Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے بنگلادیش کی پاکستان کے خلاف تاریخی کامیابی کو سراہا

    چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے بنگلادیش کی پاکستان کے خلاف تاریخی کامیابی کو سراہا

    اسلام آباد: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے بنگلادیش کی پاکستان کے خلاف تاریخی کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے بنگلادیش کرکٹ ٹیم کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ بنگلادیش نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور پوری میچ میں بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔پی سی بی چئیر مین محسن نقوی نے کہا کہ بنگلادیش کرکٹ ٹیم نے پاکستان کے خلاف پہلی بار کامیابی حاصل کی ہے، جسے وہ ایک اہم اور تاریخی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، بنگلادیش کی ٹیم نے بہترین کھیل پیش کیا اور اس جیت کے مستحق ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بنگلادیش کرکٹ ٹیم کی کارکردگی قابل تعریف ہے اور انہیں اس کامیابی پر بہت ساری مبارکبادیں دی جاتی ہیں۔محسن نقوی نے پاکستان ٹیم کی کارکردگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے قومی ٹیم اس میچ میں بہتر پرفارم نہیں کر سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم نے جس طرح کھیلنا چاہیے تھا، ویسا کھیل پیش نہیں کیا۔ تاہم، انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی ٹیم اگلے میچ میں بہتر کم بیک کرے گی اور اپنی کارکردگی کو بہتر بنائے گی۔

    راولپنڈی ٹیسٹ میں بنگلادیش نے پاکستان کو 10 وکٹوں سے شکست دے دی۔ اس ٹیسٹ کے دوران پاکستان کی ٹیم دوسری اننگز میں 146 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور بنگلادیش کو جیت کے لیے صرف 30 رنز کا ہدف دیا۔ بنگلادیش نے یہ ہدف بغیر کسی نقصان کے پورا کیا اور اپنی جیت کو یقینی بنایا۔اس تاریخی کامیابی کے بعد بنگلادیش کرکٹ ٹیم کی عالمی کرکٹ میں ایک نئی شناخت بنی ہے۔ پاکستان کے خلاف یہ فتح ان کے کرکٹ کیریئر کی ایک اہم کامیابی ہے، جس نے انہیں عالمی کرکٹ میں ایک مضبوط حریف کے طور پر پیش کیا ہے۔ محسن نقوی کے بیان سے واضح ہے کہ پی سی بی مستقبل میں قومی ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے گا۔ ان کے مطابق، پاکستانی ٹیم کو اپنی کارکردگی میں بہتری لانے کی ضرورت ہے اور انہیں اگلے میچوں میں اپنی پرفارمنس کو بہتر بنانا ہوگا۔

  • پنجاب میں جانوروں کے لیے نادرا کی طرز کا ادارہ: رجسٹریشن کے لیے عملی اقدامات کا آغاز

    پنجاب میں جانوروں کے لیے نادرا کی طرز کا ادارہ: رجسٹریشن کے لیے عملی اقدامات کا آغاز

