Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • لاہور پنجاب کا سب سے بڑا شہر: پانچ نئی تحصیلوں کا تاریخی اضافہ

    لاہور پنجاب کا سب سے بڑا شہر: پانچ نئی تحصیلوں کا تاریخی اضافہ

    لاہور صوبہ پنجاب کا سب سے بڑا شہر بن گیا ہے، تحصیلوں کی تعداد میں اضافے کے بعد یہ اہم مقام حاصل ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق، لاہور میں مزید پانچ تحصیلوں کا اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد مجموعی طور پر ضلع لاہور کی تحصیلوں کی تعداد دس ہو گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے لاہور کی نئی پانچ تحصیلوں کی منظوری دی تھی، جس کے بعد بورڈ آف ریونیو نے تحصیلوں میں اضافے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔لاہور میں شامل کی جانے والی نئی پانچ تحصیلوں میں نشتر، واہگہ، اقبال ٹاؤن، راوی، اور صدر شامل ہیں۔ ان تحصیلوں کے قیام کے بعد لاہور کا انتظامی ڈھانچہ مزید مضبوط ہوگیا ہے۔ ان تحصیلوں کی نگرانی کے لیے پانچ اسسٹنٹ کمشنرز کی خدمات کمشنر لاہور کے سپرد کی گئی ہیں، جو کہ نئی تحصیلوں کے امور کو سنبھالیں گے۔
    لاہور کی موجودہ تحصیلوں میں رائیونڈ، ماڈل ٹاؤن، لاہور کینٹ، لاہور سٹی، اور شالیمار شامل تھیں۔ اب ان میں مزید پانچ تحصیلوں کے اضافے کے بعد لاہور تحصیلوں کے اعتبار سے صوبہ پنجاب کا سب سے بڑا شہر بن گیا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے ان تحصیلوں کی منظوری کے بعد لاہور کے شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے اور انتظامی معاملات کو مزید موثر بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سے لاہور کے مختلف علاقوں میں عوامی خدمات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد ممکن ہو سکے گا۔
    لاہور کے شہریوں نے نئی تحصیلوں کے قیام کا خیرمقدم کیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ اس اقدام سے شہر کی ترقی میں مزید تیزی آئے گی۔ نئی تحصیلوں کے قیام سے لاہور کے مختلف علاقوں میں شہریوں کے مسائل کو حل کرنے میں بھی مدد ملے گی، اور عوام کو حکومتی اداروں تک رسائی میں آسانی ہوگی۔بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، نئی تحصیلوں کا قیام فوری طور پر عمل میں آچکا ہے، اور ان کے انتظامی دفاتر بھی جلد ہی مکمل طور پر فعال ہو جائیں گے۔ اس اقدام کو لاہور کی مجموعی ترقی کے لئے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

  • دہشت گرد حملوں کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا،  وزیر اعظم   سےمحسن نقوی اور سرفراز بگٹی کی  ملاقات

    دہشت گرد حملوں کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا، وزیر اعظم سےمحسن نقوی اور سرفراز بگٹی کی ملاقات

    اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ملاقات کی، جس میں بلوچستان کی سکیورٹی اور مجموعی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ملاقات کے دوران بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں اور ان کے اثرات پر خصوصی گفتگو کی گئی۔وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ بلوچستان نے وزیراعظم کو بلوچستان کی موجودہ سکیورٹی صورتحال سے آگاہ کیا اور حالیہ دہشت گرد حملوں کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ان حملوں کو بزدلانہ کارروائیاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان دہشت گرد حملوں کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہماری بہادر سکیورٹی فورسز نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنایا ہے۔ انہوں نے سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ قوم اپنے بہادر سپاہیوں کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولے گی۔
    شہباز شریف نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات کرنے کی ہدایات دیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے حملوں کا سدباب کیا جا سکے۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لئے سکیورٹی فورسز کو تمام تر وسائل اور تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر کام کریں گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ بلوچستان میں دہشت گرد عناصر کو شکست دی جائے۔ملاقات میں بلوچستان کی ترقی، عوامی مسائل اور صوبے میں جاری مختلف منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے بلوچستان کی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

