وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کارکنان سے اپیل کی ہے کہ وہ کل پورے پاکستان سے ترنول چوک پہنچ جائیں اور تحریک انصاف کے جلسے کو کامیاب بنائیں۔ علی امین گنڈاپور نے ترنول جلسے کے حوالے سے جاری بیان میں کہا کہ عدالت سے حاصل کردہ این او سی (نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ) کو کمشنر اسلام آباد نے منسوخ کر دیا ہے، جو کہ وفاقی حکومت کی فسطائیت، جبر اور غیر قانونی اقدامات کا حصہ ہے۔وزیراعلیٰ نے اس فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کل 3 بجے تک صوابی انٹرچینج پہنچ جائیں اور تحریک انصاف کے قافلے میں شامل ہوں۔علی امین نے کہا کہ کہ ہم ہر صورت میں جلسہ کریں گے، چاہے وفاقی حکومت اور اس کے ادارے ہمیں روکنے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کریں۔
علی امین گنڈاپور نے کہا، "یہ عدالتوں کا احترام نہیں کرتے، لیکن کل کا دن ثابت کرے گا کہ طاقت عوام کی ہے یا ان مینڈیٹ چوروں کی۔” انہوں نے مزید کہا کہ کل کا دن پاکستان کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ہو سکتا ہے، جب قوم اپنی حقیقی قیادت، بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ یہ عوام کا حق ہے کہ وہ اپنی مرضی کی قیادت کا انتخاب کریں اور ان کی آواز کو دبانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ "قوم حق، آئین اور آزادی کے لیے کھڑی ہے اور ہم اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔”علی امین گنڈاپور نے کہا کہ کل کا جلسہ ایک مضبوط پیغام ہوگا کہ عوام کسی بھی جبر کے آگے نہیں جھکیں گے اور اپنے قائد عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کارکنان سے جلسے میں بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت ہے کہ ہم سب متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے اس بیان نے سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا ہے، اور ترنول چوک پر ہونے والا جلسہ سیاسی اہمیت کا حامل بن چکا ہے۔ عوام کی بڑی تعداد کی شرکت اور وفاقی حکومت کی جانب سے ممکنہ ردعمل کے باعث، یہ جلسہ ملک کی سیاسی صورتحال میں اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
Author: صدف ابرار
-

علی امین گنڈاپور کا ترنول میں ڈنکے کی چوٹ پر جلسہ کرنے کا اعلان
-

فیض حمید ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کے ذریعے عمران خان سے رابطے میں تھے۔ اہم انکشاف
سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کی گرفتاری کے حوالے سے اہم معلومات سامنے آ گئی ہیں۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو فیض حمید کی گرفتاری کی وجوہات پر مبنی رپورٹ پیش کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق فیض حمید، جو کہ پاکستانی سیاست میں اپنی متنازعہ شخصیت کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، کو ڈپٹی جیل سپرنٹنڈنٹ کے ذریعے سابق وزیراعظم عمران خان سے رابطے میں رہنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فیض حمید جدید اینڈرائیڈ فون کی بجائے پرانے فیچر فون کا استعمال کرتے تھے تاکہ ان کے رابطے کا سراغ لگانا مشکل ہو۔ 12 اگست کو فیض حمید کو گرفتار کر لیا گیا، اور ان کے پاس سے وہی فیچر فون بھی برآمد کیا گیا جس کے ذریعے وہ مبینہ طور پر عمران خان کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس فون کا استعمال خاص طور پر جیل کے اندر موجود رابطوں کو خفیہ رکھنے کے لیے کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ان کی گرفتاری عمل میں آئی۔یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کی سیاسی صورتحال غیر مستحکم ہے، اور فیض حمید کے کردار پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد حکومت کی جانب سے ان کی مبینہ سرگرمیوں کی تحقیقات جاری ہیں، جس کا مقصد ملک کے اندرونی معاملات میں کسی بھی غیر قانونی یا غیر آئینی کردار کو بے نقاب کرنا ہے۔یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک کے اعلیٰ عہدے داروں کے خلاف قانون کی عملداری اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے حکومت کتنا سنجیدہ ہے۔ تاہم، اس معاملے کے مزید پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں، اور مزید معلومات سامنے آنے کا امکان ہے۔
-

