Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • وزارت خزانہ کی جانب سے ماہانہ معاشی آؤٹ لک جاری: معیشت میں بہتری کے اشاریے نمایاں

    وزارت خزانہ کی جانب سے ماہانہ معاشی آؤٹ لک جاری: معیشت میں بہتری کے اشاریے نمایاں

    اسلام آباد: وزارت خزانہ کی جانب سے ماہانہ معاشی آؤٹ لک جاری کر دیا گیا ہے، جس میں موجودہ مالی سال کے پہلے مہینے جولائی 2024 کے معاشی اشاریوں میں بہتری کی خوش خبری دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے ماہ کے دوران مختلف شعبوں میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی، جس میں ترسیلات زر، برآمدات، درآمدات، ایف بی آر محصولات، نان ٹیکس آمدنی، مالی ذخائر، اور روپے کی قدر میں اضافہ شامل ہے، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور مہنگائی میں کمی آئی ہے۔ ماہانہ رپورٹ کے مطابق جولائی 2024 میں ترسیلات زر میں 47.6 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں یہ 3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ یہ اضافہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے زیادہ رقوم بھیجنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ برآمدات میں بھی 12.9 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں جولائی 2024 کے دوران برآمدات کا حجم 2.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ یہ اضافہ مختلف شعبوں میں پاکستانی مصنوعات کی طلب میں اضافے کا غماز ہے۔
    اسی طرح، جولائی 2024 میں درآمدات میں بھی 16.3 فیصد اضافہ ہوا، اور یہ 4.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 63.8 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو کہ معیشت میں مثبت رجحان کا مظہر ہے۔ مجموعی طور پر بیرونی سرمایہ کاری میں 189.1 فیصد کا اضافہ ہوا، جو کہ ملکی معیشت کے لیے خوش آئند ہے۔23 اگست 2024 تک پاکستان کے مالی ذخائر 14.77 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو کہ گزشتہ مالی سال اسی عرصے کے دوران 13.17 ارب ڈالر تھے۔ اس اضافے کو مالی پالیسی میں بہتری، بیرونی ادائیگیوں میں کمی، اور ترسیلات زر کی بڑھتی ہوئی مقدار کے ساتھ منسلک کیا جا سکتا ہے۔ روپے کی قدر میں بھی مستحکم بہتری دیکھنے میں آئی، جو کہ معاشی استحکام کی نشاندہی کرتی ہے۔
    ایف بی آر محصولات میں بھی جولائی 2024 کے دوران 22.7 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ ملکی معیشت کی بہتری اور عوامی ٹیکس نیٹ ورک میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ نان ٹیکس آمدنی میں بھی گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 78.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2024 کے دوران مہنگائی کی شرح 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو کہ گزشتہ مالی سال جولائی کے مقابلے میں کافی کم ہے، جب مہنگائی کی شرح 28.3 فیصد تھی۔ مہنگائی کی اس نمایاں کمی کو معاشی پالیسیوں میں تبدیلی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں استحکام کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی، جو کہ معاشی استحکام اور بہتر مالیاتی منصوبہ بندی کا ثبوت ہے۔ حکومتی اقدامات اور مالی پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت کے مختلف شعبوں میں استحکام اور بہتری کے امکانات روشن ہو رہے ہیں۔
    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ معاشی آؤٹ لک رپورٹ میں مالیاتی شعبے کی مثبت کارکردگی کی واضح جھلک ملتی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق، حکومتی پالیسیوں اور اقتصادی اصلاحات کے تسلسل کے ساتھ، ملکی معیشت میں مزید بہتری کے امکانات روشن ہیں۔

  • خیبر پختونخوا حکومت نے بی آر ٹی کنٹریکٹرز سے آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کی منظوری دے دی

    خیبر پختونخوا حکومت نے بی آر ٹی کنٹریکٹرز سے آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کی منظوری دے دی

