Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • 16 اگست: تاریخ کے آئینے میں اہم واقعات

    16 اگست: تاریخ کے آئینے میں اہم واقعات

    تحقیق : آغانیاز مگسی

    16 اگست کو دنیا بھر میں متعدد اہم واقعات رونما ہوئے ہیں جنہوں نے تاریخ میں ایک خاص مقام حاصل کیا ہے۔ یہ دن مختلف ممالک اور شخصیات کی یاد میں اہمیت رکھتا ہے، جو تاریخ کے اوراق میں اپنے انمٹ نقوش چھوڑ گئے۔

    1913ء: جاپان کی پہلی جامعہ میں خواتین کو داخلہ
    16 اگست 1913ء کو جاپان کی تاریخ میں ایک اہم موڑ آیا جب ٹوکوہو یونیورسٹی نے پہلی بار خواتین کو داخلہ دینے کا اعلان کیا۔ یہ اقدام جاپان کے تعلیمی نظام میں خواتین کی شمولیت کی طرف ایک بڑا قدم تھا۔ اس فیصلے نے نہ صرف جاپان میں بلکہ دنیا بھر میں خواتین کی تعلیم کے حق میں ایک نئی سوچ کو فروغ دیا۔

    #1946ء: یوم راست اقدام پر ہندو مسلم فسادات
    16 اگست 1946ء کو برصغیر میں یوم راست اقدام منایا گیا، جو کہ مسلم لیگ کی جانب سے مسلم اکثریتی علاقوں میں پاکستان کے مطالبے کے حق میں ایک بڑا احتجاج تھا۔ اس موقع پر ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے، جن میں ہزاروں لوگ مارے گئے اور بے شمار افراد بے گھر ہوگئے۔ یہ فسادات برصغیر کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہیں، جو تقسیم ہند کے پس منظر میں وقوع پذیر ہوئے۔

    1951ء: لیاقت علی خان نے کراچی میں ریڈیو پاکستان کے نئے براڈکاسٹنگ ہاؤس کا افتتاح کیا
    16 اگست 1951ء کو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے کراچی میں ریڈیو پاکستان کے نئے براڈکاسٹنگ ہاؤس کا افتتاح کیا۔ یہ واقعہ پاکستان کی نشریاتی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل تھا، جس نے ملک میں ذرائع ابلاغ کی ترقی کو ایک نئی جہت دی۔ اس نئے براڈکاسٹنگ ہاؤس کے قیام سے ریڈیو پاکستان کو مزید جدید ٹیکنالوجی اور وسیع پیمانے پر نشریات کا موقع ملا۔

    1967ء: گل یاسمین کو پاکستان کا قومی پھول قرار دیا گیا
    16 اگست 1967ء کو گل یاسمین کو پاکستان کا قومی پھول قرار دیا گیا۔ یہ فیصلہ ملک کی ثقافتی اور نباتاتی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔ گل یاسمین کو پاکستان کی خوشبو اور خوبصورتی کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے، اور یہ پھول ملک کی نباتات میں ایک خصوصی مقام رکھتا ہے۔

    1979ء: عراقی جنرل احمد حسن البکر کا استعفا اور صدام حسین کی اقتدار میں آمد
    16 اگست 1979ء کو عراق کے صدر جنرل احمد حسن البکر نے اپنے عہدے سے استعفا دیا، جس کے بعد صدام حسین نے اقتدار سنبھالا۔ صدام حسین کی حکمرانی کا آغاز ایک نئے دور کی شروعات تھی، جس نے عراق کی سیاست، معیشت اور خارجہ پالیسی میں گہرے اثرات مرتب کیے۔ صدام حسین کے دور میں عراق میں کئی تبدیلیاں آئیں اور یہ دور بین الاقوامی سطح پر بھی اہمیت کا حامل رہا۔

