Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی مشیر مشعال یوسفزئی  پی ٹی آئی کور کمیٹی سے فارغ، مشعال یوسفزئی  کی تردید

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی مشیر مشعال یوسفزئی پی ٹی آئی کور کمیٹی سے فارغ، مشعال یوسفزئی کی تردید

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی مشیر مشعال یوسفزئی کو پارٹی امور میں مبینہ مداخلت کی شکایات کے باعث پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کور کمیٹی سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ عمران خان نے مشعال یوسفزئی کو پارٹی امور میں مداخلت نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے انہیں ایک ماہ تک پارٹی معاملات پر میڈیا میں گفتگو سے اجتناب کرنے کا بھی کہا ہے۔ذرائع کے مطابق، عمران خان نے مشعال یوسفزئی کی پارٹی امور میں مداخلت کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے کی ہدایت کی۔ مشعال یوسفزئی کے رویے کا جائزہ لیا جائے گا، اور ان کی خیبرپختونخوا کی کابینہ میں موجودگی پر فیصلہ کیا جائے گا۔
    مشعال یوسفزئی پر الزام ہے کہ انہوں نے پنجاب کی تنظیم میں تبدیلیوں، پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حافظ فرحت عباس کی تبدیلی اور شیر افضل مروت کی پارٹی میں واپسی سے متعلق رائے دی۔ ان الزامات کی وجہ سے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بیگم نے مشعال یوسفزئی کی سیاسی امور میں مداخلت پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا، اور کہا کہ اگر بشریٰ بیگم سیاست سے دور رہتی ہیں تو مشعال یوسفزئی کو بھی سیاست سے اجتناب کرنا چاہیے۔پارٹی کی ایک اہم شخصیت نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اہم معلومات مشعال یوسفزئی کے ذریعے عمران خان تک پہنچاتے ہیں، جس سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ مشعال یوسفزئی بشریٰ بیگم کے قریب ہیں اور وہ پارٹی معاملات میں مداخلت کرتی ہیں۔ بشریٰ بیگم نے اس تاثر پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا، جس کے بعد مشعال یوسفزئی کو کور کمیٹی سے ہٹانے اور پارٹی امور میں مداخلت نہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔

    دوسری جانب، مشعال یوسفزئی نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں عمران خان سے ملاقات کی، جس میں خان صاحب نے انہیں سر پر ہاتھ رکھا اور لیگل اور پارٹی امور پر بات چیت کی۔ مشعال یوسفزئی نے کہا کہ خان صاحب نے انہیں اگنور کرنے کے احکامات دیے اور کچھ ہدایات بھی دیں، لیکن انہوں نے اس بات کا بھی اشارہ کیا کہ کسی بھی پروپیگنڈے سے انہیں متاثر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کا لیڈر عمران خان ہے اور "سچ” ہمیشہ سامنے آئے گا۔

  • حکومت نے علی امین گنڈاپور سے رابطہ کر کے جلسہ منسوخ کرنے کی درخواست کی،بیرسٹر عقیل ملک

    حکومت نے علی امین گنڈاپور سے رابطہ کر کے جلسہ منسوخ کرنے کی درخواست کی،بیرسٹر عقیل ملک

    وزیراعظم کے مشیر بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ حکومت نے سیکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے رابطہ کیا اور ان سے پی ٹی آئی کے مجوزہ جلسے کو منسوخ کرنے کی درخواست کی۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے، بیرسٹر عقیل نے وضاحت کی کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کی ملاقات کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے براہ راست کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
    بیرسٹر عقیل نے مزید کہا کہ حکومت نے سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے علی امین گنڈاپور سے باقاعدہ طور پر رابطہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور کو حالات سے آگاہ کیا گیا اور درخواست کی گئی کہ پی ٹی آئی کے جلسے کو منسوخ کیا جائے۔
    انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے سیکیورٹی کی صورت حال دوبارہ جانچنے کے لیے اگلے دن پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی۔ بیرسٹر عقیل کے مطابق، یہ ملاقات حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی مشترکہ کوشش سے ہوئی تھی۔بیرسٹر عقیل نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ انتظامیہ نے سیکیورٹی صورتحال کی بنیاد پر پی ٹی آئی کو 8 ستمبر کو جلسے کی مشروط اجازت دی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ابھی تک کسی نے این او سی کی توسیع کی درخواست نہیں کی اور نہ ہی کسی توسیع کی اجازت دی گئی ہے۔

