اسلام آباد: جے یو آئی ف کے مرکزی ترجمان اسلم غوری نے پی ٹی آئی کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے وضاحت پیش کی ہے اور اس بات کی تردید کی ہے کہ سینیٹ کی نشستوں کے بارے میں کوئی بات چیت ہوئی ہے۔ اسلم غوری نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی یا سب کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹ کی نشستوں کا موضوع کبھی زیر بحث نہیں آیا۔اسلم غوری نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض عناصر ٹیبل سٹوریز کے ذریعے پارٹیوں میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ روز سب کمیٹیوں کے اجلاس میں صرف پارلیمنٹ کے روزمرہ امور پر بات چیت ہوئی اور ہمارے اور پی ٹی آئی کے درمیان پارلیمنٹ کے اندر ایشو ٹو ایشو گفتگو ہوتی ہے۔اسلم غوری نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی پر بھی شدید رد عمل ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصل کریم کنڈی کو "زمین پر بیٹھ آسمان پر تھوکنے” کی عادت کو ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر فیصل کریم کنڈی اپنے سیاسی قد کاٹھ سے بڑی بات کریں گے تو انہیں ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ غوری نے گورنر کے پی کو صدر پاکستان سے بات کرنے کا سلیقہ سیکھنے کا مشورہ بھی دیا۔یہ ردعمل اس وقت آیا ہے جب سینیٹ کی نشستوں کے حوالے سے میڈیا میں مختلف قیاس آرائیاں اور افواہیں گردش کر رہی ہیں، جس پر جے یو آئی ف نے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے بے بنیاد خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔
Author: صدف ابرار
-

صوبائی وزیر شکیل خان کی برطرفی: گڈ گورننس کمیٹی کی رپورٹ میں الزامات کی حقیقت بے نقاب
پشاور: سابق صوبائی وزیر شکیل خان کو کابینہ سے ہٹانے کے معاملے پر گڈ گورننس کمیٹی کی رپورٹ نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔ رپورٹ میں متعدد الزامات کی حقیقت بے نقاب کی گئی ہے، جس نے صوبے کی سیاسی فضا میں ہلچل مچا دی ہے۔ گڈ گورننس کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سابق صوبائی وزیر شکیل خان کے سیکرٹری مواصلات پر عائد الزامات درست نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سیکرٹری مواصلات پر عائد الزامات کی حقیقت یہ ہے کہ شکیل خان نے خود کئی پراجیکٹس کے لیے فنڈز کی منظوری دی تھی۔ اس کے برعکس یہ تاثر دیا گیا تھا کہ سیکرٹری مواصلات نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ شکیل خان نے اپنے محکمے میں 30 ملازمین کو غیر قانونی طور پر ترقی دی۔ یہ ترقیات بغیر کسی میرٹ اور قانونی تقاضے کے خلاف دی گئیں، جس پر کمیٹی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مزید برآں، شکیل خان پر ایک اعلیٰ افسر سے رشوت طلب کرنے کا بھی الزام ہے، اور کمیٹی کے مطابق، اس الزام کے ثبوت بھی موجود ہیں۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ جب شکیل خان کے خلاف الزامات کے ثبوت سامنے آئے تو وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے کے لیے گئے۔ اس ملاقات کی وجوہات اور اس کے پس منظر پر بھی کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر عائد الزامات کے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں، اور ان کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں۔
کمیٹی کی رپورٹ نے وفاقی وزیر امیر مقام کی کمپنی کو نوازنے کے الزامات کو بھی بے بنیاد قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، امیر مقام کی کمپنی کو دیا گیا پراجیکٹ ورلڈ بینک کا ہے، اور اس کی منظوری بھی عالمی بینک کی جانب سے دی گئی ہے، نہ کہ صوبائی یا وفاقی حکومت کی طرف سے۔ مزید یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ پراجیکٹ تین سال پرانا ہے اور اس کی لاگت 30 ملین ڈالر تھی، جو اب بھی وہی ہے۔ اس طرح کے حقائق کی روشنی میں امیر مقام کے خلاف لگائے گئے الزامات بھی بے بنیاد ہیں۔رپورٹ کو حتمی شکل دینے کے بعد گڈ گورننس کمیٹی نے اسے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو پیش کر دیا ہے۔ اب اس رپورٹ کے نتائج اور سفارشات پر عمل درآمد یا مزید تحقیقات کا فیصلہ وزیراعلیٰ کے پاس ہے۔ صوبائی سیاسی حلقوں میں اس رپورٹ کے اثرات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں حکومت کے اندر مزید تبدیلیاں بھی ممکن ہیں۔یہ رپورٹ خیبر پختونخوا کی سیاست میں ایک نئے تنازعے کو جنم دے سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب صوبے میں سیاسی عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ نے رپورٹ میں دی گئی سفارشات پر سخت اقدامات کیے تو یہ حکومت کی شفافیت اور گڈ گورننس کے حوالے سے ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے۔ تاہم، اگر معاملہ سیاسی جوڑ توڑ کی نذر ہوا، تو یہ حکومت کے لیے ایک اور بحران کا باعث بن سکتا ہے۔اس رپورٹ نے صوبے کی سیاسی فضا میں بے چینی پیدا کر دی ہے، اور آنے والے دنوں میں مزید سیاسی پیش رفت متوقع ہے۔ -

