Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پاکستان کے ترقی پسند شاعر احمد فراز کی 16ویں برسی: ایک عہد ساز شاعر کی یاد

    پاکستان کے ترقی پسند شاعر احمد فراز کی 16ویں برسی: ایک عہد ساز شاعر کی یاد

    مرے غنیم نے مجھ کو پیام بھیجا ہے
    کہ حلقہ زن ہیں مرے گرد لشکری اس کے
    فصیل شہر کے ہر برج ہر منارے پر
    کماں بہ دست ستادہ ہیں عسکری اس کے
    وہ برق لہر بجھا دی گئی ہے جس کی تپش
    وجود خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی
    بچھا دیا گیا بارود اس کے پانی میں
    وہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھی
    سبھی دریدہ دہن اب بدن دریدہ ہوئے
    سپرد دار و رسن سارے سر کشیدہ ہوئے
    مرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا
    جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے
    مرا قلم نہیں اس دزد نیم شب کا رفیق
    جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے
    مرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کی
    جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے
    مرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کی
    جو اپنے چہرے پہ دہرا نقاب رکھتا ہے
    مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
    مرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے
    اسی لیے تو جو لکھا تپاک جاں سے لکھا
    جبھی تو لوچ کماں کا زبان تیر کی ہے
    میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں یقیں ہے مجھے
    کہ یہ حصار ستم کوئی تو گرائے گا
    تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
    مرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا
    سرشت عشق نے افتادگی نہیں پائی
    تو قد سرو نہ بینی و سایہ پیمائی
    آج پاکستان کے معروف اور ترقی پسند شاعر احمد فراز کی 16ویں برسی عقیدت اور احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ احمد فراز، جن کا اصل نام سید احمد شاہ تھا، 12 جنوری 1931 کو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ وہ اردو شاعری کے آسمان پر ایک چمکتا ہوا ستارہ تھے، جن کی روشنی آج بھی لوگوں کے دلوں میں موجود ہے۔ فراز کی شاعری میں محبت، انقلاب، اور انسانی حقوق کی بازگشت ہمیشہ سنائی دیتی ہے۔ احمد فراز نے اپنی تعلیمی زندگی کے دوران ہی شاعری کا آغاز کیا اور اردو، فارسی اور انگریزی ادب میں ماسٹر ڈگریاں حاصل کیں۔ ان کی شاعری میں جہاں ایک طرف رومانوی جذبات کی گہرائی نظر آتی ہے، وہیں دوسری طرف ظلم و ستم کے خلاف انقلابی صدائیں بھی بلند ہوتی ہیں۔ فراز نے معاشرتی ناانصافیوں اور ظلم کے خلاف اپنی شاعری کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، جو انہیں اپنے وقت کے دیگر شاعروں سے منفرد بناتا ہے۔

    مشہور تصانیف
    احمد فراز کی مشہور تصانیف میں "تنہا تنہا””دردِ آشوب””نیافت””شب خون””مرے خواب ریزہ ریزہ اور "جاناں جاناں” شامل ہیں۔ ان کی کتابیں نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں اردو ادب کے شائقین کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ "تنہا تنہا” میں جہاں محبت کے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے، وہیں "دردِ آشوب” میں انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایک شور سنائی دیتا ہے۔احمد فراز کی شاعری کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ صرف دلوں کو چھو لیتی ہے بلکہ دماغ کو بھی جھنجھوڑتی ہے۔ وہ محبت کے شاعر تو تھے ہی، لیکن ان کی شاعری میں ایک بے باکی اور بے خوفی بھی تھی، جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ ان کی نظموں میں ایک طرح کا احتجاج اور بغاوت کا رنگ بھی تھا، جو انہوں نے بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا۔

    احمد فراز کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں کئی بڑے اعزازات سے نوازا گیا۔ ان میں آدم جی ادبی ایوارڈ،ستارہ امتیاز، اور ہلال امتیاز جیسے اہم قومی اعزازات شامل ہیں۔ یہ اعزازات ان کی شاعری کی قدردانی اور ان کے ادبی مقام کو تسلیم کرتے ہیں۔ فراز نے اپنی شاعری کے ذریعے اردو ادب کو نئی بلندیوں تک پہنچایا اور ان کی ادبی وراثت آج بھی زندہ ہے۔

    جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو
    اے جان جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو
    یہ خواب ہے خوشبو ہے کہ جھونکا ہے کہ پل ہے
    یہ دھند ہے بادل ہے کہ سایا ہے کہ تم ہو
    اس دید کی ساعت میں کئی رنگ ہیں لرزاں
    میں ہوں کہ کوئی اور ہے دنیا ہے کہ تم ہو
    دیکھو یہ کسی اور کی آنکھیں ہیں کہ میری
    دیکھوں یہ کسی اور کا چہرہ ہے کہ تم ہو
    اے جان فرازؔ اتنی بھی توفیق کسے تھی
    ہم کو غم ہستی بھی گوارا ہے کہ تم ہو

    احمد فراز کی شاعری آج بھی عوام میں مقبول ہے اور ان کے اشعار مختلف مواقع پر زبان زد عام ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری میں موجود سادگی اور جذبات کی گہرائی نے انہیں ہر عمر کے لوگوں کے دلوں میں جگہ دی ہے۔ فراز کی شخصیت اور شاعری کے حوالے سے مختلف تقاریب، مشاعرے، اور یادگاری نشستیں منعقد کی جاتی ہیں، جہاں ان کے اشعار کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔احمد فراز کی برسی ایک موقع ہے کہ ہم ان کی زندگی اور ادبی خدمات کو یاد کریں اور ان کے پیغام کو آگے بڑھائیں۔ وہ اپنی شاعری کے ذریعے آج بھی ہمارے درمیان زندہ ہیں، اور ان کے اشعار ہمیشہ ہمارے دلوں میں گونجتے رہیں گے۔

    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
    جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

  • اے ٹی ایمز کی بندش کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں.پی  ٹی اے

    اے ٹی ایمز کی بندش کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں.پی ٹی اے

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک میں اے ٹی ایمز کی بندش کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے وضاحت جاری کی ہے۔ پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ اے ٹی ایم نیٹ ورکس کی بندش یا ایل ڈی آئی (لانگ ڈسٹنس اینڈ انٹرنیشنل) نیٹ ورکس کی عدم دستیابی کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔پی ٹی اے حکام نے زور دیا کہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے جو پاکستان کے آئی ٹی اور اے ٹی ایم نیٹ ورکس یا فنانشل سیکٹر کو متاثر کر سکے۔ حالیہ دنوں میں مختلف ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ ملک بھر میں اے ٹی ایمز کی بندش کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں عوام میں تشویش پائی جا رہی تھی۔
    پی ٹی اے نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ میعاد ختم ہونے والے ایل ڈی آئی لائسنسز معطل یا بند نہیں کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق تمام لائسنسز معمول کے مطابق فعال ہیں اور ان کے تحت فراہم کی جانے والی سروسز بلا تعطل جاری ہیں۔ اس حوالے سے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ صارفین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔
    اس سے قبل، سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ ایل ڈی آئی نیٹ ورکس کی عدم دستیابی کے باعث ملک بھر میں اے ٹی ایمز بند ہو سکتی ہیں، جس سے فنانشل سیکٹر اور عوام کی مالی لین دین پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان خبروں کے پھیلنے سے عوام میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی اور مختلف حلقوں میں یہ سوالات اٹھائے جا رہے تھے کہ کیا واقعی اے ٹی ایمز کی بندش ممکن ہے۔پی ٹی اے کی جانب سے جاری کی گئی اس وضاحت نے ان تمام افواہوں کو ختم کر دیا ہے اور عوام کو یقین دلایا ہے کہ ملک کے فنانشل سیکٹر اور آئی ٹی نیٹ ورکس محفوظ ہیں۔ پی ٹی اے حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف تصدیق شدہ معلومات پر یقین کریں۔

  • مکران کوسٹل ہائی وے پر زائرین کی بس کو حادثہ، 11 جاں بحق، اہم سیاسی شخصیات کا اظہار افسوس

    مکران کوسٹل ہائی وے پر زائرین کی بس کو حادثہ، 11 جاں بحق، اہم سیاسی شخصیات کا اظہار افسوس