  • آئی پی پیز سے معاہدے ختم نہیں ہوں گے، بجلی کی قیمتوں میں جلد کمی کی امید

    آئی پی پیز سے معاہدے ختم نہیں ہوں گے، بجلی کی قیمتوں میں جلد کمی کی امید

    وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ موجود معاہدے ختم کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہی ہے، تاہم قوم کو بجلی کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے دو ماہ کے اندر خوشخبری ملنے کی توقع ہے۔وائس آف امریکہ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اویس لغاری نے واضح کیا کہ مہنگی بجلی کی ذمہ داری آئی پی پیز کی پالیسی پر عائد نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق، ملک کی موجودہ معاشی حالتوں کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بلند ہوئی ہیں، نہ کہ آئی پی پیز کی پالیسیوں کی وجہ سے۔
    اویس لغاری نے وضاحت کی کہ روپے کی گراوٹ کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں 8 روپے فی یونٹ تک بڑھ گئی ہیں، اور اس کا تعلق براہ راست آئی پی پیز کی پالیسیوں سے نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت بجلی کے شعبے میں تنظیم نو کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی، بلکہ انہیں نئی شرائط پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چینی کمپنیوں کے ساتھ موجود معاہدے کو ختم کرنا ممکن نہیں ہے اور اس پر کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔
    اویس لغاری نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پنجاب نے سستی بجلی کے حصول کے لیے 45 ارب روپے مختص کیے ہیں، اور اگر سندھ بھی ایسا کرے تو اس پر صرف 10 ارب روپے خرچ ہوں گے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ملک میں بجلی کی پیداواری قیمت زیادہ نہیں ہے، بلکہ بجلی گھروں کے کرایے کی وجہ سے فی یونٹ قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ حکومت آئی پی پیز کے معاملے پر کسی قسم کا زیادہ شور شرابا نہیں کرے گی، بلکہ ذمہ داری کے ساتھ اپنی پالیسیوں پر عمل پیرا رہے گی۔

