اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ ختم نبوت ایمان کا ایک اہم حصہ ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس کے دوران کہی، جو ان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں ختم نبوت سے متعلق کیس میں پارلیمان، علماء، اور دیگر اداروں کے مثبت کردار کی تعریف کی گئی۔ اسپیکر ایاز صادق نے اس موقع پر واضح کیا کہ ختم نبوت کا معاملہ ہمارے عقیدے کا لازمی جز ہے اور اس پر کوئی بھی ترمیم یا تبدیلی ناقابل قبول ہوگی۔اجلاس کے دوران قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے اور دورانیے پر بھی بات چیت ہوئی۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ 26 اگست سے شروع ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس دو ہفتے تک جاری رہے گا۔ تاہم، اگر ضرورت محسوس ہوئی تو اجلاس کے دورانیے میں ردوبدل بھی کیا جا سکتا ہے۔ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اگلے ہفتے بدھ یا جمعرات کو طلب کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم نہیں کی جائے گی، اور اس حوالے سے افواہیں بے بنیاد ہیں۔اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اور مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل تھے جن میں نوید قمر، شیخ آفتاب، شہلا رضا، طارق فضل چوہدری، اعجاز جاکھرانی، نزہت صادق، خالد حسین مگسی، نور عالم خان، شگفتہ جمانی، گوہر علی خان، عامر ڈوگر، سید امین الحق، علی محمد خان، زرتاج گل، اور سید حفیظ الدین شامل ہیں۔اجلاس میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیے جانے والے ممکنہ امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا جائے گا۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پارلیمنٹ کو عوام کے مسائل کے حل کے لیے موثر انداز میں کام کرنا چاہیے اور تمام اراکین کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
Author: صدف ابرار
-

ختم نبوت ایمان کا حصہ ہے کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں، ایاز صادق
-

پاکستان تحریک انصاف نے لاپتہ کارکنوں کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے لاپتہ کارکنوں کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست دائر کر دی ہے۔ درخواست پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب خان کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں 16 گمشدہ کارکنوں کی فہرست بھی شامل کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان 16 کارکنوں میں سے کچھ کو بازیاب کر لیا گیا ہے، جبکہ کچھ ابھی بھی گمشدہ ہیں۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جبری گمشدگیوں کو آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10، 14، 19، اور 25 کے منافی قرار دیا جائے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخصوص سیاسی جماعت سے وابستگی کی بنیاد پر جبری گمشدگی کو آئین کے آرٹیکل 17 اور 25 کے منافی قرار دیا جائے۔
پی ٹی آئی نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کو جبری گمشدگی کے عمل کو فوری طور پر روکنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ عدالت سے یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ پی ٹی آئی کارکنان کی فوری بازیابی کے احکامات جاری کیے جائیں اور فریقین کو کارکنان کی جان و آزادی کا تحفظ کرنے کے احکامات دیے جائیں۔درخواست میں سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری دفاع، آئی جی اسلام آباد، ڈی جی ایف آئی اے، ایس ایس پی سی ٹی ڈی، اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ جبری گمشدگی میں ملوث ایجنسیوں اور افسران کی نشاندہی کی جائے اور جبری گمشدگی کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے بند کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست میں عدالت سے مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فریقین کو جبری گمشدگی کی تحقیقات کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کرے اور اس سلسلے میں ضروری قانونی کارروائی کو یقینی بنائے۔ -

قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے 50 سال مکمل،مولانا فضل الرحمان کا ‘یوم الفتح’ منانے کا اعلان
جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ 7 ستمبر کو قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے 50 سال مکمل ہونے پر ‘یوم الفتح’ منایا جائے گا۔ اس موقع پر مینار پاکستان لاہور میں ایک شاندار گولڈن جوبلی تقریب کا انعقاد کیا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمان نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 7 ستمبر 1974 کو قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا، اور اس موقع پر ‘یوم الفتح’ کے نام سے ایک یادگار تقریب کا انعقاد کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے جے یو آئی، وفاق المدارس اور دیگر دینی تنظیموں کے کارکنان تحریک چلائیں گے۔انہوں نے اس موقع پر 22 اگست کو سپریم کورٹ میں جمیعت علماء اسلام کی جانب سے حاصل کردہ تاریخی فتح کا بھی ذکر کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قوم کو یکجہتی اور ختم نبوت ﷺ کے لیے مینار پاکستان میں جمع ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے موسی خیل، قلات، مستونگ، اور بولان میں دہشت گردی کے حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت پر تعزیت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی اور مرکزی حکومتیں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے میں ناکام رہی ہیں اور اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں۔انہوں نے خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد کھلم کھلا سرگرم ہیں اور ان کے خلاف موثر اقدامات نہ اٹھائے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے دہشت گردی میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کی اور دعا کی کہ اللہ تعالی ان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ -

وزیراعظم شہباز شریف سے چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے بری افواج کے کمانڈر جنرل لی چیاؤ منگ کی ملاقات
چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کی بری افواج کے کمانڈر، جنرل لی چیاؤ منگ، نے آج اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے جنرل لی کا پاکستان آمد پر گرمجوشی سے استقبال کیا اور دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعلقات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔وزیراعظم شہباز شریف نے بات چیت کے دوران کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دہائیوں پر محیط اسٹریٹجک تعلقات ہیں جو کہ دونوں ممالک کی دوستی اور تعاون کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو پاکستان میں وسیع عوامی، سیاسی، اور ادارہ جاتی حمایت حاصل ہے، جو دونوں ممالک کی ترقی اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان اور چین کے دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات خطے میں امن و استحکام کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عسکری سطح پر تبادلوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔جنرل لی چیاؤ منگ نے وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کو ایک آہنی بھائی، اسٹریٹجک پارٹنر، اور قابل اعتماد دوست کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے چین اور پاکستان کی دوطرفہ دوستی کو نئی سطحوں تک بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ جنرل لی نے علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج کے کردار کو سراہتے ہوئے پیپلز لبریشن آرمی کے عزم کا اعادہ کیا کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنے تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے پاک چین دوستی کے مختلف پہلوؤں، خاص طور پر دوطرفہ دفاعی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس بات چیت میں دونوں ممالک کے درمیان موجودہ دفاعی تعلقات کو مضبوط کرنے اور مستقبل میں مشترکہ منصوبوں پر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان موجودہ دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات کی مضبوطی اور نئے امکانات کی تلاش کے لیے اہم قدم ہے، جو کہ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ -

پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے نجکاری، سرمایہ کاری بورڈ اور مواصلات، عبدالعلیم خان، نے پاکستان میں بیلاروس کے سفیر آندرے میٹیلیسا سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے مختلف امور اور دو طرفہ تعاون کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران عبدالعلیم خان نے پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تجارتی تعلقات میں اضافے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تجارتی اور معاشی تعاون کو فروغ دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ افغانستان، چین اور وسط ایشیائی ریاستوں کے ذریعے مشرقی یورپ تک تجارتی رسائی کو وسعت دی جائے۔ اس مقصد کے لیے شاہراہوں کے ذریعے ٹرانزٹ روٹ اور تجارتی کوریڈور کا قیام نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے خوش آئند ثابت ہو سکتا ہے۔
