Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • سمندری طوفان اسنیٰ: کراچی سے 500 کلومیٹر دور پہنچ گیا، محکمہ موسمیات نے نیا الرٹ جاری کر دیا

    سمندری طوفان اسنیٰ: کراچی سے 500 کلومیٹر دور پہنچ گیا، محکمہ موسمیات نے نیا الرٹ جاری کر دیا

    کراچی: بحیرہ عرب میں موجود سمندری طوفان ’’اسنیٰ‘‘ کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے ٹراپیکل سائیکلون کا نواں الرٹ جاری کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان اس وقت شمال مغربی بحیرہ عرب میں موجود ہے اور گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران جنوب مغرب کی جانب بڑھا ہے۔محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق اسنیٰ اس وقت کراچی کے جنوب مغرب سے تقریباً 500 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ مزید یہ کہ طوفان اورماڑہ کے جنوب مغرب سے 350 کلومیٹر اور گوادر کے جنوب سے 260 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔ عمان کے دارالحکومت مسقط سے یہ طوفان 430 کلومیٹر مشرق، جنوب مشرق میں ہے۔ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ اسنیٰ جنوب مغرب کی طرف بڑھ رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ طوفان سمندر ہی میں کمزور پڑ جائے گا۔ تاہم، اس طوفان کے زیر اثر آج شام تک بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں، بشمول اورماڑہ، پسنی، گوادر، جیوانی اور تربت میں، گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اس دوران 60 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں۔
    بلوچستان کی انتظامیہ نے ماہی گیروں اور ساحلی علاقوں کے رہائشیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ آج اور کل سمندر کا رخ نہ کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔ سندھ کے ماہی گیروں کو آج سے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی گئی ہے کیونکہ سندھ کے ساحلی علاقے طوفان کے اثر سے باہر ہیں۔محکمہ موسمیات نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ موسمی صورتحال پر نظر رکھیں اور کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں فوری طور پر مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔ خاص طور پر وہ لوگ جو ساحلی علاقوں میں رہائش پذیر ہیں، انہیں محتاط رہنے اور کسی بھی قسم کی غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔سمندری طوفان اسنیٰ کی صورتحال پر مزید اپ ڈیٹس اور ہدایات کے لیے محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ اور مقامی میڈیا پر نظر رکھیں۔

  • عراق میں بغداد ایئرپورٹ پر پھنسے پاکستانی زائرین کی واپسی متوقع

    عراق میں بغداد ایئرپورٹ پر پھنسے پاکستانی زائرین کی واپسی متوقع

    عراق میں بغداد ایئرپورٹ پر پھنسے پاکستانی زائرین کی وطن واپسی کی امید روشن ہوگئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستانی زائرین کو چند گھنٹوں میں وطن واپس لانے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری نے اس سلسلے میں اہم اقدامات اٹھائے ہیں اور امید ظاہر کی ہے کہ بوئنگ 777 کے ذریعہ زائرین کی وطن واپسی 2 سے 3 گھنٹوں میں ممکن ہو جائے گی۔گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بغداد ایئرپورٹ پر پھنسے پاکستانی زائرین کی واپسی کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا۔ اسلام آباد میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران رکن قومی اسمبلی عبد الحمید نے گورنر سندھ سے ملاقات کی اور عراق میں پھنسے زائرین کی وطن واپسی کے سلسلے میں کی جانے والی کاوشوں پر ان کا شکریہ ادا کیا۔گورنر سندھ نے عراق میں موجود پاکستانی سفیر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور زائرین کی جلد وطن واپسی کے لیے ضروری اقدامات پر زور دیا۔ عراقی سفیر نے یقین دہانی کروائی کہ زائرین کی واپسی کے لیے بھرپور اقدامات یقینی بنائے جا رہے ہیں اور تمام مسائل کو جلد از جلد حل کیا جائے گا۔یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب بغداد ایئرپورٹ پر 50 سے زائد پاکستانی زائرین کے پاسپورٹ گم ہو گئے۔
    یہ زائرین اربعین کے موقع پر عراق گئے تھے اور وطن واپسی پر انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ زائرین نے بتایا کہ وہ صبح 4 بجے سے بغداد ایئرپورٹ پر موجود ہیں اور ان کی پرواز صبح 9 بجے انہیں چھوڑ کر اسلام آباد روانہ ہوگئی۔ بغداد میں پھنسے زائرین نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی سے مدد کی اپیل کی تھی۔ زائرین نے کہا کہ ان کے پاسپورٹ انتظامیہ کو نہیں مل رہے اور انہیں بتایا نہیں جا رہا کہ وہ وطن کب اور کیسے واپس جائیں گے۔ زائرین نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ ہنگامی طور پر خصوصی پرواز کے ذریعہ ان کی فوری واپسی کو یقینی بنایا جائے۔گورنر سندھ کی کاوشوں اور عراق میں پاکستانی سفارت خانے کے تعاون سے زائرین کی واپسی کی راہ ہموار ہو چکی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ تمام زائرین کو جلد وطن واپس لایا جائے گا، جس سے ان کے خاندانوں کی بے چینی کا خاتمہ ہو گا۔پاکستانی زائرین کے لیے یہ ایک خوش آئند خبر ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ان کی مدد کے لیے سرگرم ہیں، اور جلد ہی وہ اپنے وطن واپس پہنچ جائیں گے۔