  • ورزش کیلئے ڈمبل فراہم کیے جائیں، عمران خان کا نیا مطالبہ

    ورزش کیلئے ڈمبل فراہم کیے جائیں، عمران خان کا نیا مطالبہ

    اسلام آباد: توشہ خانہ کیس میں سزا یافتہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران دو اہم درخواستیں دائر کی گئیں، جس نے ان کی قانونی ٹیم اور جیل انتظامیہ کے درمیان ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔عمران خان کے وکیل خالد یوسف چوہدری نے عدالت میں دو الگ درخواستیں پیش کیں۔ پہلی درخواست میں سابق وزیراعظم کے لیے ورزش کے مقصد سے ڈمبل کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ دوسری درخواست میں بینک اسٹیٹمنٹ حاصل کرنے کے لیے ضروری دستاویزات پر دستخط کرنے کی اجازت مانگی گئی ،عدالت نے دونوں درخواستوں پر غور کرتے ہوئے جیل حکام کو ہدایت کی کہ وہ جیل مینوئل کے مطابق کارروائی کریں۔ تاہم، جیل انتظامیہ نے اس معاملے پر سختی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دونوں درخواستوں کو مسترد کر دیا۔
    جیل حکام کا موقف ہے کہ ڈمبل کی فراہمی جیل کے قوانین کے خلاف ہے اور اس سے سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عمران خان کو بینک اسٹیٹمنٹ سے متعلق دستاویزات پر دستخط کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اس فیصلے نے عمران خان کی قانونی ٹیم کو مشکل میں ڈال دیا ہے، جو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس میں اپنے مؤکل کا دفاع کرنے کے لیے ضروری معلومات حاصل کرنا چاہتی ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ بینک اسٹیٹمنٹ تک رسائی نہ ہونے سے ان کی دفاعی حکمت عملی متاثر ہو سکتی ہے۔
    دوسری جانب، جیل حکام کا موقف ہے کہ وہ قانون کے مطابق کام کر رہے ہیں اور کسی قیدی کو خصوصی سہولیات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام قیدیوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے اور عمران خان کو کوئی استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا۔اس تنازعے نے ایک بار پھر پاکستان کے سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ عمران خان کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔
    آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ عمران خان کی قانونی ٹیم اس صورتحال سے کیسے نمٹتی ہے اور آیا وہ اپنے مؤکل کے لیے مطلوبہ سہولیات حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔ اس دوران، 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی سماعت جاری رہنے کی توقع ہے، جس میں مزید حیران کن موڑ آنے کا امکان ہے۔

  • تیسرے روز کا کھیل ختم، بنگلہ دیش نے پاکستان کے خلاف 316 رنز بنائے، 5 کھلاڑی آؤٹ

    تیسرے روز کا کھیل ختم، بنگلہ دیش نے پاکستان کے خلاف 316 رنز بنائے، 5 کھلاڑی آؤٹ

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جاری پہلے ٹیسٹ کے تیسرے روز کے کھیل کے اختتام پر بنگلہ دیش نے 5 وکٹوں کے نقصان پر 326 رنز بنا لیے ہیں۔ اس روز شادمان اسلام کی شاندار 93 رنز کی اننگ اور مشفیق الرحمان کی 55 رنز کی ناقابل شکست اننگ نے بنگلہ دیش کو ایک مضبوط پوزیشن فراہم کی۔پاکستان نے اس ٹیسٹ میچ میں اپنی پہلی اننگز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 448 رنز بنائے تھے، جس میں محمد رضوان اور سعود شکیل کی سینچریوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ محمد رضوان نے 100 رنز کی شاندار اننگ کھیلی، جبکہ سعود شکیل نے بھی سنچری اسکور کی، جس کی بدولت پاکستان نے ایک مضبوط اسکور قائم کیا۔
    بنگلہ دیش نے پاکستان کے 448 رنز کے جواب میں کھیل کا آغاز شادمان اسلام اور ذاکر حسن کے ساتھ کیا۔ شادمان اسلام اور ذاکر حسن نے مل کر 24 رنز کی ابتدائی شراکت قائم کی، لیکن ذاکر حسن 12 رنز کے بعد نسیم شاہ کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ ان کے بعد کپتان نجم الحسن شانتو بھی 16 رنز بنانے کے بعد پویلین واپس لوٹ گئے۔شادمان اسلام نے اس موقع پر شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 93 رنز کی اننگ کھیلی۔ ان کی اننگ نے بنگلہ دیش کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی، حالانکہ وہ سینچری بنانے میں ناکام رہے۔ مومن الحق نے بھی اہم کردار ادا کرتے ہوئے 55 رنز کی اننگ کھیلی اور ٹیم کو بہترین سپورٹ فراہم کی۔
    پہلے تین روز کے کھیل کے اختتام پر، بنگلہ دیش کے لٹن داس 52 رنز اور مشفیق الرحمان 55 رنز کے ساتھ ناقابل شکست ہیں۔ دونوں بلے بازوں نے بنگلہ دیش کی جانب سے مضبوط اسکور کرنے میں مدد فراہم کی ہے، اور وہ کل دوبارہ کھیل کا آغاز کریں گے۔ پاکستان نے بنگلہ دیش کو بیٹنگ کی دعوت دی تھی، اور بنگلہ دیش کی فیلڈنگ کے دوران پاکستان نے مضبوط اسکور قائم کیا۔ اس کے باوجود، بنگلہ دیش نے شادمان اسلام اور مومن الحق کی عمدہ بلے بازی کی بدولت اچھی کم بیک کی ہے۔
    تیسرے روز کے کھیل کے اختتام پر، بنگلہ دیش کی ٹیم ایک مضبوط پوزیشن میں ہے اور انہیں پاکستان کے خلاف فتح حاصل کرنے کی امیدیں ہیں۔ پاکستان کے بڑے اسکور کو چیلنج کرنے کے لیے بنگلہ دیش کو اب مزید سخت محنت کی ضرورت ہے۔ ٹیسٹ کے اگلے روز کا کھیل فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے، اور دونوں ٹیموں کے درمیان سنسنی خیز مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کا بنگلہ دیش میں سیلابی صورتحال پر دکھ اور ہمدردی کا اظہار