آئندہ 15 دنوں میں پیٹرول 5 روپے اور ڈیزل 6 روپے سستا ہونے کا امکان
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق، آئندہ 15 دنوں کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر پیٹرولیم مصنوعات پر بھی پڑے گا۔ حالیہ دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بڑی کمی دیکھنے کو ملی ہے، جو اب اناسی ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، گزشتہ نو روز کے دوران روپے کی قیمت میں بھی استحکام رہا ہے۔عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں کا جائزہ 30 اگست تک لیا جائے گا۔ 31 اگست کو پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں سے متعلق حتمی سمری تیار کی جائے گی، جسے وفاقی حکومت کے متعلقہ اداروں کے ذریعے منظوری کے بعد عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
وزیر خزانہ، وزیراعظم کے ساتھ مشاورت کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کریں گے۔ یہ اعلان عوام کو اگلے ماہ کے ابتدائی دنوں میں متوقع ہے، جس کا مقصد صارفین کو عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کی تبدیلیوں کے مطابق فائدہ پہنچانا ہے۔یہ تبدیلیاں اگر حقیقت میں عمل میں آئیں تو صارفین کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا فائدہ پہنچ سکتا ہے، جو کہ ملک بھر میں ٹرانسپورٹ اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات پر قیمتوں کو متوازن کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ -

خانہ کعبہ میں ویڈیو بنانے پر پی ٹی آئی رہنما فہیم خان سعودی عرب میں گرفتار
پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق ایم این اے فہیم خان کو سعودی عرب میں خانہ کعبہ پر 9 مئی کے جھوٹے بیانیے پر حلف لیتے ہوئے ویڈیو بنانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی ترجمان فوزیہ صدیقی نے اس گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کراچی ڈویژن اس اقدام کی سخت مخالفت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فہیم خان نے خانہ کعبہ میں 9 مئی کے بیانیے پر حلف لے کر بات کی، اور اب بانی پی ٹی آئی کے حق میں کسی بھی بیان پر گرفتاریاں کی جا رہی ہیں، چاہے وہ پاکستان میں ہوں یا بیرون ملک۔فوزیہ صدیقی نے پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماؤں سے اپیل کی کہ اس معاملے پر فوری ایکشن لیں۔ انہوں نے فارم 47 کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ سوشل میڈیا پر قدغن لگانے کے بعد اب بیرون ملک بھی لوگوں کو گرفتار کروا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب میں ن لیگ کے تعلقات ہیں اور اسی بنا پر کئی پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے حق میں بات کرنا ن لیگی حکومت کے لیے جرم بن گیا ہے، لیکن ہم اس جرم کو جاری رکھیں گے اور عمران خان کے حق میں آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انہوں نے فارم 47 کی حکومت اور سعودی عرب کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ آوازیں بند نہیں ہوں گی اور 9 مئی کے بیانیے کو دبانے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔
-