    1991ء: جنرل آصف نواز جنجوعہ کا پاک فوج کے چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ سنبھالنا
    16 اگست 1991ء کو جنرل آصف نواز جنجوعہ نے پاکستان کی بری فوج کے چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ سنبھالا۔ جنرل آصف نواز جنجوعہ کا تعلق ایک فوجی خاندان سے تھا، اور وہ فنِ سپہ گری میں مہارت رکھتے تھے۔ ان کے دور میں فوجی قیادت میں کئی اہم فیصلے کیے گئے، جن میں سے سندھ میں 72 بڑی مچھلیوں کے خلاف آپریشن اور ایم کیو ایم کے خلاف کارروائیاں شامل ہیں۔ ان کے دور میں فوج اور سیاست کے درمیان تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے۔

    1999ء: نصرت فتح علی خان کی یاد میں یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجراء
    16 اگست 1999ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ملک کے نامور موسیقار اور گلوکار نصرت فتح علی خان کی دوسری برسی کے موقع پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ نصرت فتح علی خان کو قوالی اور صوفی موسیقی میں عالمی سطح پر شہرت حاصل تھی، اور ان کے فن کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھنے کے لیے یہ ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر ان کی خوبصورت پورٹریٹ کے ساتھ انگریزی میں "NUSRAT FATEH ALI KHAN MUSIC MAESTRO 1948-1997” کے الفاظ تحریر تھے۔

    2004ء: بابائے اردو مولوی عبدالحق کی یاد میں یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجراء
    16 اگست 2004ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے بابائے اردو مولوی عبدالحق کی یاد میں ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ مولوی عبدالحق کو اردو زبان کی ترویج اور ترقی میں ان کی خدمات کے باعث بابائے اردو کا لقب دیا گیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر ان کا خوبصورت پورٹریٹ اور "BABA-E-URDU MAULVI ABDUL HAQ (1870-1961)” کے الفاظ تحریر تھے۔ یہ ڈاک ٹکٹ پاکستان کے ادبی ورثے کو خراج تحسین پیش کرنے کی ایک کوشش تھی۔

    2009ء: یونائیٹڈ فار پیس مہم اور ٹیلی تھون نشریات
    16 اگست 2009ء کو پاکستان ٹیلی وژن نے یونائیٹڈ فار پیس مہم کے تحت بارہ گھنٹے کی ٹیلی تھون نشریات کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر محکمہ ڈاک نے پانچ روپے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا، جس پر ایک فاختہ کی تصویر بنی تھی اور انگریزی میں "United For Peace” کے الفاظ طبع کیے گئے تھے۔ یہ اقدام عالمی امن کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور عوام میں امن کے فروغ کے لیے کیا گیا۔

    قبرص اور گیبون کا یوم آزادی
    16 اگست کو قبرص اور گیبون میں یوم آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن ان ممالک کے لیے آزادی اور خودمختاری کی علامت ہے، اور ہر سال عوام ان دنوں کو جوش و خروش سے مناتے ہیں۔

    یہ تمام واقعات 16 اگست کو دنیا بھر میں رونما ہوئے اور مختلف ممالک اور شخصیات کی یاد میں اہمیت رکھتے ہیں۔ ان واقعات نے تاریخ میں گہرے نقوش چھوڑے ہیں اور ان کی یاد ہمیشہ تازہ رہے گی۔

  • شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن: فتنہ الخوارج کے 3 دہشت گرد ہلاک

    شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن: فتنہ الخوارج کے 3 دہشت گرد ہلاک

    شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیے گئے ایک کامیاب آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کے تین دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ ایک کو زخمی کر دیا۔ یہ آپریشن خفیہ ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کے نتیجے میں عمل میں آیا، جس کے دوران دہشت گردوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق ہلاک شدہ دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی تعداد میں ہتھیار اور گولیاں برآمد ہوئیں۔ یہ دہشت گرد نہ صرف سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھے بلکہ معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی شامل تھے۔ اس کامیاب آپریشن کے بعد علاقے میں باقی بچ جانے والے کسی ممکنہ دہشت گرد کی تلاش کے لیے سینسیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔
    سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ملک سے خوارج اور دہشت گردی کی لعنت کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ آپریشن نہ صرف دہشت گردوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے بلکہ عوام کو اس بات کا یقین دلانے کا عزم ہے کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ کو مزید مضبوطی کے ساتھ جاری رکھیں گی۔سیکیورٹی فورسز کی اس کارروائی کو خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جہاں دہشت گرد عناصر کی سرکوبی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ یہ آپریشن اس بات کا ثبوت ہے کہ سیکیورٹی فورسز ملک کی سلامتی اور عوام کی حفاظت کے لیے ہر دم مستعد ہیں اور ملک دشمن عناصر کو کسی بھی صورت میں اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہونے نہیں دیں گی۔