تحریک انصاف کے جلسہ گاہ کے قریب مشکوک بیگ برآمد، بم ڈسپوزل اسکواڈ طلب
راولپنڈی میں تحریک انصاف کے جلسے کے مقام کے قریب ایک مشکوک بیگ برآمد ہوا جس کے بعد سیکیورٹی حکام میں ہلچل مچ گئی۔ مشکوک بیگ جلسہ گاہ سے ملحقہ مسجد کے احاطے میں رکھا گیا تھا، جس کے بعد فوری طور پر مسجد کو خالی کروا کر بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کر لیا گیا۔مسجد کے مہتمم نے بتایا کہ مشکوک بیگ فجر کے وقت مسجد میں رکھا گیا تھا، اور اس مقام پر عام طور پر نمازیوں کا آنا جانا ہوتا ہے۔ پولیس کی بھاری نفری مسجد کے اردگرد تعینات کر دی گئی اور مسجد کے اطراف میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا گیا۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں نے احتیاطی تدابیر کے تحت مشکوک بیگ کا معائنہ شروع کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس میں کوئی خطرناک مواد موجود ہے یا نہیں۔ پولیس اور سیکیورٹی ادارے صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں اور جلسہ گاہ کی طرف جانے والے تمام راستے سیل کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔سیکیورٹی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ اس واقعے کے بعد تحریک انصاف کے جلسے کے شرکاء میں بےچینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے، تاہم سیکیورٹی ادارے جلسے کے دوران کسی بھی ممکنہ خطرے کو ناکام بنانے کے لیے اضافی اقدامات کر رہے ہیں۔ -

پیسکو کی بلنگ میں بے ضابطگی یا کرپشن؟ صارفین کے لیے تشویش ناک صورتحال
باغی ٹی وی کے مطابق ایک پیسکو صارف کو گزشتہ ماہ کے دوران دو مختلف بل موصول ہونے کے واقعے نے صوبے بھر میں بجلی کی بلنگ کے نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اس واقعے نے نہ صرف صارفین کے درمیان الجھن پیدا کی ہے بلکہ پیسکو کی شفافیت اور ایمانداری پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ مذکورہ صارف کو جولائی 2024 کے ماہ کے لیے پہلا بل موصول ہوا جس میں 50 یونٹس کا کل بل 700 روپے تھا۔ بل کی آخری تاریخ 5 اگست 2024 دی گئی تھی۔ صارف نے اس بل کو وقت پر جمع کروا دیا۔ تاہم، وزیر اعظم کی ہدایت پر بل کی ادائیگی کی آخری تاریخ میں پورے ملک میں 10 دن کی توسیع کی گئی، جس کے بعد پیسکو کی ویب سائٹ پر صارف کو ایک نیا بل دکھایا گیا، جس میں 50 یونٹس کا کل بل 236 روپے تھا۔یہ دیکھ کر صارف حیران رہ گیا، کیونکہ اس نے پہلے ہی 700 روپے کا بل ادا کر دیا تھا۔ اس صورتحال کے باعث صارف نے فوری طور پر پیسکو حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاکہ اس بے ضابطگی کی وضاحت حاصل کی جا سکے، لیکن افسوسناک طور پر وہاں سے کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا۔صارف کے مطابق، "یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ کیسے ایک ہی یونٹس کے لیے دو مختلف بلز بھیجے گئے اور دونوں کی رقم میں اس قدر فرق کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ صورتحال صرف میری نہیں ہو سکتی؛ ممکن ہے کہ صوبے بھر میں دیگر صارفین کو بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا ہو رہا ہو۔”

باغی ٹی وی کے مطابق اس واقعے نے پیسکو کے بلنگ نظام کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ صارفین کے حقوق کے کارکنان نے اس مسئلے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ محض ایک تکنیکی غلطی تھی یا پھر پیسکو کے بلنگ نظام میں کسی قسم کی بدعنوانی موجود ہے۔یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پیسکو کو اپنے بلنگ نظام میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ صارفین کو اعتماد دینے کے لیے ضروری ہے کہ پیسکو اپنے عملے کی تربیت میں بہتری لائے اور صارفین کے ساتھ مناسب رابطے اور مسائل کے حل کے لیے مؤثر نظام متعارف کرائے۔

صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام کو اس واقعے کا نوٹس لینا چاہیے اور فوری طور پر ایک جامع تحقیقات کا آغاز کرنا چاہیے تاکہ اس طرح کے واقعات کا سدباب ہو سکے اور عوام کا اعتماد بحال ہو۔یہ خبر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بجلی کے بلنگ نظام میں شفافیت کی کتنی اہمیت ہے اور اس طرح کے واقعات سے نہ صرف صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے بلکہ یوٹیلیٹی کمپنی کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ پیسکو کو فوری طور پر اس مسئلے کو حل کرنا ہوگا تاکہ عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے اور بلنگ کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ -

مسلم لیگ ن کے رہنمامرتضیٰ جاوید عباسی کا خیبرپختونخوا حکومت سے پنجاب جیسا ریلیف دینے کا مطالبہ
مسلم لیگ ن کے خیبرپختونخوا کے سیکرٹری جنرل مرتضیٰ جاوید عباسی نے خیبرپختونخوا حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عوام کو پنجاب کی طرح ریلیف دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ جاوید عباسی نے خیبرپختونخوا حکومت کو ناکام ترین حکومت قرار دیا اور صوبے میں تعلیم، صحت، اور گورننس کی بدترین حالت پر افسوس کا اظہار کیا۔مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور صوبے کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، جبکہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لئے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت کی کابینہ کے اندرونی اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کابینہ کے تین ارکان نے وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب وزیراعلیٰ اتنے مختصر عرصے میں متنازع ہو چکا ہے، تو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کیسے کام کر سکے گا؟مرتضیٰ جاوید عباسی نے افسوس کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا میں تیسری مرتبہ ایسے لوگوں کو حکومت بنانے کا موقع ملا ہے جنہوں نے صوبے کی حالت کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں خیبرپختونخوا کے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور حکومت عوامی مسائل کے حل میں ناکام ہو چکی ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت نے صوبے کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ وہ عوام کے سامنے اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرے اور ان کے لئے حقیقی ریلیف فراہم کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو پنجاب کی طرز پر عوامی ریلیف دینے کے لئے فوری اقدامات کرنے چاہیے تاکہ عوام کو ان کی بنیادی ضروریات فراہم کی جا سکیں۔ -

فیض حمید کے اوپن ٹرائل کے مطالبے پر وزیر دفاع خواجہ آصف کا شدید ردعمل
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جانب سے فیض حمید کے اوپن ٹرائل کے مطالبے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مطالبہ بانی پی ٹی آئی کی طرف سے کیوں کیا جا رہا ہے، اس بات کو سمجھنا ضروری ہے۔خواجہ آصف نے نشاندہی کی کہ بانی پی ٹی آئی کے دور حکومت میں بھی متعدد کیسز ملٹری کورٹس میں چلائے گئے، مگر اس وقت انہوں نے ملٹری کورٹس کے اوپن ٹرائل کا مطالبہ کیوں نہیں کیا؟ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اس مسئلے کو بھی اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔وزیر دفاع نے بانی پی ٹی آئی پر الزام عائد کیا کہ وہ اس معاملے کو فیض حمید کی ہمدردی میں نہیں، بلکہ اپنے سیاسی کیپیٹل کو بڑھانے کے لیے اٹھا رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اس وقت جیل میں ہمیں کوئی ایسی سہولت میسر نہیں تھی جس سے ہمارے سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلائے جا رہے ہوں۔ مگر بانی پی ٹی آئی کے معاملے میں صحافیوں سے ملاقاتیں، فیملی سے ملنے اور دوستوں سے ملاقاتیں جیسی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔خواجہ آصف نے پارلیمنٹ میں سوال اٹھایا کہ بانی پی ٹی آئی کو یہ خصوصی سہولتیں کیوں دی جا رہی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر روشنی ڈالنی چاہیے کہ بانی پی ٹی آئی کو اس حد تک سہولیات فراہم کیوں کی جا رہی ہیں جبکہ وہ اپنے سیاسی مفادات کو بڑھانے کے لیے اس قسم کے بیانات دے رہے ہیں۔ خواجہ آصف نے یہ واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا مطالبہ فیض حمید کی حمایت یا ہمدردی کے لیے نہیں، بلکہ سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے ہے، جس سے ان کے عزائم ظاہر ہوتے ہیں۔ -