  • جے شاہ بلا مقابلہ آئی سی سی چیئرمین منتخب

    جے شاہ بلا مقابلہ آئی سی سی چیئرمین منتخب

    دبئی: بھارت کے جے شاہ بلا مقابلہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے چیئرمین منتخب ہو گئے ہیں۔ جے شاہ یکم دسمبر 2024 سے باقاعدہ طور پر آئی سی سی کے چیئرمین کے عہدے کا چارج سنبھالیں گے۔ جے شاہ، جو جنوری 2021 سے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے چیئرمین کے طور پر کام کر رہے ہیں، نے آئی سی سی کی چیئرمین شپ کے لئے کاغذات جمع کرانے کا واحد امیدوار تھے۔نومنتخب چیئرمین جے شاہ نے اپنے انتخاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد کرکٹ کے فروغ کے لئے بھرپور اقدامات کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاس اینجلس اولمپکس میں کرکٹ کی شمولیت ایک اہم موقع ہے جس سے کرکٹ کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا اور وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔
    جے شاہ نے کہا، "کرکٹ کے فروغ کے لئے آئی سی سی ٹیم اور رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے پرعزم ہوں۔” انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے اور کرکٹ کے مختلف فارمیٹس کی بقا کے لئے توازن پیدا کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ کرکٹ کو پہلے سے زیادہ مقبول کھیل بنایا جائے۔جے شاہ کی قیادت میں آئی سی سی کی جانب سے کرکٹ کی ترقی اور عالمی سطح پر کرکٹ کے مختلف فارمیٹس کو فروغ دینے کے لئے نئی پالیسیوں اور اقدامات کا اعلان متوقع ہے۔ ان کے انتخاب سے قبل کسی دوسرے امیدوار نے چیئرمین شپ کے لئے کاغذات جمع نہیں کرائے، جس کے باعث جے شاہ بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں۔

  • پی ٹی اے کے ویب مینجمنٹ سسٹم نے  183 ایپس اور 2,369 ویب سائٹس بلاک کر دئے

    پی ٹی اے کے ویب مینجمنٹ سسٹم نے 183 ایپس اور 2,369 ویب سائٹس بلاک کر دئے

    اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے حال ہی میں اپنے ویب مینجمنٹ سسٹم (ڈبلیو ایم ایس) کو فعال کر دیا ہے جس کے ذریعے ویب سائٹس اور موبائل ایپلی کیشنز کو بلاک کرنے کا عمل جاری ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق، ڈبلیو ایم ایس کے ذریعے اب تک 183 موبائل ایپلی کیشنز اور 2,369 ویب سائٹس کو بلاک کیا جا چکا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق، ڈبلیو ایم ایس تکنیکی حدود میں مواد کی نگرانی کر رہا ہے اور خلاف قواعد ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز کو بلاک کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، پی ٹی اے وی پی این (ویلیٹ پرائیویٹ نیٹ ورک) کی وائٹ لسٹنگ کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے تحت 20,437 وی پی این سروس پرووائیڈرز نے پی ٹی اے سے رجسٹریشن کروا لی ہے۔
    پاکستان میں 1,286 وی پی این کمپنیوں نے مجموعی طور پر 19,840 وی پی این رجسٹرڈ کروا لئے ہیں، جن میں فری لانسرز نے بھی وی پی این کی رجسٹریشن کروانی شروع کردی ہے۔ 136 فری لانسرز نے 180 وی پی این کی رجسٹریشن کروا لی ہے جبکہ سافٹ ویئر ہاوسز ایسوسی ایشن (پاشا) نے بھی 417 وی پی این رجسٹرڈ کروا لئے ہیں۔ مجموعی طور پر پی ٹی اے سے 1,422 کمپنیوں نے وی پی این کی رجسٹریشن کروا لی ہے۔حکومتی ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی اے وی پی این کی وائٹ لسٹنگ کے لئے وزارت آئی ٹی، پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ اور فری لانسرز کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ پی ٹی اے نے بتایا ہے کہ پیکا ایکٹ کا نفاذ تب ہوگا جب وی پی این کا غیر قانونی استعمال رکے گا۔
    ڈبلیو ایم ایس کے تحت اب تک بلاک کی گئی موبائل ایپلی کیشنز میں 435 اینڈرائڈ اور 34 ایپل ایپلی کیشنز شامل ہیں۔ یہ ایپلی کیشنز اسلام مخالف مواد، غیر اخلاقی مواد اور فراڈ میں ملوث ہونے کی شکایات پر بلاک کی گئی ہیں۔پی ٹی اے نے اپنے اعلامیہ میں بتایا کہ ویب مینجمنٹ سسٹم اور وی پی این کی وائٹ لسٹنگ کا عمل 2010 سے جاری ہے اور اس کا مقصد غیر قانونی مواد اور سروسز کو روکنا ہے تاکہ صارفین کو محفوظ انٹرنیٹ فراہم کیا جا سکے۔

