Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • سندھ اسمبلی میں غیر قانونی مہاجرین کے مسئلے پر شدید گرما گرمی

    سندھ اسمبلی میں غیر قانونی مہاجرین کے مسئلے پر شدید گرما گرمی

    کراچی: سندھ اسمبلی کے اجلاس میں غیر قانونی مہاجرین کی موجودگی کے مسئلے پر سخت بحث چھڑ گئی، جس سے ایوان کا ماحول انتہائی تلخ ہوگیا۔ پیپلزپارٹی کی رکن ماروی راشدی کے بیان نے ایوان میں تناؤ پیدا کردیا، جس میں انہوں نے بہاریوں کو غیرقانونی مہاجرین قرار دیا، جس پر ایم کیو ایم کے ارکان نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پیپلزپارٹی کی رکن ہیر سوہو نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف تحریک التوا پیش کی، جس پر بحث کے دوران کئی ارکان نے اپنے تحفظات اور خیالات کا اظہار کیا۔ ماروی راشدی نے بحث کے دوران کہا کہ افغان، بنگالی، برمی اور بہاریوں نے سندھ کو "عالمی یتیم خانہ” سمجھ رکھا ہے، جس سے سندھ کے وسائل پر غیر ضروری بوجھ پڑ رہا ہے۔ماروی راشدی کے اس بیان پر ایم کیو ایم کے ارکان نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بہاریوں کو غیرقانونی مہاجر کہنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ یہ سندھ کی مہاجر برادری کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ ایوان میں موجود ایم کیو ایم کے اراکین نے مطالبہ کیا کہ بہاریوں کو غیر قانونی مہاجرین کے زمرے میں نہ رکھا جائے اور ان کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے۔

    تحریک التوا پر بحث مکمل ہونے کے بعد سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ صوبے میں موجود غیر قانونی تارکین وطن کو فوری طور پر ان کے وطن واپس بھیجا جائے۔ اس موقع پر وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ سندھ غیر قانونی تارکین وطن کا بوجھ مزید برداشت نہیں کرسکتا۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور جلد از جلد اقدامات کرے۔جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے بھی غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیجنے کی حمایت کی، تاہم انہوں نے ساتھ ہی بنگلہ دیش میں مقیم بہاریوں کو باعزت طور پر وطن واپس لانے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں مقیم بہاری پاکستانی شہری ہیں اور انہیں باعزت طریقے سے وطن واپس لایا جائے تاکہ وہ اپنی زندگی کی نئی شروعات کرسکیں۔سندھ اسمبلی کی یہ کارروائی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ صوبے میں غیر قانونی تارکین وطن کی موجودگی کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور اسے حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایوان میں ہونے والی گرما گرم بحث اور تلخ ماحول اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ مسئلہ سندھ کی سیاست میں کتنی اہمیت رکھتا ہے اور اسے جلد از جلد حل کرنا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔

  • مذاکرات کے دروازے کھلے ہے ، ریاست مظلوم کے ساتھ  کھڑی ہوگی: سرفراز بگٹی

    مذاکرات کے دروازے کھلے ہے ، ریاست مظلوم کے ساتھ کھڑی ہوگی: سرفراز بگٹی

    بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا سیاسی سرمایہ ریاست کے مفادات سے بڑھ کر نہیں ہے۔ یہ بیان انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے بلوچستان کے موجودہ سیاسی اور سیکیورٹی حالات پر بات کی، خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز اور صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے کیے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے ان کی حکومت ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے، اور مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، لیکن اس بات پر زور دیا کہ ریاست کو ظالم کے ساتھ نہیں کھڑا ہونا چاہیے بلکہ مظلوم کے ساتھ ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے سیاسی مقاصد ریاست کے مفادات سے بڑھ کر نہیں ہیں، اور اگر ریاست کی ضرورت ہو تو دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری رہنا چاہیے۔
    وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں دو مختلف اسکول آف تھاٹ موجود ہیں: ایک وہ جو آزاد بلوچستان کی بات کرتے ہیں اور ملک کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں، اور دوسرا وہ جو مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر مذاکرات کون کرنا چاہتا ہے؟ اور کہا کہ دہشت گردی کو حقوق سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ غلط ہے۔ سرفراز بگٹی نے گزشتہ حکومتوں کی خراب حکمرانی کو موجودہ حالات کی بنیادی وجہ قرار دیا اور کہا کہ کچھ عناصر پاکستان کا پرچم اتار کر اپنا ترانہ گانے کی کوشش کرتے ہیں اور انہیں پرامن کہہ کر پیش کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ پرامن نہیں ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، لیکن پرتشدد احتجاج کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں بدانتظامی کی بیخ کنی کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی، اور بیڈ پریکٹسز کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں 846 ملازمین بھرتی کیے گئے تھے جو کہ غیر ضروری تھے، اور کہا کہ یہ ایک مثال ہے کہ کس طرح سرکاری وسائل کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ صوبے میں چیک پوسٹیں جان بوجھ کر ختم کی گئیں تاکہ عوام کو سہولت فراہم کی جا سکے، لیکن کچھ عناصر فورسز کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سے قبل، وزیراعلیٰ نے آئی جی بلوچستان پولیس معظم جاہ انصاری سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے جرائم پیشہ افراد کی پروفائلنگ کو اپ ڈیٹ کرنے اور تھانوں میں فوری رابطہ کاری کو فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔سرفراز بگٹی نے پولیس کے تربیتی کورسز کو حالات حاضرہ سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تفتیش کے عمل کو بہتر بنا کر دہشت گردی اور جرائم میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پولیس کو مطلوبہ وسائل فراہم کرے گی لیکن کارکردگی کا مستقل جائزہ بھی لیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے سی ٹی ڈی کے متحرک کردار کو سراہا اور اس کو مزید فعال بنانے کے لیے وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس کے اعلامیے کے مطابق، وزیراعلیٰ نے آئی جی بلوچستان کو ہدایت کی کہ اغواء برائے تاوان اور قبضہ مافیا کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے اور قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ وزیراعلیٰ نے پولیس کو آزادانہ ماحول میں اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کی حمایت فراہم کرنے کا عزم بھی کیا تاکہ صوبے میں دہشت گردی کے چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

  • فیض حمید کے وعدہ معاف گواہ بننے کی پیشگوئی نہیں کرسکتا، وزیر دفاع خواجہ آصف

    فیض حمید کے وعدہ معاف گواہ بننے کی پیشگوئی نہیں کرسکتا، وزیر دفاع خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے وعدہ معاف گواہ بننے کی پیشگوئی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ خود بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو معلوم ہے کہ جنرل فیض حمید کی ساری کہانی کا کُھرا بالآخر بانی پی ٹی آئی کی طرف جائے گا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی جو کچھ بھی کرتے رہے ہیں، اس سب سے فیض حمید بخوبی باخبر ہیں۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ معاملات زیادہ عرصہ معلق نہیں رہیں گے، سب کچھ چند دنوں میں طے ہو جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی سیاست میں حالیہ تنازعات جلد ہی حل ہو سکتے ہیں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی رہنما حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کریں۔خواجہ آصف نے کہا کہ اختر مینگل کو انگیج کرنا ضروری ہے اور ان کے خدشات کو دور کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنا استعفیٰ واپس لیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اختر مینگل سے بات چیت ہوسکتی ہے اور کرنی چاہیے تاکہ بلوچستان کے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔
    وزیر دفاع نے کہا کہ اختر مینگل کے ذریعے بلوچستان کے مسائل حل کرنے کی بات کہلوائی جانی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان کی بہتری کے کئی مواقع ضائع کیے گئے، جس کے باعث وہاں محرومیوں نے جنم لیا اور ملک دشمن عناصر کو تقویت ملی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ان تمام وجوہات کو ختم کرنا چاہیے جن کی وجہ سے بلوچستان میں مسائل ہو رہے ہیں۔وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی میں اس وقت چار گروپ بن چکے ہیں اور پی ٹی آئی کے رہنما سیاسی جماعتوں سے بات کرنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والے بار بار اسٹیبلشمنٹ کو آوازیں لگاتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک سیاسی جماعتوں کی وقعت نہیں ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اسٹیبلشمنٹ ان مذاکرات میں شامل ہونا چاہتی ہو۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ نواز شریف نے کسی میٹنگ میں ایسی کوئی بات نہیں کی جیسا تاثر دیا جا رہا ہے۔
    خواجہ آصف نے کہا کہ اگر محمود اچکزئی سیاسی جماعتوں سے بات کرتے ہیں تو ہم خیر مقدم کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر محمود اچکزئی کے ساتھ کچھ باتوں پر اتفاق ہوتا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بانی پی ٹی آئی اسے مانیں گے۔ محمود اچکزئی نے بھی کہا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔وزیر دفاع نے پی ٹی آئی کی حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کھربوں روپے خیبر پختونخوا (کے پی) میں دفن ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے سازشیں اور وارداتیں کی ہیں اور 2018 میں آر ٹی ایس (رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم) بٹھا کر انہیں جتوایا گیا، جو کہ باجوہ اور فیض کا مشترکہ منصوبہ تھا۔خواجہ آصف کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی سیاست میں موجودہ صورتحال کے بارے میں ان کے خیالات کتنے شدید ہیں اور وہ کس حد تک حکومت کی موجودہ پالیسیوں اور فیصلوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی استحکام کے لیے بات چیت اور مذاکرات کا راستہ اپنانا ضروری ہے، اور یہ بات واضح ہے کہ وہ سیاسی بحران کے حل کے لیے مختلف فریقین کے درمیان مکالمے کے حامی ہیں۔