  • اسد قیصر کا ایپکس کمیٹی بلوچستان کا معاملہ پارلیمنٹ میں لانے کا مطالبہ

    اسد قیصر کا ایپکس کمیٹی بلوچستان کا معاملہ پارلیمنٹ میں لانے کا مطالبہ

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بلوچستان کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایپکس کمیٹی بلوچستان کے معاملات کو پارلیمنٹ میں لایا جائے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ بلوچستان کی صورتحال کو سنجیدگی سے لیا جائے اور وہاں کے عوام کی آواز کو سنا جائے۔میڈیا سے گفتگو کے دوران اسد قیصر نے کہا کہ وزیر داخلہ کے بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ یہ کہتے ہیں کہ "یہ ایک ایس ایچ او کی مار ہے” جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت بلوچستان کے مسائل کی نوعیت کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے جو نمائندے موجود ہیں، وہ عوام کے حقیقی نمائندے نہیں ہیں، اور ان کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی کوشش ناکام ہو جائے گی۔
    اسد قیصر نے کہا کہ بلوچستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے اور وہاں کے عوام کی آواز کو سننے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جو کچھ اس وقت ملک میں ہو رہا ہے، اس پر ہمیں شدید تشویش ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو نظر انداز نہ کرے۔پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل مقامی سطح پر ہی ممکن ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہاں کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی اور اس وقت ضروری ہے کہ وہاں کے عوام کے تحفظات کو دور کیا جائے۔اسد قیصر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ان کی پارٹی بلوچستان کے عوام کے ساتھ ہے اور ان کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھاتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ بلوچستان کے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے اور تمام ادارے اس کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی عوامی مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ سے ہی سنجیدہ ہے اور وہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

  • مولانا فضل الرحمان اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ یہودیوں کو کیسے مسلمان کہا جائے، فیصل کریم کنڈی

    مولانا فضل الرحمان اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ یہودیوں کو کیسے مسلمان کہا جائے، فیصل کریم کنڈی

