کراچی: اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے جاری اپنی مہم میں ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ لانڈھی کے علاقے میں ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) کے خلاف اہم کارروائی کرتے ہوئے اسے بے نقاب کیا گیا، جو انسانی حقوق کی آڑ میں منشیات فروشی جیسے مکروہ دھندے میں ملوث تھی۔ لانڈھی کے علاقے میں این جی او کے نام پر ایک منظم گروہ منشیات فروشی میں ملوث تھا، جو تعلیمی اداروں اور ہاسٹلز میں طلباء کو منشیات فروخت کرتا تھا۔ اے این ایف کی ٹیم نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر اس گروہ کے خلاف ایک بڑے آپریشن کی منصوبہ بندی کی، جس کے نتیجے میں انتہائی مہارت اور ٹیکنیکل بنیادوں پر اس گروہ کے سرغنہ سمیت متعدد ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ یہ گروہ خواتین کو استعمال کرتے ہوئے کراچی، حیدرآباد، اور ملحقہ علاقوں میں منشیات فروشی کرتا تھا۔ ایک خفیہ اطلاع کے بعد اے این ایف نے ایک خاتون ڈرگ کیرئیر کو ٹنڈو آدم سے کراچی پہنچتے ہی منشیات سمیت گرفتار کر لیا۔ گرفتار خاتون کی نشاندہی پر اے این ایف نے دیگر ساتھیوں کو بھی گرفتار کیا۔ ملزمان کے قبضے سے مجموعی طور پر 900 گرام ہیروئن برآمد ہوئی، جس میں 400 گرام خاتون ملزمہ سے اور 500 گرام اس کے ساتھی ملزم سے برآمد کی گئی۔ مزید تفتیش کے دوران گروہ کے سرغنہ کو غیر قانونی اسلحہ اور منشیات سمیت گرفتار کر لیا گیا۔ تینوں ملزمان سے مجموعی طور پر 1.5 کلو گرام ہیروئن برآمد ہوئی۔
گرفتاری کے دوران گاڑی کی تلاشی میں مختلف پریس کارڈز، پریس مونوگرام، اور جعلی نمبر پلیٹیں بھی برآمد کی گئیں، جو گروہ کے مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔ ملزمان نے دوران تفتیش مزید انکشاف کیا کہ وہ حیدرآباد میں بھی منشیات اسمگلنگ میں ملوث تھے۔
اے این ایف نے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ ملزمان کے خلاف انسدادِ منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ترجمان اے این ایف کے مطابق، فورس نے منشیات کے خلاف جنگ کو مؤثر انداز میں جاری رکھا ہوا ہے اور تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ منشیات فروشی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں۔اینٹی نارکوٹکس فورس کی یہ کامیاب کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ فورس منشیات کے خلاف اپنے مشن میں پختہ عزم کے ساتھ مصروف عمل ہے۔ اس سے نہ صرف معاشرتی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعلیمی اداروں میں بھی ایک محفوظ اور صحت مند ماحول کی فراہمی ممکن ہوگی۔
Author: صدف ابرار
-

اینٹی نارکوٹکس فورس کی تعلیمی اداروں میں منشیات کے خلاف بڑی کامیابی
-

بنگلا دیش میں سیلاب اور بھارتی میڈیا کا رویہ
بنگلا دیش میں سیاسی عدمِ استحکام ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوا تھا کہ ایک اور قدرتی آفت نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حالیہ سیلاب نے بنگلا دیش کے مختلف علاقوں میں تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں 50 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور اب وہ کیمپوں میں پناہ گزین ہیں۔ ان حالات میں عبوری حکومت سیلاب زدگان کی مدد اور امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مصروف ہے، جو کہ ایک بڑا چیلنج ہے۔سیلاب کے متاثرین کی مدد کرنا بنگلا دیشی حکومت کے لیے ایک مشکل کام ہے، لیکن اس سے بھی بڑا چیلنج بھارت کو اس بحران کا فائدہ اٹھانے سے روکنا ہے۔ بھارتی میڈیا کی جانب سے اس بحران کے دوران منفی رپورٹنگ اور جانبداری پر مبنی خبروں نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔بھارتی میڈیا، خاص طور پر انڈیا ٹوڈے، نے بنگلا دیش میں ہندو برادری کے حوالے سے مختلف دعوے کیے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق، بنگلا دیش کے ہندوؤں کا کہنا ہے کہ انہیں امداد کی فراہمی میں نظر انداز کیا جا رہا ہے، اور انہیں محض ان کے مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بنگلا دیشی حکومت نے سیلاب کی امداد کے دوران ہندو برادری کو بُری طرح نظر انداز کیا ہے اور ان کے مسائل کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بنگلا دیشی حکومت کی جانب سے سیاسی بحران کے دوران بھی ہندو برادری کو نظر انداز کیا گیا، اور اب بھی انہیں امداد کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
سیلاب اور سیاسی بحران کے دوران بھارتی میڈیا کا رویہ غیرجانبدار نہیں رہا۔ ان رپورٹوں کا مقصد بھارت میں ہندو برادری میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کو بڑھانا اور بحران کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا ہے۔ اس قسم کی رپورٹنگ نے نہ صرف بنگلا دیش کی موجودہ مشکلات کو اجاگر کیا بلکہ بھارت میں بھی ایک منفی تاثر پیدا کیا۔
بنگلا دیش میں سیلاب کی موجودہ صورتحال ایک انسانی بحران کی عکاسی کرتی ہے، اور اس دوران بھارتی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹیں مزید پیچیدگیاں پیدا کر رہی ہیں۔ بنگلا دیشی حکومت کو اس بحران کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کی جانب سے کی جانے والی منفی رپورٹنگ کا بھی مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ وقت ہے کہ بین الاقوامی برادری اور میڈیا اپنی رپورٹنگ میں انصاف اور حقیقت پسندی کو مدنظر رکھے تاکہ متاثرین کو اصل مدد فراہم کی جا سکے اور بحران کی حقیقت کو درست طور پر پیش کیا جا سکے۔ -

عمران خان کا روپوش پی ٹی آئی رہنماؤں کو باہر نکلنے اور گرفتاری دینے کی ہدایت
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے پارٹی کے روپوش رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی روپوشی ختم کر کے سامنے آئیں اور گرفتاری دیں۔ عمران خان نے یہ پیغام اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دیا، جہاں وہ اس وقت توشہ خانہ کے نئے کیس میں قید ہیں۔عمران خان نے کہا، "میں خود قید ہوں اور باقی رہنماؤں کو بھی چاہیے کہ وہ خوف کو چھوڑ کر سامنے آئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ روپوش رہنما گرفتاریاں دیں اور ان پر عائد الزامات کا سامنا کریں۔ "گرفتاریاں دے کر عدالتوں سے ضمانتیں حاصل کریں، عمران خان نے ہدایت کی۔یہ اہم اعلان پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے روپوش ہونے کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں سے کئی 9 مئی 2023 کے بعد سے روپوش ہیں۔ عمران خان کے مطابق، پارٹی کو اپنی قانونی جنگ لڑنے کے لیے اپنے تمام رہنماؤں کی ضرورت ہے۔عمران خان کی اس ہدایت نے پارٹی کے داخلی امور میں نئی لہر دوڑا دی ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ روپوش رہنما ان کی اس درخواست پر کس طرح عمل کرتے ہیں۔
-

ہڑتالوں سے مسائل کا حل نہیں، ٹیکس نظام کو مؤثر بنا رہے ہیں، عطا تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ٹیکس نظام کو مؤثر بنانے کے اقدامات جاری ہیں اور ہڑتالوں سے مسئلے کا حل نہیں نکلے گا۔عطا تارڑ نے کہا، "ہم معاشی گروتھ کی طرف جا رہے ہیں اور عالمی ادارے پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف کر رہے ہیں۔ آج موڈیز نے پاکستان کا کریڈٹ گریڈ بہتر کر دیا ہے، جو ہماری اقتصادی پالیسیوں کی کامیابی کا عکاس ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ "ایف بی آر کے نظام کو پہلی بار مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ ایف بی آر میں بہت زیادہ کرپٹ بیوروکریسی رہی ہے اور ہم غیردستاویزی بلیک اکانومی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ حکومت ٹیکس کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