  • وزارت خزانہ نے نئے ملازمین کے لئے  نئی  اسکیم متعارف کرادی

    وزارت خزانہ نے نئے ملازمین کے لئے نئی اسکیم متعارف کرادی

    وزارت خزانہ نے نئے بھرتی ہونے والے ملازمین کے لیے کنٹری بیوٹری پینشن فنڈ اسکیم متعارف کرادی ہے، جس کا اطلاق یکم جولائی 2024 سے ہوگا۔ یہ اسکیم خصوصی طور پر سول ملازمین کے لیے ترتیب دی گئی ہے، جبکہ افواج پاکستان میں بھرتی ہونے والے ملازمین پر اس کا اطلاق یکم جولائی 2025 سے ہوگا۔وزارت خزانہ کے مطابق، اس اسکیم کے تحت نئے بھرتی ہونے والے ملازمین کو اپنی بنیادی تنخواہ کا 10 فیصد پینشن فنڈ میں حصہ ڈالنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی وفاقی حکومت بھی اس اسکیم میں شامل ہوگی اور اس کے تحت 20 فیصد کی شراکت ادا کرے گی۔یہ نئی اسکیم حکومت کی طرف سے پینشن کے نظام میں اصلاحات کے سلسلے میں ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد ملازمین کی مالی حفاظت کو بہتر بنانا ہے۔
    کنٹری بیوٹری پینشن فنڈ اسکیم کے ذریعے ملازمین کے لیے ایک مستحکم اور محفوظ پینشن نظام فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جو انہیں مستقبل میں مالی مشکلات سے بچانے میں مدد فراہم کرے گا۔ وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق، اس اسکیم کے تمام انتظامی امور کو سنبھالنے کے لیے تفصیلی رہنمائی اور طریقہ کار جلد ہی فراہم کیا جائے گا تاکہ ملازمین کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس اقدام کے تحت، توقع ہے کہ عوامی سیکٹر کے ملازمین کی مالی حالات میں بہتری آئے گی اور ان کی پنشن کے نظام میں پائیداری آئے گی، جو کہ سرکاری ملازمین کے معاشی تحفظ کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

