اسلام آباد کے علاقے ترنول میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما، رکن قومی اسمبلی (ایم این اے) ارباب عامر ایوب کو پولیس پر فائرنگ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس واقعے میں ارباب عامر ایوب کی فائرنگ سے ایس ایچ او سمیت آٹھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ واقعے کی سنگینی کے پیش نظر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ارباب عامر ایوب اور ان کے ساتھیوں کو حراست میں لے لیا۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ ارباب عامر ایوب کے ساتھ ایم پی اے کے امیدوار ملک شہاب کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے ملزمان کے زیر استعمال اسلحہ اور گاڑیاں بھی قبضے میں لے لی ہیں۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں سیکورٹی مزید سخت کردی گئی ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاکستان تحریک انصاف نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے باوجود ترنول میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے پی ٹی آئی کے جلسے کو روکنے کے لیے جگہ جگہ کنٹینر لگا کر راستے بلاک کر دیے گئے تھے۔ انتظامیہ کا موقف تھا کہ جلسے کے انعقاد سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔ سیکرٹری جنرل تحریک انصاف عمر ایوب نے اعلان کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر اسلام آباد جلسے کی تاریخ تبدیل کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلسے کی نئی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بھی بتایا کہ اعظم سواتی نے جلسے کو ملتوی کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اب جلسہ 8 یا 9 ستمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔
Author: صدف ابرار
-

پی ٹی آئی رہنما ایم این اے ارباب عامر ایوب پولیس پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار
-

پارلیمنٹ اور قائمہ کمیٹیوں میں خواتین کو ہراسانی کا سامنا: اراکین پارلیمنٹ کا شکوہ
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے پارلیمنٹ کے اندر خواتین کو ہراساں کیے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ خواتین کو نہ صرف عام زندگی میں بلکہ پارلیمنٹ کے اندر اور قائمہ کمیٹیوں میں بھی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ انکشافات ایک نجی ٹی وی پروگرام میں سامنے آئے جس میں مسلم لیگ ن کی نوشین افتخار، پیپلز پارٹی کی سحر کامران، اور تحریک انصاف کی سینیٹر ڈاکٹر زرقا تیمور نے خواتین کے لباس پر اعتراض اور ہراساں کرنے کے معاملے پر گفتگو کی۔سحر کامران نے اس بات پر زور دیا کہ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے کے لباس پر تنقید کرے۔ انہوں نے بتایا کہ 2018 میں سوک ایجوکیشن کا بل منظور ہوا تھا، لیکن اس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہر سرگرمی میں حصہ لینے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ مردوں کو حاصل ہے، لیکن موجودہ معاشرے میں خواتین کو ہراسانی کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔
رہنما مسلم لیگ ن نوشین افتخار نے بھی اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے لباس سے متعلق پی ٹی آئی کے رکن اقبال آفریدی کے بیان پر انہیں افسوس ہوا۔ نوشین افتخار نے کہا کہ اگر اقبال آفریدی کو لباس پر اعتراض تھا تو وہ براہ راست ان سے شکایت کرتے، لیکن انہیں میڈیا میں اس بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہراسانی کے قوانین موجود ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ نوشین افتخار نے یہ بھی کہا کہ خواتین کسی بھی پلیٹ فارم پر محفوظ نہیں ہیں اور ہر جگہ انہیں ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔تحریک انصاف کی سینیٹر زرقا تیمور نے کہا کہ معاشرہ خواتین اور مردوں دونوں کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں 17 فیصد کے بجائے 50 فیصد خواتین ہونی چاہییں تاکہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ زرقا تیمور نے کہا کہ خواتین کے حقوق سے متعلق مرد ارکان پارلیمنٹ کو تربیت دینے کی ضرورت ہے اور یہ کہ تمام سیاسی جماعتوں کی خواتین کو اپنے حقوق سے متعلق نئی قانون سازی پر غور کرنا چاہیے۔اس گفتگو کے دوران تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کی خواتین ارکان نے مل کر اس بات پر اتفاق کیا کہ خواتین کے لباس پر اعتراض اور ہراسانی جیسے مسائل کے حل کے لیے مزید قانون سازی کی جانی چاہیے تاکہ خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ -

