Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • برطانوی حکومت نے اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی عارضی طور پر روک دی

    برطانوی حکومت نے اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی عارضی طور پر روک دی

    لندن: برطانوی حکومت نے پیر کو ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے اسرائیل کو اسلحہ کی کچھ اقسام کی برآمدات عارضی طور پر روک دی ہیں۔ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے امکان کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔برطانوی سیکریٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی نے اس فیصلے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ہتھیاروں کے استعمال سے "واضح خطرہ” ہے کہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے قانون سازوں کو آگاہ کیا کہ یہ فیصلہ 350 برآمدی لائسنسوں میں سے 30 لائسنسوں پر مبنی ہے، جن میں فوجی طیاروں اور ڈرونز کے پرزے اور زمینی ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہونے والی اشیاء شامل ہیں۔اس اقدام کا مقصد غزہ میں جاری تنازعے کے دوران استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی روک تھام ہے۔ برطانیہ، جو اسرائیل کے دیرینہ اتحادیوں میں شامل ہے، پر غزہ میں جاری جنگ کی وجہ سے ہتھیاروں کی برآمدات روکنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اسرائیل نے حماس کے زیر انتظام علاقے میں فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 40,000 سے زیادہ فلسطینیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

    برطانوی حکومت کے مطابق، اسرائیل کو ہتھیاروں اور پرزوں کی فروخت کی مقدار نسبتاً کم ہے، اور اس سال کے شروع میں 2022 میں یہ برآمدات 42 ملین پاؤنڈ (53 ملین ڈالرز) تک پہنچ گئی تھیں۔جولائی میں منتخب ہونے والی برطانوی سنٹر لیفٹ لیبر حکومت کو اسرائیل پر تشدد روکنے کے لیے مزید دباؤ کا سامنا ہے۔ پارٹی کے اراکین اور قانون سازوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت اسرائیل پر اضافی دباؤ ڈالے۔ کیئر اسٹارمر کی قیادت میں لیبر پارٹی نے انتخابات میں کئی نشستیں کھو دیں، اور اسٹارمر نے ابتدائی طور پر اسرائیل کی طرف سے 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کا بدلہ لینے کے بعد جنگ بندی کا مطالبہ کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس کی وجہ سے پارٹی کو نقصان اٹھانا پڑا۔لیبر حکومت نے اپنے قدامت پسند پیشرو رشی سنک کی حکومت کے فیصلوں سے اختلاف کرتے ہوئے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت کی درخواست میں مداخلت نہ کرنے کا اعلان کیا۔ مزید برآں، اسٹارمر نے اقوام متحدہ کی فلسطین ریلیف ایجنسی UNRWA کے لیے فنڈنگ بحال کی، جسے سنک کی حکومت نے جنوری میں معطل کر دیا تھا۔ڈیوڈ لیمی نے غزہ میں تشدد کی صورتحال کو "خوفناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی جانوں کا بے پناہ نقصان ہوا ہے، بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر تباہی کا سامنا ہے، اور لوگوں کو بے پناہ مصائب کا سامنا ہے۔ لیمی نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ وہ اسرائیل کے دوست ہیں، لیکن انسانی حقوق کے تحفظ کی خاطر اس اقدام کا حصہ ہیں۔

  • قومی اسمبلی اجلاس: وزیر دفاع اور قائد حزب اختلاف کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ

    قومی اسمبلی اجلاس: وزیر دفاع اور قائد حزب اختلاف کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں انکشاف کیا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما رؤف حسن این آر او کے لیے حکومت سے رابطے میں ہیں، اور بانی پی ٹی آئی بھی فوج کے ساتھ مذاکرات کی خواہش رکھتے ہیں۔ خواجہ آصف نے زور دیا کہ نو مئی کے واقعات کا حساب کتاب کیے بغیر کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی اس وقت این آر او کی طلب گار ہے اور بانی پی ٹی آئی اندرونی طور پر فوج کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن وہ سیاسی جماعتوں سے بات چیت نہیں کرنا چاہتے۔
    قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے نہ ماضی میں این آر او لیا اور نہ آئندہ لیں گے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر بن جائیں گے تو پاکستان کی عزت میں اضافہ ہوگا۔اجلاس میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما محمود خان اچکزئی نے تجویز پیش کی کہ ملک کے موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی قوتیں مل بیٹھیں اور آئین کی بالادستی پر اتفاق کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ سے بھی مذاکرات کیے جائیں۔ اس دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس کو منگل کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا۔یہ بیانات ملکی سیاست میں جاری کشیدگی اور مذاکرات کی اہمیت پر ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔

  • ذوالفقار بھنڈر نے قومی اسمبلی میں حلف اٹھا لیا،

    ذوالفقار بھنڈر نے قومی اسمبلی میں حلف اٹھا لیا،

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رکن ذوالفقار بھنڈر نے حلف اٹھا لیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ذوالفقار بھنڈر سے حلف لیا۔ حلف برداری کی تقریب کے دوران ایوان کا ماحول خاصا گرما گرم رہا۔ذوالفقار بھنڈر کی حلف برداری کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان اسمبلی نے بھرپور نعرے بازی کی۔ پی ٹی آئی ارکان نے ایوان میں "مینڈیٹ چور” کے نعرے لگائے، جس سے ایوان کا ماحول مزید کشیدہ ہو گیا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں این اے-79 کے حلقے میں دوبارہ گنتی کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ذوالفقار احمد بھنڈر کی کامیابی کا اعلان کیا تھا۔ اس دوبارہ گنتی میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو کامیاب قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھنڈر نے آج قومی اسمبلی میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔
    پی ٹی آئی کی جانب سے دوبارہ گنتی کے نتائج پر شدید اعتراضات اور تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں ان کے ارکان کی جانب سے آج ایوان میں احتجاج دیکھنے میں آیا۔ پی ٹی آئی کے ارکان نے نہ صرف نعرے بازی کی بلکہ اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ دوبارہ گنتی کے معاملے کو شفاف طریقے سے دیکھا جائے اور عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔ذوالفقار بھنڈر کی حلف برداری کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے ان کو مبارکباد دی اور ان کی کامیابی کو جماعت کی فتح قرار دیا۔ دوسری جانب، پی ٹی آئی ارکان کی جانب سے مزید احتجاج اور ردعمل کی توقع کی جا رہی ہے، جس کے باعث ایوان کا ماحول مزید گرم ہونے کا امکان ہے۔اس واقعے نے قومی اسمبلی میں موجود مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اختلافات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

  • ڈچ عدالت میں ٹی ایل پی رہنماؤں کے خلاف  قتل کی ترغیب پر کاروائی

    ڈچ عدالت میں ٹی ایل پی رہنماؤں کے خلاف قتل کی ترغیب پر کاروائی

    ایمسٹرڈیم کی ایک اعلیٰ سکیورٹی عدالت میں پیر کے روز تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی اور تحریک لبیک یا رسول اللہ کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف جلالی کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔

    دونوں رہنماؤں پر ڈچ اسلام مخالف سیاستدان گیرٹ وائلڈرز کے قتل پر اکسانے کے الزامات ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی” کے مطابق، ڈچ پراسیکیوٹرز نے محمد اشرف جلالی پر اپنے پیروکاروں کو وائلڈرز کو قتل کرنے کی ترغیب دینے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ سعد رضوی پر بھی اسی الزام کے تحت شبہ ہے۔ ڈچ پراسیکیوٹرز نے ایک 56 سالہ پاکستانی مذہبی رہنما محمد اشرف جلالی پر الزام لگایا کہ انہوں نے اپنے پیروکاروں سے کہا ہے کہ وہ وائلڈرز کو قتل کر دیں، اس کے بدلے میں آخرت میں انہیں جنت ملے گی،تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی پر شبہ ہے کہ انہوں نے ایک پاکستانی کرکٹر خالد لطیف کو قتل پر اکسانے کے جرم میں سزا سنائے جانے کے بعد اپنے پیروکاروں کو وائلڈرز کو قتل کرنے کی ترغیب دی ،

