Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • ایچ ای سی کا 257 طلباء کو ہنگری اسکالرشپ کے لیے روانہ کرنے کا اعلان

    ایچ ای سی کا 257 طلباء کو ہنگری اسکالرشپ کے لیے روانہ کرنے کا اعلان

    اعلیٰ تعلیم کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان نے 23 اگست 2024 کو ایک تقریب کا انعقاد کیا، جس میں 257 پاکستانی طلباء کو اسٹیپنڈم ہنگاریکم اسکالرشپ پروگرام کے تحت ہنگری کی جامعات میں مختلف سطحوں پر تعلیم حاصل کرنے کے لیے وظائف سے نوازا گیا۔ یہ تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس میں اعلیٰ تعلیم کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد اور ہنگری کے سفارتخانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن ڈاکٹر ڈورا گنسبرگر سمیت دیگر معززین شریک تھے۔اسٹیپنڈم ہنگاریکم ایک مکمل طور پر فنڈڈ اسکالرشپ پروگرام ہے، جو ہنگری کی جامعات میں بیچلر، ماسٹر، ون-ٹیئر ماسٹر، اور پی ایچ ڈی سطح کی تعلیم کے لیے فراہم کیا جاتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت طلباء کو مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا جاتا ہے، جن میں زراعت اور ویٹرنری سائنسز، آرٹس اور ہیومینٹیز، بایولوجیکل سائنسز، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی، ہیلتھ سائنسز، فزیکل سائنسز، اور سوشل سائنسز شامل ہیں۔ اس اسکالرشپ کے ذریعے طلباء کو بین الاقوامی سطح پر تعلیم حاصل کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔
    تقریب کے مہمان خصوصی چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد تھے، جنہوں نے اپنے خطاب میں ہنگری کی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہنگری کی حکومت کی مسلسل حمایت اور شراکت داری کی بدولت اس اسکالرشپ پروگرام کے تحت فراہم کی جانے والی نشستوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ ابتدائی طور پر اس پروگرام کے تحت 80 نشستیں مختص کی گئی تھیں، جو اب بڑھا کر 400 تک کر دی گئی ہیں۔ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں 64 فیصد نوجوان شامل ہیں، جن میں بہت زیادہ صلاحیت اور ٹیلنٹ موجود ہے۔ انہوں نے طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ ہنگری میں تعلیم حاصل کرتے وقت زیادہ سے زیادہ علم اور تجربہ حاصل کریں اور اس علم کو واپس پاکستان لا کر اپنے وطن کی خدمت کریں۔ انہوں نے طلباء کو یاد دلایا کہ وہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے سفیر ہیں اور انہیں اپنے ملک کی مثبت تصویر پیش کرنی چاہیے۔
    ڈپٹی ہیڈ آف مشن ڈاکٹر ڈورا گنسبرگر نے اپنے خطاب کا آغاز اردو زبان میں کیا، جس سے تقریب میں موجود طلباء اور دیگر شرکاء بہت پرجوش ہوئے۔ انہوں نے وظائف حاصل کرنے والے طلباء کو ان کی شاندار کامیابی پر مبارکباد دی اور کہا کہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے کہ پاکستان سے اس پروگرام کے لیے سب سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹیپنڈم ہنگاریکم پروگرام میں شرکت کرنے والے ممالک سے مجموعی طور پر 80,000 درخواستیں موصول ہوئیں، جس میں سب سے زیادہ تعداد پاکستان کی تھی۔ڈاکٹر گنسبرگر نے طلباء کو یقین دلایا کہ ہنگری میں تعلیم حاصل کرنا ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے ایک نادر موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی ممالک میں تعلیم حاصل کرنا سیکھنے کا ایک غیر معمولی تجربہ ہوتا ہے، اور طلباء کو اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ طلباء اپنے ملک کی خدمت کے لیے واپس آئیں گے اور پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
    اس تقریب میں ایڈوائزر ایچ ای سی اسکالرشپس انجینئر محمد رضا چوہان نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے اس اسکالرشپ پروگرام کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جو 2015 میں ایچ ای سی اور ہنگری کی حکومت کے تعاون سے شروع کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت طلباء کا پہلا بیچ 2016 میں ہنگری کی نامور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے روانہ کیا گیا تھا۔ اس شراکت داری کے نتیجے میں اسکالرشپس کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، اور اب تک 1000 سے زائد طلباء اس پروگرام سے مستفید ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ طلباء نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں مختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایچ ای سی کی جانب سے اس اسکالرشپ پروگرام کے تحت طلباء کو عالمی معیار کی تعلیم فراہم کرنے کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔

  • کچے کے ڈاکوؤں کے سر کی قیمت  میں اضافہ ،  ڈاکوؤں کے خلاف بڑا آپریشن

    کچے کے ڈاکوؤں کے سر کی قیمت میں اضافہ ، ڈاکوؤں کے خلاف بڑا آپریشن

    حکومت پنجاب نے ڈاکوؤں کے خلاف جنگ میں اہم قدم اٹھاتے ہوئے کچے کے علاقے کے خطرناک ترین ڈاکوؤں (ہائی ویلیو ٹارگٹس) کے سروں کی قیمت مقرر کر دی ہے۔ حکومت کے جاری کردہ بیان کے مطابق، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ان مجرموں کے خلاف کارروائی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔اعلان کے مطابق، حکومت پنجاب نے کچے کے علاقے میں موجود انتہائی خطرناک ڈاکوؤں کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر کی ہے۔ اگر ان ڈاکوؤں کو گرفتار کیا جاتا ہے تو انعام کی رقم 50 لاکھ روپے ہوگی۔ اسی طرح کم خطرناک ڈاکوؤں اور دہشتگردوں کی گرفتاری پر 25 لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔ یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت ڈاکوؤں کے خلاف کاروائی کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماچھکہ کے علاقے میں کچے کے ڈاکوؤں نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات ایک شدید راکٹ حملہ کیا، جس میں 12 پولیس اہلکار شہید اور 9 زخمی ہو گئے۔ اس حملے نے پورے سیکیورٹی سسٹم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پولیس کے مطابق، یہ ڈاکوؤں کا اب تک کا سب سے بڑا حملہ تھا، جو کہ ان کی بڑھتی ہوئی طاقت اور دہشت کا واضح ثبوت ہے۔حملے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، سیکرٹری داخلہ اور دیگر اعلیٰ افسران رحیم یار خان میں موجود ہیں تاکہ اس آپریشن کو خود دیکھ سکیں اور مناسب اقدامات کر سکیں۔ آئی جی پنجاب نے اس موقع پر کہا کہ پنجاب پولیس کے بہادر جوانوں نے ہمیشہ ملک و قوم کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیں اور پولیس کچے کے ڈاکوؤں کے خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔
    کچے کا علاقہ تقریباً 60 سے 100 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے اور یہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں کے ساتھ جڑا ہوا ہےاور اس علاقے میں اب تک 17 سے 18 آپریشن کیے جا چکے ہیں، لیکن کوئی بھی کامیاب نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال پولیس ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کرتی ہے، مگر ڈاکوؤں کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کچے کے علاقے میں سرداری نظام کے خاتمے کے بعد مختلف گینگز نے طاقت حاصل کر لی ہے۔
    کچے کے علاقے میں موجود گینگز کے پاس جدید اسلحہ ہے، جو مختلف ذرائع سے ان تک پہنچتا ہے۔ ان کے پاس نیٹو کا لوٹا ہوا اسلحہ بھی ہے، جو افغانستان سے یہاں پہنچتا ہے، جبکہ کچھ اسلحہ بھارت سے بلوچستان کے راستے اسمگل کیا جاتا ہے۔ ان گینگز کے پاس جدید ہتھیاروں کی موجودگی انہیں پولیس کے مقابلے میں مضبوط بناتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب تک کے آپریشنز ناکام رہے ہیں۔ اس علاقے کے 12 سے 13 ایس ایچ اوز مختلف گینگز کو سپورٹ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ گینگز محفوظ ہیں اور ان کے خلاف آپریشنز ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال کا نقصان پولیس سپاہیوں کو ہوتا ہے، جو آپریشن کے دوران شہید ہو جاتے ہیں، جبکہ اعلیٰ افسران کو کچھ نہیں ہوتا۔
    مقامی اخبار کے ایک صحافی کے مطابق، پولیس سرداروں کو بھی سپورٹ کرتی ہے، جو کہ علاقے کی موجودہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ یہ صورتحال پچھلے کئی سالوں سے جاری ہے اور جب تک اس کا مؤثر حل نہیں نکالا جاتا، ڈاکوؤں کے خلاف کارروائیوں میں کامیابی ممکن نہیں ہوگی۔ انہوں نے تجویز دی کہ حکومت کو کچے میں تعینات تمام ایس ایچ اوز کے بینک اکاؤنٹس اور اثاثے چیک کروانے چاہیے، تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔پنجاب حکومت کا ڈاکوؤں کے خلاف انعامات کا اعلان اور پولیس کی جانب سے جاری آپریشنز اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ حکومت ان مجرموں کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم، پولیس سسٹم میں موجود خرابیوں اور گینگز کے جدید ہتھیاروں کی موجودگی جیسے مسائل کے حل کے بغیر اس جنگ میں کامیابی حاصل کرنا ایک مشکل چیلنج ہے۔

