واشنگٹن: امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے پاکستان اور ایران کے مابین گیس پائپ لائن منصوبے پر پابندیوں کے حوالے سے امریکی موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر امریکی پابندیاں جاری رہیں گی اور امریکہ ان ممالک کو متنبہ کرتا ہے جو ایران کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے پر غور کر رہے ہیں۔بزنس ریکارڈر کے مطابق، میتھیو ملر نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایک صحافی کے سوال کے جواب میں یہ بات کہی۔ صحافی نے سوال کیا کہ ایران نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ گیس پائپ لائن منصوبے کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکا تو ممکنہ طور پر 18 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، امریکا نے بھی پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اس منصوبے کو آگے بڑھائے گا تو اسے امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس سوال کے جواب میں، امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ امریکا کی پالیسی واضح ہے اور ہم ایران پر پابندیوں کو نافذ العمل رکھیں گے۔ ہم یقیناً ان ممالک اور افراد کو مشورہ دیتے ہیں جو ایران کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے پر غور کر رہے ہیں کہ وہ امریکی پابندیوں کے تناظر میں ممکنہ اثرات سے آگاہ رہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکومت کسی بھی ایسے معاہدے کی حوصلہ شکنی کرے گی جس سے ایران کو فائدہ پہنچے اور امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی ہو۔ "ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایران کے ساتھ کسی بھی تجارتی معاہدے پر غور کرنے سے پہلے تمام فریقین کو ممکنہ نتائج کا جائزہ لینا چاہیے۔تاہم، میتھیو ملر نے یہ بھی کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون کو ترجیح دیتا ہے اور پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا، "پاکستان کی توانائی کی کمی کو پورا کرنے میں مدد کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے اور ہم پاکستان کے ساتھ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے بات چیت جاری رکھیں گے۔
امریکی ترجمان کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکا، پاکستان کو ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے کی بجائے دیگر متبادل توانائی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ "ہم پاکستان کے ساتھ توانائی کے متبادل ذرائع پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کر سکے بغیر کہ وہ امریکی پابندیوں کا سامنا کرے۔امریکا کا موقف ایران کے ساتھ کسی بھی تجارتی معاہدے پر پابندیوں کا واضح پیغام دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی وہ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بھی بہتر بنانا چاہتا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن، اسلام آباد کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے اور خطے میں ایرانی اثر و رسوخ کو کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر عملدرآمد نہیں کرتا تو اسے ممکنہ طور پر 18 ارب ڈالر کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ منصوبہ 1995 سے دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم موضوع رہا ہے، جس کا مقصد ایران کی گیس کو پاکستان کے ذریعے بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچانا تھا، لیکن امریکی پابندیاں اور بین الاقوامی دباؤ اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے ہیں۔پاکستان کے لیے یہ ایک نازک صورتحال ہے جہاں اسے ایک طرف ایرانی دباؤ کا سامنا ہے تو دوسری طرف امریکی پابندیوں کے خطرے کا۔ اس وقت پاکستان کے لیے دانشمندانہ فیصلہ یہی ہوگا کہ وہ امریکی حمایت یافتہ متبادل توانائی کے ذرائع پر غور کرے تاکہ اسے نہ تو ایران کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے اور نہ ہی امریکی پابندیوں کے زیر اثر آئے۔امریکی وزارت خارجہ کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ اپنی ایران مخالف پالیسی پر کاربند رہے گا، جبکہ پاکستان کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔ یہ ایک پیچیدہ سفارتی مسئلہ ہے جو آنے والے دنوں میں مزید گرم جوشی اختیار کر سکتا ہے۔