    سماعت کے دوران وائلڈرز عدالت میں موجود تھے، انہوں نے عدالت پیشی کے دوران عدالت میں کہا کہ اس مقدمے نے مجھ پر اور میرے خاندان پر بہت گہرا اثر ڈالا ،میرا اس عدالت سے یہ کہنا ہے کہ وہ یہ ٹھوس پیغام بھیجے کہ اس ملک کے لیے فتوے دینا قابل قبول نہیں ہے،ڈچ حکام نے اسلام آباد سے کہا ہے کہ وہ مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ اور انہیں عدالت میں پیش کرنے کے سلسلے میں قانونی معاونت کرے،تاہم پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان باہمی قانونی معاونت کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے، چنانچہ ان دونوں افراد میں سے کوئی بھی عدالت کے کٹہرے میں حاضر نہیں ہوا اور نہ ہی ان کی جانب سے کسی نے عدالت میں ان کی قانونی نمائندگی کی۔

    مقدمے کی سماعت انتہائی محفوظ کورٹ ہاؤس میں ہوئی، جہاں دونوں ملزمان غیر حاضر تھے اور نہ ہی ان کی کوئی قانونی نمائندگی موجود تھی۔ پچھلے سال ستمبر میں ججوں نے ایک پاکستانی کرکٹر خالد لطیف کو 12 سال قید کی سزا سنائی، لطیف پر الزام تھا کہ انہوں نے تند مزاج قانون ساز وائلڈرز کی جانب سے پیغمبر اسلام کے کارٹونوں کے مقابلے کے اعلان کرنے کے بعد لوگوں کو ان کے قتل پر اکسایا تھا۔

    پبلک پراسیکیوٹر نے اشرف جلالی کے لیے 14 سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا ہے جبکہ سعد رضوی کے مقدمے کا فیصلہ 9 ستمبر کو متوقع ہے ، تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد رضوی کے خلاف انفرادی الزامات کی سماعت آئندہ دنوں میں ہو گی، جس کے بعد عدالتی فیصلہ نو ستمبر کو متوقع ہے،سکیورٹی وجوہات کے بنا پر پراسیکیوٹر کا نام ظاہر نہیں کیا گیا

    واضح رہے کہ ستمبر 2023 میں پ اکستان کے سابق انٹرنیشنل کرکٹر خالد لطیف کو اسلام مخالف رکن پارلیمنٹ گیئرٹ ولڈرز کے قتل پر زور دینے پر 12 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ 37 سالہ لطیف نے ایک آن لائن ویڈیو میں ولڈرز کے سر کے لیے 21,000 یورو (22,500 ڈالر) کی پیشکش کی تھی جب فائربرانڈ قانون ساز نے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹون کے مقابلے کا اہتمام کرنے کی کوشش کی تھی۔صدارتی جج جی وربیک نے عدالت کو بتایا کہ "یہ سوچنا کوئی ہچکچاہٹ نہیں تھا کہ دنیا بھر میں کسی نے مسٹر ولڈرز کو قتل کرنے کی کال پر توجہ دی ہو گی۔ملزم کو یہ معلوم تھا اور اس کی کال نے وائلڈرز کو مارنے کے لیے آگ کو ہوا دی۔

    وائلڈرز نے پاکستان میں مظاہرے شروع ہونے کے بعد کارٹون مقابلہ منسوخ کر دیا اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ وہ 2004 سے 24 گھنٹے ریاستی تحفظ میں ہے۔ ولڈرز کو قتل کرنے کی کال حقیقی دنیا میں گونجتی دکھائی دی،جج وربیک نے کہا کہ خالد لطیف کی ویڈیو صرف وائلڈرز پر ذاتی طور پر حملہ نہیں ہے بلکہ نیدرلینڈز میں اظہار رائے کی آزادی کے تصور پر بھی حملہ ہے۔

