Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • بنگلہ دیش:سابق ڈی جی ایف آئی محمد سیفُ الاسلام  کے بینک اکاؤنٹ معطل

    بنگلہ دیش:سابق ڈی جی ایف آئی محمد سیفُ الاسلام کے بینک اکاؤنٹ معطل

    بنگلہ دیش فنانشل انٹیلیجنس یونٹ (BFIU) نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فورسز انٹیلیجنس (DGFI) کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سیفُ الاسلام کے زیر ملکیت بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔یہ حکم نامہ ان کی اہلیہ، بچوں اور ان کے زیرِ ملکیت کسی بھی کاروباری ادارے کے بینک اکاؤنٹس کی معطلی کو بھی شامل کرتا ہے۔منگل کے روز، بی ایف آئی یو نے ملک بھر کے تمام بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے انہیں ان اکاؤنٹس کو منجمد کرنے کی ہدایت کی۔متعلقہ ذاتی اکاؤنٹس کے ذریعے لین دین معطل ہو جائیں گے، اور آئندہ 30 دن تک کسی بھی قسم کے لین دین کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس مدت کو ضرورت پڑنے پر مزید بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔بی ایف آئی یو کی ہدایت کے مطابق، ان اکاؤنٹس کی معطلی کے لیے منی لانڈرنگ کے خلاف ضوابط کا اطلاق ہوگا۔نوٹیفکیشن میں محمد سیفُ الاسلام کے والد اے کے ایم رفیق الاسلام، والدہ رابعہ اسلام، اور اہلیہ لبنا افروز کے علاوہ ان کے قومی شناختی معلومات بھی شامل ہیں۔ بی ایف آئی یو نے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نوٹیفکیشن کی تاریخ سے پانچ کاروباری دن کے اندر تمام متعلقہ اکاؤنٹ معلومات اور دستاویزات، جیسے کہ اکاؤنٹ اوپننگ فارم، کے وائی سی کی تفصیلات، اور لین دین کے ریکارڈ، فراہم کریں۔

  • وزیراعظم کی ایم کیو ایم وفد سے ملاقات، سندھ کے لیے ترقیاتی فنڈز کی یقین دہانی

    وزیراعظم کی ایم کیو ایم وفد سے ملاقات، سندھ کے لیے ترقیاتی فنڈز کی یقین دہانی

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ایم کیو ایم پاکستان کے وفد سے ملاقات کے دوران سندھ کے شہری علاقوں کے لئے ترقیاتی فنڈز فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے وفد کی قیادت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کی جبکہ دیگر اراکین میں مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار، امین الحق، اور جاوید حنیف شامل تھے۔ حکومت کی جانب سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ، اور اعظم نذیر تارڑ بھی ملاقات میں موجود تھے۔ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران ایم کیو ایم وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے آئینی ترامیم اور کراچی، حیدرآباد سمیت سندھ کے دیگر شہروں کے لیے ترقیاتی فنڈز کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے سندھ کے شہری علاقوں کی ترقی کے لئے فنڈز فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
    ملاقات کے دوران ایم کیو ایم کے وفد نے بجلی کے نرخوں میں کمی کے مطالبے پر بھی زور دیا۔ اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی کے نرخوں میں کمی کے لئے مل کر کام کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ مزید برآں، ایم کیو ایم نے وزیراعظم سے اپنے لاپتہ کارکنان کی جلد بازیابی کا مطالبہ بھی پیش کیا۔اس ملاقات کے نتیجے میں وزیراعظم نے ایم کیو ایم کے مطالبات کے حل کے لئے سنجیدگی سے اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی، جس سے ایم کیو ایم اور حکومت کے درمیان تعاون کی فضا مضبوط ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • اسلام آباد: محمود خان اچکزئی اور شاہد خاقان عباسی کی اہم ملاقات، آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر اتفاق

    اسلام آباد: محمود خان اچکزئی اور شاہد خاقان عباسی کی اہم ملاقات، آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر اتفاق