    وزیراعظم شہباز شریف کا بنگلہ دیش میں سیلابی صورتحال پر دکھ اور ہمدردی کا اظہار

    وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے بنگلہ دیش میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں اور اس سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، وزیراعظم نے بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے بنگلہ دیشی عوام اور حکومت کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔خط میں وزیراعظم شہباز شریف نے بنگلہ دیش میں سیلاب کی شدید صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس قدرتی آفت نے بنگلہ دیش میں بڑے پیمانے پر نقصان کیا ہے جس پر پاکستانی قوم کو گہرا دکھ اور رنج ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خط میں لکھا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام اس مشکل وقت میں بنگلہ دیشی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل طور پر یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
    وزیرِ اعظم نے کہا کہ مشکل وقت میں پاکستانی قوم کی تمام ہمدردیاں بنگلہ دیشی عوام کے ساتھ ہیں، خاص طور پر ان افراد کے ساتھ جن کے پیارے سیلاب میں بچھڑ گئے، جن کے گھر اور روزگار تباہ ہوگئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بنگلہ دیشی عوام کی مشکلات میں ان کے حوصلے اور ہمت ہمیشہ قابلِ ستائش رہی ہے، اور امید ہے کہ بنگلہ دیش ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت میں اس بحران سے جلد نکل آئے گا۔خط میں وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہے۔ پاکستان بنگلہ دیش کی امداد کے لیے تمام وسائل اور معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، تاکہ بنگلہ دیشی عوام اس قدرتی آفت کے اثرات کو کم کر سکیں اور دوبارہ اپنی حالت بحال کر سکیں۔
    بنگلہ دیش میں حالیہ سیلاب نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ سیلاب نے بنیادی ڈھانچے، مکانات، فصلوں، اور دیگر وسائل کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی بحران پیدا ہوا ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے بنگلہ دیش کے عوام اور حکومت کے ساتھ اظہارِ ہمدردی اور مدد کی پیشکش نے دو طرفہ تعلقات میں مزید مضبوطی کی امیدیں بڑھا دی ہیں۔ اس مشکل وقت میں پاکستانی قوم کا ہمسایہ ملک کے ساتھ دکھ و درد میں شریک ہونا دوستی اور بین الاقوامی تعاون کی ایک بہترین مثال ہے۔