    لاہور: پنجاب حکومت نے جانوروں کی رجسٹریشن کے لیے نادرا کی طرز کا ایک نیا ادارہ قائم کرنے کے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ محکمہ قانون پنجاب نے اس حوالے سے ضروری نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر کے جانوروں کی عمر، رنگ، نسل، جنس سمیت دیگر تمام خصوصیات کو ڈیٹا بیس میں محفوظ کیا جائے گا۔اس نئے نظام کے تحت ہر جانور کو ایک منفرد رجسٹریشن نمبر اور تصویر والا شناختی ٹیگ جاری کیا جائے گا۔ شناختی ٹیگ میں جانور کے متعلق تمام اہم معلومات شامل ہوں گی، جیسے کہ عمر، رنگ، نسل، اور جنس وغیرہ۔ اس اقدام کا مقصد جانوروں کی بہتر دیکھ بھال اور ان کی شناخت کو منظم انداز میں محفوظ کرنا ہے۔
    پنجاب حکومت نے جانوروں کی رجسٹریشن کے لیے سخت شرائط عائد کی ہیں۔ فارمرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے پاس موجود جانوروں کی ایک ماہ کے اندر رجسٹریشن کروائیں۔ اس کے علاوہ، اگر کوئی نیا جانور خریدا جاتا ہے تو اس کی رجسٹریشن ایک ہفتے کے اندر کرنا لازمی ہوگی۔ نئے پیدا ہونے والے جانوروں کی رجسٹریشن ایک ماہ کے اندر مکمل کی جائے گی۔ ہر جانور کو ایک منفرد شناختی ٹیگ جاری کیا جائے گا، جو کہ جانور کی شناخت کا ایک اہم حصہ ہوگا۔ اس ٹیگ کو مجاز آفیسر کی اجازت کے بغیر نہیں اتارا جا سکے گا۔ جانور کے متعلق تمام معلومات اور ڈیٹا محفوظ رکھا جائے گا تاکہ جانور کی شناخت اور دیگر معاملات میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔
    اس نئے نظام کے تحت جانوروں کی بہتر دیکھ بھال، نگرانی اور انتظام ممکن ہو سکے گا۔ حکومت کے اس اقدام کا مقصد جانوروں کی صحت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ جانوروں کی خرید و فروخت اور نقل و حرکت کو بھی منظم کرنا ہے۔ اس ڈیٹا بیس کی مدد سے نہ صرف جانوروں کی شناخت آسان ہو گی بلکہ مویشی پالنے والوں کے لیے بھی بہتری کے مواقع پیدا ہوں گے۔پنجاب حکومت کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ نیا نظام جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف جانوروں کی شناخت اور رجسٹریشن کا عمل شفاف اور مؤثر ہو گا بلکہ مویشی پالنے والوں کو بھی اپنے جانوروں کی بہتر دیکھ بھال کرنے میں مدد ملے گی۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ جانوروں کی رجسٹریشن کے اس نئے نظام سے صوبے میں جانوروں کی بیماریوں کی روک تھام اور ان کی صحت کے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ، شناختی ٹیگ کی مدد سے جانوروں کی چوری کے واقعات میں بھی کمی کا امکان ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اس نظام کے نفاذ کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ صوبے بھر میں جانوروں کی رجسٹریشن کے عمل میں تیزی آئے گی۔ اس اقدام کے نتیجے میں مویشی پالنے والوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں گی اور جانوروں کی دیکھ بھال کے حوالے سے ایک نیا معیار قائم ہو گا۔حکومت کے اس اقدام کا بنیادی مقصد جانوروں کی فلاح و بہبود اور ان کی شناخت کا محفوظ اور مؤثر نظام قائم کرنا ہے، جو کہ آنے والے وقت میں ملک بھر کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔

  • علیمہ خان کا دورہ پشاور و مردان: عمران خان کی رہائی کے لیے مہم کا اعلان

    علیمہ خان کا دورہ پشاور و مردان: عمران خان کی رہائی کے لیے مہم کا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے سابق وزیراعظم کی رہائی کے لیے مہم چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق علیمہ خان نے گزشتہ روز پشاور اور مردان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جیل میں قید پارٹی کارکنان اور ان کے خاندانوں سے ملاقات کی۔پشاور کے دورے کے دوران علیمہ خان نے پی کے 83 کے علاقے گور گٹھڑی کا دورہ کیا۔ وہاں انہوں نے پارٹی کارکنوں سے ملاقات کی، جنہوں نے پارٹی قیادت اور خاص طور پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے۔ کارکنوں کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت نے انہیں تنہا چھوڑ دیا ہے اور ان کے مسائل کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ اس موقع پر علیمہ خان کے ساتھ پی ٹی آئی کی ایم این اے شاندانہ گلزار اور پارٹی رہنما خدیجہ شاہ بھی موجود تھیں۔

    علیمہ خان نے کارکنوں کی شکایات سننے کے بعد پارٹی قیادت پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے پارٹی قیادت کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کارکنوں کو نظرانداز کرنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے اپنے دورے کے بارے میں وزیراعلیٰ یا کابینہ کے کسی رکن کو بھی اعتماد میں نہیں لیا۔ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بھائی کی رہائی کے لیے خود کارکنوں کے ساتھ مل کر مہم چلائیں گی۔پشاور کے بعد علیمہ خان نے مردان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پارٹی کارکنوں سے ملاقات کی۔ مردان میں بھی علیمہ خان نے پارٹی کارکنوں کی ناراضگی دور کرنے کی کوشش کی اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے مسائل حل کرنے کے لیے وہ ہر ممکن کوشش کریں گی۔ علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی اور وہ خود کارکنوں کے ساتھ مل کر اس مہم کو آگے بڑھائیں گی۔