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پنجاب حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک اچھی بات ہے، لیکن عوام کو مستقل بنیادوں پر فائدہ پہنچانے کے لیے لانگ ٹرم منصوبے بھی دینے چاہئیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے منشور میں 300 یونٹ تک بجلی مفت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ کنڈی نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ پارٹی کے لیے اپنے 100 عہدے قربان کرنے کے لیے تیار ہیں اور پارٹی جب بھی کہے گی، وہ گورنر شپ چھوڑ دیں گے۔فیصل کریم کنڈی نے جے یو آئی (ف) اور پی ٹی آئی کے ممکنہ اتحاد کو "غیر فطری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کے بارے میں شدید پریشان ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ یہودیوں کو کیسے مسلمان کہا جائے، جبکہ پی ٹی آئی کے ارکان اس بات پر پریشان ہیں کہ انہیں مولانا فضل الرحمان کو کس طرح پیش کیا جائے۔انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ذاتی حیثیت میں ہوئی تھی۔ گورنر کے پی نے کہا کہ حکومت آئینی ترمیم سے متعلق جب بھی مشاورت کرے گی تو وہ اپنی رائے دیں گے۔ اگر حکومت کے پاس قانون سازی کے لیے مطلوبہ اراکین کی تعداد پوری ہے، تو وہ قانون سازی کر سکتی ہے۔
    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گورنر بننے کے بعد انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کو صوبے کے مسائل کے حل کے لیے تعاون کی پیشکش کی تھی، لیکن اس کے جواب میں حکومت کے نمائندوں نے انہیں فون کرانے شروع کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ جب ان کے والد کے بارے میں بات کی جائے گی تو وہ بھی جواب میں بات کریں گے۔ اس کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اپنے وزراء کو فیصل کریم کنڈی کے حوالے سے بات کرنے کا کہا۔ گورنر کے پی نے واضح کیا کہ انہوں نے وزراء کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا ہے اور کہا کہ خیبر پختونخوا میں جلسے نہیں ہو رہے اور نہ ہی آئندہ ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے پہلے ہی بتایا تھا کہ خیبر پختونخوا میں نوکریاں بیچی جا رہی ہیں، حتیٰ کہ کلاس فور کی نوکریاں بھی فروخت کی جا رہی ہیں اور نوکریوں کے نرخنامے لگے ہوئے ہیں۔
    فیصل کریم کنڈی نے علیمہ خان کے حوالے سے کہا کہ وہ یہ نہیں چاہتیں کہ پی ٹی آئی کے بانی باہر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی این آر او چاہتے ہیں تاکہ وہ بیرون ملک سے واپس آسکیں۔ گورنر کے پی نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی میں جس نے بھی کرپشن کے بارے میں آواز اٹھائی، اس کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خیبر پختونخوا میں علی امین گنڈا پور نے صرف وفادار لوگوں سے دستخط کروا کر کرپشن کی تحقیقات کے لیے کمیٹیاں بنائیں، جنہیں "چوروں کی کمیٹیاں” کہا گیا۔گورنر کے پی کے نے پی ٹی آئی کی قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تاریخ کی بدترین کرپشن جاری ہے، اور ان کا صرف ایک ہی ایجنڈا ہے، "کرپشن”۔

  • پاکستان اسپورٹس بورڈ نے قومی انڈر-18 بیس بال ٹیم کی ایشین چیمپئن شپ میں شرکت روک دی

    پاکستان اسپورٹس بورڈ نے قومی انڈر-18 بیس بال ٹیم کی ایشین چیمپئن شپ میں شرکت روک دی