  • پی ایس ایکس: ملا جلا رجحان، انڈیکس 78,801 پر بند

    پی ایس ایکس: ملا جلا رجحان، انڈیکس 78,801 پر بند

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں آج کے کاروباری دن کے دوران ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا۔ کاروباری دن کے آغاز پر مارکیٹ نے مثبت آغاز کیا اور 297 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جس کے باعث 100 انڈیکس 79 ہزار کی سطح عبور کرتے ہوئے اگست کے مہینے میں پہلی بار اس مقام تک پہنچا۔ تاہم دن کے اختتام تک یہ اضافہ کم ہو کر صرف 8 پوائنٹس رہ گیا اور انڈیکس 78 ہزار 801 پر بند ہوا۔اس کاروباری دن کے دوران 100 انڈیکس مجموعی طور پر 413 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا، جس کی بلند ترین سطح 79 ہزار 173 رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے مختلف عوامل کی بنا پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا۔
    پی ایس ایکس کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 24 جولائی کے بعد سے بڑھ کر 10 ہزار 500 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، جو کہ ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ آج کے کاروباری دن میں 68 کروڑ شیئرز کے سودے طے پائے، جن کی مجموعی مالیت 18 ارب روپے رہی۔ اس دوران مارکیٹ کیپٹلائزیشن 25 ارب روپے بڑھ کر 2 ہزار 512 ارب روپے ہو گئی۔ماہرین کے مطابق، موجودہ معاشی صورتحال، حکومتی پالیسیوں اور بین الاقوامی مارکیٹ کے حالات نے پی ایس ایکس پر اثرات مرتب کیے ہیں۔ اگرچہ کاروباری دن کے آغاز پر مثبت رجحان دیکھا گیا، لیکن بعد میں سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط رویہ اپنایا گیا جس کے باعث انڈیکس میں کمی واقع ہوئی۔
    سرمایہ کاروں کے مطابق، مستقبل میں بھی پی ایس ایکس کی صورتحال میں مزید تبدیلیاں متوقع ہیں، اور اس کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والے واقعات پر نظر رکھنا ضروری ہوگا۔

  • رانا ثناء اللہ کا اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی غیر معمولی ملاقات پر اظہارِ تشویش