  • حافظ نعیم الرحمان کی تاجروں کی ہڑتال کی حمایت، بجلی کے ٹیرف میں کمی کا مطالبہ

    حافظ نعیم الرحمان کی تاجروں کی ہڑتال کی حمایت، بجلی کے ٹیرف میں کمی کا مطالبہ

    جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے 28 اگست کو تاجروں کی ہڑتال کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران، حافظ نعیم الرحمان نے بجلی کے ٹیرف میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت پر زور دیا کہ وہ اس معاملے پر وفاق سے بات چیت کرے اور عوام کو فوری طور پر ریلیف فراہم کرے۔حافظ نعیم الرحمان نے تاجروں کی ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تاجر برادری کو 28 اگست کو اپنی دکانیں بند کرکے اپنے احتجاج کا اظہار کرنا چاہیے۔ انہوں نے تاجر برادری سے اپیل کی کہ وہ ہڑتال کو کامیاب بنائیں اور اپنے مطالبات کے حق میں متحد ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تاجروں کے کسی گروپ نے ہڑتال کا ساتھ نہ دیا تو یہ قوم کے ساتھ خیانت ہوگی۔
    سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے، حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے علما کرام کے موقف کو سنا اور اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے جماعت اسلامی کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تشکر کا اظہار کیا اور اسے مثبت قرار دیا۔سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے، حافظ نعیم الرحمان نے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، اور ایم کیو ایم کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام جماعتیں مل کر بجٹ پاس کرتی ہیں اور عوام کی مشکلات کو نظرانداز کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جماعتیں صرف نورا کشتی کر رہی ہیں اور عوام کے مسائل کا حل تلاش کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
    حافظ نعیم الرحمان نے جماعت اسلامی کی ممبرشپ کیمپین کا بھی اعلان کیا، جو یکم ستمبر سے شروع ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کیمپین کے ذریعے جماعت اسلامی کی سرگرمیوں کو بڑھایا جائے گا اور عوام کو پارٹی کے پلیٹ فارم پر متحد کیا جائے گا۔ حافظ نعیم الرحمان نے کچے میں پولیس آپریشن پر آئی جی پنجاب کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ڈاکوؤں کے پاس اتنا جدید اسلحہ کہاں سے آیا اور آئی جی سندھ و آئی جی پنجاب کی غفلت کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پولیس خود محفوظ نہیں ہے تو بدترین حالات کا تصور کیا جا سکتا ہے۔

  • پاکستان کو 40 خاندانوں کے مفادات کے لیے قربان نہیں کیا جا سکتا.سابق نگران وزیر تجارت گوہر اعجاز

    پاکستان کو 40 خاندانوں کے مفادات کے لیے قربان نہیں کیا جا سکتا.سابق نگران وزیر تجارت گوہر اعجاز

    سابق نگران وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ پاکستان صرف 40 خاندانوں کا ملک نہیں ہے، اور ان 40 خاندانوں کو بچانے کے لیے پورے ملک کو داؤ پر نہیں لگایا جانا چاہئے۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ پاکستان کے ہر گھر کو بجلی کی قیمتوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے، اور صنعتوں کا پہیہ رکنے سے پورے ملک کی معیشت متاثر ہوتی ہے۔گوہر اعجاز نے کہا کہ فیصل آباد پورے پاکستان کی صنعت کا دل ہے اور ایک صنعتکار ہونے کے ناطے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ صنعتوں کے بند ہونے کا کیا مطلب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صنعتوں کی پیداواری لاگت میں بجلی کا 50 فیصد حصہ ہے، اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے صنعتیں بند ہونے لگی ہیں۔انہوں نے اشارہ دیا کہ انہوں نے سب سے پہلے صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت میں کمی کی ضرورت پر زور دیا، اور اس کے نتیجے میں 16 سینٹ فی یونٹ کے بجائے 9 سینٹ فی یونٹ کا نرخ مقرر کروایا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بجلی کا نظام حکومت کی کنٹرول میں نہیں ہے اور ایک لاکھ کروڑ روپے آئی پی پیز کو مفت فراہم کیے جا رہے ہیں۔
    سابق وزیر نے حکومت کی کاروباری پالیسیوں پر سخت تنقید کی اور کہا کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے آئی پی پیز (انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر اعتراض کیا، جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاہدے دنیا میں کہیں اور نہیں کیے جاتے۔ ان معاہدوں کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے، اور دنیا میں فی یونٹ بجلی کی قیمت 7 سے 9 سینٹ تک ہے۔گوہر اعجاز نے کہا کہ پاکستان کے عوام کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے، خاص طور پر فیصل آباد اور وہاں کے صنعتکاروں کے ساتھ جو مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے ملک کے چاروں ستونوں سے اپیل کی کہ وہ اس صورت حال کا فوری نوٹس لیں اور اپنا کردار ادا کریں تاکہ ملک کی معیشت اور عوام کی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔گوہر اعجاز کی پریس کانفرنس نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور صنعتوں کی بندش کے مسائل پر روشنی ڈالی ہے، اور انہوں نے حکومت کی پالیسیوں اور آئی پی پیز کے معاہدوں پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان کے عوام کی مشکلات کا حل تلاش کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، اور ملک کے تمام اہم اداروں کو اس صورت حال میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