    خالد لطیف نے پاکستان کے لیے پانچ ایک روزہ بین الاقوامی اور 13 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلے لیکن دبئی میں پاکستان سپر لیگ کے ایک میچ میں سپاٹ فکسنگ کی وجہ سے 2017 میں ان پر کرکٹ سے پانچ سال کی پابندی عائد کر دی گئی۔ ان کی آخری پاکستانی ٹیم ستمبر 2016 میں ابوظہبی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلی تھی۔تاہم، وربیک نے کہا کہ خالد لطیف نے ایک بین الاقوامی کرکٹر کے طور پر اپنی شہرت کا فائدہ ایسے وقت میں "آگ میں تیل ڈالنے” کے لیے اٹھایا جب ہالینڈ پہلے ہی کئی خطرات کا نشانہ بنا ہوا تھا۔

    ایک نمبر کا بدمعاش اور تلنگا ڈاکٹر ریاض،دہشتگردوں سے تعلق،ایجنسیوں پر الزام

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    ثابت ہو گیا حسنہ واجد بھارت کی "کٹھ پتلی” تھی.مبشر لقمان

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    پاکستان کی بدترین شکست،ڈریسنگ روم میں لڑائی،محسن نقوی ناکام ترین چیئرمین

    جنرل عاصم منیرنے ڈنڈا اٹھا لیا، فیض حمید گواہ،اب باری خان کی

    شکریہ جنرل باجوہ،اہم معلومات ہاتھ لگ گئی،فیض ،عمران ،بشریٰ کا گٹھ جوڑ

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

    فیض حمید عبرت کا نشان،عمران کا نشہ بند، بشریٰ پر فیض کا فیض

    فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر نہ ڈرا ہوں نہ گھبرایا ہوں،عمران خان

    جنرل فیض حمید کا 30 سال تک قبضے کا منصوبہ،بغاوت ثابت؟

    فیض نیازی گٹھ جوڑ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے کیسے توڑا تھا؟ اہم انکشافات

    ہالینڈ کی عدالت سب سے پہلے گیرٹ ویلڈر کو اس گھناؤنی حرکت کی سزا دے۔ ترجمان ٹی ایل پی

    پاکستان کی عدالت میں گیرٹ ویلڈر کے خلاف قانونی کاروائی کا آغاز کررہے ہیں،ضرورت پڑی تو عالمی عدالت بھی ضرور جائیں گے،ترجمان ٹی ایل پی

    ہالینڈ کی عدالت میں گیرٹ ویلڈر کے وکیل کی طرف سے پیش کیے گئے جھوٹ پر مبنی بیان اور غیر قانونی مطالبہ پر ترجمان تحریکِ لبیک پاکستان نے مرکز سے جاری اپنے پیان میں کہا کہ تحریکِ لبیک پاکستان ہالینڈ کی عدالت سے یہ سوال کرتی ہے کہ سزا تو گیرٹ ویلڈر کو ملنی چاہئے، گیرٹ ویلڈر نے تمام جہانوں کے سردار رحمت العالمین ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے، دنیا کا کون سا ایسا قانون ہے جس میں لکھا ہے کہ کسی کی حق تلفی کرنا جائز ہے، اسے پتا تھا کہ اس بدترین کام سے مسلمانوں کو شدید دکھ و رنج ہوگا، کیا یورپ کا قانون کسی کی عزت پامال کرنے کی اجازت دیتا ہے؟؟، اس کو آزادی اظہارِ رائے نہیں اس کو اسلام دشمنی کہتے ہیں، جو پورے پلان کے ساتھ کی جارہی ہے، ہالینڈ کی عدالت سب سے پہلے گیرٹ ویلڈر کو اس گھناؤنی حرکت کی سزا دے، یورپ میں تو جانوروں کے حقوق بھی ہیں انسانوں کے حقوق تو بہت آگے کی بات ہے، کیا یورپی لوگ یہ بھول گئے کے مسلمانوں کے بھی حقوق ہیں، ہمارا دین تو ہمیں اس کی اجازت نہیں دیتا، لیکن ہمارا دین ہمیں اس کی ضرور اجازت دیتا ہے کہ کوئی بھی پیارے نبی ﷺ کے بارے میں غلط بات کرے تو اسے اسی وقت سزا دو، ہم پاکستان کی عدالت میں گیرٹ ویلڈر کے خلاف قانونی کاروائی کا آغاز کررہے ہیں، ضرورت پڑی تو عالمی عدالت بھی ضرور جائیں گے۔

