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے نمائندوں نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور فلکیاتی ڈیٹا کے ذریعے چاند کی پیدائش اور اس کے نظر آنے کے امکانات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ چاند کی رویت کے لیے موسمی حالات، چاند کی عمر، اور اس کے افق پر موجود ہونے کی پوزیشن جیسے عوامل کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے تمام شرعی و سائنسی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس فیصلے کو قبول کریں اور کسی بھی غیر ضروری بحث میں نہ پڑیں۔
ملک بھر میں ربیع الاوّل کا چاند نظر نہیں آنے کے باعث یکم ربیع الاوّل 6 ستمبر بروز جمعرات کو ہوگی، جبکہ 12 ربیع الاوّل، جو کہ حضور پاک ﷺ کی ولادت باسعادت کا دن ہے، 17 ستمبر بروز اتوار کو منایا جائے گا۔ اس دن ملک بھر میں خصوصی تقریبات، میلاد کی محفلیں، اور جلوس منعقد کیے جائیں گے۔ عوام الناس سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس مقدس دن کو احترام اور عقیدت کے ساتھ منائیں۔ -

اسلام آباد: گرینڈ اپوزیشن الائنس تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ہنگامی اجلاس اختتام پذیر
اسلام آباد میں گرینڈ اپوزیشن الائنس تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ہنگامی اجلاس مکمل ہو گیا، جس میں مختلف سیاسی رہنما اور اہم شخصیات شریک ہوئے۔ اجلاس میں محمود خان اچکزائی، عمر ایوب، اسد قیصر، رؤف حسن، اور دیگر رہنما شامل تھے۔اجلاس کے دوران 8 ستمبر کو ہونے والے متوقع جلسے کی حکمت عملی پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ شرکاء نے ایوان کی آئندہ کی کارروائی اور سیاسی حکمت عملی پر بھی مشاورت کی۔ اجلاس میں اختر مینگل سے حالیہ ملاقات کے حوالے سے بھی اراکین کو آگاہ کیا گیا۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے اجلاس کے دوران سپریم کورٹ کی تباہی کی کوششوں کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا عندیہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو ہم احتجاجی تحریک کا آغاز کریں گے۔
اجلاس کے بعد عمر ایوب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف آئے روز وارنٹ گرفتاری جاری ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ وہ صبح اے ٹی سی سرگودھا میں پیشی کے لیے جائیں گے اور الائنس کی تمام تفصیلات مکمل ہو چکی ہیں۔ اسد قیصر نے بھی اجلاس کے دوران اختر مینگل سے ملاقات کا تذکرہ کیا، جس میں استعفیٰ واپس لینے کی درخواست کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اختر مینگل کو اپوزیشن گرینڈ الائنس میں مدعو کیا گیا تھا، مگر ان کی جگہ بی این پی کے ساجد ترین اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے۔اجلاس کے دوران ایک غیر متوقع واقعہ بھی پیش آیا، جب رؤف حسن اچانک اجلاس سے روانہ ہوگئے اور میڈیا سے کوئی بات چیت کیے بغیر وہاں سے چلے گئے۔ اس اقدام کی وجہ واضح نہیں ہے اور اس پر مزید تفصیلات کے منتظر ہیں۔ -

عمر فاروق ظہور کا ناروے کے ٹیبلائیڈ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ درج
پاکستانی نژاد معروف بزنس مین عمر فاروق ظہور نے ناروے کے مشہور ٹیبلائیڈ "ورڈنز گینگ” (VG) کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ٹیبلائیڈ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ عمر فاروق ظہور کو عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں کردار کے حوالے سے ہلال امتیاز کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔”وی جی” کے مضمون میں ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عمر فاروق ظہور کو ہلال امتیاز توشہ خانہ کیس کو بے نقاب کرنے پر دیا جا رہا ہے۔ مضمون میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمر فاروق ظہور 2010 میں ناروے میں نارڈیک بینک کے ساتھ "تقریباً 60 ملین نارویجن کرون” کے فراڈ میں مطلوب ہیں۔عمر فاروق ظہور نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ہلال امتیاز غیر ملکی سرمایہ کاری کی مد میں ملک میں "کروڑوں ڈالر” لانے کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ انہوں نے ٹیبلائیڈ کو بھیجے گئے قانونی نوٹس میں کہا ہے کہ مضمون میں ان کی نیک نیتی سے کی گئی سرمایہ کاری کی کوششوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
عمر فاروق ظہور نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ناروے میں موجود حکام کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور اس حوالے سے تحقیقات بہت پہلے ہی بند کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے 2020 اور 2021 کے دوران ناروے کے حکام کی جانب سے موصول ہونے والے خطوط کو بھی پیش کیا ہے جو ثابت کرتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی کیس نہیں ہے۔وی جی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ استوائی گنی کے صدر اوبیانگ نگوما مباسوگو نے گزشتہ سال عمر فاروق ظہور کو ایک تمغہ دیا تھا، جسے دنیا کے بدعنوان ترین صدور میں شمار کیا جاتا ہے۔ ٹیبلائیڈ نے اس تمغے کو ظہور کے پاکستان میں نامزد کیے جانے والے ایوارڈ سے جوڑتے ہوئے بدعنوانی سے متعلق الزامات عائد کیے ہیں۔ عمر فاروق ظہور نے اس دعوے کی بھی تردید کی ہے، اور کہا ہے کہ ان کا ایوارڈ صدر مباسوگو کی بدعنوانی سے کوئی تعلق نہیں۔عمر فاروق ظہور کے وکلاء نے وی جی کو قانونی نوٹس جاری کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مضمون کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور حقائق کی غلط رپورٹنگ اور توڑ مروڑ کر بدنام کرنے کے لیے معافی نامہ شائع کیا جائے۔ بصورت دیگر، قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔عمر فاروق ظہور کو اگلے سال 23 مارچ کو ہلال امتیاز سے نوازا جائے گا، جس کے حوالے سے ناروے کے ٹیبلائیڈ "وی جی” نے حالیہ رپورٹ میں متعدد الزامات عائد کیے ہیں۔ ظہور نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انہیں بدنام کرنے والے مواد کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