بیلاروس کے سفیر آندرے میٹیلیسا نے پاکستان میں اپنے قیام کو خوشگوار قرار دیا اور کہا کہ پاکستانی عوام انتہائی مہمان نواز ہیں، اور یہاں کے پھل اور سبزیاں بہترین معیار کی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان مواصلات اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مشترکہ منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے مواصلاتی اور ٹرانسپورٹیشن نیٹ ورکس کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو مزید فروغ مل سکے۔عبدالعلیم خان نے بیلاروس کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے دونوں حکومتوں کے درمیان قریبی تعاون ضروری ہے۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں مزید تعاون کے امکانات پر بھی بات چیت کی گئی، اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ -

"اسلام آباد مقامی حکومت ترمیمی بل 2024: یونین کونسلز میں نمائندوں کی تعداد میں اضافہ”
قومی اسمبلی نے اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود ”وفاقی دارالحکومت اسلام آباد مقامی حکومت ترمیمی بل 2024“ کو کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔ اس بل کے تحت اسلام آباد کی یونین کونسلوں کی سطح پر منتخب نمائندوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کا مقصد اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور عوامی نمائندگی میں اضافہ ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں یہ بل وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم نزیر تارڑ نے پیش کیا۔ بل کے متن کے مطابق اسلام آباد بلدیاتی انتخابات ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے یونین کونسل کی سطح پر منتخب نمائندوں کی تعداد کو بڑھایا گیا ہے۔ اس سے قبل یونین کونسل میں صرف چیئرمین اور وائس چیئرمین کے عہدے تھے، تاہم اب نئے ترمیمی بل کے مطابق، چیئرمین اور وائس چیئرمین کے ساتھ ساتھ پندرہ مزید نمائندے بھی منتخب ہوں گے۔
نئے بل کے مطابق، یونین کونسل میں چیئرمین اور وائس چیئرمین کے علاوہ نو ممبرز یونین کونسل بھی منتخب کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ یونین کونسل کی سطح پر ایک کسان یا مزدور، ایک اقلیت، اور ایک نوجوان کو بھی منتخب کیا جائے گا۔ مزید برآں، یونین کونسل کی سطح پر تین خواتین بھی منتخب کی جائیں گی، جس سے کل پندرہ نمائندے ووٹ لے کر منتخب ہوں گے۔بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ یونین کونسل سطح پر زیادہ افراد کی نمائندگی سے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہوگی۔ جتنے زیادہ بلدیاتی نمائندے یونین کونسل سطح پر ہوں گے، اتنے زیادہ عوام سے رابطے میں رہیں گے، اور عوامی مسائل کے حل میں تیزی آئے گی۔
بل کے مطابق جنرل سیٹوں پر امیدواروں کا انتخاب براہ راست ہوگا، جبکہ جنرل کونسل کے امیدواروں کے انتخاب کے لیے خفیہ رائے شماری کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ انتخابی عمل کی تکمیل کے بعد یونین کونسل کا سیکرٹری اجلاس بلائے گا، جس میں چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب کیا جائے گا۔یاد رہے کہ اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 میں جاری کیا گیا تھا، اور اسلام آباد میں بلدیاتی حکومت کی مدت 14 فروری 2021 کو ختم ہوگئی تھی۔ الیکشن ایکٹ کی شق 219 کے تحت، چار ماہ میں انتخابات کرانا لازمی ہوتا ہے۔ اس ترمیمی بل کے ذریعے حکومت نے اسلام آباد کے بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے اور عوامی نمائندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ -

ریاست مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے، دہشت گردوں کا نظریہ مسلط نہیں ہونے دیں گے.سرفراز بگٹی
بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے حالیہ دہشت گردانہ حملوں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے قوم کو یقین دلایا ہے کہ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ نیوز کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات کے حملوں میں دہشت گردوں نے بزدلانہ طریقے سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 38 افراد شہید ہوئے۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردوں نے مختلف علاقوں میں بسوں کو روکا، مسافروں کی شناخت کی اور انہیں بے دردی سے قتل کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ حملے کسی خاص قوم یا زبان کے خلاف نہیں تھے بلکہ دہشت گردوں نے پاکستانیوں کو نشانہ بنایا۔ وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردوں کا مقصد بلوچستان میں امن و امان کو خراب کرنا اور عوام کو خوفزدہ کرنا ہے، لیکن حکومت اور فورسز ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے فوری ردعمل دکھاتے ہوئے 21 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔ انہوں نے دہشت گردوں کو چیلنج کیا کہ اگر وہ واقعی بہادر ہیں تو پہاڑوں میں بھاگنے کے بجائے میدان میں مقابلہ کریں۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت دہشت گردوں کے خلاف سخت اقدامات کرے گی اور بلوچستان کو کسی صورت تقسیم ہونے نہیں دے گی۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ بندوق کے ذریعے بلوچستان کو توڑنا دہشت گردوں کی خام خیالی ہے اور یہ خیال ایک ہزار سال میں بھی پورا نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کی جنگ صرف فوج نہیں بلکہ ہر شہری کی ہے، اور ہر پاکستانی کو اس جنگ میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ "ہم سب نے مل کر دہشت گردی کے خلاف لڑائی لڑنی ہے،” وزیراعلیٰ نے کہا۔
وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے سہولت کاروں اور ہمدردوں کو بھی منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ مقامات پر سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان مقابلہ جاری ہے، اور ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔سرفراز بگٹی نے ایک بار پھر دہشت گردوں کو سرنڈر کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ جو سرنڈر کرنا چاہتا ہے اور مذاکرات کے لیے تیار ہے، اس کے لیے حکومت کے دروازے کھلے ہیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ جو لوگ دہشت گردی کے راستے پر چل رہے ہیں، ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے مسنگ پرسنز کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے 84 فیصد کیسز حل کر لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ناراض بلوچ” کی اصطلاح میڈیا کی پیداوار ہے، اور جو لوگ بندوق اٹھا کر لوگوں کو مارنا چاہتے ہیں، انہیں ناراض کہنا درست نہیں۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو سمجھنا چاہیے کہ یہ دہشت گردی منظم طور پر ریاست کے خلاف سازش ہے، اور اسے کسی صورت کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا۔سرفراز بگٹی نے بلوچ نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردوں کے پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں اور دہشت گردوں کے خلاف حکومتی کارروائیوں کی حمایت کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پروپیگنڈا ٹولز کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا اور بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت دہشت گردوں کے خلاف ہر ممکن کارروائی کرے گی اور بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں مزید سختی لائی جائے گی اور ان کے سہولت کاروں اور ہمدردوں کو بھی کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
یہاں پر یہ واضح ہو گیا کہ بلوچستان حکومت اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں اور بلوچستان کے عوام کو دہشت گردی کے اس عفریت سے نجات دلانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ -

یوٹیلیٹی اسٹورز یونین کی سیکریٹری صنعت و پیداوار سے ملاقات، ڈیڈلاک برقرار، معاملات وزیراعظم کے سامنے پیش کیے جائیں گے
اسلام آباد: یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے ملازمین کی نمائندہ تنظیم، یوٹیلیٹی اسٹورز یونین کا وفد، سیکریٹری صنعت و پیداوار سیف انجم سے ملاقات کے لیے اسلام آباد پہنچا۔ اس اہم ملاقات میں ملازمین کے مطالبات اور ادارے کے مستقبل کے حوالے سے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، تاہم کچھ معاملات پر دونوں فریقین کے درمیان ڈیڈلاک برقرار رہا۔ذرائع کے مطابق، یوٹیلیٹی اسٹورز یونین کے وفد نے ملاقات کے دوران سیکریٹری صنعت و پیداوار سیف انجم کے سامنے اپنے مطالبات پیش کیے، جن میں یوٹیلیٹی اسٹورز کی ممکنہ بندش کا فیصلہ واپس لینے، ملازمین کے حقوق کی حفاظت، اور ادارے کی خود مختاری کو برقرار رکھنے کے حوالے سے اہم امور شامل تھے۔ سیکریٹری سیف انجم نے وفد کی باتوں کو غور سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ ان مطالبات کو وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے پیش کیا جائے گا، تاکہ ان پر اعلیٰ سطح پر غور کیا جا سکے۔
یوٹیلیٹی اسٹورز یونین کے صدر، انور زیب نے واضح کیا کہ یونین کے مطالبات عوام اور ملازمین کے حقوق کی حفاظت کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "اگرچہ ہمیں حکومت کی طرف سے سبسڈی نہیں ملتی، پھر بھی ہم ادارے کو احسن طریقے سے چلا سکتے ہیں۔ یوٹیلیٹی اسٹورز وفاقی بجٹ پر بوجھ نہیں ہیں، بلکہ یہ عوامی فلاح کے لیے قائم کردہ ایک اہم ادارہ ہے جو پچھلے 53 سالوں سے عوام کی خدمت میں مصروف ہے۔انور زیب نے مزید کہا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن حکومت سے کوئی فنڈز نہیں لیتی اور اپنے تمام اخراجات خود برداشت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن ہر سال حکومت کو اربوں روپے کے ٹیکسز ادا کرتی ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ادارہ خود انحصاری کی بنیاد پر قائم ہے اور کسی بیرونی امداد کے بغیر اپنے وسائل سے کام کر رہا ہے۔