    علیمہ خان کی جانب سے اعلان کردہ اس مہم کے بعد پی ٹی آئی کے اندر ایک نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے۔ علیمہ خان کے اس اقدام کو پارٹی کے اندر ایک اہم پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ انہوں نے پارٹی قیادت کو نظرانداز کرتے ہوئے کارکنوں کو ساتھ لے کر مہم کا اعلان کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد نہ صرف عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنا ہے بلکہ پارٹی کارکنوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی ناراضگی کو دور کرنا بھی ہے۔سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ علیمہ خان کا یہ قدم پارٹی کے اندرونی معاملات اور کارکنوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر ایک واضح پیغام ہے۔ ان کے اس اقدام سے پارٹی قیادت پر دباؤ بڑھے گا اور عمران خان کی رہائی کے لیے مہم میں تیزی آ سکتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ علیمہ خان کے اس دورے کے بعد پارٹی کارکنوں میں ایک نیا جوش پیدا ہو جو پارٹی کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے میں مدد دے۔علیمہ خان کی اس مہم کے بعد مستقبل قریب میں پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات اور کارکنوں کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے امکانات روشن ہیں۔ اس مہم کا آئندہ کے سیاسی حالات پر کیا اثر پڑے گا، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔

  • سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائلز پر 11 جولائی کی عدالتی کارروائی کا تفصیلی حکم نامہ جاری کر دیا

    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائلز پر 11 جولائی کی عدالتی کارروائی کا تفصیلی حکم نامہ جاری کر دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے 11 جولائی کی عدالتی کارروائی سے متعلق تفصیلی تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے وزارت داخلہ کی جانب سے پرائیویٹ وکیل کے خلاف دائر متفرق درخواست کو مسترد کر دیا۔ تحریری حکم نامے میں عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ گرمیوں کی چھٹیاں آئندہ ہفتے سے شروع ہو رہی تھیں، تاہم درخواست گزاروں نے پرائیویٹ وکیل کے تقرر کے خلاف دلائل دینے پر زیادہ وقت ضائع کیا۔تحریری حکم نامے میں جسٹس شاہد وحید کے اضافی نوٹ کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس میں انہوں نے اٹارنی جنرل کی جانب سے پرائیویٹ وکیل مقرر کرنے کے جواز کی وضاحت کی ہے۔ جسٹس شاہد وحید نے اپنے نوٹ میں کہا کہ اٹارنی جنرل نے کیس کے فوجداری تکنیکی پہلو کے سبب عدالت کی معاونت کے لیے پرائیویٹ وکیل کی خدمات حاصل کیں، جو کہ قابل ستائش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مفاد عامہ کے تحت کسی انفرادی شخص کو بچانے کے بجائے پرائیویٹ وکیل کی تقرری مناسب ہے۔

    کیس کا پس منظر
    فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائل کے خلاف کیس کا آغاز 4 مئی کو ہوا تھا جب سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس شاہد وحید نے اس مقدمے کی جلد سماعت کی ضرورت پر زور دیا۔ جسٹس وحید نے کہا کہ اس مقدمے میں شہریوں کی زندگی اور آزادی کے مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے، جنہیں فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔7 مئی کو فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف کیس کی جلد سماعت کے لیے ایک متفرق درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔ 24 اپریل کو سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائل کو کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل ججز کمیٹی کو واپس بھجوا دی تھی۔8 جولائی کو کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کے گھر کو نذر آتش کرنے کا واقعہ افسوسناک ہے، جو کہ ایک بڑے قومی سانحے سے کم نہیں۔

    مستقبل کی حکمت عملی
    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ اس تحریری حکم نامے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائلز کے معاملے پر قانونی اور آئینی سوالات کو مزید تفصیل سے زیر غور لایا جائے گا۔ اس کیس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، قانونی ماہرین اور عام شہری بھی اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ اس مقدمے کے فیصلے کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔

  • بنگلادیش کی تاریخی فتح، پاکستان کو راولپنڈی ٹیسٹ میں 10 وکٹوں سے  شکست

    بنگلادیش کی تاریخی فتح، پاکستان کو راولپنڈی ٹیسٹ میں 10 وکٹوں سے شکست

    راولپنڈی ٹیسٹ میچ میں بنگلادیش نے پاکستان کو تاریخی شکست دیتے ہوئے دس وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ یہ میچ بنگلادیشی کرکٹ ٹیم کے لیے ایک یادگار لمحہ ثابت ہوا کیونکہ انہوں نے نہ صرف پاکستان کو شکست دی بلکہ ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے اب تک کے سب سے بڑے اسکور کا ریکارڈ بھی بنایا۔

    ٹیسٹ میچ کا پانچواں اور آخری دن:
    پاکستانی ٹیم کی دوسری اننگز کا آغاز ایک وکٹ کے نقصان پر 23 رنز کے ساتھ ہوا تھا، تاہم میچ کے پانچویں دن کی ابتدا ہی پاکستانی ٹیم کے لیے مشکلات کا باعث بنی۔ کپتان شان مسعود نے دن کا آغاز کیا، لیکن وہ زیادہ دیر تک وکٹ پر ٹھہر نہیں سکے اور محض 5 رنز کا اضافہ کرنے کے بعد اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔شان مسعود کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستانی بیٹنگ لائن بالکل بکھر گئی۔ بابر اعظم، جو پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ کا مرکزی ستون سمجھے جاتے ہیں، صرف 22 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ ان کے بعد عبداللہ شفیق نے کچھ مزاحمت دکھائی اور 37 رنز بنائے، مگر وہ بھی زیادہ دیر تک کریز پر نہیں ٹھہر سکے۔ سعود شکیل، جو اپنی بہترین فارم میں دکھائی دے رہے تھے، اس بار صفر پر ہی آؤٹ ہوگئے۔ سلمان علی آغا بھی بغیر کوئی رن بنائے پویلین واپس لوٹ گئے۔پاکستانی ٹیم کو سب سے زیادہ مایوسی محمد رضوان کے آؤٹ ہونے پر ہوئی۔ رضوان نے شاندار 51 رنز بنائے اور ٹیم کو کسی حد تک سنبھالا دیا، لیکن ان کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستانی بیٹنگ لائن مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔ آخری کھلاڑی محمد علی بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے اور اس طرح پاکستان کی پوری ٹیم 146 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

    بنگلادیش کے بالرز کی شاندار کارکردگی:
    بنگلادیش کے بالرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ مہدی حسن میراز نے 4 وکٹیں حاصل کیں اور پاکستانی بیٹنگ لائن کی کمر توڑ دی۔ شکیب الحسن نے بھی تین اہم وکٹیں حاصل کیں جبکہ شورف الاسلام، ناہید حسن، اور حسن محمود نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

    میچ کا چوتھا دن:
    پاکستان کے 448 رنز کے جواب میں بنگلادیشی ٹیم نے اپنی پہلی اننگز میں 565 رنز بنا کر پہلی اننگز میں 117 رنز کی برتری حاصل کی۔ چوتھے دن کا کھیل بنگلادیش کے بلے بازوں کے نام رہا، جنہوں نے پاکستانی بالرز کے خلاف شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔مشفیق الرحیم نے شاندار 191 رنز کی اننگز کھیلی اور بنگلادیش کو ایک مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔ ان کے ساتھ شادمان اسلام نے 93 رنز بنائے اور مہدی حسن میراز نے 77 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔ بنگلادیشی بلے بازوں نے پاکستانی بالرز کے خلاف بے خوف ہوکر کھیل کا مظاہرہ کیا اور ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے خلاف اپنا سب سے بڑا اسکور بنالیا۔

    میچ کا تیسرا دن:
    تیسرے دن بنگلادیش کی ٹیم نے اپنی اننگز کا آغاز 27 رنز پر بغیر کسی نقصان کے کیا۔ پاکستانی بالرز نے شاندار آغاز کیا اور بنگلادیشی اوپنرز ذاکر حسن اور نجم الحسن شنٹو کو جلدی پویلین لوٹا دیا۔ تاہم، شادمان اسلام اور مومن الحق نے پاکستانی بالرز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دونوں نے نصف سنچریاں اسکور کیں۔مومن الحق 50 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ شادمان اسلام نے 93 رنز کی اننگز کھیلی۔ پانچ وکٹیں گرنے کے بعد مشفیق الرحیم اور لٹن داس نے ٹیم کو سنبھالا اور بنگلادیش کا اسکور 316 رنز تک پہنچا دیا۔