وزیر اطلاعات نے نوازشریف کے لندن جانے کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "میرے پاس ابھی تک نوازشریف کے لندن جانے کے حوالے سے کوئی تصدیق شدہ خبر نہیں آئی۔ لندن جانے کی خبروں کی تصدیق ابھی باقی ہے۔انہوں نے مولانا فضل الرحمن کے بارے میں کہا کہ "مولانا کے گلے شکوے دور ہو سکتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ مولانا دوبارہ ہماری صفوں میں شامل ہوں گے۔ سیاست میں بات چیت سے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔”عطا تارڑ نے آزاد امیدواروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ "اگر آزاد امیدوار نے کوئی پارٹی ڈکلیئر نہ کی ہو تو کوئی بھی جماعت ان سے رابطہ کر سکتی ہے۔ اس کا بھی امکان موجود ہے، لیکن ابھی آزاد ممبران سے رابطے نہیں ہوئے۔”
انہوں نے چیف جسٹس کے نوٹیفکیشن کے حوالے سے بھی بات کی کہ "وزارت قانون جب بہتر سمجھے گی، تو چیف جسٹس کا نوٹیفکیشن جاری کر دے گی۔ اس معاملے پر سیاست نہیں کرنی چاہئے۔ بظاہر قانون کے مطابق اگلے چیف جسٹس منصور علی شاہ ہی ہوں گے۔عطا تارڑ نے علی امین گنڈا پور کی صورت حال پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ "علی امین گنڈا پور کی میٹنگ میں کچھ اور کیمرے پر کچھ اور ہوتے ہیں، اور میں ان کی مجبوریوں کو سمجھتا ہوں۔ حکومت نے ہی علی امین گنڈا پور سے رابطہ کیا تھا اور علی امین گنڈا پور نے بانی پی ٹی آئی سے رابطہ کیا تھا۔انہوں نے تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ "علی امین گنڈا پور کے اسٹیبلشمنٹ سے رابطے کا بیان من گھڑت اور بےبنیاد ہے۔ تحریک انصاف سے اسٹیبلشمنٹ کے رابطے کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔”عطا تارڑ کی یہ پریس کانفرنس ملک کی موجودہ اقتصادی پالیسیوں، قانونی امور، اور سیاسی صورت حال پر اہم بصیرت فراہم کرتی ہے۔ -

8 ستمبر کو اسلام آباد میں جلسہ ہوگا، چاہے اجازت ملے یا نہ ملے۔ عمر ایوب
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مولانا فضل الرحمان کے ساتھ چلنے پر اتفاق ہو چکا ہے۔ نجی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے کہ وہ قانون سازی میں حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے۔عمر ایوب نے کہا کہ 8 ستمبر کو اسلام آباد میں ہونے والا جلسہ ہوگا، چاہے اجازت ملے یا نہ ملے۔ اگر پی ٹی آئی کے بانی کو ملاقات کی اجازت نہ ملی تو قومی اسمبلی اور سینیٹ کا کام نہیں چلنے دیں گے اور اگر ہمارے لیڈر کو کچھ ہوا تو موجودہ حکومت ہی ذمہ دار ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو آئی ایم ایف سے کوئی پیکج نہیں ملے گا اور معاشی حالات روز بروز خراب ہو رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ایم این ایز تحریک انصاف کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے اور ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ایم این ایز نے آگ کا دریا عبور کر کے یہاں تک پہنچے ہیں، حکومت کی خام خیالی ہے کہ ہمارے ایم این ایز ٹوٹیں گے۔ عطا تارڑ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بچے ہیں اور انہیں بعد میں خبر ملے گی۔اسٹیبلشمنٹ سے رابطے سے متعلق سوال کے جواب میں عمر ایوب نے تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا۔ انہوں نے نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پلیٹ لیٹس پھر گرے ہیں اور وہ لندن جا رہے ہیں۔ عمر ایوب نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف کیسز ختم ہو چکے ہیں اور انہیں گزشتہ ہفتے رہا ہو جانا چاہیے تھا۔ موجودہ حکومت چند ماہ میں خود ہی ٹوٹ جائے گی اور ملک میں نئے انتخابات ناگزیر ہیں۔ عدوست ممالک اور آئی ایم ایف بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ پہلے ملک کے حالات درست کیے جائیں۔ -