    خیبر پختونخوا کابینہ نے بی آر ٹی کنٹریکٹرز کے ساتھ آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت کنٹریکٹرز کو 2 ارب 60 کروڑ روپے کی ادائیگی کی جائے گی۔ اس فیصلے سے متعلق سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت نیب اور ایف آئی اے اپنے کیسز واپس لیں گے، اور دونوں فریقین نے اس سیٹلمنٹ پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ بی آر ٹی کنٹریکٹرز نے دو بار انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا، جس سے قانونی کارروائی کی پیچیدگیاں اور اخراجات میں اضافہ ہوا۔ اگر کیس عدالت میں جاتا، تو نہ صرف قانونی خرچے کی رقم ڈھائی ارب روپے سے تجاوز کرتی بلکہ کیس ہارنے کی صورت میں کنٹریکٹرز کی طرف سے کلیمز بھی زیادہ ہونے کا امکان تھا۔سرکاری ذرائع نے وضاحت کی کہ آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کے تحت کنٹریکٹرز نے ڈیزائن میں بار بار تبدیلیوں کی بنیاد پر طے شدہ رقم سے زیادہ کلیم کیا تھا، جس کے نتیجے میں اس معاہدے تک پہنچنے کی ضرورت پیش آئی۔
    اس سیٹلمنٹ کے ذریعے نہ صرف مالی بوجھ کم ہوگا بلکہ قانونی پیچیدگیوں سے بھی بچا جا سکے گا۔بی آر ٹی پروجیکٹ کے کنٹریکٹرز نے اپنے کلیمز میں اضافے کی وضاحت کی ہے کہ پروجیکٹ کے ڈیزائن میں بار بار تبدیلیوں کے باعث انہیں اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔ کابینہ نے اس سیٹلمنٹ کو خیبر پختونخوا حکومت کے لیے ایک مؤثر مالی حل قرار دیا ہے، جو قانونی اور مالی مسائل سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوگا۔یہ سیٹلمنٹ ایک اہم قدم ہے جو بی آر ٹی پروجیکٹ کی تکمیل اور انتظامی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، اور اس کے نتیجے میں پروجیکٹ سے متعلق مسائل میں کمی آنے کی امید ہے۔

  • بانی پی ٹی آئی کی جیل میں مشکلات کا سامنا ہے  بیرسٹر سیف

    بانی پی ٹی آئی کی جیل میں مشکلات کا سامنا ہے بیرسٹر سیف

    مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے حال ہی میں بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کی اور اس دوران ان کی جیل میں موجودہ حالات کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں سختیوں کا سامنا ہے اور ان کی صحت کی حالت بھی تشویشناک ہے۔بیرسٹر سیف نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں کئی بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔ ان کے مطابق، بانی پی ٹی آئی کو نہ تو الیکٹرک ٹوتھ برش فراہم کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ایکسرسائز کے لیے ڈمبلز مہیا کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، ان کے بیٹوں سے بات چیت بھی نہیں کروائی جا رہی۔
    بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ جیل میں نواز شریف اور آصف زرداری کو جو سہولتیں فراہم کی گئی تھیں، وہ بانی پی ٹی آئی کو نہیں دی جا رہی ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ بانی پی ٹی آئی کی حالت کی وجہ سے جیل میں ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے۔مشیر اطلاعات نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ 22 اگست کو پی ٹی آئی کے جلسے کے ملتوی ہونے کے بعد پارٹی کارکنوں میں مایوسی پھیل گئی تھی۔ بانی پی ٹی آئی نے پارٹی رہنماؤں کو ایک ساتھ بٹھانے اور اختلافات ختم کرنے کا پیغام دیا ہے، تاکہ پارٹی کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔بیرسٹر سیف کے اس بیان نے بانی پی ٹی آئی کے جیل میں حالات پر ایک نیا سوال اٹھا دیا ہے، اور ان کے حامیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس ضمن میں مزید تفصیلات اور اقدامات کا انتظار ہے تاکہ بانی پی ٹی آئی کی حالت کو بہتر بنایا جا سکے۔

  • گوجرانوالہ: این اے 79 میں ذوالفقار بھنڈر کی دوبارہ گنتی کے بعد مسلم لیگ ن کی فتح