    مکران کوسٹل ہائی وے پر ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا جہاں زائرین کی بس کھائی میں جا گری، جس کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق اور 25 سے زائد زخمی ہوگئے۔ حادثہ بزی ٹاپ کے قریب پیش آیا، جب بس کے بریک فیل ہو گئے اور وہ بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔پولیس کے مطابق یہ بس ایران سے پنجاب جا رہی تھی اور زائرین کا تعلق پنجاب کے علاقوں لاہور اور گوجرانوالہ سے تھا۔ بس میں موجود افراد ایرانی زیارات سے واپس اپنے گھروں کی طرف روانہ تھے جب یہ المناک واقعہ پیش آیا۔ حادثے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔
    حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، لیویز، اور دیگر ریسکیو ادارے موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی اور بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔یہ حادثہ مکران کوسٹل ہائی وے پر پیش آیا، جو کہ ایک پہاڑی علاقہ ہے اور اس شاہراہ پر کئی خطرناک موڑ ہیں۔ بریک فیل ہونے کے باعث بس بے قابو ہو کر کھائی میں جا گری، جس سے یہ اندوہناک حادثہ پیش آیا۔
    یہ حادثہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل ہی ایران میں ایک اور پاکستانی زائرین کی بس کو حادثہ پیش آیا تھا، جس میں 35 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوئے تھے۔ اُس حادثے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کی میتیں دو روز قبل ایران سے خصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان منتقل کی گئی تھیں۔ یہ مسلسل حادثات زائرین کی حفاظت اور سفری سہولیات کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
    اہم شخصیات کا اظہار افسوس
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے مکران کوسٹل ہائی وے پر پیش آنے والے اس حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے زائرین کے لواحقین سے تعزیت کی اور ان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس المناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے دعائے مغفرت اور زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اس حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "حادثات میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان پر دلی رنج ہوا ہے، جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ جاں بحق افراد کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔” انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی لسبیلہ کے قریب پیش آنے والے اس حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں سے ہمدردی و تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

  • کہوٹہ کے قریب مسافر بس گہری کھائی میں گرنے 25  افراد جاں بحق،

    کہوٹہ کے قریب مسافر بس گہری کھائی میں گرنے 25 افراد جاں بحق،

    کہوٹہ کے قریب ایک افسوسناک حادثے میں مسافر بس گہری کھائی میں جا گری جس کے نتیجے میں25 افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ متعدد زخمی ہیں۔ یہ حادثہ کہوٹہ کے علاقے سون گزاری پل کے مقام پر پیش آیا جب بس آزاد کشمیر سے راولپنڈی جا رہی تھی۔ذرائع کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی بس میں تقریباً 25 مسافر سوار تھے۔ حادثے کی وجوہات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکیں، تاہم یہ واقعہ پہاڑی علاقے میں پیش آیا جس کی وجہ سے بس گہری کھائی میں جا گری۔پولیس اور ریسکیو حکام کو حادثے کے مقام تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ یہ پہاڑی علاقہ ہے اور راستے دشوار گزار ہیں۔ مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں اور میتوں کو بس سے نکالنے کی کوشش کی۔ انہیں قریبی ہسپتال پہنچانے کے لیے مقامی گاڑیاں استعمال کی گئیں۔ریسکیو حکام نے زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا ہے جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب، صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس المناک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کے ساتھ دلی تعزیت کرتے ہوئے ان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ صدر زرداری نے اس حادثے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "دُکھ کی اس گھڑی میں میری ہمدردیاں جاں بحق افراد کے اہلخانہ کے ساتھ ہیں۔”صدر مملکت نے امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور حکام کو ہدایت کی کہ وہ متاثرین کی فوری مدد کریں اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کریں۔یہ حادثہ ایک بار پھر ملک میں ٹریفک حادثات کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے، اور ضرورت اس امر کی ہے کہ حکام ٹرانسپورٹ کے نظام میں بہتری کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ ایسے دلخراش واقعات کا سدباب ہو سکے۔

  • خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کا اجلاس: اندرونی کہانی منظر عام پر

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کا اجلاس: اندرونی کہانی منظر عام پر

