پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان کی جماعت نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کا کوئی ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں، بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی اسپیکر کے ساتھ ملاقاتیں ہمیشہ اسمبلی امور اور اپوزیشن کے پارلیمانی معاملات پر ہوتی ہیں، اور ان ملاقاتوں میں کبھی بھی مذاکرات کی بات نہیں کی گئی۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کا حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی پی ٹی آئی رکن یا وفد اسپیکر قومی اسمبلی سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی بات کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ پی ٹی آئی نے کبھی بھی اسپیکر کو مذاکرات کے لیے دوبارہ آنے کی پیشکش نہیں کی ہے۔اس دوران، سینیٹ کے چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے سیاست میں اتحاد کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ سے دہشت گردی میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان کی ترقی اور سلامتی کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا.
یوسف رضا گیلانی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ شہباز شریف کو بطور وزیراعظم فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے اور انہوں نے قومی سلامتی کے امور پر وزیراعظم کے ساتھ تعاون کا وعدہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاشی ترقی کے لیے پالیسیوں کے تسلسل کی ضرورت ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ گیلانی نے نوجوانوں کو بھی مخلصانہ مشورہ دیا کہ وہ کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں اور ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔دوسری جانب، مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے پی ٹی آئی قیادت سے مذاکرات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے بارے میں کہا کہ وہ ذاتی طور پر مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ 9 مئی کے واقعات پر عمران خان سے معافی مانگے بغیر کوئی مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔یہ تمام developments ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی فضا میں مذاکرات اور اتحاد کے سوالات ابھی بھی زیر بحث ہیں اور سیاسی جماعتیں اپنی پوزیشنز اور پالیسیوں پر قائم ہیں۔
Author: صدف ابرار
-

پاکستان تحریک انصاف اور قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کے درمیان مذاکرات کی افواہیں مسترد
-

گولڈ میڈل جیتنے کی خوشی ہے کھیلوں کے لئے مزید سہولتیں فراہم کی جائے، معید بلوچ
ورلڈ ملٹری گیمز کے گولڈ میڈلسٹ، معید بلوچ، نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں اپنی کامیابی کا جشن منایا اور کھیلوں کے شعبے میں سہولتوں کی کمی پر افسوس کا اظہار کیا۔ معید بلوچ، جو اس وقت اسپیڈ اسٹار ٹریک اینڈ فیلڈ کلب کی نمائندگی کر رہے ہیں، نے اپنی نو سالہ محنت اور کامیابیوں کا ذکر کیا۔معید بلوچ نے کہا، "نو سال سے محنت کر رہا ہوں، اور اس دوران کئی غلطیاں بھی ہوئیں جن سے میں نے سیکھا۔ میری کامیابی کے پیچھے کئی لوگوں کی محنت شامل ہے۔ ہم پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کر رہے ہیں۔” انہوں نے ارشد ندیم کی کامیابی کو بھی سراہا اور کہا کہ ان جیسی کامیابی سو سال میں بھی مشکل ہوتی۔بلوچ نے گورنر سندھ، کامران ٹیسوری، سے درخواست کی کہ وہ ایتھلیٹس کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا، "چار سو میٹر کا مقابلہ آسان نہیں ہوتا، اور میں گولڈ میڈل جیت کر بہت خوش ہوں۔” ان کے شوق اور خواب کے حوالے سے، معید نے اولمپک میں پاکستان کا پرچم بلند کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کا پسندیدہ ایتھلیٹ یوسین بولٹ ہیں۔

اس موقع پر معید بلوچ کے کوچ، روما الطاف، نے معید کی محنت اور کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "معید بلوچ 2015 سے ہمارے کلب سے وابستہ ہیں اور قومی چیمپئن ہیں۔ انہوں نے اپنی محنت کی بدولت ورلڈ ملٹری گیمز میں گولڈ میڈل جیتا ہے۔” انہوں نے پاکستان میں ایتھلیٹس کے لیے بنیادی سہولتوں کی کمی کا بھی ذکر کیا اور افسوس کا اظہار کیا کہ سندھ کے بچوں کو سندھ کی جانب سے مناسب توجہ نہیں مل رہی۔روما الطاف نے مزید کہا، "میری درخواست ہے کہ ایتھلیٹس کو بھی سپورٹ کریں۔ معید بلوچ کا ٹیلنٹ کم عمری میں ہی نظر آرہا تھا، اور کرکٹ کو بہت زیادہ ہائپ دی جا رہی ہے۔ ایک ادارہ ایسا ہونا چاہیے جہاں ایتھلیٹس کو تمام سہولیات مل سکیں۔”معید بلوچ کی اس کامیابی اور ان کی جانب سے دی گئی درخواستوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کھیلوں کی دنیا میں پاکستان کی کامیابیوں کو مزید فروغ دینے کے لیے مناسب سہولتیں فراہم کرنا ضروری ہے۔ -

