اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی وزیر برائے صنعت، پیداوار و قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کی رہائش گاہ پر پہنچ کر ان کے بھائی اور رکن صوبائی اسمبلی رانا افضال حسین کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے مرحوم کے بلندیء درجات کے لئے دعا کی اور ان کے اہل خانہ کے لئے صبر کی دعا کی۔ انہوں نے رانا افضال حسین کی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کی جانے والی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔وزیراعظم نے اس موقع پر رانا افضال حسین کی سیاسی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں نے عوام کی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالا اور ان کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ رانا افضال حسین کی وفات سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنا ایک بڑا چیلنج ہے، مگر ان کی یاد اور خدمات ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر رانا تنویر حسین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل ہمدردی کا اظہار کیا اور ان کی دلی سکونت کے لئے دعائیں کیں۔
Author: صدف ابرار
-

راولپنڈی ٹیسٹ: تیسرے دن بنگلہ دیش کی 6 وکٹیں گر گئیں، مزید 74 رنز درکار
راولپنڈی میں جاری بنگلہ دیش کیخلاف دوسرے ٹیسٹ کے تیسرے دن کا کھیل جاری ہے۔ بنگلہ دیش کی ٹیم نے اپنی دوسری اننگز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 202 رنز بنا لیے ہیں اور پاکستانی ٹیم کی برتری ختم کرنے کے لیے انہیں مزید 74 رنز کی ضرورت ہے۔ تیسرے دن کا کھیل بنگلہ دیشی ٹیم نے بغیر کسی نقصان کے 10 رنز کے ساتھ شروع کیا۔ تاہم، دن کے آغاز پر ہی پاکستان کے خرم شہزاد نے ذاکر حسین کو ایک رن پر آؤٹ کر دیا، جن کا کیچ سپنر ابرار احمد نے لیا۔ اس کے بعد خرم شہزاد نے اوپنر شادمان اسلام اور نجم الحسین شنتو کو بالترتیب 10 اور 4 رنز پر پویلین واپس بھیج دیا۔ شکیب الحسن بھی خرم شہزاد کا شکار ہوئے اور دو رنز پر آؤٹ ہوئے۔
پاکستان کی جانب سے چوتھی کامیابی میر حمزہ نے حاصل کی جب انہوں نے مومن الحق کو ایک رن پر آؤٹ کیا، اور اس کے بعد مشفق الرحیم کو بھی تین رنز پر آؤٹ کر دیا۔ کھانے کے وقفے تک، بنگلہ دیش کی ٹیم 75 رنز پر 6 کھلاڑیوں کا نقصان اٹھا چکی تھی۔اب تک کے کھیل کی صورت حال میں، بنگلہ دیش کی ٹیم کو پاکستانی ٹیم کی برتری کو ختم کرنے اور میچ میں واپس آنے کے لیے مزید محنت کی ضرورت ہے۔ تیسرے دن کا کھیل انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ بنگلہ دیش اپنی اننگز کو کیسے آگے بڑھاتا ہے۔ -

عوام کو حکومت، پارلیمنٹ، اور اسٹیبلشمنٹ سے مایوسی کا سامنا ہے۔ لیاقت بلوچ
جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے چکوال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کی اور ملک میں جاری اقتصادی بحران اور حکومتی ناکامیوں کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت عوام کی کمائی لوٹ رہی ہے اور عوام کو حکومت، پارلیمنٹ، اور اسٹیبلشمنٹ سے مایوسی کا سامنا ہے۔لیاقت بلوچ نے جماعت اسلامی کی موجودہ سرگرمیوں اور آئندہ کی حکمت عملی کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔ انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی ملک بھر میں تاجروں کے ساتھ مل کر احتجاج کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم نے 14 دن کے دھرنے کے بعد ملک گیر ہڑتال اور احتجاج کی راہ اپنائی ہے۔” اس اقدام کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا اور عوام کی مشکلات کی طرف توجہ دلانا ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی ملک بھر میں ممبر سازی مہم شروع کرنے جا رہی ہے، جس کا آغاز چکوال سے کیا جائے گا۔ ان کا ٹارگٹ 5 کروڑ ووٹرز اور ممبرز حاصل کرنا ہے، جس کا مقصد جماعت کی عوامی بنیاد کو مزید مضبوط کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی کا عوامی ایجنڈا اس وقت گھر گھر میں موجود ہے اور جماعت نے عوامی مسائل کے حل کے لیے ‘حق دو عوام کو’ تحریک کا آغاز کیا ہے۔ اس تحریک کا مقصد عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا اور حکومت کی ناکامیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔
لیاقت بلوچ نے اتحادی حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے مابین عدم اعتماد کی بھی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں بیٹھے حکمران عوام کو ڈیلیور نہیں کر رہے اور ان کی کارکردگی ناقص ہے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے صاف شفاف انتخابات کی ضرورت پر زور دیا، کیونکہ موجودہ متنازع الیکشن کمیشن اب عوام کو مطمئن نہیں کر سکتا۔آخر میں، لیاقت بلوچ نے تنخواہ دار طبقے پر عائد اضافی ٹیکسوں کی مخالفت کی اور کہا کہ ان پر اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے، جو کہ معاشرتی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ -

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا اسد قیصر کے بیان پر شدید ردعمل
لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ہم سے بات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ بخاری نے ایک بیان میں کہا کہ قیصر اور ان کے چور، بددیانت اور کرپٹ لیڈروں کے ساتھ مذاکرات یا بات چیت کی ضرورت ہے، اور ہمیں ان کا چہرہ دیکھنے کی بھی کوئی خواہش نہیں ہے۔عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ "اللہ کا شکر ہے کہ میاں نواز شریف پاکستان واپس آئے، وفاق اور پنجاب میں حکومت بنائی، اور نواز شریف کے بھائی نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔ نواز شریف کی بیٹی پنجاب کے عوام کی خدمت میں دن رات مصروف ہیں، اور جو مشکلات آپ کے نالائق اور بدبخت لیڈروں نے پیدا کی تھیں، شہباز شریف انہیں دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے نواز شریف کو قوم کی شان اور عزت قرار دیتے ہوئے کہا کہ "نواز شریف ملک و قوم کی بات کرنے والے لیڈر ہیں، نہ کہ آپ کے لیڈر کی طرح جو ایٹم بم گرانے کی بات کرتے ہیں۔ آپ کے لیڈر دوبارہ گنتی کے نام پر ایسے بھاگتے ہیں جیسے بندر غلیل سے بھاگتا ہے۔”یہ ردعمل اسد قیصر کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کا حکومت سے مذاکرات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور دسمبر تک موجودہ حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ قیصر نے مزید کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہے۔یہ تناؤ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے اور موجودہ سیاسی صورتحال کی پیچیدگی کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ -

کوئٹہ: چمن پھاٹک کے قریب دھماکا، 2 افراد زخمی
کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ کے نزدیک دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق دھماکا صبح کے وقت چمن پھاٹک کے قریب ہوا، جہاں سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ موجود ہے۔دھماکے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیمیں فوراً موقع پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ دھماکے کے بعد علاقے میں سخت سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں اور پولیس کی جانب سے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ہسپتال کی جانب سے زخمیوں کی حالت کو مستحکم قرار دیا گیا ہے۔قانون نافذ کرنے والے ادارے دھماکے کی نوعیت اور اس کے محرکات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ابھی تک دھماکے کی نوعیت یا کسی گروپ کے ملوث ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے، لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے۔یہ دھماکا اس وقت ہوا جب بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی حفاظت پر زور دیا جا رہا ہے، اور اس واقعے نے مقامی شہریوں میں خوف و ہراس پھیلادیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً دیں تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔ -

وزیراعلیٰ بلوچستان اور محسن نقوی کا شہید کیپٹن محمد علی قریشی کے اہل خانہ سے تعزیتی ملاقات
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شہید کیپٹن محمد علی قریشی کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان بھی ہمراہ تھے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے شہید کیپٹن کے گھر پہنچ کر ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور شہید کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے پسماندگان سے تعزیت و فاتحہ خوانی بھی کی۔ملاقات کے دوران، میر سرفراز بگٹی نے کہا، "شہید کیپٹن محمد علی قریشی نے عوام اور پاک سرزمین کے تحفظ کے لیے جان کا نذرانہ پیش کیا۔ بلوچستان کیپٹن محمد علی شہید کے خون کا مقروض ہے، اور شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ "دہشت گردوں کا پیچھا کر کے انہیں ان کی بلوں سے نکال کر منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کی نہیں، بلکہ پوری قوم کی ہے۔ ہم شہداء کی فیملیز کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
-

