خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حالیہ سیاسی سرگرمیوں پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے ڈی چوک پر جلسہ کرنے کی کوشش کو روکا جائے گا، اور پی ٹی آئی کو 8 ستمبر کو جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ڈی چوک پر جلسہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، لیکن یہ جلسہ حکومت کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کے باعث پارٹی پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں جلسے کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ کہتے ہیں کہ کسی کا باپ جلسہ سے نہیں روک سکتا، میں کہتا ہوں کہ 8 ستمبر کو بھی جلسہ نہیں کرنے دیں گے،
فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کی حکومت پر سخت الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ کرپشن کے خاتمے کے دعویدار تھے، انہوں نے خود ریٹ فکس کر رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیسوں کے عوض پوسٹنگ، ٹرانسفر اور بھرتیاں طے کی جاتی ہیں، جس سے صوبے کی انتظامی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے۔گورنرفیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپنی اکثریت کھو چکے ہیں اور انہیں فوری طور پر اعتماد کا ووٹ لینا چاہیے۔ ان کے مطابق، وزیراعلیٰ کی حکومت عوام کے اعتماد پر پورا نہیں اتر رہی اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال بھی انتہائی غیر تسلی بخش ہے۔
صوبے میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ حکومت کی ناکامیوں کی وجہ سے صوبے کے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے اور انہیں اس کا جواب دینا ہوگا۔فیصل کریم کنڈی کے یہ بیانات پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف ایک بڑی سیاسی چال کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں، جس کا مقصد پارٹی کی مقبولیت کو کم کرنا اور صوبے میں سیاسی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
Author: صدف ابرار
-

پی ٹی آئی کو آنے والے دنوں میں بھی جلسہ کرنے کی اجازت نہیں ملے گی ، گورنر کے پی
-

رحیم یار خان: کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کا حملہ، 11 پولیس اہلکار شہید، 7 زخمی
رحیم یار خان کے کچے کے علاقے ماچھکہ میں پولیس قافلے پر ڈاکوؤں کے بہیمانہ حملے میں 11 پولیس اہلکار شہید ہوگئے جبکہ 7 دیگر اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس کا قافلہ اس علاقے میں گشت کر رہا تھا۔پولیس حکام کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دو پولیس موبائل گاڑیاں، جن میں 20 سے زائد اہلکار سوار تھے، ماچھکہ کے علاقے میں گشت کر رہی تھیں۔ بارش کے باعث دونوں گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈاکوؤں نے قافلے پر حملہ کر دیا۔ ڈاکوؤں نے پہلے پولیس موبائلوں پر راکٹ سے حملہ کیا اور پھر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 11 اہلکار موقع پر ہی شہید ہوگئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں 7 اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ان میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، اور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ان کی جان بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ زخمی اہلکاروں کو بہتر طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری کو علاقے میں طلب کر لیا گیا ہے، اور ڈاکوؤں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد زیادہ تھی اور وہ جدید ہتھیاروں سے لیس تھے۔ پولیس اور رینجرز کے دستے علاقے کی ناکہ بندی کر کے ڈاکوؤں کی تلاش میں مصروف ہیں۔
رحیم یار خان میں پیش آنے والے اس اندوہناک واقعے پر اعلیٰ حکام نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین کے لیے امداد کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی ہے کہ ڈاکوؤں کو جلد از جلد گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔پولیس حکام کی جانب سے ڈاکوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے، تاکہ اس طرح کے واقعات کا دوبارہ سدباب کیا جا سکے اور علاقے میں امن و امان قائم کیا جا سکے۔ -

