Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • عراق کی وزارتِ خارجہ نے برطانوی سفیر کے متنازعہ بیان پر برطانوی ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاج کیا

    عراق کی وزارتِ خارجہ نے برطانوی سفیر کے متنازعہ بیان پر برطانوی ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاج کیا

    عراق کی وزارتِ خارجہ نے برطانوی سفیر کے عراق کی سلامتی اور سیاسی صورتِ حال کے متعلق دیے گئے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اتوار کے روز برطانیہ کے ناظم الامور کو طلب کر لیا ہے۔ عراقی حکومت نے برطانوی سفیر اسٹیفن ہیچن کے حالیہ ریمارکس کو عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے باقاعدہ احتجاج درج کرایا ہے۔دو روز قبل برطانوی سفیر اسٹیفن ہیچن نے ایک ٹی وی پروگرام کے دوران عراق کی اندرونی صورتِ حال پر تبصرہ کیا تھا جس میں انہوں نے عراق کی حکومت اور اس کے مختلف حصوں کی ’تلخ تصویر‘ پیش کی تھی۔ ان کے بیان کو عراق کی سیاسی اور سلامتی کے مسائل کی تاریک تصویر کے طور پر دیکھا گیا، جس پر عراقی حکومت نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
    عراقی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ برطانوی سفیر کا بیان عراق کے داخلی معاملات میں براہ راست مداخلت اور بین الاقوامی سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ عراق کی حکومت اپنے داخلی امور پر خود مختار ہے اور کسی بھی ملک کی طرف سے ایسی بیان بازی کو قبول نہیں کرے گی جو اس کی خود مختاری کو چیلنج کرے۔برطانوی سفیر کے ان ریمارکس پر عراقی حکومت نے فوری طور پر برطانیہ کے ناظم الامور کو طلب کیا اور ان کے سامنے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ عراق نے برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے سفیر کے غیر ذمہ دارانہ بیانات پر وضاحت پیش کرے اور عراق کے داخلی امور میں مداخلت سے باز رہے۔
    یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب عراق کی داخلی سیاسی صورتِ حال حساس دور سے گزر رہی ہے اور بین الاقوامی تعلقات میں ایسے بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عراقی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے سفیر کے بیان پر غور کرے اور عراق کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔تاحال برطانوی سفارت خانے کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ برطانوی سفارت خانہ اس معاملے کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کرے گا۔ برطانوی حکومت کو اس حوالے سے عراق کے ساتھ سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔یہ واقعہ عراق اور برطانیہ کے درمیان تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات پر اس کے اثرات واضح طور پر نظر آئیں گے۔

  • کراچی کے 11 سالہ محمد حسنین کا حیران کن کارنامہ: اے آئی اسسٹنٹ روبوٹ بنا کر سب کو حیران کر دیا

    کراچی کے 11 سالہ محمد حسنین کا حیران کن کارنامہ: اے آئی اسسٹنٹ روبوٹ بنا کر سب کو حیران کر دیا

    کراچی کے علاقے سعدی ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے 11 سالہ محمد حسنین نے اپنی کم عمری میں ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جو سب کو حیران کر رہا ہے۔ حسنین نے ایک اے آئی اسسٹنٹ روبوٹ تیار کیا ہے جسے انہوں نے ’محمد علی‘ کا نام دیا ہے۔ یہ روبوٹ انسانی بات چیت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے حسنین کی غیر معمولی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے ان کی محبت کا اظہار ہوتا ہے۔حسنین کا روبوٹکس کا سفر دو سال قبل اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے اسکیم 33 میں واقع امام حسین انسٹی ٹیوٹ میں روبوٹکس کا ایک ابتدائی کورس کیا۔ اس دوران انہوں نے گیم ڈیولپمنٹ اور روبوٹکس کے مختلف پہلوؤں پر عبور حاصل کیا۔ رواں سال، مزید تربیت کے دوران، انہوں نے اپنے حتمی پروجیکٹ کے طور پر اے آئی اسسٹنٹ روبوٹ تیار کیا۔محمد حسنین نے بتایا کہ یہ روبوٹ انسانوں کی طرح بات چیت کو سن کر اس پر عمل کرتا ہے۔ یہ روبوٹ حسنین کے لیپ ٹاپ سے منسلک ہے، اور جب حسنین اس کا نام پکارتے ہیں تو یہ ایکٹیو ہو جاتا ہے اور دی گئی ہدایات کے مطابق عمل کرتا ہے۔