    رانا ثناء اللہ کا اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی غیر معمولی ملاقات پر اظہارِ تشویش

    وزیراعظم کے مشیر اور سینئر رہنما مسلم لیگ ن، رانا ثناء اللہ نے اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے پارٹی رہنماؤں کی غیر معمولی ملاقات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یہ ملاقات صبح 7 بجے ہوئی، جو عام جیل ملاقاتوں کے وقت سے ہٹ کر ہے، اور اسی پر رانا ثناء اللہ نے سوالات اٹھائے ہیں۔رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات جیل انتظامیہ کی مرضی اور اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتی تھی۔ ان کے مطابق، صبح کے ابتدائی اوقات میں ملاقات کا انتظام کسی کے کروانے پر ہی ممکن ہوتا ہے، اور یہ بات معمول سے ہٹ کر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے جیل انتظامیہ کے سامنے ملاقات کی درخواست رکھی ہو، لیکن بغیر اجازت ملاقات ممکن نہیں۔رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کی جانب سے جیل انتظامیہ پر لگائے جانے والے الزامات کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمام الزامات حقیقت سے دور ہیں اور اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ اگر وہ واقعی ایک سیاسی جماعت ہے تو اسے جمہوریت کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھ کر مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
    انہوں نے پی ٹی آئی کو میثاق معیشت اور میثاق جمہوریت کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ یہ وقت ہے کہ پی ٹی آئی اپنی سابقہ پالیسیوں پر غور کرے اور 9 مئی کے واقعات پر معافی مانگے، اگر وہ واقعی ملکی مفاد میں کام کرنا چاہتی ہے۔رانا ثناء اللہ نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ملاقات آئندہ ہفتے دوبارہ ہوگی۔ ان کے مطابق، دونوں جماعتوں کے درمیان بیشتر معاملات پر اتفاق ہو چکا ہے، لیکن چند نکات پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔ رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کو کابینہ میں شامل کرنے کی پیشکش ہر وقت موجود ہے، تاہم اس ملاقات میں اس موضوع پر کوئی بات نہیں ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے سے حکومت کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی، اور تمام سیاسی جماعتوں کو ملک کی بھلائی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کا حل صرف اور صرف سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات اور ایک ساتھ چلنے میں ہیں.

  • وفاقی حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کا باضابطہ عمل شروع کر دی

    وفاقی حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کا باضابطہ عمل شروع کر دی

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے عمل کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کے تحت، پہلے مرحلے میں تین اہم ڈسکوز—فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو)—کی نجکاری کے لیے مالیاتی مشیروں کی تقرری کے لیے تجاویز طلب کی گئی ہیں۔نجکاری کمیشن کے ذرائع کے مطابق، ان کمپنیوں کی نجکاری کے لیے تکنیکی اور مالیاتی تجاویز 16 ستمبر 2024 تک طلب کی گئی ہیں۔ اسلام آباد، فیصل آباد، اور گوجرانوالہ میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے لیے مالیاتی مشیروں کے تقرر کی درخواستیں مانگی گئی ہیں۔مالیاتی مشیروں کی تقرری کے لیے دلچسپی رکھنے والی تجربہ کار کمپنیوں کو انفرادی یا کنسورشیم کی شکل میں درخواستیں جمع کرانے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان مشیروں کا کام نجکاری کے عمل میں حکومت کو مشورے دینا، مالیاتی جائزہ لینا، اور ممکنہ خریداروں کے ساتھ مذاکرات کرنا ہوگا۔
    حکومت کے مطابق، یہ نجکاری کا عمل بجلی کی تقسیم کے نظام کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو بہتر بجلی کی خدمات فراہم کرنا اور ملکی معیشت میں بہتری لانا ہے۔ اس کے علاوہ، نجکاری کے اس عمل سے حکومت کو مالیاتی وسائل میں اضافہ ہونے کی توقع ہے، جس سے ملک کے دیگر ترقیاتی منصوبوں کو فروغ دیا جا سکے گا۔وفاقی حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نجکاری کا یہ عمل شفاف اور منصفانہ ہونا چاہیے، تاکہ عوامی مفاد کا تحفظ کیا جا سکے۔ حکومت کا ارادہ ہے کہ نجکاری کے اس عمل سے بجلی کے شعبے میں مسابقت میں اضافہ ہوگا اور نیا سرمایہ کاری کے مواقع فراہم ہوں گے، جس سے بجلی کی فراہمی میں بہتری آئے گی۔یہ پہلا مرحلہ ہے، اور بعد میں مزید تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل شروع کیا جائے گا۔ نجکاری کمیشن کی جانب سے جلد ہی دیگر ڈسکوز کی نجکاری کے لیے بھی اقدامات کا اعلان متوقع ہے، جس سے ملک میں بجلی کی تقسیم کے نظام کو مزید مؤثر اور بہتر بنایا جا سکے گا۔

  • وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب نے رحیم یار خان میں پولیس قافلے پر حملے کی مذمت کی، شہداء کو خراج تحسین پیش کیا

    وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب نے رحیم یار خان میں پولیس قافلے پر حملے کی مذمت کی، شہداء کو خراج تحسین پیش کیا

    وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے رحیم یار خان کے کچے کے علاقے ماچھکہ میں پولیس قافلے پر ڈاکوؤں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے، جس میں کئی پولیس اہلکار شہید ہو گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے حملے میں پولیس کے جوانوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی بلندی درجات اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی جاتی ہے۔ وزیراعظم نے زخمی ہونے والے اہلکاروں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی اور ان کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعظم نے حملے میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی تاکید کی اور ذمہ داران کی نشاندہی کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوانے کا بھی حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے افسران اور جوان اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر جرائم پیشہ افراد اور تخریب کاروں کا سدباب کرتے ہیں اور حکومت ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
    وزیراعلیٰ پنجاب کا اظہار افسوس
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی رحیم یار خان کے کچے کے علاقے میں ہونے والے اس افسوسناک واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کی اور کہا کہ ان بہادر سپاہیوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے لاپتہ پولیس اہلکاروں کی فوری بازیابی کے لیے بھرپور آپریشن کا حکم دیا اور کہا کہ تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا تاکہ انہیں بحفاظت واپس لایا جا سکے۔ انہوں نے زخمی اہلکاروں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی اور متعلقہ حکام کو تاکید کی کہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کمی نہ آنے دی جائے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے آئی جی پولیس سے فوری طور پر واقعے کی مکمل رپورٹ طلب کی ہے تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے اور آئندہ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔
    وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ واقعہ پولیس فورس کے حوصلے کو کمزور نہیں کرے گا، بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مزید عزم و حوصلہ پیدا کرے گا۔ حکومت پنجاب اس مشکل وقت میں پولیس فورس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔یہ واقعہ پولیس فورس کی قربانیوں کو اجاگر کرتا ہے اور حکومتی عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ دہشت گردی اور جرائم کے خلاف لڑائی جاری رکھی جائے گی، اور ان تمام اقدامات کو عوامی تحفظ اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

  • 22 اگست کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    22 اگست کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    تحقیق : آغا نیاز مگسی

    شیخ محمد ابراہیم ذوق:
    شیخ محمد ابراہیم ذوق (پیدائش: 22 اگست 1790ء – وفات: 16 نومبر 1854ء) ایک اردو شاعر تھے، جو اپنے تخلص "ذوقؔ” سے معروف ہیں۔ وہ مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر بھی تھے اور ان کی شاعری کا انداز سادگی اور روانی میں منفرد تھا۔ ذوقؔ کی غزلیں اور قصائد آج بھی اردو ادب کا قیمتی سرمایہ سمجھے جاتے ہیں۔