جلسہ کرنا ہمارا آئینی و جمہوری حق ہے. بیرسٹر سیف
مشیر خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ جلسہ کرنا تحریک انصاف کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب حکومت کی جانب سے کچھ سیاسی جماعتوں کو جلسے کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ تحریک انصاف کو اس حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔بیرسٹر سیف نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد میں سوائے تحریک انصاف کے، تمام جماعتوں کو جلسوں کی اجازت دی جا رہی ہے، جسے وہ ناانصافی اور جانبداری قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا مقصد دھرنا دینا نہیں ہے بلکہ وہ ایک پرامن جلسہ منعقد کرنا چاہتے ہیں۔ اگر کبھی دھرنے کی ضرورت پیش آئی تو اس کا اعلان کھلے عام کیا جائے گا، لیکن اس وقت صرف جلسے کی بات ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ترنول میں جلسہ کے بعد تحریک انصاف کے کارکن پرامن طریقے سے واپس چلے جائیں گے اور کسی قسم کے تصادم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
لیکن اگر جلسہ کرنے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں تو تحریک انصاف اپنا راستہ خود صاف کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے کارکن خیبرپختونخوا اور پنجاب سے اسلام آباد آئیں گے، اور وہ عدالت کے حکم کے تحت ہر حال میں جلسہ کریں گے۔بیرسٹر سیف نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ عوام کی جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور تاریخ نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ عوام ہی جیتتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا موقف قانونی اور جمہوری ہے، اور وہ اپنی جدوجہد کو پرامن طریقے سے جاری رکھیں گے۔تحریک انصاف کے اس بیان کے بعد سیاسی ماحول مزید گرما گیا ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس جلسے کو کس طرح سنبھالتے ہیں۔ بیرسٹر سیف کے بیانات نے اس جلسے کو ایک اہم سیاسی سرگرمی بنا دیا ہے، جس کے اثرات آگے جا کر ملکی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ -

پنجاب بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ: جلسے جلوس، ریلیوں اور احتجاج پر تین روزہ پابندی
پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور عوام کی حفاظت کے پیش نظر تین روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ یہ پابندی 22 اگست سے 24 اگست تک نافذ رہے گی، جس کے دوران جلسے جلوس، ریلیوں، دھرنوں اور احتجاج پر مکمل طور پر پابندی ہوگی، محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، موجودہ صورتحال میں کوئی بھی عوامی اجتماع دہشت گردوں کے لیے آسان ہدف بن سکتا ہے، جس سے انسانی جانوں اور املاک کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 144 کا نفاذ عوامی مفاد میں کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ اس قانون کے تحت کسی بھی قسم کی عوامی سرگرمی، جیسے کہ جلسے جلوس، ریلیاں، یا احتجاجی مظاہرے، کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
حکومت نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ دفعہ 144 کی پابندی کو بڑے پیمانے پر عوام تک پہنچایا جائے گا تاکہ لوگوں کو اس کے بارے میں آگاہی ہو اور وہ اس دوران کسی بھی قسم کی خلاف ورزی سے بچ سکیں۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔پنجاب حکومت کے اس اقدام کا مقصد دہشت گردی کے خطرات کو کم کرنا اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس پابندی کا احترام کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔ -

ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے کی تحقیقات مکمل، خراب موسم کو زمہ دار قرار دیا گیا
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے کی تحقیقات مکمل ہو گئی ہیں، جس میں معلوم ہوا ہے کہ حادثہ خراب موسم اور ہیلی کاپٹر کے زائد وزن کی وجہ سے پیش آیا۔ ایرانی میڈیا نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے اس تحقیقاتی رپورٹ کی تفصیلات نشر کی ہیں۔تحقیقات کے مطابق، ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے کی دو بنیادی وجوہات سامنے آئی ہیں ،رپورٹ کے مطابق، حادثے کے وقت موسم کی صورتحال سازگار نہیں تھی، جس نے پرواز کے دوران مشکلات پیدا کیں۔دوسری وجہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر کی گنجائش سے زائد دو افراد سوار تھے، جس کی وجہ سے ہیلی کاپٹر کے وزن میں اضافہ ہوا، اور اس نے پرواز کو مزید مشکل بنا دیا۔
یہ تحقیقاتی رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ حادثے کے وقت ہیلی کاپٹر کی حالت اور ماحول دونوں ہی اس واقعے کی وجوہات میں شامل تھے۔ ایران کے سابق صدر ابراہیم رئیسی 19 مئی 2024ء کو اس ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ ان کی موت نے ایران میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی اور اس کے بعد سے اس حادثے کی تفصیلات کی تحقیقات جاری تھیں۔ تحقیقات کی مکمل رپورٹ نے اب اس واقعے کی حقیقت کو واضح کر دیا ہے اور اس کے بعد کے اقدامات کی سمت کو متعین کیا ہے۔ -