    دو روز قبل خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی اندرونی کہانی اب سامنے آ گئی ہے۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کو ایک اقرار نامے پر دستخط کرنے کے لیے کہا گیا۔ یہ اقرار نامہ وزیر اعلیٰ، بانی پی ٹی آئی، اور گڈ گورننس کمیٹی پر اعتماد سے متعلق تھا۔ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں پی ٹی آئی کے 70 سے زیادہ اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی نے شرکت کی۔ تاہم، بعض نمایاں اراکین اسمبلی جیسے عاطف خان، جنید اکبر، شکیل خان اور شہرام ترکئی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، جس نے اس اجلاس کی اہمیت اور اس کے نتائج پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
    اجلاس کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور خیبر پختونخوا کی انتظامی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں کئی اہم معاملات پر بحث ہوئی، جس میں گڈ گورننس کمیٹی کے کردار اور اس کے اراکین کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔ذرائع کے مطابق ایک اہم واقعہ اُس وقت پیش آیا جب رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب نے اقرار نامے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ شیر علی ارباب نے گڈ گورننس کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور کمیٹی کے اراکین پر اعتراضات اٹھائے۔ اُن کے اس اقدام نے اجلاس کے ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا اور پارٹی کے اندرونی اختلافات کو نمایاں کیا۔
    اجلاس میں شکیل خان کی کابینہ سے برطرفی کے معاملے پر بھی بات چیت کی گئی۔ یہ موضوع اجلاس میں گرمجوشی کا باعث بنا اور پارٹی کے اندرونی اختلافات کو مزید اجاگر کیا۔اجلاس کی اندرونی کہانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کے درمیان عدم اتفاق اور گڈ گورننس کمیٹی کے حوالے سے عدم اطمینان پایا جا رہا ہے۔ اس اجلاس کے نتائج مستقبل میں صوبے کی سیاسی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

  • رحیم یار خان میں ڈسٹرکٹ پولیس افسر اور دو سینئر افسران کی تبدیلی، نئے افسران کی تعیناتی

    رحیم یار خان میں ڈسٹرکٹ پولیس افسر اور دو سینئر افسران کی تبدیلی، نئے افسران کی تعیناتی

    رحیم یار خان میں ڈاکوؤں کے حملے میں 12 پولیس اہلکاروں کی شہادت کے بعد، پنجاب پولیس میں اعلیٰ سطح پر بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) رحیم یار خان، ملک عمران، ایڈیشنل ایس پی جاوید اختر جتوئی اور ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم کلیم احمد کو "سی پی او کلوز” کیٹیگری میں شامل کر کے لاہور آئی جی آفس طلب کر لیا گیا ہے۔ ان افسران کی جگہ نئے افسران کی تقرری عمل میں لائی گئی ہے۔یہ تبدیلیاں سانحہ کچہ ماچھکہ کے بعد کی گئی ہیں، جہاں ڈاکوؤں کے ایک شب خون میں 12 پولیس اہلکاروں کو شہید کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے نے پولیس کی کارکردگی اور افسران کی ذمہ داریوں پر سوالات کھڑے کر دیے، جس کے بعد پنجاب پولیس کے اعلیٰ حکام نے فوری اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا۔
    جمعہ کے روز لاہور میں جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق، ڈی پی او رحیم یار خان ملک عمران، ایڈیشنل ایس پی جاوید اختر جتوئی، اور ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم کلیم احمد کو سی پی او کلوز قرار دیا گیا ہے۔ ان تینوں افسران کو لاہور آئی جی آفس میں طلب کیا گیا ہے، جہاں ان سے اس واقعے کے حوالے سے تفصیلات لی جائیں گی اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔رحیم یار خان میں خالی ہونے والی پوسٹوں پر نئے افسران کا تقرر فوری طور پر کی گئی ہے۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق، ایس ایس پی رضوان عمر گوندل کو ڈی پی او رحیم یار خان تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایس ایس پی آپریشنز ملتان ارسلان زاہد کو تبدیل کر کے ایس پی انویسٹیگیشن رحیم یار خان تعینات کیا گیا ہے۔
    اسی طرح، ایس پی انویسٹیگیشن لودھراں ناصر جاوید رانا کو ایس پی رحیم یار خان مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ڈی ایس پی صدر ٹوبہ ٹیک سنگھ سعید احمد کو تبدیل کر کے ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم رحیم یار خان تعینات کیا گیا ہے۔ ان افسران کی فوری تعیناتی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں اور ان پر فوری عمل درآمد بھی کر دیا گیا ہے۔یہ تبدیلیاں اس وقت کی گئی ہیں جب رحیم یار خان میں پولیس پر دباؤ انتہائی بلند سطح پر ہے۔ سانحہ کچہ ماچھکہ کے بعد پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اور یہ تبدیلیاں پولیس کے اندر نظم و ضبط کو برقرار رکھنے اور آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے کی گئی ہیں۔ نئے تعینات ہونے والے افسران کو سختی سے ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ علاقے میں امن و امان بحال کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