خیبرپختونخوا کے سابق وزیر شکیل خان نے کرپشن الزامات کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کر دیا
خیبرپختونخوا کے سابق وزیر برائے کمیونیکیشن اینڈ ورکس، شکیل خان، نے اپنے خلاف عائد کردہ کرپشن الزامات کے حوالے سے جوڈیشل انکوائری کرانے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ نیب کی جانب سے انکوائری کے لیے بھی تیار ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ ان کے خلاف الزامات کی تفصیلی جانچ ایک غیرجانبدار عدلیہ سے کرائی جائے۔شکیل خان نے عمران خان کی ہدایت پر بدعنوانی کے خاتمے کے لیے قائم کی گئی کمیٹی پر کڑی تنقید کی، اسے "بیڈ گورننس کمیٹی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹی بدعنوانی کے خاتمے کی بجائے حکومت کی بدانتظامی کی عکاسی کرتی ہے۔
شکیل خان نے صدر عارف علوی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں یقین دلایا کہ وہ جلد بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا انتظام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ 8 ستمبر کو ہونے والے جلسے تک خاموش رہیں گے، اور اس کے بعد اپنے موقف کو عوام کے سامنے پیش کریں گے۔خیال رہے کہ شکیل خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور پر محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس میں مداخلت اور بدگورننس کے الزامات عائد کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنے فیصلے کسی اور کے اشاروں پر کر رہے ہیں اور صوبائی حکومت اپنے اصولوں سے پیچھے ہٹ چکی ہے۔دوسری جانب، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے شکیل خان کے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکیل خان نے خود مستعفی نہیں ہوئے بلکہ انہیں ان کے عہدے سے فارغ کیا گیا ہے۔ -

افغان عبوری حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کی مدد کے ناقابل تردید شواہد منظر عام پر
پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کے نئے اور ناقابل تردید شواہد سامنے آئے ہیں۔ افغان عبوری حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد افغان سرزمین عالمی دہشت گردوں کی پناہ گاہ بن گئی ہے، جس سے عالمی اور بالخصوص خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغانستان کی سرزمین کے استعمال کے شواہد وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں، اور حالیہ بار پھر فتنتہ الخواراج کے سرغنہ نور ولی محسود اور مزاحم محسود کی افغانستان میں موجودگی کے ناقابل تردید شواہد منظر عام پر آئے ہیں۔ ان شواہد کے مطابق، نور ولی محسود اور مزاحم محسود کو افغان حکومت کی جانب سے خصوصی پرمٹ جاری کیے گئے ہیں جو ان کی آزادانہ نقل و حرکت اور اسلحہ رکھنے کی اجازت دیتے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق، نور ولی محسود کو افغان حکومت کی جانب سے فیلڈر 2005 ماڈل گاڑی اور دو کلاشنکوفیں رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، مزاحم محسود کو بھی افغان عبوری حکومت کی جانب سے جاری کردہ پرمٹ کے تحت ایک M4، ایک M16، اور دو کلاشنکوفیں رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان پرمٹس کی تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان عبوری حکومت نے خوارج کو افغانستان میں اسلحہ کے ساتھ آزادانہ نقل و حرکت کی مکمل سہولت فراہم کی ہے۔پاکستان نے بار بار افغان عبوری حکومت کو فتنتہ الخواراج کی افغانستان میں موجودگی کے ناقابل تردید شواہد فراہم کیے ہیں، مگر افغان حکومت نے ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔ افغانستان کے آرمی چیف نے حال ہی میں کہا تھا کہ حکومت پاکستان نے خوارج کی موجودگی کے کوئی ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے، تاہم یہ شواہد اس کے برعکس ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان عبوری حکومت خوارج کو افغانستان کے بارڈر پر ملٹری پوسٹس کے قریب رکھتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ فتنتہ الخواراج کے کمانڈرز کی افغان عبوری حکومت کے عہدیداران سے ملاقاتوں کے ناقابل تردید شواہد بھی منظر عام پر آ چکے ہیں، جو افغان حکومت کی جانب سے خوارج کو دہشت گردی کے لیے مکمل سہولت فراہم کرنے کی تصدیق کرتے ہیں۔اس وقت فتنتہ الخواراج کے دہشت گرد اور ان کی سینئر قیادت افغانستان میں موجود ہے، اور افغانستان میں ان کے تربیتی مراکز اور لاجسٹک بیس بھی موجود ہیں۔ افغان عبوری حکومت کی جانب سے خوارج کو واضح سہولت کاری کی وجہ سے پاکستان کو مسلسل دہشت گردی کا سامنا ہے، اور اس معاملے پر عالمی سطح پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
-

مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف کا 9 مئی پر جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ
پشاور — خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے ن لیگ کے رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب وہ میڈیا کی توجہ سے باہر ہوتے ہیں تو 9 مئی پر بیان دے کر دوبارہ سرخیوں میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے رہنماؤں کے پاس میڈیا میں زندہ رہنے کے لیے 9 مئی اور بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سوا کچھ نہیں ہے۔بیرسٹر محمد علی سیف نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کا واقعہ عوام نے 8 فروری کو پی ٹی آئی پر اعتماد کرکے واضح جواب دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی، عمران خان، نے بار بار مطالبہ کیا کہ 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔
بیرسٹر محمد علی سیف نے اس بات پر زور دیا کہ جوڈیشل انکوائری سے واضح ہو جائے گا کہ 9 مئی کے واقعات کے اصل محرکات کیا تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کی سازش پی ٹی آئی کے خاتمے کی کوشش تھی، جو کہ مکمل طور پر ناکام ہوئی۔مشیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ 9 مئی کی سازش کے بعد پی ٹی آئی مزید مضبوط ہوئی ہے اور جب پی ٹی آئی اقتدار میں آئے گی، تو وہ 9 مئی کی سازش کرنے والوں کو بے نقاب کرے گی۔ بیرسٹر محمد علی سیف کے اس بیان نے پی ٹی آئی کی حوصلہ افزائی اور پارٹی کے مؤقف کو واضح کیا، جبکہ ن لیگ کے رہنماؤں کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔ -

پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کی زیر صدارت چیمپئنز لیگ کے انتظامات کا اجلاس
چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی کی زیر صدارت چیمپئنز لیگ کے انتظامات پر اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں فیصل آباد کے اقبال سٹیڈیم میں ہونے والے ٹورنامنٹ کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران محسن نقوی نے بتایا کہ شائقین کرکٹ کے لیے خوشخبری ہے کہ چیمپئنز لیگ کے آخری چار میچز کے علاوہ تمام میچز مفت دیکھے جا سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصل آباد کے شہری کرکٹ کے کھیل سے محبت رکھتے ہیں اور وہ طویل عرصے کے بعد پاکستان کے بہترین کھلاڑیوں کو بڑے ٹورنامنٹ میں ایکشن میں دیکھ سکیں گے۔محسن نقوی نے مزید کہا کہ چیمپئنز لیگ کے ذریعے نہ صرف نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا بلکہ ڈومیسٹک کرکٹ کی سطح بھی مضبوط ہوگی۔ انہوں نے چیمپئنز لیگ کی کامیابی کے لیے پوری ٹیم کو ذمہ داری کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر یہ بھی اعلان کیا گیا کہ چیمپئنز لیگ کی ٹیموں کے کھلاڑیوں کے لیے فٹنس ٹیسٹ کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔
اجلاس میں چیف آپریٹنگ آفیسر پی سی بی سلمان نصیر، چیف فنانشل آفیسر جاوید مرتضی، ایڈوائزر بلال افضل، ڈائریکٹر ڈومیسٹک عبداللہ خرم نیازی، ڈائریکٹر کمرشل، ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس، سینئر جنرل مینجر ڈومیسٹک جیند ضیا اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔چیئرمین پی سی بی نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ تمام ٹیمیں اور انتظامی عملہ چیمپئنز لیگ کی کامیابی کے لیے مکمل تعاون اور عزم کے ساتھ کام کریں تاکہ ٹورنامنٹ کی کامیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ -

کیا طالبان دوست عمران خان واقعی آکسفورڈ کے اگلے چانسلر کے لیے بہترین انتخاب ہیں؟
عمران خان، جو کہ طالبان کے حامی اور بعض متنازعہ بیانات کے لیے مشہور ہیں، نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر بننے کے لیے درخواست دی ہے۔ یہ فیصلہ بعض حلقوں میں تشویش کا باعث بنا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو خان کے موقف اور نظریات پر تنقید کرتے ہیں۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق عمران خان کے بیانات میں سلمان رشدی کے خلاف موقف، اسامہ بن لادن کو "شہید” قرار دینا، اور طالبان کی تعلیم پر پابندی کے حق میں بات کرنا شامل ہیں۔ ان کے ان بیانات نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے ان کی نامزدگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔آکسفورڈ یونیورسٹی کی چانسلرشپ ایک علامتی اور اہم کردار ہے، جس میں انتظامی ذمہ داریاں اور اہم تقاریب شامل ہیں۔ اس عہدے کے لیے ایک مناسب امیدوار کا انتخاب یونیورسٹی کی اقدار اور اس کی تعلیماتی پالیسیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ خان کی طالبان کے ساتھ ہم آہنگی اور ان کی دیگر متنازعہ سرگرمیاں آکسفورڈ کے اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ نظر نہیں آتی ہیں۔ عمران خان نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کی بھی تعریف کی، جس نے آزادی رائے اور انسانی حقوق کے معاملات میں متنازعہ اقدامات کیے ہیں۔ یہ بات خان کی امیدواری کو مزید پیچیدہ بناتی ہے، کیونکہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی آزادی رائے کو دبانے کی پالیسیوں نے برطانیہ کے تعلیمی اداروں میں بھی تشویش پیدا کی ہے۔
عمران خان کی امیدواری نے آکسفورڈ کے تعلیمی اور اخلاقی اصولوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کی تقرری سے یونیورسٹی کی اقدار پر اثر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ان کے متنازعہ نظریات اور چینی کمیونسٹ پارٹی کی تعریف کی روشنی میں۔ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آیا عمران خان کی امیدواری خواتین اور ترقی پسند نظریات کی نمائندگی کرنے کے بجائے متنازعہ موقف کو فروغ دے گی۔اس کے برعکس، لیڈی ایلیش انجیولینی، جو کہ ایک وکیل اور آکسفورڈ کی سابق پرو وائس چانسلر ہیں، ان کی نامزدگی ایک مثبت تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے۔ انجیولینی کا مقصد یونیورسٹی کو غریب طلباء کے لیے مزید قابل رسائی بنانا ہے، اور ان کا کیریئر خواتین کے حقوق اور انصاف کے لیے کام کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا عمران خان، جو طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات کی وجہ سے تنقید کا سامنا کر رہے ہیں، واقعی آکسفورڈ کے چانسلر کے لیے بہترین انتخاب ہیں، یا یہ کہ انجیولینی جیسی متبادل امیدوار زیادہ موزوں اور یونیورسٹی کی اقدار کے مطابق ہیں؟ -

پشاور :خلیجی ملک سے آنے والے ایک شخص میں منکی وائرس کی تصدیق
پاکستان میں منکی پوکس کے کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جب کہ پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک اور شخص میں اس وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔ وزارتِ صحت کے ترجمان کے مطابق یہ شخص حال ہی میں ایک خلیجی ملک سے واپس آیا تھا۔ترجمان وزارتِ صحت نے مزید بتایا کہ اس شخص میں 29 اگست کو منکی پوکس کی علامات ظاہر ہوئیں، جس کے بعد بارڈر ہیلتھ سروسز نے فوری طور پر اسے آئسولیٹ کر دیا تھا۔ اس مریض کا مکمل معائنہ کیا گیا اور منکی پوکس کی تصدیق ہونے پر ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔
اس نئے کیس کے سامنے آنے کے بعد پاکستان میں منکی پوکس کے کیسز کی مجموعی تعداد 4 ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے تین کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کے بعد ملک بھر میں اس وبا کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔وزارتِ صحت کے اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ تمام ایئرپورٹس پر اسکریننگ کے مؤثر نظام کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ اس وائرس کی روک تھام کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے منکی پوکس سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں اور وفاقی و صوبائی حکومتیں مل کر ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں کہ صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔
ڈاکٹر مختار بھرتھ نے یقین دہانی کرائی کہ وزارتِ صحت مسلسل صورتحال کی مانیٹرنگ کر رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔واضح رہے کہ منکی پوکس ایک وائرس ہے جو کہ زیادہ تر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، تاہم انسان سے انسان میں منتقلی بھی ممکن ہے۔ اس بیماری کی علامات میں بخار، سر درد، جسم میں درد اور جلد پر دانے شامل ہیں۔ وزارتِ صحت کی جانب سے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے اور کسی بھی مشتبہ علامات کی صورت میں فوری طور پر طبی مشورہ لینے کی تاکید کی گئی ہے۔ -