موڈیز کی ریٹنگ میں بہتری، حکومت کو پالیسیوں کے تسلسل کی ضرورت ہے، انوارالحق کاکڑ
سابق وزیراعظم سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی ہے اور معاشی میدان میں مثبت اشارے دیکھے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو پالیسیوں کے تسلسل کے لیے کچھ وقت دیا جانا چاہیے تاکہ ان پالیسیوں کے نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت کے دور میں اپنائی گئی پالیسیوں کا پھل اب نظر آنا شروع ہوا ہے اور موجودہ حکومت کے اقدامات کے نتائج اگلے مالی سال میں سامنے آئیں گے۔انوارالحق کاکڑ نے یہ بھی کہا کہ فروری 2024 کے انتخابات سے قبل ہی انہیں متنازع بنانے کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ انہوں نے دھرنا سیاست کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2013 کے انتخابات کے خلاف دھرنا سیاست کا آغاز ہوا، جو کسی معاشی مسئلے یا دہشتگردی کے خلاف نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی حکومت سے جو توقعات تھیں، وہ پوری نہیں ہو سکیں، اور ان کی حکومت نے مسائل کی بجائے ذہن سازی اور دکھاوے پر زیادہ زور دیا۔
انوارالحق کاکڑ نے موجودہ حکومت کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو معاشی اور سیاسی بحران حل نہ کرنے کی صورت میں اپنا سیاسی سرمایہ کھونے کا خدشہ ہے، جس کا فائدہ پی ٹی آئی یا کسی اور جماعت کو ہو سکتا ہے۔بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے منظم حملے اور ان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتیں تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2022 میں نیٹو افواج کے انخلا کے بعد خطے میں ہتھیاروں کی بڑی تعداد پھیل گئی ہے، جسے دہشتگردوں نے ریاستوں کو چیلنج کرنے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ -

جاپان میں سمندری طوفان "شانشان” کے باعث ایمرجنسی نافذ
جاپان میں سمندری طوفان "شانشان” کی شدت کے باعث ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس کے زیر اثر جنوب مغربی ساحلی علاقوں میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ طوفان اس وقت 180 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کے ساتھ جزیرہ کیوشو کی جانب بڑھ رہا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کے نتیجے میں طوفانی ہواؤں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے شدید خطرات لاحق ہیں۔ کیوشو میں درجنوں مقامی اور سیکڑوں بین الاقوامی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ متعدد ٹرینیں بدھ سے جمعہ تک معطل کر دی گئی ہیں۔طوفان کے پیش نظر سمندری علاقوں سے متصل علاقوں میں درجنوں فیکٹریاں بند کر دی گئی ہیں اور 8 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے ایک دو روز میں "شانشان” طوفان کے جزیرہ کیوشو سے ٹکرانے کے بعد اس کے ٹوکیو سمیت مشرقی اور وسطی جاپان کے علاقوں کی جانب بڑھنے کا امکان ہے، جس سے مزید نقصانات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکام نے عوام کو خبردار رہنے اور حفاظتی اقدامات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
-

عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار
آکسفورڈ یونیورسٹی میں سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے جیل سے چانسلر کے عہدے کے لیے الیکشن لڑنے کے اعلان پر شدید احتجاج شروع ہوگیا ہے۔
عمران خان، جو ایک سال سے زائد عرصے سے بدعنوانی کے الزامات پر جیل میں ہیں، نے کنزرویٹو پارٹی کے لارڈ پیٹن کی جگہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، یونیورسٹی کو عمران خان کی امیدواری پر متعدد تحفظات موصول ہوئے ہیں ، جن میں ان کی طالبان کی حمایت اور ان کی سزا کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس سے قبل عمران خان نے کہا، "بطور چانسلر، میں آکسفورڈ کے اصولوں، تنوع، مساوات اور شمولیت کی حمایت کرنے کا پُر جوش وکیل بنوں گا، نہ صرف برطانیہ میں بلکہ دنیا بھر میں۔”یونیورسٹی کو اس معاملے پر ای میلز اور ایک پٹیشن موصول ہوئی ہے جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی امیدوار ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے، "اگرچہ عمران خان ایک ممتاز شخصیت ہیں، لیکن ان کے عوامی اور ذاتی ریکارڈ کے بعض پہلو انتہائی تشویشناک ہیں اور ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان نے طالبان کے ساتھ میل جول بڑھانے کی کوشش کی اور انہیں پاکستان میں دفتر قائم کرنے کی تجویز دی تھی، جس پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان نے اسامہ بن لادن کو ‘شہید’ کہا، جو کہ ایک متنازعہ بیان تھا اور اس پر عالمی سطح پر تنقید کی گئی تھی۔عمران خان کے امیدوار بننے کے خلاف لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر ناقدین کو ہراساں کیا اور انہیں بدنام کیا۔یونیورسٹی نے تصدیق کی ہے کہ چانسلر کے عہدے کے امیدواروں کی فہرست اکتوبر کے اوائل میں جاری کی جائے گی، جبکہ الیکشن 28 اکتوبر کو ہوں گے۔ڈیلی میل نے عمران خان کے حوالہ سے سٹوری شائع کی ہے،ڈیلی میل کے مطابق عمران خان کے الیکشن لڑنے کے فیصلے کے خلاف آکسفورڈ یونیورسٹی میں سخت اشتعال اور مظاہرے ہوئے ہیں،ڈیلی میل نے اپنی سرخی میں عمران خان کو Disgraced وزیراعظم کا خطاب دے دیا ،آکسفورڈ یونیورسٹی کو عمران خان کے چانسلر کا الیکشن لڑنے کیخلاف غم و غصّے سے بھری ای میلز اور احتجاجی پٹیشن موصول ہونا شروع ہو گئیں ،ڈیلی میل کے مطابق ان ای میلز میں بانی پی ٹی آئی کو آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار دیا گیا ہے- پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کرپشن کیسز میں سزا یافتہ شخص کا آکسفورڈ یونیورسٹی جیسے بڑے تعلیمی ادارے کے چانسلر کا الیکشن لڑنا قابل قبول نہیں ،
طالبان اور اسامہ بن لادن کی پرجوش حمایت پر مبنی عمران خان کا شدت پسند موقف چانسلر کا امیدوار بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گیا،ڈیلی میل کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے کئی مواقعوں پر طالبان کی حمایت اور ان کے شدت پسند ایجنڈے کا پرچار کیاہے – بانی پی ٹی آئی کے خلاف یونیورسٹی کو موصول پٹیشن میں اس طرح کے مزید ذاتی اور پبلک مفادات سے متصادم باتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے ،بانی پی ٹی آئی کی نجی زندگی پر بھی کئی داغ موجود ہیں،خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام اُنہی خواتین کے لباس کو ٹھہرانا بھی عوام نقطہ احتجاج بن گیا،خواتین کا مختصر لباس ان کی آبرو ریزی کے واقعات کی بڑی وجہ ہے، ایسے لباس کے اثرات صرف روبوٹس پر نہیں ہوتے، لوگوں نے عمران خان کا پرانا موقف آکسفورڈ یونیورسٹی کو یاد کرا دیا