یوٹیلیٹی اسٹورز یونین کے صدر نے حکومت کے ممکنہ بندش کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "حکومت کو اس فیصلے پر فوری نظرثانی کرنی چاہیے اور عوامی مفاد میں یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش کا فیصلہ واپس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز عوام کو کم قیمتوں پر معیاری اشیاء فراہم کرتے ہیں، اور اگر یہ ادارہ بند ہوتا ہے تو اس کا براہ راست اثر عوام پر پڑے گا، خصوصاً ان لوگوں پر جو اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لیے یوٹیلیٹی اسٹورز پر انحصار کرتے ہیں۔ذرائع کے مطابق، یوٹیلیٹی اسٹورز یونین اور سیکریٹری صنعت و پیداوار کے درمیان مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ بھی منعقد ہوگا، جس میں مزید امور پر بات چیت کی جائے گی اور کوشش کی جائے گی کہ معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکے۔ یہ مذاکرات آئندہ چند روز میں ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد حتمی فیصلے کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔
یوٹیلیٹی اسٹورز یونین نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ادارے کی بقاء اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ انور زیب نے کہا کہ "ہم اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور عوام کے حق میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس اہم مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور عوامی مفاد میں یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کی حمایت کرے۔اس صورت حال میں عوام کی جانب سے بھی مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز عوام کو کم قیمتوں پر معیاری اشیاء فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی بندش سے غریب عوام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس ادارے کو برقرار رکھے اور اس کی ترقی کے لیے مزید اقدامات کرے۔
اب تمام نظریں وزیراعظم شہباز شریف پر لگی ہیں، جو یوٹیلیٹی اسٹورز یونین کے مطالبات کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔ یہ فیصلہ نہ صرف یوٹیلیٹی اسٹورز کے مستقبل کے لیے اہم ہوگا بلکہ عوامی فلاح و بہبود کے حوالے سے بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔اس ملاقات اور مذاکرات کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ حکومت عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مثبت اور عوام دوست فیصلہ کرے گی۔ -

بجلی کی قیمتیں ناقابل برداشت، عوام پٹرول ٹیکسز کے بوجھ تلے دب گئے، لیاقت بلوچ
لاہور: نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے عوام پر ٹیکسز کا بوجھ ڈال کر پٹرول کو ناقابل استعمال بنا دیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 28 اگست کو پورے ملک میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہو گی، جو عوام کا اپنا فیصلہ ہے اور تاجر برادری نے اس ہڑتال کی مکمل حمایت کی ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملک کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد، جن میں تاجر برادری، نجی اور سرکاری ملازمین شامل ہیں، نے متفقہ طور پر اس ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام کو کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا، جس کے باعث عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے اس ہڑتال کو روکنے کی کوشش کی تو اس کے نتیجے میں ملک میں انارکی پیدا ہو سکتی ہے۔
لیاقت بلوچ نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی قیمتیں ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکی ہیں، اور پٹرول، جو عوام کے لیے سستا ہو سکتا تھا، ٹیکسز کے بوجھ تلے دب کر ناقابل استعمال بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو بلیک میل کر رہی ہیں، جس سے عوام کے مسائل میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔لیاقت بلوچ نے یاد دلایا کہ جماعت اسلامی نے 14 دنوں تک دھرنا دیا تھا، جس کے دوران حکومت کے ساتھ مذاکرات ہوئے اور ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ آئی پی پیز (آئیندہ پیداوار کی پلانٹس) کے معاملات پر نظر ثانی کی جائے گی اور 30 دن کے اندر بجلی اور پٹرول کی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا جو ان کی اصل قیمتوں کے مطابق ہوں۔ تاہم، لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت نے اس معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا، اور جماعت اسلامی کے دھرنے کو تسلیم کرنے کے باوجود، حکومت نے عوام کے مسائل کو نظر انداز کیا۔