    اپوزیشن اتحاد کے سربراہ اور سینئر سیاستدان محمود خان اچکزئی نے سابق وزیر اعظم اور عوامی نیشنل پارٹی کے قائد شاہد خاقان عباسی سے ایک اہم ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات اسلام آباد میں ہوئی، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ملک کو درپیش پیچیدہ مسائل کے حل کے لئے مختلف تجاویز پر غور کیا۔ یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے اور اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کے امکانات پر غور کر رہی ہیں۔تحریک تحفظ پاکستان کے ترجمان اخوند زادہ حسین یوسفزئی نے میڈیا کو بتایا کہ ملاقات کے دوران دونوں سینئر سیاسی رہنماؤں نے ملک کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں ایک آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائی جائے تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر قومی مفادات کے تحفظ کے لئے مشترکہ حکمت عملی بنائی جا سکے۔

    ذرائع کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کے عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی پالیسیز بنائی جائیں جو عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کارگر ثابت ہوں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں نے عوام کو بے پناہ مشکلات میں مبتلا کیا ہے، اور اس کا سدباب کرنے کے لئے اپوزیشن جماعتوں کو متحد ہونا پڑے گا۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں سیاسی غیر یقینی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے اور مختلف جماعتیں ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لئے مختلف تجاویز پیش کر رہی ہیں۔ محمود خان اچکزئی اور شاہد خاقان عباسی کی ملاقات کو سیاسی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس ملاقات کے بعد اپوزیشن جماعتیں ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کریں گی۔آئندہ آنے والے دنوں میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا جا سکتا ہے، جس میں ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو مدعو کیا جائے گا۔ اس کانفرنس کا مقصد ملک کو درپیش سیاسی اور معاشی چیلنجز پر بات چیت کرنا اور ان کے حل کے لئے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا ہوگا۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی اور شاہد خاقان عباسی کی ملاقات موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اتحاد مزید مستحکم ہو سکتا ہے۔

  • ایم ڈی سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ عمران منیار کا استعفیٰ قبول

    ایم ڈی سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ عمران منیار کا استعفیٰ قبول

    سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) عمران منیار نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جسے کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے قبول کر لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ہنگامی اجلاس پیر، 2 ستمبر 2024 کو شام 4 بجے منعقد ہوا۔ اجلاس میں عمران منیار کے استعفے پر غور کیا گیا اور بالآخر اسے منظور کر لیا گیا۔اجلاس کے بعد سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران منیار نے ذاتی وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دیا ہے، اور ان کا کمپنی کے ساتھ آخری دن 13 ستمبر 2024 ہوگا۔ عمران منیار کے استعفے کے بعد بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے نئے منیجنگ ڈائریکٹر کی تقرری کے لئے مختلف ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔یہ استعفیٰ ایسے وقت میں آیا ہے جب سوئی سدرن گیس کمپنی پہلے ہی مالی مشکلات اور گیس کی فراہمی کے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ عمران منیار کی قیادت میں کمپنی نے کئی چیلنجز کا سامنا کیا، جن میں گیس کی قلت، صارفین کو بلنگ کے مسائل، اور کمپنی کے اندرونی معاملات کی تنظیم نو شامل ہیں۔
    عمران منیار، جو گزشتہ تین سالوں سے سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے ایم ڈی کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، نے اپنی مدت کے دوران کمپنی میں مختلف اصلاحات متعارف کروائیں۔ انہوں نے گیس کے نظام کی بہتری، صارفین کی سہولیات میں اضافہ، اور کمپنی کی مالی حالت کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ تاہم، ان کی قیادت کے دوران کمپنی کو مختلف مسائل کا سامنا رہا، جس میں گیس کی کمی اور بڑھتی ہوئی آپریشنل لاگتیں شامل ہیں۔بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کے بعد، کمپنی کے چیئرمین نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران منیار کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ان کے کردار کو سراہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی جلد ہی نئے منیجنگ ڈائریکٹر کی تقرری کا اعلان کرے گی تاکہ کمپنی کے معاملات بہتر انداز میں چل سکیں اور صارفین کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے ملازمین اور متعلقہ حلقے بھی عمران منیار کے استعفے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ کچھ ملازمین نے ان کی کارکردگی کو سراہا، جبکہ بعض نے ان کی پالیسیوں پر تنقید بھی کی۔ کمپنی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے ایم ڈی کے آنے کے بعد کمپنی کی سمت میں مزید تبدیلیاں متوقع ہیں۔

