Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • افغانستان میں طالبان حکومت نے باجماعت نماز کی ادائیگی کو لازمی قرار دے دیا

    افغانستان میں طالبان حکومت نے باجماعت نماز کی ادائیگی کو لازمی قرار دے دیا

    افغانستان کی طالبان عبوری حکومت نے ملازمین کے لیے باجماعت نماز پڑھنا لازمی قرار دے دیا ہے اور اس پر عمل نہ کرنے والے افراد کے لیے سزائیں مقرر کر دی ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک غیرملکی میڈیا انٹرویو میں اس بات کا اعلان کیا کہ جن ملازمین نے باجماعت نماز نہیں پڑھی، انہیں پہلے تنبیہ کی جائے گی۔ لیکن اگر وہ پھر بھی عمل نہ کریں، تو ان کی ملازمت کی جگہ تبدیل کی جا سکتی ہے یا ان کے عہدے میں کمی کی جا سکتی ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ نماز نہ پڑھنے والوں کی تنخواہوں سے بھی کٹوتی کی جائے گی۔ طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کی معیشت بہتر ہو رہی ہے اور سیکیورٹی کی صورتحال میں بھی بہتری آئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کی مجموعی صورتحال اچھی ہے اور برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔
    یہ نیا حکم طالبان کی جانب سے کچھ دن پہلے ملازمین کے لیے باجماعت نماز پڑھنے کی شرط کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان میں خواتین کی تعلیم اور ملازمتوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ لڑکیوں کی سیکنڈری تعلیم پر پابندی برقرار ہے، اور خواتین کو ملازمت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مزید برآں، خواتین کو عوامی مقامات، پارکس، جمز، اور بیوٹی پارلرز جانے کی اجازت نہیں ہے اور انہیں محرم کے بغیر سفر کی اجازت نہیں ہے۔

  • گوہر اعجاز کا بجلی کی پیداواری لاگت اور  صارفین کو ملنے والے بھاری بلوں کی وجوہات پر سوالات

    گوہر اعجاز کا بجلی کی پیداواری لاگت اور صارفین کو ملنے والے بھاری بلوں کی وجوہات پر سوالات

    سابق نگراں وزیر تجارت و صنعت گوہر اعجاز نے حال ہی میں بجلی کی پیداواری لاگت کے حوالے سے ایک بیان دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جولائی کے مہینے میں بجلی کی پیداواری لاگت 9 روپے 3 پیسہ فی یونٹ رہی، مگر صارفین کو ملنے والے بلوں میں قیمتیں 40 سے 70 روپے فی یونٹ تک پہنچ رہی ہیں۔گوہر اعجاز نے اس صورتحال کو بجلی کی پیداواری لاگت اور صارفین کو وصول ہونے والے بلوں میں واضح فرق کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، بجلی کی پیداواری لاگت کی معمولی قیمت اور صارفین کو ملنے والے بھاری بلوں کے درمیان عدم ہم آہنگی کی بنیادی وجہ کیپسٹی پیمنٹس ہیں، جو بجلی پیدا کیے بغیر ہی ادا کی جا رہی ہیں۔

    انہوں نے مزید وضاحت کی کہ جولائی میں بجلی کی اوسط پیداوار 20 ہزار میگاواٹ رہی اور اس دوران 35 فیصد بجلی ہائیڈل ذرائع سے حاصل کی گئی۔ اس کے باوجود، صارفین کو زیادہ بلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کا بڑا سبب کیپسٹی چارجز ہیں جو بجلی کے نظام کی مجموعی قیمت میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔پنجاب حکومت کی جانب سے 14 روپے فی یونٹ ریلیف دینے کے اعلان کو گوہر اعجاز نے سراہا ہے، لیکن انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بجلی کی قیمتوں میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنائے تاکہ تمام صارفین کو معقول اور منصفانہ قیمتیں فراہم کی جا سکیں۔یہ معاملہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ کیا واقعی کیپسٹی چارجز کی وجہ سے صارفین کو اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے؟ اور وفاقی حکومت کو کیا اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ بجلی کی قیمتوں میں شفافیت لائی جا سکے؟ یہ سوالات عوامی بحث و مباحثے کا حصہ بننے کے مستحق ہیں۔