سپریم کورٹ نے مبارک ثانی کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے مبارک ثانی کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے، جسے چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے تحریر کیا۔ یہ حکم نامہ پنجاب حکومت کی نظرثانی درخواست پر جاری کیا گیا، جس میں سپریم کورٹ نے 6 فروری اور 24 جولائی 2024 کے فیصلوں میں موجود معترضہ پیراگرافس کو حذف کرنے کا حکم دیا ہے۔حکم نامے کے مطابق، وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے 24 جولائی 2024 کے فیصلے میں تصحیح کے لیے ایک متفرق درخواست دائر کی تھی، جس کے ساتھ پارلیمان نے بھی ایک متفقہ قرارداد منظور کی تھی۔ اس درخواست میں وفاق نے بعض جید علماء کرام کا نام لے کر استدعا کی تھی کہ ان کی آراء کو مدنظر رکھا جائے۔عدالتی حکم نامہ میں بتایا گیا کہ علماء کرام نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مختلف پیراگرافس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
مفتی تقی عثمانی نے ترکیہ سے اور جواد علی نقوی نے لاہور سے ویڈیو لنک کے ذریعے دلائل دیے، جبکہ مولانا فضل الرحمان، مفتی شیر محمد خان، مولانا طیب قریشی، صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر، اور مولانا ڈاکٹر عطاالرحمان عدالت میں خود پیش ہوئے۔ ان علماء کرام نے معترضہ فیصلے کے پیراگرافس کو حذف کرنے کے لیے تفصیلی دلائل دیے اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو بھی پیشِ نظر رکھنے پر زور دیا۔عدالت میں مفتی منیب الرحمان، حافظ نعیم الرحمان، پروفیسر ساجد میر اور مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ بوجوہ پیش نہیں ہو سکے۔ تاہم ان غیر حاضر علماء کی نمائندگی مفتی حبیب الحق شاہ، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، حافظ احسان احمد اور مفتی عبدالرشید نے کی۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق، عدالت نے اپنے 6 فروری اور 24 جولائی 2024 کے فیصلوں میں تصحیح کرتے ہوئے معترضہ پیراگرافس کو حذف کر دیا ہے۔ یہ پیراگرافس آئندہ کسی بھی قانونی مقدمے میں نظیر کے طور پر پیش یا استعمال نہیں کیے جا سکیں گے۔ ٹرائل کورٹ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مذکورہ مقدمے کا فیصلہ قانون کے مطابق کرے، بغیر اس کے کہ وہ ان حذف شدہ پیراگرافس سے متاثر ہو۔سپریم کورٹ نے مختصر حکم نامے میں وضاحت کی ہے کہ اس مختصر حکم نامے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے اس سے قبل مبارک ثانی ضمانت کیس میں پنجاب حکومت کی جانب سے دائر نظرثانی درخواست پر مختصر فیصلہ سنایا تھا، جس میں علماء اور مذہبی جماعتوں کے نمائندوں کے دلائل کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 24 جولائی 2024 کو فیصلے میں کچھ پیراگرافس حذف کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد وفاقی حکومت کی درخواست پر سپریم کورٹ نے 6 فروری اور 24 جولائی کے فیصلوں سے معترضہ پیراگرافس کو حذف کرنے کا حتمی حکم دیا ہے۔ -

مولانا فضل الرحمان کا مبارک ثانی کیس کے فیصلے کا خیرمقدم، یوم تشکر کا اعلان
جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سپریم کورٹ کے مبارک ثانی کیس میں فیصلہ سنانے کے بعد کل ملک بھر میں یوم تشکر منانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، جہاں انہوں نے اس تاریخی فیصلے پر دینی جماعتوں اور ان کے کارکنان کو مبارکباد پیش کی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت عقیدہ ختم نبوت کے خلاف سازش نہیں کرسکتی، اور سپریم کورٹ کا فیصلہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے اس کیس میں قابل اعتراض تمام شقوں کو ختم کر دیا ہے، جو کہ دینی جماعتوں کی محنت اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دینی جماعتوں نے سپریم کورٹ کو فیصلے سے متعلق قائل کیا اور عدالت نے پچھلی سماعتوں کے دوران سامنے آنے والے اعتراضات کو ختم کر دیا۔
سربراہ جے یو آئی نے چیف جسٹس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہت فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے اور جس مثبت رویے کا اظہار کیا ہے، وہ قابل ستائش ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایک انسان اتنے بڑے منصب پر ہو کر یہ کہتا ہے کہ ہم سے غلطی ہوسکتی ہے، تو یہ ایک بڑی بات ہے اور اس پر انہیں داد دینی چاہیے۔مولانا فضل الرحمان نے اس مسئلے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے کو بھی سراہا اور کہا کہ اس معاملے پر سب ایک صفحے پر تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انکے انسانی حقوق کو تسلیم کرتے ہیں بشرطیکہ وہ آئین پاکستان کو تسلیم کریں۔ اگر کوئی شہری دنیا کے کسی حصے میں آئین کو تسلیم نہیں کرتا تو اس کے شہری حقوق ختم ہو جاتے ہیں۔سپریم کورٹ کے فیصلے کو دینی جماعتوں اور مذہبی طبقے کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس کیس میں عدالت نے وہی فیصلہ کیا جو دینی جماعتوں کی خواہش تھی۔ ان کے مطابق، اس فیصلے سے ملک میں ختم نبوت کے عقیدے کی مضبوطی مزید بڑھے گی اور آئندہ اس عقیدے کے خلاف کسی قسم کی سازش نہیں ہونے دی جائے گی۔مولانا فضل الرحمان کی اس تقریر اور اعلان کے بعد ملک بھر میں ان کے حامیوں نے یوم تشکر منانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ -

