کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت موجودہ غیر معمولی حالات کے پیش نظر غیر معمولی اقدامات اٹھانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ یہ بیان انہوں نے سینٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں منعقدہ ایک اہم اجلاس کے دوران دیا، جہاں انہوں نے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان کے سدباب کے لیے حکومتی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے سیکیورٹی فورسز کو جدید آلات سے لیس کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے محکمے (CTD)، پولیس، اور لیویز کو جدید ٹیکنالوجی اور آلات فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کر سکیں۔اجلاس کے دوران سرفراز بگٹی کو بلوچستان میں گزشتہ شب ہونے والے دہشت گردی کے حملوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ان حملوں نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ دہشت گردوں نے مختلف مقامات پر حملے کیے، جن میں مجموعی طور پر 37 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
دہشت گردی کا سب سے ہولناک واقعہ موسیٰ خیل میں پیش آیا، جہاں دہشت گردوں نے بسوں اور ٹرکوں کو روک کر مسافروں کو شناخت کے بعد قتل کردیا۔ اس وحشیانہ کارروائی میں 23 افراد کی جانیں ضائع ہو گئیں، جس نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔قلات میں بھی دہشت گردوں نے ایک اور حملہ کیا، جس میں مسلح افراد نے فائرنگ کرکے 10 افراد کو قتل کر دیا۔ اس واقعے میں جاں بحق ہونے والوں میں ایک پولیس کا سب انسپکٹر اور چار لیویز اہلکار بھی شامل ہیں، جو اپنی ڈیوٹی کے دوران دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے دہشت گردی کے ان واقعات کی شدید مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرے گی اور ان کے عزائم کو ناکام بنائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔سرفراز بگٹی کا یہ بیان اس بات کا عکاس ہے کہ بلوچستان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لیے پوری طرح متحرک ہے اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے گی۔
Author: صدف ابرار
-

غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کیلئے تیار ہیں .وزیراعلیٰ بلوچستان
-

ملک کے تمام بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں بتدریج کمی، زرعی اور آبی ذخائر کو خطرات لاحق
پاکستان میں جاری خشک سالی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے باعث ملک کے تمام بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں بتدریج کمی دیکھی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں زرعی پیداوار اور آبی ذخائر کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔دریائے سندھ، جو پاکستان کا سب سے بڑا دریا ہے، میں بھی پانی کے بہاؤ میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ فی الحال صرف گدو اور سکھر بیراج پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 50 ہزار کیوسک سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال ان علاقوں کے لیے کسی حد تک اطمینان بخش ہے جہاں زراعت کا انحصار دریائے سندھ پر ہے، لیکن مجموعی طور پر دریائے سندھ کے دیگر مقامات پر پانی کی کمی کی اطلاعات تشویشناک ہیں۔دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ کم ہو کر 50 ہزار کیوسک رہ گیا ہے، جو کہ خطرناک حد تک کم ہے۔ چناب کے پانی میں کمی سے پنجاب کے کئی اضلاع میں زرعی زمینوں کو پانی کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، جس سے زرعی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
