Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پی این ایس یرموک کا عمان کا دورہ: پاک بحریہ کی جانب سے علاقائی امن و استحکام کے لیے اہم بحری مشقیں

    پی این ایس یرموک کا عمان کا دورہ: پاک بحریہ کی جانب سے علاقائی امن و استحکام کے لیے اہم بحری مشقیں

    اسلام آباد (نامہ نگار) پاک بحریہ کے جنگی جہاز پی این ایس یرموک نے ریجنل میری ٹائم سکیورٹی پٹرول کے دوران عمان کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد بحری افواج کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینا، سمندر میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کرنا اور علاقائی امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا تھا۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق پی این ایس یرموک نے عمان کی رائل نیوی کے جنگی جہاز کے ساتھ اہم بحری مشقوں میں حصہ لیا۔ ان مشقوں کا مقصد دونوں بحری افواج کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنا اور بحری سلامتی کے حوالے سے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا تھا۔دورانِ مشق، دونوں افواج نے سمندر میں مختلف آپریشنل تکنیکس کا مظاہرہ کیا، جن میں غیر قانونی سرگرمیوں جیسے کہ سمندری قزاقی، اسمگلنگ اور دیگر جرائم کی روک تھام شامل تھی۔ ان مشقوں کے ذریعے دونوں بحری افواج نے اپنی مہارت اور تجربات کا تبادلہ کیا، جس سے نہ صرف باہمی تعاون میں اضافہ ہوا بلکہ سمندر میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لئے نئی راہیں بھی ہموار ہوئیں۔
    پی این ایس یرموک کے دورہ عمان کے دوران، جہاز کے کمانڈنگ آفیسر نے عمانی عسکری حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت ہوئی۔آئی ایس پی آر کے ترجمان نے اس موقع پر کہا کہ پاک بحریہ کے جنگی جہاز سمندر میں نظم و نسق برقرار رکھنے کے لئے ریجنل میری ٹائم سکیورٹی پٹرول پر باقاعدگی سے تعینات ہوتے ہیں۔ عمان کا یہ دورہ اور اس دوران ہونے والی بحری مشقیں، پاک بحریہ کی جانب سے علاقائی استحکام، بین الاقوامی تعاون اور بحری صلاحیتوں کے فروغ کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ پاک بحریہ دیگر بحری افواج کے ساتھ مل کر خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لئے مستقل بنیادوں پر مشقیں کرتی ہے۔ یہ مشقیں نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی بحری سلامتی کو فروغ دینے کے لئے اہم ہیں۔پی این ایس یرموک کا عمان کا دورہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاک بحریہ علاقائی اور عالمی سطح پر بحری امن و امان کے فروغ کے لئے کتنی مستعد اور پرعزم ہے۔ اس قسم کی مشقیں نہ صرف پاک بحریہ کی صلاحیتوں کو نکھارتی ہیں بلکہ خطے میں دیگر بحری افواج کے ساتھ تعلقات کو بھی مضبوط کرتی ہیں۔

  • تاجر دوست اسکیم واپس نہیں ہوگی.چیئرمین ایف بی آر

    تاجر دوست اسکیم واپس نہیں ہوگی.چیئرمین ایف بی آر

    چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال نے کراچی میں تاجروں کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے دوران تاجر دوست اسکیم کے حوالے سے اپنا واضح موقف پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجر دوست اسکیم کسی صورت واپس نہیں ہوگی اور اس اسکیم کو تاجروں کے مکمل تعاون کے ساتھ نافذ کیا جائے گا۔چیئرمین ایف بی آر نے تاجروں کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے تمام جائز مطالبات پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ ریٹ پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے، اور چھوٹی دکانوں پر غیرضروری بوجھ ڈالنے سے گریز کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ چھوٹے تاجروں پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے اور ان کی مشکلات کا بھرپور انداز میں حل کیا جائے۔
    راشد محمود لنگڑیال نے مزید کہا کہ ایڈوانس انکم ٹیکس کے نظام کو صاف و شفاف بنانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ تاجر برادری کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایف بی آر کا مقصد تاجروں کے ساتھ ایک مثبت اور تعاون پر مبنی ماحول قائم کرنا ہے۔ملاقات کے دوران، چیئرمین ایف بی آر نے تاجروں سے ان کے مسائل اور خدشات سنے اور ان کے حل کے لیے فوری اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر تاجروں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں میں تبدیلیاں کرے گا اور مارکیٹ کی موجودہ ضروریات کے مطابق اقدامات اٹھائے گا۔یہ ملاقات ایف بی آر اور تاجر برادری کے درمیان ایک موثر رابطے کی علامت ہے اور اس بات کا عہد کرتی ہے کہ دونوں فریقین مل کر ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کام کریں گے۔

