Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • مشیر سوشل ویلفیئر مشعال یوسفزئی کی برطرفی کی سمری گورنر کو ارسال، کابینہ میں تبدیلیوں کا امکان

    مشیر سوشل ویلفیئر مشعال یوسفزئی کی برطرفی کی سمری گورنر کو ارسال، کابینہ میں تبدیلیوں کا امکان

    پشاور: صوبہ خیبر پختونخوا کی سوشل ویلفیئر کی مشیر مشعال یوسفزئی کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کی سمری گورنر کو موصول ہو گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا امین گنڈا پور نے یہ سمری گورنر خیبر پختونخوا کو بھجوائی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، گورنر ہاؤس کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گورنر فیصل کریم کنڈی دو ستمبر کو پشاور واپس پہنچ کر سمری پر دستخط کریں گے۔ذرائع کے مطابق، مشعال یوسفزئی کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر کابینہ سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ عمران خان نے خیبر پختونخوا کی کابینہ میں تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیا تھا اور اسی کے پیش نظر مشیر سوشل ویلفیئر کی برطرفی کا فیصلہ کیا گیا۔
    اس سمری کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا کی کابینہ میں مزید تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں صوبے کی سیاسی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مشعال یوسفزئی کے علاوہ کابینہ کے دیگر ارکان کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ انہیں بھی جلد ہی عہدوں سے ہٹا کر نئے افراد کو شامل کیا جائے گا۔خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی صورتحال میں یہ فیصلہ خاصی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس سے صوبے کی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان تعلقات میں نئی جہتیں سامنے آ سکتی ہیں۔ مزید برآں، اس اقدام سے حکومت کی جانب سے فلاحی کاموں پر توجہ مرکوز کرنے کی کوششوں کو بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ عوامی اور سیاسی حلقے اب یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ گورنر فیصل کریم کنڈی اس سمری پر کب دستخط کریں گے اور اس کے بعد خیبر پختونخوا کی کابینہ میں کون سے نئے چہرے سامنے آئیں گے۔

  • نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر محمد طاہر رائے کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر محمد طاہر رائے کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    اسلام آباد: نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے نیشنل کوآرڈینیٹر محمد طاہر رائے کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ پولیس سروس کے گریڈ 21 کے آفیسر محمد طاہر رائے دو سال سے نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے۔ ان کی برطرفی کا نوٹیفکیشن اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔
    اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق محمد طاہر رائے کا تبادلہ حکومت کی منظوری کے بعد کیا گیا ہے۔ انہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں آفیسیر آن اسپیشل ڈیوٹی (OSD) کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی خدمات اب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سپرد کر دی گئی ہیں، جہاں وہ اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
    محمد طاہر رائے ایک سینئر پولیس افسر ہیں جن کا تعلق گریڈ 21 سے ہے۔ وہ اپنے پیشہ ورانہ کیریئر میں مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے گہری معلومات رکھتے ہیں۔ نیکٹا میں اپنی تعیناتی کے دوران، انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مختلف اقدامات کیے اور نیکٹا کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کرائیں۔