  • بلوچستان کے حالیہ واقعات انٹیلی جنس کی ناکامی ہیں: سینیٹر شبلی فراز

    بلوچستان کے حالیہ واقعات انٹیلی جنس کی ناکامی ہیں: سینیٹر شبلی فراز

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر شبلی فراز نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کو انٹیلی جنس کی ناکامی قرار دیتے ہوئے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ بلوچستان میں ہونے والے واقعات واضح طور پر انٹیلی جنس کی ناکامی کی عکاسی کرتے ہیں۔شبلی فراز نے کہا کہ بلوچستان کا موجودہ ماحول نہ تو صوبے کے حق میں ہے اور نہ ہی پورے پاکستان کے لیے مفید ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان میں جو واقعات پیش آئے ہیں، ان کا براہ راست تعلق ملک کی سیکیورٹی اور استحکام سے ہے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں حالیہ دنوں میں 1400 کلومیٹر کے علاقے میں مربوط حملے کیے گئے، جس پر وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس پر وضاحت دیں کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت ایسے حملوں کو روکنے میں کیوں ناکام رہی ہے اور سیکیورٹی ادارے اس حوالے سے کیا اقدامات کر رہے ہیں۔سینیٹر شبلی فراز نے اپنی تقریر میں حکومت کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح یہ حکومت بنائی گئی ہے، وہ قانونی جواز سے محروم ہے اور اس کے نتیجے میں ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کا براہ راست تعلق معیشت سے ہوتا ہے، اور اس قسم کی صورتحال میں ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔
    انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی تشدد کے راستے پر نہیں چلنا چاہتی اور مسائل کا سیاسی حل چاہتی ہے۔ تاہم، انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو دیوار سے لگانے کے لیے قانون سازی کر رہی ہے، جس سے ملک کے سیاسی ماحول میں مزید تلخی پیدا ہو رہی ہے۔شبلی فراز نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسحاق ڈار ان سے پہلے مشورہ کرتے تو وہ انہیں سیاست میں آنے سے منع کرتے، کیونکہ وہ ایک ماہر معیشت نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ایک بینکر رہ چکے ہیں اور اس لیے معیشت کے مسائل کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔پی ٹی آئی سینیٹر نے کہا کہ وزیر خزانہ جب سے عہدہ سنبھالا ہے، تب سے مختلف ملکوں سے صرف قرضے اور رول اوور مانگنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی یہ پالیسی ملک کو مزید مشکلات میں دھکیل رہی ہے اور عوام کے مسائل میں اضافہ کر رہی ہے۔ شبلی فراز نے زور دیا کہ حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے اور ملک کے سیاسی اور معاشی مسائل کا حل سیاسی طور پر تلاش کرنا چاہیے۔

  • دہشت گردی کی موجودہ لہر کے پیچھے کوئی جائز مطالبہ نہیں ہے جو دوسروں کی جان لینے پر مجبور کرے، عرفان صدیقی

    دہشت گردی کی موجودہ لہر کے پیچھے کوئی جائز مطالبہ نہیں ہے جو دوسروں کی جان لینے پر مجبور کرے، عرفان صدیقی

    اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر گہرے افسوس اور تنقید کا اظہار کیا ہے اور نیشنل ایکشن پلان کی ناکامی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر صدیقی نے کہا کہ دہشت گردی کی موجودہ لہر کے پیچھے کوئی جائز مطالبہ نہیں ہے جو دوسروں کی جان لینے پر مجبور کرے۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کو 10 سال گزر چکے ہیں، اور سوال یہ ہے کہ ان منصوبے کے نکات پر کتنا عمل درآمد ہوا؟ ان کی عدم تکمیل کی وجہ سے ہم آج اس صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان میں ایک ہی رات میں جتنی لاشیں گریں، کیا یہ صورتحال جنگوں میں بھی دیکھنے کو نہیں ملتی؟ اس کو کس کھاتے میں ڈالیں گے؟
    مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ موجودہ حالات میں مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے اور بات چیت کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے، لیکن بات چیت کی شرائط ہونی چاہئیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ جس جگہ بات چیت ہو، وہاں پاکستان کا پرچم نصب ہونا چاہیے تاکہ قوم کی یکجہتی اور خودمختاری کو اجاگر کیا جا سکے۔سینیٹر صدیقی نے مزید کہا کہ پاکستان کے دشمن دہشت گردوں کو وسائل، پیسہ، اور ہتھیار فراہم کر رہے ہیں، جس کے باعث دہشت گردی کی صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔ انہوں نے ایک مؤثر حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کی کمیٹی بنائی جائے جو قابل عمل تجاویز مرتب کرے اور ان تجاویز کی روشنی میں دہشت گردی کے مسئلے کا حل تلاش کرے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوراً اقدامات کیے جائیں اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے ایک جامع منصوبہ بنایا جائے تاکہ ملک کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے ملک کی سلامتی کے لیے قومی اتحاد اور مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اگر ہم نے بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو ملک مزید مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے۔

  • عوام حکمرانوں کی مفت بجلی اور عیاشیوں کے خرچے مزید برداشت نہیں کرسکتے،حافظ نعیم الرحمان

    عوام حکمرانوں کی مفت بجلی اور عیاشیوں کے خرچے مزید برداشت نہیں کرسکتے،حافظ نعیم الرحمان

    کراچی: امیر جماعت اسلامی، حافظ نعیم الرحمان نے ملک بھر میں چترال سے لے کر کراچی تک کل ایک کامیاب ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اس ہڑتال کا مقصد حکومت کی تاجروں کے خلاف پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے اپنے بیان میں حکومت کی تاجر دشمن سکیموں پر سخت تنقید کی اور کہا کہ حکومت تاجر دوست کے نام پر ایسی پالیسیاں متعارف کرا رہی ہے جو دراصل تاجروں کے مفادات کے خلاف ہیں۔ انہوں نے تاجروں سے اپیل کی کہ وہ حکومتی دھوکے میں نہ آئیں اور صرف وہی کام کریں جو ملک اور قوم کے مفاد میں ہو۔
    حکمرانوں کی مراعات پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکمران اپنی عیش و عشرت چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں، اور عوام اب ان کی بڑی گاڑیوں اور مفت بجلی کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام حکمرانوں کی مفت بجلی اور عیاشیوں کے خرچے مزید برداشت نہیں کرسکتے۔تاجروں کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاجر ٹیکس دینے کو تیار ہیں، لیکن مارکیٹوں کی بنیاد پر ٹیکسوں کا تعین کرنا انہیں منظور نہیں۔ انہوں نے جاگیرداروں پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا اور حکمران طبقے کو اپنے خرچے کم کرنے کا مشورہ دیا۔آئی پی پیز (انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کے معاہدوں کے حوالے سے، حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر ان معاہدوں کو ختم کیا جائے تو تاجروں اور عوام کو خود بخود ریلیف ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ کل کی ہڑتال حکومت کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کرے گی اور اسے پیچھے ہٹنا پڑے گا۔
    امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ کل کی ہڑتال کے بعد تاجروں کے ساتھ مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی تاجروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ان کے حقوق کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ملک گیر ہڑتال کی کامیابی کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمان پرامید نظر آئے اور انہوں نے اس بات کا یقین دلایا کہ تاجر برادری اپنے اور عوام کے مفاد میں حکومت کے خلاف اس ہڑتال میں بھرپور حصہ لے گی۔

  • صدر زرداری سے وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ملاقات، سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال

    صدر زرداری سے وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ملاقات، سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال

    اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی اہم ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان کی سیکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس ملاقات میں بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر بھی بریفنگ دی گئی، جس میں ان واقعات کے محرکات اور ان کے تدارک کے لیے ممکنہ اقدامات پر غور کیا گیا۔ شرکاء نے بلوچستان میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے ملاقات کے دوران بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ صوبے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