پنجاب میں کم آمدن والوں کے لیے تاریخی رہائشی منصوبہ: مریم نواز کا "اپنی چھت، اپنا گھر پروگرام” کا آغاز
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے پنجاب بھر میں کم آمدنی والے افراد کے لیے سستے گھروں کی فراہمی کا وعدہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبے کے ہر شہری کا اپنا گھر ہونے کا خواب پورا کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے یہ اعلان اخوت فاؤنڈیشن کے بانی و چیئرمین ڈاکٹر امجد ثاقب کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر، انہوں نے ڈاکٹر امجد ثاقب کی سماجی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اخوت کی خدمات کا دائرہ کار نہایت وسیع ہے اور انہوں نے ملک میں غریب اور ضرورت مند لوگوں کے لیے بے لوث خدمات انجام دی ہیں۔ ملاقات کے دوران، مریم نواز نے پنجاب کے "اپنی چھت، اپنا گھر پروگرام” کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اور سستا رہائشی منصوبہ ہوگا۔ ان کے مطابق، پنجاب میں لو کاسٹ ہاؤسنگ پروگرام کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ہر سال اس کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد مالی طور پر کمزور طبقوں کو اپنے گھر کا مالک بنانا ہے۔
مریم نواز نے عوام پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے سبسڈیز دینے اور آسان ماہانہ اقساط مقرر کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے تحت پائیدار اور ماحول دوست گھروں کی تعمیر کو فروغ دیا جائے گا، جو نہ صرف کم آمدنی والے افراد کے لیے گھر کا خواب پورا کریں گے بلکہ ملکی معیشت کے استحکام میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے لاکھوں افراد کو روزگار ملے گا اور لاکھوں خاندان بہتر زندگی گزار سکیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ پروگرام ملکی تاریخ میں سود کے بغیر قرضوں کی فراہمی کا پہلا بڑا منصوبہ ہوگا، جس سے نچلے طبقے کے لوگوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔مریم نواز نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بے گھر لوگوں کو اپنا گھر فراہم کرنا ان کی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دیہات میں 10 مرلے اور شہروں میں 5 مرلے تک رہائشی پلاٹ کے مالکان 15 لاکھ روپے تک قرض لے سکتے ہیں، جو کہ ایک اہم قدم ہے جس سے دیہی اور شہری علاقوں کے لوگوں کو اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع ملے گا۔یہ پروگرام پنجاب کی حکومت کا ایک اہم اقدام ہے، جس کا مقصد صوبے کے کمزور طبقوں کو بہتر رہائش کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی اس پالیسی کو عوامی حلقوں میں پذیرائی مل رہی ہے اور اس سے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ منصوبہ معاشرتی انصاف کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔
-

صدرِ مملکت، وزیراعظم اور بلاول بھٹو زرداری کے سید علی گیلانی کی تیسری برسی پر خصوصی پیغامات
آج کشمیر کے ممتاز حریت رہنما سید علی گیلانی کی تیسری برسی کے موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف، اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ان کی قربانیوں اور خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے خصوصی پیغامات جاری کیے ہیں۔ سید علی گیلانی کو کشمیر کی تحریک آزادی کے مضبوط اور غیر متزلزل رہنما کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کے لیے وقف کر دی۔صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں سید علی گیلانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کے لیے ایک عظیم رہنما تھے۔ انہوں نے کہا، "سید علی گیلانی کے عزم اور ان کی قربانیوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ ان کی اور دیگر شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔صدرِ مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے اپنی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان اس مقصد کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ سید علی گیلانی کو کشمیر کی تحریک آزادی کے ایک معتبر نام کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا، "سید علی گیلانی کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت پر پختہ یقین رکھتے تھے اور ان کی زندگی اس مقصد کے لیے وقف تھی۔”وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ سید علی گیلانی نے قید و بند کی صعوبتیں اور مشکلات برداشت کیں لیکن ان کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول تک پاکستان اپنی حمایت جاری رکھے گا۔ وزیرِ اعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سید علی گیلانی کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور کشمیر کے عوام کی آزادی کی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی سید علی گیلانی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سید علی گیلانی نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے پرچم کو ہمیشہ بلند رکھا۔ انہوں نے کہا، "بنیادی انسانی حقوق کے لیے ان کی جدوجہد اور غیر متزلزل عزم ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔”بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پورے خطے کا امن، استحکام، اور ترقی خطرے میں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق نکالنا ضروری ہے۔
سید علی گیلانی کی تیسری برسی کے موقع پر پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور کشمیری عوام کی آزادی اور حق خودارادیت کے لیے اپنی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان پیغامات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کشمیر کی جدوجہد آزادی کے لیے اپنی اخلاقی، سفارتی، اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور سید علی گیلانی کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گا۔