  • محکمہ صحت بلوچستان نے منکی پوکس کے پھیلاؤ کے خدشے پر ہائی الرٹ جاری کر دیا

    محکمہ صحت بلوچستان نے منکی پوکس کے پھیلاؤ کے خدشے پر ہائی الرٹ جاری کر دیا

    محکمہ صحت بلوچستان نے منکی پوکس کے ممکنہ پھیلاؤ کے پیش نظر صوبے میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بیماری کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنا اور صحت کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل صحت نے کوئٹہ، کیچ، گوادر، حب، چمن اور چاغی کے ضلعی ہیلتھ افسران کو فوری طور پر ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنی حدود میں تمام داخلی راستوں پر نظر رکھیں اور صحت کے اقدامات کو یقینی بنائیں۔ مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سرحدی اضلاع کے تمام داخلی راستوں پر منکی پوکس کے مشتبہ کیسز کی صورت میں فوراً متعلقہ حکام کو اطلاع دی جائے۔ کانگو اور منکی پوکس کی روک تھام کے اقدامات کے تحت کراچی ایئرپورٹ پر 22 بین الاقوامی پروازوں کے مسافروں کی اسکریننگ کی گئی ہے۔ ایئرپورٹس اور اہم سرحدی مقامات جیسے گوادر، تربت، چمن، اور تفتان پر بھی ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے تاکہ بیماری کے ممکنہ کیسز کی جلد تشخیص اور روک تھام کی جا سکے۔
    مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام داخلی راستوں پر صحت کے حکام کو منکی پوکس کے مشتبہ کیسز کی صورت میں فوراً رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، مریضوں کی اسکریننگ، صحت کی نگرانی، اور ممکنہ کیسز کے بارے میں آگاہی مہم بھی چلائی جائے گی تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو کنٹرول کیا جا سکے۔محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ ہائی الرٹ کے تحت تمام صحت کی ٹیموں کو مشتبہ کیسز کی فوری رپورٹنگ اور اس پر بروقت کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، عوام کو منکی پوکس کی علامات، اس کے پھیلاؤ کے طریقوں، اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کی کوششیں بھی کی جائیں گی۔صوبے بھر میں صحت کی ٹیمیں اور متعلقہ حکام منکی پوکس کے پھیلاؤ کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ اس بیماری کے ممکنہ اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے اور عوام کی صحت کو محفوظ بنایا جا سکے۔

  • سندھ میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کی جائے، گورنر سندھ کا مطالبہ

    سندھ میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کی جائے، گورنر سندھ کا مطالبہ

    گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ وہ سندھ میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کو خط لکھیں گے۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے، کامران ٹیسوری نے سندھ حکومت پر زور دیا کہ وہ پنجاب کی طرز پر اپنے صوبے میں بھی بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔گورنر سندھ نے کہا کہ اگر سندھ میں بجلی کے بلوں میں پنجاب کے مساوی ریلیف نہ دیا گیا تو اس سے صوبے میں احساس محرومی پیدا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سندھ حکومت بجلی کی قیمت کم کرنے کے لیے مناسب فنڈز مختص کرے۔
    یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ہمراہ ایک بیان میں کہا تھا کہ پنجاب میں 500 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو فی یونٹ 14 روپے کا ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ یہ اقدام صوبے میں عوام کو بجلی کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ پہنچانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔مریم نواز اور نواز شریف کے اس اعلان پر ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے اعتراض کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اقدام صرف پنجاب تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ دیگر صوبوں میں بھی اس کی توسیع کی جانی چاہیے۔
    مصطفیٰ کمال کے اعتراض پر مریم نواز نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے اپنے بجٹ سے یہ رقم فراہم کی ہے، اور ایم کیو ایم کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر سندھ حکومت سے بات کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اقدام صوبائی حکومت کی جانب سے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، اور دیگر صوبوں کو بھی اس اقدام سے فائدہ پہنچانے کے لیے اپنی حکمت عملی ترتیب دینی ہوگی۔گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے سندھ حکومت کے حوالے سے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد سندھ میں بھی عوام کو وہی ریلیف فراہم کرنا ہے جو پنجاب میں فراہم کیا جا رہا ہے، تاکہ تمام صوبوں کے شہریوں کے درمیان برابری برقرار رکھی جا سکے۔