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی قومی مفاد میں تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کی اپیل
اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے قومی مفاد کے تحت تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ سیاستدانوں کے درمیان مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہیے، اور وزیراعظم شہبازشریف کو اس معاملے کی قیادت کرنی چاہیے۔گیلانی نے اس موقع پر کہا کہ وزیراعظم کو اس وقت سیاسی جماعتوں کے مذاکرات کی سربراہی کرنی چاہیے۔ "اگر وزیراعظم کوئی فیصلہ کریں گے، تو ہم نیشنل سیکیورٹی اور قومی معاملات پر ان کا ساتھ دیں گے۔ ہمیں ایک مشترکہ ایجنڈے پر عمل کرنا ہوگا تاکہ ملک کی سیکیورٹی اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔”
انہوں نے پیپلز پارٹی کے ماضی کے مذاکراتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے ہمیشہ مذاکرات کیے ہیں۔ ہم نے اپوزیشن میں نوازشریف سے بات چیت کی اور چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کیے۔” ان کا کہنا تھا کہ موجودہ وقت بھی مذاکرات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے، اور اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ان کی پرانی وابستگی کا بھی ذکر کیا۔یوسف گیلانی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک زیرک سیاستدان ہیں، اور ان کا مقصد ملک اور قوم کی خدمت ہے۔ "ہمیں باہمی اختلافات بھلا کر عوام کے لیے کام کرنا ہوگا۔ عہدے آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن ملک اور قوم کا خیال رکھنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
چیئرمین سینیٹ نے مزید کہا کہ "معاشی ترقی کا انحصار پالیسیوں کے تسلسل پر ہے۔ ملکی ترقی کے لیے سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ آپ کسی لیڈر سے اختلاف کرسکتے ہیں، لیکن پاکستان سے نہیں۔ ہم سب مل کر ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے کام کریں، کیونکہ پاکستان کی فوج اور سیکیورٹی فورسز آج آپ کے مستقبل پر قربان ہو رہی ہیں۔یوسف رضا گیلانی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قومی مسائل پر کسی قسم کا اختلاف نہیں ہونا چاہیے اور سب کو مل کر پاکستان کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہیے۔ -

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کا شدید ردعمل، بجلی کے بھاری بلوں اور تعلیمی اداروں میں منشیات پر تنقید
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے بجلی کے بھاری بلوں کے مسئلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں کچھ روپے کی کمی خیرات کے مترادف ہے، جبکہ عوام کو اپنے حقوق ملنے چاہئیں۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے ان خیالات کا اظہار لاہور میں جماعت اسلامی کے زیرِ اہتمام میٹرک پوزیشن ہولڈر طلبہ کے اعزاز میں منعقدہ یوتھ ٹیلنٹ ایوارڈ تقریب کے دوران کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے ملک کے تعلیمی اداروں میں منشیات کی موجودگی پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، "آج ملک کے ہر تعلیمی ادارے میں منشیات پہنچ چکی ہیں، ہمارے بچوں کے جسموں میں منشیات کا زہر اتارا جا رہا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور اس پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر عوام خاموش بیٹھے رہے تو حکمران انہیں اسی طرح بھیک دیتے رہیں گے۔ انہوں نے تنخواہ دار طبقے پر بھاری ٹیکسوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس پر غور و فکر کرنا ضروری ہے۔بجلی کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے، حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ 100 میگاواٹ کے پلانٹ کو کاغذات میں 150 میگاواٹ دکھایا گیا ہے اور ہر دور میں آئی پی پیز (انڈپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کی موجودگی نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے موجودہ حالات پڑھے لکھے جاہلوں کی وجہ سے خراب ہوئے ہیں اور ملک کی طرز سیاست کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصلاحات اور تبدیلیاں وقت کی ضرورت ہیں تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔حافظ نعیم الرحمٰن کی تقریر نے حاضرین میں گہرا تاثر چھوڑا اور ملکی مسائل کے حل کے لئے نئے نظریات کی ضرورت پر زور دیا۔ -