    حسنین کے اے آئی اسسٹنٹ روبوٹ کی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے جب اس سے چائے بنانے کا طریقہ پوچھا گیا تو اس نے چند سیکنڈز میں چائے بنانے کی مکمل ترکیب بتا دی۔ اس موقع پر حسنین نے ہنستے ہوئے کہا کہ "یہ اے آئی اسسٹنٹ روبوٹ پاکستانی ہے، اس لیے یہ جانتا ہے کہ پاکستانی چائے سے کتنا پیار کرتے ہیں۔”
    محمد حسنین نے مزید بتایا کہ ان کا روبوٹ ’محمد علی‘ مختلف ویب سائٹس کھول سکتا ہے، چھٹی کے دن کے لیے درکار تمام اشیاء کی فہرست بنا سکتا ہے، اور روزمرہ کے گھریلو کاموں میں بھی مدد فراہم کر سکتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ روبوٹ بجلی کو سولر پاور پر شفٹ کرنے جیسے کام بھی انجام دے سکتا ہے۔ حسنین نے روبوٹ کے سر کا کور تیار کرنے کے لیے 3 ڈی پرنٹر کا استعمال کرنے کا منصوبہ بھی ظاہر کیا، جو چند دنوں میں مکمل ہو جائے گا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ محمد حسنین نے یہ روبوٹ بغیر کسی مدد کے خود تیار کیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ متاثر کن بات یہ ہے کہ یونیورسٹی کے طلباء بھی اپنے پروجیکٹس میں حسنین سے رہنمائی لیتے ہیں۔ حسنین روبوٹکس اور گیم ڈیولپمنٹ کے شعبے میں اپنا کیریئر بنانے کے خواہاں ہیں اور کم عمری کے باوجود وہ قوم کے لیے ایک امید کی کرن ہیں۔

  • پاکستان اور بنگلہ دیش کا دوسرا ٹیسٹ میچ کراچی سے راولپنڈی منتقل

    پاکستان اور بنگلہ دیش کا دوسرا ٹیسٹ میچ کراچی سے راولپنڈی منتقل

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی مشاورت سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوسرا ٹیسٹ میچ، جو پہلے کراچی کے نیشنل بینک اسٹیڈیم میں منعقد ہونا تھا، راولپنڈی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے لیے نیشنل بینک اسٹیڈیم میں جاری تعمیراتی کام کے پیش نظر کیا گیا ہے۔دوسرا ٹیسٹ میچ اب 30 اگست سے 3 ستمبر تک راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ اس سے قبل پہلا ٹیسٹ 21 اگست سے راولپنڈی میں ہی شروع ہوگا۔ پی سی بی کے مطابق، یہ فیصلہ کرکٹ کے شائقین کو دونوں ٹیسٹ میچوں کا لائیو ایکشن دیکھنے کا بھرپور موقع فراہم کرے گا، جو پاکستان کرکٹ کے مصروف بین الاقوامی سیزن کا آغاز بھی ہوگا۔
    پاکستان کرکٹ بورڈ نے بتایا کہ نیشنل بینک اسٹیڈیم کراچی میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے تعمیراتی کام جاری ہے۔ پی سی بی نے تعمیراتی ماہرین سے رہنمائی حاصل کی، جنہوں نے مشورہ دیا کہ کھیل کے اوقات کے دوران تعمیراتی کام جاری رہ سکتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں ہونے والی صوتی آلودگی کرکٹرز کو پریشان کر سکتی ہے۔ مزید برآں، تعمیراتی کام سے اٹھنے والا دھواں کھلاڑیوں، آفیشلز، براڈ کاسٹرز اور میڈیا کی صحت اور تندرستی پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
    پی سی بی نے ان وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے، تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور آپریشنل اور لاجسٹک معاملات کا جائزہ لینے کے بعد دونوں ٹیسٹ میچز کو راولپنڈی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پی سی بی نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان ٹیم اس سیزن میں 21 اگست سے 5 اپریل تک کل 9 ٹیسٹ، 14 ٹی ٹوئنٹی اور کم از کم 17 ون ڈے میچز کھیلے گی۔
    راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والے دونوں ٹیسٹ میچوں کے ٹکٹوں کی فروخت کے حوالے سے اہم معلومات بھی جاری کی گئی ہیں:
    – ٹکٹیں آن لائن PCB.tcs.com.pk پر دستیاب ہیں۔
    – ٹکٹ بوتھ ایوی ایشن گراؤنڈ، بالمقابل ریسکیو 1122، راول روڈ، راولپنڈی میں 19 اگست کو صبح 11 بجے فعال ہوگا۔
    – پبلک کار پارکنگ ایوی ایشن گراؤنڈ، ریسکیو 1122 کے بالمقابل، راول روڈ پر دستیاب ہوگی۔ اس کے علاوہ، گورنمنٹ گریجویٹ کالج سیٹلائٹ ٹاؤن، سکستھ روڈ پر بھی پارکنگ کی سہولت ہوگی۔
    دریں اثنا، اسلام آباد میں پاکستان شاہینز اور بنگلہ دیش ‘اے’ کے درمیان سیریز جاری ہے۔ پہلا چار روزہ میچ ڈرا ہونے کے بعد، دوسرا چار روزہ میچ 20 اگست کو اسلام آباد کلب میں شروع ہوگا، جس کے بعد 26، 28 اور 30 اگست کو تین 50 اوورز کے میچز کھیلے جائیں گے۔یہ فیصلہ پاکستان کرکٹ کے لیے ایک اہم قدم ہے، جس سے شائقین کو براہ راست کرکٹ دیکھنے کا موقع ملے گا اور کھلاڑیوں کی صحت و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ پی سی بی امید کرتا ہے کہ نیشنل بینک اسٹیڈیم کراچی چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے تیار ہوگا، اور شائقین کو مستقبل میں یہاں عالمی معیار کی کرکٹ دیکھنے کا موقع ملے گا۔

  • تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کی  اسرائیلی مظالم اور کشمیری شہداء پر خاموشی پر سوالات اٹھنے لگے

    تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کی اسرائیلی مظالم اور کشمیری شہداء پر خاموشی پر سوالات اٹھنے لگے

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سوشل میڈیا ٹیم کو ملکی سیاست میں ایک مضبوط ترین قوت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ ٹیم نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی اثر پذیری اور تیزی سے سوشل میڈیا پر ٹرینڈز بنانے کی صلاحیت کے لیے مشہور ہے۔ تاہم، پی ٹی آئی کی اس قدر مضبوط سوشل میڈیا موجودگی کے باوجود، ایک اہم سوال اُٹھ رہا ہے کہ اس ٹیم نے کبھی اسرائیل کے فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف یا کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف واضح مؤقف کیوں نہیں اپنایا؟پاکستان تحریک انصاف نے اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران سوشل میڈیا کو بھرپور انداز میں استعمال کیا ہے۔ ان کی سوشل میڈیا ٹیم نے کئی بار قومی اور بین الاقوامی سطح پر ٹرینڈز بنائے، جو مخالفین کے خلاف مہمات سے لے کر اپنی جماعت کے بیانیے کو آگے بڑھانے تک شامل ہیں۔ عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا کو عوامی رائے عامہ کے تشکیل میں ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے، جو کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں ایک منفرد خصوصیت سمجھی جاتی ہے۔
    یہ بات حیران کن ہے کہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم، جو ایک معمولی مسئلے کو بھی بڑا بنا کر پیش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، نے اسرائیل کے غزہ میں فلسطینیوں پر جاری مظالم اور کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت پر کبھی کوئی ٹھوس اور واضح مؤقف نہیں اپنایا۔ دونوں مسائل عالمی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ضمن میں آتے ہیں، مگر پی ٹی آئی کی جانب سے ان پر خاموشی یا غیر مؤثر بیانات پر سوالات اُٹھنے لگے ہیں۔

    سینٹر صحافی و اینکر پرسن مبشرلقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم کے کردار کو بے نقاب کیا اور کہا کہ ٹرینڈ بنا لیتے لیکن غزہ میں اسرائیلی مظالم اور کشمیر میں بھارتی مظالم پر خاموش ہیں کیونکہ فنانسر کے خلاف کوئی نہیں بولتا