  • پاکستان کی شہری آبادی میں تیز اضافہ، 2030ء تک 99.4 ملین متوقع,ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ

    پاکستان کی شہری آبادی میں تیز اضافہ، 2030ء تک 99.4 ملین متوقع,ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ

    ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کی شہری آبادی میں تیز رفتار اضافے کے حوالے سے ایک اہم رپورٹ جاری کی ہے، جس میں ملک کی آبادی کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس کے ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی شہری آبادی میں سالانہ 3.65 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں 2030ء تک ملک کی شہری آبادی 99.4 ملین تک پہنچنے کا امکان ہے۔رپورٹ میں 2023ء کی مردم شماری کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی مجموعی شرح آبادی 2.55 فیصد ہے، جبکہ شہری آبادی 93.8 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ 1981ء کے بعد سے پاکستان کی شہری آبادی میں چار گنا اضافہ ہوا ہے، جو کہ ایک اہم تبدیلی ہے۔
    ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان میں پائیدار شہری ترقی کے لیے ایک واضح حکمت عملی اور سمت متعین کرنے پر زور دیا ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان کی موجودہ معاشی حالت آبادی کے مقابلے میں غیر یقینی ہے، اور اس صورت حال میں مستحکم ترقی کو یقینی بنانے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2020ء سے 2021ء کے دوران آبادی بڑھنے کی رفتار میں کمی واقع ہوئی تھی، لیکن اس کے باوجود ملک کی شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ جاری ہے۔ اس بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ شہری سہولیات، بنیادی ڈھانچے اور معیشت پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جسے کنٹرول کرنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
    ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ پاکستان کی حکومت اور پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم یاد دہانی ہے کہ آبادی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے پائیدار ترقی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ بینک نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ پاکستان کو اپنی معاشی ترقی اور شہری منصوبہ بندی کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ مستقبل میں آبادی کے دباؤ کو مؤثر طریقے سے سنبھالا جا سکے۔

  • صدر مملکت کا مون سون شجرکاری مہم پر قوم کے نام پیغام

    صدر مملکت کا مون سون شجرکاری مہم پر قوم کے نام پیغام

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے مون سون شجرکاری مہم کے حوالے سے قوم کے نام ایک اہم پیغام دیا ہے، جس میں انہوں نے شجرکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسے محض ایک موسمی اقدام کے بجائے قومی فریضے کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شجرکاری مہم نہ صرف ملک کے قدرتی حسن اور وسائل کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک سرسبز اور صحت مند مستقبل محفوظ بنانے کا بھی اہم ذریعہ ہے۔
    صدر زرداری نے اپنے پیغام میں اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی درخت لگانے کی ترغیب دی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شجرکاری ایک نیک عمل اور قدرت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کل رقبے کا صرف 5 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے، جو کہ کافی نہیں ہے۔ جنگلات کی کمی کی وجہ سے ملک کو موسمیاتی تبدیلیوں اور دیگر ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ لکڑی کی بڑھتی ہوئی مانگ اور دیگر زمینی استعمالات کے باعث جنگلات پر شدید دباؤ ہے، جس سے ان کا تحفظ مزید اہم ہو گیا ہے۔
    آصف علی زرداری نے کہا کہ مون سون شجرکاری مہم پاکستان کے ماحول پر دیرپا اثرات ڈالنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ اس مہم کے ذریعے ہم نہ صرف اپنے ماحول کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ نوجوان نسل کو بھی ایک سرسبز اور خوشحال مستقبل فراہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگلات کا فروغ پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے میں اولین ترجیح ہے۔صدر زرداری نے ڈیلٹا بلیو کاربن اقدام کی کامیابیوں پر بھی روشنی ڈالی، جس کے تحت پاکستان نے 1990 سے مینگرووز کے رقبے میں 300 فیصد اضافہ کیا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے سندھ میں 20 لاکھ سے زائد مینگرووز کے پودے لگائے گئے ہیں، جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، عالمی مارکیٹ میں کاربن کریڈٹس کی تجارت سے پاکستان نے 27 ملین ڈالر کی آمدنی بھی حاصل کی ہے، جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔
    انہوں نے دی لیونگ انڈس پروگرام کا بھی ذکر کیا، جس کا مقصد جنگلات کی کٹائی کو روکنا اور ان کے فروغ کے لیے اقدامات کرنا ہے۔ یہ پروگرام اقوام متحدہ کی جانب سے دہائی کی بحالی کے فلیگ شپ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے، جو اس کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ حکومت کمیونٹی کے تعاون کے بغیر جنگلی وسائل کا فروغ اور تحفظ نہیں کر سکتی، اور اس سلسلے میں معاشرے کے مختلف طبقات کی شمولیت ناگزیر ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس نیک کام میں بھرپور حصہ لیں اور شجرکاری کو اپنا فریضہ سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری نوجوان نسل کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں جنگلات کے کردار کی اہمیت سے آگاہ ہونا چاہیے، اور ہم اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے استعداد کار بڑھانے، تعلیم اور جدت کے فروغ کے لیے پرعزم ہیں۔ صدر زرداری کے اس پیغام نے شجرکاری کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ جنگلات کا تحفظ اور فروغ ہمارے ملک کی ترقی اور ماحولیات کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

  • بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دائرہ کار وسیع: مستحقین  کی تعداد ایک  کروڑ  تک پہنچانے کا عزم

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دائرہ کار وسیع: مستحقین کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچانے کا عزم

    حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت پروگرام میں شامل ہونے والے افراد کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ موجودہ وقت میں بی آئی ایس پی کارڈ ہولڈرز کی تعداد تقریباً 93 لاکھ ہے، اور حکومت نے اس تعداد میں مزید اضافہ کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔اس مقصد کے تحت، ڈائنامک سروے کا عمل جاری ہے جس کے ذریعے مزید لوگوں کو بی آئی ایس پی میں شامل کیا جائے گا۔ اس سروے کا خصوصی توجہ دور دراز علاقوں پر ہے، جہاں دفاتر قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ مقامی لوگوں کی رجسٹریشن کو آسان بنایا جا سکے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کی رجسٹریشن کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
    بلوچستان میں خاص طور پر اس سروے کو اہمیت دی گئی ہے، جہاں آٹھ لاکھ اضافی افراد کو بی آئی ایس پی میں شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ، ڈائنامک سروے میں مستحق خواتین اور ان کے بچوں کی رجسٹریشن پر بھی زور دیا جا رہا ہے تاکہ ان تک مالی امداد کی پہنچ کو یقینی بنایا جا سکے۔سندھ اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں موبائل رجسٹریشن وہیکلز بھجوائی گئی ہیں، جن کے ذریعے مستحق خواتین کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔ یہ موبائل رجسٹریشن وہیکلز دور دراز علاقوں میں پہنچ کر لوگوں کی آسانی کے لیے خدمات فراہم کر رہی ہیں۔حکومت کی جانب سے بی آئی ایس پی کے دائرہ کار کو بڑھانے اور مزید لوگوں کو اس پروگرام کے فوائد پہنچانے کے اقدامات کے نتیجے میں امید کی جا رہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو مالی امداد حاصل ہو سکے گی، اور غربت کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کیے جا سکیں گے۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات: تعلیم، صحت اور موسمیاتی تبدیلیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات: تعلیم، صحت اور موسمیاتی تبدیلیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف نے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ سے مری میں ایک اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں تعلیم، صحت، موسمیاتی تبدیلیوں، اور باہمی تعاون کے دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں پنجاب کے طلبہ کے لیے برطانیہ کی اعلیٰ جامعات میں تعلیم کے مواقع بڑھانے کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ پنجاب کے ذہین اور ہونہار طلبہ کو برطانیہ کی معروف تعلیمی اداروں میں داخلے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اس حوالے سے مختلف تعلیمی اور ثقافتی پروگرامز پر بھی غور کیا گیا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعلقات کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے پنجاب حکومت کے پائیدار اقدامات سے برطانوی ہائی کمشنر کو آگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پنجاب حکومت نے موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں شجرکاری مہم، صاف پانی کی فراہمی، اور توانائی کے متبادل ذرائع کا فروغ شامل ہیں۔ اس حوالے سے دونوں فریقین نے باہمی مہارتوں اور تجربات سے استفادہ کرنے پر اتفاق کیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے گورننس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے پنجاب حکومت کی جانب سے پولیس اور انتظامیہ کی مانیٹرنگ کے لیے متعارف کرائے گئے کے پی آئی (Key Performance Indicators) سسٹم کے بارے میں برطانوی ہائی کمشنر کو آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نظام پنجاب کی حکومت کے مختلف محکموں کی کارکردگی کو جانچنے اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری لانے کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
    ملاقات کے دوران ڈیجیٹل پنجاب کے حوالے سے جاری اقدامات پر بھی بات چیت کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے برطانوی ہائی کمشنر کو پنجاب حکومت کے ڈیجیٹلائزیشن کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی اور اس بات پر زور دیا کہ پنجاب ڈیجیٹائزیشن کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جلد ہی پنجاب اس شعبے میں لیڈ کرے گا اور صوبے میں آئی ٹی یونیورسٹیز کے قیام کے لیے برطانوی اداروں کا خیر مقدم کیا جائے گا۔اس کے ساتھ ہی، وزیراعلیٰ مریم نواز نے نواز شریف آئی ٹی سٹی میں برطانوی اداروں کو سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے لاہور میں جاری نواز شریف آئی ٹی سٹی اور ٹوئن ٹاورز پراجیکٹ کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جسے تیزی سے تکمیل کی جانب بڑھایا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کو صوبے کی ترقی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے میں ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔
    وزیراعلیٰ نے برطانوی ہائی کمشنر کو پنجاب میں سولر پینل پراجیکٹ کے حوالے سے بھی بریفنگ دی اور اس منصوبے کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت صاف اور قابل تجدید توانائی کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے، اور اس سلسلے میں برطانوی تعاون کو سراہا جائے گا۔ملاقات کے دوران، مریم نواز نے فارن کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس کی جانب سے تعلیم اور دیگر شعبوں میں فراہم کیے جانے والے اشتراک پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ برطانوی ہائی کمشنر کے ساتھ اسلام آباد میں برطانوی پولیٹیکل قونصلر زوی ویئر بھی موجود تھیں، جو اس موقع پر ہونے والے اہم تبادلہ خیال میں شریک تھیں۔یہ ملاقات پاکستان اور برطانیہ کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔

  • پی ٹی آئی میں اختلافات: عمران خان کا خیبرپختونخوا کے اراکین اسمبلی کو اڈیالہ جیل طلب کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی میں اختلافات: عمران خان کا خیبرپختونخوا کے اراکین اسمبلی کو اڈیالہ جیل طلب کرنے کا فیصلہ

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات اور خیبر پختونخوا کابینہ سے سابق صوبائی وزیر شکیل خان کی برطرفی کے بعد پارٹی میں پیدا ہونے والی صورتحال پر پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی شدید ناراضگی سامنے آئی ہے۔ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان خیبر پختونخوا میں جاری پارٹی اختلافات پر برہم ہیں اور انہوں نے شکیل خان کے حق میں بیان دینے والے اراکین قومی اسمبلی، عاطف خان اور جنید اکبر، کو طلب کرلیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں اراکین اسمبلی کی آئندہ ہفتے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات متوقع ہے۔اس معاملے کے پس منظر میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے عمران خان کو شکایت کی تھی کہ عاطف خان اور جنید اکبر نے برطرف وزیر شکیل خان کے حق میں کھل کر بیان دیا اور خیبر پختونخوا حکومت کے فیصلے سے اختلاف ظاہر کیا۔ دونوں اراکین نے شکیل خان کی برطرفی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کے اندرونی مسائل کو کھلے عام بیان کرنے پر اصرار کیا۔
    مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا، بیرسٹر سیف، نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عمران خان نے پارٹی میں گروپ بندی کے تاثر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بیرسٹر سیف کے مطابق عمران خان نے عاطف خان اور جنید اکبر کو اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے بلایا ہے تاکہ اس معاملے پر مزید وضاحت طلب کی جا سکے۔خیال رہے کہ کچھ روز قبل خیبر پختونخوا کے وزیر برائے کمیونیکیشن اینڈ ورکس، شکیل خان، نے اپنی ہی جماعت کی صوبائی حکومت پر کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ شکیل خان نے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ انہیں برطرف کیا گیا ہے۔
    شکیل خان کی برطرفی کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آئے، جہاں پی ٹی آئی کے متعدد اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی نے شکیل خان کی حمایت میں بیانات دیے اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے فیصلے پر نکتہ چینی کی۔ یہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوگئی جب علی امین گنڈا پور اور شکیل خان کے درمیان واٹس ایپ گروپ میں تلخ کلامی ہوئی، جس میں دونوں نے ایک دوسرے پر کرپشن کے سنگین الزامات عائد کیے۔
    خیبر پختونخوا میں پارٹی کی اندرونی تقسیم اور شکیل خان کی برطرفی پر پیدا ہونے والے تنازعے کے بعد، جنید اکبر کو وزیراعلیٰ کے فوکل پرسن کے عہدے سے بھی ہٹا دیا گیا تھا۔ اس اقدام کو بھی پارٹی کے اندرونی اختلافات کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے۔پارٹی کے اندرونی مسائل پر عمران خان کی ناراضگی اور اراکین اسمبلی کو طلب کرنے کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اس تنازعے کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ پارٹی کی ساکھ اور اتحاد برقرار رکھا جا سکے۔