    گوجرانوالہ: این اے 79 میں ذوالفقار بھنڈر کی دوبارہ گنتی کے بعد مسلم لیگ ن کی فتح

    این اے 79 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل مکمل ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں مسلم لیگ ن کے امیدوار ذوالفقار بھنڈر کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔دوبارہ گنتی کے دوران، ذوالفقار بھنڈر نے 95604 ووٹ حاصل کیے، جس کے باعث ان کی برتری 3023 ووٹوں تک پہنچ گئی۔ پی ٹی آئی کے امیدوار احسان اللہ ورک نے 92581 ووٹ حاصل کیے۔ 2024 کے عام انتخابات میں ذوالفقار بھنڈر کو پی ٹی آئی کے امیدوار سے 4388 ووٹوں کی کمی کا سامنا تھا۔سیٹ جیتنے کے بعد مسلم لیگ ن کے حامیوں نے علاقہ بھر میں جشن منایا، جبکہ دوبارہ گنتی کے دوران پولیس نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے۔

  • گورنر سندھ اور  پنجاب کی ملاقات: وفاقی کردار اور صوبائی ترقیاتی امور پر تفصیلی گفتگو

    گورنر سندھ اور پنجاب کی ملاقات: وفاقی کردار اور صوبائی ترقیاتی امور پر تفصیلی گفتگو

    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری اور گورنر پنجاب سلیم حیدر خان کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں صوبوں کی ترقی اور وفاقی کردار پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ملاقات میں وفاقی اور صوبائی سطح پر ترقیاتی منصوبوں، بین الصوبائی ہم آہنگی، اور وفود کے تبادلوں سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے وفاق کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وفاق کا وژن صوبے کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر صنعتی علاقوں کی ترقی میں وفاق کی خدمات کو قابل ستائش قرار دیا۔ کامران خان ٹیسوری نے مزید کہا کہ پنجاب سے وفود کے تبادلے کے ذریعے دونوں صوبوں کے درمیان تجربات اور اقدامات کا تبادلہ ممکن ہے، جو کہ مشترکہ ترقی کے لیے فائدے مند ثابت ہو سکتا ہے۔
    گورنر پنجاب سلیم حیدر خان نے اس موقع پر کہا کہ پنجاب میں وفاقی فنڈنگ سے جدید ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، جن سے صوبے کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے گورنرانیشیٹو کے تحت جاری عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کو قابل تقلید قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ صوبوں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے تاکہ مشترکہ ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔یہ ملاقات وفاقی اور صوبائی سطح پر ترقیاتی امور پر مشترکہ نقطہ نظر کو فروغ دینے اور دونوں صوبوں کے درمیان مزید ہم آہنگی اور تعاون کی راہیں ہموار کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

  • پاکستان بحریہ کا جدید جہاز پی این ایس حنین عمان کا دورہ، دو طرفہ مشقوں میں حصہ لیا

    پاکستان بحریہ کا جدید جہاز پی این ایس حنین عمان کا دورہ، دو طرفہ مشقوں میں حصہ لیا

    پاکستانی بحریہ کا جدید جنگی جہاز پی این ایس حنین نے اپنے رومانیہ سے پاکستان کے لیے پہلے سفر کے دوران عمان کی بندرگاہ سلالہ کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران، پی این ایس حنین نے رائل عمانی بحریہ کے جہاز کے ساتھ مشترکہ مشقوں میں حصہ لیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، سلالہ بندرگاہ پہنچنے پر پی این ایس حنین کا عمان کی رائل نیوی کے افسران نے گرمجوشی سے استقبال کیا۔ اس دوران، دونوں ممالک کے درمیان پیشہ ورانہ معلومات اور تجربات کا تبادلہ کیا گیا، اور مختلف دو طرفہ سرگرمیاں اور نیول یونٹس کے دورے کا انعقاد کیا گیا۔دورے کے اختتام پر، پی این ایس حنین نے عمان بحریہ کے جہاز SADH کے ساتھ ایک مشترکہ بحری مشق کی۔ اس مشق کا مقصد دونوں بحری افواج کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنا تھا۔پی این ایس حنین دامن نیول شپ یارڈ رومانیہ میں تعمیر کیے جانے والے پاکستانی بحریہ کے چار یرموک کلاس جہازوں میں سے تیسرا جہاز ہے۔ اس جہاز کی باقاعدہ شمولیت کی تقریب نیول ڈاکیارڈ کراچی میں 6 ستمبر کو منعقد کی جائے گی۔