دریائے راوی میں بھی پانی کی کمی واضح طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ جسڑ کے مقام پر پانی کی آمد صرف 2 ہزار 635 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ انتہائی کم سطح پر ہے۔ اس کمی کے باعث راوی کے ارد گرد کے علاقے شدید پانی کی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جس کا براہ راست اثر زراعت اور پینے کے پانی کی دستیابی پر ہوگا۔دریائے ستلج میں بھی پانی کا بہاؤ کم ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ ستلج کا پانی ماضی میں زراعت کے لیے اہم تھا، لیکن موجودہ صورتحال کے پیش نظر اس دریا سے منسلک زمینوں پر زراعت کے لیے پانی کی دستیابی میں نمایاں کمی کا خدشہ ہے۔دریائے جہلم، جو کہ منگلا ڈیم کے لیے پانی فراہم کرتا ہے، میں بھی پانی کی آمد میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 18 ہزار کیوسک رہ گئی ہے، جو کہ ڈیم کی بھرائی کے لیے ناکافی ہو سکتی ہے۔ اس کمی کے باعث منگلا ڈیم کے پوری گنجائش تک نہ بھرنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں پانی کی دستیابی اور بجلی کی پیداوار میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اس کمی کا بنیادی سبب موسمیاتی تبدیلیاں، بارشوں کی کمی اور برف باری میں کمی ہیں۔ اس صورت حال کے پیش نظر حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آبی ذخائر کو محفوظ بنایا جا سکے اور زرعی شعبے کو درپیش خطرات سے بچایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، عوام کو بھی پانی کے استعمال میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے تاکہ دستیاب وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔مجموعی طور پر، دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں کمی نے ملک کے آبی ذخائر اور زرعی پیداوار کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ -

کسی کی خواہش پر استعفیٰ نہیں دونگا ۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی
لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں کا بھرپور طریقے سے جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہمارے 14 جوان شہید ہوئے ہیں، جبکہ جوابی کارروائی میں 21 دہشت گرد ہلاک کیے جاچکے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ بلوچستان حکومت کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ان کا مکمل جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے فورسز نے دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنایا ہے اور ان حملوں کے پیچھے جو منصوبہ بندی کی گئی تھی، اس کو ناکام کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ یہ حملے ایک دم نہیں ہوئے، بلکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے عزائم کچھ اور تھے، لیکن ہماری فورسز نے ان کو پورا ہونے نہیں دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ فوری طور پر سب کچھ ٹھیک ہوجائے، لیکن دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردی میں ملوث تحریک طالبان اور دیگر عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی حملوں کو سپورٹ کررہا ہے وہ دہشت گرد ہے اور اسے کسی بھی صورت میں معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے کسی انٹیلی جنس ادارے کی کوئی ناکامی نہیں ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ناراض بلوچ نہیں بلکہ دہشت گرد ہیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ واقعی ناراض ہیں ان کو منانے کی کوشش کی جائے گی، لیکن دہشت گردوں کے ساتھ کسی بھی صورت میں کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے دیے گئے ان بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف ہر ممکن اقدامات اٹھانے کے لیے پرعزم ہیں اور بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوششیں کی جائیں گی۔
چیئرمین پی سی بی نے کرکٹ کے موجودہ حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے، اور کرکٹ ٹیم کی کارکردگی گزشتہ تین سال سے خراب رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین کا عہدہ سنبھالے ہوئے انہیں ابھی صرف پانچ یا چھ ماہ ہوئے ہیں، اور اس مختصر مدت میں ان کے سامنے دو آپشنز تھے: یا تو وہ فوری نتائج دکھانے کے لیے سطحی اقدامات کر لیتے، یا پھر ایسے کام کرتے جن کے دور رس اثرات ہوں۔ انہوں نے کہا کہ چارج سنبھالنے کے دوسرے یا تیسرے دن ہی کچھ لوگ چاہتے تھے کہ وہ استعفیٰ دے دیں اور چلے جائیں، لیکن وہ کرکٹ کو درست کیے بغیر نہیں جائیں گے اور کسی کی خواہش پر استعفیٰ نہیں دیں گے۔ -