Author: صدف ابرار
-

امریکی وزارت خارجہ نے پاکستان-ایران گیس منصوبے پر پابندیوں سے خبردار کردیا
-

مولانا فضل الرحمان کا وفاقی شریعت عدالت کے سودی نظام کے خلاف اپیلوں کی جلد نمٹانے کا مطالبہ
اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وفاقی شریعت عدالت کے سودی نظام کے خاتمے کے فیصلے کے خلاف بینکوں کی دائر کردہ اپیلوں کو جلد نمٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے چیف جسٹس آف پاکستان، قاضی فائز عیسیٰ کے نام ایک خط میں اس بات پر زور دیا کہ وفاقی شریعت عدالت نے گزشتہ سال اپنے فیصلے میں حکم دیا تھا کہ ملک کا مالیاتی نظام پانچ سال کے اندر سود سے پاک کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف مختلف بینکوں کی اپیلیں زیر التوا ہیں اور ان کو جلد از جلد نمٹایا جانا چاہیے تاکہ عدالت کا فیصلہ عملی طور پر نافذ ہو سکے۔مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ سود سے پاک مالیاتی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے عملی اقدامات کرے۔ اس کے علاوہ، خط میں مولانا فضل الرحمان نے ختم نبوت ﷺ کے حوالے سے چیف جسٹس کے حالیہ مختصر فیصلے کی تعریف کی اور کہا کہ تفصیلی فیصلہ جلد جاری کرنے سے مسلمانوں میں مکمل اطمینان پیدا ہوگا۔
-

سونے کی قیمت میں مزید کمی، فی تولہ 2 لاکھ 60 ہزار 100 روپے ہوگئی
سونے کی قیمت میں مزید کمی واقع ہوئی ہے، جس سے فی تولہ سونا 2 لاکھ 60 ہزار 100 روپے کا ہوگیا ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق، سونے کی فی تولہ قیمت میں 1400 روپے کی کمی ہوئی ہے، جس کے بعد 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 1200 روپے کی کمی ہوئی، اور یہ 2 لاکھ 22 ہزار 994 روپے ہوگئی۔سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ چاندی کی فی تولہ قیمت میں 50 روپے کی کمی ہوئی ہے، جس کے بعد چاندی کی فی تولہ قیمت 2900 روپے ہوگئی ہے۔ اسی طرح 10 گرام چاندی کی قیمت 2486.28 روپے کی سطح پر آگئی ہے۔عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں کمی دیکھی گئی ہے۔ سونا 17 ڈالر سستا ہوکر 2481 ڈالر فی اونس کا ہوگیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی فی تولہ قیمت میں ایک ہزار روپے کی کمی ہوئی تھی۔ اس طرح دو روز کے دوران سونے کی فی تولہ قیمت میں مجموعی طور پر 2400 روپے کی کمی ہوئی ہے، جبکہ 10 گرام سونا 1200 روپے سستا ہو چکا ہے۔سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اس کمی سے مارکیٹ میں خرید و فروخت پر اثر پڑنے کا امکان ہے، اور عوام کو اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ -

متحدہ عرب امارات میں ویزا ایمنسٹی اسکیم کا آغاز
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے غیر ملکیوں کے لیے ویزا ایمنسٹی اسکیم کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو قانونی رہائشی حیثیت حاصل کرنے کا سنہری موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ یہ اسکیم خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ہے جو قانونی طور پر یو اے ای میں داخل ہوئے تھے لیکن بعد میں ویزا کی تجدید نہیں کرا سکے۔اماراتی امیگریشن حکام نے کہا کہ یہ ایمنسٹی اسکیم ان لوگوں کے لیے نہایت مفید ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے ویزا کی تجدید نہیں کروا سکے اور غیر قانونی طور پر رہائش پذیر ہیں۔ اس اسکیم کے تحت غیر قانونی رہائشیوں کو قانونی حیثیت دلانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے، جس سے نہ صرف انہیں قانونی تحفظ حاصل ہوگا بلکہ وہ ملکی ترقی میں بھی بہتر کردار ادا کر سکیں گے۔اس اسکیم کے تحت، اب غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو نئے اماراتی ویزے لینے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی اور نہ ہی انہیں ٹریول بین یا بھاری جرمانے کے خوف میں مبتلا ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ اقدام یو اے ای حکومت کی جانب سے ایک مثبت اور اہم قدم ہے، جس کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو قانونی رہائشی بنانے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی مزید مضبوط کرنا ہے۔