    اسلام آباد: پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے قومی انڈر-18 بیس بال ٹیم کو 30 اگست سے 9 ستمبر تک چائنیز تائی پے میں ہونے والی ایشین انڈر-18 بیس بال چیمپئن شپ میں شرکت سے روک دیا ہے۔ پی ایس بی کی جانب سے ٹیم کے لیے شرکت کا اجازت نامہ (این او سی) جاری نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں ٹیم کی روانگی کا معاملہ معطل ہوگیا ہے۔پاکستان اسپورٹس بورڈ نے باضابطہ طور پر ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ قومی انڈر-18 بیس بال ٹیم کو چیمپئن شپ میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ 34 رکنی پاکستانی دستے نے آج شب چائنیز تائی پے روانہ ہونا تھا، تاہم اجازت نامہ جاری نہ ہونے کی وجہ سے ان کی روانگی روک دی گئی ہے۔پی ایس بی نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) حکام کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام کی کوشش کو روکنے کے لیے تیار رہیں، جس کے تحت یہ ٹیم جعلی وجوہات کی بنیاد پر چیمپئن شپ میں شرکت کے لیے روانہ ہوسکتی ہے۔ پی ایس بی نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ اگر ٹیم کا کوئی بھی رکن ملک چھوڑنے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف ایکشن لیا جائے۔
    پاکستان بیس بال فیڈریشن کے سیکریٹری، سید فخر علی شاہ، نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کی روانگی کے لیے تمام تیاریاں مکمل تھیں، اور ہماری بکنگ بھی ہوچکی تھی۔ "ہمیں ایشین انڈر-18 بیس بال چیمپئن شپ میں شرکت سے روکا گیا ہے، جو کہ انتہائی مایوس کن ہے،” انہوں نے کہا۔سید فخر علی شاہ نے مزید وضاحت کی کہ یہ چیمپئن شپ انڈر-18 بیس بال ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ کا حصہ ہے، اور پاکستان کی عدم شرکت سے ملک کی ٹیم کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایونٹ میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے، جو کہ پاکستان کے بیس بال کے مستقبل کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔
    پاکستان اسپورٹس بورڈ کی جانب سے این او سی جاری نہ کرنے کے فیصلے کے پیچھے وجوہات کو ابھی تک واضح نہیں کیا گیا، لیکن یہ معاملہ پاکستان کی کھیلوں کی ترقی کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ پاکستانی کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے، جو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو منوانے کے لیے محنت کر رہے ہیں۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ چیمپئن شپ میں شرکت نہ کرنے کے نتیجے میں پاکستان کے انڈر-18 بیس بال کھلاڑیوں کے لیے مستقبل کے مواقع محدود ہوسکتے ہیں، اور اس فیصلے کے اثرات آنے والے کئی سالوں تک دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس دوران، پاکستان بیس بال فیڈریشن کے عہدیداران نے حکومتی حکام سے اس معاملے پر دوبارہ غور کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

  • لاہور میں نایاب برفانی تیندوے کی کھال برآمد، ملزم گرفتار

    لاہور میں نایاب برفانی تیندوے کی کھال برآمد، ملزم گرفتار

    لاہور: محکمہ وائلڈ لائف نے لاہور میں ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے نایاب برفانی تیندوے کی کھال برآمد کر لی ہے اور اس سے متعلق ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کامیاب کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب محکمہ وائلڈ لائف کو ملزم کے سوشل میڈیا کے ذریعے نایاب جنگلی جانوروں کی کھالیں فروخت کرنے کی اطلاع ملی۔
    ترجمان محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق، ملزم غیر قانونی طور پر جنگلی جانوروں کی کھالیں فروخت کر رہا تھا اور اس نے برفانی تیندوے کی کھال کو بھی غیر قانونی طور پر حاصل کر رکھا تھا۔ برفانی تیندوے کی کھال کی عالمی مارکیٹ میں قیمت 20 ہزار ڈالر یعنی تقریباً 56 لاکھ روپے ہے، جو اس کی نایابیت اور قدر کو ظاہر کرتی ہے۔ملزم کی گرفتاری اور برفانی تیندوے کی کھال کی برآمدگی محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کیے گئے سخت اقدامات کی نشاندہی کرتی ہے۔ محکمہ وائلڈ لائف کی ٹیم نے کارروائی کے دوران ملزم کو موقع پر گرفتار کر لیا اور کھال کو ضبط کر لیا۔
    سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے اس کارروائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالیرنس پالیسی پر عمل درآمد جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کو روکنے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
    محکمہ وائلڈ لائف کے حکام نے اس کارروائی کو جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے نہ صرف نایاب جانور کی کھال کو محفوظ کیا گیا بلکہ مستقبل میں ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے بھی ایک پیغام دیا گیا ہے۔اس کارروائی کے بعد محکمہ وائلڈ لائف نے عوام سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی یا غیر قانونی تجارت کی اطلاع فراہم کریں تاکہ جنگلی حیات کی حفاظت کی جا سکے اور ان کی بقا کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • باکسر محمد وسیم کو  اٹلی کا ویزا ملنے میں مشکلات کا سامنا، گورنر سندھ  کا نوٹس