  • پشاور: پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی فضل الہٰی کی قیادت میں رحمان بابا گرڈ اسٹیشن پر حملہ

    پشاور: پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی فضل الہٰی کی قیادت میں رحمان بابا گرڈ اسٹیشن پر حملہ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن صوبائی اسمبلی فضل الہٰی نے پشاور میں مشتعل مظاہرین کے ہمراہ پیسکو کے رحمان بابا گرڈ اسٹیشن پر دھاوا بول دیا۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب فضل الہٰی کی قیادت میں مظاہرین نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گرڈ اسٹیشن پر زبردستی داخل ہو کر چار فیڈرز کو آن کروا دیا۔پیسکو (پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی) کے حکام نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے ایم پی اے فضل الہٰی نے اپنے حامیوں کے ہمراہ رحمان بابا گرڈ اسٹیشن پر دھاوا بولا اور زور زبردستی سے چار فیڈرز، جن میں دلہ ذاک، ہزار خوانی ون، یکہ توت، اور شالوذان فیڈرز شامل ہیں، کو زبردستی آن کر دیا۔ حکام کے مطابق، ان فیڈرز کو آن کرنے کی وجہ سے دیگر علاقوں میں بجلی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔پیسکو کے حکام نے مزید کہا کہ فضل الہٰی اور ان کے حامیوں کی اس کارروائی کے باعث دیگر علاقوں میں بجلی کی ترسیل میں خلل پڑا ہے۔ گرڈ اسٹیشن پر زبردستی فیڈرز آن کرنے کے نتیجے میں پیسکو کو لوڈ مینجمنٹ کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کے باعث دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہو گئی ہے۔
    پیسکو حکام کے مطابق فضل الہٰی گرڈ اسٹیشن پر کچھ مظاہرین کو نگرانی کے لیے چھوڑ کر چلے گئے تاکہ فیڈرز دوبارہ بند نہ کیے جائیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ اس سے علاقے کی بجلی کی ترسیل کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔پیسکو حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایم پی اے فضل الہٰی اور دیگر مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ پیسکو کا کہنا ہے کہ اس قسم کی قانون کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔ پیسکو کی انتظامیہ نے متعلقہ حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں بجلی کی قلت اور لوڈشیڈنگ کے مسائل کتنے شدید ہیں کہ عوام اور ان کے نمائندے اپنی مدد آپ کے تحت اس طرح کے اقدامات پر مجبور ہو رہے ہیں۔ تاہم، قانونی دائرے سے باہر اس قسم کی کارروائیوں سے نہ صرف نظامِ ترسیل متاثر ہوتا ہے، بلکہ یہ شہریوں کے لئے مزید مشکلات کا سبب بھی بنتا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات کریں تاکہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