لیاقت بلوچ نے تاجر برادری، دکانداروں اور ایکسپورٹرز پر عائد پابندیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان پابندیوں کو ختم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر شٹر ڈاؤن ہڑتال کریں اور ایک پلیٹ فارم پر آکر اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کریں۔ لیاقت بلوچ نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اس معاہدے پر عمل درآمد نہ کیا تو جماعت اسلامی ملک گیر احتجاج کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دے گی، جس میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ بھی شامل ہو سکتا ہے۔لیاقت بلوچ نے اس بات پر زور دیا کہ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور حکومت کو مجبور کرے گی کہ وہ عوام کے مسائل کا حل نکالے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو جماعت اسلامی پورے ملک سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرے گی اور حکومت کو معاہدے پر عمل درآمد کے لیے مجبور کرے گی۔
لیاقت بلوچ کے اس بیان کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ جماعت اسلامی حکومت کے خلاف اپنی تحریک کو مزید تیز کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے عوام کے مسائل کو اٹھانے اور حکومت کو ان مسائل کے حل کے لیے دباؤ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے دھرنا موخر کیا تھا، لیکن اب اگر حکومت نے عوام کے مسائل کو حل کرنے میں سنجیدگی نہیں دکھائی تو جماعت اسلامی ایک بار پھر عوام کی آواز بن کر میدان میں اترے گی۔یہ ہڑتال اور احتجاج حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں، اور اس کا اثر ملک کی سیاسی صورتحال پر بھی پڑ سکتا ہے۔ عوام کی طرف سے اس ہڑتال کی بھرپور حمایت حکومت کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے، اور حکومت کو اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ -

وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں بجلی کے بلوں میں ریلیف کا آغاز ہو گیا ، عظمی بخاری
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں بجلی کے بلوں میں ریلیف کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس کی تصدیق صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ایک اہم اعلان کے ذریعے کی ہے۔ اس اقدام کو پنجاب کے شہریوں کے لیے بڑی خوشخبری قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر موجودہ معاشی حالات میں جب بجلی کے بلوں میں اضافے نے عوام کو مشکلات میں ڈال رکھا ہے۔وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بجلی کے بلوں میں ریلیف کے حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے کیے گئے وعدے کی تکمیل پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے پنجاب کے عوام سے جو وعدہ کیا تھا، وہ آج پورا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا، "الحمدللہ، ہماری وزیراعلیٰ عوام کو ہر ممکن حد تک ریلیف فراہم کر رہی ہیں، اور بجلی کے بلوں میں یہ ریلیف اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔”
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ حکومت پنجاب نے بجلی کے بلوں میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے، جس کا مقصد لوگوں کے مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت، کم آمدنی والے طبقے کے لیے بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے، تاکہ وہ موجودہ معاشی مشکلات میں کسی حد تک ریلیف محسوس کر سکیں۔پنجاب کے مختلف شہروں سے عوام کی جانب سے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ان کے لیے بڑی راحت کا باعث بنا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی نے زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ عوام نے وزیراعلیٰ مریم نواز اور ان کی حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں بھی ایسے عوام دوست اقدامات جاری رہیں گے۔
عظمیٰ بخاری نے اس موقع پر مخالفین کی تنقید کا بھی جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین الزام تراشی اور جھوٹ کی سیاست میں مصروف ہیں، جبکہ مریم نواز خدمت کی سیاست کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری حکومت عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے اور عوام کی خدمت کے جذبے کے تحت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ بجلی کے بلوں میں ریلیف کے بعد حکومت پنجاب مستقبل میں بھی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مزید اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت عوام کی مشکلات کے حل کے لیے ہر ممکن کوششیں جاری رکھے گی۔مجموعی طور پر، بجلی کے بلوں میں ریلیف کا یہ اقدام وزیراعلیٰ مریم نواز کی حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کا عکاس ہے، جس نے پنجاب کے شہریوں کو مالی مشکلات سے نجات دلانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ عوام کی جانب سے اس اقدام کو بھرپور سراہا جا رہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ حکومت آئندہ بھی ایسے اقدامات کرتی رہے گی جو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہوں۔