    https://x.com/mubasherlucman/status/1825090677526413740

    سیاسی مبصرین کے مطابق، پی ٹی آئی کی خاموشی کے پیچھے بین الاقوامی مالی معاونین اور اثر و رسوخ رکھنے والے حلقے ہوسکتے ہیں۔ یہ حلقے اسرائیل کی حمایت یا بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے خواہاں ہوسکتے ہیں، اور پی ٹی آئی کی جانب سے ان مسائل پر بات کرنا ان کے مفادات کے خلاف جا سکتا ہے۔ اس پس منظر میں، پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کی خاموشی مالی مفادات سے جڑی ہوئی ہے۔پی ٹی آئی کی اس خاموشی پر عوامی سطح پر بھی سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین اور سیاسی ناقدین اس بات پر حیران ہیں کہ ایک جماعت جو ہر مسئلے پر بولتی ہے اور اپنے حریفوں پر تنقید کرتی ہے، وہ فلسطین اور کشمیر جیسے حساس معاملات پر کیوں خاموش ہے؟ کیا یہ خاموشی واقعی مالی معاونین کے دباؤ کا نتیجہ ہے، یا اس کے پیچھے کوئی اور وجوہات ہیں؟پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کی خاموشی اسرائیل کے غزہ میں فلسطینیوں پر مظالم اور کشمیر میں بھارتی مظالم پر ایک اہم سوالیہ نشان بن چکی ہے۔، تاہم اس پر عوامی اور سیاسی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ وقت بتائے گا کہ پی ٹی آئی اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح کرے گی یا نہیں، مگر فی الحال اس خاموشی پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

  • مریم اورنگزیب کا بجلی بلوں میں ریلیف پر پراپیگنڈا کرنے والوں پر شدید تنقید

    مریم اورنگزیب کا بجلی بلوں میں ریلیف پر پراپیگنڈا کرنے والوں پر شدید تنقید

    مسلم لیگ ن کی سینئر رہنما اور صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بجلی بلوں میں دیے گئے ریلیف پر پراپیگنڈا کرنے والوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن ہمیشہ عوام کو سہولیات فراہم کرنے کی سیاست کرتی ہے اور مشکل حالات میں بھی عوام کو ریلیف فراہم کرنا اس کی اولین ترجیح رہی ہے۔مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ پنجاب حکومت نے بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ریلیف کے تحت 201 سے 500 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو وفاقی حکومت کی جانب سے ریلیف مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر اس ریلیف پر بے بنیاد پراپیگنڈا کر رہے ہیں، جو کہ قابل مذمت ہے۔
    مریم اورنگزیب نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے بجلی کے بلوں میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے اپنے بجٹ سے 45 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ریلیف عوام کے لیے ایک بڑی سہولت ہے، اور یہ سلسلہ وفاقی حکومت کے اقدامات کا تسلسل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کے شہریوں کو بھی 14 روپے فی یونٹ کا ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔مسلم لیگ ن کی رہنما نے ماضی کی حکومتوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ چار سال تک ملک میں نالائقی، چوری اور کرپشن کا بازار گرم رہا، جس کے نتیجے میں ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ وہ لوگ جو آج بجلی کے ریلیف پر پراپیگنڈا کر رہے ہیں، انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں عوام کو کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا بلکہ نواز شریف کے دیے گئے ریلیف کو بھی عوام سے چھین لیا۔
    مریم اورنگزیب نے اپنی پریس کانفرنس کے اختتام پر کہا کہ ان لوگوں کو شرم آنی چاہیے جو عوام کے لیے دیے گئے ریلیف پر پراپیگنڈا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے ہمیشہ عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ اس عزم پر قائم رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا مسلم لیگ ن کی سیاست کا حصہ ہے اور وہ ہر مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔اس پریس کانفرنس کے دوران مریم اورنگزیب نے بجلی کے بلوں میں ریلیف کے حوالے سے حکومت کے اقدامات کو اجاگر کیا اور مخالفین کی جانب سے کیے جانے والے پراپیگنڈا کو سختی سے مسترد کر دیا۔