  • غزہ جنگ بندی معاہدے کے لیے دوحہ  مذاکرات میں اہم پیش رفت

    غزہ جنگ بندی معاہدے کے لیے دوحہ مذاکرات میں اہم پیش رفت

    قطر کے دارالحکومت دوحہ میں غزہ جنگ بندی کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کا تازہ دور مکمل ہوگیا ہے۔ ان مذاکرات میں امریکا، قطر اور مصر سمیت کئی ممالک نے شرکت کی، جن کا مقصد غزہ میں جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک جامع معاہدے پر پہنچنا تھا۔مذاکرات کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیہ میں اس امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ آج کے مذاکرات میں طے شدہ نکات کی بنیاد پر رواں ہفتے ہی جنگ بندی کا معاہدہ طے پا جائے گا۔ اعلامیہ کے مطابق، غزہ میں جنگ بندی کی راہ میں حائل تمام اہم رکاوٹیں دور ہو چکی ہیں، جس کے باعث اگلے ہفتے کے اختتام تک ایک جامع معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ تمام شریک ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ بندی کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ ان مذاکرات میں شریک تمام وفود اگلے ہفتے کے اختتام سے پہلے دوبارہ ملاقات کریں گے تاکہ معاہدے کو آخری شکل دی جا سکے۔
    یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب غزہ میں مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جانی نقصان نے خطے کو شدید بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اس سلسلے میں قطر، مصر اور امریکا کی کاوشوں کا مقصد جنگ بندی کے لیے راہ ہموار کرنا اور پورے خطے کو مزید تباہی سے بچانا ہے۔ذرائع کے مطابق، مذاکرات کے دوران کئی اہم امور پر پیش رفت ہوئی ہے، اور اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی ایک حتمی معاہدہ سامنے آ جائے گا جو غزہ میں جاری لڑائی کو روکنے میں معاون ثابت ہوگا۔ اگرچہ مذاکرات میں ابھی کچھ نکات پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے، لیکن تمام شریک ممالک کے درمیان مثبت ماحول اور معاہدے کے امکانات روشن نظر آ رہے ہیں۔اس صورتحال میں دنیا بھر کی نظریں ان مذاکرات پر مرکوز ہیں، کیونکہ غزہ میں جنگ بندی نہ صرف خطے کے لیے اہم ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ تمام فریقین کی کوششیں اس بات کی گواہ ہیں کہ جلد ہی اس تنازع کا پرامن حل نکل آئے گا، جو خطے میں استحکام اور ترقی کے نئے دور کی شروعات کرے گا۔