یو اے ای بھر میں ویزا ایمنسٹی اسکیم کے حوالے سے مختلف مقامات پر کیمپس قائم کیے گئے ہیں جہاں غیر قانونی رہائشی اپنی قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لیے رہنمائی اور مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کیمپس میں نہ صرف قانونی حیثیت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں بلکہ وطن واپسی یا نئی نوکری کے مواقع بھی موجود ہیں۔ اس اسکیم کے تحت، جو لوگ اپنی رہائش قانونی بنانے کے خواہشمند ہیں، وہ ان کیمپس میں جا کر اپنی درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔اماراتی حکام نے غیر قانونی رہائشیوں کے لیے پُرکشش آفر پیش کی ہے کہ وہ خود کو قانونی رہائشی بنائیں۔ اس آفر کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو نہ صرف قانونی حیثیت دی جائے گی بلکہ انہیں ملک میں قیام کے دوران مختلف سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔ اس اقدام سے یو اے ای میں مقیم غیر قانونی افراد کو ایک نیا آغاز کرنے کا موقع ملے گا اور وہ ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکیں گے۔یہ ویزا ایمنسٹی اسکیم متحدہ عرب امارات میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے لیے ایک بہترین موقع ہے تاکہ وہ اپنی رہائش کو قانونی بنا سکیں اور ملک میں اپنی زندگی کو بہتر بنا سکیں۔ اماراتی حکومت کے اس قدم کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے، جو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی جانب ایک اہم اقدام ہے۔ -

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا اختر مینگل اور بلوچستان مسائل پر بیان
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت اختر مینگل سے رابطہ کرے گی کیونکہ وہ دوستوں کے منانے سے راضی ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اختر مینگل کے موقف کا احترام کیا جائے۔ رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان سے مسلم لیگ (ن) کے اچھے تعلقات ہیں اور ان کے ساتھ ملاقاتیں جاری رہیں گی۔رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مذاکرات کی ممکنہ عدم موجودگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ محمود اچکزئی سے مذاق کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچکزئی کا کہنا ہے کہ اگر سب مل کر بیٹھیں تو معاملہ آگے بڑھ سکتا ہے۔
دوسری جانب، سعد رفیق نے اختر مینگل کے قومی اسمبلی سے استعفے کو وفاق کے لیے برا شگون قرار دیتے ہوئے کہا کہ استعفے کو مؤخر کیا جائے اور بات چیت کی جائے۔ انہوں نے بلوچستان کے مسائل کو سنگین قرار دیا اور کہا کہ مسئلہ پسندیدہ سیاسی کھلاڑیوں کے ذریعے حل نہیں ہوگا۔رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ نوازشریف اور محمود اچکزئی دونوں چاہتے ہیں کہ سب سے بات ہو، اور اسی بنیاد پر مزید رابطے کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے سیاستدانوں کو مذاکرات کرنے کی ہدایت دی ہے اور مذاکرات میں رکاوٹ صرف پی ٹی آئی کے بانی ہیں۔ شہبازشریف نے بھی کبھی نہیں کہا کہ پہلے معافی مانگی جائے۔سعد رفیق نے بلوچستان کے درد کو ناسور قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی سر تک آ چکا ہے اور کوئی جامع منصوبہ بندی نظر نہیں آ رہی۔ -

خیبرپختونخوا اسمبلی میں نئی کمیٹیوں کی تشکیل، مختلف شعبوں کے لیے اراکین کا اعلان
خیبرپختونخوا اسمبلی میں مختلف امور کے لیے کمیٹیوں کی تشکیل دے دی گئی ہے۔ اسمبلی کے اعلامیے کے مطابق کئی اہم کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، جن میں مختلف اراکین اسمبلی شامل ہیں جو مختلف شعبہ جات کی نگرانی اور امور کی دیکھ بھال کریں گے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کے اعلامیے کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جو 15 اراکین پر مشتمل ہوگی۔ اس کمیٹی کے چیئرپرسن کے طور پر سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کو مقرر کیا گیا ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا بنیادی مقصد حکومتی اخراجات کا آڈٹ کرنا اور مالی بے ضابطگیوں کی روک تھام کرنا ہے۔ لوکل گورنمنٹ، الیکشنز، اور رورل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے لیے 12 ممبران پر مشتمل سٹینڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کے چیئرپرسن ریاض خان ایم پی اے مقرر ہوئے ہیں۔ یہ کمیٹی مقامی حکومتوں کے نظام، انتخابات، اور دیہی ترقی کے معاملات کی نگرانی کرے گی۔