  • کانگو: جیل توڑنے کی کوشش کے دوران بھگدڑ اور پولیس فائرنگ سے 129 قیدی ہلاک

    کانگو: جیل توڑنے کی کوشش کے دوران بھگدڑ اور پولیس فائرنگ سے 129 قیدی ہلاک

    افریقی ملک کانگو کے دارالحکومت کنشاسا میں واقع مرکزی مکالا جیل میں جیل توڑنے کی کوشش کے دوران شدید بھگدڑ مچنے اور پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے کم از کم 129 قیدی ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ جیل سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران پیش آیا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق، ہلاک ہونے والے قیدیوں میں سے بیشتر کی موت بھگدڑ کی وجہ سے ہوئی، جبکہ 24 قیدیوں کی موت جیل حکام کی انتباہی گولیوں سے ہوئی۔ واقعے میں 59 قیدی زخمی ہوئے ہیں جن کا علاج مقامی اسپتال میں جاری ہے۔
    کانگو کے وزیر داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق جیل توڑنے کی کوشش کے دوران پولیس اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں بعض قیدی ہلاک ہوئے۔ حکام نے بتایا کہ قیدیوں کے فرار کی کوشش کے دوران خواتین کے ساتھ ریپ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جو کہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق، مکالا جیل میں قیدیوں کی گنجائش 1,500 ہے، لیکن جیل میں اس وقت 12,000 سے زائد قیدیوں کو رکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے جیل میں شدید overcrowding (بہت زیادہ قیدیوں کا جمع ہونا) کا مسئلہ درپیش ہے۔یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جب مکالا جیل میں قیدیوں نے فرار کی کوشش کی ہو۔ 2017 میں ایک مذہبی تنظیم نے مکالا جیل پر حملہ کرکے درجنوں قیدیوں کو فرار کروا دیا تھا، جو کہ اس جیل کی سیکیورٹی کی پچھلی ناکامیوں کی عکاسی کرتا ہے۔

  • راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں عمران خان سے وکلاء رہنماؤں کی ملاقات

    راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں عمران خان سے وکلاء رہنماؤں کی ملاقات

    راولپنڈی میں واقع اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے ان کے وکلاء رہنماؤں نے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد وکیل انتظار پنجوتھہ نے میڈیا کو تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو اس بات کا خدشہ ہے کہ انہیں ملٹری کورٹس میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔انتظار پنجوتھہ اور ان کے ہمراہ وکیل علی اعجاز بٹر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملاقات کے دوران عمران خان کے مختلف کیسز پر بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں ملٹری کورٹس کے حوالے سے دی گئی درخواست پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری استدعا تھی کہ ہماری درخواست کی سماعت فوری طور پر کی جائے، لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے درخواست پر اعتراضات عائد کیے گئے ہیں۔
    انتظار پنجوتھہ نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کسی سویلین کا کیس ملٹری کورٹ میں نہیں چلایا جا سکتا۔ عمران خان نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ ایک سابق وزیر اعظم کو ملٹری کورٹ میں لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔وکیل رہنما نے یہ بھی بتایا کہ عمران خان نے نیب ترامیم سے متعلق فیصلے کی جلد سماعت کی ضرورت پر زور دیا۔ مزید برآں، ملاقات میں القادر ٹرسٹ کیس اور مخصوص نشستوں کے کیسز پر بھی بات چیت ہوئی۔ عمران خان نے کہا کہ مخصوص نشستوں کا فیصلہ بھی جلد ہونا چاہیے۔

  • عوامی نیشنل پارٹی کا  خیبرپختونخوا میں کرپشن پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا اعلان

    عوامی نیشنل پارٹی کا خیبرپختونخوا میں کرپشن پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا اعلان

    عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سنگین مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے وائٹ پیپر جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے صوبائی ترجمان ارسلان خان ناظم نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ موجودہ حکومت کرپشن کے خلاف کارگر اقدامات کرنے کی بجائے خود کرپشن میں ملوث ہو چکی ہے۔ارسلان خان ناظم نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کے وزراء اور وزیر اعلیٰ ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں، جو کہ حکومت کی ناکامی اور بدانتظامی کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ اور ان کے بھائی صوبے میں جاری منظم کرپشن کے ماسٹر مائنڈ ہیں، اور چوری کے مال پر لڑائیاں جاری ہیں۔
    ترجمان نے مزید کہا کہ حکومت کے اراکین ایک دوسرے پر الزامات لگا کر عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، صوبے میں سیکرٹریز، ڈی سی، اور اے سی کی تقرریوں کے ریٹ فکس کیے جا چکے ہیں، اور اساتذہ کے تبادلوں سے لے کر اہم سرکاری عہدوں، لیز، اور ٹھیکوں تک پیسے لیے جا رہے ہیں۔ارسلان خان ناظم نے محکمہ صحت کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا، کہ وہاں ادویات اور میڈیکل گلوز کی خریداری میں بھی کرپشن کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیڈ گورننس کی وجہ سے سرکاری ادارے کمزور ہوتے جا رہے ہیں اور عوام کا اعتماد حکومت پر سے اٹھتا جا رہا ہے۔یہ بیان اس وقت آیا ہے جب پی ٹی آئی نے اپنی احتساب کمیٹی کا نام تبدیل کیا ہے، جسے عوامی نیشنل پارٹی نے بھی کرپشن کے حوالے سے ایک اور سرکاری اقدام کے طور پر دیکھا ہے۔

  • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا برطانیہ کا 5 روزہ دورہ

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا برطانیہ کا 5 روزہ دورہ

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار 4 سے 8 ستمبر 2024 تک برطانیہ کا سرکاری دورہ کریں گے۔ اس دورے کے دوران نائب وزیراعظم برطانوی حکومتی اور کمیونٹی نمائندوں سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔دورے کے پہلے دن نائب وزیراعظم اسحاق ڈار برطانوی وزیر خارجہ انجیلا رینر سے ملاقات کریں گے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، تجارتی مواقع، اور دیگر اہم امور پر تفصیلی مذاکرات کیے جائیں گے۔دورے کے دوران، اسحاق ڈار پارلیمنٹ کے اراکین اور برطانوی پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد برطانوی پاکستانی کمیونٹی کی مشکلات، مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے بات چیت کرنا ہے، نیز دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔اسحاق ڈار کے دورے کے دوران توقع ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی، اور ثقافتی تعاون میں اضافہ ہوگا، جس سے پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ چیلنجز اور مواقع پر بات چیت کا موقع ملے گا، اور اس کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کی کوششیں کی جائیں گی۔

  • محکمہ ایکسائز کا نیا مالیاتی ہدف: 65 ارب روپے وصول کرنے کا منصوبہ

    محکمہ ایکسائز کا نیا مالیاتی ہدف: 65 ارب روپے وصول کرنے کا منصوبہ

    محکمہ ایکسائز نے رواں مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کا بڑا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے تحت 65 ارب روپے سے زائد جمع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ ہدف گزشتہ سال کے مقابلے میں 22 ارب روپے زیادہ ہے، جو کہ 30 فیصد اضافے کے برابر ہے۔محکمہ ایکسائز کے مطابق، اس مالی سال میں لاہور ریجن کو سب سے بڑا ٹارگٹ دیا گیا ہے، جس کے تحت ساڑھے 31 ارب روپے سے زائد کی وصولی کی توقع ہے۔ لاہور ریجن کو پراپرٹی ٹیکس، موٹر ٹیکس، پروفیشنل ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں مجموعی طور پر 31 ارب 70 کروڑ روپے سے زائد کا ہدف دیا گیا ہے۔ لاہور کے مختلف سب ریجنز کو بھی مخصوص ہدف دیے گئے ہیں، جن میں لاہور موٹر برانچ کو 13 ارب روپے، لاہور ریجن اے کو 5 ارب 37 کروڑ روپے، لاہور ریجن بی کو 10 ارب روپے، اور لاہور ریجن ڈی کو 3 ارب 35 کروڑ روپے کا ہدف شامل ہے۔
    فیصل آباد ریجن کے لیے 7 ارب 31 کروڑ روپے اور ملتان کے لیے 4 ارب روپے سے زائد کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اعداد و شمار کے مطابق، ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 3 ارب 84 کروڑ روپے، پروفیشنل ٹیکس میں 1 ارب 65 کروڑ روپے، کاٹن فیس کی مد میں 25 کروڑ روپے اور لگژری ہاؤسز سے 15 کروڑ روپے کا ٹیکس وصول کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔پچھلے مالی سال میں، محکمہ ایکسائز نے ساڑھے 43 ارب روپے کا ہدف حاصل کیا تھا، جو کہ 100 فیصد تک پہنچا تھا۔ اس سال کے ہدف کے حصول کے لیے، محکمہ نے ٹیکسز کی مختلف اقسام کے تحت ریجنز کو ہدف تفویض کر دیے ہیں، اور محکمہ کی جانب سے بھرپور کوشش کی جائے گی کہ یہ ہدف کامیابی سے حاصل کیا جا سکے۔