  • توانائی کے شعبے میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیح: وزیر اعظم شہباز شریف

    توانائی کے شعبے میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیح: وزیر اعظم شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وزارت توانائی اور پاور ڈویژن کے امور پر ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات اور اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پاور ڈویژن کے مختلف معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلوں کی شمسی توانائی پر منتقلی کے منصوبے کی پیشرفت پر بھی گفتگو کی گئی۔اجلاس کے دوران وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے ضروری ایس او پیز اور سٹیئرنگ کمیٹی کی تشکیل مکمل ہو چکی ہے، جس کے نوٹیفیکیشن جاری کر دیے گئے ہیں۔ مزید برآں، اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک جامع پیکیج تیار کیا جا رہا ہے۔
    وزیر اعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے بجلی چوری کی روک تھام، لائن لاسز میں کمی، اور بجلی کے ترسیلی نظام میں بہتری کو اہم چیلنجز قرار دیا اور ان کے حل کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے حالیہ دنوں میں بجلی کی ترسیل کی پانچ کمپنیوں میں نئے بورڈ چیئرمین اور ممبران کی تعیناتی کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان تقرریوں سے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
    وزیر اعظم نے وفاقی وزیر اور سیکرٹری پاور ڈویژن کو ہدایت دی کہ وہ چاروں صوبوں کا دورہ کریں اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی، انسداد بجلی چوری اور دیگر معاملات پر صوبائی حکومتوں سے قریبی رابطہ قائم کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بجلی چوری کے خاتمے کے لیے "ہول آف دی گورنمنٹ” اپروچ اپنائی جائے اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں موجود کرپٹ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
    علاوہ ازیں، وزیر اعظم نے ڈسکوز کی عوامی شکایات کے ازالے کے لیے کچہریوں کے نظام کو مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کی بھی ہدایت کی، تاکہ عوام کو فوری اور موثر انصاف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں کو انسداد بجلی چوری کے سلسلے میں پولیس فورس اور تحصیلداروں کی تعداد ڈسکوز کی ضرورت کے مطابق پوری کرنے کے لیے بھی ہدایات دیں۔ وزیر اعظم نے بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلوں کی شمسی توانائی پر منتقلی کے حوالے سے قائم سٹیئرنگ کمیٹی کا فوری اجلاس طلب کرنے کی ہدایت بھی جاری کی، تاکہ اس منصوبے کو جلد از جلد مکمل کیا جا سکے اور بلوچستان کے کسانوں کو اس سے مستفید کیا جا سکے۔