Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • ضلع خیبر: وادی تیراہ میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 12 دہشتگرد ہلاک، صدر مملکت کا فوج کو خراج تحسین

    ضلع خیبر: وادی تیراہ میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 12 دہشتگرد ہلاک، صدر مملکت کا فوج کو خراج تحسین

    28 اور 29 اگست کو ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں سیکیورٹی فورسز نے خوارج دہشتگردوں کے خلاف ایک مؤثر اور کامیاب آپریشن کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں 12 خوارج دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد یہ کامیابی حاصل کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق، سیکیورٹی فورسز کی یہ کارروائی 20 اگست سے شروع ہوئی، جب خوارج کی موجودگی کی اطلاع ملی۔ اس دوران وسیع پیمانے پر انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز جاری رہے، جس میں خوارج اور ان سے وابستہ تنظیموں کو بڑا دھچکا لگا ہے۔بیان کے مطابق، 20 اگست سے اب تک مجموعی طور پر 37 دہشتگرد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ 14 دہشتگرد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ علاقے میں موجود دیگر خوارج دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں اور ان بہادر سپاہیوں کی قربانیاں قومی عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کے اس عزم اور محنت کی بدولت ملک میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری کا ضلع خیبر میں کامیاب انٹیلی جنس آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں حالیہ کامیاب انٹیلی جنس آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اپنے بیان میں، صدر زرداری نے "فتنہ الخوارج” کے خلاف کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کی اور دہشت گردی کے عفریت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے قومی عزم کا اظہار کیا۔صدر نے کہا کہ ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور اس جنگ میں پوری قوم افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی تاکہ ملک میں امن و امان برقرار رہے۔

  • وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جعلی مواد پھیلانے پر دو ملزمان  گرفتار

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جعلی مواد پھیلانے پر دو ملزمان گرفتار

    اسلام آباد میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جعلی مواد پھیلانے کے جرم میں دو ملزمان کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایف آئی اے نے جاری کردہ اعلامیے میں بتایا کہ گرفتار ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر مریم نواز کی جعلی تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کیں۔ایف آئی اے کے مطابق، دونوں ملزمان نے مریم نواز کی جعلی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شائع کر کے عوام میں اشتعال انگیزی پیدا کی۔ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے درج کردہ مقدمے کے مطابق، ملزمان کے خلاف کارروائی ایک شہری کی شکایت پر کی گئی، جو مزنگ میں رہائش پذیر ہے۔ شکایت گزار نے ایف آئی اے کو رپورٹ کیا کہ ملزمان کی جانب سے جعلی مواد کے ذریعے عوام میں غلط فہمیاں اور کشیدگی پیدا کی جا رہی تھی۔
    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، اور ان کے خلاف مزید تحقیقات جاری ہیں۔ ایف آئی اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی جعلی معلومات یا تصاویر کی نشاندہی کریں اور متعلقہ اداروں کو رپورٹ کریں تاکہ اس طرح کے معاملات کی روک تھام کی جا سکے۔یہ کارروائی سوشل میڈیا پر جعلی مواد کے پھیلاؤ اور اس کے ذریعے عوامی اشتعال انگیزی کی روک تھام کے لیے ایف آئی اے کے عزم کا حصہ ہے۔