  • برطانیہ: ٹوری کونسلر کی اہلیہ نے نسلی منافرت کو ہوا دینے کا جرم قبول کر لیا

    برطانیہ: ٹوری کونسلر کی اہلیہ نے نسلی منافرت کو ہوا دینے کا جرم قبول کر لیا

    برطانیہ میں حالیہ ہنگاموں کے بعد ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔ لندن سے موصول ہونے والی میڈیا رپورٹ کے مطابق ہنگاموں میں نسلی منافرت کو ہوا دینے کے جرم میں ٹوری کونسلر کی اہلیہ، لوسی کونولی، نے عدالت میں اعتراف جرم کر لیا ہے۔ لوسی کونولی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں سیاسی پناہ گزینوں کے ہوٹل کو آگ لگانے کی ترغیب دی تھی، جس پر انہیں 17 اکتوبر کو برمنگھم کراؤن کورٹ میں سزا سنائی جائے گی۔مانچسٹر میں ہنگامہ آرائی میں ملوث ایک 12 سالہ لڑکے کو ابھی تک سزا نہیں سنائی جا سکی ہے۔ عدالت میں انکشاف ہوا کہ لڑکے کی والدہ چھٹی پر گئی ہوئی تھیں، جس کے باعث سزا کی تاریخ ملتوی کر دی گئی ہے۔ اب اس لڑکے کو 12 ستمبر کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ہنگاموں سے شدید متاثرہ ساؤتھ پورٹ میں کمیونٹی کے رہنماؤں اور سیاستدانوں نے ایک واک کا اہتمام کیا تاکہ علاقے میں امن و امان کی بحالی اور مختلف کمیونٹیز کے درمیان اتحاد کو فروغ دیا جا سکے۔ اس واک کا عنوان "ساؤتھ پورٹ واک فار یونٹی” رکھا گیا، جس کا مقصد تھا کہ علاقے کے لوگوں کو دوبارہ ایک پلیٹ فارم پر لا کر امن و بھائی چارے کا پیغام دیا جائے۔
    واک کا آغاز ساؤتھ پورٹ کی سسکس روڈ پر واقع مسجد سے کیا گیا اور یہ واک سینیگاگ پر ختم ہوئی، جہاں تمام شرکاء کے لئے طعام کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ اس واک میں مقامی مذہبی رہنماؤں اور سیاستدانوں نے شرکت کی اور علاقے میں امن کی بحالی کے لئے اپنی کاوشوں کا اظہار کیا۔ ساؤتھ پورٹ میں تین بچیوں کے قتل کے بعد علاقے میں شرانگیز پروپیگنڈے کے باعث ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ہل میں ہنگاموں کے دوران لوٹ مار کرنے والے 15 سالہ لڑکے کو 26 ستمبر کو سزا سنائی جائے گی۔ اس نوعمر لڑکے نے ہنگاموں کے دوران مختلف دکانوں میں لوٹ مار کی تھی جس پر اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ہنگاموں کے نتیجے میں ملک بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، ملک میں موجودہ قیدیوں کی تعداد 88,340 تک پہنچ چکی ہے۔ صرف گزشتہ ایک ماہ کے دوران 998 افراد کو جیل بھیجا گیا ہے، جس سے جیلوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔برطانیہ میں حالیہ ہنگاموں نے نہ صرف قانونی سطح پر بلکہ معاشرتی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ہنگاموں میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائیوں سے یہ پیغام ملتا ہے کہ معاشرتی امن کو بگاڑنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب، ساؤتھ پورٹ میں کمیونٹی واک جیسے اقدامات سے لوگوں کے درمیان اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دیا جا رہا ہے، جو کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے اہم ہیں۔

  • پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں ڈیڈ لاک ختم ہونے کی امید، بات چیت کے دروازے کھلے ہیں: رؤف حسن

    پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں ڈیڈ لاک ختم ہونے کی امید، بات چیت کے دروازے کھلے ہیں: رؤف حسن

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انفارمیشن سیکریٹری رؤف حسن نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری ڈیڈ لاک جلد ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کے لیے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہے تاکہ ملک کے مفاد میں آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کیا جا سکے۔رؤف حسن نے امریکی خبر رساں ادارے "وائس آف امریکا” کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کو سیاست میں ملوث نہیں کرنا چاہتی، بلکہ ریاستی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے بات چیت کی حمایت کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ملک کو موجودہ بحران سے نکالا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے زور دیا کہ حقیقی مینڈیٹ عوام کے پاس جانا چاہیے اور یہ عدالتی عمل یا نئے انتخابات کے ذریعے ممکن ہونا چاہیے۔ رؤف حسن نے مطالبہ کیا کہ ملک میں فوری طور پر انتخابات منعقد کیے جائیں تاکہ عوامی مینڈیٹ کی تصحیح ہو سکے اور عوام کی منتخب کردہ قیادت کو حکومت میں آنے کا موقع ملے۔رؤف حسن نے پی ٹی آئی کی آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے بھی تفصیلات فراہم کیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 8 ستمبر سے پی ٹی آئی ملک گیر تحریک کا آغاز کر رہی ہے جس میں پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں جلسے کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جلسے کی اجازت ملے یا نہ ملے، پی ٹی آئی اپنے پلان پر عمل درآمد ضرور کرے گی اور 8 ستمبر کو ہر حال میں جلسہ منعقد کیا جائے گا۔