  • سابق  آئی جی جیل خانہ جات شاہد سلیم انکوائری کے بعد کلیئر قرار

    سابق آئی جی جیل خانہ جات شاہد سلیم انکوائری کے بعد کلیئر قرار

    سابق آئی جی جیل خانہ جات شاہد سلیم بیگ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دو روز کی انکوائری کے بعد کلئر کر دیا گیا۔ شاہد سلیم بیگ اپنی رہائش گاہ واپس پہنچ گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق سابق آئی جی جیل خانہ جات شاہد سلیم بیگ کو دو دن قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا تھا۔ تاہم، ان کی حراست اور اس سے متعلقہ تفصیلات کو صیغہ راز میں رکھا گیا تھا، اور اس دوران کسی قسم کی معلومات میڈیا کو فراہم نہیں کی گئیں۔انکوائری کے بعد شاہد سلیم بیگ کو کلئر قرار دے کر رہا کر دیا گیا ہے، اور وہ بحفاظت اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔ اس پورے معاملے پر کسی بھی حکومتی یا متعلقہ ادارے کی طرف سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، اور نہ ہی انکوائری کے موضوع یا نتائج کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
    واضح رہے کہ پنجاب کے سابق آئی جی جیل خانہ جات شاہد سلیم بیگ کو حساس اداروں نے گرفتار کر لیا تھا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق، سابق آئی جی جیل کو حساس اداروں کے ساتھ قریبی رابطوں کے الزام پر حراست میں لیا گیا تھا ۔شاہد سلیم بیگ پانچ سال تک پنجاب میں آئی جی جیل خانہ جات کے عہدے پر فائز رہے، اور وہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جیل جانے سے پہلے ہی ریٹائر ہو چکے تھے۔ ذرائع کے مطابق، شاہد سلیم بیگ کو ان کی سرکاری رہائش، آئی جی ہاؤس، سے گرفتار کیا گیا۔
    اس کے علاوہ، اڈیالہ جیل کے سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ظفر کے خلاف بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ظفر کی بھی حساس اداروں کے ساتھ مبینہ رابطے تھے، جن کی وجہ سے انہیں تحقیقات کا سامنا ہے۔مزید برآں، ڈی آئی جی جیل راولپنڈی کے دفتر سے ایک آفس سپرنٹنڈنٹ ناظم علی شاہ سے بھی پوچھ گچھ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم کے اردلی کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ اڈیالہ جیل کا ایک وارڈن اور ہیڈ وارڈن بھی زیر حراست ہیں۔یہ گرفتاریاں حساس اداروں کے اندرونی رابطوں اور ممکنہ بدعنوانیوں کے خلاف جاری تحقیقات کا حصہ ہیں، اور ان گرفتاریوں سے جیل خانہ جات کے محکمے میں مزید انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی صارفین کے لیے ریلیف پیکیج کا خیرمقدم کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی صارفین کے لیے ریلیف پیکیج کا خیرمقدم کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے جانب سے بجلی کے صارفین کے لیے متعارف کروائے گئے تاریخی ریلیف پیکیج کو بھرپور انداز میں سراہا ہے۔ اپنے ایک بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ پیکیج بلاشبہ نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا ایک عوام دوست اور احسن اقدام ہے، جس سے عوام کو بڑی حد تک فائدہ پہنچے گا۔وزیراعظم نے ہوئے کہا کہ اس ریلیف پیکیج کے تحت 500 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے فی یونٹ 14 روپے کا ریلیف دیا گیا ہے۔ یہ اقدام عوام کو براہ راست فائدہ پہنچانے کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پیدا ہونے والے معاشی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
    شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف کی ہدایت پر قلمدان سنبھالتے ہی عوامی ریلیف کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں سے 50 ارب روپے کم کرکے عوام کے لیے بجلی کی قیمتوں میں ریلیف فراہم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ریلیف پیکیج سے بالخصوص 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین مستفید ہو رہے ہیں، جنہیں روزمرہ کی زندگی میں بڑی آسانی ملے گی۔
    وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت بجلی چوری کے خلاف سخت اقدامات اٹھا رہی ہے اور بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے اس مسئلے کا دیرپا اور پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ معیشت کے استحکام کے بعد لوگوں کی زندگی کو آسان بنایا جائے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کے دیرپا حل پر کام کیا جائے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوامی ریلیف اور مہنگائی میں کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے بعد ملک صحیح سمت کی طرف گامزن ہو چکا ہے، اور حکومت کی تمام تر توجہ عوام کو ریلیف دینے پر مرکوز ہے۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ حکومت بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور مستقبل میں بھی ایسے اقدامات اٹھائے جائیں گے جن سے عوام کی مشکلات میں کمی ہو۔وزیراعظم نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ملک کی معیشت اب استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے، اور حکومت کے اٹھائے گئے اقدامات کی بدولت ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت عوام کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے مزید اقدامات کرے گی تاکہ وہ اپنے روزمرہ کے مسائل سے نجات پا سکیں۔وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بیان حکومت کی جانب سے عوامی مسائل کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں اور ان کے عزم کا اظہار کرتا ہے۔ بجلی کے شعبے میں ریلیف پیکیج کا اعلان حکومت کے عوام دوست ایجنڈے کی ایک کڑی ہے، جس کا مقصد عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے نجات دلانا اور ان کی زندگی کو آسان بنانا ہے۔