تحریک انصاف کے سپورٹرز پر عمران خان کے مخالفین کو ہراساں کرنے کا بھی الزام ہے،عمران خان کے حامی اس پر تنقید کو روکنے کیلئے سوشل میڈیا ٹرولنگ سے کام لے رہے ہیں، برطانوی اخبار کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کی انسانیت کے احترام ، اخلاقی اقدار اور لیڈر شپ کے اعلیٰ معیار کے حوالے سے قابل قدر تاریخ ہے، عمران خان کا چانسلر کا الیکشن لڑنا اسے داغدار کر دے گا، عمران خان دہشت گردوں کا حامی ہے قومی اسمبلی سے خطاب میں اس نے اسامہ بن لادن کو شہید کہا
خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے
خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں
خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار
خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان
خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟
خلیل الرحمان قمر پر تشدد میں ملوث خاتون سمیت 12 ملزمان گرفتار
-

محکمہ بلدیات پنجاب میں تقرر و تبادلے
محکمہ بلدیات پنجاب نے حال ہی میں 17 چیف آفیسرز کے تقرر و تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس کے تحت مختلف میونسپل کمیٹیوں اور ضلع کونسلز میں نئی تعیناتیاں کی گئی ہیں۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی منڈی احمد آباد، ہما فاطمہ کو او ایس ڈی (آفیشل سپیشل ڈیوٹی) بنا دیا گیا ہے، جبکہ ارحم نذیر کو چیف آفیسر میونسپل کمیٹی منڈی احمد آباد تعینات کیا گیا ہے۔ اسی نوٹیفکیشن کے تحت، محمد عمران کو چیف آفیسر میونسپل کمیٹی ہارون آباد جبکہ محسن مظہر کو چیف آفیسر جڑانوالہ اور محمد فیصل کو چیف آفیسر سمندری تعینات کیا گیا ہے۔ ظفر اقبال کو چیف آفیسر چک جھمرہ اور مزمل محمود کو چیف آفیسر ملکوال کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ آصف جاوید کو چیف آفیسر دریاخان اور سمیرا سمیع اللہ کو چیف آفیسر گھکڑ منڈی تعینات کیا گیا ہے۔ خالد رشید، جو کہ تقرری کے منتظر تھے، کو چیف آفیسر میونسپل کمیٹی نوشہراں ورکاں کی ذمہ داری دی گئی ہے۔سید سبطین حیدر بخاری کو چیف آفیسر میونسپل کمیٹی روجھان اور عامر رؤف کو ڈسٹرکٹ کونسل راجن پور میں ڈسٹرکٹ آفیسر کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔ یہ تبدیلیاں مختلف بلدیاتی اداروں میں کارکردگی کی بہتری اور انتظامی افادیت کے لیے کی گئی ہیں، اور ان نئے چیف آفیسرز کو اپنے نئے ذمہ داریوں میں کامیابی کی خواہش کی گئی ہے۔
-

کراچی میں بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کی تیاریاں
کراچی کی عوام مہنگائی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے ساتھ بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کی ممکنہ خبر سے پریشان ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے نیپرا (قومی توانائی کی ترتیب و ضوابط کی اتھارٹی) کل ایک اہم سماعت کرے گا، جس میں کےالیکٹرک نے بجلی کی قیمت میں 3 روپے 9 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست دائر کی ہے۔
اس اضافے کے نتیجے میں کےالیکٹرک کے صارفین پر اضافی 6 ارب 20 کروڑ 60 لاکھ روپے کا بوجھ پڑے گا۔ یہ اضافہ جولائی کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت تجویز کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے، نیپرا مئی اور جون کی ایڈجسٹمنٹ میں بھی کےالیکٹرک کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر چکا ہے۔ مئی کی ایڈجسٹمنٹ کے تحت، بجلی کی قیمت 2 روپے 59 پیسے فی یونٹ بڑھائی گئی تھی، جبکہ جون کی ایڈجسٹمنٹ میں 3 روپے 17 پیسے فی یونٹ کا اضافہ کیا گیا تھا۔ یہ اضافے اکتوبر اور نومبر کے بلوں میں صارفین سے وصول کیے جائیں گے۔ اس اضافے کی صورت میں، کراچی کے صارفین کو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ کے ساتھ ساتھ، بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا، جو کہ ان کی معیشت پر مزید دباؤ ڈالے گا۔