وزیراعظم شہباز شریف کی بلاول بھٹو کو ڈنر کی دعوت، سیاسی صورتحال اور پنجاب کے مسائل پر گفتگو متوقع
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو کل رات کے کھانے کی دعوت دے دی ہے۔ اس دعوت میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کے ساتھ ساتھ پنجاب اور سندھ کی سیاسی قیادت کے درمیان جاری بیان بازی اور کشمکش پر بھی بات چیت ہوگی۔وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع کے مطابق، ڈنر کے موقع پر دونوں رہنما ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ موجودہ حکومت کے اہم چیلنجز، انتخابات کی تیاری، اور مختلف صوبوں میں سیاسی حالات پر گفتگو کا امکان ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں پنجاب میں پیپلز پارٹی کو طے شدہ معاملات میں نظرانداز کیے جانے پر بھی بات چیت ہوگی۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے حالیہ دنوں میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ پنجاب میں کچھ فیصلے اور اقدامات پیپلز پارٹی کے مشورے کے بغیر کیے جا رہے ہیں، جس سے پارٹی کی قیادت میں تشویش پائی جاتی ہے۔
سندھ اور پنجاب کی قیادت کے درمیان بیان بازی اور سیاسی کشیدگی نے حالیہ دنوں میں مزید شدت اختیار کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق، ملاقات کے دوران اس مسئلے پر بھی بات کی جائے گی تاکہ دونوں صوبوں کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اس ملاقات میں اپنی جماعت کے تحفظات اور شکایات وزیراعظم کے سامنے رکھیں گے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا ماننا ہے کہ انہیں پنجاب میں بعض اہم معاملات میں نظرانداز کیا جا رہا ہے، جس سے پارٹی کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کا مقصد اس ملاقات کے ذریعے پیپلز پارٹی کی قیادت کو اعتماد میں لینا اور اختلافات کو ختم کرنا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں تمام سیاسی جماعتوں کا تعاون اور ہم آہنگی ضروری ہے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
اس اہم ملاقات سے سیاسی حلقوں میں کافی توقعات وابستہ ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے بعد پنجاب میں پیپلز پارٹی کے کردار اور آئندہ کے سیاسی منظرنامے کے حوالے سے اہم فیصلے سامنے آ سکتے ہیں۔اس ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کی نئی راہیں کھلنے کا امکان ہے، جس سے ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ نوجوان ہیں، انہیں ضائع نہیں ہونے دیں گے: آرمی چیف جنرل عاصم منیر
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اسلام آباد میں یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نوجوانوں کو قوم کا سب سے بڑا اور قیمتی سرمایہ قرار دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ کسی صورت انہیں ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔اپنے خطاب میں آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے، اور یہ نوجوان ہی ہیں جو ملک کو روشن مستقبل کی طرف لے جائیں گے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو ملک کی خدمت میں استعمال کریں اور مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔آرمی چیف نے مزید کہا کہ آزاد ریاست کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے لیبیا، شام، کشمیر، اور غزہ کے عوام کی حالت پر نظر ڈالنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو سوشل میڈیا کے فتنے سے دور رکھے، تاکہ معاشرے میں انتشار اور بے چینی پیدا نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ عوام، حکومت، اور فوج کے درمیان مضبوط رشتہ ہی پاکستان کے تحفظ اور ترقی کا ضامن ہے۔ جنرل عاصم منیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جو لوگ پاکستان کی ڈیفالٹ ہونے کا بیانیہ بنا رہے تھے، وہ آج کہاں ہیں؟ انہوں نے مسلمانوں کو یاد دلایا کہ بحیثیت مسلمان، ہمیں ناامیدی سے منع کیا گیا ہے اور ہمیں ہمیشہ پرامید رہنا چاہیے۔آرمی چیف نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے زندگی کے امتحانوں کا ذکر کیا اور قرآن کی ایک آیت کا حوالہ دیا: "کیا لوگ یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ صرف یہ کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے، اور ان کی آزمائش نہ ہو گی؟” اس کے ذریعے انہوں نے نوجوانوں کو مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنے کا پیغام دیا۔اس موقع پر انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ نوجوان پاکستان کا سب سے بڑا اور قیمتی سرمایہ ہیں، اور انہیں کسی بھی صورت ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے نوجوانوں کو ملک کے مستقبل کے معمار قرار دیتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ملک کی خدمت میں اپنی توانائیاں صرف کریں۔جنرل عاصم منیر نے مزید کہا کہ پاکستان کو کسی بھی صورت میں نقصان پہنچانے والے عناصر کے عزائم کامیاب نہیں ہونے دیے جائیں گے، اور ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے فوج، حکومت، اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ -

راول ڈیم سے راولپنڈی کو زہریلا پانی فراہم ہونے کا انکشاف
راول ڈیم سے راولپنڈی کو فراہم کیا جانے والا پانی خطرناک حد تک آلودہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق، راول ڈیم میں آلودگی کی سطح انتہائی تشویشناک حدوں کو چھو رہی ہے، جس کے نتیجے میں ڈیم کا پانی زہریلا بن چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، نو ملین گیلن انسانی فضلہ ممکنہ طور پر ڈیم میں ڈمپ ہونے کے خدشات ہیں، جس سے اس پانی کی فراہمی کے قابل ہونے پر سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا ہے۔راول ڈیم کی موجودہ صورتحال پر موسمی تغیرات سے متعلق سینیٹ کی کمیٹی نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے حکام کو طلب کر لیا ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے اس صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "راول ڈیم میں آلودگی کی صورتحال اس قدر بگڑ چکی ہے کہ آبی حیات بھی یہاں زندہ نہیں رہ پا رہی۔ یہاں معاملہ انسانوں کی صحت کا ہے اور کمیٹی کی خاموشی ناقابلِ قبول ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ "راولپنڈی اور اسلام آباد کے باشندوں کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ یہ معاملہ محض پانی کی آلودگی کا نہیں بلکہ عوام کی صحت کے ساتھ کھیلنے کا ہے۔”
سینیٹ کے آئندہ اجلاس میں اس سنگین مسئلے پر بحث کی جائے گی، اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ راول ڈیم کے پانی کا فلٹریشن کے بعد کا نمونہ پیش کیا جائے تاکہ اس کی حقیقی حالت کا جائزہ لیا جا سکے۔ حکام کو اس مسئلے کے فوری حل کے لیے متحرک ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ راول ڈیم کے پانی کو فوری طور پر فلٹر اور ٹریٹمنٹ کے بعد فراہم کرنے کے انتظامات کیے جائیں تاکہ عوام کو محفوظ پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ عوام میں بھی اس مسئلے کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے، اور وہ حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔یہ معاملہ نہ صرف انسانی صحت کے لیے بلکہ راول ڈیم کے ماحولیات کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ اس لیے حکومتی اداروں کو اس مسئلے کو فوری حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو محفوظ پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ -

بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ سے بارش کے نقصانات کی رپورٹ طلب کی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ کو صوبے میں حالیہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے سکھر، لاڑکانہ، اور خیرپور سمیت صوبے بھر میں بارش کے نقصانات اور امدادی سرگرمیوں پر رپورٹ طلب کی ہے، اور کہا ہے کہ یہ رپورٹ فوری طور پر فراہم کی جائے۔بلاول بھٹو زرداری نے سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے ہدایت دی ہے کہ سکھر اور لاڑکانہ کے نشیبی علاقوں سے بارش کے پانی کے فوری اخراج کو یقینی بنایا جائے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
خیرپور ضلع میں ڈیم کے بند میں شگاف کی صورت حال پر بھی بلاول بھٹو زرداری نے فوری تحقیقات کرانے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا کہ شگاف کی وجہ سے نقصان کم سے کم ہو اور متاثرین کو فوری امداد فراہم کی جائے۔بلاول بھٹو زرداری نے محکمہ ریلیف اینڈ ری ہیبلیٹیشن اور پی ڈی ایم اے کو بارش متاثرین کی امداد کے حوالے سے اپنی ذمہ داری نبھانے کی تاکید کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی بارش متاثرین کو اکیلا نہیں چھوڑے گی اور ان کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