    میچ کا دوسرا دن:
    پنڈی اسٹیڈیم میں دوسرے دن پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں 448 رنز بنائے تھے۔ محمد رضوان اور سعود شکیل نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے اپنے اپنے کیریئر کی تیسری سنچریاں اسکور کیں۔ سعود شکیل نے 141 رنز بنائے جبکہ محمد رضوان 171 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔پاکستانی ٹیم نے 141 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 448 رنز بنا کر اپنی اننگز ڈکلیئر کردی۔ بنگلادیش کی جانب سے شریفل اور حسن محمود نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔

    میچ کا پہلا دن:
    بنگلادیش نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا اور پاکستان کے ابتدائی تین کھلاڑیوں کو جلد ہی پویلین بھیج دیا۔ تاہم، صائم ایوب اور سعود شکیل نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کو مشکل صورتحال سے نکالا۔ دونوں بلے بازوں نے نصف سنچریاں اسکور کیں۔پاکستان کے ابتدائی بلے باز عبداللہ شفیق 2 رنز، کپتان شان مسعود 6 رنز اور بابر اعظم صفر پر آؤٹ ہوئے۔ بعد میں صائم ایوب 56 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

    بنگلادیش کی شاندار بیٹنگ اور بالنگ کے سامنے پاکستانی ٹیم بے بس دکھائی دی اور راولپنڈی ٹیسٹ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بنگلادیش نے نہ صرف دس وکٹوں سے فتح حاصل کی بلکہ اپنے ٹیسٹ کرکٹ کے ریکارڈ میں بھی نیا اضافہ کیا۔ پاکستانی ٹیم کو اپنی کارکردگی میں بہتری لانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں بہتر نتائج حاصل کرسکے۔

  • پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات کے خاتمے کے لیے عارف علوی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل

    پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات کے خاتمے کے لیے عارف علوی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات کو ختم کرنے کے لیے پارٹی قیادت نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کی سربراہی سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی کو سونپی گئی ہے۔ یہ اقدام پارٹی میں حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والے اختلافات کو ختم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، تاکہ پارٹی کی اندرونی وحدت اور تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کیا جا سکے۔ذرائع کے مطابق، عارف علوی کی سربراہی میں بنائی گئی اس کمیٹی کا بنیادی مقصد پارٹی کے ان رہنماؤں سے ملاقاتیں کرنا ہے جو اندرونی اختلافات کا شکار ہیں یا جن کے تحفظات ہیں۔ عارف علوی ان رہنماؤں کے تحفظات کو سنے گے اور انہیں دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کمیٹی کو ایک ہفتے کے اندر اندر اپنی تجاویز اور رپورٹ پارٹی قیادت کو پیش کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔
    یہ کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ پارٹی کے اندر کون سے معاملات اور ایشوز اختلافات کا سبب بن رہے ہیں اور انہیں کیسے حل کیا جا سکتا ہے۔ پارٹی کے اندرونی مسائل کو حل کرنے کے لیے یہ کمیٹی مختلف رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کرے گی اور ان کے خیالات اور تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع رپورٹ تیار کرے گی۔یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی کے خیبر پختونخوا چیپٹر میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے، جب سابق صوبائی وزیر شکیل خان کو وزارت سے ہٹایا گیا۔ اس فیصلے کے بعد پارٹی میں مختلف رہنماؤں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے تھے، جنہوں نے پارٹی کی یکجہتی کو متاثر کیا۔ اسی پس منظر میں پارٹی قیادت نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے جو ان اختلافات کو ختم کرنے کے لیے کام کرے۔سابق صدر عارف علوی کو اس کمیٹی کی سربراہی سونپنے کا فیصلہ ان کی پارٹی میں اہمیت اور تجربے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ عارف علوی پارٹی کے سینئر رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے پاس معاملات کو سلجھانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ پارٹی کے اندر اس اقدام کو ایک مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے امید کی جا رہی ہے کہ اندرونی اختلافات کو ختم کر کے پارٹی کو دوبارہ متحد اور مضبوط بنایا جا سکے گا۔