  • مراد علی شاہ کا وفاقی حکومت کو پیپلزپارٹی کا انتخابی منشور دیکھنے کا مشورہ،

    مراد علی شاہ کا وفاقی حکومت کو پیپلزپارٹی کا انتخابی منشور دیکھنے کا مشورہ،

    کراچی: سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے بدھ کے روز وفاقی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ پیپلزپارٹی کا انتخابی منشور دیکھے، جس میں بجلی کے موجودہ بحران کا حل پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بات وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں منعقدہ تقریب کے دوران کہی، جہاں سندھ کے 2 لاکھ خاندانوں کو سولر سسٹم فراہم کرنے کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سولر پینل، ایک پنکھا اور تین بلب مستحق خاندانوں میں تقسیم کیے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ حکومت نے کراچی اور لاڑکانہ کے 2 لاکھ گھروں کو سولر سسٹم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو غریب گھرانوں کو فراہم کیا جائے گا۔مراد علی شاہ نے تقریب کے دوران سولر سسٹم کی خصوصیات پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ ہر سولر سسٹم میں 80 تا 100 واٹ کی سولر پلیٹیں شامل ہیں، جبکہ اس کے ساتھ 18 اے ایچ کی لیتھیم بیٹری، ایک پنکھا، تین بلب اور موبائل چارجر بھی دیا جائے گا۔ اس سسٹم کی قیمت 50 ہزار روپے کے قریب ہے، لیکن سندھ حکومت یہ سسٹم مستحق خاندانوں کو 80 فیصد رعایت کے ساتھ صرف 6 ہزار روپے میں فراہم کر رہی ہے۔
    وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے یہ قدم صوبے کے عوام کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کے مسائل سے نجات دلانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ پیپلزپارٹی کے انتخابی منشور کا جائزہ لے، جس میں بجلی کے موجودہ مسائل کا حل موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو توانائی کے بحران سے نکالنے کے لیے قابل تجدید توانائی کے منصوبے اور سولر پاور سسٹمز جیسے اقدامات ضروری ہیں، جو پیپلزپارٹی کے منشور میں شامل ہیں۔وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کے مطابق، یہ اقدامات نہ صرف غریب عوام کو بجلی کے بلوں سے بچانے میں مدد کریں گے بلکہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے بھی اہم ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ صوبے کے عوام کو نہ صرف سستی بلکہ قابل بھروسہ بجلی فراہم کی جائے، تاکہ ان کا معیار زندگی بہتر ہو سکے۔تقریب میں دیگر معززین نے بھی شرکت کی اور سولر سسٹم کی تقسیم کے عمل کی تعریف کی۔ شرکاء نے سندھ حکومت کے اس اقدام کو عوام دوست قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف بجلی کی کمی کا مسئلہ حل ہوگا بلکہ ماحول دوست توانائی کے استعمال کو بھی فروغ ملے گا۔سندھ حکومت کے اس اقدام کو عوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ پروگرام صوبے کے دوسرے علاقوں میں بھی توسیع پائے گا تاکہ مزید خاندان اس سے مستفید ہو سکیں۔

  • کچے کے علاقے میں پولیس ملازمین کے لیے خصوصی الاؤنس دینے کا فیصلہ

    کچے کے علاقے میں پولیس ملازمین کے لیے خصوصی الاؤنس دینے کا فیصلہ

    لاہور: پنجاب کے کچے کے علاقے میں تعینات پولیس ملازمین کا مورال بلند کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی الاؤنس دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان ملازمین کو ان سخت حالات میں کام کرنے کی ترغیب دینا ہے، جہاں انہیں مختلف چیلنجز اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ذرائع کے مطابق، خصوصی الاؤنس کی سمری محکمہ خزانہ پنجاب کو موصول ہو چکی ہے، جو کہ حتمی منظوری دے گا۔ آئی جی پنجاب پولیس عثمان انور کی جانب سے یہ سمری بھیجی گئی ہے، جس میں رحیم یار خان اور راجن پور کے 1357 پولیس ملازمین کو الاؤنس دینے کی درخواست کی گئی ہے۔سمری کے مطابق، یہ الاؤنس صرف انسپکٹرز، سب انسپکٹرز، اسسٹنٹ سب انسپکٹرز، اور حوالداروں تک محدود ہوگا، یعنی درجہ چہارم کے ملازمین اور انسپکٹرز لیول کے اہلکاروں کو یہ الاؤنس دیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ان ملازمین کی مالی معاونت کے ساتھ ساتھ ان کے کام کی قدردانی بھی ہے، جو کچے کے علاقے میں روزانہ کی بنیاد پر مختلف مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

    ذرائع نے مزید بتایا کہ آئی جی پنجاب پولیس عثمان انور کی جانب سے 33 کروڑ روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری کی درخواست بھی کی گئی ہے، تاکہ یہ الاؤنس باقاعدہ طور پر دیا جا سکے۔ اس الاؤنس سے رحیم یار خان میں 943 اور راجن پور میں 414 انسپکٹرز لیول کے ملازمین مستفید ہوں گے۔یہ اقدام اس وقت اٹھایا جا رہا ہے جب کچے کے علاقے میں پولیس ملازمین کو مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جن میں علاقے کی جغرافیائی مشکلات، مقامی جرائم پیشہ عناصر کی مزاحمت، اور دیگر سکیورٹی خدشات شامل ہیں۔ اس الاؤنس سے ان ملازمین کو مالی مدد کے ساتھ ساتھ ان کی کارکردگی میں بھی بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