  • صدر آصف علی زرداری اور پیپلز لبریشن آرمی کے کمانڈر جنرل لی کیاو منگ کی ملاقات

    صدر آصف علی زرداری اور پیپلز لبریشن آرمی کے کمانڈر جنرل لی کیاو منگ کی ملاقات

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کے کمانڈر جنرل لی کیاو منگ کے ساتھ ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ ملاقات کے دوران صدر زرداری نے دونوں ممالک کے عوامی اور ثقافتی روابط بڑھانے پر بھی زور دیا اور چین کے ساتھ پاکستان کے مضبوط تعلقات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ چین پاکستان کا ایک قابل اعتماد اور عظیم دوست ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان سات دہائیوں پر محیط تاریخی تعلقات ہیں، اور دونوں ممالک کو مل کر عالمی چیلنجز کا سامنا کرنا چاہیے۔ صدر زرداری نے اپنے گزشتہ دور صدارت میں پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چینی زبان سیکھنے کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے عوامی تعلقات میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین کے دشمن نہیں چاہتے کہ دوطرفہ تعلقات ترقی پذیر ہوں، لہذا دونوں ممالک کو مشترکہ چیلنجز پر قابو پانے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔

    جنرل لی کیاو منگ نے ملاقات کے دوران دہشت گردی کے خلاف مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی اور جانی نقصان پر پاکستان کی حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو دہشت گردی کے خلاف ایک مشترکہ حکمت عملی اپنانی چاہیے تاکہ خطے میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔صدر آصف علی زرداری نے اس موقع پر جنرل لی کیاو منگ کو پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون بڑھانے میں ان کی خدمات کے اعتراف میں نشان امتیاز (ملٹری) کا اعزاز دیا۔ جنرل لی نے اس اعزاز پر صدر مملکت کا شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان موجودہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی امید ظاہر کی۔یہ ملاقات پاک چین تعلقات کے فروغ اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور اقتصادی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہیں۔

  • بدقسمتی سے آئین کی طرح نیشنل ایکشن پلان پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ ایمل ولی خان

    بدقسمتی سے آئین کی طرح نیشنل ایکشن پلان پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ ایمل ولی خان

    سربراہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) ایمل ولی خان نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ ہمارا دل دھڑکتا ہے، اور بدقسمتی سے آئین کی طرح نیشنل ایکشن پلان پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان کو ایک بہترین کاغذ کا ٹکڑا قرار دیا لیکن کہا کہ عملی اقدامات نہ ہونے کے باعث اس کا فائدہ نہیں ہو سکا۔ایمل ولی خان نے اپنی تقریر کے دوران دہشت گردی اور انتہا پسندی کے فروغ پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جہاد کے نام پر فروغ دیا گیا، جس کے نتیجے میں ملک کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے ملک کو داؤ پر لگا دیا ہے اور اپنی سرزمین کو بیرونی مفادات کے لیے استعمال ہونے دیا۔انہوں نے امریکہ کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے امریکن جہاد کو پروموٹ کیا اور اپنی قوم کے بچوں کو استعمال کیا۔ اس کے بدلے میں ہمیں لاکھوں ڈالرز ملے، لیکن اس کے نتائج ہمارے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوئے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ اگر ہم پاکستان میں دہشت گردی کی بات کریں تو 10 فیصد دہشت گردی زمینی ہے جبکہ 90 فیصد دماغی دہشت گردی ہے۔
    انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردوں کو رہا کرنے کے حوالے سے سوچنا ہوگا کہ آیا وہ رہائی کے مستحق تھے یا نہیں۔ایمل ولی خان نے نیشنل ایکشن پلان پر عدم عملدرآمد کے حوالے سے کہا کہ یہ منصوبہ ایک بہترین دستاویز ہے، لیکن اسے محض ایک کاغذ کا ٹکڑا بنادیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے ملک کو جو نقصانات ہوئے ہیں، انہیں بھلایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ ایمل ولی خان نے خبردار کیا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام اور دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر ہمیں مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ کل کا کسی کو نہیں پتا کون اپوزیشن میں ہوگا اور کون حکومت میں، لیکن ہمیں اپنے فیصلے اور اقدامات ملک کے مفاد میں کرنے ہوں گے تاکہ آئندہ نسلوں کو محفوظ مستقبل فراہم کیا جا سکے۔

  • آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر قرض کی حتمی منظوری میں تاخیر ، بیرونی مالی معاونت سست روی کا شکار

    آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر قرض کی حتمی منظوری میں تاخیر ، بیرونی مالی معاونت سست روی کا شکار

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 7 ارب ڈالر قرض کی حتمی منظوری میں تاخیر کے باعث پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک کو ملنے والی بیرونی مالی معاونت میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کے مطابق، جولائی 2024 کے دوران پاکستان کو صرف 43 کروڑ 63 لاکھ ڈالر کی بیرونی مالی معاونت حاصل ہوئی ہے، جو کہ رواں مالی سال کے لیے مقررہ 19 ارب 21 کروڑ ڈالر کے ہدف کے مقابلے میں صرف 2.2 فیصد ہے۔ یہ صورتحال پچھلے مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں بھی کمزور رہی، جب پاکستان کو 2 ارب 89 کروڑ ڈالر کا بیرونی قرض حاصل ہوا تھا۔
    دستاویزات کے مطابق، جولائی میں نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے ذریعے 12 کروڑ 77 لاکھ ڈالر موصول ہوئے، جبکہ عالمی مالیاتی اداروں نے مجموعی طور پر 20 کروڑ 10 لاکھ ڈالر قرض فراہم کیا۔ اس دوران مختلف ممالک نے 10 کروڑ 76 لاکھ ڈالر فراہم کیے، جن میں عالمی بینک کی جانب سے 11 کروڑ 18 لاکھ 80 ہزار ڈالر اور چین کی طرف سے 9 کروڑ 67 لاکھ 60 ہزار ڈالر شامل ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے 5 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سے زائد کی رقم فراہم کی جبکہ انٹرنیشنل بینک فار ری کنسٹریکشن اینڈ ڈویلپمنٹ (IBRD) نے 2 کروڑ ڈالر سے زائد کا قرض فراہم کیا۔ جرمنی نے 35 لاکھ ڈالر اور سعودی عرب نے 26 لاکھ 90 ہزار ڈالر کا قرض فراہم کیا۔ اس کے علاوہ، پاکستان کو اس عرصے میں ایک کروڑ ڈالر سے زائد کی گرانٹ بھی حاصل ہوئی، جس میں امریکہ نے سب سے زیادہ 44 لاکھ 42 ہزار ڈالر کی گرانٹ فراہم کی۔
    دستاویزات کے مطابق، پاکستان کو مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 42 کروڑ 59 لاکھ ڈالر قرض فراہم کیا گیا ہے۔ تاہم، آئی ایم ایف کے قرض کی حتمی منظوری میں تاخیر کی وجہ سے ملک کی مالی معاونت کی رفتار سست ہو گئی ہے، جو کہ مستقبل میں اقتصادی ترقی اور استحکام کے لیے ایک چیلنج بن سکتا ہے۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت کو فوری طور پر آئی ایم ایف سے قرض کی منظوری کے عمل کو تیز کرنے اور دیگر مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو درپیش مالی مشکلات پر قابو پایا جا سکے اور اقتصادی ترقی کے اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔

  • امریکہ کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، پاکستان کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم

    امریکہ کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، پاکستان کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم

    امریکہ نے گزشتہ روز بلوچستان میں ہونے والے مہلک حملوں کی شدید مذمت کی ہے، جن میں سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں موسٰی خیل کے علاقے میں 23 بے گناہ شہریوں کا سفاکانہ قتل بھی شامل ہے۔امریکی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہمارے دل گزشتہ روز کے حملوں میں جان کی بازی ہارنے والے معصوم افراد کے خاندانوں اور عزیزوں کے ساتھ ہیں۔” بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہے گا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے پاکستانی شراکت داروں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔
    بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشت گردی کسی بھی شکل میں ناقابل قبول ہے اور ایسے بزدلانہ حملے پاکستان اور امریکہ کے درمیان دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔یاد رہے کہ بلوچستان میں ہونے والے یہ حملے نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی باعث تشویش ہیں، اور ایسے واقعات کی مذمت میں عالمی سطح پر بھی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ امریکہ نے ایک بار پھر اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے گا تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • عقیدہ ختم نبوت کے لیے ہماری جان بھی حاضر ہے ،وزیر اعظم شہباز شریف

    عقیدہ ختم نبوت کے لیے ہماری جان بھی حاضر ہے ،وزیر اعظم شہباز شریف

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر علامہ محمد راغب نعیمی سے اہم ملاقات کی، جس میں ملک میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیے گئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران، وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ان کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اس مقصد کے لیے وہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا، "عقیدہ ختم نبوت کے لیے ہماری جان بھی حاضر ہے”۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ امت مسلمہ کو اپنے اخلاق و کردار کو بلند کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ انہوں نے مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک میں امن و استحکام کی ضمانت ہے۔
    چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر علامہ محمد راغب نعیمی نے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور ختم نبوت کے معاملے میں ان کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانے پر ارکان اسمبلی خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ڈاکٹر علامہ راغب نعیمی نے وزیر اعظم کی جانب سے معاشی استحکام و ترقی کے لیے کیے گئے اقدامات پر بھی انہیں خراج تحسین پیش کیا اور ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے ان کے غیر متزلزل عزم کی بھرپور حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو دہشت گردی کی عفریت سے پاک کرنے کے لیے حکومت کے اقدامات قابل تحسین ہیں اور اسلامی نظریاتی کونسل اس مقصد کے لیے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی۔ملاقات میں بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت کی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب ملک کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، اور اس طرح کی گفتگوؤں کا مقصد قوم کو متحد اور مضبوط کرنے کے لیے رہنماؤں کے عزم کو اجاگر کرنا ہے۔ وزیر اعظم کی باتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت ملکی سلامتی اور مذہبی عقائد کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔

  • عمران خان نے انتشار سے بچنے کے لیے جلسہ منسوخ کیا، 8 ستمبر کو تاریخی جلسہ ہو گا، علی امین گنڈا پور

    عمران خان نے انتشار سے بچنے کے لیے جلسہ منسوخ کیا، 8 ستمبر کو تاریخی جلسہ ہو گا، علی امین گنڈا پور

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے انتشار سے بچنے کے لیے جلسہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، انہوں نے عمران خان سے کہا کہ وہ جلسہ کریں گے اور اس کی تمام ذمہ داری قبول کریں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 8 ستمبر کو خیبرپختونخوا میں ایک تاریخی جلسہ منعقد ہوگا۔علی امین گنڈا پور نے کہا کہ فارم 47 کے ذریعے نواز شریف اور آصف علی زرداری کو اقتدار میں بٹھایا گیا، اور یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ یہ کس نے کیا؟ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگوں نے اپنے زور بازو سے اپنے مینڈیٹ کو بچایا ہے اور کسی کے آگے سر نہیں جھکایا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے عمران خان کی قربانیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اس ملک کے سسٹم کو ٹھیک کرنے کے لیے قربانی دے رہے ہیں، اور پی ٹی آئی آئین کی پاسداری کے لیے کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ادارے کی حدود آئین میں مقرر ہیں اور ان حدود کا احترام ضروری ہے
    علی امین گنڈا پور نے مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کے ایمان کے ٹیسٹ کا وقت قریب ہے، اور قومی اسمبلی میں ترمیم کے دوران ان کا امتحان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے مولانا کو دھوکے کے بعد حقیقت سمجھ آگئی ہو۔انہوں نے حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کی لچک دکھانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی پولیس ان کے ساتھ ہوگی اور وہ جلسے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ علی امین گنڈا پور نے مزید کہا کہ فوج میں کرسی کے لیے لابنگ سازش کے زمرے میں آتی ہے اور خواجہ آصف قوم کو مکمل حقیقت بتائیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے پنجاب میں انتخابات نہ کروانے پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور کہا کہ جب تک کچھ لوگوں کو آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت سزا نہیں دی جاتی، ملک میں بہتری ممکن نہیں ہے۔علی امین گنڈا پور نے اسمبلی میں ممکنہ ترمیمات کے حوالے سے بھی سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی غیر آئینی ترمیم قبول نہیں کی جائے گی اور ہمارے آباؤ اجداد نے اس ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں تاکہ آئین کا احترام ہو۔