  • پاکستان میں سست انٹرنیٹ کی مشکلات، پی ٹی اے کا  صارفین کو انوکھا مشورہ

    پاکستان میں سست انٹرنیٹ کی مشکلات، پی ٹی اے کا صارفین کو انوکھا مشورہ

    اسلام آباد: ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری نے عوام کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے، خاص طور پر آن لائن کاروبار اور فری لانسرز کے لیے یہ صورتحال پریشان کن ثابت ہوئی ہے۔ اس پس منظر میں، پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے صارفین کو بہتر آن لائن تجربے کے لیے ایک اہم مشورہ دیا ہے۔پی ٹی اے نے انٹرنیٹ کی سست روی کا سامنا کرنے والے صارفین، خاص طور پر آن لائن بزنس اور فری لانسرز کو وی پی این (ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک) استعمال کرنے کی تجویز دی ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق، وی پی این کی مدد سے صارفین بلاتعطل اور محفوظ آن لائن کاروبار کر سکتے ہیں، جو انٹرنیٹ کی موجودہ سست رفتاری کی مشکلات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔پی ٹی اے نے بتایا کہ وی پی این خدمات کے لیے صارفین کو "ون ونڈو آپریشن” سے وی پی این حاصل کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔ سافٹ ویئر ہاؤسز، کال سینٹرز، اور فری لانسرز اس وقت پی ٹی اے کے ذریعے وی پی این حاصل کر سکتے ہیں، اور اب تک چار سال کے دوران 20 ہزار آئی پیز وی پی اینز کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں۔
    اس سے قبل، پی ٹی اے نے انٹرنیٹ کی سست روی کی بنیادی وجہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کی سب میرین کیبلز میں سے دو میں خرابی ہے، جو انٹرنیٹ کی رفتار کو متاثر کر رہی ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق، اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کام جاری ہے اور توقع ہے کہ خرابی 7 سب میرین کیبلز میں سے دو کی مرمت کے بعد بہتر ہو جائے گی۔پی ٹی اے نے کہا کہ سب میرین کیبل اے اے ای-1 کی مرمت مکمل کر لی گئی ہے، جس کے باعث انٹرنیٹ کی صورتحال میں بہتری آنے کا امکان ہے۔ پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ایس ایم ڈبلیو 4 سب میرین کیبل میں خرابی اکتوبر کے اوائل تک ٹھیک ہونے کی امید ہے۔پی ٹی اے کے جاری کردہ بیانات کے مطابق، ان اقدامات کے ذریعے صارفین کو بہتر انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ آن لائن کاروبار اور دیگر انٹرنیٹ پر منحصر خدمات متاثر نہ ہوں۔

  • 8 ستمبر کو اسلام آباد میں ہر صورت جلسہ کرنے کا فیصلہ

    8 ستمبر کو اسلام آباد میں ہر صورت جلسہ کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 8 ستمبر کو اسلام آباد میں جلسہ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ پی ٹی آئی کی کورکمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی۔ذرائع کے مطابق، کورکمیٹی کے اجلاس میں تمام حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے طے پایا کہ جلسہ ہر صورت میں منعقد کیا جائے گا۔ اس جلسے کے کامیاب انعقاد کے لیے مختلف کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جو انتظامات کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔ ان کمیٹیوں کو جلسے کی تیاریوں، عوامی رابطے کی مہم، سیکیورٹی، اور دیگر اہم امور کو دیکھنے کا ذمہ دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف نے 15 ستمبر کو لاہور میں ہونے والا جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
    یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کہ 15 ستمبر کو عید میلاد النبی ﷺ کی مناسبت سے ملک بھر میں مذہبی تقاریب منعقد کی جائیں گی۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر پارٹی کے زیر اہتمام بھی ملک بھر میں تقاریب منعقد کی جائیں گی تاکہ اس مقدس موقع کو بھرپور طریقے سے منایا جا سکے۔تحریک انصاف نے لاہور جلسے کے لیے نئی تاریخ کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ اب یہ جلسہ 22 ستمبر کو منعقد کیا جائے گا۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ جلسہ تحریک انصاف کی عوامی رابطہ مہم کا ایک اہم حصہ ہوگا اور اس میں پارٹی چیئرمین اور دیگر اہم رہنما عوام سے خطاب کریں گے۔پی ٹی آئی کی قیادت نے اپنے کارکنوں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اسلام آباد اور لاہور کے جلسوں میں بھرپور شرکت کریں تاکہ ملک بھر میں پارٹی کے مؤقف کو مزید تقویت مل سکے۔