    ڈائنا نیاد:
    ڈائنا نیاد (پ: 22 اگست 1941ء) ایک امریکی مصنف، صحافی، اور تیراک ہیں۔ انہیں خاص شہرت اس وقت ملی جب انہوں نے ہوانا اور امریکہ کے جنوبی ساحل فلوریڈا کے درمیان 177 کلومیٹر کا فاصلہ 53 گھنٹوں میں تیر کر طے کیا۔ اس سے قبل، آسٹریلیائی تیراک سوزن میرونی 1997 میں "فلوریڈا اسٹریٹ” سر کر چکی تھیں۔

    سیموئیل لینگلی:
    سیموئیل لینگلی (پیدائش: 22 اگست 1834ء – وفات: 27 فروری 1906ء) ایک امریکی ماہر فلکیات، طبیعیات دان، اشعاع پیما کے موجد اور اولین ماہر ہوابازی تھے۔ لینگلی کی خدمات کو سائنس اور ہوابازی کے میدان میں بہت اہمیت حاصل ہے۔

    ریک یون:
    ریک یون (پیدائش: 22 اگست 1971ء) ایک امریکی اداکار، منظر نویس، فلم پروڈیوسر، مارشل آرٹسٹ، اور سابقہ ماڈل ہیں۔ وہ کئی ہالی وڈ فلموں میں نمایاں کردار ادا کر چکے ہیں اور ان کی مارشل آرٹس کی مہارت کو بھی سراہا گیا ہے۔

    آنند کمار سوامی:
    آنند کمار سوامی (پیدائش: 22 اگست 1877ء – وفات: 9 ستمبر 1947ء) سری لنکا سے تعلق رکھنے والے ایک فلسفی تھے، جو مغرب میں ہندی ثقافت کے اولین شارح بھی تھے۔ ان کی تحقیق اور تحریروں نے ہندی فنون کی تاریخ اور فلسفے کو فروغ دیا۔

    کلاؤ دیبوسی:
    کلاؤ دیبوسی (پیدائش: 22 اگست 1862ء – وفات: 1918ء) ایک فرانسیسی پیانو نواز اور موسیقار تھے۔ وہ اپنے منفرد انداز اور موسیقی کے نادر تجربات کی وجہ سے کلاسیکی موسیقی میں خاص مقام رکھتے ہیں۔

    دنگ شاوپنگ:
    دنگ شاوپنگ (پیدائش: 22 اگست 1904ء – وفات: 1997ء) چینی فوجی اور سیاست دان تھے، جنہوں نے چین کے نائب وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کی قیادت میں چین میں اہم معاشی اور سماجی اصلاحات ہوئیں۔

    ادا جعفری:
    ادا جعفری (پیدائش: 22 اگست 1924ء – وفات: 2015ء) اردو زبان کی معروف شاعرہ تھیں۔ ان کا اصل نام عزیز جہاں تھا۔ وہ اردو ادب میں پہلی خاتون شاعرہ کے طور پر جانی جاتی ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے خواتین کے جذبات اور مسائل کو انتہائی حساسیت کے ساتھ پیش کیا۔

    اشفاق احمد:
    اردو اور پنجابی کے نامور ادیب، افسانہ و ڈرامہ نگار، دانشور، براڈ کاسٹر، اور صوفی اشفاق احمد (پیدائش: 22 اگست 1925ء – وفات: 7 ستمبر 2004ء) پاکستان کے مکتسر ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئے۔ ان کے افسانے، ڈرامے، اور تحریریں پاکستانی ادب کا اہم حصہ ہیں، اور انہوں نے "تلقین شاہ” جیسے مشہور ریڈیو ڈرامے کے علاوہ پاکستان ٹیلی وژن کے لیے متعدد کامیاب ڈرامہ سیریلز بھی تحریر کیے۔

    یہ تمام شخصیات اپنے اپنے میدان میں نمایاں اور مشہور ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی میں عظیم کارنامے انجام دیے۔ 22 اگست ان کی پیدائش کا دن ہے، جسے ان کی یاد میں خاص طور پر منایا جاتا ہے۔