  • پاکستان نے نریندر مودی کو شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے لیے مدعو کر لیا

    پاکستان نے نریندر مودی کو شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے لیے مدعو کر لیا

    اسلام آباد: پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اہم اجلاس کے لیے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اسلام آباد آنے کی باضابطہ دعوت دی ہے۔ یہ اجلاس رواں سال 15 اور 16 اکتوبر کو منعقد ہوگا، اور اس میں تنظیم کے تمام رکن ممالک کے سربراہان کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) ایک اہم علاقائی اتحاد ہے، جس میں چین، روس، بھارت، پاکستان، اور وسطی ایشیا کے دیگر ممالک شامل ہیں۔ اس تنظیم کے اجلاس میں خطے کے اہم مسائل، معاشی تعاون، سکیورٹی، اور دیگر اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔ پاکستان اس مرتبہ SCO اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے اور اس نے تنظیم کے تمام رکن ممالک کے سربراہان کو باضابطہ دعوت نامے ارسال کر دیے ہیں۔پاکستان کی جانب سے پڑوسی ملک بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو بھی اس اہم اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ یہ دعوت ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے، لیکن SCO جیسے فورمز پر مشترکہ مفادات کے تحت دونوں ممالک کی شرکت سے بعض اوقات تنازعات میں نرمی کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
    بھارتی میڈیا کے مطابق، ابھی تک بھارتی حکومت نے پاکستان کی اس دعوت پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بجائے کسی دیگر اعلیٰ سطحی بھارتی وزیر کو کانفرنس میں بھیجے جانے کا امکان زیر غور ہے۔ اگرچہ مودی کے دورہ پاکستان کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے، لیکن ان کی عدم شرکت کی صورت میں ایک سینئر بھارتی وزیر اس اجلاس میں بھارت کی نمائندگی کر سکتا ہے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آخری بار 2015 میں بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اس وقت بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ تھا، لیکن سشما سوراج کی شرکت نے کچھ حد تک دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے دروازے کھولے تھے۔
    شنگھائی تعاون تنظیم کے موجودہ اجلاس کی میزبانی پاکستان کے لیے اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ ایک ایسا موقع فراہم کرتا ہے جس سے علاقائی اور عالمی سطح پر ملک کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ، بھارت سمیت دیگر رکن ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔پاکستان کی جانب سے اس دعوت کو ایک مثبت اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے اہم ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ بھارتی حکومت اس دعوت پر کیا ردعمل دیتی ہے اور آیا نریندر مودی اس موقع پر پاکستان کا دورہ کریں گے یا نہیں۔

  • ہم نے نوازشریف کی قیادت میں پاکستان کو دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بنایا تھا، اسحاق ڈار

    ہم نے نوازشریف کی قیادت میں پاکستان کو دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بنایا تھا، اسحاق ڈار

    لاہور: پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ، اسحاق ڈار، نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران اپنی سیاسی اور معاشی بصیرت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ملک کی ماضی کی معیشتی حالت، موجودہ چیلنجز، اور مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالی۔اسحاق ڈار نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جب نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تو ملک کی حالت انتہائی خستہ حال تھی، اور کچھ علاقوں میں گندگی اور بدانتظامی کی وجہ سے ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ کیچڑ پڑا رہتا تھا۔ تاہم، نواز شریف کی قیادت میں کی گئی ترقیاتی کاموں نے پاکستان کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔اسحاق ڈار نے اپنے اس بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ "جس نے بھی ملک کے ساتھ غداری کی، اس کا انجام بھیانک ہوتا ہے۔” انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی بھی عہدوں کے پیچھے نہیں بھاگے، بلکہ ہمیشہ ملک کی خدمت کو ترجیح دی ہے۔ "اللہ کا فضل ہے کہ پہلے بھی وزیر خزانہ رہا، اور اس بار مجھے کئی مزید ذمہ داریاں ملی ہیں۔”