  • وفاقی حکومت کا ڈیڑھ لاکھ سرکاری ملازمتیں ختم کرنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت کا ڈیڑھ لاکھ سرکاری ملازمتیں ختم کرنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے سرکاری اخراجات میں کمی اور حکومتی ڈھانچے کو مؤثر بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت منعقد ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی نے تجاویز پیش کیں، جن میں ڈیڑھ لاکھ ملازمتوں کے خاتمے اور نئی بھرتیوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کی سفارشات شامل تھیں۔اجلاس میں وزیراعظم نے حکومتی اداروں کے اخراجات کو کم کرنے اور عوامی خدمات میں بہتری لانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں کو ختم کیا جائے جو قومی خزانے پر بوجھ ہیں اور عوامی سروسز کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکے ہیں۔ اگر انہیں ختم کرنا ممکن نہ ہو تو ان کی فوری نجکاری کے اقدامات کیے جائیں۔
    کمیٹی کی سفارشات کے مطابق گریڈ ایک سے سولہ تک کی اسامیوں کو بتدریج ختم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، نان-کور سروسز جیسے صفائی اور جینیٹورئل سروسز کو آؤٹ سورس کرنے کی بھی تجویز دی گئی تاکہ اضافی سرکاری ملازمین کی تعداد کو کم کیا جا سکے۔وزیراعظم نے اجلاس میں یہ بھی اعلان کیا کہ وہ خود اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کی نگرانی کریں گے اور اس ادارے کو وزیراعظم آفس کے تحت لانے کی ہدایت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ سمیڈا کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جو ملکی معیشت کی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔
    اجلاس میں پانچ وفاقی وزارتوں میں اصلاحات کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی، جن میں وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان، وزارت سرحدی امور، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، وزارت صنعت و پیداوار اور وزارت قومی صحت شامل ہیں۔ اصلاحات کی تجاویز میں ان وزارتوں کے تحت آنے والے اداروں کو ضم کرنا، بند کرنا یا ان کی نجکاری شامل ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ ان اصلاحات کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے اور ان کے نفاذ کے لیے ایک جامع پلان بھی پیش کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی ڈھانچے کی رائٹ سائزنگ اور اخراجات میں کمی کے لیے یہ اقدامات نہایت ضروری ہیں تاکہ ملکی خزانے پر بوجھ کم کیا جا سکے اور عوامی سروسز کو بہتر بنایا جا سکے۔

  • جمائمہ گولڈ اسمتھ کا پاکستان سے آنے والی ای میلز کو بلاک کرنے کا انکشاف

    جمائمہ گولڈ اسمتھ کا پاکستان سے آنے والی ای میلز کو بلاک کرنے کا انکشاف

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی سابق اہلیہ، جمائمہ گولڈ اسمتھ نے حالیہ ٹویٹ میں پاکستان سے آنے والی تمام ای میلز کو بلاک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق، یہ اقدام ایک سائبر ہراسمنٹ مہم کے نتیجے میں اٹھایا گیا ہے، جو مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے مخالفین کی جانب سے چلائی گئی ہے۔جمائمہ گولڈ اسمتھ نے 16 اگست 2024 کو اپنے ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر لکھا کہ انہیں یہ قدم اُٹھانا پڑا کیوں کہ وہ پاکستان سے ملنے والے ہراسمنٹ کا سامنا کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم پی ٹی آئی کے مایوس مخالفین کی طرف سے اُکسانے کے بعد شروع کی گئی۔