کراچی: لسبیلہ کے قریب تحفظ ختم نبوت کے جلوس پر حملہ، دو افراد جاں بحق، سات زخمی
کراچی کے علاقے لسبیلہ کے قریب تحفظ ختم نبوت کے جلوس پر حملے کے واقعے نے شہر میں خوف و ہراس پھیلادیا۔ اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور سات زخمی ہو گئے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں گلشن صحابہ ایف سی ایریا کا ایک نوجوان بھی شامل ہے، جبکہ دوسری جاں بحق شخص کی شناخت جنید مہدی کے نام سے ہوئی ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی، جس کی وجہ سے لوگوں میں شدید خوف و ہراس کا ماحول بن گیا ہے۔پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے مزید نفری طلب کر لی گئی ہے۔ ایس ایس پی سینٹرل فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور حالات کی نگرانی کرنے لگے۔ پولیس کی موجودگی کے باوجود علاقے میں فائرنگ اور تشدد کے واقعات جاری رہے۔ مشتعل افراد نے گولیمار، گرومندر، پٹیل پاڑہ اور اطراف کی شاہراہوں پر گاڑیاں نذر آتش کردی، جس سے شہریوں میں خوف کی فضا پیدا ہو گئی۔
ترجمان اہلسنت والجماعت نے بتایا کہ ریلی کے کارکنوں پر سیدھی فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق فائرنگ کا سلسلہ مستقل جاری رہا اور ایک گاڑی کو بھی آگ لگا دی گئی۔ فائر بریگیڈ کی گاڑی کو بھی مشتعل ہجوم نے نشانہ بنایا اور گاڑی کو نقصان پہنچایا۔ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے اس تصادم کے بارے میں بیان دیا کہ دو مذہبی جماعتوں، اہلسنت والجماعت اور شعیہ کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی، جب سپاہ صحابہ کی ریلی امام بارگاہ کے قریب سے گزر رہی تھی۔ پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود ہے اور حالات کو قابو میں کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ کشیدہ صورتحال کو کنٹرول کر لیا گیا ہے اور ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ایس ایس پی سینٹرل خود جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور رینجرز کی بھاری نفری بھی پہنچ رہی ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔
سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء النجار نے آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی سے اس واقعے کی فوری رپورٹ طلب کی ہے اور پولیس کو ہدایت دی ہے کہ علاقے میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لئے فوری اقدامات کیے جائیں۔ وزیر داخلہ نے جلاؤ گھیراؤ اور فائرنگ میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا حکم دیا اور کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے اور شہر کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اس واقعے کے بعد شہر میں کشیدگی کی فضا برقرار ہے اور شہریوں میں خوف و ہراس کی کیفیت بڑھتی جا رہی ہے۔ پولیس اور رینجرز کی جانب سے مزید نفری علاقے میں تعینات کر دی گئی ہے تاکہ امن و امان کو بحال کیا جا سکے۔ -

کراچی کار ساز واقعہ:”تم میرے بابا کو نہیں جانتے”
کراچی کے علاقے کارساز میں پیش آنے والے المناک حادثے نے شہریوں کو غم و غصے میں مبتلا کردیا ہے۔ گزشتہ پیر کو ایک بے قابو گاڑی کی ٹکر سے موٹر سائیکل پر سوار باپ اور بیٹی موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ اس حادثے میں مزید پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔اس افسوسناک حادثے کے بعد سے ہی سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے، لیکن حال ہی میں خاتون ڈرائیور کی ایک اور ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے والی اس تازہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رینجرز اہلکاروں نے خاتون ڈرائیور کو مشتعل ہجوم سے بچانے کے لیے اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔
ویڈیو میں ایک آدمی کی آواز بھی سنائی دیتی ہے جو خاتون ڈرائیور پر اپنے غم و غصہ کا اظہار کر رہا ہے۔ اس دوران خاتون ڈرائیور نے اُسے جواب دیتے ہوئے کہا، "تم میرے بابا کو نہیں جانتے”۔ ویڈیو میں یہ جملہ خاتون ڈرائیور کی طرف سے دو سے تین مرتبہ دہرایا گیا، جس سے عوام کے غم و غصے میں مزید اضافہ ہوا ہے۔سوشل میڈیا پر جیسے ہی یہ ویڈیو وائرل ہوئی، عوام نے اپنے ردعمل میں شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔ صارفین نے نہ صرف خاتون ڈرائیور کے رویے پر تنقید کی بلکہ اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں قانون امیروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ غریب عوام کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے۔
عوامی ردعمل میں کئی صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس کیس میں مکمل تحقیقات کی جائیں اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے۔ کچھ صارفین نے اسے امیر اور غریب کے درمیان تفریق کی واضح مثال قرار دیا ہے۔یہ واقعہ اور خاتون ڈرائیور کا رویہ عوامی شعور میں ایک مرتبہ پھر اس بحث کو جنم دے رہا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی صرف غریبوں کے لیے ہے یا امیر طبقے کے افراد بھی اس کے دائرے میں آتے ہیں؟ عوامی مطالبات کے پیش نظر حکومت اور متعلقہ حکام پر دباؤ ہے کہ وہ اس کیس کی منصفانہ تحقیقات کریں اور حادثے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔معاملے کی حساسیت کے پیش نظر، عوام کا غم و غصہ اگرچہ درست اور قابل فہم ہے، تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے تک تحمل اور صبر کا مظاہرہ کیا جائے۔ -

آذربائیجان کے وزیر داخلہ کا پاکستانی ہم منصب کو خط: رحیم یار خان حملے کی مذمت اور شہداء کے اہل خانہ سے ہمدردی
آذربائیجان کے وزیر داخلہ ولایت ایوازوف نے پاکستانی ہم منصب سید محسن نقوی کو ایک خط کے ذریعے رحیم یار خان میں پولیس قافلے پر ہونے والے ڈاکوؤں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس خط میں وزیر داخلہ ولایت ایوازوف نے حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لیے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ولایت ایوازوف نے اپنے خط میں لکھا کہ رحیم یار خان میں پیش آنے والے اس المناک واقعے نے انہیں بے حد افسردہ کیا ہے۔ حملے میں 12 پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ہمیں اس واقعے پر گہرا دکھ پہنچا ہے۔ ہم شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس حملے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں۔
وزیر داخلہ آذربائیجان نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے حملے انسانیت کے خلاف ہیں اور اس وحشیانہ عمل کا ارتکاب کرنے والے افراد انسان کہلانے کے لائق نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "آذربائیجان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مکمل حمایت کرتی ہے اور اس قسم کے غیر انسانی حملے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ولایت ایوازوف نے شہید پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے لکھا کہ آذربائیجان کی حکومت ان کے دکھ درد میں شریک ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "آذربائیجان کی حکومت پاکستان، پاکستانی عوام، شہداء کے اہل خانہ، اور زخمیوں کے ساتھ مکمل ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔
یہ خط آذربائیجان اور پاکستان کے درمیان موجود مضبوط تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کی حمایت کا عملی اظہار ہے۔ ولایت ایوازوف کے اس خط نے پاکستان میں نہ صرف سرکاری سطح پر بلکہ عوامی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جہاں اسے دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون کی ایک اور مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اس واقعے کے بعد وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے بھی آذربائیجان کے وزیر داخلہ کے اس خط کا خیرمقدم کیا اور دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ یہ خط دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ان کی مشترکہ جدوجہد کی عکاسی کرتا ہے۔ -

مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کا پاور شیئرنگ معاہدے پر اتفاق: ترقیاتی فنڈز اور انتظامی تعیناتیاں زیر غور
پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے درمیان پاور شیئرنگ کے اہم معاملے پر رابطہ کمیٹیوں کا اجلاس اختتام پذیر ہوگیا ہے، جس میں مختلف معاہداتی نکات پر تفصیلی مشاورت کے بعد مرحلہ وار عملدرآمد کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس اجلاس کا مقصد دونوں جماعتوں کے درمیان حکومتی اتحاد کو مزید مستحکم کرنا اور ملکی استحکام کے لیے مل کر چلنے کی حکمت عملی طے کرنا تھا۔اجلاس میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے تحریری معاہدے پر مشاورت کی اور اس کے نفاذ کے لیے ایک واضح ٹائم فریم طے کرنے پر اتفاق کیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران معاہدے کے کچھ نکات پر فوری عملدرآمد کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ باقی نکات پر مرحلہ وار عمل کرنے کے لیے ایک مخصوص وقت مقرر کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔ اس کے علاوہ، قانونی سازی، بجٹ اور پالیسیوں کے حوالے سے قبل از وقت پیپلزپارٹی کو اعتماد میں لینے پر بھی دونوں جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پایا گیا۔ مذاکراتی کمیٹی میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، مریم اورنگزیب، ملک احمد خان شریک تھے، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے راجہ پرویز اشرف، ندیم افضل چن، حسن مرتضیٰ اور علی حیدر گیلانی شریک ہوئے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پنجاب کے اضلاع میں جہاں پیپلزپارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، وہاں انتظامی عہدوں پر پیپلزپارٹی کی مرضی کے افسران کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔ اسی طرح، ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کے معاملے میں بھی پیپلزپارٹی کو مسلم لیگ (ن) کے ارکان کے برابر فنڈز دینے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما حسن مرتضیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اجلاس کے نتائج پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے اجلاس میں ایک سب کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کہ تمام مسائل کا جائزہ لے گی اور ہفتے کے اندر چیزوں کو حتمی شکل دے کر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
حسن مرتضیٰ نے اس تاثر کی نفی کی کہ پیپلزپارٹی حکومت میں اپنے حصہ کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ بات درست نہیں ہے، ہم اتحادی حکومت کو مضبوط اور مستحکم بنانا چاہتے ہیں اور اسے آگے لے کر چلنا چاہتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس اجلاس کا مقصد ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور عوام کی خدمت کے لیے مل کر کام کرنے کی حکمت عملی طے کرنا تھا۔اس اجلاس کے نتائج نے ظاہر کیا کہ دونوں جماعتیں مل کر حکومت چلانے اور ملکی استحکام کے لیے متحد ہیں۔ اس معاہدے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں بھی دونوں جماعتوں کے درمیان تعاون میں مزید بہتری آئے گی اور عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جائیں گی۔
-

شان مسعود کا شکست پر اظہارِ مایوسی: "غلطیاں تسلیم کرتے ہیں، مداحوں سے معذرت خواہ ہیں’
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود نے بنگلادیش کے خلاف حالیہ ٹیسٹ میچ میں شکست کے بعد ایک اہم بیان دیا ہے جس میں انہوں نے اس شکست کی وجوہات اور اپنی ٹیم کی کارکردگی پر تفصیلی تبصرہ کیا۔ راولپنڈی میں کھیلے گئے اس ٹیسٹ میچ میں شکست کے بعد شان مسعود نے کھلے دل سے اعتراف کیا کہ ان کی ٹیم نے کچھ اہم غلطیاں کیں جن کا خمیازہ شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا۔شان مسعود نے واضح کیا کہ پوری پاکستانی قوم کی طرح پاکستان کرکٹ ٹیم بھی اس شکست پر مایوس ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم اپنی غلطیاں مانتے ہیں اور ہم مداحوں سے معذرت کرتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ٹیم کو ایک دوسرے کو سہارا دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ آئندہ کے میچز میں بہتر کارکردگی دکھا سکے۔