آبپاشی کے معاملات کی دیکھ بھال کے لیے سٹینڈنگ کمیٹی آن اریگیشن ڈیپارٹمنٹ میں 11 ممبران کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی کے چیئرپرسن ممبر صوبائی اسمبلی طفیل انجم مقرر ہوئے ہیں۔ یہ کمیٹی صوبے کے آبی وسائل اور آبپاشی کے نظام کی نگرانی کرے گی۔سٹینڈنگ کمیٹی ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز کے لیے 12 ممبران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کے رکن طارق سعید کو اس کمیٹی کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی کا مقصد صوبے کے اندرونی سیکورٹی اور قبائلی علاقوں سے متعلقہ امور کی دیکھ بھال کرنا ہے۔صحت کے شعبے کے لیے سٹینڈنگ کمیٹی آن ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ 14 اراکین پر مشتمل ہوگی، اور اس کے چیئرپرسن مشتاق احمد غنی ہوں گے۔ یہ کمیٹی صحت کی سہولیات کی بہتری، اسپتالوں کے انتظامات، اور صحت سے متعلقہ پالیسیوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گی۔
کلائمٹ چینج اور فارسٹری کے امور کی نگرانی کے لیے 11 ممبران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کے چیئرپرسن محمد عارف مقرر ہوئے ہیں۔ کمیٹی ماحولیاتی تبدیلیوں، جنگلات کی حفاظت، اور جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق امور پر کام کرے گی۔اعلامیے کے مطابق ہائر ایجوکیشن، آرکائیو، اور لائبریری کے لیے بھی 11 ممبران پر مشتمل سٹینڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کے چیئرپرسن محمد انور خان ہوں گے۔ یہ کمیٹی اعلیٰ تعلیمی اداروں کی کارکردگی، ریسرچ کے فروغ، اور تعلیمی پالیسیوں کی بہتری پر کام کرے گی۔کمیونیکیشن اور ورکس ڈیپارٹمنٹ کے لیے بھی 13 ممبران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کے چیئرپرسن ایم پی اے مشتاق غنی ہوں گے۔ کمیٹی انفراسٹرکچر کی تعمیر و مرمت اور مواصلاتی نظام کی بہتری کے حوالے سے منصوبہ بندی کرے گی۔زرعی شعبے کے لیے سٹینڈنگ کمیٹی برائے ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ تشکیل دی گئی ہے، جس میں 11 ممبران شامل ہیں اور ایم پی اے عبدالسلام کو اس کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی زراعت کی ترقی، کسانوں کے مسائل کے حل، اور زرعی پالیسیوں کے نفاذ پر توجہ دے گی۔
ہاؤس اور لائبریری کے معاملات کی نگرانی کے لیے بھی 11 ممبران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کے چیئرپرسن ڈپٹی سپیکر مقرر ہوئے ہیں۔قانونی اصلاحات اور سب آرڈینیٹ لیجسلیشن کے کنٹرول کے لیے 14 اراکین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کے چیئرپرسن سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی ہوں گے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کی کمیٹیوں کی تشکیل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسمبلی اپنے کام کو مؤثر طریقے سے منظم کرنے کے لیے مختلف شعبوں میں ماہر اراکین کو شامل کر رہی ہے، تاکہ صوبے کی حکومتی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
-

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زیادہ کمی واقع
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد تیل کی قیمتیں 9 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ خبر ایجنسی کے مطابق، برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 4.5 فیصد کم ہو کر 74.02 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے۔ یہ کمی عالمی معیشت پر خاصا اثر انداز ہو رہی ہے، کیونکہ تیل کی قیمتوں میں کمی عالمی توانائی مارکیٹ میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق، تیل کی قیمتوں میں اس کمی کی بڑی وجہ لیبیا کے حریف گروپوں کے درمیان مفاہمت میں پیش رفت ہے۔ طویل عرصے سے لیبیا میں حریف سیاسی گروپوں کے درمیان تیل کے منافع اور مرکزی بینک پر کنٹرول کے حوالے سے شدید تنازعات جاری تھے۔ ان تنازعات کے نتیجے میں ملک کی بڑی بندرگاہوں سے تیل کی برآمدات پیر کے روز سے معطل ہیں، جس نے عالمی مارکیٹ میں بے یقینی کی صورتحال پیدا کر دی تھی۔تاہم، حالیہ پیش رفت کے مطابق، لیبیا کے حریف گروپوں کے درمیان مفاہمت کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ فریقین کے درمیان جاری تنازع کے حل کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ لیبیا میں تیل کی پیداوار اور برآمدات دوبارہ شروع ہو سکیں گی۔