  • کراچی سمیت سندھ بھر میں موسلا دھار بارشوں کا امکان، سمندری طوفان اسنی کا خطرہ

    کراچی سمیت سندھ بھر میں موسلا دھار بارشوں کا امکان، سمندری طوفان اسنی کا خطرہ

    محکمہ موسمیات کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کراچی سمیت سندھ بھر میں رات کے وقت تیز بارشیں متوقع ہیں۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ سندھ کے مختلف علاقوں میں ہفتہ 31 اگست تک وقفے وقفے سے موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے ساتھ ساتھ تیز ہوائیں بھی چلنے کی توقع ہے۔ زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ 48 سال بعد بحیرہ عرب میں اگست کے دوران ایک سمندری طوفان نے جنم لیا ہے۔ یہ ڈیپ ڈپریشن شدت اختیار کرکے سمندری طوفان "اسنی” میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ اس سمندری طوفان کے زیر اثر کراچی سمیت سندھ کے دیگر اضلاع میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ شدید موسلا دھار بارشوں کا امکان ہے۔
    محکمہ موسمیات کے مطابق، کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں اس طوفانی سسٹم کے باعث 31 اگست تک وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں میں اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ادھر بلوچستان کے مختلف مقامات پر بھی آج سے یکم ستمبر کے دوران گرج چمک کے ساتھ تیز بارشیں ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ماہرین موسمیات نے بلوچستان کے رہائشیوں کو بھی ممکنہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔محکمہ موسمیات کے حکام کا کہنا ہے کہ عوام کو موسم کی صورتحال سے باخبر رہنے اور احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے بچا جا سکے۔

  • ملک میں مہنگائی کی شرح میں 0.62 فیصد کمی، ادارہ شماریات کی رپورٹ جاری

    ملک میں مہنگائی کی شرح میں 0.62 فیصد کمی، ادارہ شماریات کی رپورٹ جاری

    ملک میں مہنگائی کی شرح میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ادارہ شماریات پاکستان نے ہفتہ وار رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی مجموعی شرح میں 0.62 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مہنگائی کی موجودہ شرح 15.34 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 17 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ 10 اشیاء کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔ اس کے علاوہ، 24 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔رپورٹ کے مطابق، ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 9 روپے سے زیادہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پیاز کی قیمت فی کلو 9 روپے تک بڑھی، جبکہ دال چنا اور لہسن کی قیمتوں میں بھی بالترتیب 8 اور 10 روپے تک اضافہ ہوا۔ مزید برآں، ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 15 روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔ دیگر مہنگی ہونے والی اشیاء میں آلو، ٹوٹا باسمتی چاول، گھی، نمک، مٹن اور بیف شامل ہیں۔
    ادارہ شماریات کے مطابق، ایک ہفتے کے دوران زندہ مرغی کی فی کلو قیمت میں 12 روپے سے زیادہ کی کمی ہوئی ہے۔ فی درجن انڈے 3 روپے تک سستے ہوئے، جبکہ 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 16 روپے تک کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ، ماش کی دال کی قیمت میں 3 روپے سے زیادہ کی کمی بھی دیکھنے میں آئی۔ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق، ملک میں مہنگائی کی مجموعی شرح میں کمی تو آئی ہے، لیکن چند ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے، اس پر نظر رکھی جائے گی۔

  • اندرونی اختلافات : خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس مسلسل چوتھی بار ملتوی

    اندرونی اختلافات : خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس مسلسل چوتھی بار ملتوی

    پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اجلاس کی نئی تاریخ 23 ستمبر مقرر کی گئی ہے۔ اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس اب 23 ستمبر بروز پیر دوپہر 2 بجے منعقد ہوگا۔یہ مسلسل چوتھی بار ہے جب خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس کو ملتوی کرنا پڑا ہے۔ پہلے اجلاس 9 اگست کو منعقد ہونا تھا، لیکن اسے ملتوی کر کے 26 اگست تک بڑھا دیا گیا۔ بعد ازاں، تیسری بار یہ اجلاس 2 ستمبر کو منعقد ہونے والا تھا، مگر ایک بار پھر ملتوی کر کے اب 23 ستمبر کی تاریخ طے کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس بار بار ملتوی ہو رہا ہے۔
    پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست میں عدم اتفاق اور اختلافات کی وجہ سے پارلیمانی کارروائی تعطل کا شکار ہے۔ خاص طور پر، شکیل خان کو فارغ کرنے کے بعد سے پارٹی کے اندر مشکلات بڑھ گئی ہیں، جس کے سبب اسمبلی کا اجلاس منعقد کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کا مسلسل ملتوی ہونا جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ ہے اور یہ سیاسی جماعتوں کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے صوبے کے عوامی مسائل کے حل میں تاخیر کا باعث بن رہا ہے۔ عوامی حلقے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جلد از جلد اسمبلی کے اجلاس میں عوامی مسائل پر غور کیا جائے۔ یہ صورتحال حکومت کے لیے بھی ایک چیلنج ہے، کیونکہ صوبائی اسمبلی کے بار بار ملتوی ہونے سے نہ صرف عوامی مسائل پر قانون سازی متاثر ہو رہی ہے، بلکہ اس سے صوبے کی سیاسی فضا میں بھی تناؤ بڑھ رہا ہے۔

  • این اے 79 میں دوبارہ گنتی کے بعد مسلم لیگ ن کے ذوالفقار بھنڈر کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری

    این اے 79 میں دوبارہ گنتی کے بعد مسلم لیگ ن کے ذوالفقار بھنڈر کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری

    گوجرانوالہ: الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 79 میں دوبارہ گنتی کے بعد مسلم لیگ ن کے امیدوار ذوالفقار بھنڈر کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
    ذرائع کے مطابق، دوبارہ گنتی کے نتائج میں مسلم لیگ ن کے ذوالفقار بھنڈر نے 95,604 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار احسان ورک نے 92,581 ووٹ حاصل کیے۔ گزشتہ روز، ریٹرننگ آفیسر شبیر بٹ نے این اے 79 کے نتائج کے حوالے سے تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ اس فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے ذوالفقار بھنڈر کو کامیاب قرار دے کر ان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔یاد رہے کہ عام انتخابات میں این اے 79 گوجرانوالہ سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار احسان ورک نے کامیابی حاصل کی تھی، مگر نتائج پر اعتراضات اور دوبارہ گنتی کی درخواستوں کے بعد یہ تبدیلی سامنے آئی ہے۔ اس تبدیلی کے بعد، مسلم لیگ ن نے اپنی کامیابی کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عوام کی پسند کی عکاسی کرتی ہے اور پارٹی کے موقف کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے۔

  • کراچی: طوفان اور شدید بارشوں کے اثرات، کیماڑی میں ہزاروں مچھلیاں ساحل پر آ گئیں

    کراچی: طوفان اور شدید بارشوں کے اثرات، کیماڑی میں ہزاروں مچھلیاں ساحل پر آ گئیں

    شدید موسمی حالات، بشمول طوفان اور بھاری بارشوں، نے شہر کے ساحلی علاقوں میں سنگین اثرات مرتب کیے ہیں۔ کیماڑی میں ٹمبر پونڈ کے قریب ہزاروں مری ہوئی مچھلیاں ساحل پر آگئیں، جو علاقے میں ماحول اور مقامی ماحولیاتی نظام پر گہرا اثر ڈال رہی ہیں۔کراچی ہاربر کے مینگروو ایریاز اور ساحلی علاقوں میں سمندری پانی میں تلچھٹ کی موجودگی نے پانی کو آلودہ کر دیا ہے۔ اس آلودگی کے نتیجے میں تلچھٹ میں گھل مل کر مختلف قسم کی مچھلیاں، جن میں ملٹ اور اسپاٹڈ سکیٹ شامل ہیں، سینکڑوں کی تعداد میں ساحل پر مردہ حالت میں نظر آئی ہیں۔ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر معظم خان نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مچھلیوں کی موت مقامی سطح پر ہوئی ہے اور اس کا دائرہ وسیع نہیں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ماہی گیر ان مردہ مچھلیوں کو پولٹری میل پلانٹس کو فروخت کرنے کے لیے جمع کر رہے ہیں۔
    معظم خان نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ ان مچھلیوں کا استعمال نہ کیا جائے، کیونکہ یہ آلودگی کی وجہ سے مر چکی ہیں اور صحت کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال کی نگرانی کی جا رہی ہے اور ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ ایسے مسائل کا سدباب کیا جا سکے۔