    جمائمہ نے مزید کہا کہ پاکستان میں ایکس (ٹوئٹر) پر پابندی عائد کی گئی ہے، جو کہ ان مخالفین کی طرف سے مبینہ طور پر کی گئی ہے۔ اس پابندی کی وجہ سے ان کا پیغام پاکستان میں صرف وہی لوگ دیکھ سکتے ہیں جو وی پی این استعمال کر رہے ہیں۔یہ ٹویٹ نہ صرف جمائمہ گولڈ اسمتھ کی زندگی پر جاری اثرات کو ظاہر کرتی ہے بلکہ پاکستان میں جاری سیاسی تناؤ کو بھی اُجاگر کرتی ہے۔ جمائمہ، جو کہ دو دہائیاں قبل پاکستان چھوڑ چکی ہیں، نے پاکستانی سیاست کو "وہ تحفہ جو ہمیشہ دینے کو تیار ہے” کے طور پر سراہا۔
    اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر سیاسی تنازعات کے پھیلاؤ اور جدید سیاسی جھگڑوں میں سائبر حربوں کے استعمال کے بارے میں بھی تشویشات کو جنم دیا ہے۔ یہ واقعہ پاکستان میں آزادیٔ اظہار اور معلومات تک رسائی کے بارے میں بھی سوالات اُٹھاتا ہے، جہاں پر ایک بڑی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پابندی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔جمائمہ کی اس ٹویٹ کو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ توجہ ملی ہے، اور اس وقت تک 19 ہزار ویوز، 127 کمنٹس، 418 ری ٹویٹس اور 1.4 ہزار لائکس حاصل ہو چکے تھے۔یہ واقعہ دنیا بھر میں سیاست، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعلقات کے پیچیدہ تعلقات کو ظاہر کرتا ہے۔

  • وزیرِ اعظم قیمتی پتھروں کی صنعت کی ترقی کے لیے کمیٹی کی صدارت کریں گے

    وزیرِ اعظم قیمتی پتھروں کی صنعت کی ترقی کے لیے کمیٹی کی صدارت کریں گے

    اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے قیمتی پتھروں کی صنعت کی ترقی اور اصلاحات کے لیے اسٹیئرنگ کمیٹی کی خود صدارت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت قیمتی پتھروں کی صنعت کی ترقی اور اصلاحات پر مبنی اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ صنعت کی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لیے مختلف اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔ اجلاس میں وفاقی وزراء جام کمال خان، خالد مقبول صدیقی، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، رانا تنویر حسین، مصدق ملک، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل، اور چیف سیکرٹریز گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا بھی موجود تھے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر اعلان کیا کہ وہ قیمتی پتھروں کی صنعت کی ترقی اور اصلاحات کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی خود صدارت کریں گے اور اس منصوبے کے لیے وفاقی وزیرِ نجکاری عبدالعلیم خان کو اصلاحات کے نفاذ کی ذمے داری سونپی ہے۔
    وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت گلگت بلتستان میں کان کنی اور ویلیو ایڈیشن کے پائلٹ پراجیکٹ کا آغاز کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گلگت بلتستان حکومت کو اس پراجیکٹ کے لیے مکمل مالی معاونت فراہم کی جائے گی، کیونکہ قیمتی پتھروں کی روایتی کان کنی سے قیمتی اثاثہ ضائع ہو رہا ہے۔ شہباز شریف نے ہدایت کی کہ ایک ماہ کے اندر لائحہ عمل تشکیل دے کر اس کے نفاذ کے اقدامات شروع کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قیمتی پتھروں کی صنعت اور شعبے میں اصلاحات سے متعلق عملی اقدامات اور نتائج پیش کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق، قیمتی پتھروں کی اسمگلنگ کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان حکومت سے مشاورت کے بعد ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کی جائے اور قیمتی پتھروں کی عالمی سطح پر رائج سرٹیفیکیشنز کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پاکستان میں قیمتی پتھروں کی کان کنی کے لیے 178 بڑے لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔ ملک میں 18 مختلف قیمتی پتھروں کی اقسام پائی جاتی ہیں، اور پاکستان کی قیمتی پتھروں کی برآمدات کا 80 فیصد حصہ خام مال پر مبنی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ قیمتی پتھروں کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ نہ صرف ملکی معیشت کو تقویت ملے بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی شناخت میں بھی اضافہ ہو سکے۔

  • جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر منکی پاکس کی اسکریننگ کے انتظامات پر حکام کا اطمینان، بین الاقوامی مسافروں کی مؤثر نگرانی جاری

    جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر منکی پاکس کی اسکریننگ کے انتظامات پر حکام کا اطمینان، بین الاقوامی مسافروں کی مؤثر نگرانی جاری

    کراچی: جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر منکی پاکس کی اسکریننگ اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے کیے گئے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے اعلیٰ حکام نے دورہ کیا، جس دوران انہوں نے ایئرپورٹ پر کیے گئے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔پی اے اے کے ترجمان کے مطابق ایئرپورٹ منیجر، ڈی جی ہیلتھ سندھ، اور ڈائریکٹر ایئرپورٹ ہیلتھ سروسز نے جناح ایئرپورٹ کا تفصیلی دورہ کیا، جس میں انہوں نے منکی پاکس سے متعلق حفاظتی اقدامات اور مسافروں کی اسکریننگ کے عمل کا جائزہ لیا۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ ایئرپورٹ انتظامیہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کر رہی ہے۔
    ترجمان نے بتایا کہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بین الاقوامی پروازوں سے پاکستان آنے والے مسافروں کی مؤثر اسکریننگ کا عمل جاری ہے۔ مسافروں کی صحت کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی کاؤنٹرز اور اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی مشتبہ کیس کی فوری شناخت کی جا سکے۔ مشتبہ مسافروں کے لیے بارڈر ہیلتھ سروسز کی جانب سے ایک مخصوص آئسولیشن روم قائم کیا گیا ہے۔ اس آئسولیشن روم میں مسافروں کی ٹریول ہسٹری اور جسمانی علامات کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ ترجمان کے مطابق اگر کسی مسافر میں منکی پاکس کی علامات پائی جاتی ہیں تو ان کے نمونے پی سی آر ٹیسٹ کے لیے متعلقہ لیبارٹریز کو بھیج دیے جاتے ہیں۔
    پی اے اے کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایئرپورٹ انتظامیہ ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ منکی پاکس کے ممکنہ خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے نہ صرف حفاظتی اقدامات کو بڑھا دیا گیا ہے بلکہ عملے کی تربیت اور آگاہی میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔حکام کے اس دورے کے دوران یہ بھی مشاہدہ کیا گیا کہ ایئرپورٹ پر تمام متعلقہ ادارے ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں، اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ ایئرپورٹ انتظامیہ نے مسافروں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور اپنی صحت کی نگرانی کے عمل میں تعاون کریں۔

  • خیبر پختونخوا میں آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران آندھی، طوفان اور بارشوں کا الرٹ جاری

    خیبر پختونخوا میں آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران آندھی، طوفان اور بارشوں کا الرٹ جاری

    پشاور: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران آندھی، طوفان اور بارشوں کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔این ڈی ایم اے نے متعلقہ محکموں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چترال، دیر، کوہستان، سوات، شانگلہ، مالاکنڈ، اور بٹ گرام کے علاقوں میں شدید آندھی اور طوفان کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ مزید برآں، کوہاٹ، بونیر، مہمند، باجوڑ، پشاور، نوشہرہ، مردان، چارسدہ، ہنگو، اورکزئی، کرم، وزیرستان، لکی مروت، بنوں، اور ڈی آئی خان میں بھی بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
    این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ الرٹ کے مطابق ان علاقوں میں بارشوں کے نتیجے میں شہروں اور پہاڑی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ صوبے کے تمام چھوٹے اور بڑے دریاؤں کے بہاؤ میں اضافے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں، جبکہ متعلقہ اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ این ڈی ایم اے نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