  • ایران: یزد بس حادثے کے شہداء کی میتیں پاکستان روانہ کردی گئیں

    ایران: یزد بس حادثے کے شہداء کی میتیں پاکستان روانہ کردی گئیں

    یزد بس حادثے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانی زائرین کی میتیں آج صبح ایران سے پاکستان روانہ کردی گئیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، میتوں کو لے کر آنے والا سی 130 طیارہ پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بجے اور ایرانی وقت کے مطابق 4 بجے یزد ہوائی اڈے سے روانہ ہوا۔ اس موقع پر ایرانی حکام نے پورے پروٹوکول کے ساتھ میتوں کو رخصت کیا۔ روانگی سے قبل یزد ہوائی اڈے پر ایک تعزیتی تقریب کا اہتمام بھی کیا گیا۔تقریب میں یزد کے گورنر، مقامی حکام اور پاکستانی سفارت خانے کے سیکنڈ سیکرٹری سمیت دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ اس موقع پر زائرین کے علاوہ ایران میں مقیم پاکستانی بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ میتوں کو پاکستانی اور ایرانی پرچموں میں لپیٹ کر روانہ کیا گیا، اور امام رضا (ع) کے روضے کی خاک بھی میتوں کے ساتھ ہدیے کے طور پر دی گئی۔میتوں کے ہمراہ پاکستانی قونصلر برائے زاہدان، محمد صدیق بھی سفر کر رہے ہیں۔ محمد صدیق پاکستان پہنچنے کے بعد میتوں کو ورثاء کے حوالے کریں گے۔ اس سے قبل، میتوں کی شناخت کا عمل صبح مکمل کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کی قانونی دستاویزات تیار کی گئیں۔
    ایرانی حکام نے میتوں کو ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیے اور ضروری کاغذی کارروائی مکمل ہونے کے بعد میتیں پاکستان روانہ کی گئیں۔سفارتی ذرائع کے مطابق، آج صبح پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے یزد کے ڈپٹی گورنر کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا جس میں میتوں کی پاکستان روانگی کے انتظامات کو حتمی شکل دی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ میتوں کے ہمراہ کچھ زخمی بھی پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ ایرانی حکومت نے بس حادثے میں زخمی ہونے والے زائرین کا مفت علاج کیا اور ان کے ویزے کے ختم ہونے کی صورت میں مکمل صحتیابی تک بغیر ویزا رہائش کی سہولت بھی فراہم کی۔سفارتی ذرائع کے مطابق، میتیں لے کر آنے والا طیارہ پاکستانی وقت کے مطابق رات 8:30 بجے جیکب آباد ہوائی اڈے پر پہنچے گا، اور رات 10 سے 11 بجے کے درمیان میتوں کو ورثاء اور لواحقین کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے۔ حادثے میں زخمی ہونے والے زائرین کے ساتھ ان کے اہل خانہ کو بھی مکمل تعاون فراہم کیا جا رہا ہے، اور ایرانی حکومت نے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔حادثے کے بعد ایرانی اور پاکستانی حکام کے درمیان مسلسل رابطہ رہا اور دونوں ممالک نے شہداء کے لواحقین اور زخمیوں کے لئے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