  • وفاقی وزیر توانائی  کا آئی پی پیز کے کیپیسٹی چارجز میں اضافے اور معاہدوں پر جامع وضاحت

    وفاقی وزیر توانائی کا آئی پی پیز کے کیپیسٹی چارجز میں اضافے اور معاہدوں پر جامع وضاحت

    وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے سینیٹ قائمہ کمیٹی پاور کے اجلاس میں اہم مسائل پر روشنی ڈالی، جن میں آئی پی پیز (انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کے کیپیسٹی چارجز میں اضافے اور موجودہ معاہدوں کی قانونی پیچیدگیاں شامل ہیں۔وزیر توانائی نے اجلاس میں بتایا کہ آئی پی پیز کے کیپیسٹی چارجز رواں سال 1900 ارب روپے کے بجائے 2000 ارب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ ہے، جو کہ 100 ارب روپے کا مزید اضافہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادھر عوام احتجاج کرتے رہ گئے، ادھر کیپیسٹی چارجز میں اضافہ ہوتا رہا۔اویس لغاری نے واضح کیا کہ آئی پی پیز سے معاہدے یک طرفہ طور پر ختم نہیں کیے جا سکتے کیونکہ ان معاہدوں پر حکومت کی ضمانت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ان معاہدوں پر یک طرفہ قدم اٹھایا تو یہ ریکوڈک جیسی صورتِ حال پیدا کر سکتا ہے، جو کہ ملک کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔وزیر توانائی نے اس موقع پر محمد علی رپورٹ کا بھی ذکر کیا، جو پاور سیکٹر کے سرسری جائزے پر مبنی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں آئی پی پیز کی تفصیلی اسٹڈی اور ہیٹ آڈٹ کروانے کی سفارش کی گئی تھی، لیکن اس کی بجائے آئی پی پیز کے معاملے کو ثالثی کی نذر کر دیا گیا۔
    اس موقع پر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ 2002 کی آئی پی پیز میں سے 10 پنجاب، 2 بلوچستان اور ایک سندھ میں لگی، اور ان آئی پی پیز نے 415 ارب روپے تک منافع کمایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 51 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے آئی پی پیز نے 415 ارب روپے کیسے کما لیے، اور کہا کہ آئی پی پیز کے معاہدوں کے پیچھے کون سی لاء فرمز تھیں، جنہوں نے اتنے بڑے منافع کا وعدہ کیا تھا۔سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ محمد علی رپورٹ میں آئی پی پیز کے منافع جات کو زیادہ بتایا گیا ہے اور رپورٹ میں کمپنیوں کے منافع کا آڈٹ اور اضافی منافع ریکوری کا بھی کہا گیا تھا۔
    چیئرمین سینیٹ کمیٹی پاور، سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ آئی پی پیز کے معاہدے ناکام ہیں اور اویس لغاری کے بیانات مایوس کن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر توانائی ان معاہدوں کو کھولنے کی بات نہیں کرتے، جس سے ان کی پالیسیوں پر سوالات اٹھتے ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں معاون خصوصی پاور محمد علی کو بھی بلانے کا عندیہ دیا، تاکہ آئی پی پیز کے معاہدوں اور منافع جات پر مزید وضاحت ہو سکے۔یہ اجلاس پاور سیکٹر میں جاری مسائل اور آئی پی پیز کے معاہدوں کی پیچیدگیوں کی روشنی میں اہمیت کا حامل ہے، اور اس کے نتائج ملک کی توانائی پالیسیوں پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