  • میاں جاوید لطیف کا پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت

    میاں جاوید لطیف کا پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت

    مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں جاوید لطیف نے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاہم انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے نجی نیوز چینل کے پروگرام گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "77 سال میں سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر بات چیت کرتی رہی ہیں، ان 77 سال میں مٹھائیاں تقسیم ہوتی رہی ہیں، اب بھی تقسیم ہوں گی۔میاں جاوید لطیف نے مولانا فضل الرحمان اور محمود اچکزئی کے جائز مطالبات کو پورا کرنے کی بھی حمایت کی اور کہا کہ "جو پارٹیاں اکثریت میں ہیں، مخصوص سیٹیں ان کو ملنی چاہئیں۔ جن کی حمایت سے لوگ منتخب ہو کر آئے ہیں، ان کو مخصوص سیٹیں ملنی چاہئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی دو تہائی اکثریت کے لیے نمبرز پورے کیے جاتے رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر نمبرز پورے ہو جاتے ہیں۔ میاں جاوید لطیف نے سوال اٹھایا کہ "کون سے قانون میں ہے کہ 6 ماہ بعد پہلے والا حلف نامہ کینسل کرکے دوسرا جمع کروایا جائے؟ کیا اسی فیصلے میں لکھا ہوا نہیں ہے کہ 3 دن میں حلف نامہ جمع کروانا ہے؟ دنیا میں کہیں ایسا ہوتا نہیں ہے، کیوں ایسا کیا جا رہا ہے؟میاں جاوید لطیف کی جانب سے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت پر زور ان کی سیاسی حکمت عملی اور ترجیحات کو واضح کرتی ہے۔

  • بانی پی ٹی آئی جلد جیل سے باہر ہوں گے، جلسہ منسوخ نہیں ہوگا، بیرسٹر گوہر علی

    بانی پی ٹی آئی جلد جیل سے باہر ہوں گے، جلسہ منسوخ نہیں ہوگا، بیرسٹر گوہر علی

    اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی جلد جیل سے رہا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر اور باہر موجودہ حالات کے باوجود تحریک انصاف اپنے اصولی موقف پر قائم رہے گی۔بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ 8 ستمبر کو ہونے والا جلسہ ہر حال میں ہوگا اور کسی صورت منسوخ نہیں کیا جائے گا۔ اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ اگر جلسہ منسوخ ہوگیا تو کون بتائے گا؟ جس پر بیرسٹر گوہر نے دوٹوک جواب دیا کہ جلسہ منسوخ نہیں ہوگا اور اس سلسلے میں کوئی بھی افواہیں بے بنیاد ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں، جس میں صحافی نے مولانا فضل الرحمان اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات کے بارے میں پوچھا تھا، چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اس ملاقات کو تحریک انصاف سے راستے جدا ہونے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو ایک معتبر لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے سب کے ساتھ تعلقات ہیں اور وہ مختلف معاملات میں بات چیت کرتے ہیں۔ گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ "ایسے راستے جدا نہیں ہوتے، مولانا ایک لیڈر ہے اور ان کے سب کے ساتھ تعلقات ہیں۔
    پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کے ممبران پارلیمنٹ (ایم این ایز) کو خود یہ نہیں معلوم ہوتا کہ وہ کونسا بل پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ قانون سازی آئین اور قانون کے مطابق ہونی چاہیے اور حکومت کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ کسی بھی غیر آئینی اقدام سے باز رہے۔بیرسٹر گوہر علی خان نے پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے ان کے خلاف چلائی جانے والی مہمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر قسم کے پروپیگنڈے کا خاتمہ ہونا چاہیے اور پارٹی کو ایک متحدہ اور مضبوط موقف کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔

  • امریکہ نے وینزویلا کے صدر کا طیارہ قبضے میں لے لیا، دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ

    امریکہ نے وینزویلا کے صدر کا طیارہ قبضے میں لے لیا، دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ

    واشنگٹن: امریکہ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے زیر استعمال ایک اہم طیارہ ڈومینیکن ریپبلک میں امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزام میں ضبط کر لیا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے سی این این کے مطابق، یہ طیارہ، جسے وینزویلا کا "ایئر فورس ون” بھی سمجھا جاتا ہے، پیر کے روز امریکی ریاست فلوریڈا منتقل کر دیا گیا۔ ضبط شدہ طیارہ Dassault Falcon 900 ہے، جس کی مالیت تقریباً 13 ملین ڈالر ہے۔ پرواز کے ریکارڈ کے مطابق، یہ طیارہ حالیہ مہینوں میں ڈومینیکن ریپبلک میں موجود تھا۔ امریکی حکام نے طیارے کی وہاں موجودگی کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی، لیکن ڈومینیکن ریپبلک کی حکومت نے امریکہ کو طیارے کو قبضے میں لینے کا موقع فراہم کیا۔ امریکی حکام کے مطابق، اس طیارے کی ضبطی ایک غیر معمولی اقدام ہے، جس کا مقصد وینزویلا کو ایک مضبوط پیغام دینا ہے کہ امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امریکی حکام نے کہا، "غیر ملکی سربراہ مملکت کے طیارے پر قبضہ کرنا مجرمانہ معاملات پر اب تک کا سب سے بڑا ایکشن ہے۔
    یہ قدم امریکی وفاقی ایجنسیوں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے، جن میں ہوم لینڈ سیکیورٹی انویسٹی گیشن، کامرس ایجنٹس، بیورو آف انڈسٹری اینڈ سیکیورٹی، اور محکمہ انصاف شامل ہیں۔ امریکی حکام نے بتایا کہ انہوں نے ڈومینیکن ریپبلک کے ساتھ مل کر کارروائی کی، جس نے وینزویلا کو طیارے کی ضبطی سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا۔ امریکی حکام نے وینزویلا پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزیوں کے تحت طیارے اور دیگر اثاثوں کو ضبط کرنے کے عمل کو ایک "واضح پیغام” قرار دیا ہے۔ سی این این کے مطابق، ایک امریکی عہدیدار نے کہا، "یہ کارروائی ظاہر کرتی ہے کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے اور امریکی پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرنے والے ہر شخص کے لیے یہ ایک انتباہ ہے۔امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات پہلے ہی سے کشیدہ ہیں، اور اس اقدام سے ان تعلقات میں مزید خرابی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ برسوں سے، امریکی حکام وینزویلا کی حکومت کو ملنے والے اربوں ڈالر کے بہاؤ میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی انویسٹی گیشنز، جو کہ وفاقی حکومت کی دوسری سب سے بڑی تفتیشی ایجنسی ہے، نے وینزویلا جانے والی درجنوں لگژری گاڑیاں اور دیگر اثاثے بھی ضبط کیے ہیں۔
    حال ہی میں، امریکہ نے وینزویلا کی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے صدارتی انتخابات کے حوالے سے مخصوص اعداد و شمار کو "فوری طور پر” جاری کرے۔ امریکہ نے انتخابات میں طاقتور رہنما نکولس مادورو کی جیت کی ساکھ کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ رواں سال کے شروع میں، امریکہ نے وینزویلا کے تیل اور گیس کے شعبے پر دوبارہ پابندیاں عائد کیں، جس کی وجہ مادورو حکومت کی جانب سے "ایک جامع اور مسابقتی انتخابات” کی اجازت دینے میں ناکامی بتائی گئی ہے۔وینزویلا کی حکومت نے حالیہ کشیدگی کے جواب میں ڈومینیکن ریپبلک سے آنے اور جانے والی تجارتی پروازیں معطل کر دی تھیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طیارے کی ضبطی سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے، جو پہلے ہی اقتصادی اور سیاسی اختلافات کی وجہ سے کافی سرد مہری کا شکار ہیں۔یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس اقدام کے بعد وینزویلا کی حکومت کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے، جبکہ امریکہ اپنی پابندیوں اور دباؤ کی حکمت عملی کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ حالیہ پیشرفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کس حد تک خراب ہو چکے ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید کشیدگی کا امکان موجود ہے۔