21 اگست: تاریخ کے آئینے میں
تحقیق :آغا نیاز مگسی
21 اگست 1915ء کو اٹلی نے ترکی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا، جو پہلی جنگ عظیم میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ اٹلی کی اس جنگ میں شمولیت نے اتحادی طاقتوں کی پوزیشن کو مضبوط کیا اور جنگ کی عالمی سطح پر صورتحال میں تبدیلی کی۔ اٹلی کے اس اقدام نے اتحادیوں کو اضافی فوجی اور حکمت عملی کی مدد فراہم کی، جس نے جنگ کی سمت اور نتیجے پر نمایاں اثر ڈالا۔ اس دوران اٹلی نے ترکی کے خلاف جنگ کی کوششوں میں شامل ہو کر خود کو بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ جوڑ دیا، اور یہ اقدام جنگ کے اختتام اور عالمی سیاست میں اس کے کردار کی بنیاد بنا۔
پاکستان نے 1952ء میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا رکن بننے کے بعد عالمی کرکٹ میں اپنا ایک اہم مقام قائم کیا۔ اس رکنیت نے پاکستان کو بین الاقوامی کرکٹ کے بڑے ایونٹس میں شرکت کا موقع فراہم کیا اور کرکٹ کے کھیل میں اس کے کردار کو اجاگر کیا۔جنیوا معاہدے کے بعد ویت نام میں جنگ بندی ہوئی، جس کے نتیجے میں ملک شمالی اور جنوبی ویت نام میں تقسیم ہو گیا۔ یہ تقسیم بعد میں ویت نام جنگ کی بنیاد بنی اور پورے خطے پر بڑے اثرات مرتب کیے۔21 اگست 1977ء کو سری لنکا میں انتخابات کے دوران صدر بندرا نائیکے کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، جو ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم تبدیلی کی علامت بنی۔ اس شکست نے سری لنکا کی سیاست میں ایک نیا دور شروع کیا، جس میں نئی حکومتی پالیسیوں اور سیاسی سمت کا تعین ہوا۔ بندرا نائیکے کی حکومت کی شکست نے سری لنکا میں سیاسی تبدیلیاں اور اصلاحات کی راہ ہموار کی، اور اس کے نتیجے میں ملک میں ایک نئی سیاسی قیادت ابھری۔ یہ انتخابات سری لنکا کی جمہوری ترقی اور سیاسی استحکام کے لئے ایک اہم قدم ثابت ہوئے، اور اس کے ساتھ ہی ملک کی سیاست میں ایک نئی روشنی اور امکانات کا آغاز ہوا۔
21 اگست 1983ء کو انٹارکٹیکا میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 89.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ انتہائی سردی کا ریکارڈ انٹارکٹیکا کی شدید سردیوں کی شدت کو ظاہر کرتا ہے اور عالمی موسمیاتی ریکارڈز میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔
1988ء – ایران عراق جنگ کا خاتمہ ،ایران عراق جنگ، جو آٹھ سال تک جاری رہی، آج ہی کے دن ختم ہوئی۔ یہ جنگ دونوں ممالک کے لئے تباہ کن تھی اور اس کے خاتمے نے خطے میں امن کی امیدیں پیدا کیں۔21 اگست 1991ء کو او جی ڈی سی نے پاکستان کے بزدار اور ٹھٹھہ کے علاقوں میں قدرتی گیس کے ذخائر دریافت کیے۔ یہ دریافت پاکستان کی توانائی کی ضروریات کے لئے ایک اہم پیشرفت تھی، جس نے ملک کی توانائی کی پالیسی اور اقتصادی ترقی پر بڑے اثرات مرتب کیے۔قدرتی گیس کے یہ ذخائر پاکستان کو توانائی کی خودمختاری کی جانب ایک قدم اور قریب لے آئے اور اس کی معیشت میں توانائی کی فراہمی کو مستحکم کیا۔ اس دریافت نے ملک کے توانائی کے وسائل میں اضافے کی راہ ہموار کی اور پاکستان کے توانائی کے شعبے میں ترقی کی بنیاد رکھی۔
21 اگست 2003ء کو لائبریا میں باغیوں اور صدر چارلس ٹیلر کی حامی افواج کے درمیان شدید لڑائی ہوئی، جس میں سوسے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ لڑائی لائبریا کی سیاسی اور انسانی صورتحال کو مزید بدتر بنا رہی تھی، اور ملک میں جاری خانہ جنگی نے بے گناہ شہریوں کی زندگیاں مزید مشکل بنا دی تھیں۔لڑائی کے دوران ہونے والی انسانی قربانیوں نے عالمی برادری کی توجہ حاصل کی اور لائبریا میں جاری بحران کے حل کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ اس شدید تشویش کے پیش نظر بین الاقوامی امداد اور امن قائم کرنے کی کوششیں تیز ہو گئیں، لیکن ملک کی سیاسی اور سماجی صورتحال کو درست کرنے کے لیے ابھی مزید اقدامات کی ضرورت تھی۔
یادگاری ڈاک ٹکٹ – 21 اگست 1996ء21 اگست 1996ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے لاہور جنرل پوسٹ آفس (جی پی او) کی تعمیر نو کے موقع پر ایک خوبصورت یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ٹکٹ پر لاہور جی پی او کی عمارت کی تفصیلی تصویر شائع کی گئی تھی، جس نے عمارت کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو اجاگر کیا۔
ٹکٹ پر "RESTORATION OF NATIONAL HERITAGE GENERAL POST OFFICE LAHORE AUGUST 21, 1996” کے الفاظ تحریر تھے، جو اس تعمیر نو کی اہمیت کو بیان کرتے ہیں۔ اس ڈاک ٹکٹ کی مالیت پانچ روپے تھی اور اس کا ڈیزائن عادل صلاح الدین نے تیار کیا تھا۔ یہ ڈاک ٹکٹ لاہور جی پی او کی تاریخی بحالی کو ایک یادگار شکل میں محفوظ کرتا ہے اور قومی ورثے کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔تعطیلات و تہوار
1831ء – بیلجیم کے شاہ لیوپولڈ کا آئین پر دستخط
بیلجیم میں شاہ لیوپولڈ نے 1831ء میں نئے آئین پر دستخط کئے، جس کے بعد بیلجیم میں قومی دن پر عام تعطیل منائی جاتی ہے۔ یہ دن بیلجیم کی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتا ہے اور ملک کی قومی شناخت کو مضبوط کرتا ہے۔ -