  • جلسے کی منسوخی کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی نے اپنی صوابدید پر کیا. بیر سٹر سیف

    جلسے کی منسوخی کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی نے اپنی صوابدید پر کیا. بیر سٹر سیف

    خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے حالیہ جلسے کے حوالے سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔ ان کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ وفاقی وزراء کی جانب سے کیے جانے والے من گھڑت بیانات سے پی ٹی آئی کے کارکنان کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔بیرسٹر سیف نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے جلسے کے دن کی صورتحال سے بانی پی ٹی آئی کو آگاہ کیا تھا، اور جلسے کی منسوخی کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی نے اپنی صوابدید پر کیا۔ اس حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ جلسے کے دن کی کسی بھی ملاقات میں حکومت یا کسی دوسرے ادارے کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔
    بیرسٹر سیف نے وفاقی وزراء کے ان بیانات کی سختی سے تردید کی جس میں کہا گیا تھا کہ جلسے کی منسوخی میں وفاقی حکومت کا کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی افواہیں اور جھوٹے بیانات پی ٹی آئی کارکنوں کا حوصلہ پست کرنے کی کوشش ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ پارٹی کی قیادت نے حالات کا بغور جائزہ لینے کے بعد بانی پی ٹی آئی کے مشورے پر جلسے کی منسوخی کا فیصلہ کیا۔بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان اور قیادت میں مکمل اتحاد اور ہم آہنگی موجود ہے، اور کسی بھی قسم کی افواہوں یا پروپیگنڈے سے پارٹی کے ارکان کو متاثر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کا ہر کارکن اپنی قیادت کے فیصلوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور وہ اپنے مشن کی تکمیل کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔
    خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیاسی ماحول میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بیان بازی اور ایک دوسرے پر الزامات کی جنگ جاری ہے، اور اس صورتحال میں بیرسٹر سیف کا بیان پی ٹی آئی کے مؤقف کو واضح کرنے اور کارکنان کو مطمئن کرنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے وفاقی حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے جلسے کے حوالے سے کیے گئے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلسے کی منسوخی کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی کا ذاتی تھا اور اس میں وفاقی حکومت یا کسی دوسرے ادارے کا کوئی کردار نہیں تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان اپنے مشن پر کاربند ہیں اور انہیں من گھڑت بیانات سے متاثر نہیں کیا جا سکتا۔

  • پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے وفود کی اہم ملاقات، ان ہاؤس تعاون اور پارلیمنٹ میں مشترکہ حکمت عملی پر غور

    پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے وفود کی اہم ملاقات، ان ہاؤس تعاون اور پارلیمنٹ میں مشترکہ حکمت عملی پر غور

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وفد نے اسلام آباد میں جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے وفد سے ایک اہم ملاقات کی، جس میں سیاسی تعاون اور پارلیمنٹ میں مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس ملاقات کے دوران پی ٹی آئی نے جے یو آئی سے ان ہاؤس تعاون کی درخواست کی اور تجویز پیش کی کہ اگر دونوں جماعتیں پارلیمنٹ میں مل کر چلیں تو حکومت کو ٹف ٹائم دیا جا سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق، ملاقات میں ماضی کے مختلف ادوار میں ہونے والی ملاقاتوں کے حوالے سے بھی معاملات زیر بحث آئے۔ پی ٹی آئی کے نمائندوں نے جے یو آئی کی قیادت سے درخواست کی کہ دونوں جماعتیں پارلیمنٹ میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں تاکہ حکومت کے خلاف مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کیا جا سکے۔
    جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی کی اس درخواست کا مثبت انداز میں جواب دیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کی تجاویز پر غور و فکر کے بعد جواب دیا جا سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پارٹی کے اندر مشاورت کے بعد ہی اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں دونوں جماعتوں کے درمیان مزید تعاون بڑھانے کے لیے کمیٹیاں قائم کرنے کی تجاویز بھی دی گئیں۔ ان کمیٹیوں کا مقصد دونوں جماعتوں کے درمیان رابطے بڑھانا اور مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، دونوں جماعتوں کے درمیان موجود فاصلے کم کرنے کی کوششوں پر بھی بات چیت ہوئی، تاکہ سیاسی محاذ پر مشترکہ موقف اپنانا ممکن ہو سکے۔
    اس اہم ملاقات میں پی ٹی آئی کی جانب سے چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، شبلی فراز، اور رؤف حسن شریک ہوئے۔ جے یو آئی کی نمائندگی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا لطف الرحمان، اسلم غوری، اور مولانا امجد خان نے کی، جبکہ کامران مرتضیٰ نے اجلاس میں کوئٹہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
    یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت بلند ہے اور حکومت مخالف جماعتیں پارلیمنٹ میں مشترکہ حکمت عملی اپنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کی اس ملاقات کو سیاسی حلقوں میں بڑی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ اگر دونوں جماعتیں ایک دوسرے کا ساتھ دینے پر آمادہ ہو جاتی ہیں تو حکومت کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ملاقات کے بعد دونوں جماعتوں کے نمائندوں نے میڈیا سے گفتگو سے گریز کیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران مثبت پیشرفت ہوئی ہے اور آنے والے دنوں میں دونوں جماعتوں کے درمیان مزید رابطے اور ملاقاتیں متوقع ہیں۔