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف کی قیادت میں پاکستان دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بن گیا تھا، لیکن بعد میں آنے والی حکومتوں کے غلط فیصلوں اور ناقص پالیسیوں کے باعث پاکستان کی معیشت 47ویں نمبر پر پہنچ گئی۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ پچھلے چار سالوں میں پاکستان کو بھنور سے نکلنے کے لیے 15 سال لگنے کی بات کی جا رہی تھی، مگر نواز شریف کی حکومت نے صرف ساڑھے تین سال میں ملک کو مشکلات سے نکالا۔ان کے بقول، "2013 میں گھنٹوں تک لوڈشیڈنگ ہوتی تھی اور ملک دہشتگردی کا شکار تھا، مگر ہم نے ساڑھے تین سال میں اس مسئلے کو حل کیا اور پاکستان کو دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بنا دیا۔” اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سال میں پاکستان کو معاشی طور پر شدید نقصان اٹھانا پڑا۔

    وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ موجودہ وزیر اعظم، شہباز شریف، دن رات تمام محاذوں پر محنت کر رہے ہیں، اور ان کی قیادت میں معیشت کو دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کوششوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے اقدام سے عوام کو بجلی بلوں میں 46 ارب روپے کا ریلیف ملے گا۔اسحاق ڈار نے اپنی سیاسی جدوجہد کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ انہوں نے 1993 میں پہلا ایم این اے کا الیکشن لڑا اور فیصلہ کیا کہ حکومت کا آغاز دربار شریف کے منصوبے سے کیا جائے گا۔ انہوں نے لاہور ویٹرنری ہسپتال کے ساتھ محفل سماع کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ یہ اللہ کے کام ہوتے ہیں، وہ جس سے چاہے کام لیتا ہے۔نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ اللہ کی یکطرفہ مہربانی ہے کہ ہم پر اس نے انعام کیا، ورنہ ہم سب گنہگار ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ ملکی مفاد کو ترجیح دیں گے اور عوام کی خدمت کو اپنا اولین فریضہ سمجھتے ہیں۔

  • قذافی اسٹیڈیم اپ گریڈیشن پراجیکٹ: محسن نقوی نے پیش رفت کا جائزہ لیا

    قذافی اسٹیڈیم اپ گریڈیشن پراجیکٹ: محسن نقوی نے پیش رفت کا جائزہ لیا

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے قذافی اسٹیڈیم میں جاری اپ گریڈیشن پراجیکٹ کی رات گئے تک جاری سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے منصوبے کی تیز رفتار تکمیل کے لیے اہم ہدایات بھی جاری کیں۔قذافی اسٹیڈیم، جو پاکستان کی کرکٹ تاریخ کا ایک اہم مرکز ہے، کی اپ گریڈیشن کا کام رات کے اوقات میں بھی پوری تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے رات گئے اسٹیڈیم کا دورہ کیا اور مختلف شعبوں میں جاری کام کا معائنہ کیا۔ اس دوران انہوں نے بیسمنٹ کی کھدائی کے کام کو خاص طور پر دیکھا اور اس کے معیار اور رفتار کا جائزہ لیا۔
    محسن نقوی نے بیسمنٹ کی کھدائی کے کام کو مزید تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اضافی لیبر اور مشینری کا استعمال کیا جائے تاکہ کام جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اپ گریڈیشن کے اس پراجیکٹ کو مقررہ وقت میں مکمل کرنا ہماری اولین ترجیح ہے، اور اس کے لیے تین شفٹوں میں کام کو جاری رکھا جائے گا۔
    محسن نقوی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لاہور میں ہونے والی بارشوں کے پیش نظر، کام کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنے کے لیے خاص پلاننگ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک چیلنجنگ ٹاسک ہے، لیکن ہماری ٹیم کے پاس اس کو کامیابی سے پورا کرنے کے لیے تمام ضروری صلاحیتیں موجود ہیں۔ انہوں نے پوری ٹیم کو دن رات محنت کرنے کی تاکید کی تاکہ چیمپئنز ٹرافی سے قبل اسٹیڈیم کی اپ گریڈیشن کا کام مکمل ہو جائے۔
    چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کو اس موقع پر فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے حکام نے اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر پیش رفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ قذافی اسٹیڈیم کی اپ گریڈیشن کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، اور جلد ہی اسٹیڈیم کو عالمی معیار کے مطابق تیار کر لیا جائے گا۔اس دورے کے دوران ایف ڈبلیو او، پی سی بی، اور نیسپاک کے متعلقہ حکام بھی موجود تھے، جو اپ گریڈیشن کے مختلف پہلوؤں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ محسن نقوی نے اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ ادارے مل کر کام کریں تاکہ منصوبہ بروقت اور بہترین معیار کے ساتھ مکمل ہو سکے۔
    قذافی اسٹیڈیم کی اپ گریڈیشن پاکستان کی کرکٹ کے لیے ایک اہم منصوبہ ہے، خاص طور پر چیمپئنز ٹرافی جیسے بڑے بین الاقوامی ایونٹس کی میزبانی کے لیے اس کی بروقت تکمیل ضروری ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ اسٹیڈیم کی اپ گریڈیشن سے نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی کرکٹ کی ساکھ کو مزید تقویت ملے گی۔اس دورے کے بعد، محسن نقوی کی ہدایات اور ٹیم کی محنت سے امید کی جا رہی ہے کہ قذافی اسٹیڈیم کا اپ گریڈیشن پراجیکٹ مقررہ وقت میں مکمل ہو جائے گا اور پاکستان ایک اور شاندار بین الاقوامی کرکٹ ایونٹ کی میزبانی کے لیے تیار ہو گا۔