    پی ٹی آئی کے ترجمان نے حکومت مخالف اتحاد میں مزید جماعتوں کے شامل ہونے کا عندیہ بھی دیا۔ انہوں نے بتایا کہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی بنانے پر اتفاق ہوا ہے اور پی ٹی آئی وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی ملاقات کو خوشگوار قرار دیا۔ رؤف حسن نے کہا کہ پی ٹی آئی ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔پی ٹی آئی کی جانب سے اس قسم کی بیانات اور آئندہ تحریک کے اعلانات نے ملکی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری کشیدگی کے اس ماحول میں یہ بات چیت کہاں تک کامیاب ہوتی ہے اور آئندہ انتخابات کا عمل کیا رخ اختیار کرتا ہے۔

  • بڑھاپے کی نئی تعریف: زندگی کی طویل مدت اور دماغی صحت پر تحقیق کے نتائج

    بڑھاپے کی نئی تعریف: زندگی کی طویل مدت اور دماغی صحت پر تحقیق کے نتائج

    پیشرفت کی ایک نئی روشنی میں، سائنسدانوں نے عمر رسیدگی کے جدید نظریات اور دماغی صحت پر اس کے اثرات پر توجہ دی ہے۔ برٹش ایسوسی ایشن سائنس فیسٹیول میں بات کرتے ہوئے، ماہرِ عمرانیات پروفیسر روبرٹسن نے کہا کہ آج کل کی عمر رسیدگی کی حدود میں قابلِ غور تبدیلی آئی ہے۔ ان کے مطابق، آج 80 سال کی عمر سے شروع ہوتی ہے، اور اس سے قبل کا 50 سے 80 سال تک کا عرصہ ایک طویل مدت پر محیط ہوتا ہے جو نوجوانی سے کہیں زیادہ طویل ہے۔روبرٹسن نے 1984 میں دماغ پر عمر کے اثرات کا مطالعہ شروع کیا، جب فالج کے مریضوں کی اوسط عمر 72 سال تھی۔ لیکن، 1999 تک، یہ اوسط عمر بڑھ کر 82 سال ہو گئی تھی۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ لوگوں کی زندگی میں تقریباً 10 سال کی تبدیلی آئی ہے۔ماہرین کے مطابق، انسانی دماغ ہر عمر میں لچکدار ہوتا ہے اور تجربات، سیکھنے، اور سوچنے سے متاثر ہوتا ہے۔ قدیم رومیوں کی زندگی کی توقع 22 سال تھی، جبکہ 20ویں صدی کے آغاز میں یورپ میں لوگ 50 سال تک زندہ رہنے کی امید رکھتے تھے۔ آج، برطانیہ میں 60 سال کی عمر کی خواتین کی اوسط عمر 83 سال تک پہنچنے کی توقع ہے۔
    روبرٹسن نے جوان بڑھاپے کو یقینی بنانے کے لیے سات اہم نکات تجویز کیے ہیں:
    1. ایروبک فٹنس: دماغ کی ساخت اور عمل کی بہتری کے لیے یہ سب سے اہم ہے۔
    2. ذہنی تحریک: ذہنی تربیت شعوری زوال کو کم کر سکتی ہے۔
    3. نئی چیزیں سیکھنا: سیکھنے کے عمل کے دماغ پر گہرے فزیالوجیکل اثرات ہوتے ہیں۔
    4. تناؤ سے بچاؤ: طویل مدتی تناؤ کے منفی اثرات انسانی یادداشت پر پڑ سکتے ہیں۔
    5. سماجی تعاملات: بھرپور سماجی زندگی دماغی تیزی کو برقرار رکھتی ہے۔
    6. صحت مند غذا: پھلوں، سبزیوں، اور مچھلی پر مبنی غذا شعوری زوال پر گہرے اثرات ڈالتی ہے۔
    7. جوان سوچ: دماغی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے جوان سوچ رکھنا ضروری ہے۔
    یہ تحقیق عمر رسیدگی اور دماغی صحت کے میدان میں نئے امکانات کی طرف اشارہ کرتی ہے، اور بتاتی ہے کہ زندگی کی طویل مدت کو صحتمند اور متحرک طریقے سے گزارا جا سکتا ہے۔