پاکستان میں پچھلے ایک مہینے میں بارشوں اور سیلاب سے 245 افراد جاں بحق، ہزاروں مکانات تباہ
پاکستان میں جاری بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں نے ملک بھر میں شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے باعث گزشتہ 27 دنوں میں 245 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں ان ہلاکتوں اور نقصانات کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق مختلف صوبوں میں جانی نقصان کی تفصیل کچھ یوں ہے: صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا ہے، جہاں 92 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ موسمی حالات کی شدت اور بے وقت بارشوں نے دیہی اور شہری علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔
خیبرپختونخوا میں بھی حالات انتہائی خراب رہے، جہاں 74 افراد بارشوں اور سیلاب کی نذر ہو گئے۔ خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات بھی پیش آئے، جس سے مزید نقصانات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ صوبہ سندھ میں 47 افراد کی جانیں ضائع ہوئیں، جہاں خاص طور پر اندرون سندھ کے علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ سندھ کے کئی شہروں میں سیلابی پانی گھروں اور زرعی زمینوں میں داخل ہو گیا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر مالی نقصان بھی ہوا ہے۔ بلوچستان میں 22 افراد جان کی بازی ہارے ہیں۔ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں امدادی سرگرمیاں پہنچنے میں دشواری کا سامنا رہا، جس سے جانی نقصان بڑھنے کا خدشہ ہے۔ آزاد کشمیر میں 6 اور گلگت بلتستان میں 4 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں بھی شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے مقامی آبادی کو متاثر کیا ہے۔
رپورٹ میں خاص طور پر ملتان میں ہونے والی طوفانی بارش کا ذکر کیا گیا ہے، جہاں 48 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ ملتان میں صرف دو گھنٹے کے اندر 147 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس نے شہر کی سڑکوں اور گلیوں کو پانی سے بھر دیا۔ شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ کئی مکانات اور گاڑیاں پانی میں ڈوب گئیں۔این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے 1002 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے، جبکہ 3475 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ ان مکانات کی تباہی سے ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے ہیں، جنہیں فوری امداد کی ضرورت ہے۔
ملک بھر میں جاری بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیش نظر حکومت اور مختلف فلاحی ادارے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ تاہم، متاثرہ علاقوں کی تعداد اور نقصان کی شدت کے باعث یہ امدادی سرگرمیاں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔مستقبل میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، جس سے مزید نقصانات کا خدشہ ہے۔ این ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ -

صارفین کے ڈیٹا کی فروخت میں پولیس افسران کے ملوث ہونے کا بڑا انکشاف
پاکستان میں ایک حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ پولیس افسران صارفین کے ذاتی ڈیٹا کی فروخت میں ملوث ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی تحقیقات کے مطابق، وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے تحت 72 تحقیقاتی افسران کو ٹیلی کام صارفین کے ڈیٹا تک رسائی حاصل تھی، اور حالیہ تحقیقات میں ان افسران کی جانب سے ڈیٹا کی فروخت کے کیسز سامنے آئے ہیں۔پی ٹی اے کے ذرائع کے مطابق، ڈیٹا لیکج کی 21 شکایات پر کی جانے والی تحقیقات نے یہ بات واضح کی ہے کہ پولیس افسران بلوچستان، پنجاب، اور سندھ میں صارفین کے ڈیٹا کی فروخت میں ملوث تھے۔ یہ افسران صارفین کا ذاتی ڈیٹا حاصل کرنے کے بعد اسے 2,500 سے 3,000 روپے میں فروخت کرتے تھے۔ ان افسران کی جانب سے ڈیٹا کی فروخت سے روزانہ 2 لاکھ سے 2.5 لاکھ روپے کی کمائی کی جاتی تھی۔معاملے کی تحقیقات کے دوران، ڈیٹا کی فروخت میں ملوث پولیس افسران نے الزام لگایا کہ ان کے اکاؤنٹس ہیک ہوئے تھے اور انہیں بغیر کسی علم کے ڈیٹا فروخت کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ تاہم، پی ٹی اے کی تحقیقات میں ان افسران کی طرف سے اس موقف کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
پی ٹی اے نے اس سنگین معاملے پر وزارت داخلہ کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ذریعے شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کی لیکیج اور فروخت کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ پی ٹی اے نے وزارت داخلہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پی) کو تبدیل کرے اور پولیس افسران اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ذریعے شہریوں کے ڈیٹا کی لیکیج کو روکنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی بنائے۔وزارت داخلہ کے سامنے پی ٹی اے کی درخواست میں، یہ تجویز دی گئی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں اور ایک مؤثر نگرانی کا نظام متعارف کرایا جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان میں ڈیجیٹل ڈیٹا کی سیکیورٹی اور رازداری ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات اور اس کے نتیجے میں اٹھائے جانے والے اقدامات شہریوں کے اعتماد کو بحال کرنے اور ڈیٹا کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ -

غزہ میں غیر معمولی پیشہ ورانہ خدمات پر فلسطینی صحافیوں کی نوبیل امن انعام کے لیے نامزدگی
غزہ میں جاری لڑائی کے دوران غیر معمولی پیشہ ورانہ خدمات انجام دینے پر چار فلسطینی صحافیوں کو امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ یہ صحافی اپنی بے باکی اور پیشہ ورانہ اخلاصِ نیت کی بنیاد پر عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ دی لندن اکنامک کی رپورٹ کے مطابق، ان صحافیوں نے اپنی محنت اور عزم کے ذریعے دنیا کو غزہ کی صورتحال اور وہاں کے باشندوں کی مشکلات سے آگاہ کیا ہے۔
نامزد صحافی:
1. معتِز عزیزا – ایک مشہور فوٹو جرنلسٹ جنہوں نے غزہ میں جاری لڑائی اور انسانی بحران کی تصاویر کو دنیا تک پہنچایا۔
2. ہند خوداری – ایک معتبر ٹی وی رپورٹر جو غزہ کی صورت حال کو براہ راست رپورٹ کرنے میں پیش پیش رہی۔
3. بسان عودہ – صحافی اور ایکٹیوسٹ جنہوں نے غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سماجی مسائل پر روشنی ڈالی۔
4. وائل الدادوہ – رپورٹر جو غزہ کے جنگ زدہ علاقوں کی رپورٹنگ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں، معتِز عزیزا نے کہا ہے کہ ان کا نوبیل انعام کے لیے نامزد ہونا، غزہ میں ڈھائے جانے والے مظالم اور وہاں کی حقیقت کو دنیا کے سامنے لانے کی کوششوں کا اعتراف ہے۔ عزیزا کی پوسٹیں جنگ سے قبل غزہ کی قدرتی خوبصورتی اور وہاں کی روزمرہ زندگی پر مبنی تھیں، لیکن جب جنگ نے شدت اختیار کی، تو انہوں نے شہریوں کی مشکلات اور مصائب کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ناروے کی نوبیل کمیٹی نے امن کے نوبیل انعام کے لیے اس سال تک 285 درخواستیں وصول کی ہیں، جن میں 196 شخصیات اور 89 تنظیمیں یا ادارے شامل ہیں۔ نوبیل امن انعام کے فاتحین کا اعلان 11 اکتوبر 2024 کو کیا جائے گا، اور انعامات کی تقریب 10 دسمبر 2024 کو منعقد ہوگی۔یہ نامزدگی فلسطینی صحافیوں کی جانب سے پیشہ ورانہ مہارت اور انسانی ہمدردی کی ایک مثال ہے، جو عالمی سطح پر تنازعات اور بحرانوں میں صحافت کے کردار کو اجاگر کرتی ہے۔
-

پنجاب میں پولیو کا پہلا کیس رپورٹ، وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر انسداد پولیو مہم کا آغاز
پنجاب میں پولیو کے پہلے کیس کی رپورٹ کے بعد، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی فوکل پرسن برائے پولیو پروگرام عظمیٰ کاردار نے چکوال میں میڈیا سے گفتگو کی اور اس معاملے پر تفصیلات فراہم کیں۔عظمیٰ کاردار نے بتایا کہ پنجاب میں حالیہ دنوں میں پولیو کا پہلا کیس رپورٹ ہوا ہے، جو کہ ایک 6 سالہ بچے میں دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیس چکوال میں سامنے آیا ہے، جس پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر فوری اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ بچے میں پولیو کی علامات ظاہر ہونے کے بعد بروقت علاج فراہم کیا گیا۔ خوش قسمتی سے، بچے نے جلدی صحت یابی حاصل کی ہے اور اب وہ مکمل طور پر صحتمند ہو رہا ہے۔ عظمیٰ کاردار نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو کے خلاف جاری جنگ میں ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔
عظمیٰ کاردار نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر اگلے ماہ ایک بڑی انسداد پولیو مہم شروع کی جائے گی۔ اس مہم کا مقصد پنجاب کو پولیو سے مکمل طور پر آزاد کرنا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ انسداد پولیو کے حوالے سے بھرپور آگاہی مہم بھی چلائی جائے گی، جس میں عوام کو پولیو کی علامات، اس کے اثرات، اور انسداد کے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ انسداد پولیو مہم کے دوران تمام اضلاع میں ویکسینیشن کی جائے گی تاکہ ہر بچے کو پولیو سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، مہم کی کامیابی کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور کمیونٹی کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے گا۔پنجاب حکومت کا یہ عزم ہے کہ وہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لائے گی اور ہر ممکن کوشش کرے گی تاکہ پولیو کا کوئی بھی کیس دوبارہ سامنے نہ آئے۔
-