  • پی ڈبلیو ڈی کی بندش کے خلاف ملازمین کا احتجاج، مذاکرات کے بعد ٹریفک بحال

    پی ڈبلیو ڈی کی بندش کے خلاف ملازمین کا احتجاج، مذاکرات کے بعد ٹریفک بحال

    اسلام آباد: پاکستان ورکس ڈپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) کی بندش کے خلاف احتجاج کرنے والے ملازمین اور اسلام آباد پولیس کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں، جس کے بعد پی ڈبلیو ڈی ملازمین نے جی نائن ون کے راستے کو ٹریفک کے لیے کھول دیا ہے۔ اس دوران ٹریفک دونوں اطراف سے اپنے معمول کے مطابق رواں دواں ہے، جبکہ پی ڈبلیو ڈی کے ملازمین اپنے گھروں کو واپس روانہ ہوگئے ہیں۔ تاہم، مختلف شہروں سے آئے ہوئے ملازمین پی ڈبلیو ڈی کے دفتر میں ہی قیام پذیر رہیں گے۔منگل کے روز پاکستان ورکس ڈپارٹمنٹ کے ملازمین نے ادارے کی ممکنہ بندش کے خلاف اسلام آباد میں بھرپور احتجاج کیا۔ اس دوران مظاہرین کی بڑی تعداد نے پاک پی ڈبلیو ڈی آفس کے باہر دھرنا دے دیا، جس کی وجہ سے علاقے میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا۔ احتجاج کے دوران ماحول کشیدہ ہوگیا، اور صورتحال نے میدان جنگ کا منظر پیش کیا۔احتجاج کے دوران مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور ادارے کی ممکنہ بندش کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ پی ڈبلیو ڈی ملازمین نے اس موقع پر کہا کہ ان کا احتجاج حکومت کی جانب سے ادارے کی بندش کے فیصلے کے خلاف ہے، جس سے ہزاروں ملازمین کے روزگار کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔
    احتجاج کے دوران پی ڈبلیو ڈی کے آفس کے باہر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہوگیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی، جس کے بعد مظاہرین منتشر ہو کر سری نگر ہائی وے کی طرف روانہ ہوگئے۔ آنسو گیس کی شیلنگ کے بعد کچھ دیر کے لیے صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی، تاہم مظاہرین نے کسی بھی قسم کی بدمزگی سے بچنے کے لیے ہائی وے کا راستہ اختیار کیا۔ پی ڈبلیو ڈی کے مظاہرین اور اسلام آباد پولیس کے درمیان مذاکرات ہوئے، جس کے نتیجے میں دونوں فریقین کے درمیان معاملات طے پاگئے۔ مذاکرات کے کامیاب ہونے کے بعد جی نائن ون کے راستے کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا، اور ٹریفک دونوں اطراف سے بحال ہوگئی۔پی ڈبلیو ڈی ملازمین نے اعلان کیا ہے کہ وہ ادارے کی بندش کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ پرامن طریقے سے اپنے مطالبات کو سامنے رکھیں گے۔ احتجاجی مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پی ڈبلیو ڈی کی بندش کے فیصلے کو واپس لے اور ملازمین کے روزگار کو تحفظ فراہم کرے۔یہ احتجاج حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے، اور پی ڈبلیو ڈی ملازمین کی جانب سے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے مزید پیشرفت کا امکان ہے۔