  • پنجاب میں نجی طبی کالجوں کے تعداد میں اضافہ تشویشناک

    پنجاب میں نجی طبی کالجوں کے تعداد میں اضافہ تشویشناک

    حکومت پنجاب نے صوبے میں نجی شعبے کے طبی اور ڈینٹل کالجوں کی تیزی سے بڑھتی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حال ہی میں تقریباً 40 نئے نجی طبی کالج قائم کیے گئے ہیں، جن کے قیام میں ضرورت اور مساوات کا خیال نہیں رکھا گیا۔اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے، محکمہ صحت و طبی تعلیم نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں پانچ ممتاز ماہرین شامل ہیں۔ یہ کمیٹی نجی شعبے میں طبی تعلیم کے رجحانات کا جائزہ لے گی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کی عملی حیثیت کا تجزیہ کرے گی۔کمیٹی کو دس دنوں کے اندر اپنی سفارشات پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد صوبے بھر میں طبی وسائل کی متوازن تقسیم اور معیاری طبی تعلیم کو یقینی بنانا ہے۔

  • وفاقی حکومت عالمی غیر سرکاری تنظیموں کی ملک میں فعالیت پر اہم فیصلہ کرے گی

    وفاقی حکومت عالمی غیر سرکاری تنظیموں کی ملک میں فعالیت پر اہم فیصلہ کرے گی

    اسلام آباد: وفاقی حکومت اگلے دو ہفتوں کے دوران ملک میں سرگرم عالمی غیر سرکاری تنظیموں (آئی این جی اوز) کے بارے میں ایک اہم فیصلہ کرنے والی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ ان تنظیموں کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔ذرائع کے مطابق، وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت تشکیل دی گئی خصوصی کمیٹی نے ان تنظیموں کی درخواستوں کا جائزہ لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ تنظیمیں یا تو وہ ہیں جنہیں پاکستان میں کام کرنے کی اجازت نہیں تھی اور انہیں دوبارہ رجسٹریشن کے لیے کہا گیا تھا، یا وہ تنظیمیں ہیں جن کے موجودہ معاہدے حکومت کے ساتھ ختم ہو چکے ہیں اور وہ نئے معاہدے کی تجدید کے لیے درخواست دے چکی ہیں۔اجلاس میں داخلہ اور معاشی امور ڈویژنز کے ایڈیشنل سیکریٹریز، وزارت خارجہ امور کے ڈائریکٹر جنرل، اور دیگر اہم افسران نے شرکت کی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا ہے کہ تنظیموں کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواستوں اور متعلقہ دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور اس اسکروٹنی کا عمل 15 دن کے اندر مکمل کیا جائے گا۔ درخواست گزاروں کو اس بارے میں آگاہ کر دیا جائے گا۔
    وزیر داخلہ نے عالمی غیر سرکاری تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ وزارت داخلہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور متعلقہ دستاویزات وقت پر فراہم کریں۔ یاد رہے کہ 2015 میں وفاقی حکومت نے ملک میں کام کرنے والی عالمی غیر سرکاری تنظیموں کے لیے ایک پالیسی متعارف کرائی تھی جس کا مقصد ان تنظیموں کی فعالیت کو ہموار اور آسان بنانا تھا۔ اُس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس پالیسی کے تحت تمام آئی این جی اوز کو وزارت داخلہ کے ساتھ معاہدہ کرکے رجسٹریشن کرانے کی ہدایت کی تھی۔یہ فیصلہ بین الاقوامی تنظیموں کی پاکستان میں کام کرنے کی صلاحیت اور حکومتی پالیسیوں کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے اور اس کا اثر ملک میں انسانی اور ترقیاتی کاموں پر بھی پڑ سکتا ہے۔