    محکمہ داخلہ کے ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ حتمی منظوری کے بعد یہ الاؤنس فوری طور پر متعلقہ ملازمین کو فراہم کیا جائے گا، جس سے ان کی حوصلہ افزائی اور کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا۔ یہ الاؤنس نہ صرف مالی امداد فراہم کرے گا بلکہ ان ملازمین کی خدمات کو بھی سراہنے کا ذریعہ بنے گا، جو کچے کے علاقے میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر خدمات انجام دے رہے ہیں۔پولیس ملازمین کے لیے یہ الاؤنس اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اور محکمہ پولیس ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ اس اقدام سے توقع کی جا رہی ہے کہ کچے کے علاقے میں جاری آپریشنز میں مزید بہتری آئے گی اور پولیس ملازمین کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہو گا۔

  • قتل کا فتوٰی دینا یا قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا نہ صرف غیر شرعی بلکہ غیر آئینی عمل ہے۔ علامہ راغب نعیمی

    قتل کا فتوٰی دینا یا قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا نہ صرف غیر شرعی بلکہ غیر آئینی عمل ہے۔ علامہ راغب نعیمی

    اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین علامہ راغب نعیمی نے کہا ہے کہ کسی کو قتل کا فتوٰی دینا یا قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا نہ صرف غیر شرعی بلکہ غیر آئینی عمل ہے۔ صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے، علامہ راغب نعیمی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ عدم برداشت کی وجہ سے لوگ مذہبی مسائل میں سننے کو تیار نہیں ہیں۔علامہ راغب نعیمی نے وضاحت کی کہ توہین کا علم ہونے پر بھی کسی شخص کو دوسرے کو سزا دینے کا اختیار نہیں ہے۔ سزا دینے کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے اور شریعت کسی فرد کو دوسرے کی جان لینے کا حق نہیں دیتی۔ انھوں نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ سودی معیشت کا ہے، جسے ختم ہونا چاہیے۔
    چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی کے ساتھ ہونے والے نامناسب معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات اب بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ ہجوم کے ہاتھوں کسی ملزم کا قتل خلاف اسلام اور خلاف قانون ہے، اور اگر عوام کو معلوم ہو کہ کسی فرد نے توہین مذہب کی ہے تو بھی کوئی فرد اس کو خود قتل نہیں کرسکتا۔علامہ راغب نعیمی نے کہا کہ لوگوں کو اس بات کو تسلیم کرنے میں مشکل ہو رہی ہے، لیکن علما کو اس حوالے سے شعور دینا ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی کو اس لیے شہید کیا گیا کیونکہ ان کا ایمان تھا کہ دھماکہ کرکے بے گناہوں کی جان لینا غیر اسلامی ہے۔

  • عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں،مفتاح اسماعیل

    عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں،مفتاح اسماعیل

    اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے آئین و قانون کے مطابق مسائل کے حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو شخص آئین اور قانون کی بات کرتا ہے، اس کے ساتھ بات چیت ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں موجودہ مایوسی کے دور میں عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ، اور سیاستدانوں کو مل بیٹھ کر مشترکہ حل تلاش کرنا چاہیے۔دوران گفتگو، مفتاح اسماعیل نے واضح کیا کہ آئین اور قانون کے مطابق بات چیت کرنے والے افراد کے ساتھ تعلقات استوار کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے موجودہ حالات میں سب کا فرض ہے کہ وہ مل کر مسائل کا حل تلاش کریں اور مل جل کر ملک کی ترقی کے لیے کام کریں۔مفتاح اسماعیل نے ن لیگ کی ٹیکس پالیسی پر بھی تبصرہ کیا، اور کہا کہ اگر ن لیگ کو موقع ملے تو وہ ٹیکس کے معاملے پر پیچھے ہٹ سکتی ہے۔ ان کے مطابق، اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں کو مل بیٹھ کر ملک کی اقتصادی صورتحال پر غور کرنا چاہیے اور عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔سابق وزیر خزانہ نے جماعت اسلامی کے دکانداروں کے خلاف دھرنوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دکانداروں کے ساتھ دھرنے نہیں کرنے چاہئیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر یہ ہے کہ دکانداروں اور حکومت کو قریب لایا جائے اور تاجروں کے تحفظات کا جائزہ لیا جائے۔
    انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کو ملک کے مفاد میں متحد ہو کر کام کرنا چاہیے۔مفتاح اسماعیل نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ٹیکسز میں بہتری لانے کے اقدامات کرے، کیونکہ حکومت کے پاس ٹیکسز سے پیچھے ہٹنے کا کوئی آپشن نہیں ہے۔ ان کے مطابق، اگر حکومت ٹیکسز سے پیچھے ہٹ گئی تو ملک کا اقتصادی پروگرام ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین اور سعودی عرب کی جانب سے مالی امداد نہ ملنے کی صورت میں حکومت کو اپنی ٹیکس پالیسی میں اصلاحات کرنی ہوں گی تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔مفتاح اسماعیل کی جانب سے آئین اور قانون کے مطابق مسائل کے حل کی تجویز اور حکومت کو ٹیکس پالیسی میں بہتری کی ہدایت اہم ہیں۔ ان کے بیانات نے سیاسی اور اقتصادی حلقوں میں توجہ حاصل کی ہے، اور ان کی تجاویز پر عمل درآمد کی صورت میں ملکی مسائل کے حل کی امیدیں بڑھ سکتی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز اس تجویز پر کس حد تک عمل کرتے ہیں اور ملک کی اقتصادی اور سیاسی صورتحال میں بہتری لانے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان ٹرسٹ اسپتال میں منی لانڈرنگ کا انکشاف ،دو ملزمان گرفتار