  • بیر سٹر سیف نےعلیمہ خان اور بشریٰ بی بی پر پارٹی قبضے کی خبروں کو بے بنیاد اور جھوٹا  قرار دیا

    بیر سٹر سیف نےعلیمہ خان اور بشریٰ بی بی پر پارٹی قبضے کی خبروں کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیا

    وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ کے حالیہ بیان پر خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے علیمہ خان اور بشریٰ بی بی پر پارٹی قبضے کی خبروں کو بے بنیاد اور جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔بیرسٹر سیف نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت اور انتظامات بانی پی ٹی آئی عمران خان کے زیرِ نگرانی ہیں، اور وہی تمام معاملات خود دیکھ رہے ہیں۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کے حوالے سے جو خبریں گردش کر رہی ہیں، وہ موجودہ حکومت کی نااہلی اور جھوٹ کا ایک حصہ ہیں۔بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے اندر کسی قسم کے اختلافات نہیں ہیں، بلکہ یہ شریف خاندان ہے جس کے اندر شدید اختلافات موجود ہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر عطا تارڑ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شریف خاندان کے اندرونی جھگڑوں سے سب سے زیادہ لطف خود عطا تارڑ اٹھا رہے ہیں، اور وہ ان اختلافات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    بیرسٹر سیف نے کہا کہ شریف خاندان کی آپسی لڑائیوں نے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے شہباز شریف اور نواز شریف کے درمیان اختلافات کو ملکی سیاست کے لیے خطرناک قرار دیا۔ بیرسٹر سیف نے دعویٰ کیا کہ دونوں بھائی میڈیا کے سامنے ایک مختلف چہرہ دکھاتے ہیں، جبکہ اندرونی طور پر ان کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔بیرسٹر سیف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شریف خاندان کے دونوں گروپ پارٹی پر قبضے کی کوشش میں ہیں، اور ان کے اختلافات ملکی سیاست کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کے سامنے دونوں بھائیوں کی باتیں کچھ اور ہوتی ہیں، لیکن اندرونی طور پر وہ ایک دوسرے کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ موجودہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے وہ جھوٹے پروپیگنڈا کا سہارا لے رہی ہے اور پی ٹی آئی کے قائدین کے خلاف بے بنیاد الزامات لگا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہے، اور عمران خان کی قیادت میں پارٹی متحد ہے۔
    آخر میں بیرسٹر سیف نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت پر عوام کا اعتماد ہے اور علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کے حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہیں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان اور حامیوں کو ان جھوٹے پروپیگنڈا کے اثر میں آنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ پارٹی اپنے مقاصد اور منشور پر پوری طرح قائم ہے۔
    بیرسٹر سیف کے اس بیان کے بعد پی ٹی آئی کی صفوں میں ایک نیا حوصلہ پیدا ہوا ہے، اور پارٹی کے حامیوں کو یقین دلایا گیا ہے کہ قیادت مکمل طور پر متحد ہے اور پارٹی کے اندر کوئی داخلی اختلافات نہیں ہیں۔