  • بلوچستان میں شہید ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

    بلوچستان میں شہید ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

    کوئٹہ: بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگردوں کے ساتھ بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ ایف سی ہیڈ کوارٹرز کوئٹہ میں ادا کی گئی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اس نماز جنازہ میں اعلیٰ سول اور عسکری حکام نے شرکت کی، جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، کور کمانڈر بلوچستان، آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ)، اور آئی جی پولیس بھی شامل تھے۔شہداء کی نماز جنازہ کے دوران حاضرین نے ان کے بلند درجات کے لیے دعا کی اور ان کی عظیم قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے شہداء کے لواحقین سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے پیاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے ریاستی ادارے اور عوام ایک ساتھ کھڑے ہیں۔
    آئی ایس پی آر کے مطابق، نماز جنازہ کے بعد شہداء کے جسد خاکی کو ان کے آبائی علاقوں میں روانہ کر دیا گیا، جہاں انہیں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔ شہداء کی عظیم قربانیوں کو یادگار بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور ان کے لواحقین کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔شہداء کی قربانیوں پر پوری قوم فخر کرتی ہے اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس موقع پر عسکری قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کے دشمنوں کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے گی اور بلوچستان میں امن کی بحالی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

  • پاکستانی سیکرٹری خارجہ کی او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت متوقع

    پاکستانی سیکرٹری خارجہ کی او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت متوقع

    اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کے سیکرٹری خارجہ 29 اور 30 اگست کو منعقد ہونے والے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے 50 ویں اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ اس اجلاس میں سیکرٹری خارجہ پاکستانی وفد کی قیادت کرتے ہوئے اہم عالمی اور علاقائی مسائل پر پاکستان کا موقف پیش کریں گے۔اجلاس کے دوران سیکرٹری خارجہ غزہ میں جاری نسل کشی اور وہاں کی سنگین انسانی صورتحال پر پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اس معاملے پر گہری تشویش رکھتا ہے اور عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کرے۔سیکرٹری خارجہ خطے میں اسرائیل کی مہم جوئی اور اس کے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ممکنہ خطرات پر بھی بات کریں گے۔ اس تناظر میں، وہ اس بات پر زور دیں گے کہ اسرائیل کی جانب سے جارحانہ اقدامات نہ صرف فلسطینی عوام کے حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ پورے خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔
    سیکرٹری خارجہ اجلاس میں جموں و کشمیر کے لوگوں کے حق خودارادیت کے متعلق پاکستان کا موقف بھی پیش کریں گے۔ وہ دنیا بھر کے ممالک کو یاد دلائیں گے کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے اور کشمیری عوام کو ان کا حق خودارادیت دیا جانا چاہیے۔علاوہ ازیں، سیکرٹری خارجہ دنیا میں بڑھتی ہوئی اسلامو فوبیا، زینو فوبیا، موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی اور دیگر عصری عالمی چیلنجز پر بھی بات کریں گے۔ ان مسائل پر بات کرتے ہوئے وہ اس بات پر زور دیں گے کہ او آئی سی کے رکن ممالک کو ان چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کرنے چاہئیں۔اجلاس کے دوران سیکرٹری خارجہ او آئی سی کے رکن ممالک کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ دوطرفہ بات چیت بھی کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور علاقائی و عالمی سطح پر تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔پاکستان کی شرکت اس اجلاس میں عالمی اور علاقائی سطح پر پاکستان کے موقف کو اجاگر کرنے اور او آئی سی کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اہم ہوگی۔