دفتر خارجہ کی دہشت گردی کے شکار افراد کے عالمی دن پر پیغام
دفتر خارجہ کے ترجمان نے دہشت گردی کے واقعات میں جان گنوانے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا کہ دہشت گردی کا شکار افراد کے عالمی دن پر، ہم ان سب کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ کر اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے شکار افراد اور ان کے خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور دہشت گردی کی ہر قسم کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ دہشت گردی کا شکار ہونے والے شہداء اور زندہ بچ جانے والوں کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو بھی خراج تحسین پیش کیا، جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جانیں نچھاور کیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو خصوصی خراج تحسین پیش کیا، جو کئی دہائیوں سے بھارتی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی قبضے اور بربریت میں ہزاروں کشمیری اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ پاکستانی عوام ہمیشہ اپنے مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائیوں کی سفارتی، سیاسی، اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے، اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیر میں جاری دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کرے۔
-

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت پی پی پی پنجاب کے رہنماؤں کا اجلاس
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے زرداری ہاؤس میں پی پی پی پنجاب کے رہنماؤں کے ساتھ ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اس اجلاس میں پنجاب کی سیاسی صورت حال، صوبائی حکومت کی کارکردگی، اور تنظیمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں پی پی پی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف، جنرل سیکریٹری حسن مرتضیٰ، سیکریٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ، اور دیگر اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔ ان میں رانا فاروق سعید، امتیاز صفدر وڑائچ، چوہدری منظور، مہر غلام فرید کاٹھیا، ندیم اصغر کائرہ، میاں اظہر حسین ڈار، اعجاز احمد سماں، ملک طاہر اختر، تسنیم قریشی، اور سید عنایت علی شاہ شامل تھے۔ اجلاس میں رائے شاہجہاں بھٹی، ثمینہ خالد گھرکی، نیلم جبار چوہدری، نرگس فیض ملک سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران بلاول بھٹو زرداری کو پی پی پی پنجاب کے رہنماؤں نے صوبے کی موجودہ سیاسی صورت حال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
انہوں نے پنجاب حکومت کی کارکردگی اور پارٹی کے تنظیمی امور پر بھی اپنی رائے اور تجاویز پیش کیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے رہنماؤں کی رپورٹ کو غور سے سنا اور ان کے مشوروں کی روشنی میں مستقبل کی حکمت عملی پر بات چیت کی۔اجلاس میں پی پی پی پنجاب کی تنظیمی صورت حال اور پارٹی کی ترقی کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی گفتگو کی گئی۔ بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی مضبوطی اور پنجاب میں اس کی موجودگی کو بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا۔ انہوں نے رہنماؤں کی تجاویز کو سراہا اور صوبے میں پارٹی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس کے اختتام پر بلاول بھٹو زرداری نے تمام شریک رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا اور انہیں یقین دلایا کہ پارٹی کی مرکزی قیادت پنجاب میں پارٹی کی کامیابی کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پی پی پی کو پنجاب میں مضبوط اور فعال بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ -

سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں کمرشل سرگرمیوں کو روکنے کا تاریخی فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں جاری کمرشل سرگرمیوں کو فوری طور پر روکنے کا حکم دیتے ہوئے تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا، جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس اطہر من اللہ کے حکم کو برقرار رکھا گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں موجود مونال ریسٹورنٹ، لامونتانا اور گلوریا جینز کافی شاپ جیسے کمرشل اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ 11 ستمبر 2024 سے وائلڈ لائف بورڈ ان تمام ریسٹورنٹس کا قبضہ سنبھالے گا، اور یہ عمل سی ڈی اے اور پولیس کی مدد سے کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ان ریسٹورنٹس تک جانے والے راستوں کو بیریئر لگا کر بند کیا جائے گا تاکہ مزید کمرشل سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔ اس کے علاوہ، ریسٹورنٹس کی عمارتوں کو وائلڈ لائف کو نقصان پہنچائے بغیر گرایا جائے گا، اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ ان عمارات کی جگہ کو کیسے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وائلڈ لائف ماہرین کی رائے لی جائے گی۔سپریم کورٹ نے اس بات کی بھی ہدایت کی ہے کہ ماہرین سے مشورہ کیا جائے کہ کیا اس علاقے میں پانی کے لیے مصنوعی جھیل بنائی جا سکتی ہے تاکہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ماحولیاتی تحفظ کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے نہ صرف مارگلہ ہلز نیشنل پارک کے ماحول کو محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ کمرشل سرگرمیوں کے باعث ہونے والے نقصان کو بھی روکا جا سکے گا۔ماحولیاتی تحفظ کے ماہرین نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک جیسے قدرتی وسائل کو بچانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کمرشل سرگرمیوں کو روک کر مارگلہ ہلز کی قدرتی خوبصورتی اور حیاتیاتی تنوع کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔اس فیصلے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں قدرتی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے اور اسے ایک محفوظ اور قدرتی علاقہ کے طور پر برقرار رکھا جائے گا۔ -

نیپرا نے کے الیکٹرک صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں اضافے کی منظوری دے دی
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کے الیکٹرک کے صارفین کے لیے مئی اور جون 2024 کی فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت کراچی کے لاکھوں صارفین کو آنے والے مہینوں میں مزید مہنگی بجلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔نیپرا کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق مئی 2024 کی فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 2 روپے 59 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کا اطلاق اکتوبر 2024 میں صارفین کے بلوں پر ہوگا، جس سے ان کے بجلی کے اخراجات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
اسی طرح، جون 2024 کی فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 3 روپے 17 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا ہے، جسے نومبر 2024 میں صارفین سے وصول کیا جائے گا۔ نیپرا کے اعلامیے کے مطابق، مئی اور جون کی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مجموعی طور پر بجلی 5 روپے 76 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی ہے۔یہ اضافہ کے الیکٹرک کے صارفین کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ بن سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں یہ اضافہ صارفین کے لیے مشکلات کا سبب بنے گا، کیونکہ وہ پہلے ہی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور دیگر مالی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
کے الیکٹرک کی جانب سے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز میں اضافہ کرنے کی درخواست پر نیپرا نے عوامی سماعت کی تھی، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمت میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کے سبب ہوتے ہیں، اور اس کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جاتا ہے۔نیپرا کے مطابق، کے الیکٹرک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ایندھن کی لاگت کو صارفین سے وصول کرے، تاہم یہ اضافہ عام عوام کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، کے الیکٹرک کے صارفین کو اس اضافے کے سبب اپنے بجلی کے بلوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔
صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے نیپرا کے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اضافہ عوام پر بوجھ ڈالے گا اور معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔ تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فیصلے پر نظرثانی کرے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کے الیکٹرک کے صارفین کو پہلے ہی لوڈ شیڈنگ، بجلی کی فراہمی میں عدم تسلسل اور بلوں میں اضافے جیسے مسائل کا سامنا ہے، اور اس اضافے کے بعد ان مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔نیپرا کا یہ فیصلہ عوامی ردعمل اور ماہرین کی تنقید کے باوجود نافذ العمل ہوگا، اور کے الیکٹرک کے صارفین کو اکتوبر اور نومبر میں بڑھتے ہوئے بلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