  • خیبر پختونخوا کے وسائل اسلام آباد پر حملے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں. امیر مقام

    خیبر پختونخوا کے وسائل اسلام آباد پر حملے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں. امیر مقام

    وفاقی وزیر سیفران انجینئر امیر مقام نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور پر شدید تنقید کی ہے، اور کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کے پاس پی ٹی آئی ورکرز کو پیسے دینے کے لیے پیسے موجود ہیں لیکن خیبر پختونخوا کے عوام کو ریلیف دینے کے لیے نہیں ہیں۔ امیر مقام نے الزام لگایا کہ علی امین گنڈاپور خیبر پختونخوا کے سرکاری وسائل کو پی ٹی آئی ورکرز میں پیسے بانٹنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جبکہ عوام کو بنیادی ضروریات اور بجلی کے بلوں میں کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ گنڈاپور کے ذریعے 5، 5 ہزار روپے اسلام آباد پر حملے کے لیے فراہم کیے جا رہے ہیں، نہ کہ عوام کو بجلی کے بلوں میں رعایت دینے کے لیے۔
    امیر مقام نے مزید کہا کہ اسلام آباد پر حملہ کرنے کے لیے خیبر پختونخوا کے وسائل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ علی امین گنڈاپور نے گزشتہ روز کہا تھا کہ اگر اسلام آباد میں جلسہ نہیں کیا تو سیاست چھوڑ دیں گے، اور اب وہ اپنے وعدے پر عمل کریں۔ امیر مقام نے کہا کہ گنڈاپور صبح ایک بات کرتے ہیں اور رات کو کچھ اور۔وفاقی وزیر نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد پر حملے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ملک میں مہنگائی تین سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بلڈوزر، کرینوں اور کھدائی کی مشینوں سے بجلی کی قیمتوں میں کمی نہیں ہوگی، اور علی امین گنڈاپور وزیراعلیٰ بننے کے بجائے ولن بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    امیر مقام کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کی حکومت کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد میں جلسوں اور سیاسی سرگرمیوں کے دوران صوبائی وسائل کے استعمال پر نکتہ چینی کی ہے، جس سے حکومتی اتحاد کی سیاست میں مزید پیچیدگیاں سامنے آ سکتی ہیں۔یہ بیان حکومت اور عوام کے درمیان تعلقات کی ایک عکاسی ہے، جس میں پی ٹی آئی اور دیگر حکومتی جماعتوں کے درمیان جاری اختلافات اور مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے۔

  • وزیراعظم شہباز اور بلاول بھٹو کی ملاقات: پنجاب معاہدے اور قانون سازی پر تبادلہ خیال

    وزیراعظم شہباز اور بلاول بھٹو کی ملاقات: پنجاب معاہدے اور قانون سازی پر تبادلہ خیال

    وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پارٹی کے وفد نے اہم ملاقات کی، جس میں پنجاب میں معاہدے پر عملدرآمد اور آئندہ چند روز میں ہونے والی اہم قانون سازی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کی اندرونی کہانی بھی ذرائع سے سامنے آگئی ہے، جس میں پیپلز پارٹی نے پنجاب میں اپنی شکایات اور تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ذرائع کے مطابق، پیپلز پارٹی نے وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے پنجاب حکومت میں معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے کا شکوہ کیا۔ پیپلز پارٹی نے واضح کیا کہ انہیں پنجاب حکومت میں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پارٹی کے اراکین میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ تحریری معاہدے کے باوجود ان کی پارٹی کو پنجاب کی حکومتی معاملات میں وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جو وعدے کے مطابق ہونی چاہیے تھی۔
    پیپلز پارٹی کی شکایات کے بعد دونوں جماعتوں کی کو آرڈینیشن کمیٹیوں کا اجلاس اتوار کو گورنر ہاؤس لاہور میں بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان جاری معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں دونوں جماعتوں کے رہنما معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ اتحادی حکومت کے معاملات مزید بہتر ہو سکیں۔حکومت آئندہ چند روز میں اہم قانون سازی کرنے جا رہی ہے، جس کے حوالے سے پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ اس قانون سازی کے حوالے سے قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کو بلایا جا رہا ہے، جس میں پیپلز پارٹی کے تعاون کو یقینی بنانے کے لیے پارٹی کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
    یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں سیاسی حالات غیر یقینی کا شکار ہیں اور حکومتی اتحاد کے درمیان اختلافات کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے پنجاب حکومت میں معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے کا شکوہ ایک اہم سیاسی پیشرفت ہے، جو اتحادی حکومت کے استحکام کے لیے چیلنجز کا باعث بن سکتی ہے۔اس ملاقات کے بعد آنے والے دنوں میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان تعلقات میں بہتری کی امید کی جا رہی ہے، جبکہ اہم قانون سازی کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس بھی سیاسی حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اگر دونوں جماعتیں اپنے اختلافات کو حل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو اس سے اتحادی حکومت کو مضبوطی ملے گی اور اہم قانون سازی کے عمل میں بھی تیزی آئے گی۔

  • پنجاب حکومت نے 32 افسران کے تقرر و تبادلے کر دیے، نوٹیفکیشن جاری

    پنجاب حکومت نے 32 افسران کے تقرر و تبادلے کر دیے، نوٹیفکیشن جاری

    پنجاب حکومت نے بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں کرتے ہوئے 32 افسران کے تقرر و تبادلے کر دیے ہیں۔ محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی (سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ) کی جانب سے ان تقرر و تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق، محمد مرتضیٰ اور طیب خان کو ڈپٹی سیکرٹری چیف منسٹر آفس تعینات کر دیا گیا ہے۔ زاہد پرویز کو ایڈشنل سیکرٹری ایڈمن محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی تعینات کیا گیا ہے جبکہ تقرری کے منتظر کیپٹن (ریٹائرڈ) سمیع اللہ کو ایڈشنل سیکرٹری ویلفیئر محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی تعیناتی مل گئی ہے. ثقلین سلیم کو ڈپٹی سیکرٹری اسٹاف ٹو چیف سیکرٹری تعینات کر دیا گیا ہے اور ان سے ڈپٹی سیکرٹری سروس میٹرز کا اضافی چارج واپس لے لیا گیا ہے۔ امتیاز محسن کو ڈپٹی سیکرٹری ٹو چیف سیکرٹری تعینات کیا گیا ہے جبکہ صولت ثاقب کو ممبر چیف منسٹر انسپکشن ٹیم مقرر کر دیا گیا ہے۔ تقرری کے منتظر طارق محمود کو ممبر پنجاب ریونیو اتھارٹی تعینات کر دیا گیا ہے۔
    نبیل اختر کو سپیشل سیکرٹری مارکیٹنگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ تعینات کیا گیا ہے جبکہ امبرین چوہدری کو ڈپٹی سیکرٹری سکول ایجوکیشن مقرر کیا گیا ہے۔ ساجد منیر، جو تقرری کے منتظر تھے، کو ڈپٹی سیکرٹری انرجی ڈیپارٹمنٹ تعینات کر دیا گیا ہے۔طارق علی کو ڈی جی پی اے ایم آر اے تعینات کیا گیا ہے جبکہ عمر افتخار اور محمد تنویر کی خدمات پنجاب ریونیو اتھارٹی کے سپرد کر دی گئی ہیں۔ امین اویسی کو محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔یہ تقرر و تبادلے پنجاب حکومت کی جانب سے انتظامی امور میں بہتری لانے اور مختلف محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ ان تبدیلیوں کا مقصد محکموں کے درمیان تعاون کو بڑھانا اور افسران کی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کرنا ہے۔