    صدر مملکت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بلوچستان کے عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے امن کا قیام ضروری ہے، اور اس کے لیے حکومت کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ملاقات میں وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا اور اس حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے صدر مملکت کو یقین دلایا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث حکومت اور سیکیورٹی ادارے مزید سخت اقدامات کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس حوالے سے حکومت کی مکمل حمایت کا یقین دلایا اور سیکیورٹی اداروں کو اپنی کوششیں تیز کرنے کی ہدایت کی۔

  • موجودہ مہنگائی میں یوٹیلٹی اسٹورز کو بند کرنے کا فیصلہ غیر مناسب اور ظالمانہ ہے، شازیہ مری

    موجودہ مہنگائی میں یوٹیلٹی اسٹورز کو بند کرنے کا فیصلہ غیر مناسب اور ظالمانہ ہے، شازیہ مری

    اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے حکومت کے یوٹیلیٹی اسٹورز بند کرنے کے فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ظالمانہ اور افسوسناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلے کرنے سے پہلے غور و فکر، بحث اور عوام کی مشکلات کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں یوٹیلیٹی اسٹورز جیسے ادارے کو بند کرنا عوام دشمنی کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز ملک کے عوام کو سستی اشیاء خوردونوش فراہم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اور اسے بند کرنے کا فیصلہ غیر مناسب اور ظالمانہ ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کو قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تقریباً پچاس سال قبل عوام کی ضروریات کے پیش نظر قائم کیا تھا۔ شازیہ مری نے کہا کہ اگر حکومت واقعی عوام کی خدمت کرنا چاہتی ہے تو اسے اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لینا چاہیے۔شازیہ مری نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوام کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فیصلے پر دوبارہ غور کرے اور یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش سے پیدا ہونے والی مشکلات کا ادراک کرے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں عوام کو سستی اشیاء کی فراہمی جاری رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

  • ملک میں سیاسی استحکام نہ ہونے پر بلوچستان جیسے واقعات کا خدشہ ہے، شاہد خاقان عباسی

    ملک میں سیاسی استحکام نہ ہونے پر بلوچستان جیسے واقعات کا خدشہ ہے، شاہد خاقان عباسی

    اسلام آباد: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک میں سیاسی استحکام قائم نہ ہوا تو بلوچستان جیسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے، جس کے اثرات پورے ملک پر پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں کاروبار رکا ہوا ہے اور عوام بے چینی کا شکار ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی استحکام کے بغیر کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا خوف ہے کہ ملک دوبارہ 2013 کی صورتحال کی طرف نہ چلا جائے، جہاں ہر روز دھماکے ہوتے تھے اور امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب تھی۔شاہد خاقان عباسی نے یہ بات اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور مختلف مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے مسئلے کو نظر انداز کرتے ہوئے ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کی بحث چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا اور امکان ہے کہ خود ججز اس قانون کو رد کر دیں گے۔ ان کے مطابق، کسی کو ذاتی فائدہ پہنچانے کے اقدامات سے ملک کا نقصان ہوتا ہے اور اس سے قومی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔
    شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں سب سے پہلے سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ ضروری ہے، کیونکہ موجودہ مسائل کا حل سیاسی جماعتوں کو مل کر تلاش کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ آج کے حالات میں ہمیں اپنے اختلافات کو بھلا کر سیاسی استحکام کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر ملک کی بہتری کے لیے کام کریں، کیونکہ یہی ملک کی ترقی کا واحد راستہ ہے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں ماضی سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ان چیلنجز سے نکالنے کے لیے ہمیں آئین کی بالادستی کو تسلیم کرنا ہوگا اور اس کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے، کیونکہ ملک کی ترقی کا واحد راستہ آئین کا راستہ ہے۔شاہد خاقان عباسی نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم نے مل کر کام نہ کیا تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں اور ملک دوبارہ اسی عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے جو ماضی میں دیکھنے کو ملا تھا۔ ان کے مطابق، سیاسی استحکام کے بغیر معیشت بھی بہتر نہیں ہو سکتی اور عوام کی حالت بھی بہتر نہیں ہو گی۔انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ اگر سیاسی جماعتیں مل کر کام کریں تو ملک کو موجودہ بحران سے نکالا جا سکتا ہے اور ایک روشن مستقبل کی جانب گامزن کیا جا سکتا ہے۔