لیبیا، جو کہ افریقہ کے اہم ترین تیل پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے، کی بندرگاہوں پر جاری تنازعے کے حل ہونے سے تیل کی عالمی سپلائی لائن بحال ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، جس کا براہ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ماہرین کے مطابق، لیبیا کے حریف گروپوں کے درمیان مفاہمت کی پیش رفت نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا سبب بنا ہے۔ یہ پیش رفت بین الاقوامی توانائی مارکیٹ کے لیے خوش آئند ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ لیبیا کی تیل کی برآمدات کی بحالی سے عالمی تیل کی سپلائی میں استحکام آئے گا۔بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی سے نہ صرف صارفین کو ریلیف ملے گا، بلکہ اس سے معیشت کے دیگر شعبوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اس بات کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان جاری رہے گا یا نہیں، اس کا انحصار لیبیا کے سیاسی استحکام اور دیگر بین الاقوامی عوامل پر ہوگا۔ -

بابر اعظم کی ریٹائرمنٹ کی افواہیں: سوشل میڈیا پر میمز اور جعلی خبریں وائرل
راولپنڈی ٹیسٹ میں بنگلادیش ٹیم کے ہاتھوں قومی ٹیم کی شکست کے بعد سوشل میڈیا پر افواہوں اور میمز کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ وائٹ بال کپتان بابر اعظم کی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کی خبریں تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔بابر اعظم کی بنگلادیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ناقص کارکردگی کے باعث انہیں شدید تنقید کا سامنا ہے، اور سوشل میڈیا پر ان کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے جعلی پوسٹیں اور میمز گردش کرنے لگی ہیں۔ ان میں سے کچھ پوسٹس اور میمز اس قدر حقیقی معلوم ہوئیں کہ کرکٹ شائقین بھی دھوکہ کھا گئے۔بابر اعظم کی مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے ان کے ناقدین نے ان کی ریٹائرمنٹ کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔ دوسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں وہ محض 11 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے تھے، جبکہ انہوں نے پچھلی 106 ٹیسٹ اننگز میں صرف 331 رنز بنائے ہیں، جن میں کوئی نصف سنچری شامل نہیں ہے۔سوشل میڈیا پر کرکٹ شائقین دو حصوں میں تقسیم ہو گئے ہیں؛ ایک طرف کچھ صارفین بابر اعظم کو ریٹائرمنٹ کا مشورہ دے رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف کچھ لوگ ان سے مزید محنت کرکے بہتر کارکردگی دکھانے کی توقع کر رہے ہیں۔
-

طوفانی بارشیں: اسلام آباد ایئرپورٹ رن وے پر پھسلن کا خدشہ
اسلام آباد میں جاری طوفانی بارشوں کے باعث اسلام آباد ایئرپورٹ کے رن وے پر پھسلن کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس سے طیاروں کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے دوران حادثات کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے تمام ایئرلائنز کے پائلٹس کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ طیاروں کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے دوران غیر معمولی احتیاط برتیں۔سی اے اے کے حکام کے مطابق، اسلام آباد ایئرپورٹ کے رن وے نمبر 18 ایل پر موسلادھار بارشوں کی وجہ سے پانی جمع ہو گیا ہے، جس کے باعث رن وے پر پھسلن پیدا ہو گئی ہے۔ اس بات کا خدشہ ہے کہ رن وے گیلا ہونے کی وجہ سے طیارے لینڈنگ کے دوران پھسل سکتے ہیں، جس سے حادثات کا امکان بڑھ سکتا ہے۔سی اے اے کے ترجمان نے اس حوالے سے بتایا کہ اتھارٹی نے نوٹس ٹو ایئر مین (نوٹم) جاری کر دیا ہے، جس کے تحت تمام ایئرلائنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مون سون کی بارشوں کے دوران اسلام آباد ایئرپورٹ کے رن وے پر لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے محتاط رہیں۔