کارساز حادثہ: باپ بیٹی کی ہلاکت پر سینیٹ کمیٹی نے ملزمہ کی رپورٹ طلب کرلی
کراچی کے علاقے کارساز کے قریب پیش آنے والے افسوسناک حادثے کے حوالے سے سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے صحت نے ملزمہ کی صحت اور ٹیسٹوں کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ اس حادثے میں ایک تیز رفتار جیپ نے موٹر سائیکل سواروں کو روند دیا تھا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت دو افراد جاں بحق ہوگئے تھے، جبکہ چار دیگر افراد زخمی ہوگئے تھے۔سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے صحت کے چیئرمین عامر چشتی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جناح اسپتال انتظامیہ سے ملزمہ کی صحت اور ٹیسٹوں پر مبنی رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں ملزمہ کی صحت اور ٹیسٹوں کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جا رہے ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔
عامر چشتی نے مزید کہا کہ کمیٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اس معاملے میں کوئی فاؤل پلے نہ ہو اور تمام کارروائی شفاف طریقے سے عمل میں لائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں اور حادثے کے ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا ملے۔یاد رہے کہ یہ المناک حادثہ 19 اگست کی شام کارساز کے قریب پیش آیا تھا، جب ایک تیز رفتار گاڑی نے موٹر سائیکلوں کو روندتے ہوئے ایک اور گاڑی کو بھی ٹکر مار دی تھی۔ اس حادثے میں ایک باپ اور اس کی بیٹی موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے، جبکہ چار دیگر افراد زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے تھے۔حادثے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، اور لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا یہ اقدام عوام کے ان خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ -

فری لانسرز کا حکومت سے انٹرنیٹ مسائل کے حل کا مطالبہ
پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری سے وابستہ فری لانسرز نے حکومت سے فوری طور پر انٹرنیٹ مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فری لانسرز کا کہنا ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ کی غیرمستحکم صورتحال کے باعث ای کاروبار سے وابستہ افراد کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے، جس کی مالیت 50 لاکھ ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔لاہور میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں معروف فری لانسر ثاقب اظہر نے بتایا کہ ملک بھر میں تقریباً 18 لاکھ افراد ای کاروبار، خاص طور پر فری لانسنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں، جنہیں انٹرنیٹ کے مسائل کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ ثاقب اظہر نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ان مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات اٹھائے تاکہ فری لانسرز اور دیگر ای کاروباری افراد کی مشکلات میں کمی آئے۔
ثاقب اظہر نے مزید کہا کہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے سے وابستہ افراد کا کاروبار بھی انٹرنیٹ مسائل کے باعث شدید متاثر ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کے مسائل کی وجہ سے نہ صرف فری لانسرز بلکہ پورے ملک کی آئی ٹی انڈسٹری کو نقصان پہنچ رہا ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جو بھی فیصلے کیے جائیں، انہیں فری لانسرز اور ای کاروبار سے وابستہ افراد کو اعتماد میں لے کر کیا جائے تاکہ انٹرنیٹ کے مسائل کا مناسب حل نکالا جا سکے اور ملک کی آئی ٹی انڈسٹری کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ -

اندرونی خلفشار اور یوٹرن کی سیاست نے پی ٹی آئی کے کارکنان کو مایوس کیا.شازیہ مری
پاکستان پیپلز پارٹی کی ترجمان شازیہ مری نے پی ٹی آئی کی موجودہ صورتحال اور قیادت کے طرز سیاست پر کڑی تنقید کی ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شازیہ مری نے کہا کہ پی ٹی آئی اس وقت شدید اندرونی خلفشار کا شکار ہے اور پارٹی قیادت کو خود بھی سمجھ نہیں آرہا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔شازیہ مری نے پی ٹی آئی کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کو پارٹی کی ناکام پالیسیوں اور غیر مستحکم قیادت کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے اپنی غیر سنجیدہ سیاست اور مستقل یوٹرنز کے ذریعے اپنے کارکنان کو مایوس کر دیا ہے۔ ان کے بقول، پارٹی کے اندرونی اختلافات اور غیر واضح حکمت عملی نے پی ٹی آئی کو ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں وہ نہ صرف عوامی حمایت کھو چکی ہے بلکہ اس کے اپنے کارکنان بھی ان کی پالیسیوں سے تنگ آگئے ہیں۔شازیہ مری نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست کا محور صرف اور صرف تماشہ بنانا رہ گیا ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ سیاست کریں، تماشہ نہیں، اور ملک کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ اب کوئی ایمپائر نہیں ہے جو ان کی فرمائشیں پوری کرے، لہٰذا وقت ہے کہ وہ اپنی روش تبدیل کریں۔
پیپلز پارٹی کی ترجمان نے عوام کی مشکلات اور پریشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج پھر ایک مغرور قیادت کی ایما پر لوگوں کو سڑکوں پر بلا وجہ تنگ کیا گیا۔ چھوٹی چھوٹی ٹولیاں بنا کر راستے بند کیے گئے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شازیہ مری نے بانی پی ٹی آئی کی سیاست کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کے یوٹرنز نے نہ صرف عوام کو مایوس کیا ہے بلکہ ان کے اپنے کارکنان بھی اب ان کی قیادت سے مایوس ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ پاکستان ہم سب کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے اور اپنی ذات بعد میں آتی ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے عوام کے مسائل کو نظر انداز کر کے اپنی سیاست کو مقدم رکھا ہوا ہے، جو کہ ملکی ترقی اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاستدانوں کو ملک کے مفاد میں سوچنا چاہیے اور عوام کی خدمت کو اپنی اولین ترجیح بنانا چاہیے۔ -

وزیراعظم شہباز شریف کی ڈاکٹر فہد الترکی سے ملاقات: ڈیجیٹل معیشت اور زر مبادلہ پر گفتگو
اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور عرب مانیٹری فنڈ کے چیئرپرسن ڈاکٹر فہد الترکی کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں پاکستان اور عرب ممالک کے مابین دیرینہ برادرانہ تعلقات اور ان کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور عرب ممالک کے درمیان تاریخی روابط ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم نے اس موقع پر ملک میں زر مبادلہ کو قانونی طریقے سے لانے کے لیے حکومت کے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومت نے اس حوالے سے کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں ای کامرس کے شعبے اور معیشت کی ڈیجیٹائزیشن کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے، تاکہ ملک کی معیشت کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔وزیراعظم نے کہا کہ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد وطن عزیز کے لیے اہم زر مبادلہ بھیجتی ہے۔ اس تناظر میں، انہوں نے کہا کہ بونا اور راست کے تعاون سے پاکستان اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ڈیجیٹل رابطہ استوار ہونا ایک انتہائی خوش آئند قدم ہے۔ انہوں نے بونا، راست کنیکٹیویٹی پراجیکٹ کو ملک میں ڈیجیٹل لین دین کو مؤثر بنانے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اہم اقدام ملک میں ترسیلات زر کے بہاؤ کو با ضابطہ بنانے میں مددگار ثابت ہوگا اور ڈیجیٹل گورننس کے نظام کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ بونا اور راست کی بدولت پاکستانیوں کے لیے اپنے پیسے پاکستان بھیجنا نہ صرف آسان ہوگا بلکہ یہ عمل زیادہ سستا بھی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بونا، راست منصوبہ ہمارے مشترکہ ویژن کا عکاس ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دے گا۔عرب مانیٹری فنڈ کے چیئرپرسن ڈاکٹر فہد الترکی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عرب دنیا سے باہر پہلا ملک ہے جو بونا منصوبے سے منسلک ہوا ہے۔ انہوں نے بونا، راست کی بدولت دونوں ممالک کی معیشتوں میں باہمی تعاون اور اعتماد کے ساتھ ترقی کی توقع ظاہر کی۔ ڈاکٹر فہد نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور باہمی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور عرب دنیا کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کیا جائے گا۔ انہوں نے مستقبل میں بھی باہمی تعاون کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ -

اسلام آباد ہائیکورٹ: عمران خان کی میڈیا سے گفتگو پر پابندی عائد کر دی گئی
سابق وزیر اعظم عمران خان کے جیل ٹرائل کی کوریج پر پابندی کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی، جہاں جسٹس گل حسن اورنگزیب نے اس معاملے پر اہم ریمارکس دیے۔ سماعت کے دوران جسٹس گل حسن اورنگزیب نے واضح کیا کہ جیل ٹرائل کے دوران میڈیا کو ملزم سے انٹرویو کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اور صحافیوں کو ملزم سے براہِ راست گفتگو کرنے سے روکا جانا ضروری ہے۔جسٹس گل حسن نے کہا کہ جیل پروسیڈنگز کو ریگولیٹ کرنا جج کی ذمہ داری ہے، نہ کہ انتظامیہ کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر صحافیوں کو ملزم سے انٹرویو کی اجازت نہیں دی جاتی، تو یہ اوپن کورٹ کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔ جیل میں ہونے والی سماعت کی رپورٹنگ پر پابندی لگانے سے ٹرائل کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
اس موقع پر عدالت نے اڈیالہ جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر سختی سے عمل درآمد کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ سماعت کے دوران ایس او پیز کی خلاف ورزی نہ ہو۔ جیل انتظامیہ کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ وہ جیل ٹرائل کی پروسیڈنگز کے دوران صحافیوں اور میڈیا کی رسائی کو محدود رکھیں تاکہ ملزم کی حفاظت اور ٹرائل کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔واضح رہے کہ عمران خان کے جیل ٹرائل کی کوریج پر پابندی کی خبر نے صحافتی اور سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ اس فیصلے کو بعض حلقے آزادی اظہار کے خلاف قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ٹرائل کی شفافیت اور انصاف کی فراہمی کے لئے ضروری ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے دیے گئے اس فیصلے کا مقصد جیل ٹرائل کے دوران کسی بھی غیر ضروری مداخلت سے بچنا اور قانونی عمل کو بغیر کسی دباؤ کے جاری رکھنا ہے۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جیل ٹرائل کو منصفانہ اور شفاف طریقے سے مکمل کیا جائے گا، اور کسی بھی قسم کی میڈیا یا عوامی دباؤ کو اس پر اثرانداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔یہ کیس آئندہ دنوں میں مزید قانونی بحث اور سماعت کا باعث بن سکتا ہے، اور اس کے نتائج کا اثر نہ صرف عمران خان کے جیل ٹرائل پر بلکہ ملک کی صحافتی آزادی پر بھی پڑ سکتا ہے۔ -

وزیراعظم کا مذہبی جماعت کے مظاہرین کے ریڈ زون میں داخل ہونے پر تحقیقات کا حکم
وزیراعظم نے مذہبی جماعت کے مظاہرین کی جانب سے دارالحکومت کے حساس علاقے ریڈ زون میں داخل ہونے کے واقعے پر تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ یہ واقعہ پیر کی دوپہر پیش آیا جب مظاہرین کی ایک بڑی تعداد نے تمام سیکیورٹی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے ریڈ زون تک رسائی حاصل کی اور سپریم کورٹ کے سامنے پہنچ گئی۔وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ احکامات میں کہا گیا ہے کہ مظاہرین نے لگائی گئی تین سیکیورٹی رکاوٹوں کو کیسے عبور کیا، اس کی جامع تحقیقات کی جائیں۔ اس کے علاوہ، وزیراعظم نے استفسار کیا ہے کہ اس اہم موقع پر اعلیٰ پولیس افسران جائے وقوعہ پر کیوں موجود نہیں تھے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم آفس نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ مظاہرین نے ریڈ زون کے لگائے گئے گیٹ کو کیسے عبور کیا اور اس حساس علاقے میں داخل ہو کر سپریم کورٹ کے سامنے تک کیسے پہنچے۔ ان سوالات کے تناظر میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اس واقعے کی تفصیلات جمع کریں اور ایک جامع رپورٹ تیار کریں۔
ریڈ زون، جو کہ حکومت کے اہم دفاتر اور اداروں کا مرکز ہے، کی سیکیورٹی ہمیشہ سے ہی انتہائی سخت ہوتی ہے۔ اس کے باوجود مظاہرین کا اس علاقے میں داخل ہونا ایک سنگین سیکیورٹی خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف دارالحکومت کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ حکومت کے اعلیٰ حلقوں میں تشویش بھی پیدا کر دی ہے۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس واقعے کے تمام پہلوؤں کی تفصیلی تحقیقات کی جائیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جو بھی افسران یا اہلکار اس معاملے میں غفلت کے مرتکب پائے جائیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائےمظاہرین کے اس عمل نے دارالحکومت میں سیاسی اور انتظامی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، اور اس معاملے پر حکومت کی جانب سے سخت ردعمل متوقع ہے۔ یہ واقعہ آئندہ دنوں میں مزید تحقیقات اور بحث کا باعث بن سکتا ہے، اور اس کے نتائج کا اثر ملکی سیاست پر بھی پڑ سکتا ہے۔