  • کراچی  ملکی و غیر ملکی پروازوں میں تاخیر: مسافروں کو مشکلات کا سامنا

    کراچی ملکی و غیر ملکی پروازوں میں تاخیر: مسافروں کو مشکلات کا سامنا

    کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ملکی اور غیر ملکی پروازوں میں تاخیر کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ متعدد پروازیں مقررہ وقت سے گھنٹوں تاخیر کا شکار ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے مسافروں کی روانگی اور آمد میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔اسلام آباد سے کراچی آنے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی پرواز پی کے 301، جو مقررہ وقت کے مطابق کراچی پہنچنی تھی، دو گھنٹے سے زائد تاخیر کا شکار ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ کراچی سے لاہور جانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 304 کی روانگی بھی تاخیر کا شکار ہوئی ہے۔ یہ پرواز دوپہر 2 بجے روانہ ہونی تھی، تاہم اب اس کی روانگی شام 5 بجے متوقع ہے۔
    صرف ملکی پروازیں ہی نہیں بلکہ غیر ملکی پروازیں بھی تاخیر سے متاثر ہو رہی ہیں۔ دبئی سے کراچی آنے والی غیر ملکی ایئرلائن ای اے 600 کی پرواز بھی دو گھنٹے سے زائد تاخیر کا شکار ہوئی ہے۔ اس پرواز کے کراچی پہنچنے کا وقت دن 12 بج کر 45 منٹ مقرر کیا گیا تھا، تاہم اب اس کی آمد میں تاخیر ہو گئی ہے۔
    دوسری جانب، کراچی سے دبئی جانے والی غیر ملکی پرواز ای کے 601 بھی تاخیر کا شکار ہوئی ہے۔ ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق، اس پرواز کی تاخیر کی وجہ طیارے کی عدم دستیابی ہے۔ مذکورہ پرواز کو دوپہر 12 بجے روانہ ہونا تھا، لیکن اب اس کی روانگی کا وقت دوپہر 2 بجے بتایا گیا ہے۔پروازوں میں تاخیر کی وجہ سے ایئرپورٹ پر موجود مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ کئی مسافر اپنے شیڈول میں تبدیلی کی وجہ سے پریشان ہیں، جبکہ ایئرپورٹ انتظامیہ کی جانب سے تاخیر کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کے حل کے لیے فوری اقدامات نہیں کیے جا سکے ہیں۔کراچی ایئرپورٹ پر پروازوں کی یہ تاخیر عوامی سطح پر تشویش کا باعث بن رہی ہے، اور مسافروں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایئرلائنز اور ایئرپورٹ انتظامیہ مسافروں کو بروقت معلومات فراہم کریں اور پروازوں کے شیڈول کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات اٹھائیں۔

  • گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کا لاہور کے سفاری پارک کا دورہ، پودا لگایا اور عوام کو محنت کی اہمیت کا پیغام دیا

    گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کا لاہور کے سفاری پارک کا دورہ، پودا لگایا اور عوام کو محنت کی اہمیت کا پیغام دیا

    پاکستان کے معروف ایتھلیٹ اور گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم نے لاہور کے سفاری پارک کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ماحولیات کی بہتری کے لیے پودا لگایا۔ اس موقع پر ڈی جی وائلڈ لائف پنجاب مدثر ریاض بھی موجود تھے، جنہوں نے ارشد ندیم کو 20 لاکھ روپے کا چیک پیش کیا۔سفاری پارک میں پودا لگانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ارشد ندیم نے کہا کہ اگر ہم محنت اور لگن سے کوئی بھی کام کریں تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا صلہ ضرور دیتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ہم سب ایک پیج پر رہیں اور متحد ہو کر کام کریں تو ہم بڑے سے بڑے چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ارشد ندیم نے اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے ان کی حوصلہ افزائی کی، جس کے باعث وہ عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ارشد ندیم نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کی حمایت اور رہنمائی نے انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔
    ڈی جی وائلڈ لائف پنجاب مدثر ریاض نے بھی اس موقع پر ارشد ندیم کی کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیت کر تاریخ رقم کی ہے، اور یہ پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ مدثر ریاض نے کہا کہ پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے اور ایسے نوجوانوں کو سپورٹ کی ضرورت ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کر سکیں۔ارشد ندیم کا سفاری پارک میں پودا لگانا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نہ صرف کھیلوں میں بلکہ معاشرتی بھلائی کے کاموں میں بھی سرگرم ہیں۔ ان کا یہ اقدام عوام کو ماحولیات کے تحفظ اور درختوں کی اہمیت کے بارے میں شعور دینے کے لیے ہے۔

  • وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ نے انٹرنیٹ کی سست روی کا زمہ دار وی پی این کو قرار دے دیا

    وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ نے انٹرنیٹ کی سست روی کا زمہ دار وی پی این کو قرار دے دیا

    وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ نے کہا ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور سروس کی بندش کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ انٹرنیٹ کے مسائل کی اصل وجہ وی پی این (ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک) کے زیادہ استعمال سے پیدا ہونے والا دباؤ ہے۔اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران، شزہ فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئی ٹی کے شعبے کو مزید ترقی دینے کے لیے متعدد اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے دور میں پہلی بار آئی ٹی کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت کے آغاز ہی سے ڈیجیٹائزیشن پر خصوصی توجہ دی ہے۔وزیر مملکت نے دعویٰ کیا کہ اس سال آئی ٹی برآمدات 3 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہیں، جو کہ پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا ملک کے نوجوانوں کو دیتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت اور لگن کے بغیر یہ ممکن نہ ہوتا۔ شزہ فاطمہ نے مزید بتایا کہ پاکستان نے پہلی مرتبہ اے آئی میٹا کے بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی، جس سے ملک کی ڈیجیٹل معیشت کو فروغ ملے گا۔
    حکومت کی جانب سے معیشت کی ڈیجیٹائزیشن کے لیے نیشنل کمیشن کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے، شزہ فاطمہ نے بتایا کہ ملک بھر میں 250 ای سینٹر کھولنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ان سینٹرز کے قیام سے نہ صرف آئی ٹی کے شعبے میں ترقی ہو گی بلکہ دیہی علاقوں کے نوجوانوں کو بھی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی۔
    وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت نے 10,000 بچوں کو ڈنگ پروگرام کے ذریعے مختلف ہنر سکھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ، پرائمری سکولوں کے بچوں کو کوڈنگ سکلز کی تربیت فراہم کرنے کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔ شزہ فاطمہ نے بتایا کہ حکومت 20 سے زائد ٹیکنالوجی پارک قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو کہ وزیراعظم کے ویژن کی عکاسی کرتا ہے۔شزہ فاطمہ نے مزید کہا کہ سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے ذریعے بیرونی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے 2011 میں پنجاب میں ای روزگار سینٹرز کے قیام کو بھی سراہا اور کہا کہ یہ اقدام آئی ٹی کی تعلیم اور تربیت میں سنگ میل ثابت ہوا۔
    انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی کے سوال پر شزہ فاطمہ نے وضاحت کی کہ حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ سروس کو بند یا سست نہیں کیا گیا۔ اصل مسئلہ وی پی این کے زیادہ استعمال سے پیدا ہونے والے دباؤ کی وجہ سے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی سے عوام میں پیدا ہونے والے غم و غصہ کا انہیں اندازہ ہے اور حکومت آئی ٹی انڈسٹری کی حمایت میں کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی۔اس پریس کانفرنس کے دوران شزہ فاطمہ کا مثبت رویہ اور حکومت کے آئی ٹی شعبے کی ترقی کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات عوام کو اعتماد میں لینے کے لیے اہم ہیں۔ یہ اقدامات ملک کی ڈیجیٹل ترقی میں ایک اہم کردار ادا کریں گے۔

  • خیبر پختونخوا میں بڑی کامیابی ،تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت

    خیبر پختونخوا میں بڑی کامیابی ،تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت

    کوہاٹ: پاکستان کی توانائی کی صنعت میں ایک نئی کامیابی کا اعلان ہوا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کے راضگر1 علاقے میں لوک ہارٹ فارمیشن سے تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت کیے گئے ہیں۔ یہ دریافت ایم او ایل پاکستان آئل اینڈ گیس کمپنی، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، پی او ایل اور جی ایچ پی ایل کے مشترکہ منصوبے کے تحت کی گئی ہے۔ایم او ایل کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، یہ کھدائی 9 جنوری 2024 کو شروع کی گئی تھی اور 3,773.98 میٹر کی گہرائی تک پہنچی۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق، اس کنویں سے روزانہ 17.9 ملین اسٹینڈرڈ مکعب فٹ گیس اور 153 بیرل تیل حاصل کیا جا سکے گا۔
    یہ دریافت پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ وزارت پیٹرولیم کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا، "یہ ہماری قومی توانائی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس سے ہماری بیرونی توانائی پر انحصار کم ہوگا اور مقامی صنعت کو فروغ ملے گا۔”ماحولیاتی ماہرین نے اس دریافت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے۔ مقامی لوگوں نے بھی اس دریافت پر خوشی کا اظہار کیا ہے، امید کرتے ہوئے کہ اس سے علاقے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دریافت کے بعد مزید تحقیق اور کھدائی کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ یہ دریافت پاکستان کی توانائی کی خود کفالت کی جانب ایک اہم قدم ہے اور امید کی جاتی ہے کہ اس سے ملک کی معاشی صورتحال بہتر ہونے میں مدد ملے گی۔
    توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے پاکستان کی توانائی کی پیداوار میں قابل ذکر اضافہ ہوگا، جو ملک کی معیشت کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس دریافت کے ساتھ ساتھ قابل تجدید توانائی کے ذرائع پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ توانائی کے متوازن ذرائع کو یقینی بنایا جا سکے۔اس دریافت سے متعلق تفصیلات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور امید ہے کہ جلد ہی اس منصوبے سے تیل اور گیس کی تجارتی پیمانے پر پیداوار شروع ہو جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس منصوبے کی نگرانی کر رہی ہے تاکہ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اس کے فوائد براہ راست عوام تک پہنچیں۔مجموعی طور پر، یہ دریافت پاکستان کی توانائی کی صنعت کے لیے ایک نئی امید کی کرن ہے اور امید کی جاتی ہے کہ یہ ملک کو اپنی توانائی کی ضروریات پورا کرنے میں مزید خود کفیل بنانے میں مدد دے گی۔