    باکسر محمد وسیم کو اٹلی کا ویزا ملنے میں مشکلات کا سامنا، گورنر سندھ کا نوٹس

    پاکستان کے معروف باکسر محمد وسیم نے اٹلی کا ویزا نہ ملنے کی صورت میں مدد کی اپیل کی جس پر گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے فوری نوٹس لیا ہے۔ گورنر سندھ نے اٹلی کے سفارت خانے کو ایک خط جاری کیا ہے جس میں محمد وسیم کے ویزا کی جلد جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔محمد وسیم، جو کہ مالٹا میں 4 اکتوبر کو ڈبلیو بی ایف انٹر کونٹینینٹل ہیوی ویٹ ورلڈ ٹائٹل کے لیے ایک عالمی باکسر سے مقابلہ کرنے والے ہیں، ویزا کی عدم دستیابی کی وجہ سے شدید پریشانی میں تھے۔ اس تناظر میں، گورنر سندھ نے سفارت خانے سے درخواست کی ہے کہ باکسر کا ویزا فوری طور پر جاری کیا جائے تاکہ وہ اپنے اہم میچ کے لیے وقت پر پہنچ سکیں۔گورنر ہاؤس پہنچ کر محمد وسیم نے گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ "کئی دنوں سے میں اس مسئلے سے پریشان تھا اور مجبوراً ویڈیو پیغام کے ذریعے اپیل کرنا پڑی تھی۔ گورنر سندھ کے فوری ردعمل اور مدد کے لیے میں ان کا دل سے شکر گزار ہوں۔اس اقدام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گورنر سندھ کی جانب سے باکسر کی مشکلات کا فوری اور موثر حل تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ محمد وسیم اپنے اہم بین الاقوامی میچ میں شرکت کر سکیں اور ملک کا نام روشن کر سکیں۔

  • کیا وفاقی حکومت مولانا فضل الرحمن کے تحفطات دور کر پائے گی؟  ملاقاتوں کی اندرونی کہانی

    کیا وفاقی حکومت مولانا فضل الرحمن کے تحفطات دور کر پائے گی؟ ملاقاتوں کی اندرونی کہانی

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے حالیہ دنوں میں دو بڑی ملاقاتیں کی ہیں۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقاتیں کر کے اُن کے تحفظات اور ناراضگی دور کرنے کی کوشش کی ہے۔پہلی ملاقات صدر مملکت آصف علی زرداری کے ساتھ ہوئی، جس میں گزشتہ ہفتے جے یو آئی سربراہ کو ملک کو درپیش چیلنجز میں مدد اور حمایت طلب کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس ملاقات میں صدر زرداری نے مولانا فضل الرحمان کو یقین دلایا کہ ان کے تحفظات دور کیے جائیں گے اور ان کی اہمیت کو تسلیم کیا جائے گا۔
    دوسری ملاقات وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ہوئی، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے جس میں وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان سے درخواست کی کہ وہ جمہوری سیاسی سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں اور انتشاری سیاست کو مسترد کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک جمہوری سوچ رکھنے والے زیرک سیاستدان ہیں اور ان سے درخواست کی کہ وہ ہمیشہ کی طرح جمہوری طریقے سے مسائل کا حل تلاش کریں۔ذرائع کے مطابق، ان ملاقاتوں کا مقصد مولانا فضل الرحمان کی ناراضی دور کرنا اور انہیں حکومت کی حمایت اور مدد فراہم کرنا ہے۔ اتحادی حکومت کے دو بڑے رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمان کو یقین دلایا ہے کہ ان کے تحفظات کو دور کیا جائے گا اور ان کی سیاسی حیثیت کا احترام کیا جائے گا۔وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور کرنے کی مکمل کوشش کرے گی اور ان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