افغان طالبان ٹی ٹی پی کے معاملے پر پیشرفت کرنے میں ناکام، بلوچستان میں دہشتگردی پر تشویش ہے،خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے معاملے پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کابل حکومت سے درخواست کی ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے تعاون کرے۔ خواجہ آصف نے علی امین گنڈاپور کے ٹی ٹی پی کے حوالے سے بیان پر طنزیہ ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ دو تین ہزار ٹی ٹی پی کے طالبان کو مالی بنا دیں، تو ہم انہیں کچے کے ڈاکوؤں کا ٹھیکہ بھی دے دیں گے۔خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی نے خود اپنے جلسے کو ملتوی کرنے کے سگنلز دیے تھے، کیونکہ وہ کسی امتحان میں نہیں پڑنا چاہتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ گنڈاپور کے اسٹیبلشمنٹ سے روابط ہیں اور پی ٹی آئی کے اندر مختلف بیانیے گردش کر رہے ہیں۔ ساری گیم تو نفع نقصان کی تھی، اسٹیبلشمنٹ نے انہیں ریلیف دیا تو نقصان تو ان کا ہوا، چار دن ہوگئے یہ اپنی پارٹی میں ایک دوسرے کو مطمئن نہیں کرسکے، پی ٹی آئی اب فیس سیونگ کی کوشش کررہی ہے۔
بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ وہاں پنجابیوں کو بسوں سے اتار کر مارنے کے واقعات کئی سال سے ہو رہے ہیں، جو تاحال بند نہیں ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں سیاسی موجودگی کا فقدان ہے اور نیشنلسٹ جماعتوں کو امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے ایک پڑھی لکھی خاتون کے خودکش حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے رجحانات کو ختم کرنے کے لیے سیاسی اقدامات ضروری ہیں۔ -

اسرائیلی حکومت کا مسجد الاقصیٰ پر یہودی قبضے کی حمایت میں مالی معاونت کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی حکومت نے مسجد الاقصیٰ پر یہودی قابضین کے غیر قانونی دھاوے کی مالی معاونت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت، اسرائیلی وزارت میراث نے یہودی آبادکاروں کی مدد کے لیے پانچ لاکھ 45 ہزار امریکی ڈالر کی خطیر رقم مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔یہودی آبادکاروں کی معاونت کے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اسرائیلی وزارت میراث نے اسرائیلی وزارت قومی سلامتی سے رابطہ قائم کیا ہے تاکہ مسجد الاقصیٰ پر غیر قانونی دھاوے کے لیے پولیس کی اجازت حاصل کی جا سکے۔ اس اقدام کو نہ صرف فلسطینیوں بلکہ بین الاقوامی برادری کی طرف سے شدید مذمت کا سامنا ہے، کیونکہ یہ عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیلی وزیر قومی سلامتی، اتمار بین گویر نے اسرائیلی آرمی ریڈیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی وزارت مسجد الاقصیٰ کے اندر یہودی عبادت گاہ تعمیر کرنے کے منصوبے پر عملدرآمد کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ بین گویر، جو کہ اپنی شدت پسندانہ پالیسیوں اور متنازعہ بیانات کے لیے مشہور ہیں، نے کہا کہ "مسجد الاقصیٰ کے اندر یہودیوں کو عبادت کی اجازت دینا ہمیشہ سے میری پالیسی رہی ہے اور وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو اس پالیسی کا علم تھا۔”
بین گویر کے اس بیان نے فلسطینیوں اور مسلم دنیا میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت کے اس اقدام کا مقصد مسجد الاقصیٰ پر یہودیوں کے تسلط کو مضبوط کرنا اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے۔ مسجد الاقصیٰ مسلمانوں کے لیے دنیا کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے، اور اس کی موجودہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ دنیا بھر کے مسلمان ناقابل قبول قرار دیتے ہیں۔بین گویر کے اس اعلان کے بعد، اسرائیلی حکومت اور بین الاقوامی سطح پر اس پالیسی پر تنقید کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو فلسطینیوں کے مذہبی حقوق پر حملہ قرار دیا ہے اور اسرائیلی حکومت کو اس فیصلے پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اسرائیلی حکومت کے اس اقدام سے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے کشیدہ حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے اس طرح کے اقدامات خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان تنازع کو مزید بھڑکا سکتے ہیں۔اسرائیلی وزیر قومی سلامتی کے بیانات نے نہ صرف اسرائیل بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، اور اس کے ممکنہ نتائج کے بارے میں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
