پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ ملک کی موجودہ مشکلات کا حل کسی ایک سیاسی جماعت کے پاس نہیں، بلکہ تمام جماعتوں کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔ گوجرانوالہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے پیپلز پارٹی کی تاریخ پر روشنی ڈالی، کہ جب پیپلز پارٹی بنی تھی، اس وقت ملک مارشل لاء کے زیر اثر تھا اور قوم مشکلات کا شکار تھی۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور قوم کے حوصلے بلند کیے، حالانکہ ملک اس وقت ٹوٹ رہا تھا۔قمر زمان کائرہ نے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان دہشت گردی اور انتہا پسندی کا شکار ہے اور غریب عوام اپنے گھریلو بلز اور بچوں کی فیسیں ادا نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے ملک کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچایا، جبکہ پیپلز پارٹی اقتدار میں آکر ہر شخص کو اس کا حق دینے کا عزم رکھتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملکی مسائل کا حل تمام جماعتوں کے مشترکہ اقدامات سے ہی ممکن ہے۔ ہمیں آپس میں لڑنے کی بجائے ملک کے عوام کے حقوق کے لیے لڑنا ہوگا اور مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ قمر زمان کائرہ نے ٹیکس ادائیگی کی ضرورت پر بھی زور دیا، کیونکہ ملک کی آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہیں۔ انھوں نے دہشت گردی کے واقعات پر سیاستدانوں کی طرف سے دیئے گئے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی بھی مذمت کی۔ بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس کے مسائل کا حل بلوچستان کے اندر سے ہی نکلنا چاہیے۔ نواز شریف کے علاج کے لیے باہر جانے کا ذکر کرتے ہوئے، قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اگر نواز شریف علاج کے لیے باہر جاتے ہیں تو کوئی حرج نہیں، لیکن انہیں ماضی کی طرح نہ بھیجا جائے۔
Author: صدف ابرار
-

نواز شریف کے علاج کے لیے بیرون ملک جانے میں کوئی حرج نہیں، لیکن ماضی کی طرح نہ بھیجا جائے
-

پشاور:صنم جاوید کی 10 دن کی راہداری ضمانت منظور
پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کارکن صنم جاوید کی 10 دن کی راہداری ضمانت منظور کرلی ہے۔ عدالت نے صنم جاوید کو پنجاب میں متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونے اور ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔سماعت جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال نے کی۔ وکیل صنم جاوید کے مطابق، صنم جاوید کے خلاف لاہور اور میانوالی میں دو ایف آئی آر درج ہیں۔ صنم جاوید نے کہا کہ انہیں ہر وقت گرفتاری کا خدشہ رہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے راہداری ضمانت حاصل کی ہے۔صنم جاوید نے مزید کہا کہ ان کی گرفتاری کا خدشہ ہمیشہ موجود رہتا ہے اور وہ حفاظتی ضمانت کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں خواتین کے ساتھ ہونے والے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف 13 مقدمات درج ہیں، جن میں سے 5 میں بری ہوچکی ہیں اور 8 مقدمات میں ضمانت پر ہیں۔
-

ممبئی ہائی کورٹ کا گنپتی مورتیوں پر پابندی نہ لگانے پر مہاراشٹر حکومت پر تنقید
ممبئی ہائی کورٹ نے مہاراشٹر کی حکومت کی جانب سے گنپتی دیوتا کی تقریبات میں پلاسٹر آف پیرس سے بنی مورتیوں پر پابندی نہ لگانے پر شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے واضح ہدایات کے باوجود اس مسئلے پر کوئی عملی قدم نہ اٹھانے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جمعہ کو ایک درخواست کی سماعت کے دوران کہا کہ گنپتی کی پلاسٹر آف پیرس سے بنائی گئی مورتیاں جب سمندر میں ڈالی جاتی ہیں تو اس سے آبی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ پلاسٹر آف پیرس کے اجزاء پانی میں تحلیل ہو کر سمندری حیات کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ماحولیاتی مسائل کو جنم دیتے ہیں۔عدالت نے مزید کہا کہ بارش کے موسم میں ان مورتیاں کے بھیگنے پر ان کے ٹوٹنے کا امکان بڑھ جاتا ہے، جس سے ان کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ پلاسٹر آف پیرس سے بنی مورتیاں جب بھیگتی ہیں تو ٹوٹ جاتی ہیں، جس سے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔
بھارت میں پلاسٹر آف پیرس کی مورتیاں عوامی طور پر مقبول ہیں کیونکہ ان کی تیاری سستی اور تیز رفتار ہے۔ دوسری طرف، پتھر اور مٹی سے بنی مورتیاں زیادہ پائیدار مانیں جاتی ہیں، لیکن ان کی تیاری کی لاگت زیادہ ہوتی ہے اور وہ زیادہ نازک بھی ہوتی ہیں۔ممبئی ہائی کورٹ نے مہاراشٹر میں گنپتی پوجا کے انتظامات کرنے والوں کو اس معاملے میں جواب داخل کرنے کے لیے 31 اکتوبر تک کی مہلت دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ پلاسٹر آف پیرس کی مورتیاں آبی آلودگی اور مذہبی بے حرمتی کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر پابندی عائد کی جائے۔یہ مسئلہ ماحولیاتی تحفظ اور مذہبی رسومات کے توازن کے حوالے سے ایک اہم سوالات اٹھاتا ہے، اور اس کا فیصلہ آئندہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔ -

مصباح الحق کو چیمپئنز کپ کی وولوز ٹیم کا مینٹور مقرر کردیا گیا
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مصباح الحق کو چیمپئنز ون ڈے کپ میں وولوز ٹیم کا مینٹور مقرر کیا گیا ہے۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران مصباح الحق نے وولوز کے نئے لوگو کی رونمائی کی اور اپنی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔مصباح الحق نے کہا کہ مینٹور کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری ایک بڑا چیلنج ہے، جسے وہ سنجیدہ طور پر لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد نوجوان کھلاڑیوں کو گرام کرنا اور انہیں کامیاب کرکٹ کی دنیا میں داخل کرنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ اور انٹرنیشنل کرکٹ کے درمیان فرق کو ختم کرنا ضروری ہے۔ ان کا ارادہ ہے کہ وہ اسٹرائیک ریٹ اور بولنگ اسکلز پر خاص توجہ دیں گے تاکہ کھلاڑیوں کی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے۔مصباح الحق نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فاسٹ بولرز کی اسپیڈ میں تسلسل لانا اور دنیا کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے اسٹرائیک ریٹ میں اضافے پر کام کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ کھلاڑیوں کو ان کی کمزوریوں کو دور کرنے اور بہتر بنانے میں مدد فراہم کریں۔یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز کا کھیل بارش کے باعث ختم کردیا گیا۔ اس صورتحال میں مصباح الحق کی اسٹریٹیجی اور منصوبے وولوز ٹیم کے لئے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
-

انقلاب لانے والے اقتدار میں آکر لوٹ مار چاہتے ہیں، طلال چوہدری
اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما طلال چودھری نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کے جلد حل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ القادر ٹرسٹ کیس ایک "اوپن اینڈ شٹ کیس” ہے اور انقلابی دعوے کرنے والے اقتدار میں آکر لوٹ مار کرنے لگے ہیں۔چودھری نے کہا کہ آج 30 اگست کو کال دی گئی لیکن کوئی باہر نہیں نکلا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیض حمید کے مشورے پر فیصلے ہوتے تھے، لیکن ان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی فیصلہ سازی متاثر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انقلاب لانے کے لیے کردار کی ضرورت ہوتی ہے، اور موجودہ قیادت میں اس کی کمی ہے۔انہوں نے پی ٹی آئی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی میں نظریے کی کمی ہے، جس کی وجہ سے اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے چودھری نے کہا کہ وہاں کی حکومت کرپشن اور لوٹ مار پر توجہ دے رہی ہے اور جو بھی کرپشن کے خلاف آواز اٹھاتا ہے، اسے ہٹا دیا جاتا ہے۔طلال چودھری نے علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کے درمیان پارٹی کے اندرونی اختلافات کا بھی ذکر کیا، اور کہا کہ پی ٹی آئی میں قبضے کی جنگ جاری ہے۔
-

انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی، انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کی میزبانی کا امکان
پاکستان کرکٹ کے شائقین کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آگئی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں انٹرنیشنل کرکٹ کے انعقاد کی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت پی سی بی نے اکتوبر میں انگلینڈ کے دورہ پاکستان کے دوران ایک ٹیسٹ میچ فیصل آباد میں کروانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ذرائع کے مطابق پی سی بی نے انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کی میزبانی کے لیے راولپنڈی، ملتان، اور فیصل آباد کو منتخب کرنے کا ابتدائی پلان تیار کر لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت، پہلا ٹیسٹ میچ ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں، دوسرا ٹیسٹ میچ اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں، اور تیسرا راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔
فیصل آباد میں حال ہی میں منعقد ہونے والے چیمپیئنز ون ڈے کپ کی کامیابی نے پی سی بی کے حکام کو متاثر کیا ہے۔ شائقین کی بڑی تعداد نے اس ٹورنامنٹ میں گہری دلچسپی ظاہر کی، جس کے بعد پی سی بی نے مستقبل میں فیصل آباد کو انٹرنیشنل میچز اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی میزبانی کے حوالے سے سنجیدگی سے غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پی سی بی حکام کا کہنا ہے کہ فیصل آباد میں ٹیسٹ میچ کی میزبانی کے حتمی فیصلے کے لیے حالیہ چیمپیئنز ون ڈے کپ میں شائقین کی دلچسپی اور مثبت ردعمل کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ اگر فیصل آباد میں کرکٹ کے انعقاد کے حوالے سے مثبت جواب ملتا ہے تو مستقبل میں یہاں مزید انٹرنیشنل میچز اور پی ایس ایل کے مقابلے بھی کروائے جا سکتے ہیں۔
فیصل آباد کے بعد، پاکستان کرکٹ بورڈ نے گوجرانوالہ میں بھی کرکٹ کی واپسی کے حوالے سے اپنی نظریں مرکوز کر لی ہیں۔ پی سی بی حکام کے مطابق، گوجرانوالہ میں بھی انٹرنیشنل کرکٹ کے انعقاد کے لیے اقدامات کیے جا سکتے ہیں، اور اس حوالے سے مستقبل قریب میں کوئی اہم اعلان متوقع ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس اقدام کو کرکٹ شائقین کی جانب سے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف کھیل کو فروغ ملے گا بلکہ نئے ٹیلنٹ کو بھی سامنے آنے کا موقع ملے گا۔ فیصل آباد اور گوجرانوالہ جیسے شہروں میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی سے کرکٹ کے میدانوں میں رونقیں دوبارہ بحال ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ -

خیبرپختونخوا میں منکی پاکس کے مزید دو کیسز رپورٹ
خیبرپختونخوا میں منکی پاکس کے مزید دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد صوبے میں اس مرض کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔ صوبائی محکمہ صحت کے مطابق، باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اسکریننگ کے دوران دو مسافروں میں منکی پاکس کی علامات پائی گئیں، جس کے بعد انہیں فوری طور پر پولیس سروسز اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔ محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ دونوں مشتبہ مریضوں کی مزید اسکریننگ اور انوسٹی گیشن کا عمل جاری ہے تاکہ اس وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔محکمہ صحت خیبرپختونخوا کے مطابق، باچا خان ایئرپورٹ پر اب تک 20 ہزار 901 اور طورخم بارڈر پر 21 ہزار 40 افراد کی اسکریننگ کی جا چکی ہے۔ صوبے میں منکی پاکس کے دو کنفرم کیسز پہلے ہی موجود ہیں۔ محکمہ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور منکی پاکس کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر صحت کے مراکز سے رجوع کریں۔
-

عمران خان نے پی ٹی آئی چھوڑنے والوں کی واپسی کے دروازے بند کر دیے
اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ پارٹی چھوڑ کر جانے والے افراد کی واپسی کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑیں گے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جو لوگ مشکل حالات میں پارٹی چھوڑ کر گئے، ان کے لیے پی ٹی آئی کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو چکے ہیں۔عمران خان نے گفتگو کے دوران پارٹی چھوڑ کر جانے والوں پر شدید تنقید کی اور کہا، "میں کسی کا نام نہیں لوں گا، لیکن مجھے سب معلوم ہے کہ مشکل وقت میں کون کون پارٹی چھوڑ کر گیا۔ جو لوگ اچھے وقتوں میں پارٹی کا حصہ بنے رہے، جب برا وقت آیا تو وہ چھوڑ کر چلے گئے۔ ایسے لوگوں کی پارٹی میں اب کوئی جگہ نہیں ہے۔” انہوں نے ان لوگوں کی بھی تعریف کی جنہوں نے مشکل حالات کے باوجود پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہا، "جن لوگوں نے تشدد برداشت کیا، ان کے گھروں پر حملے کیے گئے، فیملی اور بچوں کو ہراساں کیا گیا، اور بلیک میل کیا گیا، وہ تسلی رکھیں۔”
عمران خان نے موجودہ حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ حکمران پہلے پی ٹی آئی کے سیٹلمنٹ پلان کو دہشت گردی کی وجہ قرار دے رہے تھے، لیکن اب وہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ دہشت گردی سرحد پار سے ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "کالعدم تحریک طالبان پاکستان، کچے کی دہشت گردی، بلوچستان میں دہشت گردی، اور بڑھتے جرائم کی وجہ سے ملک میں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہے۔” عمران خان نے زور دیا کہ دہشت گردی کی ان مختلف شکلوں کو قابو میں کیے بغیر ملکی معیشت کو سنبھالنا مشکل ہے۔عمران خان نے ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ملکی آمدنی میں کمی ہو رہی ہے جبکہ قرضے بڑھتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "ملک تباہی کی جانب جا رہا ہے، اور دوسری جانب دہشت گردی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔” انہوں نے بلوچستان کے مسائل کا بھی ذکر کیا اور کہا، "بلوچستان کے جو حالات ہیں، ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ بلوچ عوام کو ساتھ لے کر چلیں۔”
پی ٹی آئی کے بانی نے سیاسی عدم استحکام کی موجودہ صورتحال پر بھی بات کی اور کہا کہ "فراڈ الیکشن” کی وجہ سے ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ "خفیہ اداروں کو پی ٹی آئی کو ختم کرنے پر لگا دیا گیا ہے۔ جو یہ فیصلے کر رہے ہیں، انہیں ملک کی فکر نہیں ہے۔”عمران خان کے یہ بیانات نہ صرف ان کی پارٹی کی موجودہ پوزیشن کو واضح کرتے ہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر بھی ایک بڑی تنقید ہیں۔ ان کے الفاظ موجودہ حالات کے تناظر میں اہمیت کے حامل ہیں اور ملک کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ -

پاکستان کے ساتھ مستقل بات چیت کا دور ختم ہو چکا ہے،بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر
نئی دہلی: بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پاکستان کے ساتھ تعلقات پر واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مستقل بات چیت کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ان کا یہ بیان ایک تقریب کے دوران خطاب میں سامنے آیا، جس میں انہوں نے جموں و کشمیر کے مسئلے پر بھی تبصرہ کیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایس جے شنکر نے اپنے خطاب میں کہا کہ "پاکستان کے ساتھ مستقل بات چیت کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تک جموں و کشمیر کے مسئلے کی بات ہے، وہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ساتھ ہی ختم ہو چکا ہے۔ بھارتی حکومت نے اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا تھا، جس کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں مزید تلخی آ گئی ہے۔بھارتی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اب سوال یہ ہے کہ ہم پاکستان کے ساتھ کس قسم کے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے گا اور معاملات چاہے مثبت سمت میں جائیں یا منفی، بھارت اپنے ردعمل سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ایس جے شنکر کے اس بیان سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ اور اختلافات کی عکاسی ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار رہا ہے، اور ایسے بیانات تعلقات کو مزید کشیدہ بنا سکتے ہیں۔
-

بلوچستان کے 10 اضلاع آفت زدہ قرار، صوبائی حکومت ہنگامی اقدامات کے لیے تیار
بلوچستان کے 10 اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے، جہاں حالیہ موسلادھار بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی ہے۔ پروونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان کے مطابق صوبے میں جاری ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت مکمل طور پر تیار ہے اور تمام ممکنہ اقدامات کیے جارہے ہیں۔بولان کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کے بعد سیلابی ریلوں نے زندگی کو مفلوج کردیا ہے۔ ڈھاڈر، مچ، بھاگ، سنی، کھٹن، اور بالا ناڑی میں موسلادھار بارشوں کے باعث مختلف مقامات پر ریلے آنے سے معمولات زندگی درہم برہم ہو گئے ہیں۔ مچ کے علاقے میں سیلابی ریلے کی وجہ سے ہیرک اور این 65 شاہراہ پر ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو گیا، جس کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔بلوچستان کے محکمہ پی ڈی ایم اے نے حالیہ مون سون بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں 7 جون سے اب تک ہونے والے نقصانات کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں مون سون بارشوں کے دوران مختلف واقعات میں 37 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 17 مرد، 19 بچے، اور 1 خاتون شامل ہیں۔
بارشوں اور سیلابی ریلوں سے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر مکانات اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 866 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں، جبکہ 13,896 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً ایک لاکھ 9 ہزار افراد ان بارشوں اور سیلابی ریلوں سے متاثر ہوئے ہیں۔پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق موسلادھار بارشوں سے صوبے میں سات پل اور 58 شاہراہیں متاثر ہوئیں۔ ان شاہراہوں کی بندش سے مختلف علاقوں میں آمدورفت میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔بارشوں کے دوران مختلف علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے اور دیگر واقعات میں 401 مویشی مارے گئے، جس سے مقامی لوگوں کو بڑے پیمانے پر معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔سیلابی پانی نے صوبے میں 59,000 ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان فصلوں کی تباہی سے کسانوں کو نہ صرف مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے بلکہ زرعی معیشت پر بھی گہرا اثر پڑا ہے۔
صوبائی حکومت نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیموں کی روانگی، متاثرین کے لیے عارضی رہائش گاہوں کا قیام، اور خوراک و دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی شامل ہیں۔ صوبائی حکومت کے مطابق وہ ہنگامی صورتحال پر قابو پانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