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان ٹرسٹ اسپتال میں منی لانڈرنگ کا انکشاف ،دو ملزمان گرفتار

    لاہور: ڈاکٹر عبدالقدیر خان ٹرسٹ اسپتال میں کروڑوں روپے کی منی لانڈرنگ کا بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے، جس میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے اہم کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کیس ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام سے منسوب اسپتال کے مالی معاملات میں بے ضابطگیوں اور غیر قانونی رقم کی منتقلی سے متعلق ہے۔ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق، گرفتار کیے گئے ملزمان سہیل اور شوکت بابر ورک پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان ٹرسٹ اسپتال میں کروڑوں روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔ ان کے خلاف مقدمہ ڈاکٹر دینا خان کی درخواست پر درج کیا گیا تھا، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ ملزمان نے اسپتال کی جعلی ڈیڈ تیار کی اور اس کے ذریعے مالی معاملات میں گھپلا کیا۔
    ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ پہلے تھانہ نصیر آباد میں درج ہوا تھا، جس میں ملزم سہیل کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ مقدمہ اسپتال کی جعلی ڈیڈ تیار اور استعمال کرنے کے الزام میں درج کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، دیگر ملزمان نے اپنی عبوری ضمانت کروالی تھی، تاہم ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ایف آئی اے کے ترجمان نے مزید بتایا کہ ملزمان کے خلاف ایک اور ایف آئی آر تھانہ راوی روڈ میں بھی درج ہے، جس میں مزید قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان تمام مقدمات میں ملزمان پر سنگین الزامات ہیں، جن میں منی لانڈرنگ، جعلی دستاویزات کی تیاری اور استعمال، اور مالی بدعنوانی شامل ہیں۔ایف آئی اے نے اس کیس میں تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مزید شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ منی لانڈرنگ جیسے سنگین الزامات پر ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا امکان ہے۔ اس اسکینڈل کی وجہ سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان ٹرسٹ اسپتال کے مالی معاملات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

  • اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2024 کی منظوری: صدر نے دستخط کر دئے

    اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2024 کی منظوری: صدر نے دستخط کر دئے

    اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے "اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2024” کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد یہ بل قانون کا حصہ بن گیا ہے۔ اس بل کا مقصد اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 میں ترامیم کرنا ہے، جس کے ذریعے اسلام آباد کے بلدیاتی نظام میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ نئے قانون کے بعد اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات ملتوی ہونے کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے۔صدر مملکت نے اس بل کی منظوری آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت دی ہے، جس کے مطابق صدر مملکت کسی بل کو منظوری دے کر اسے قانون میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2024 کا مقصد لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 میں ترامیم کرنا تھا تاکہ مقامی حکومت کے ڈھانچے میں تبدیلیاں لائی جا سکیں اور مقامی نمائندگی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
    نئے ایکٹ کے تحت اسلام آباد کی ہر یونین کونسل کے 9 جنرل وارڈز ہوں گے۔ براہ راست انتخابات میں ووٹرز صرف ان 9 جنرل وارڈز کے امیدواروں کو ہی ووٹ دیں گے۔ اس تبدیلی کے تحت: یونین کونسل کے ہر وارڈ سے ایک جنرل ممبر کا انتخاب براہ راست عوامی ووٹ کے ذریعے کیا جائے گا۔ ترمیم کے مطابق، نو وارڈز کے علاوہ مخصوص نشستوں پر ممبران کا انتخاب کیا جائے گا، جن میں خواتین، نوجوان، اقلیت، اور مزدور یا کسان کی نشستیں شامل ہیں۔ یہ نشستیں بھی یونین کونسل کے منتخب ارکان کے ذریعے پر کی جائیں گی تاکہ مختلف طبقات کی نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔یونین کونسل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب**: آخری مرحلے میں یونین کونسل کے 13 منتخب ممبران آپس میں مل کر چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب کریں گے۔ اس طریقے سے مقامی حکومت کا سربراہ منتخب کیا جائے گا، جو یونین کونسل کی قیادت کرے گا۔
    نئے ایکٹ کی منظوری کے بعد اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے ملتوی ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ترامیم کے بعد، نئے انتخابی قوانین کے مطابق حلقہ بندیوں کی از سر نو ترتیب اور دیگر ضروری اقدامات کیے جائیں گے، جس کے لیے وقت درکار ہوگا۔ اس وجہ سے انتخابات کے عمل میں تاخیر ہو سکتی ہے۔اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2024 کی منظوری پر سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں میں مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ جماعتوں نے اس بل کو مقامی حکومت کے نظام میں بہتری کا قدم قرار دیا ہے، جبکہ کچھ نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ اس سے بلدیاتی انتخابات کے التوا اور جمہوری عمل میں تاخیر ہو سکتی ہے۔اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2024 کی منظوری کے بعد اسلام آباد کے بلدیاتی نظام میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن سے مقامی نمائندگی کے نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم، ان تبدیلیوں کے باعث انتخابات کے عمل میں ممکنہ تاخیر پر سیاسی اور عوامی ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان ترامیم کو نافذ کرنے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے اور آئندہ کے سیاسی منظرنامے پر ان کا کیا اثر پڑتا ہے۔

  • وزیر خزانہ کی پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی کے وفد سے ملاقات، توانائی تعاون پر گفتگو

    وزیر خزانہ کی پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی کے وفد سے ملاقات، توانائی تعاون پر گفتگو

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے حال ہی میں پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی (PQEPC) کے وفد سے ایک اہم ملاقات کی جس کی قیادت پاور چائنا ریسورسز کے صدر یانگ تیانیو کر رہے تھے۔ اس ملاقات میں توانائی کے شعبے سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں ممالک کی کمپنیوں کے مابین مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ملاقات کے دوران پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان پائیدار اور موثر توانائی کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ دونوں فریقین نے توانائی پیدا کرنے والوں کو ادائیگیوں اور بروقت ادائیگیوں میں حائل مسائل کے حل کے لیے تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے اس بات پر بھی غور کیا کہ کس طرح مقامی کوئلے پر چلنے والے منصوبوں کے لیے تکنیکی اور مالی فزیبلٹی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس موقع پر توانائی کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے حکومت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ "پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی کا کردار بہت اہم ہے۔” وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت اس منتقلی کو آسان بنانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے، جس میں مقامی کوئلے کی ہموار اور موثر تبدیلی کو یقینی بنانے کے لیے ریلوے لائن کا اجراء بھی شامل ہے۔اس اہم ملاقات کے دوران وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریونیو علی پرویز ملک، سیکرٹری پاور ڈویژن، اور فنانس ڈویژن کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔ اس ملاقات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان توانائی کے شعبے میں جدت اور بہتری کے لیے مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
    پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے درمیان تعاون بہت ضروری ہے۔ حکومت پاکستان اور چینی کمپنیوں کے درمیان یہ ملاقات اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک توانائی کے شعبے میں پائیدار ترقی کے لیے پرعزم ہیں اور مستقبل میں بھی اس طرح کے اقدامات جاری رہنے کی توقع ہے۔