  • جے  یو آئی کسی کے ساتھ نہیں، ہم صرف عوام کے ساتھ ہیں،حافظ حمد اللہ کا دعویٰ

    جے یو آئی کسی کے ساتھ نہیں، ہم صرف عوام کے ساتھ ہیں،حافظ حمد اللہ کا دعویٰ

    پاکستان کی سیاسی جماعت جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سینئر رہنما حافظ حمد اللہ نے واضح کر دیا ہے کہ ان کی جماعت کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ نہیں ہے بلکہ وہ صرف عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ بیان انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران دیا۔حافظ حمد اللہ نے 2024 کے انتخابات کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ الیکشن نہیں بلکہ "آکشن” تھا۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے حکومت کو سپورٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اپوزیشن میں بیٹھے گی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کے حوالے سے بھی وضاحت کی کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ان کا اتحاد ایشو ٹو ایشو ہے، اور اسمبلی کے اندر ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔حافظ حمد اللہ نے حکومت سے ججز کی تعداد بڑھانے کی ضرورت کے حوالے سے سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ ججز کی تعداد بڑھانے کی کیا ضرورت پیش آئی اور اس کے وقت کی نوعیت کو بھی دیکھنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اس معاملے پر جے یو آئی کو قائل کر لے تو وہ اس کی حمایت کر سکتے ہیں۔
    انہوں نے پی ٹی آئی کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنما ملاقات کرنے بار بار آتے ہیں لیکن پی ٹی آئی کی قیادت کو فیصلہ کن قوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی اصل فیصلہ کن قوت ہیں اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے مؤقف الگ الگ ہیں، جس کی وجہ سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ ان سے بات کی جائے یا نہیں۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما مہر بانو قریشی نے جے یو آئی کے مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی نے سیاسی شناخت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا مؤقف اپنایا ہے، جو حقیقی اور درست بھی ہے۔ انہوں نے اپنے والد شاہ محمود قریشی کی گرفتاری کے حوالے سے کہا کہ انہیں کس بنیاد پر جیل میں رکھا گیا ہے، جب کہ 9 مئی کے واقعے کے وقت وہ لاہور میں موجود ہی نہیں تھے۔ مہر بانو قریشی نے مزید کہا کہ حکومتی بینچز پر بیٹھی جماعتیں فارم 47 کی پیداوار ہیں۔حافظ حمد اللہ اور مہر بانو قریشی کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کافی پیچیدہ ہے، جہاں جماعتیں اپنی شناخت اور مؤقف کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کے بیانات سے یہ بھی عیاں ہے کہ آئندہ سیاسی منظرنامہ مختلف نوعیت کا ہو سکتا ہے، جس میں نئی حکمت عملی اور اتحاد کے امکانات موجود ہیں۔

  • پی ٹی آئی کی سیاست کا اختتام قریب، قیادت شدید فرسٹریشن کا شکار ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی کی سیاست کا اختتام قریب، قیادت شدید فرسٹریشن کا شکار ہے،عرفان صدیقی