راولپنڈی سے کراچی جانے والی سرسید ایکسپریس ٹرین کا افتتاح، پہلی ٹرین روانہ
راولپنڈی: راولپنڈی سے کراچی جانے والی نئی سرسید ایکسپریس ٹرین کا افتتاح کر دیا گیا ہے، اور پہلی ٹرین کراچی کے لیے روانہ ہو چکی ہے۔ یہ ٹرین 24 گھنٹے میں اپنی منزل تک پہنچے گی. سرسید ایکسپریس ٹرین کا افتتاح ڈی ایس ریلوے نور الدین داوڑ نے کیا۔ یہ ٹرین 16 کوچز پر مشتمل ہے اور راولپنڈی سے براستہ جہلم، گجرات، وزیر آباد، سانگلہ ہل، فیصل آباد، خانیوال، روہڑی اور حیدرآباد سے ہو کر کراچی جایا کرے گی۔ سرسید ایکسپریس ٹرین پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلائی گئی ہے۔ٹرین میں مختلف قسم کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، جن میں ایک اے سی سلیپر، تین اے سی بزنس، ایک اے سی اسٹینڈرڈ اور آٹھ اکانومی کوچز شامل ہیں۔
اس کے علاوہ، ٹرین میں ایک ڈائننگ کار بھی موجود ہے، جس میں کھانا فراہم کرنے کی ذمہ داری ایک نجی کمپنی نے سنبھالی ہے۔ پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔مسافروں کی سہولت کے لیے ٹرین میں فری وائی فائی کی سہولت بھی دستیاب ہوگی، اور ٹکٹ کی خریداری موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے گھر بیٹھے کی جا سکے گی۔ سرسید ایکسپریس سے پاکستان ریلویز کو سالانہ تقریباً 3 ارب روپے آمدن ہونے کا امکان ہے۔ریلوے حکام کے مطابق، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے خود انحصاری کی راہ ہموار ہوگی اور ریونیو میں اضافہ متوقع ہے۔ سی ای او ریلویز عامر بلوچ نے کہا کہ اگلے ماہ مزید دس ٹرینیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کا ارادہ ہے، جس سے ریلوے کے نظام میں مزید بہتری آئے گی۔ -

آئی پی پیز کے خلاف تحقیقات حتمی مرحلے میں، 13 مالکان کل اسلام آباد طلب
اسلام آباد – ملک میں پاور سیکٹر میں شفافیت اور بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے جاری تحقیقات اپنے حتمی مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم نے 13 آئی پی پیز (انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کے مالکان کو کل اسلام آباد طلب کر لیا ہے۔ اس تحقیقاتی عمل کا مقصد سی پیک (چین پاکستان اقتصادی راہداری) کے تحت قائم پاور پلانٹس کی اضافی منافع خوری کی نشاندہی کرنا اور اس پر کارروائی کرنا ہے۔تحقیقات میں سی پیک منصوبے کے تحت کام کرنے والے مختلف پاور پلانٹس کے مالیاتی ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ تحقیقاتی ٹیم نے ان پلانٹس کی فنانشل رپورٹس کا بغور مطالعہ کیا ہے اور اضافی منافع خوری کے واضح شواہد حاصل کیے ہیں۔ پاور ڈویژن کے ذرائع کے مطابق، آئی پی پیز مالکان کو اسلام آباد میں جمع ہونے کی ہدایت کی گئی ہے، جہاں انہیں اپنی فنانشل رپورٹس ہمراہ لانے کی ضرورت ہوگی۔ یہ اقدام مالیاتی بے ضابطگیوں کی تفصیلی تحقیقات اور ان کا سدباب کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے پاور ڈویژن، محمد علی، اس تحقیقاتی عمل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی زیر نگرانی تحقیقات کے دوران آئی پی پیز مالکان سے 2021ء میں کی جانے والی تحقیقات کے طرز پر سوالات کیے جائیں گے، جس سے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ پچھلی تحقیقات کی روشنی میں تمام مسائل کا مکمل اور جامع جائزہ لیا جائے۔تحقیقاتی ٹیم نے مختلف پلانٹس کا دورہ کیا اور ریکارڈ و ڈیٹا اکٹھا کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ آئی پی پی کے سینئر ایگزیکٹیوز کو مختلف شہروں میں پوچھ گچھ کے بعد اسلام آباد طلب کیا گیا ہے، تاکہ یہ یقین دہانی کرائی جا سکے کہ ان کے تعاون سے ملک کی موجودہ مالیاتی اور بجلی کی صورتحال بہتر ہو سکے۔
حکومتی ٹیم چینی آئی پی پیز کے ساتھ اعلیٰ سطح پر بات چیت کرے گی تاکہ ان سے رعایت حاصل کی جا سکے۔ ساتھ ہی، سرکاری پاور پلانٹس کے کپیسٹی پیمنٹ اور منافع میں کمی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جس کا مقصد بجلی کے شعبے میں عدل و انصاف اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔اس تحقیقاتی عمل کا مقصد پاور سیکٹر میں شفافیت کو یقینی بنانا اور اضافی منافع خوری کو روکنا ہے۔ حکومت کی جانب سے آئی پی پیز کے مالکان کے ساتھ مذاکرات اور تحقیقی عمل کے بعد، مستقبل میں بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ تبدیلیوں اور اصلاحات کا اعلان کیا جائے گا۔ اس تحقیقاتی عمل کا مقصد ملک میں بجلی کے شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور عوام کو منصفانہ خدمات فراہم کرنا ہے۔