  • سابق وزیر شکیل خان کا پرویز خٹک اور محمود خان پر  بھی کرپشن کے الزامات

    سابق وزیر شکیل خان کا پرویز خٹک اور محمود خان پر بھی کرپشن کے الزامات

    خیبر پختونخوا کے سابق وزیر شکیل خان نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے صوبے میں موجودہ سیاسی حالات اور حکومت کے طرز عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنی وزارت سے نکالے جانے کے پس منظر میں پرویز خٹک اور محمود خان کے مبینہ کارناموں کو بھی بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا.شکیل خان نے پشاور سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ وقت نے ثابت کر دیا کہ کون سچا تھا اور کون جھوٹا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات ایسے ہیں کہ ایسا لگتا ہی نہیں کہ یہ حکومت ہماری ہے بلکہ کوئی اور اس نظام کو چلا رہا ہے۔ ان کے مطابق، صوبے کے حالات میں ایسا تاثر پیدا ہو چکا ہے کہ وہ حکومت میں رہ کر بھی بے اختیار ہیں اور اہم فیصلوں میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔
    سابق وزیر نے کہا کہ وہ ایک سیکریٹری تک تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتے اور نہ ہی کوئی سیکریٹری ان کے احکامات پر عمل کرتا ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ حکومت کے اندر اپنی مرضی کا نظام چلا رہے ہیں اور ان جیسے سیاستدانوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جو کہ صوبے اور عوام کے مفاد میں فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔شکیل خان نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ جنگ ان کی اکیلے کی نہیں ہے بلکہ یہ صوبے اور قوم کی جنگ ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جو بھی اس صوبے سے غداری کرے گا، وہ اسے بے نقاب کریں گے۔ ان کے مطابق، وہ کسی بھی صورت میں صوبے کے مفادات کے خلاف کام کرنے والوں کو معاف نہیں کریں گے اور ان کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔
    شکیل خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے گڈ گورننس کمیٹی میں ایم این اے اکبر خان کو شامل کروایا تھا، لیکن ایک مخصوص لابی نے جنید اکبر کو کمیٹی سے نکال دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنی مرضی کی کمیٹی بنا کر بانی پی ٹی آئی کو سب او کے کی رپورٹ دی گئی، جس سے بانی پی ٹی آئی کو گمراہ کیا گیا۔شکیل خان نے واضح کیا کہ انہوں نے اس لیے استعفیٰ دیا تاکہ ان کرپٹ عناصر کے خلاف کھل کر مقابلہ کر سکیں۔ ان کے مطابق، وہ اب کسی دباؤ کے بغیر اپنے سیاسی سفر کو جاری رکھیں گے اور صوبے کی عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کریں گے۔
    شکیل خان کے اس بیان نے خیبر پختونخوا کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے اور اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ صوبے میں اندرونی کشیدگی اور تقسیم کی کیفیت موجود ہے۔ ان کے الزامات اور تحفظات پر یقیناً پی ٹی آئی کی قیادت اور حکومت کو وضاحت دینا ہوگی تاکہ عوام کے سامنے حقائق واضح ہو سکیں۔