  • وزیر اعظم نے جہاں زیب خان کا استعفیٰ منظور کرلیا، احسن اقبال کو اضافی چارج دے دیا

    وزیر اعظم نے جہاں زیب خان کا استعفیٰ منظور کرلیا، احسن اقبال کو اضافی چارج دے دیا

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن جہاں زیب خان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی کابینہ ڈویژن نے استعفیٰ کی منظوری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کو ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن کا اضافی چارج تفویض کر دیا گیا ہے۔احسن اقبال کو نئی ذمہ داریوں کے تحت پلاننگ کمیشن کی پالیسیوں اور منصوبہ بندی کے امور کی نگرانی کا کام سونپا گیا ہے۔ اس اضافی چارج کے حوالے سے مزید ہدایات جاری کی جائیں گی تاکہ ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے اور جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔دوسری جانب، ساجد محمود کو جوائنٹ سیکرٹری (سی پی 2) اسٹیبلشمنٹ ڈویژن تعینات کر دیا گیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ساجد محمود کی تعیناتی کے حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ ساجد محمود کی نئی ذمہ داریوں میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے انتظامی امور اور متعلقہ پالیسیوں پر عمل درآمد شامل ہوگا۔یہ تبدیلیاں حکومتی اداروں کی کارکردگی اور نظم و نسق میں بہتری کے لیے کی گئی ہیں، اور توقع کی جا رہی ہے کہ ان اقدامات سے منصوبہ بندی اور انتظامی امور میں مزید بہتری آئے گی۔

  • نیسپاک کا انتظام پاور ڈویژن سے کابینہ ڈویژن کو منتقل: وزیراعظم کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری

    نیسپاک کا انتظام پاور ڈویژن سے کابینہ ڈویژن کو منتقل: وزیراعظم کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد: وزیراعظم کی منظوری کے بعد حکومت نے نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک) کو پاور ڈویژن سے لے کر کابینہ ڈویژن کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تبدیلی کے حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن کابینہ ڈویژن اسلام آباد نے جاری کردیا ہے، جس میں نیسپاک کی انتظامی حیثیت کو بدلنے کے تمام قانونی پہلوؤں کو شامل کیا گیا ہے۔جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، نیسپاک کا انتظامی کنٹرول اب پاور ڈویژن کے بجائے کابینہ ڈویژن کے ماتحت ہوگا۔ یہ تبدیلی رولز آف بزنس 1973 کے رول 3 میں ترمیم کے ذریعے عمل میں لائی گئی ہے، جس کے تحت نیسپاک کی نگرانی اور انتظامی امور کی ذمہ داری کابینہ ڈویژن کو سونپی گئی ہے۔نیسپاک پاکستان کی ایک معروف انجینئرنگ اور کنسلٹنگ کمپنی ہے جو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف پراجیکٹس پر کام کرتی ہے۔ اس کے انتظامی کنٹرول کی تبدیلی کو حکومتی اصلاحات اور اداروں کی بہتر انتظام کاری کے حوالے سے اہم قدم سمجھا جارہا ہے۔
    نوٹیفکیشن میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ نیسپاک کے تمام اثاثے، واجبات اور قانونی ذمہ داریاں بھی کابینہ ڈویژن کو منتقل کردی گئی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ادارے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا اور اسے حکومتی پالیسیوں کے مطابق ڈھالنا ہے۔نیسپاک کی منتقلی کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ اس اقدام سے کمپنی کی کارکردگی اور خدمات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، جبکہ یہ بھی امکان ہے کہ اس تبدیلی سے حکومت کی مختلف منصوبوں میں کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، اس تبدیلی کا مقصد اداروں کی موثر نگرانی اور بہتر انتظامی کنٹرول کو یقینی بنانا ہے تاکہ عوامی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔کابینہ ڈویژن اب نیسپاک کے تمام امور کی نگرانی کرے گی اور اسے حکومتی پالیسیوں کے مطابق چلانے کی ذمہ داری بھی نبھائے گی۔