  • کولکتہ میں زیر تربیت ڈاکٹر کے قتل کیس میں نیا موڑ: اسپتال کی والدین کو گمراہ کرنے کی آڈیوز سامنے آگئیں

    کولکتہ میں زیر تربیت ڈاکٹر کے قتل کیس میں نیا موڑ: اسپتال کی والدین کو گمراہ کرنے کی آڈیوز سامنے آگئیں

    کولکتہ: بھارتی ریاست مغربی بنگال کے شہر کولکتہ میں ایک زیر تربیت ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی اور قتل کے کیس میں نیا موڑ آگیا ہے۔ اس کیس میں آر جی کار میڈیکل کالج اسپتال کے اہلکاروں کی جانب سے مقتولہ کے والدین کو گمراہ کرنے کی کوششوں کی آڈیو کلپس سامنے آئیں ہیں۔ یہ واقعہ 9 اگست 2024 کو پیش آیا جب 31 سالہ پوسٹ گریجویٹ تربیتی ڈاکٹر کو اسپتال کے سیمینار ہال میں چہرے پر زخموں کے ساتھ مردہ پایا گیا تھا۔مقتولہ ڈاکٹر کولکتہ کے آر جی کار میڈیکل کالج اسپتال میں زیر تربیت تھیں۔ 9 اگست کو ان کی لاش اسپتال کے سیمینار ہال میں ملی تھی، اور ابتدائی تحقیقات میں یہ ظاہر ہوا کہ ان کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی اور پھر انہیں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے نے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی بھارتی میڈیا کے مطابق، اس کیس میں اب نیا موڑ اس وقت آیا جب دو آڈیو کلپس سامنے آئیں جن میں اسپتال انتظامیہ کی جانب سے مقتولہ کے والدین کو گمراہ کرنے کی کوششوں کا انکشاف ہوا ہے۔
    پہلی آڈیو کلپ میں، متاثرہ ڈاکٹر کے والد اور آر جی کار اسپتال کے ایک اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کے درمیان گفتگو سنائی دیتی ہے۔ سپرنٹنڈنٹ اس کلپ میں والد کو بتا رہا ہے کہ ان کی بیٹی "انتہائی بیمار ہے اور اسے اسپتال میں داخل کر لیا گیا ہے”۔ جب والد مزید تفصیلات کے بارے میں پوچھتے ہیں، تو سپرنٹنڈنٹ کہتا ہے کہ "میں ڈاکٹر نہیں ہوں، میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ ہوں؛ آپ کی بیٹی کو ایمرجنسی میں داخل کر لیا گیا ہے، اس کی حالت بہت خراب ہے۔ ڈاکٹر آپ کو مزید بتائے گا۔دوسری آڈیو کلپ میں ایک مرد کی آواز سنائی دیتی ہے جو والدین کو بتا رہا ہے کہ ان کی بیٹی "شاید خودکشی کر چکی ہے” اور انہیں فوراً اسپتال پہنچنا چاہیے۔ وہ مزید کہتا ہے کہ "پولیس یہاں موجود ہے، اس لیے آپ بھی جلدی آجائیں۔
    ان آڈیو کلپس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مقتولہ کے والدین اپنی بیٹی کی حالت کے بارے میں مسلسل معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن اسپتال کے اہلکار انہیں مختلف بہانوں سے گمراہ کر رہے تھے۔ حکام نے والدین کے سوالات کو ٹال دیا اور مکمل تفصیلات بتانے سے گریز کیا، یہ کہہ کر کہ پورے معاملے کی تفصیل صرف ڈاکٹر ہی بتا سکتا ہے۔اس نئے انکشاف کے بعد، کیس میں تحقیقات مزید پیچیدہ ہو گئی ہیں۔ پولیس اور دیگر تحقیقاتی ادارے اس بات کی کھوج لگا رہے ہیں کہ اسپتال انتظامیہ کی جانب سے والدین کو کیوں گمراہ کیا گیا اور اس کے پیچھے کیا محرکات تھے۔ مقتولہ کے خاندان نے انصاف کے لیے آواز بلند کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داران کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔یہ کیس کولکتہ سمیت پورے بھارت میں موضوع بحث بن چکا ہے۔ عوامی حلقوں میں اس واقعے کے خلاف غم و غصہ پایا جا رہا ہے، اور لوگ اسپتال انتظامیہ کی مبینہ لاپروائی اور گمراہ کن بیانات پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