کپتان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ راولپنڈی ٹیسٹ میں ایک اسپنر کو نہ کھلانا ایک بڑی غلطی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کو تین فاسٹ بالرز اور ایک اسپیشلسٹ اسپنر کے ساتھ میدان میں اترنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کھلاڑیوں کی کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ ہر کھلاڑی نے اپنی بھرپور محنت کی، مگر غلطیاں سب سے ہوتی ہیں۔شان مسعود نے پچ کے معیار پر بھی بات کی اور کہا کہ راولپنڈی ٹیسٹ کے لیے تیار کی گئی وکٹ مقامی ڈومیسٹک کرکٹ سے مختلف تھی۔ ان کے مطابق اس ٹیسٹ میچ کے لیے جو پچ تیار کی گئی تھی، وہ ان کی توقعات کے برعکس تھی۔ انہوں نے کہا کہ پچ میں فاسٹ بولرز کے لیے کافی مدد موجود تھی جس کا فائدہ بنگلادیشی بولرز نے بھرپور طریقے سے اٹھایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ شکست کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی تھی کہ دوسری اننگز میں 117 رنز کی لیڈ اتارنے کے بعد ٹیم ڈرا کا سوچ رہی تھی۔ انہوں نے کہا، "بہت مایوس کن پرفارمنس تھی، بنگلادیش کو ہلکا نہیں لیا گیا، بنگلادیش نے ڈسپلنڈ ٹیسٹ کرکٹ کھیلی۔” شان مسعود نے کہا کہ اگر ڈیکلیئریشن سے قبل کچھ مزید رنز کر لیتے تو شاید میچ کا نتیجہ مختلف ہوتا۔شان مسعود نے ٹیم کی گزشتہ دس ماہ سے ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیلنے کی حقیقت کو بھی بیان کیا اور کہا کہ اس طویل عرصے کے بعد ٹیم کو ٹیسٹ کرکٹ میں واپس آنا تھا، جس کے لیے کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ میچ کے دوران کئی مواقع ملے تھے جن سے بنگلادیش پر دباؤ ڈالا جا سکتا تھا، مگر ان مواقع کا صحیح استعمال نہیں کیا جا سکا۔آخر میں انہوں نے کہا کہ مستقبل میں سلیکشن کے عمل پر غور و فکر کیا جائے گا تاکہ ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی ٹیم نے اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا عزم کیا ہے اور وہ مستقبل کے میچز میں ان کو دہرانے سے بچنے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ -

جھوٹا بیانیہ بنا کر 9 مئی کی طرح کا ایک اور بحران پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، خواجہ آصف
وزیر دفاع و رہنما مسلم لیگ ن خواجہ محمد آصف نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک جھوٹا بیانیہ بنا کر ملک میں ایک اور 9 مئی برپا کرنے کا پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔خواجہ آصف نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کے سیاسی ماحول میں ہر وقت حرارت برقرار رہتی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حالیہ دنوں میں بشریٰ بی بی اور دیگر رہنماؤں کی میڈیا پر سامنے آنے والی گفتگو نے ملک کے خلوص پر بڑے سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی اور سپرنٹنڈنٹ جیل کی گفتگو کے بارے میں جو باتیں کی گئی ہیں، ان کا کوئی حقیقت نہیں ہے۔ نہ تو بشریٰ بی بی کو زہر دیا جا رہا ہے اور نہ ہی سپرنٹنڈنٹ جیل کے ساتھ کوئی بات چیت ہوئی ہے۔
خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ ایک جھوٹا بیانیہ بنا کر 9 مئی کے واقعات کی طرح کا ایک اور بحران پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے خلاف بغاوت کا بیانیہ بنایا گیا ہے، اور مختلف بین الاقوامی اخبارات میں پیڈ آرٹیکلز چھپوا کر پاکستان کے خلاف سازش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک سیہونی ایجنڈا ہے جس کے تحت کچھ لوگ اقتدار میں آئے ہیں اور انہوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کا ارادہ کیا ہے۔وزیر دفاع نے مزید کہا کہ 9 مئی کی بغاوت کو اللہ نے ناکام کر دیا، مگر ڈیڑھ سال گزر جانے کے باوجود 9 مئی کے مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ اس تصادم میں قانونی اور آئینی اداروں نے بھی ایک پوزیشن لے رکھی ہے۔خواجہ آصف نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تمام بیانیہ ملک مخالف ہے اور حقیقت سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جیلوں کی گفتگو چھپی نہیں رہتی، اور علی امین گنڈا پور کو بزدار نمبر ٹو قرار دیتے ہوئے سواتی صاحب کی اچانک آمد پر بھی سوالات اٹھائے۔ -

پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ بھی ملتوی : ڈی سی لاہور کے خلاف توہین عدالت کی درخواست
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے لاہور میں 27 اگست کو ہونے والے جلسے کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے رہنما شوکت بسرا نے کیا، جنہوں نے مزید کہا کہ پارٹی اب اپنی تمام تر توجہ اسلام آباد میں ہونے والے جلسے پر مرکوز رکھے گی۔شوکت بسرا کے مطابق، پی ٹی آئی نے لاہور جلسے کی نئی تاریخ کا اعلان اسلام آباد جلسے کے بعد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس دوران پارٹی نے ڈی سی لاہور کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا اعلان بھی کردیا ہے۔پارٹی ذرائع کے مطابق، لاہور کی مقامی قیادت میں موجودہ اختلافات کی وجہ سے جلسے کی تیاریاں نہ ہو سکیں۔ تحریک انصاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور کی قیادت کے آپسی اختلافات اور کارکنان کی نالائقی کی وجہ سے جلسے کی تیاریوں میں تاخیر ہوئی۔ لاہور کے کارکنان بھی اپنی قیادت سے ناراض ہیں، جس کی وجہ سے جلسے کی منسوخی کا فیصلہ کیا گیا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پی ٹی آئی نے لاہور میں 27 اگست کو جلسے کے انعقاد کا اعلان کیا تھا، لیکن تاحال انتظامیہ کی جانب سے جلسے کے لیے باضابطہ اجازت نہیں ملی تھی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ڈی سی لاہور کو جلسے کی اجازت کے لیے پانچویں درخواست بھی جمع کرائی گئی تھی، لیکن پھر بھی جلسہ گاہ کی جگہ کے بارے میں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
ڈی سی لاہور کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان
پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کے سینئر نائب صدر اکمل خان باری نے ڈی سی لاہور کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ڈی سی لاہور ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود جلسہ گاہ کی جگہ کے بارے میں آگاہ نہیں کر رہے ہیں۔ اکمل خان نے بتایا کہ عدالتی حکم نامہ کی کاپی بھی ڈی سی لاہور کو فراہم کی جا چکی ہے، لیکن اس کے باوجود جلسے کی اجازت کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔پی ٹی آئی کی قیادت کا ماننا ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے اس تاخیر کا مقصد تحریک انصاف کو جلسہ کرنے سے روکنا ہے، اور یہ عمل ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ لہٰذا، پی ٹی آئی نے ڈی سی لاہور کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پارٹی کے مطابق، لاہور جلسے کی نئی تاریخ کا اعلان اسلام آباد کے جلسے کے بعد کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے کارکنان کو اسلام آباد جلسے کی تیاریوں پر توجہ مرکوز رکھنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ لاہور میں بھی جلد ہی جلسہ ہوگا جس کی تاریخ بعد میں دی جائے گی۔پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور کی قیادت کو متحد کرنے اور کارکنان کے خدشات کو دور کرنے کے لیے کوششیں کی جائیں گی تاکہ آئندہ جلسے کی تیاریوں میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
یاد رہے کہ 22 اگست کو پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں ہونے والے جلسے کو بھی ملتوی کر دیا تھا۔ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کو مختلف شہروں میں جلسوں کی تیاریوں میں مشکلات کا سامنا ہے اور تنظیمی مسائل کے باعث جلسوں کی منصوبہ بندی متاثر ہو رہی ہے۔پی ٹی آئی کی جانب سے ڈی سی لاہور کے خلاف توہین عدالت کی درخواست اور لاہور میں جلسے کی تیاریوں میں مشکلات کے پیش نظر، پارٹی کی حکمت عملی میں ممکنہ تبدیلیاں متوقع ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت کو انتظامی مسائل اور قیادت کے اختلافات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ کے پروگراموں کی منصوبہ بندی میں احتیاط سے کام لینا ہوگا۔پارٹی کے اندرونی معاملات اور انتظامی مسائل کی وجہ سے جلسوں کی تیاریوں میں رکاوٹیں آئیں ہیں، جس کا حل نکالنا پی ٹی آئی کی قیادت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