  • صدر مملکت نے قومی اسمبلی و سینیٹ کے اجلاس طلب کرلیے

    صدر مملکت نے قومی اسمبلی و سینیٹ کے اجلاس طلب کرلیے

    صدر مملکت آصف زرداری نے قومی اسمبلی کا اجلاس 26 اگست اور سینیٹ کا اجلاس 27 اگست کو طلب کرلیا۔صدر مملکت کی جانب سے طلب کیا جانے والا قومی اسمبلی کا اجلاس 26 اگست بروز پیر شام 5 بجے ہوگا، جبکہ سینیٹ کا اجلاس27 اگست بروز منگل شام 5 بجے ہوگا۔صدر مملکت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس آئین کے آرٹیکل 54 کی ذیلی شق ایک کے تحت طلب کیے ہیں۔

  • لاہور: بالاج ٹیپو قتل کیس، مرکزی ملزم احسن شاہ ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

    لاہور: بالاج ٹیپو قتل کیس، مرکزی ملزم احسن شاہ ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

    لاہور میں بالاج ٹیپو قتل کیس کے مرکزی ملزم احسن شاہ کو اس کے اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک کر دیا گیا۔ سی آئی اے پولیس کے ذرائع کے مطابق، احسن شاہ کو برآمدگی کے لیے شادباغ لیجایا جا رہا تھا جب یہ واقعہ پیش آیا۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ سی آئی اے کی ٹیم احسن شاہ کو برآمدگی کے لیے لے جا رہی تھی کہ اچانک ملزم کے ساتھیوں نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے دوران احسن شاہ شدید زخمی ہو گیا، جب کہ سی آئی اے کی ٹیم معجزانہ طور پر بچ گئی۔پولیس نے بتایا کہ احسن شاہ کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ پولیس کے مطابق، احسن شاہ کو برآمدگی کے دوران ساتھیوں کی مدد سے فرار کرانے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن ان کی فائرنگ نے اُسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
    بالاج ٹیپو قتل کیس کے حوالے سے احسن شاہ کا کردار انتہائی اہم سمجھا جا رہا تھا۔ اس کی ہلاکت کے بعد کیس کی تحقیقات میں نئے چیلنجز سامنے آ سکتے ہیں۔ پولیس نے اس واقعے کے بعد ملزم کے دیگر ساتھیوں کی تلاش تیز کر دی ہے، تاکہ واقعے میں ملوث دیگر ملزمان کو بھی جلد گرفتار کیا جا سکے۔سی آئی اے کے افسران نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ انتہائی خطرناک تھا، اور پولیس ٹیم کو بچانے کے لیے فوری ردعمل دینا پڑا۔ احسن شاہ کی ہلاکت کے بعد کیس کی تحقیقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے پولیس نے نئے سرے سے اقدامات کرنے کا عندیہ دیا ہے۔بالاج ٹیپو قتل کیس میں مزید کارروائی اور تحقیقات کے لیے پولیس نے اپنی تمام تر توجہ ملزم کے باقی ساتھیوں کی گرفتاری پر مرکوز کر لی ہے۔ اس واقعے کے بعد لاہور میں سیکیورٹی اداروں نے اپنے آپریشنز کو مزید مؤثر بنانے کا اعلان کیا ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