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سر پر تلوار لٹک رہی ہے، اور ایسے حالات میں ان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت کے بیانات صرف مقدمات کے خوف سے دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سر پر مقدمات کی تلوار لٹک رہی ہے اور انہیں بخوبی علم ہے کہ 9 مئی کے واقعات کا منطقی انجام قریب ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما ان معاملات کو دبانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کی باتیں کر رہے ہیں، مگر ن لیگ کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔عرفان صدیقی نے کہا کہ "ن لیگ کے اجلاس میں تین الفاظ کا کوئی تذکرہ نہیں ہوا، پی ٹی آئی کی باتوں میں کبھی صداقت نہیں ہوتی، اچکزئی کے ذریعے پی ٹی آئی سے مذاکرات کی کوئی بات نہیں ہوئی، اور نہ ہی پی ٹی آئی سے مذاکرات ہو سکتے ہیں، اور نہ ہی بانی پی ٹی آئی کا کسی نے نام لیا۔
    عرفان صدیقی نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "پی ٹی آئی والے خوابوں کی دنیا میں رہتے ہیں، دروازے پر ذرا سی آہٹ ہو تو ان کی باچھیں کھل جاتی ہیں، کوئی ان کے دروازے پر دستک دینے نہیں جا رہا۔” انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کو اب اس حقیقت کا سامنا کرنا پڑے گا کہ سیاسی میدان میں ان کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی، اور ان کی بوئی ہوئی فصل کٹنے کے قریب آچکی ہے۔عرفان صدیقی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر پی ٹی آئی کے اراکین آئین میں ترمیم کے کسی بل کی حمایت کرتے ہیں تو انہیں نااہلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اراکین پر شدید سیاسی دباؤ موجود ہے اور ان کے پاس آگے بڑھنے کے لیے محدود راستے ہیں۔عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی والے شدید فرسٹریشن کا شکار ہیں کیونکہ انہیں یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کی سیاست کا اختتام قریب آ رہا ہے۔ انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ 9 مئی منطقی انجام کو پہنچنے والا ہے، مقدمات کے خوف سے کہتے ہیں اسٹیبلشمنٹ سے بات ضروری ہے۔عرفان صدیقی کے ان بیانات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت پی ٹی آئی کے ساتھ کسی بھی طرح کے مذاکرات کی سخت مخالف ہے اور وہ پی ٹی آئی کی موجودہ صورتحال کو سیاسی طور پر ختم ہوتا ہوا دیکھ رہی ہے۔ عرفان صدیقی کے بیانات پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کی کوششوں کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو اپنی موجودہ سیاسی حکمت عملی پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔

  • پشاور: بلدیاتی نمائندوں کا وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے 4 ستمبر کو دھرنے کا اعلان

    پشاور: بلدیاتی نمائندوں کا وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے 4 ستمبر کو دھرنے کا اعلان

    خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نمائندے وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے 4 ستمبر کو دھرنا دینے کا اعلان کر رہے ہیں۔ صوبائی ایکشن کونسل کے چیئرمین حمایت اللہ مایار نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ کیے گئے وعدے پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔یہ اعلان مئیر پشاور کے دفتر میں صوبائی ایکشن کونسل کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت حمایت اللہ مایار نے کی۔ اجلاس میں میئر پشاور زبیر علی سمیت دیگر بلدیاتی نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 4 ستمبر کو دھرنے میں صوبے بھر سے ویلیج کونسلز، تحصیل سطح کے چیئرمین، میئرز اور مقامی حکومتوں کے نمائندے شریک ہوں گے۔ دھرنا صبح 10 بجے سے سہ پہر ایک بجے تک جناح پارک میں ہوگا، جس کے بعد مظاہرین وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے سی ایم سیکرٹریٹ کے سامنے دھرنا دیں گے۔
    حمایت اللہ مایار نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں مذکراتی اور انتظامی کمیٹیوں سمیت مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، اور پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتیں اور آزاد بلدیاتی نمائندے اس دھرنے میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق، نگران اور موجودہ حکومتوں نے فنڈز اور اختیارات دینے کے وعدے کیے لیکن ان پر عمل نہیں کیا، جس کی وجہ سے پورا بلدیاتی نظام مفلوج ہوچکا ہے۔ مایار کا کہنا ہے کہ دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت تحریری صورت میں اختیارات اور فنڈز کے حوالے سے اعلامیہ جاری نہیں کرتی۔