ترجمان کے مطابق، نوٹم جاری کرنے کا مقصد طیاروں کی محفوظ لینڈنگ اور ٹیک آف کو یقینی بنانا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے حادثے سے بچا جا سکے۔سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان نے مزید کہا کہ ایئرپورٹ کے عملے کو بھی ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ رن وے کی صورت حال کا مسلسل جائزہ لیں اور پانی کی نکاسی کے نظام کو فعال رکھیں تاکہ رن وے کو جلد از جلد خشک کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، ایئرپورٹ کے ایمرجنسی ریسپانس یونٹس کو بھی تیار رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی غیر معمولی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔اسلام آباد ایئرپورٹ پر مون سون بارشوں کے دوران طیاروں کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت ایک اہم اقدام ہے، جس سے ہوابازی کے شعبے میں حفاظتی معیارات کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے بلکہ ہوائی جہازوں کی آپریشنل کارکردگی کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ -

یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل کا غزہ کی صورتحال پر تشویشناک بیان
یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے غزہ کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے خصوصی کو آرڈینیٹر برائے مڈل ایسٹ پیس پراسیس ٹور وینیسلینڈ کی جانب سے غزہ کے دورے کے بعد دی گئی گواہی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جوزپ بوریل نے اپنے بیان میں زور دیتے ہوئے کہا کہ "اگر ٹور وینیسلینڈ کے بیان کے بعد بھی جنگ بندی نہیں ہوتی، تو اس کا مطلب مہلک تباہی، محرومی، اور وبا ہو گا۔ معصوم متاثرین، اسرائیلی یرغمالی، اور فلسطینی شہریوں کی کبھی نہ ختم ہونے والی سنگین گنتی جاری رہے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں جاری جنگ زندگی کے امکانات کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔
اقوام متحدہ کے خصوصی کوآرڈینیٹر برائے مڈل ایسٹ پیس پراسیس، ٹور وینیسلینڈ نے غزہ کے حالیہ دورے کے بعد اپنی آنکھوں دیکھی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا، "آج، میں غزہ سے واپس آیا ہوں، اور میں نے وہاں خود دشمنی کے تباہ کن اثرات کا مشاہدہ کیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "یہاں تباہی کا پیمانہ بہت زیادہ ہے۔ انسانی ضروریات بڑھ رہی ہیں، اور شہری اس تنازع کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔”
ٹور وینیسلینڈ نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ غزہ میں موجودہ حالات انتہائی ابتر ہیں۔ بنیادی انسانی ضروریات میں شدید اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے امداد کی بھی شدید ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "غزہ کے شہری اس تنازع کے بدترین اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بے شمار املاک تباہ ہو چکی ہیں، اور بے گناہ شہریوں کی جانیں جا رہی ہیں۔”غزہ کی تباہ کن صورتحال کو دیکھتے ہوئے، جوزپ بوریل نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری اقدامات کریں تاکہ اس تباہی اور انسانی بحران کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ "جنگ بندی کا نہ ہونا نہ صرف فلسطینیوں کے لیے بلکہ اسرائیلی شہریوں کے لیے بھی خطرناک ہے۔”
یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ نے زور دیا کہ تمام فریقین کو فوری طور پر جنگ بندی کرنی چاہیے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعے کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ "اگر تنازعہ جاری رہتا ہے تو اس کے نتائج نہ صرف علاقائی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔جوزپ بوریل نے عالمی برادری کے کردار پر بھی زور دیا اور کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ بین الاقوامی ادارے، بالخصوص اقوام متحدہ، اس تنازعے کے حل کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا، "ہمیں فوری طور پر انسانیت کے لیے کام کرنا ہو گا، کیونکہ مزید تاخیر مزید جانی و مالی نقصان کا سبب بنے گی۔”
غزہ کی صورتحال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے، اور عالمی برادری کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے۔ جوزپ بوریل کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو انسانی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور متعلقہ فریقین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کی جانب بڑھیں اور اس خطے میں امن و استحکام کے لیے کوششیں تیز کریں۔