  • بلوچستان میں بڑے پیمانے پر آپریشن کی ضرورت نہیں ہے، سرفراز بگٹی

    بلوچستان میں بڑے پیمانے پر آپریشن کی ضرورت نہیں ہے، سرفراز بگٹی

    وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ بشیرزیب اور ماہ رنگ ملک بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نجی ٹی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج کے اجلاس میں نئی حکمت عملی تیار کی گئی ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر آپریشن کی ضرورت نہیں ہے۔ سرفراز بگٹی نے وضاحت کی کہ دہشت گرد عموماً نرم ہدف بناتے ہیں اور معصوم مسافروں کو بے دردی سے قتل کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کی مختلف وجوہات ہیں اور حکومت نے دہشت گردوں کا ہر جگہ پیچھا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کے نام پر تشدد کرنے والوں کو وہ سب دہشت گرد سمجھتے ہیں۔
    سرفراز بگٹی نے بشیرزیب پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ سیاست کریں گے تو وہ کونسلر بھی نہیں بن سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور براہمداغ بگٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، اور اگر براہمداغ بگٹی واپس آنا چاہتے ہیں تو حکومت آج بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ وزیر اعلیٰ نے سوال کیا کہ اگر بشیرزیب مذاکرات کے لیے تیار نہیں تو کس سے مذاکرات کیے جائیں۔ انہوں نے بلوچستان میں انتخابات کے بارے میں کہا کہ انہیں پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ سرفراز بگٹی نے ایف سی کی چیک پوسٹوں پر اعتراضات پر بھی بات کی اور کہا کہ "گڈ” اور "بیڈ” طالبان کی اصطلاحوں کا تجربہ کر لیا ہے اور اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں پہلے نوکریاں بکتی تھیں، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔ کل تین ہزار قریب نوجوانوں کو اسکالرشپ فراہم کی گئی۔

  • 8 ستمبر کے جلسے کی آرگنائزنگ کمیٹی سے باہر رکھا گیا ہے، شیر افضل مروت

    8 ستمبر کے جلسے کی آرگنائزنگ کمیٹی سے باہر رکھا گیا ہے، شیر افضل مروت

    پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماء شیر افضل مروت نے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ انہیں 8 ستمبر کو ہونے والے جلسے کی آرگنائزنگ کمیٹی سے باہر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر جلسہ ناکام ہوا تو وہ اس کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ ان کے اس بیان نے پارٹی کے اندر جاری کشیدگی کو مزید عیاں کر دیا ہے۔شیر افضل مروت نے پشاور سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ انہیں آرگنائزنگ کمیٹی سے الگ رکھنا پارٹی اتحاد کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے شکایت کی، مگر وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ان کا اس فیصلے میں کوئی کردار نہیں ہے۔ مروت کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات پارٹی کے اندر اختلافات کو بڑھا سکتے ہیں اور اتحاد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
    شیر افضل مروت نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ حکام پی ٹی آئی کو جلسہ کرنے دیں گے۔ ان کے مطابق، جلسے کے انتظامات سے دور رکھ کر پارٹی کی طاقت کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان کی قابلیت اور تجربے کو نظرانداز کیا گیا، حالانکہ وہ کسی عہدے کی طلب نہیں کر رہے تھے بلکہ یہ ایک ذمہ داری تھی جو انہیں سونپی جانی چاہیے تھی۔شیر افضل مروت نے واضح الفاظ میں کہا کہ انہیں ذمہ داریوں سے دور رکھ کر، جو لوگ یہ فیصلے کر رہے ہیں، وہ پوری ذمہ داری خود لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جلسہ ناکام ہوتا ہے یا کسی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوگی جنہوں نے انہیں کمیٹی سے الگ رکھا۔شیر افضل مروت کے اس بیان نے پارٹی کے اندرونی معاملات اور اختلافات کو ایک بار پھر سامنے لا دیا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر مختلف دھڑوں کے درمیان کشیدگی موجود ہے۔ 8 ستمبر کے جلسے کے حوالے سے یہ بیان پارٹی کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔

  • بیرون ملک مقیم پینشنرز کے لیے فارن کرنسی میں پینشن ادائیگی ممنوع: وزارت خزانہ

    بیرون ملک مقیم پینشنرز کے لیے فارن کرنسی میں پینشن ادائیگی ممنوع: وزارت خزانہ

    اسلام آباد: وزارت خزانہ نے پینشن رولز کے حوالے سے ایک اہم وضاحتی آفس میمورنڈم جاری کیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی پینشنرز کو فارن ایکسچینج میں پینشن کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس اہم فیصلے کے پیچھے کرنٹ اکاؤنٹ کی موجودہ صورتحال کو بنیاد بنایا گیا ہے۔آفس میمورنڈم میں وزارت خزانہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بیرون ملک مقیم کئی ریٹائرڈ سرکاری ملازمین فارن کرنسی میں اپنی پینشن کی ادائیگی کے خواہاں ہیں۔ تاہم، حکومت کی موجودہ مالی صورتحال اور کرنٹ اکاؤنٹ کے دباؤ کے باعث یہ ممکن نہیں ہے کہ انہیں غیر ملکی کرنسی میں پینشن ادا کی جائے۔ وزارت خزانہ نے مزید وضاحت کی کہ یہ پابندی صرف ان ملازمین پر عائد کی گئی ہے جو 2 جنوری 1959 کے بعد بھرتی ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس، وہ ملازمین جو 1959 سے قبل سرکاری ملازمت میں آئے تھے، انہیں فارن ایکسچینج میں پینشن لینے کی سہولت حاصل ہے۔ وزارت نے اس پالیسی کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 1959 کے بعد بھرتی ہونے والے ملازمین کو پینشن کی ادائیگی کے اصولوں میں تبدیلیاں کی گئیں تھیں، جن کے تحت انہیں غیر ملکی کرنسی میں ادائیگی کی اجازت نہیں دی گئی۔
    اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے کا مقصد ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کی حفاظت اور کرنٹ اکاؤنٹ کے توازن کو برقرار رکھنا ہے۔ حالیہ سالوں میں، ملکی معیشت کو غیر ملکی کرنسی کے ذخائر میں کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ کے دباؤ کا سامنا رہا ہے، جس کی وجہ سے حکومت کو اس نوعیت کے سخت فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔پینشنرز، خاص طور پر وہ لوگ جو بیرون ملک مقیم ہیں، اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔ کچھ پینشنرز نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ حکومت کے مالیاتی استحکام کے لیے یہ اقدام ضروری ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت معاشی دباؤ کے تحت زرمبادلہ کے ذخائر کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔ پینشنرز کو اس حوالے سے مزید کسی وضاحت کی ضرورت ہو تو وزارت خزانہ سے رابطہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس وضاحتی آفس میمورنڈم کے بعد، توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت پینشن رولز کے دیگر پہلوؤں پر بھی نظرثانی کرے گی تاکہ مالیاتی صورتحال کے مطابق مزید تبدیلیاں کی جا سکیں۔

  • خیبر پختونخوا: گزشتہ 19 سال کے دوران54 افراد  لاپتہ

    خیبر پختونخوا: گزشتہ 19 سال کے دوران54 افراد لاپتہ

    پشاور: خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع سے 54 افراد لاپتہ ہو چکے ہے۔ دستاویزات کے مطابق یہ افراد لکی مروت، بنوں، شمالی وزیرستان، اور جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھتے ہیں اور گزشتہ 19 سال کے دوران لاپتا ہوئے ہیں۔ ان 54 لاپتا افراد میں سے 48 کا تعلق بنوں سے ہے، جبکہ شمالی وزیرستان کے 3 افراد، لکی مروت اور جنوبی وزیرستان کے ایک ایک فرد کو بھی لاپتا افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ پولیس اسٹیشنز میں ان لاپتا افراد کے مقدمات درج ہیں اور ان کی گمشدگی کی تصدیق کی گئی ہے۔
    دستاویزات کے مطابق، رواں سال لواحقین نے 25 نئے لاپتا افراد کا اندراج کروایا ہے، جس سے یہ معاملہ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ لاپتا افراد کے شناختی کارڈ اور دیگر معلومات اکٹھی کی گئی ہیں تاکہ ان کی بازیابی کے لیے مزید اقدامات کیے جا سکیں۔لاپتا افراد کے لواحقین کی جانب سے بارہا اپیلیں کی جا چکی ہیں، تاہم ابھی تک ان افراد کی بازیابی کے حوالے سے کوئی حتمی اقدامات سامنے نہیں آئے۔ اس فہرست کے سامنے آنے کے بعد یہ مسئلہ ایک بار پھر سے توجہ کا مرکز بن گیا ہے اور حکام پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ان گمشدگیوں کی تحقیقات کو تیز کریں۔