  • جنوبی پنجاب میں شدید بارشوں کا الرٹ: پی ڈی ایم اے نے فلیش فلڈنگ کا انتباہ جاری کر دیا

    جنوبی پنجاب میں شدید بارشوں کا الرٹ: پی ڈی ایم اے نے فلیش فلڈنگ کا انتباہ جاری کر دیا

    جنوبی پنجاب کے بیشتر اضلاع میں 24 سے 30 اگست کے دوران شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے باعث فلیش فلڈنگ کے ممکنہ خطرات کے حوالے سے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے فوری الرٹ جاری کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے بھی ملک کے مختلف علاقوں میں موسم کی صورتحال پر تفصیلی پیش گوئی کی ہے۔پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ کوہ سلیمان اور کیرتھر رینج کے علاقوں میں شدید بارشوں کی توقع ہے، جس کی وجہ سے ان علاقوں کی رودکوہیوں میں سیلابی ریلے آنے کا خطرہ ہے۔ ڈیرہ غازی خان، راجن پور، اور دیگر ملحقہ اضلاع میں فلیش فلڈنگ کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں اور عوام کو فوری طور پر تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔
    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے انتظامیہ کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ پی ڈی ایم اے کا کنٹرول روم 24/7 مانیٹرنگ کر رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا بروقت جواب دیا جا سکے۔ ریسکیو 1122 اور دیگر ریسکیو اداروں کو مشینری اور عملے سمیت الرٹ رکھا گیا ہے، اور نشیبی علاقوں سے پانی کی نکاسی کے لیے فوری اقدامات کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔عرفان علی کاٹھیا نے عوام کو متوقع شدید بارشوں کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری بجلی کے کھمبوں اور لٹکتی تاروں سے دور رہیں تاکہ کسی بھی قسم کے حادثے سے بچا جا سکے۔ کچے مکانات اور بوسیدہ عمارتوں میں رہنے سے گریز کریں، کیونکہ شدید بارشوں کے دوران یہ عمارتیں خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔
    عوام کو مزید ہدایت کی گئی ہے کہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں، اور خاص طور پر بچوں کا خیال رکھیں۔ بچوں کو نشیبی علاقوں میں جمع پانی کے قریب ہرگز نہ جانے دیں تاکہ کسی بھی قسم کے جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ ہنگامی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر کال کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے، تاہم چند مخصوص علاقوں میں بارشوں کا بھی امکان ہے۔ کشمیر، شمال مشرقی اور جنوبی پنجاب، خطہ پوٹھوہار، بالائی خیبر پختونخوا، اور جنوب مشرقی سندھ میں چند مقامات پر تیز ہواؤں، جھکڑ چلنے، اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔
    ہفتہ کے روز محکمہ موسمیات نے اسلام آباد اور گرد و نواح کے علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کے ساتھ ساتھ مطلع جزوی ابرآلود رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ اس کے علاوہ تیز ہواؤں، جھکڑ چلنے، اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں بھی مطلع جزوی ابر آلود رہنے کی توقع ہے۔ چترال، دیر، سوات، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، مانسہرہ، بالاکوٹ، ایبٹ آباد، ہری پور، بونیر، مہمند، خیبر، باجوڑ، مالاکنڈ، مردان، پشاور، اور کوہاٹ کے چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ بعض مقامات پر موسلادھار بارش بھی ہو سکتی ہے۔پی ڈی ایم اے نے جنوبی پنجاب کے اضلاع میں ممکنہ فلیش فلڈنگ کے خطرات کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں اور عوام کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شدید بارشوں کے دوران حفاظتی تدابیر اختیار کرنا اور ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ کسی بھی نقصان سے بچا جا سکے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق مختلف علاقوں میں بارشیں اور خراب موسم مزید چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں، اس لیے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